Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 58

آتش_عشقم
قسط نمبر 58
از قلم حرا شاہ
منہال کو سلانے کے بعد وہ خود بیڈ کے ساتھ ہی زمین پر بیٹھ گیا ۔
اسکے ہاتھ میں مہکشاں کی تصویر تھی جس سے وہ باتیں کرنے لگا تھا ۔
تبھی دروازہ بجنے کی آواز آئی
دروازہ بہت زور سے بجایا گیا تھا
حدید چونک کر اٹھا پھر کمرے سے باہر چلا گیا
نا جانے رات کے اس وقت کون تھا
اسنے ددوازہ کھولا تو سامنے سیاہ برقعے میں ملبوس کوئی لڑکی کھڑی تھی ۔
” پلیز میری مدد کریں ۔ وہ لوگ مجھے مار دیں گے ۔ ” لڑکی نے فریادی انداز میں کہا
حدید نے چند لمحے سوچا پھر اسے اندر آنے کا کہا ۔۔
دروازہ بند کرکے اسنے کھڑکی سے دیکھا
تین آدمی گھر کے سامنے سے ہو کر گزر گئے تھے ۔ انکے انداز بتاتے تھے کہ کسی کی تلاش کر رہے ہوں ۔
وہ واپس پلٹا اور لڑکی کو دیکھا جو گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی ۔ بار بار اپنی انگلیاں مسلتی جاتی تھی ۔
” گھبرائیں نہیں ۔ وہ جا چکے ہیں ۔ ” حدید نے نظریں جھکا کر ہی بات کی
اس لڑکی کو دیکھ اسے فرح بھابھی یاد آئی تھی ۔
اسنے بھی فرح جیسا نقاب کر رکھا تھا
اور اگر کوئی لڑکی نقاب یا حجاب میں موجود ہو تو مرد پر لازم ہے اپنی نظریں نیچے کر لے اور اگر وہ بنا حجاب کے ہے تب بھی مرد پر یہی لازم ہے ۔ مرد نے اپنی نظروں کا جواب دینا ہے نا کہ عورت کے اختیار کردہ حلیے کا ۔۔
” بہت شکریہ میری مدد کرنے کا ” طوبی تشکر سے بولی تھی
حدید کے چہرے پر ماسک اور ماتھے تک آئی ہوڈی کے باعث اسکا چہرا واضح نہیں تھا پر اگر چہرا واضح بھی ہوتا تو اسکی بگڑی حالت کی وجہ سے طوبی پہچان نا پاتی ۔
پھر طوبی نے جانے کے لیے قدم بڑھا دیے ۔
حدید نے دروازہ کھول دیا
اور دروازے سے باہر نکلتے طوبی نے سرسری سا اسکی طرف دیکھا تھا ۔
دونوں کی آنکھیں ملی تھیں
حدید کی آنکھوں میں اچھنبے کی رمق تھی
یہ سیاہ آنکھیں پہلے بھی کہیں دیکھی تھی
فرح کے ساتھ بھی ایک سیاہ آنکھوں والی لڑکی دیکھی تھی
یہ یقینا وہی تھی مگر سب سے پہلے کہاں دیکھا تھا یاد نہیں آ رہا تھا ۔
طوبی جا چکی تھی
مگر وہ ان سیاہ آنکھوں کے حصار میں قید وہیں کھڑا رہ گیا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
تبریز خاور سے تعلقات ہونے کی بنا پر صیام بخاری کی ایک ماہ بعد ہی ضمانت ہو گئی تھی
وہ پھر سے آزاد تھا ۔
اور اس بار اور بھی بے خوف
تبریز خاور ایک فائیو سٹار ہوٹل کھولنا چاہتا تھا جس کی تعمیر کا عہد نامہ اسنے صیام بخاری کی کمپنی کو دیا تھا ۔
کڑوڑوں کا پروجیکٹ تھا جو صیام بخاری کے لیے بہت فائدہ مند ہوتا
وہ اس وقت اپنے کمرے میں تھا جب اس کے موبائل پر تبریز خاور کی کال آئی ۔
” ہیلو ” صیام بخاری نے کال اٹھا کر کہا ۔
