Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48

قسط نمبر 48
از قلم حرا شاہ
شہر پر شام اتری تھی
موسم میں کچھ حد تک کھنکی تھی
مجتبی کے کہنے پر روعان اس سے شام میں اکیلے ملنے آیا تھا
وہ ایک پارک میں اسکا انتظار کر رہا تھا
روعان نے قریب پہنچ کر سلام کیا تو مجتبی نے سر کو خم دے کر جواب دیا ۔
روعان نے سوالیہ نگاہوں سے مجتبی کو دیکھا
” یہ ڈی این اے ٹیسٹ کی ریپارٹ ہے ۔ ” مجتبی نے سفید لفافے میں مقید ریپارٹ دکھائی ۔
” اسکے مطابق ۔۔ !” مجتبی کہہ رہا تھا اور روعان سانس روکے سن رہا تھا
” تم آصف چچا کے ہی بیٹے ہو ۔ تم بلاج ہی ہو ” مجتبی نے تصدیق کردی ۔
روعان نے سانس بحال کیا اور دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیے
مجتبی نے آگے ہو کر اسے گلے لگایا تھا ۔
روعان کی آنکھیں نم ہونے لگیں تھیں ۔
بیس سال بعد
بلآخر بیس سال بعد وہ اپنے اصل کو پہنچا
اپنے بارے میں جانا تھا
اسکی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ۔
” آصف چچا تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہونگے ۔ وہ تو اس ہی امید پر زندہ ہیں کہ تمہیں گلے لگا سکیں ” مجتبی الگ ہوا اور اسکا کاندھا تھپکتے ہوئے کہا ۔
” میرے بابا ۔ ” روعان جزباتی انداز میں بولا
” ہم تینوں اسلام آباد واپس چلتے ہیں ۔ اب تمہیں تمھاری فیملی مل گئی ہے تو انتظار کس چیز کا ” مجتبی نے کہا تو روعان نے سوچتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
” میری یہاں بھی ایک فیملی ہے ۔ بہار جان ہیں ۔ میرا دوست جیسا بھائی ہے شہوار بھاں ہیں۔ میں ان سب کو نہیں چھوڑ سکتا ۔ ” وہ اپنے ان رشتوں کا زکر کرتے ہوئے بولا جو احساس سے بنے تھے نا کہ خون کے
” تو تم ان سب کے لیے اپنے باپ کو چھوڑ دو گے ۔ ” مجتبی نے آبرو اٹھا کر استفار کیا
” میں نے ایسا کب کہا ” روعان نے فورا تردید کی
” میں اپنے بابا سے ملوں گا ۔ ضرور ملوں گا ۔ انکے ساتھ بھی رہوں گا ۔ مگر میں اپنی اس فیملی کو نہیں چھوڑ سکتا ۔ ” روعان نے اپنی بات واضح کی
” تھیک ہے ۔ جیسا تم چاہو ” مجتبی نے حامی بھرتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔
” میں نے تم سے کہا تھا کچھ حقیقتیں بتانی ہیں تمہیں ۔ ” وہ دونوں لکڑے کے بینچ پر آکر بیٹھ گئے تھے جب مجتبی سنجیدگی سے بولا ۔
” جی میں سن رہا ہوں ” روعان بلکل متوجہ ہو کر بیٹھا ۔
” آصف چچا نے جس عورت سے محبت کی اور شادی کی وہ ایک ہندو تھی ۔ تمھاری ماں جس کا پہلے نام رادھا تھا وہ مسلمان ہو کر اقصی بن گئیں ۔ بڑے ابا اس شادی کے خلاف تھے تو آصف چچا الگ رہنے لگے تھے۔ رادھا کی ماں بھی خلاف تھی ۔
تم چار سال کے ہو گے جب منال پیدا ہوئی تھی
آصف چچا گھر آئے تھے
ان دنوں بڑے ابا بیمار تھے ۔ انہوں نے سوچا ابا انکی شادی قبول کر لیں گے مگر ایسا نا ہوا ۔ الٹا ابا نے آصف چچا کو وراثت سے بھی بے دخل کر دیا۔
