Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249 Episode 54
No Download Link
Rate this Novel
Episode 54
آتش_عشقم
قسط نمبر 54
از قلم حرا شاہ
سلار کی ضمانت کی خبر ملتے ہی شہوار سب سے پہلے فارم ہاوس پہنچا تھا
اسے یقین تھا کہ وہ وہیں پر موجود ہوگا
راستے میں اسے ناصر ملک کے فرار ہونے کی بھی خبر مل گئی تھی ۔
وہ فارم ہاوس پہنچ کر اندر بڑھا تو ٹھٹک کر رکا
سامنے صوفے پر ناصر ملک بیٹھا تھا جو خود شہوار کو دیکھ کر چونک گیا تھا ۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ ” شہوار نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا ۔
” میں اسے یہاں لایا ہوں ” اپنے کمرے سے باہر آتے سلار نے آگاہ کیا
اسکے ہاتھ میں کافی کا کپ تھا جسے وہ گھونٹ گھونٹ بھر رہا تھا ۔
” مگر کیوں ؟ ” شہوار الجھن زدہ اس کے قریب آیا اور استفار کیا ۔
” یہ تو آپ جانتے ہوں گے میری ضمانت صیام بخاری نے کروائی ہے ۔ اسکے بدلے وہ چاہتا تھا میں ناصر ملک کو قتل کر دوں مگر میں نے اسکی جان بخشی کے بدلے اسے آفیشنل وٹنس بننے کی آفر کی تو اس نے حامی بھر لی ۔ اب یہ ہمارے ساتھ ہے ” سلار نے حقیقت سے آگاہ کیا
اور شہوار بس اسکا انداز دیکھے جا رہا تھا ۔
نا کوئی عداوت کی رمق تھی
نا کوئی ناراضی کے آثار تھے
نا ہی وہ ہمیشہ کی بے رخی جو سلار ہمیشہ اس سے بات کرتے ہوئے خود پر اوڑھے رکھتا تھا ۔
” اور تم نے یہ سب کیوں کیا ” شہوار نے اسے بغور دیکھتے بے یقینی کی سی کیفیت میں پوچھا ۔
اسے وہ سلار لگ ہی نہیں رہا تھا جسے وہ جانتا تھا ۔
” آپکی مدد کے لیے ۔” سلار نے بے نیازی سے کہا جب کہ شہوار نے محسوس کیا اسکے لہجے میں ندامت کی رمق تھی ۔
” مجھے تم سے اکیلے میں بات کرنی ہے ” شہوار کہتے ہوئے اس کمرے کی طرف بڑھ گیا جہاں پریشال سوتی تھی ۔ سلار کے کمرے کی تو بو ہی کھڑے نا ہونے دیتی ۔
شہوار کے پیچھے سلار بھی اندر آیا ۔
بظاہر کافی کا آخری گھونٹ بھرتے وہ نارمل لگ رہا تھا مگر شہوار کو اسکی آنکھیں سرخ ہوتی محسوس ہو رہی تھیں ۔
یوں جیسے اندر ہی اندر کوئی سیلاب سمیٹ کر رکھا ہو ۔
شہوار نے دروازہ بند کیا اور اسکی جانب پلٹا
” اپنے بھائی پر یک دم اتنی عنایت کیوں ۔ ؟ ” شہوار نے سوال کیا تو سلار کچھ دیر تک خاموش کھڑا رہا ۔۔
اسکا سر جھکا تھا اور وہ تزبزب کی حالت میں محسوس ہوتا تھا ۔
” تم بول کیوں نہیں رہے ؟ ” شہوار کہتے ہوئے اسکے سامنے جا کر کھڑا ہوا ۔ اسکا اپنا دل زور سے ڈھرکنے لگا تھا ۔
” بولنا چاہتا ہوں مگر الفاظ حلق میں ہی اٹک جاتے ہیں ۔ ” سر اٹھائے بنا وہ مدھم سا بولا ۔
” کس بات نے تمہیں پریشان کر رکھا ہے ۔ اپنے بھاں کو بتاو ۔” شہوار نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھتے محبت سے کہا تھا ۔