” میرا ایک کام کرنا ہے ۔ بدلے میں میری پارٹی کے سبھی ممبرز کی کمپنیوں کے ٹیندرز تمھیں ہی ملیں گے ” تبریز خاور نے سنجیدگی سے کہتے پیش کش کی
” کام کیا ہے ؟ ” صیام بخاری نے پیش کش قبول کی ۔
” دو تصوریں بھیج رہا ہوں ۔ ان کو ختم کرنا ہے ۔ ” تبریز خاور نے کہا اور فون بند ہو گیا ۔
صیام بخاری کے فون پر کچھ دیر بعد دو تصاویر موصول ہوئیں ۔
ایک تصویر دیکھ کر وہ طنزیہ مسکرایا
وہ سلار کی تھی
” یعنی تم نے تبریز خاور سے کوئی پنگا لیا ہے “
دوسری پریشال کی تھی
اسنے بغور دیکھا
وہ اسے نہیں پہچانتا تھا
خیر جو بھی تھی اسے بس کام سے غرض تھی
پھر اس نے فون بیڈ پر پھینکا خود فریش ہونے کے لیے باتھ روم میں چلا گیا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
” بہت بری غلطی کردی تم نے اپنے ساتھ لڑکی کو بھگا کر ۔ اب تمھارا مقدر صرف موت ہے سلار شاہ اور اس لڑکی کا بھی ۔ ” صیام بخاری سے بات ہونے کے بعد تبریز خاور اپنے گھر کے سوئمنگ پول کے پاس کرسی پر بیٹھا دانت چبا کر بولا تھا
وہ یہ کام خود کرنا چاہتا تھا مگر مصروفیت کے باعث صیام بخاری کو کہہ دیا تھا
دفعتا اسکا ایک آدمی قریب آیا
” سر گلشن نے لڑکی بجھوا دی ہے ” جھک کر جیسے اسنے اطلاع کی
” کیا اس جیسی خوبصورت ہے جو بھاگ گئی ۔” وہ آنکھوں میں پریشال کا عکس لے کر بولا
آدمی نے نفی میں سر ہلایا
تبریز خاور نے ہاتھ جھلا دیا تو وہ چلا گیا
” تم مجھے پسند آ گئی تھی ۔ میرے ساتھ رہتی تو عیش کرتی ۔ مگر افسوس تم نے موت کو خود چنا ہے ۔ مجھے پہلی بار کسی لڑکی کے مرنے پر دکھ ہوگا ۔ ” نظروں میں پریشال کا چہرا بٹھا کر وہ خود کلامی کے انداز میں بولا تھا پھر ساتھ رکھی ٹیبل سے جوس کا گلاس اٹھا کر گھونٹ گھونٹ بھرنے لگا
آج رات اسے گلشن کی بیجھی گئی لڑکی سے ملاقات کرنی تھی
جبری ملاقات
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
صبح کا وقت تھا
واصف عیوب لانج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے
ساتھ اخبار بھی پڑھ رہے تھے
منال پاس آئی اور ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی
” بابا مجھے ایک بات کرنی ہے ۔ ” وہ واصف صاحب سے مخاطب ہوئی
اسکے لہجے میں اب شوخ پن نہیں ہوتا تھا
” ہاں بولو ۔ ” واصف صاحب نے اخبار موڑ کر اسی طرف متوجہ ہو کر کہا ۔
” میں واپس جانا چاہتی ہوں ۔ اپنی سٹڈی کمپلیٹ کرنا چاہتی ہوں ” منال نے اپنی خواہش ظاہر کی
” میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں تم اکیلی نہیں جاو گی ۔ اور یہاں پر ایڈمیشن لے لو ۔ ” واصف صاحب نے صاف انکار کیا ۔
” بابا میں پہلے بھی اکیلی ہی گئی تھی ” منال نے انکا ہاتھ تھام کر یاد دہانی کروائی