آصف چچا بہت پریشان تھے ۔ ابا کا حکم بھی ماننا تھا اور وہ بڑے بھائی سے زندگی بھر تعلق بھی نہیں توڑنا چاہتے تھے ۔ تب دونوں بھائیوں نے مل کر ایک فیصلہ کیا تھا ۔
ادھر تمھاری نانی ( روعان کے زہن میں ہندو عورت کا عکس آیا ) نے آصف چچا اور اقصہ چچی کے درمیان کوئی بدگمانی پیدا کردی تھی ۔ دونوں کی لڑائی ہوئی اور چچی تمہیں لیکر چلی گئیں ۔
کچھ عرصہ بعد چچا کو احساس ہوا کہ چچی کو واپس راضی کر کے لے آئیں
بڑے ابا اپنی آخری سانسوں پر تھے جب انہوں نے پوتے کو یعنی تمہیں دیکھنے کی خواہش کی ۔ موت کی دستک نے انکا دل پھگلا دیا تھا ۔ آصف چچا جب چچی کے گھر پہنچے تو وہاں کوئی نہیں تھا ۔ تمھاری نانی گھر بیچ کر تمہیں اور تمھاری ماں کو کہیں اور لے گئی تھی ۔ ” مجتبی تفصیل سے زکر کرتے ہوئے چند لمحے کو رکا
روعان بغور سن رہا تھا
اس سے آگے وہ جانتا تھا کہ کیسے اسکی نانی اسکی ماں کو گالیاں دیتی تھی
اسکی ماں مسلمان ہونے پر گالیاں سنتی تھی
یقین وہ آزمائی جا رہی تھی
” آصف چچا نے چچی اور تمہیں نا جانے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا ۔ تمھارا کچھ پتا نہیں چلا ۔ بڑے ابا بھی اسی حسرت میں دنیا سے چلے گئے ۔ آصف چچا بہت تلاش کرنے کے بعد تمہیں اور چچی کو اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اس انتظار میں دن گزارنے لگے کہ ایک دن تم انہیں ضرور ملو گے ۔ انکا صبر رائیگا نہیں گیا ۔ اسے اتفاق کہو یا قدرت کا کھیل تمہیں ایسے ہی اپنے باپ سے ملنا تھا ۔ میری بہن اور اپنی کزن کے دریعے ” مجتبی نے بات کے اختتام پر منال کا زکر کیا تو روعان کچھ ہچکچا سا گیا ۔
” پتا ہے آصف چچا اور ابا نے کیا فیصلہ کیا تھا ” مجتبی زرا سے اسکی طرف جھکا اور جتانے والے انداز میں کہا ۔
روعان نے سوالیہ اسکی طرف دیکھا ۔
” دونوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے بچوں کا نکاح کر دیں گے ۔ منال اور بالاج کا نکاح کر دیں تاکہ اگر ابھی دونوں بھائی جدا ہوں تو کل کو بچوں کی وجہ سے پھر سے مل جائیں ” مجتبی نے اس پر جو حقیقت آشکار کی تھی روعان سن کر ششدر سا رہ گیا تھا
منال اسکی منکوحہ تھی
وہ ہی اسکا ناکح تھا
اسنے اپنی ہی بیوی سے محبت کی تھی
سچ کہتے ہیں نکاح میں برکت ہوتی ہے جو دو لوگوں میں محبت پیدا کر دیتی ہے
اگلے ہی لمحے اسکا سکتا توٹا اور وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر رو پڑا ۔
مجتبی اسے مسکرا کر دیکھے گیا پھر گہری سانس لیکر کھڑا ہوا
” میری بہن تمھاری زمہ داری ہے ۔ اپنی بیوی کا خیال رکھنا ۔ ” وہ اسے جاتے جاتے ہدایت کر کے گیا جبکہ روعان کے آنسو ہی نہیں رک ہے تھے ۔
خوشی کے آنسو
اسکا بس نہیں چل رہا تھا ابھی جا کر منال کو بھینچ کر گلے لگا لے
بنا کسی ہچکچاہٹ کے
روک ٹوک کے
کیونکہ وہ اسکی بیوی تھی ۔
اسنے موبائل نکالا اور منال کو کال ملائی