اسکے بھاں کہنے نے سلار کے لیے ضبط کا بند ٹورنے کا کام کیا تھا ۔
” گلٹ نے ۔ بے وجہ کی نفرت نے ۔ بے بنیاد ایگو نے ” سلار کی آواز زرا سا روندھی تھی اور اگلے ہی لمحے وہ شہوار کے گلے لگ گیا ۔
شہوار بالکل ساکت کھڑا رہا
جبکہ سلار اپنے بھاں کے گلے لگے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیا ۔
چند لمحوں بعد شہوار کا سکتہ ٹوتا تو اسے منظر دھندلا نظر آیا ۔
آنکھوں میں اترے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کیے اور ہاتھ سے سلار کی پشت تھپکی
” تمھارے رونے سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔ بھاں پر ایسے ستم نا کرو ” شہوار نے اسے خود سے الگ کیا اور اسکا چہرا دونوں ہاتھوں میں تھام کر التجائی انداز میں بولا ۔
” میں آپکو اور بی جان کو ہمیشہ سے تکلیف دیتا آیا ہوں ۔ بے وجہ کی تکلیف ۔ میں بہت برا ہوں بھاں ۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور یہ احساس میرے اندر پچھتاوا بن کر گھوم رہا ہے ۔ ” وہ روتے ہوئے اعتراف کر رہا تھا جبکہ شہوار کی سانس رکی ہوئی تھی ۔
کتنے سالوں بعد سلار نے اس سے اس طرح بات کی تھی
اسے گلے لگایا تھا
بھاں کہا تھا
اسکے سامنے دل کا بوجھ ظاہر کیا تھا
” میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوا۔ تمھاری نفرت نے مجھے بہت تکلیف سے گزارا ہے مگر مجھے یقین تھا تم واپس ضرور لوٹ کر آو گے ۔ اپنی غلطی کا احساس کروگے اور دیکھو وہ وقت آ ہی گیا ۔ ” آنسووں کے درمیان وہ فرط جزبات سے کہہ رہا تھا ۔
” آپ مجھے معاف کر دیں تو اللہ بھی مجھے معاف کر دے گا ۔ میں اللہ کا بھی گناہ گار ہوں ۔” سلار نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ اسکی آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے ۔
” میں تم راضی ہوں ۔ اللہ بھی تم سے راضی ہو ۔ ” مسکرا کر کہتے شہوار نے اسکی پیشانی پر بوسہ دیا ۔
” غلطی ہو گئی بڑی بات نہیں ۔ اہم یہ ہے کہ غلطی کا احساس ہو گیا ۔ ” وہ دونوں بیڈ پر بیٹھے تھے جب شہوار اسے سمجھاتے ہوئے کہہ رہا تھا
سلار نے اسکا ہاتھ پکڑ رکھا تھا
ویسے ہی جیسے وہ بچپن میں پکڑ لیتا تھا جھولے میں بیٹھتے ہوئے
بس ایک ہاتھ پکڑا
اور سب ڈر غائب
اور اس وقت بھی سلار کو اپنا وجود پستی کی طرف جاتا محسوس ہو رہا تھا لیکن بھاں کا ہاتھ پکڑ لیا تو اب پریشانی کی بات نہیں ۔
” بیس سالوں میں میرے کان ترس گئے تھے تمھارے منہ سے اپنے لیے بھاں سننے کے لیے ۔ اور آج یہ لفظ سن کر مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے ۔ میں بتا نہیں سکتا ۔ تم اس وقت اس طرح بنا کسی نفرت کے اظہار کے میرے پاس بیٹھے ہو مجھے تو یقین بھی نہیں ہو رہا ۔ ہمیشہ تمھاری لا تعلقی اور بے رخی سہنے کی عادت تھی تو ایسے دیکھ کر اچھا بھی لگ رہا ہے اور عجیب بھی ۔ ” شہوار خوش بھی تھا ۔ حیرت زدہ بھی تھا ۔ بے یقین بھی تھا ۔ تزبزب کا بھی شکار تھا ۔ کونسا ایسا احساس تھا جو اس پر حاوی نہیں ہو رہا تھا ۔