” پہلے کوئی حادثہ پیش نہیں آیا تھا ۔ ” انہوں نے جواز دیا ۔
” ضروری نہیں دوبارہ ایسا کچھ ہو ” وہ نفی میں سر ہلا کر بولی
” میں رسک نہیں لینا چاہتا ” واصف صاحب نے دو ٹوک کہا ۔
تبھی مجتبی بھی وہاں آ گیا
وہ اپنی وردی میں جانے کے لیے تیار کھڑا تھا
” بابا اگلے ہفتے سے میری پوسٹنگ اسلام آباد میں ہو گئی ہے ” مجتبی نے صوفے پر بیٹھ کر شوز پہنتے ہوئے کہا
” بابا میں بھی جاوں بھائی کے ساتھ پھر میں اکیلی نہیں ہونگی ۔” وہ یک دم امید کے ساتھ باپ کی طرف دیکھنے لگی
” لیکن بیٹا تمہیں روعان کے ساتھ ہونا چاہیے ۔ اسے تمھاری ضرورت ہے ” واصف صاحب نے اسے باور کروایا
” روعان بھی چاہتا ہے میں اپنی سٹڈی مکمل کروں ۔ اسکی مرضی سے ہی جا رہی ہوں ۔ ” منال نے بتایا تو واصف صاحب نے گہرا سانس لیا ۔
” تھیک ہے ۔ ” وہ بلآخر مان گئے تھے
مجتبی جو دونوں کی باتیں سن رہا تھا اس بارے میں سوچتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا
منال کمرے میں آ گئی
دائیں دیوار کے آگے روعان کھڑا تھا
اسکے آگے کینوس تھا جس پر وہ اپنے مصنوئی ہاتھ سے کیلی گرافی کی کوشش کر رہا تھا مگر برش پر گرفت نہیں ہو رہی تھی
” بابا مان گئے ۔ اگلے ہفتے مجتبی بھائی کے ساتھ جاوں گی ۔ انکی ادھر ہی پوسٹنگ ہو گئی ہے ۔ ” وہ اسکے ساتھ آ کھڑی ہوئی اور ہاتھ پکڑ کر کینوس پر چلانے لگی
” کیا وہ مجھے جانے دیں گے۔ ” روعان نے منال کے ہاتھ میں اپنا مصنوئی ہاتھ چلتے ہوئے دیکھا
” کچھ عرصہ انتظار کرو ۔ پھر میں تمہیں لے جاوں گی ۔ ابھی آصف چچا تمھارے بارے میں بہت پریشان ہیں ” منال اسکی طرف مڑی اور وعدہ کرتے ہوئے بولی
ساتھ ہی اسکی شرٹ کی نادیدہ شکنیں بھی درست کیں
” کاش میں اپنے ہاتھوں میں تمھارے ہاتھوں کو محسوس کر پاتا ” وہ بے دل ہوتے ہوئے حسرت بھری آواز میں بولا
” ہاتھوں میں نہیں اپنی ڈھرکنوں میں تو محسوس کر سکتے ہو نا ۔ ” منال نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکے سینے پر دل کے مقام پر رکھا ۔
” اپنے بالوں میں تو محسوس کر سکتے ہو نا ” پھر اسکے بالوں میں ہاتھ لہرایا ۔
ایسا کرنے کے لیے منال کو پنجوں پر اونچا ہونا پڑا
” اپنے چہرے پر تو محسوس کر سکتے ہو ” منال نے دونوں ہاتھوں سے اب اسکا چہرا تھاما
وہ بہت محبت سے اسکا چہرا دیکھنے لگی تھی
روعان مسکرا دیا
” سب سے اچھا تمھارا نرم اور گداز ہاتھوں کو دل کی ڈھرکنوں کے قریب محسوس کرنا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے میری ڈھرکنیں تمھارے ہاتھ میں ہوں اس سے اچھا اسے اپنے بالوں میں نرمی سے پھیرتے محسوس کرنا یوں جیسے میری زہن پر بھی تمھارا قبضہ ہو اور اس سے بھی اچھا انکی نرمی اور گرماہٹ اپنے چہرے پر محسوس کرنا ” روعان نے اپنے مصنوئی ہاتھ اسکے ہاتھوں پر رکھے محبت اور سرشاری سے بولا تو وہ کھل کھلا کر ہنس دی