” میرے ساتھ دیٹ پر چلو گی ۔ ” فون اٹھتے ہی وہ جوش اور بے تابی سے بولا ۔
” ہاں کیوں نہیں ۔ وہ بھائی نے بتایا ٹیسٹ کی کیا ریپارٹ آئی ۔ ” منال نے حامی بھرتے ساتھ ہی سوال کیا ۔
” مل کر بتاوں گا ۔ پرسوں سنڈے نائٹ ۔ تیار رہنا ۔ ” روعان نے لائحہ عمل بتایا پھر مزید کچھ باتیں کر کے فون رکھ دیا ۔
وہ اٹھ کر پارک سے باہر نکل کر سڑک پر چلنا شروع ہو گیا ۔
اب بس منال کو سب بتا کر اسے وہ پہلے پیلس بہار جان سے ملوائے گا ۔ بہار جان یقینا اسے دیکھ کر بہت خوش ہونگی ۔
اور دوسرا وہ منال کے ساتھ اپنے بابا سے ملنے جائے گا
لیکن پہلے اسے سب کچھ حدید کو بتانا تھا
۔
روعان نے قدموں کی رفتار تیز کر لی ۔
اسکا بس نہیں چل رہا تھا اڑ کر پہنچ جائے
آج اسے ایک ساتھ دو خوشیاں ملی تھیں
مگر خوشیں کو نظر بھی لگنے والی تھی
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
منال نے روعان سے بات کر کے فون بند کیا تو اسی کے بارے میں سوچنے لگی
روعان کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ بہت خوش ہے
اسنے موبائل کھولا اور نوٹ پیڈ کھول لیا
پھر تمام واقعات لکھنے لگی ۔
ناول کی دوسری قسط کا مواد
ہیرو کے دوست کی محبوبہ کا اظہار محبت
ہیروئین کی عیسائی دوست کا مسلمان ہونا
اور ہیروئیں کو کینسل شدہ ڈیٹ کی پھر سے آفر ملنا ۔
اس نے سب لکھ لیا اور برا سا منہ بنایا
یہ کہانی ہیرو ہیروئین کی تھی یا انکے دوستوں کی
وہ یہی کچھ سوچ رہی تھی جب طوبی آفس سے واپس آئی
کمرے میں آتے ہی طوبی نے سلام کیا تھا۔
وہ مکمل حجاب اور عبائے میں تھی
منال کو اسے دیکھ کر ہمیشہ فرح کا گمان ہوتا تھا ۔
” تو بتاو طوبی تم نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کیسے لیا ۔ ” کچھ دیر بعد وہ فریش ہو کر آئی تو منال نے دلچسپی سے پوچھا ۔
” دل سے ۔ ” اسکے ساتھ بیڈ پر بیٹھتے اسنے اطمینان سے جواب دیا ۔
” یعنی ؟ “
” یعنی فرح کہتی تھی کہ یہ جو تمھارے ہاتھ میں موبائل ہے یہ معلومات کا خزانہ ہے ۔ تم اس سے بھی بہت کچھ جان سکتی ہو ۔ میں نے تب موبائل میں اسلامک کوٹس کی ایپ ڈاون لوڈ کی تھی ۔ جس سے روز ایک حدیث یا آیت پڑھا کرتی تھی ۔ جب تم نے مجھے کہا کہ مسلمان ہو جاو تو میرا دل مکمل طور پر راضی نہیں ہوا کیونکہ اس دن میں نے جو آیت پڑھی تھی وہ یہ تھی کہ دین میں کوئی جبر نہیں ۔
یعنی تم مجھے فورس نہیں کرسکتی تھی اسلام قبول کرنے کے لیے ۔ جبکہ فرح نے مجھے کبھی دائریکٹ نہیں کہا تھا ۔ مجھے مجبور نہیں کیا تھا بلکہ ہمیشہ اپنی باتوں سے دلائل سے قرآن و حدیث سے مجھے سچے دین کے بارے میں بتاتی رہی تھی ۔ اور جب میں نے یہ فیصلہ لیا تو مجھ پر کسی کا زور نہیں تھا ۔ میں نے دل سے یہ فیصلہ لیا تھا اور میں اس پر بہت خوش ہوں ۔ ” طوبی نے اپنے فیصلے کی حقیقت واضح کی
منال اسکی بات سن کر مسکرائی
” کیا یہ تمھارے لیے آسان ہے ۔ ” منال نے اگلا سوال کیا ۔