” مجھے اپنے کیے پر بہت پچھتاوا ہے ۔ اس لیے میں ان بیتے سالوں کا مداوا کرنا چاہتا ہوں آپکی مدد کر کے ” سلار نے شہوار کے ہاتھ پر دباو ڈالتے کہا ۔
” اگر میرا بھائی میرے ساتھ ہو گا تو میں دنیا کی کوئی بھی جنگ جیت سکتا ہوں” شہوار نے بھی اسکا ہاتھ مضبوطی سے دبایا تھا
سلار ایک پل کو مسکرایا مگر اگلے ہی پل مسکراہٹ سمٹ گئی
” کوئی پریشانی ہے کیا ؟ ” اسکا چہرے پڑھتے ہوئے شہوار نے فکر مندی سے پوچھا ۔
” کیا آپ تبریز خاور کو جانتے ہیں ۔ ؟ ” سلار نے اسکی طرف دیکھتے امید سے پوچھا
شہوار کچھ لمحے سوچتا رہا پھر نفی میں سر ہلا دیا ۔
” نہیں مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو ۔ ” اسنے استفار کیا
” کیونکہ اس شخص کے قبضے میں میری جان ہے ۔ ” وہ انگار ہوتی آنکھوں کے ساتھ مٹھیاں بھینچ کر بولا تھا ۔
پھر سلار نے شہوار کو پریشال کے بارے میں سب بتا دیا ۔۔
شروع سے لیکر اب تک
شہوار بغور اسکی باتیں سنتا رہا پھر گہری سانس لیکر بولا ۔
” یعنی میرے بھائی کو محبت ہو گئی ہے ۔ہاں! ۔ ” وہ ایک آنکھ اٹھا کر تفتیشی انداز میں پوچھنے لگا ۔
” شاید ہاں ۔ میں نہیں جانتا یہ جزبہ محبت ہے یا نہیں مگر محض دو ماہ میں مجھے اس لڑکی کی ایسی عادت لگ گئی کہ اب لگتا ہے میں اسکے بنا رہ نہیں پاوں گا ” وہ آج دل کے تمام راز بھاں کے ساتھ بانٹ رہا تھا ۔
” وہ مجھے کئی بار اپنے آس پاس محسوس ہوئی ہے ۔ مجھے خوابوں میں وہ نظر آتی ہے۔ میرے لا شعور پر بھی اسکا قبضہ ہے ۔ میرے زہن میں اسی کا خیال رہتا ہے اور یہ خیال کے وہ کسی اور کے قبضے میں ہے مجھے پاگل کر رہا ہے ” سلار کی آنکھیں پھر بھیگنے لگی تھیں اور آواز میں بے پناہ کرب تھا
شہوار کا دل بھینچا
وہ اسے بلکل پانچ سالا سلار بھی لگ رہا تھا
وہ سلار جو بہت حساس تھا
چھوٹی چھوٹی باتیں بھی محسوس کرتا تھا
” اگر تمھاری تڑپ سچی ہے تو وہ تمہیں ضرور ملے گی ۔ ” شہوار نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا
پھر اسے انسپیکٹر ظفر کا پیغام یاد آیا تو سلار کو بتا دیا ۔
” میں کل لاہور ہو آتا ہوں ۔ ” سلار نے اسکی بات کے جواب میں کہا ۔
” تھیک ہے ۔ میں زرا ناصر ملک سے بات کر لوں ” شہوار کہتے ہوئے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔
جبکہ سلار وہیں بیٹھا رہا
اس کمرے میں پریشال کی موجودگی کے لمس محسوس ہوتے تھے
وہ اس طرف دیکھنے لگا جہاں وہ نماز پڑھتی تھی