” بلکل تھیک کہا تم نے ۔ تمھاری ڈھرکن بھی میرے ہاتھ میں ہے اور ذہن پر بھی میرا قبضہ ہے ۔ اور مصنوئی ہی سہی تمھارے ہاتھ میرے ہاتھ میں ہیں ۔ ” وہ جوابا سرشاری سے بولی تھی
پھر وہ دوبارہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کینوس پر چلنے لگی
کچھ دیر بعد کینوس پر ایک آیت بمعہ ترجمعہ لکھی ہوئی تھی
شُكْـرًا ۚ وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِىَ الشَّكُـوْرُ (سورت السبا 13)
میرے بندوں میں سے شکر گزار تھوڑے ہیں۔
” میں چاہتا ہوں اللہ مجھے ان کم لوگوں میں شامل کر لے ” آیت کو دل میں دہراتے روعان نے خواہش کی تھی
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
سلار بہار پیلس میں اپنے کمرے میں موجود تھا
پریشال اولڈ ہوم گئی ہوئی تھی
اب مہکشاں کی جگہ وہ جاتی تھی ۔
اسنے سلار سے کہا تھا اسے ان میں اپنی ماں اور باپ کی جھلک نظر آتی ہے
دروازہ کھٹکا اور شہوار اندر آیا
اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں
” بھاں کیا ہوا ” سلار اسے دیکھ کر یک دم پریشان ہوا تھا
” تم نے فرح کو کہاں دیکھا تھا ۔ ” شہوار نے بے تابی سے پوچھا
اسکا سانس اٹک رہا تھا
” ریڈ لائٹ ایریا میں ۔ راہ داری سے گزرتے ہوئے ایک چادر میں لپٹی لڑکی کو دیکھا تھا جس کا صرف ہاتھ دکھا تھا ۔ ہاتھ پر بنا نشان فرح کے ہاتھ پر بنے نشان کا ہی تھا ” سلار نے تفصیلا بتایا
” مجھے اس جگہ لے چلو ۔ ” شہوار نے اس کی بات سن کر درخواست کی تھی
” لیکن بھاں آپ وہاں کیوں جائینگے ۔” سلار نے حیرت سے پوچھا
” اپنی غلطی سدھارنے ۔ فرح کو اسکا اصل مقام دینے ” وہ ندامت بھرے لہجے میں بولا
پھر دونوں پیلس سے باہر نکل آئے تھے ۔
گاڑی سلار چلا رہا تھا
کچھ دیر بعد وہ دونوں ریڈ لائٹ ایریا میں موجود تھے
جس جگہ شہوار شاہ کبھی پاوں نا رکھتا ایک غلطی ایک ندامت اسی جگہ کھینچ لائی تھی
وہ چلتے چلتے رکا
” اگر اسنے مجھے معاف نا کیا تو ” وہ اس خدشے کے خوف سے کانپا تھا
” کیا معلوم وہ بھی آپ کے آنے کا انتظار کر رہی ہوں ۔ ” سلار نے اسے تسلی دی تو شہوار نے سر اثبات میں ہلا دیا ۔
اسکی ڈھرکنیں بہت تیز ہو رہی تھیں
چند قدم بعد وہ شاکرہ کے طوائف اڈے پر موجود تھے ۔۔
سلار نے شاکرہ کو تصویر دکھا کر پوچھا تو اسنے ایک طرف اشارہ کر دیا
شہوار نے قدم بڑھا دیے جو کہ من بھر وزنی لگ رہے تھے
کمرے کے دروازے پر پہنچ کر اسنے گہری سانس لی
ایک لمحے کو رکا پھر دروازہ کھول دیا
اگلے لمحے وہ سانس نہیں لے سکا تھا
اسے لگا کسی نے اسکی جان کھینچ لی ہو
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
See translation