” فلحال تو آسان ہے ۔ مجھے معلوم ہے اس سفر پر چلتے ہوئے ہارڈشپس آئیں گی مگر میں کوشش کروں گی ان کو ٹیکل کروں ۔ ” وہ پختہ لہجے میں بولی ۔
” ہوں ۔ اور یہ عبایہ اور حجاب ۔ کیا تمھارا دم نہیں گھٹتا اس میں ” منال نے اسے بغور دیکھتے سوال کیا ۔
” یقینا ایسا ہوتا ہے ۔ ابھی شروعات ہے تو دم بھی گھٹتا ہے اور عجیب بھی لگتا ہے پھر جب یہ سوچ لیتی ہوں کہ اسلام کی شہزادی ہوں اور اسلام کی شہزادیاں ڈھکی چھپی ہی اچھی لگتی ہیں تو یہ حجاب اچھا لگنے لگتا ہے ۔
جانتی ہو فرح کے ولیمے پر جس لڑکے نے میرا مزاق اڑایا تھا اس روز فرح کے گھر میں اسی حجاب کی وجہ سے اسنے نظریں جھکائیں تھیں جب راستے میں بھی چلتی ہوں تو لوگ عزت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں ورنہ پہلے تو رنگ کی وجہ سے تضحیک سے ہی دیکھتے تھے ۔ میں نے پردے کو دل سے اپنایا ہے ۔ اب کچھ بھی ہو جائے میں اسے ہمیشہ قائم رکھوں گی ۔” وہ اپنے فیصلے پر اٹل تھی
منال اس سے مزید سوال کرتی رہی یہاں تک کہ طوبی عشا کی نماز کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
” کیا تم نماز نہیں پڑھو گی ” طوبی نے منال سے پوچھا تو وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی
” منال تم پہلے ہی مسلمان ہو ۔ اللہ کا احسان ہے یہ تم پر ۔۔ تم نماز مت چھوڑا کرو ۔ اللہ سے اس ہی بات کے ٹھینکس کے لیے نماز پڑھا کرو کہ اسنے تمہیں مسلمان پیدا کیا ۔ ” طوبی سمجھاتے ہوئے بولی تو منال نے سر اثبات میں ہلایا
” میں وعدہ کرتی ہوں اب سے ساری نمازیں پڑھنا شروع کروں گی ” وہ ارادہ کرتے ہوئے اٹھی اور وضو کرنے باتھ روم چلی گئی ۔
طوبی جو کہ عیسائیت کی حیثیت سے محض سجدہ ادا کیا کرتی تھی
اب مسلمان کی حیثیت سے مکمل نماز پڑھتی تھی اور یہ وقت اور لمحہ اسکے لیے سب سے خاص ہوتا تھا
یہ احساس ہی دل کو شاد کر والا ہوتا تھا کہ ہر نماز کے وقت اللہ اس سے باتیں کرتا ہے
دعا کے زریعے اسکی باتیں سنتا ہے تو وہ کیا کوئی بھی خوشی سے اس عنایت پر نہال ہو جائے
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
صیام بخاری اس وقت گھر پر نہیں تھا ۔
فرح جو کمرے میں ہی بند رہتی تھی گھٹن سی محسوس کر کے باہر نکل آئی ۔
اوپر سے اسکی حالت بھی ایسی تھی کہ زیادہ سٹریس لینا بچے کے لیے خطرناک ہو سکتا تھا
وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی جب تیسری سیڑھی پر یک دم اسکا پیر پھسلا اور وہ لڑکھڑا کر نیچے گری ۔
” میرا بچہ ” اسکی چینخ سن کر ملازمہ تیزی سے پاس پہنچی
فرح پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کرہا رہی تھی ۔
ملازمہ نے اسے سہارہ دے کر اٹھایا اور صوفے پر بٹھایا ۔
فرح کے سر پر بھی چوٹ لگی تھی ۔ خون رس رہا تھا مگر اسے بس اپنے بچے کی فکر تھی ۔
سر کی چوٹ کا ہوش تک نہیں تھا ۔
ملازمہ نے ڈاکٹر کو فون کیا