اسکے دیکھتے دیکھتے دفعتا وہاں ڈوبٹہ چہرے کے گرد لپیٹے پریشال آ بیٹھی ۔
وہ دیکھتا ہی رہا جب پریشال نے رخ موڑ کر اسکی طرف دیکھا ۔
وہ مسکرائی
سلار بھی مسکرایا
آج اسکا چہرا بلکل صاف اور شفاف تھا
وہاں کوئی زخم نہیں تھا
بس سکون تھا
سلار اسکے چہرے کو دیکھتا رہا
یہاں تک کہ عکس ہوا میں کہیں تحیل ہو گیا
وہ کچھ لمحوں تک ساکت بیٹھا رہا پھر بختہ ارادے سے بولا
” میں تمہیں تلاش کر لوں گا ۔ میرا انتظار کرنا “
وہ خود سے کہتے ہوئے اٹھا اور باہر نکل گیا
لانج میں شہوار ناصر ملک سے گفتگو کر رہا تھا
وہ ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر فارم ہاوس سے باہر نکل آیا ۔
یہ جو بھاں سے بلا وجہ کی عداوت پال رکھی تھی آج اسکا بوجھ کم ہوا تھا ۔۔۔
اب بس پریشال کی فکر دل میں رہ گئی تھی
وہ اسی کے بارے میں سوچتا آگے قدم بڑھانے لگا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
صیام بخاری مخصوص بے نیاز سے انداز میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے آفس کی طرف آیا تھا
وہ اندر آیا تو وہاں پہلے سے ہی ایک انسان بیٹھا تھا
” ناصر نے میرے لیے بہت کام کیے مگر اب جیسا کہ تم جانتے ہو وہ نہیں رہا تو میں اسکی جگہ تمہیں دے رہا ہوں رمیز ۔ امید ہے تم اسکی طرح بیوقوفی کر کے خود کے لیے قبر نہیں کھودوں گے ۔ ” وہ پاور سیٹ پر آکر بیٹھا اور رمیز سے مخاطب ہوا
ناصر ملک کے حوالے سے وہ رمیز کو جانتا تھا
وہ کئی بار اسکے بارے میں بات کر چکا تھا
وہ ناصر کا خاص رہا تھا اور پھر سلار کو ڈرگز ڈیلنگ جیسے دھندے میں پھنسانے کا کام بھی تو اسی نے کیا تھا
وہ صیام بخاری کے کام آ سکتا تھا ۔
” مجھے خوشی ہو گی آپکے لیے کام کرنے میں سر ” وہ بظاہر فخریہ جبکہ اندورنی طور پر صیام بخاری کے خلاف نفرت لے کر بولا تھا ۔
( ” مجھ سے وعدہ کرو ۔ اسے زندہ نہیں چھوڑو گے ۔ تم کیا کرو گے میں نہیں جانتی مگر تم اسے کسی صورت زندہ نہیں چھوڑو گے ۔ تم صیام بخاری کو ہر گز زندہ نہیں چھوڑوں گے ۔ جو ظلم اسنے میرے ساتھ کیا ہے اسکی سزا اسے ضرور دینا ۔ ” یہ ثانیہ حبیب کے آخری الفاظ تھے جو گیارہ سالا رمیز کے دل میں ثبت ہو گئے تھے ۔ اب اسکا ایک ہی مقصد تھا صیام بخاری کی موت ۔ )
صیام بخاری نے ٹیبل پر کوئی فائل رکھی تو وہ ماضی سے باہر نکلا ۔
وہ فائل ناصر ملک کا ڈیٹھ سرٹیفکیٹ تھا
ناصر ملک نے ڈاکٹر کو پیسوں کا لالچ دے کر اسے نقلی سرٹیفکیٹ بنانے کی پیش کیش کی تھی جسے ڈاکٹر نے قبول کر لیا تھا ۔
” سر میرے لیے اب کیا حکم ہے ” رمیز نے بے چینی سے پوچھا ۔
صیام کچھ دیر سوچتا رہا پھر آگے کو ہو کر بیٹھا
” شہوار کے آس پاس رہو اور اسکی ہر حرکت سے مجھے آگاہ کرو ۔ ” وہ حکمیہ انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا
اسے ایک ضروری ملاقات کے لیے لاہور جانا تھا
وہ کڑوڑوں کے ٹینڈرز تھے جو اسے مل سکتے تھے اگر ملاقاتی سے اسکی ڈیل پکی ہو جائے
اور وہ ملاقاتی تبریز خاور تھا
تبریز خاور پریشال ابراہیم کا خریدار
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ اس وقت لاہور جیل کے انویسٹیگیشن سیل میں موجود تھا
انسپیکٹر ظفر سامنے بیٹھا اس سے ان تمام لوگوں کے بارے میں پوچھ رہا تھا جو ڈرگز ڈیلنگ کے دھندے میں شامل تھے
اور سلار کو جس جس کے بارے میں معلوم تھا وہ بتا رہا تھا ۔
” تھیک ہے تم جا سکتے ہو ۔ ” پوچھ تاچھ ختم ہوئی تو ظفر نے اسے جانے کی اجازت دے دی ۔
وہ ابھی باہر نہیں نکلا تھا جب ایک پولیس آفیسر اندر داخل ہوا ۔
” سر آپکا اندازہ درست نکلا ۔ وہ لڑکی جو بہت دنوں سے لا پتہ تھی میرے خبری نے بتایا تبریز خاور کے آدمی اسکی لاش رات گئے سنسان علاقے میں پھینک کر چلے گئے ۔”
سلار جس کے کانوں میں نکلتے ہوئے بات پڑی تبریز خاور کا نام سنتے ہی وہیں پر ساکت ہو گیا
لا پتہ لڑکی
لاش
اسکے دماغ میں یہ الفاظ گردش کرنے لگے
پریشال کا زخمی چہرا نظر آنے لگا
ایک ساتھ کئی وسوسے اور ناگہانی خیال نے اس پر حملہ کیا
ظفر بات سن کر اٹھ کھڑا ہوا
” یہ چوتھی لڑکی ہے جو تبریز خاور کے گھر سے اس طرح مردہ نکلی ہے ۔ پیسے اور پاور کے گھمنڈ نے اسے درندہ بنا دیا ہے ۔ اس سے پہلے مزید کوئی لڑکی جان سے جائے ہمیں کوئی سخت ایکشن لینا ہو گا ” ظفر سنجیدگی سے کہتا دوسرے آفیسر کے ساتھ چلا گیا
جبکہ سلار آندھیوں کی زد میں کھڑا رہا ۔
کچھ دیر بعد اسنے اپنے قدم اٹھائے
کیا اسے وہ لڑکی کی لاش دیکھ لینی چاہیے
اگر وہ لاش پریشال کی ہوئی تو
وہ دیکھ نہیں پائے گا
وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گا
” ککک ۔کیا ۔ میں لاش دیکھ سکتا ہوں ” اسنے پیچھے سے ہی انسپیکٹر ظفر کو پکارا
اسکا لہجہ ایسا تھا کہ انسپیکٹر منع نہیں کر پایا ۔
سلار ان کے ساتھ ہی مردہ خانے میں داخل ہوا
اسکی سانس رکنے لگی تھی
” اللہ جی یہ پریشال نا ہو ” دل میں کہتے وہ میز کی طرف بڑھا جس پر لاش سفید کپڑے سے دکھی پڑی تھی
” اللہ میرے گناہوں کی مجھے اتنی بری سزا مت دینا ” وہ جیسے فریاد کر رہا تھا ۔
پھر اسنے ہاتھ بڑھایا اور کنارے سے کپڑا تھاما
دونوں آفیسر اسے بغور دیکھ رہے تھے
سلار نے آنکھیں موندھی اور اگلے ہی لمحے اس نے کپڑا ہٹا دیا
پھر آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور لاش کا چہرا دیکھا
وہ ایک لمحے کو سانس نہیں لے پایا
آنکھوں سے آنسو زارو قطار بہنے لگے تھے
وہ جہاں تھا وہیں پر بیٹھا اور بے اختیار سجدے میں چلا گیا
کافی دیر تک اسی حالت میں رہ کر اٹھا تو چہرا آنسووں سے بھیگا ہوا تھا مگر وہاں شکر کا عکس تھا
” تم جانتے ہو اس لڑکی کو ” ظفر اسکے قریب آیا اور پروں کے بل سامنے بیٹھا ۔
” نہیں ۔ ” سلار نے یک لفظی جواب دیا ۔
” تو پھر ” اسنے استفار کیا ۔
” تبریز خاور ۔ اسکے قبضے میں ایک لڑکی ہے ۔ مجھے لگا یہ اسکی لاش ہو گی ۔ مگر یہ وہ نہیں ہے ۔ یہ وہ نہیں ہے ۔ یہ وہ نہیں ہے ” وہ بار بار دیوانہ وار ایک ہی جملہ دہرانے لگا
” یہ پریشال نہیں ہے ۔ یہ وہ لڑکی نہیں جس سے میں محبت کرتا ہوں ۔ یہ کوئی اور ہے ۔ ” وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے کہنے لگا ۔
” اگر واقعی ایسا ہے کہ تبریز خاور کے قبضے میں تمھاری بتائی ہوئی لڑکی ہے تو میں وعدہ کرتا ہوں اسے صحیح سلامت اس گھر سے نکالو گا ” ظفر بھی اٹھ کھڑا ہوا اور سلار کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے کہا ۔
” میں بھی ساتھ چلوں گا۔ ” یک دم سلار نے آنسو پونچھے اور پختگی سے بولا
” ابھی اسی وقت تبریز خاور کے گھر ریڈ مارتے ہیں ۔ ” سلار بے تابی سے بولا
” یہ اتنا آسان کام نہیں ہے ۔ وہ علاقے کا سی ایم ہے ۔ ہائی اٹھوریٹیز کی اجازت کے بغیر ہم کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے اور اٹھوریٹیز ہمیں تب ہی کوئی ایکشن لینے کا کہہ سکتی ہے جب ہمارے پاس سولڈ پروف ہوں ۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ٹائیٹ سیکیوریٹی کے باعث ہم اس کے پاس نہیں ہہنچ سکتے ” ظفر چبا کر کہتا اپنی مجبوری کا زکر کر رہا تھا جبکہ سلار کچھ سوچتے ہوئے وہاں سے باہر نکل گیا ۔
پریشال اسکی محبت تھی
وہ اسے خود ہی تبریز خاور کے چنگل سے نکالے گا
اسے کسی کی ضرورت نہیں تھی
کیا کرنا تھا وہ سوچ چکا تھا
بس کسی طرح اسے تبریز خاور کے گھر میں داخل ہونا تھا
اسنے خود کو دلاسہ دیا کہ وہ صحیح سلامت پریشال کو وہاں سے نکال لے گا
وہ پولیس اسٹیشن سے نکل کر مین روڈ پر ہی آیا تھا جب ایک گاڑی آکر سامنے رکی ۔
” کیا تم ہی سلار شاہ ہو ۔ ” گاڑی سے ایک آدمی اترا اور بے تاثر لہجے میں پوچھا ۔
سلار نے اثبات میں سر ہلا دیا
” ساتھ چلو ۔ سی ایم تبریز خاور تم سے بات کرنا چاہتے ہیں ۔ ” اس آدمی نے کہا تو سلار کا چہرا بے اختیار آسمان کی طرف اٹھا
ابھی وہ سوچ بھی نہیں پایا تھا اور اللہ نے اسکے لیے راستہ کھول دیا تھا
اسے بے اختیار اپنے رب کی اس عنایت پر پیار آیا تھا
وہ گاڑی میں بیٹھ گیا تو گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی ۔
بہار پیلس کی سٹڈی کی دیوار پر لگی روعان کے ہاتھوں سے لکھی ہوئی کیلی گرافی کی ایک آیت دھوپ پڑنے کی وجہ سے چمک رہی تھی
وہ آیت تھی
حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ ( سورت العمران 173)
اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے.
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
تین ماہ بعد
وہ پریشانی اور گھبراہٹ کی کیفیت میں ہسپتال میں داخل ہوئی تھی ۔
اسکے ہاتھ پاوں پھول رہے تھے
سب کچھ گھوم رہا تھا
کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔
تبھی اسکی نظر شہوار پر پڑی جو کہ ضبط کیے کھڑا تھا ۔ اسکی آنکھیں لال ہو رہی تھیں
وہ قریب آ گئی
” شہوار بھاں مہکشاں کیسی ہے ۔ اور روعان اور حدید ” روندھتے لہجے میں منال نے پوچھنا چاہا
شہوار بے اسکی طرف دیکھا مگر کچھ بولا نہیں ۔
” حدید کے کمرے میں آخر آگ لگی کیسے ۔ ؟ ” وہ اب خود سے ہی مخاطب تھی
دفعتا انکے قریب ڈاکٹر آیا
” معزرت مگر لڑکی نائنٹی پرسنٹ برن ہو گئی تھی ۔ ہم اسے بچا نہیں سکے ۔ ” ڈاکٹر نے مایوسی سے اطلاع دی
اور منال اپنا دل تھامتے زمین پر بیٹھی
مہکشاں مر گئی
اسکے آنسو بہنا بند ہو گئے
پھولاں والی مر گئی
فلاور شاپ کے پھول یک دم مرجھائے تھے
منہال کی ماں مر گئی
بے آواز روتی لرزتی ہوئی بچی نظروں کے آگے گھوم گئی
حدید کی محبت مر گئی ۔
مہکشاں آہ مہکشاں ۔۔
اسکے لیے خوشیوں کی مقدار بہت ٹھوری تھی مگر درد بے تحاشہ
زندگی تو درد ناک رہی ہی تھی
موت بھی درد ناک آئی تھی ۔
” دونوں لڑکے زندہ ہیں ۔ ایک کا چہرا بائیں طرف سے بری طرح جلا ہے ۔ ہم کوشش کریں گے آپریشن سے قابل دید بنا سکیں مگر پہلے جیسی شکل نہیں رہے گی ۔” ڈاکٹر مزید بتا رہا تھا
شہوار کا دل تنگ ہونے لگا تھا ۔
حدید
ہمیشہ ہنسی مزاق کرتا
پیلس میں رونک لگائے رکھنے والے اس لڑکے کی اپنی زندگی یوں ویران ہو جائے گی کیا کسی نے سوچا تھا
مگر یہ اسکی اپنی ہی ایک غلطی کی سزا تھی
کسی کی شکل کا مزاق اڑا کر اپنی ہی شکل بگاڑ چکا تھا ۔
” دوسرے لڑکے کے بازو دونوں طرح جل چکے تھے ۔ ہمیں کاٹنے پڑے ۔ ” اب ڈاکٹر نے روعان کے متعلق اطلاع دی ۔
شہوار سینے پر ہاتھ رکھتا بے اختیار پیچھے کرسی پر بیٹھا
منال بے دم سی زمین پر بیٹھی اپنے ہاتھوں کو تکنے لگی ۔
روعان حیدر ( بالاج آصف )
جس کے ہاتھوں میں لولا سمیٹ دوسری بلیاں کھیلتی تھیں
جس کے ہاتھ خوبصورت کیلی گرافی کیا کرتے تھے
جس کے بھاری ہاتھ بہار جان کی ٹانگیں ڈباتے تو انہیں بہت آرام آتا
جس کے ہاتھ اکثر روعان کے کندھوں پر حصار کیے پائے جاتے تھے
وہ روعان حیدر ایک نا گہانی آفت کی وجہ سے اپنے بازو کھو بیٹھا تھا
شہوار نے دیوار سے سر ٹکا لیا اور آنکھیں موندھ لیں ۔
بند آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔
حدید اور روعان اسکے سگے بھائی نہیں تھے مگر ان کے درمیان ایک ایسا احساس کا رشتہ تھا جو بہت گہرا تھا ۔۔۔۔
” سر لڑکی مر گئی ۔ لڑکے دونوں زندہ ہیں مگر ایک کا چہرا خراب ہو گیا اور دوسرے کے بازو کٹ گئے ۔ ” کچھ فاصلے پر کھڑا ایک آدمی فون پر کہہ رہا تھا ۔۔
پھر اسنے کال بند کی اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔
” تمھارے باپ نے بھی ایک غلطی کی تھی صیام بخاری کو جیل بجھوا کر ۔ اسکی سزا اسے مل گئی ۔ یہی غلطی اب تم نے دہرائی ہے ۔ مگر اس بار سزا تمھاری جان لیکر نہیں بلکہ تمھارے اپنوں کو تکلیف دے کر تمہیں سزا دی ہے ۔ امید ہے یہ دن تم ساری زندگی نہیں بھولو گے اور اس گلٹ میں جیتے رہو گے کہ تمھارے کیے کی سزا تمھارے بھائیوں کو ملی ۔” ٹیرس پر کھڑا وہ خود کلامی کے انداز میں چبا چبا کر بولا
پہلے شہوار شاہ کے باپ اور اب شہوار شاہ کی وجہ سے جیل جانے والا صیام بخاری
اپنا ایک اور خطرناک وار کر چکا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے ۔