کچھ دیر بعد ڈاکٹر چیک اپ کر کے اطمینان سے فرح کو دیکھا
” گھبرانے کی بات نہیں ہے ہاں مگر آئندہ کے لیے احتیاط کرنی ہوگی ۔ ” ڈاکٹر ازلی پیشہ ورانہ انداز میں کہہ کر اپنی فیس لے کر چلی گئی ۔
فرح نے شکر کا سانس لیا ۔
پھر ملازمہ کی طرف تشکر سے دیکھا ۔
” تمھارا بہت شکریہ ۔ “
” میڈم یہ میرا فرض ہے ۔ آپ صیام سر کی بیٹی ہیں ۔ سر نے آپکی دیکھ بھال کے لیے ہی مجھے رکھا ہے ۔ ۔ ” ملازمہ زرا سا اسکی طرف جھک کر اطلاع دیتے ہوئے بولی ۔
فرح کچھ نا بولی
اسکے لیے ملازمہ اسکے باپ نے رکھی تھی ۔
اگر وہ نا ہوتی تو آج کچھ برا ہو جاتا ۔
صیام بخاری کو اس کی فکر تھی
باپ کو بیٹی کی فکر تھی
ملازمہ اسے کمرے میں لے آئی تھی
دوا لے کر فرح لیٹ گئی تھی
اس دن فرح اپنے باپ کے بارے میں الگ نہج پر سوچ رہی تھی
اسکے پاس خونی رشتوں میں واحد اسکا باپ تھا یا اسکا بچہ
کیا اسے تمام نفرتیں بھلا کر تمام گلے بھلا کر اپنے باپ کے ساتھ تعلقات بہتر کر لینے چاہیے یا پھر وہ شہوار کا انتظار کرے
ایک امید تھی دل میں کہ شہوار کو حقیقت کا ضرور علم ہوگا ۔
وہ اسے پھر سے قبول کرے گا ۔
اس بات کی دلیل یہ بات تھی کہ شہوار اسے چھوڑ کر گیا تھا طلاق نہیں دے کر گیا تھا
وہ اب بھی شہوار شاہ کی بیوی تھی
حقیقت پتا لگنے تک
غلط فہمی مٹنے تک
اسے شہوار کا انتظار کرنا تھا ۔
دوا کے زیر اثر نیند کی وادی میں کھونے سے پہلے فرح نے خود سے یہ آخری ارادہ کیا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
ابراہیم صاحب پچھلے دو گھنٹے سے فائلوں کی چھانٹی کر رہے تھے ۔۔
بلآخر انکے چہرے پر خوشی دوڑ گئی ۔
وہ مطلوبہ فائل تلاش کر چکے تھے ۔
” لو یہ اپنے باس کو دو اور میری بیٹی مجھے واپس کرو ” وہ صیام بخاری کے آدمی سے سخت لہجے میں مخاطب ہوئے ۔
آدمی نے فائل پکڑی اور کال ملائی
” سر فائل مل گئی ہے ۔ ” اسنے اطلاع دی ۔
دوسری طرف سے جواب سن کر اس نے سر اثبات میں ہلایا اور کال بند ہو گئی ۔
” آپکی بیٹی شام تک گھر پہنچ جائے گی ” اس نے اطلاعا کہا اور ابراہیم صاحب کو وہیں چھوڑ کر چلا گیا ۔
اسکے جاتے ہی انکے چہرے پر بے اختیار جزبات بھرے تاثر آئے ۔
بس شام تک کا انتظار ۔
پریشال انکے پاس ہو گی
انکی واحد خوشی
انکی دنیا
انکی لخت جگر
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
صیام بخاری اس وقت آفس کے کاریڈور میں تھا جب اسے فائل ملنے کی اطلاع ملی تھی ۔
اسنے فائل آفس لانے کی ہدایت کی اور فون بند کر دیا ۔
پھر ناصر ملک کو کال ملائی ۔
” تمھارے دوست نے کیپٹن ابراہیم اسد کی بیٹی اغوا کر رکھی ہے ۔ شام تک وہ اپنے گھر پہنچ جانی چاہیے ۔ ” صیام بخاری نے حکم جاری کر کے کال بند کردی
جبکہ ناصر ملک فون کو ہی تکتا رہ گیا ۔
ہاشم نے کسی لڑکی کو اغوا کر رکھا ہے اسکا علم اسے نہیں بلکہ صیام کو ہے
ہو نا ہو وہ جاسوس ضرور صیام بخاری کا ہی آدمی ہوگا جو اسے تمام معلومات دیتا ہے
ناصر ملک نے ہونٹ بھینچ کر سوچا
پھر ہاشم لغاری کو کال ملانے لگا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
آدم کی حالت اب کچھ بہتر تھی
آنکھوں کا دھندلا پن مگر بدستور تھا ۔
ہسپتال سے دسچارج کروا کر شہوار اسے گھر لے آیا تھا
” میرا لیپ ٹاپ کھولو ” واضح نظر نا آنے کی وجہ سے اس نے شہوار سے کہا
آدم کی ہدایت کے مطابق وہ ایک ویڈیو تک پہنچا ۔
اسنے ویڈیو کھولی
ویڈیو بٹن کیمرے سے بنائی گئی تھی
منظر میں ناصر ملک تھا
یہ تب کی ویڈیو تھی جب آدم شہوار کا مخالف ہونے کا ڈھونگ کر رہا تھا ۔
آدم نے ناصر ملک کو کوئی عام سی معلومات دی تھیں جس کے بدلے میں اسنے جو کہا تھا وہ ویڈیو میں ریکارڈ تھا ۔
ویڈیو چل رہی تھی اور ناصر ملک کہہ رہا تھا ۔
” ہممممم ابھی تمھارا کام ختم نہیں ہوا ۔ جس طرح عالم شاہ ، ثمرین شاہ اور آفندیز کو راستے سے ہٹایا تھا شہوار شاہ کا پتا بھی کاٹنا ہے ۔ یہ وہ اگلا کام ہے جو صیام بخاری تم سے چاہتا ہے ۔”
شہوار کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہوئی تھیں ۔
اسنے ویڈیو بند کی اور کنپٹیاں مسلتے ہوئے کھڑا ہو گیا
” تم نے اچھا کیا جو ویڈیو بنا لی تھی ۔ اب صیام بخاری قانون کی گرفت سے نہیں بچے گا۔ ” وہ آدم سے مخاطب ہوا تو اسنے سر اثبات میں ہلایا
کچھ دیر بعد وہ اسکے گھر سے نکل آیا ۔
شہوار نے آدم کی حفاظت کے لیے دو آدمی گھر کے باہر اور ایک مدد کے لیے اندر مقرر کر دیا تھا
اسکی گاڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی جب اسکے زہن میں جھمکا ہوا
اسنے آدم کے کال ریکاڑڈ نکلوائے تھے
جس میں ایک انجانے نمبر پر اسنے بہت بار بات کی ۔۔
آدم کے موبائل کے سارے کانٹیکٹ آفس کے تھے سوائے اس ایک نمبر کے
شہوار نے گاڑی سائڈ پر روکی اور کال ملائی ۔
” شہوار شاہ بول رہا ہوں ۔ مجھے اس نمبر کے اونر کی ڈیٹیل چاہیے ” پھر موبائل میں سیو آدم کی کال ریکارڈ میں سے وہ نمبر سینڈ کر دیا ۔
کچھ دیر بعد کال آئی
” یہ نمبر ارم نام کی لڑکی کا ہے ۔ وہ ایک ماڈلنگ سٹوڈیو میں بطور مینجر کام کرتی ہے ۔ اسٹوڈیو کا مالک ہاشم لغاری ہے ۔ جبکہ ناصر ملک اسکے ساتھ پارٹنر شپ پر ہے ” نمبر کے بارے میں تفصیل سن کر وہ سوچ میں پڑ گیا ۔
یہ ارم تھی کون اور اسکا آدم سے کیا تعلق تھا ۔
اسکا جواب تو آدم ہی دے گا ۔
وہ سوچتے ہوئے واپس گاڑی میں بیٹھا اور زن سے آگے بڑھا لی
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
روعان گھر پہنچا تو حدید اسکی طرف تیزی سے بھاگا ہوا آیا
” مبارک ہو ۔ تو نانا بن گیا ۔ میرا یار نانا بن گیا ۔ لولا نے پورے چھ عدد بچے دیے ہیں ” وہ بھنگڑا ڈالنے کے انداز میں چلتا ہوا آیا اور روعان کو اطلاع دی ۔
” پر حیرت کی بات یہ ہے ایک بھی ماں پر نہیں گیا۔ ” ساتھ ہی تبصرہ کیا ۔
روعان تیزی سے کیوٹیز کے کمرے میں بھاگا
سب سے پہلے لولا کو دیکھا
وہ مزے سے فرش پر برجمان تھی
اسکے ننھے بچے اسکے پیٹ سے منہ لگائے آنکھیں موندھے دودھ پی رہے تھے
روعان بس اسے خوش اور جوش سے دیکھے گیا یہاں تک کہ اسکی آنکھیں بھیگ گئیں
آج اسکا لکی ڈے تھے
ایک کے بعد ایک خوشی مل رہی تھی
مگر یہ قدرت کا قانون ہے بعض خوشیوں کے قرض بھی چکانے پڑتے ہیں ۔
اسکے حصے کا قرض وصول کیا جانا تھا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
پریشال کے قید خانے کا دروازہ کھلا ۔
وہ عشا کی نماز پڑھ کر دعا مانگ رہی تھی
ایک آدمی اندر آیا
اسنے اسکی زنجیر کھول دی اسنے تشکر سے آسمان کی طرف دیکھا
” چلو تم آزاد ہو اب” اس آدمی نے کہا تو وہ تیزی سے کھڑی ہوئی
آزادی
اس لفظ نے ہی اسکی ساری تھکان مٹا دی تھی
کچھ دیر بعد اسے اسکے گھر پر چھوڑا گیا تھا
تقریبا ڈھائی ماہ بعد وہ گھر کے اندر جا رہی تھی۔
وہ تیزی سے دروازہ کھول کر اندر بڑھی اور والہانہ انداز میں لانج میں موجود ابراہیم صاحب کو گلے لگا لیا ۔
باپ نے بازو پھیلائے اور اسکے حثار میں بیٹی کو ڈھانپ لیا
” اوہ میری لخت جگر ۔ تم نہیں تھی تو میرا کلیجہ کٹ رہا تھا ۔ شکر کہ تم تھیک ہو ” وہ روتے ہوئے اسکا ماتھا چومتے ہوئے بولے
” میں آپکے لیے بہت فکر مند تھی۔ اب پلیز روئیں مت ۔ ایک آزمائش تھی ختم ہو گئی ” وہ انکے آنسو صاف کرتے ہوئے سمجھاتے ہوئے بولی
” اب ہم مزید اس شہر میں نہیں رہیں گے ۔ تم اپنا سامان پیک کرو ” انہوں نے فیصلہ سنایا
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ابراہیم صاحب نے سینے پر ہاتھ رکھا
اور تکلیف سے اپنے ہونٹ بھینچے
” بابا ۔ ” وہ پریشان ہو کر قریب ہوئی
انہیں پھر سے دل کا دورہ پڑا تھا ۔
پریشال نے ہڑبڑاتے ہوئے انہیں جھنجوڑا ۔۔
کچھ دیر درد سے کرہانے کے بعد انکا جسم ساکت ہو گیا تھا
” بابا ۔ نہیں اٹھیں ۔پلیز بابا ۔ آنکھیں کھولیں ۔ مجھے اکیلا مت چھوڑیں ۔ ” وہ روتے ہوئے انہیں جھنجھوڑتی رہی مگر کوئی فائدہ نا ہوا
اس دفعہ کا دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا تھا
” با بااااااااااا!” در و دیوار نے پریشال کی درد ناک چینخ سنی تھی
اسکے بابا نہیں رہے تھے ۔
اسکے ہیروئین بننے پر سب سے پہلے آٹوگراف لینے والے اسکے بابا نہیں رہے تھے ۔
اسکی خاطر گھر بیچنے والے اسکے بابا نہیں رہے تھے ۔
وہ ان سے لپٹ گئی اور زارو قطار رونے لگی ۔
تبھی گھر میں کوئی داخل ہوا تھا
پریشال مدہوش سی کیفیت میں کھڑی ہوئی اور آنے والے کو دیکھنے سے پہلے ہی زمین پر گر پڑی ۔
” بہت مہنگا سودا کیا ہے تمھارا ۔ صیام بخاری کو کیا لگتا ہے میں مفت میں جانے دوں گا ” نیچے بیٹھتے ہوئے ہاشم لغاری اسکے چہرے پر بکھرے بال ہٹاتے ہو ئے قہقہہ لگا کر بولا ۔
زمین پر پڑی وہ کیپٹین ابراہیم اسد اور ملیحہ ابراہیم کی بیٹی تھی جو خوشیوں کے معاملے میں کافی کھوٹی نکلی تھی ۔
اور تکلیفوں کے معاملے میں سخی
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے