Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

آتش_عشقم
قسط نمبر 38
از قلم حرا شاہ
مہکشاں منہال کو اولڈ ہوم میں چھوڑ کر روعان کے ساتھ ہسپتال گئی تھی ۔
حدید کے ہوش میں آنے کے بعد وہ ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر واپس آ گئی تھی ۔
وہ اولڈ ہوم میں داخل ہوئی تو اسے کمروں کی راہ داری کے سامنے ویل چیئر پر ایک درمیانی عمر کے آدمی بیٹھے نظر آئے ۔
وہ چہرا لٹکائے بیٹھے تھے اور بار بار دروازے کی طرف دیکھتے جیسے کسی کے آنے کا انتظار کر رہے ہوں ۔
مہکشاں کے آنے پر بھی چہرا اٹھایا مگر پھر مایوسی سے گرا لیا ۔
مہکشاں نے سمجھا وہ اپنی اولاد کی راہ دیکھ رہے ہیں جو انہیں یہاں چھوڑ گئ ہے
اسے انکے لیے برا لگا تھا
یہاں ہر شخص کی یہی کہانی تھی سوائے ویل چیئر پر بیٹھے اس آدمی کی جو اپنی مرضی سے یہاں آیا تھا ۔
مہکشاں ہال کمرے میں داخل ہوئی تو منہال آکر اسکے گلے لگ گئی ۔
وہ بچی تھی اور سارے واقعے میں ڈر گئی تھی ۔
مہکشاں نے اسے خود سے لپٹا لیا ۔
اور اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ۔
منہال نے اشاروں میں ماں سے پوچھا کیا وہ تھیک ہے ۔
مہکشاں نے سر اثبات میں ہلا دیا مگر در حقیقت وہ تھیک نہیں تھی ۔
لیکن اب معصوم سی منہال سے کیا کہتی اور کیسے کہتی ۔
وہ منہال کا ہاتھ پکڑ کر باہر آئی تو ویل چیئر پر بیٹھے شخص فون پر کسی سے بات کر رہے تھے ۔
انکے تاثرات انتہائی سنجیدہ معلوم ہوتے تھے ۔
مہکشاں نا جانے کیوں وہاں رک کر ان کو دیکھنے لگی ۔
بات کرتے کرتے اس آدمی کے چہرے پر مختلف تاثر آ رہے تھے ۔
بلآخر امید بھرے کچھ تاثرات کے ساتھ کال بند کردی گئی ۔
منہال نے ماں کا بازو کھینچا تو مہکشاں اپنی جگہ سے آگے بڑھی ۔
وہ دونوں گھر آ گئی ۔
مہکشاں نے منہال کو کھانا کھلا کر سلا دیا ۔
خود اس نے کچھ نہیں کھایا ۔
پھولوں والی دکان اس نے دوبارہ نہیں کھولی تھی ۔
وہ کیچن سے فارغ ہوکر دوسرے کمرے میں آئی ۔
اس کمرے میں وہ کام ہی آتی تھی ۔
اسنے الماری کھولی تو وہاں مردانہ کپڑے لٹکے ہوئے تھے ۔
وہ شمس کے کپڑے تھے ۔
مہکشاں نے ایک شرٹ نکالی اور اس پر ہاتھ پھیرنے لگی
جیسے جیسے وہ ہاتھ پھیرتی اسکے گال آنسووں سے بھیگتے جاتے ۔
” تم نے تو کہا تھا ہمیں کبھی نہیں چھوڑ کر جاو گے ۔ پھر کیسے تم یہ کر سکتے ہو ۔ کیا تمہیں میرا اور منہال کا زرا بھی خیال نہیں آیا تھا ۔ ” وہ شرٹ خود کے ساتھ لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی ۔
شمس اسکی زندگی میں آنے والا پہلا انسان تھا جس نے اسے عزت اور محبت دونوں دی تھی مگر بے رحم زندگی نے بہت جلد شمس کو اس سے چھین لیا تھا ۔
مہکشاں کے آنسووں سے شمس کی شرٹ بھیگتی جا رہی تھی ۔
” تم واپس آ جاو ۔ ہمیں تمھاری ضرورت ہے ” وہ فریاد بھرے انداز میں بولی تھی
مگر یہ فریاد ایک حسرت ہی تھی
ایک ادھوری کاش
کیونکہ اسکے لاکھ چاہنے کے باوجود بھی شمس واپس نہیں آ سکتا تھا ۔
ہائے کاش بچھڑے ہوئے واپس آ پاتے
ہائے دہائی موت آ ڑے نا آئی ہوتی
مہکشاں نے شرٹ واپس رکھی اور الماری کی اندرونی دراز سے ایک تصویر نکالی ۔
شمس کی تصویر ۔
مہکشاں بہت پیار سے اس پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔
” تمہیں معلوم ہے ایک لڑکا ہے حدید ۔ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے ۔ تم ہوتے تو کبھی یہ بات گوارہ نا کرتے ۔ تم کبھی یہ نا چاہتے کہ تمہاری مہکشاں سے کوئی اور محبت کرے ۔ کوئی اور اسے چاہے ۔ لیکن دیکھو نا تم اس قدر دور چلے گئے کہ کوئی اور تمھاری مہکشاں کو چاہنے لگا ہے ۔ میں چاہتی ہوں تم کہیں سے آ جاو ۔ واپس آجاو اور اسے بتادو کہ مہکشاں صرف شمس کی ہے ۔ مہکشاں کے دل میں صرف شمس ہے ۔
خاور ریاض کا آدمی جب مجھ پر گھٹیا ارادے سے چڑھ دورنے کو تھا تب مجھے بچانے حدید آیا تھا ۔ مجھے لگا تم واپس آ گئے ہو ۔
وہ ایک لمحے کو مجھے تمھارا گمان دے گیا ۔
اور اگلے ہی لمحے میرا گماں توٹ گیا ۔
تم مجھے ہو مجھے کتنی تکلیف ہوئی تھی اس لمحے ۔
پھر جب رانا نے اسکی پیٹھ میں چاقو مارا تو میں کانپ اٹھی ۔ یوں لگا جیسے تمہیں مارا ہو ۔
وہ کہتا ہے اسے اتنے سے زخم سے کچھ نہیں ہوگا ۔
تم نے بھی یہی کہا تھا ۔
تمھارا زخم بھی تو چھوٹا سا تھا ۔
مگر تم زندہ نہیں رہے ۔
اور یہ خیال کہ حدید کو کچھ ہو گیا تو
میرے لیے بلکل ایسا ہی تھا جیسے میں تمہیں دوبارہ کھو دیتی ۔
تمھارے بعد حدید وہ دوسرا شخص ہے جو مجھے چاہتا ہے مگر ۔۔۔۔ “
شمس کی تصویر سے ہمکلام ہوتے وہ دل کا دکھ کھول رہی تھی جب اچانک خاموش ہو گئی ۔
” گوہر بی بی کہتی ہیں مجھے ایک ہمسفر کی ضرورت ہے ۔ منہال کو ایک باپ کی ضروت ہے ۔ کبھی کبھی لگتا ہے حدید ہی وہ انسان سے مگر یہ میرے لیے بہت مشکل ہے کہ تمھاری جگہ اسے دے سکوں ۔ چلو مان لیا میں اسے اپنے دل میں ایک الگ مقام دوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک دل میں دو لوگ بس سکیں ۔ تمھاری محبت دل میں رکھ کر میں کیسے اس سے چاہت کا ارادہ کر سکتی ہوں ۔”
وہ مزید دل کی الجھنیں بیان کرتی جا رہی تھیں ۔
” میں الجھن میں ہوں ۔ میں سمجھ نہیں پا رہی ہوں کیا کروں ۔ شاید تمہیں برا لگے مگر حدید مجھے اچھا لگنے لگا ہے ۔ وہ مجھے اپنا سا لگنے لگا ۔ مجھے اس میں تم دکھنے لگے ہو ۔
ہاں یہ بات عجیب ہے مگر جب بھی وہ میرے سامنے ہوتا ہے مجھے لگتا ہے تم میرے پاس ہو ۔
یوں لگتا ہے جیسے تم اسکی شکل میں واپس آ گئے ہو ۔
لیکن پھر شعور کہتا ہے کہ شمس تو ایک ہی تھا ۔
حدید شمس تھوڑی نا ہو سکتا ہے ۔
حدید تو حدید ہے
اسکا الگ وجود ہے
الگ مقام ہے
الگ چاہت ہے “
وہ بولتی جارہی تھی اور خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی کیا کیا بولتی جا رہی تھی ۔
بس دل کر رہا تھا آج شمس سے دھیروں باتیں کرنے کا ۔
کبھی وہ حدید کا زکر کرنے لگتی تو کبھی کچھ اور ۔
یوں ہی بولتے بولتے وہ منہال کا زکر کرنے لگی ۔
” تمہیں پتا ہے منہال کو بھی حدید اچھا لگتا ہے ۔ دونوں کی اچھی دوستی ہو گئی ہے ۔ حدید تو سائن لینگویچ بھی سیکھ رہا ہے منہال کی وجہ سے ۔ منہال جب اسکے ساتھ ہوتی ہے تو ویسے ہی خوش ہوتی ہے جیسے تمھارے ساتھ ہوتی ۔ میرے ساتھ وہ بھی حدید میں تمہیں دیکھتی ہے ۔ ۔۔۔” اسنے ایک لمحے کا وقفہ لیا پھر گویا ہوئی ۔
” تم ناراض تو نہیں ہو رہے میں تمھارے سامنے کسی اور کی باتیں کر رہی ہوں ۔ ” وہ ایسے بولی جیسے خود کو شمس کا گناہ گار سمجھ رہی ہو ۔
اسکے بعد وہ کچھ نہیں بولی
بس شمس کی تصویر کو ایک مرتبہ چوم کر اپنی باہوں میں لیکر بیٹھ گئی ۔
آنکھیں بند کرلیں اور خاموشی سے آنسو بہانے لگی ۔
اور انہیں بہتے آنسووں میں مہکشاں نے ایک فیصلہ لیا تھا ۔
یہ بات تو طے تھی کہ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی وہ شمس کے علاوہ کسی اور کی محبت دل میں نہیں رکھ سکتی تھی ۔
مگر وہ تنہا نہیں تھی ۔
اسکے ساتھ منہال بھی تھی اور مہکشاں کو اندازہ تھا کہ منہال کو ایک باپ کی ضرورت تھی ۔
لیکن وہ اس مقام پر آکر ہمیشہ الجھ جاتی تھی کہ کیا صرف منہال کو ہی باپ کی ضرورت تھی ۔
اسے کسی ہمسفر کی ضرورت نہیں تھی ۔
یہ خیال اسے دہرائے پر لا کر کھڑا کر دیتا تھا ۔
اس دہرائے کی سمت کس طرف جانی تھی
وقت ہمیشہ کی طرح اس بات کا بھی تعین کرنے والا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
ہاسٹل میں شام اتر چکی تھی ۔
ٹریسا نے اپنے لیے کافی بنائی اور ٹی وہ آن کر کے بیٹھ گئی ۔
اسنے خبروں کا چینل لگایا لیا ۔
وہ بہت کم ٹی وی دیکھتی تھی اور جب بھی دیکھتی خبریں ہی دیکھتی ۔ فلموں یا ڈراموں کا اسے شوق نہیں تھا ۔
منال اپنے بیڈ پر نیم دراز لیٹی تھی اور بار بار موبائل چیک کرتی ۔
ٹریسا اسکی بے چینی دیکھ رہی تھی مگر کچھ بولی نہیں ۔
منال نے مایوسی سے موبائل سکرین پر دیکھا جہاں اسکی ناول قسط پر محض 15 لائکس اور 4 کمنٹس تھے وہ بھی next کے ۔
پھر یک دم خیال آنے پر اسنے ایک نمبر ڈائل کیا ۔
دوسری بار کال کرنے پر دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا ۔
” کہو چھوٹی آج بھائی کی یاد کیسے آ گئی ۔ ” مجتبی کی مصنوئی طنزیہ آواز سپکیر میں گونجی ۔
” ایک کام تھا آپ سے ۔ اس لیے آ گئی ۔” وہ بھی صاف گوئی سے بولی تھی ۔
دوسری طرف سے مجتبی کا قہقہہ سنائی دیا ۔
” اس کام کے صدقے جو ہمیں آپ سے ہمکام کرواتا ہے ” متبجی بڑے مزے سے شاعرانہ انداز میں بولا تھا ۔
” آج خیر تو ہے اچھے موڈ میں لگ رہیں ہیں ” منال نے حیرت سے استفار کیا تھا ۔
مجتبی کم گو اور سنجیدہ انسان تھا مگر منال کے ساتھ وہ اکثر فری ہوجاتا تھا خاص کر تب جب بہت خوش ہو ۔
” ہاں موڈ تو اچھا ہے ۔ میں تمہیں کال کرنے ہی والا تھا یہ بتانے کو میری پروموشن ہو گئی ہے ۔ میں انسپیکٹر سے اے سی پی کے رینک پر پہنچ چکا ہوں ” مجتبی نے اپنی خوشی کے بابت زکر کیا ۔
” واہ کانگریچولیشز ۔ یہ بہت اچھی بات ہے ۔ جب واپس آوں گی تو ٹریٹ لوں گی آپ سے ” بھائی کی خوشی میں خوش ہوتے وہ فرمائش کرنا نہیں بھولی تھی ۔
” ڈن ہو گیا ۔ مگر تم آ کب رہی ہو ؟” مجتبی نے پوچھا ۔
” ابھی تو سیمسٹر سٹارٹ ہوا ہے ۔ چھ ماہ بعد پیپرز ہونے کے بعد آوں گی ۔ ” منال نے اپنی مصروفیت کا زکر کرتے ہوئے کہا ۔
” میری شادی پر تو آ جاو گی نا ” مجبتی نے پر امیدی سے پوچھا
” نہیں آئی تو ” منال نے شرارتی انداز میں کہا ۔
” تو تمہیں تمھارے ہاسٹل سے اٹھوالوں گا ” مجتبی کا جواب فورا آیا تھا جس پر منال ہنسے لگی ۔
” ہائے مزا آئے گا ۔ میں بھی ایکسپیرینس کروں گی کیڈنیپ ہو کر کیسا لگتا ہے ۔ ” وہ پر جوش انداز میں بولی تھی ۔
” موٹو رانی تمہیں کون کیڈنیپ کرے گا ۔ کس کی اتنی ہمت کوئی پاگل ہی ہوگا ” اسکی بات پر مجتبی مصنوئی افسوس سے بولا تھا ۔
” ارے مجھے باتوں میں لگا لیا ۔ یہ تو پوچھ لیں کال کیوں کی تھی ” یک دم اپنا ماتھا تھنکتے منال نے کہا ۔
” ہاں ۔ ہاں ! بتاو کیوں کال کی تھی ؟” مجتبی نے فورا دریافت کیا ۔
” میرا ایک یونی فرینڈ ہے ۔ اسکو ایک ہیلپ چاہیے تھی اور آپ اسکی مدد کر سکتے ہو ۔ ” منال نے بات کا آغاز کیا ۔
” کیسی ہیلپ ۔ مجھے ڈیٹل بتاو ۔ ” مجتبی کے پوچھنے پر منال نے اس سے روعان کے والد کا زکر کیا اور جتنا وہ جانتی تھی سب بتا دیا ۔
” ہوں ۔۔۔ تو تم چاہتی ہو کہ میں ۔۔۔” کچھ دیر کی سوچ بچار کے بعد مجتبی سنجیدگی سے گویا ہوا
” میں تمھارے لیے تمھارے دوست کے باپ کو تلاش کروں جبکہ ” وہ سانس لینے کو رکا ۔
” جبکہ نا تمہیں یا تمھارے دوست کو اپنے باپ کا نام معلوم ہے ۔ نا شکل نا ہی کوئی اور ائیڈینٹیٹی ۔ یہ ایک بہت مشکل کام ہے ۔ ” مجتبی نے ساری بات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ۔
” مگر آپ کے لیے تو نہیں ہے نا ۔ میں نے بہت یقین سے آپ کو کال کی تھی ۔ ” منال کے لہجے میں امید گھلی ہوئی تھی ۔
” اچھا یہ بتاو یہ لڑکا جو تمھارا دوست ہے وہ صرف دوست ہی ہے نا ” مجتبی نے معنی خیز انداز میں اس سے پوچھا
” ہاں بھائی ہہہ ۔ ہم دوست ہی ہیں ۔ ” منال زرا اٹکتے ہوئے بولی ۔
” مجھے میرا جواب مل گیا ” دوسری طرف سے مجتبی کی دھیمی سی آواز گونجی ۔
” تم اپنے دوست کا نمبر مجھے سینڈ کردو ۔ میں دیکھتا ہوں اس سلسلے میں کیا کرسکتا ہوں ” پھر مجبتی نے روعان کا نمبر مانگا اور کوشش کرنے کی بابت زکر کیا ۔
” ٹھینکیو سو مچ بھائی ۔ ” منال خوشی سے نہال بولی تھی ۔
اسکے بعد مزید کچھ باتیں کرکے منال نے فوم بند کردیا ۔
اسنے کال رکھی ہی تھی کہ موبائل پر چمکتا نوٹیفیکشن دیکھ کر وہ زور سے چینخی ۔
” آ گیا ۔ میسج آ گیا ۔ !”
ٹریسا اسکی چینخ پر ہڑبڑ کر اٹھی اور جب منال کو موبائل میں مصروف پایا تو محض دل ی دل میں اسے کوس کر واپس بیٹھ گئی ۔
” اسلام علیکم ۔ خیریت تو ہے محترمہ اس قدر میسجیز ” ناول گائیڈر کا میسج سکرین پر جگمگا رہا تھا ۔
” وعلیکم اسلام ۔ وہ میں نے آپ سے بات کرنی تھی اور آپ کا جواب نہیں آیا تو پریشان ہو گئی تھی ۔ ” منال نے اپنا جواب لکھ کر بیجھا ۔
جواب دو ہنسے والے ایموجی آئے ۔
” میں نے آپ کو محض چند گھنٹے ریپلائی نہیں کیا اور آپ پریشان ہو گئیں ۔ بہت ہی نازک دل ہیں آپ تو ” ناول گائیڈر نے جیسے تبصرہ کیا تھا ۔
” نہیں میں نازک دل ہوں نہیں ہوں لیکن بے صبری ضرور ہوں ” وہ اپنی تعریف آپ کرتے ہوئے بولی ۔
جوابا پھر ایک دانت نکالتا ایموجی آیا ۔
” دیکھیں محترمہ اپنا بے صبرا پن آپ خود ہی دور کرسکتی ہیں ۔ میں صرف آپ کو کچھ گائیڈنس ہی دے سکتا ہوں ۔ “
” جی بتائیں ” منال نے اشتیاق سے لکھ کر بیجھا ۔
” پہلی بات ابھی ہم ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں یعنی ہماری محض ایک دو بار بات ہوئی ہے اور ایک لڑکی ہونے کا ناطے آپ پر یہ بات سوٹ نہیں کرتی کہ کسی ایسے شخص کے میسج نا آنا آپکو پریشان کر سکتا ہے جس کے بارے میں آپ زیادہ کچھ جانتے نا ہوں ۔ “
پہلا ہدایتی میسج آیا ۔
” دوسری بات ہر کسی کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں ۔ ایسے میں جو ایک دوسرے کے شناسہ ہیں وہ بھی کئی کئی دن ایک دوسرے سے بات نہیں کر پاتے ۔ اب میرا جواب چند گھنٹے تک نہیں آیا تو یہ بلکل معمولی بات ہے ۔ اس قدر معمولی کہ یہ بات نوٹس لینے والی بھی نہیں ہے ۔ یوں اگر اتنی اتنی سی باتوں پر پریشان ہوتی رہے گیں تو یقینا آپ کا دل نازک ہو جائے گا ” ناول گائیڈر کی طرف سے دوسری ہدایت ہوئی ۔
منال کوئی جواب نہیں دے رہی تھی ۔
بس خاموشی سے اسکی باتیں پڑھ رہی تھی ۔
” تیسری بات یہ کہ میرا جواب نے آنے پر آپ نے میسیجز کہ بھر مار کردی ۔ اتنا تو کوئی لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کو بھی نہیں کرتی ہو گی ۔ اور یہ چیز بات کرنے کے ایٹھیکس کے خلاف ہے ۔ جس طرح سامنے موجود شخص کی عدم توجہ کے باوجود اسے بار بار پکارنا مورل ویلیوز کے خلاف ہے تھیک اسی طرح یہ بھی اسی کہ مترادف ہے ۔ ایک میسج کریں ۔ جواب آ گیا تو آگے بات کرلیں ۔ نہیں آیا تو بار بار میسج نا کریں ۔ امید ہے میری بات آپکو سمجھ آئی ہوگی “
ناول گائیڈر نے تیسری ہدایت کے ساتھ منال سے استفار بھی کیا تھا ۔
” جی میں سمجھ گئی ۔ نیکسٹ ٹائم سے ان باتوں کا خیال رکھوں گی ۔ ” میسج کے ساتھ اسنے ایک سمائلی بھی بیجھا ۔
” یہ بہت اچھی بات ہوگی ۔ چلیں ابھی کے لیے خدا حافظ ۔ ہم پھر بات کریں گے ۔ ” ناول گائیڈر کے الودائی پیغام کے ساتھ ہاتھ ہلاتا ایموجی آیا ۔
” بائے اینڈ سوری فار ڈیٹ ” وہ معزرت کرنا نہیں بھولی تھی ۔
” اٹس اوکے ۔ اپنا خیال رکھیں ” پیغام کے ساتھ مسکراتا ہوا ایموجی چمکا اور ساتھ ہی ناول گائیڈر کی آئی ڈی آف لائن ہو گئی ۔
منال نے ایک گہری سانس لیکر روعان کا نمبر مجتبی کو سینڈ کیا پھر موبائل بند کیا اور سائڈ پر رکھ دیا ۔
اپنے دل کو نازک ہونے سے بچانے کے لیے اسے صبر کرنا سیکھنا تھا جس کی شروعات ہو چکی تھی ۔
پچھلی رات قسط لکھنے کے چکر میں وہ دیر سے سوئی تھی سو اس وقت نیند غلبہ طاری کرنے لگی تھی ۔
اور ویسے بھی جب زہن سے فکر ہٹ جائے تو سکون کی نیند آ ہی جاتی ہے
وہ سیدھی ہو کر لیٹی اور کچھ ہی دیر میں نیند کی وادی میں کھو چکی تھی ۔
ٹریسا نے اسکی طرف دیکھا اور واپس ٹی وی کی طرف مشغول ہو گئی ۔
منال کا اپنے دوست کا میسج نا آنے پر پریشان ہونا اور میسج آنے پر خوشی کا اظہار کرنا ٹریسا کیا کسی کو بھی یہ بات سوچنے پر مجبور کر سکتا تھا کہ وہ دوست کوئی عام دوست نہیں تھا ۔
مگر کیا وہ واقعی منال کے لیے خاص تھا یا نہیں جواب وقت کے پنوں میں تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
صیام بخاری کے گھر کے لان میں کرسیوں پر صیام بخاری اور ناصر ملک بیٹھے تھے
وسعت میں رکھی ٹیبل پر ڈرنکس رکھی تھیں ۔
ناصر ملک نے اپنے لیے ایک ڈرنک بنائی اور گھونٹ گھونٹ پینے لگا ۔
جبکہ صیام بخاری اپنے ہاتھ میں پکڑے اس پیکٹ کو دیکھ رہا تھا جس میں چاندی کی تصویر تھی ۔
اسی وقت وہاں پر آدم آ گیا ۔
وہ مسکراتا ہوا صیام بخاری کہ طرف آیا تھا ۔
” امید ہے آج کی ڈیل اچھی طرح سے کینسل ہو گئی ہو گی ۔ ” صیام بخاری نے آدم کے بیٹھتے ہی پوچھا ۔
” خود پتا کر لو ” جوابا آدم نے کہا ۔ صیام کو اسکے انداز میں کچھ عجیب لگا تھا ۔
ناصر ملک نے اس قدر شراب پی لی تھی کہ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا ارد گرد کیا ہو رہا ہے ۔
صیام بخاری نے ایک نمبر پر کال کی اور دو منٹ کی بات کر کے بے یقینی سے آدم کی طرف دیکھا ۔
” میں نے تمہیں ڈیل کینسل کرنے کو کہا تھا ۔ ” وہ غصیل لہجے میں بولا ۔
” مگر میں نے نہیں کی ۔” آدم نے نہایت اطمینان سے جواب دیا ۔
” مگر کیوں ” صیام بخاری نے غصے سے بولتے آدم کا گریبان پکڑ لیا ۔ آدم اٹھ کھڑا ہوا
” کیوں کہ میں تمھارا غلام نہیں ہوں ۔ ” آدم نے بہت پرسکون انداز میں اسکا ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹایا ۔
” کیا کہا تم نے ۔ تم اتنے عرصے سے میرے لیے کام کر رہے ہو ۔ اور آج کہہ رہے ہو میرے غلام نہیں ہو ۔ ” صیام بخاری نے دائیں آبرو اچکاتے نا سمجھی بھرے انداز میں کہا ۔
” تم سے کس نے کہا آدم تمھارے لیے کام کر رہا تھا ۔ ” جواب آدم کی طرف سے نہیں آیا تھا ۔
آواز گیٹ کی طرف سے آئی تھی
صیام بخاری نے اس طرف دیکھا تو چونک کر رہ گیا ۔
وہاں شہوار کھڑا تھا ۔
ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے وہ پر رعب انداز میں کھڑا تھا ۔
” تم ! ” صیام بخاری نے اپنی مٹھیاں بھینچیں ۔
شہوار ایک ایک قدم چلتا آگے آیا ۔
آدم اسکی طرف آ کر کھڑا ہوا تو شہوار نے اسے دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا ۔
” تم نے مجھے دھوکہ دیا ۔ اتنے عرصے سے تم مجھے دھوکہ دے رہے تھے ۔ ” صیام بخاری غصے بھری بے یقینی سے آدم سے مخاطب ہوا ۔
” آں ۔ ویٹ آ منٹ چال باز کو دھوکہ نہیں دیا جاتا ۔ میں نے تو بس تمھاری چال تم پر ہی الٹ دی ۔ ” آدم کی بجائے جواب پھر شہوار نے دیا تھا ۔
” جس دن تم نے یہ کہہ کر آدم کو اپنی طرف کیا تھا کہ اسکے باپ کی موت کا زمہ دار میرا باپ تھا وہ اس روز سے پہلے ہی حقیقت جانتا تھا ۔ شاید تمہیں معلوم نہیں مگر مرنے سے پہلے آدم کے باپ نے اسے سب سچائی بتا دی تھی ۔
تمھارا سچ بھی ۔ میرے باپ نے تو ہمایوں آفریدی کو صرف جیل بیجھوایا تھا وہ بھی تمھاری کھڑی کی غلط فہمی کی وجہ سے مگر تم نے اسکا قتل ہی کروا دیا ۔
آدم کو اپنی باتوں میں لے کر تم نے اچھی کوشش کی تھی اسے اپنی طرف کرنے کی مگر کیا ہے نا ۔۔۔۔ ” شہوار صیام بخاری پر حقیقت کھولتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھا اور اسکے سینے پر انگلی رکھی ۔
” مجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے کہ وہ تم جیسے انسان سے مجھے کبھی دھوکہ نہیں کھانے دیگا ۔ اور رہی بات آدم کی تو وہ ہمیشہ سے میرے ساتھ وفادار ہے ۔ اور ہاں وہ ڈیل کینسل وغیرہ ہونا ۔ میرا آدم کی کال ٹریسا کروانا ۔ اور آدم کا تمھارے آدمی کو انفارمیشن دینا سب پلین کا ہی ایک حصہ تھا تاکہ تمہیں شک نا ہو اور تم آدم پر مکمل اعتماد کر سکو ۔ ” شہوار مزید بولتے ہوئے صیام بخاری پر حقیقت واضح کر رہا تھا ۔
اسکی تمام باتیں سن کر صیام بخاری نے ایک زور دار قہقہہ لگایا ۔
” اس بات کا پہلے سے ہی امکان تھا ۔ یہ تو ہو گیا تمھاری طرف سے پھینکا گیا تاش کا پتا ۔ کیا میرا پتا نہیں دیکھنا چاہو گے ۔ ” اپنے قہقہے پر قابو پاتے صیام بخاری نے شہوار کو اکسانے والے لہجے میں کہا
” ہاں ضرور ” شہوار نے کہا ۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا اب صیام بخاری کیا چال چلنے والا تھا ۔
صیام بخاری نے ٹیبل پر رکھا پیکٹ اٹھایا اور شہوار کی طرف بڑھایا
” یہ معاملہ کاروباری نہیں زاتی ہے مگر میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے ” صیام بخاری کندھے اچکاتے ہوئے مصنوئی افسوس سے بولا ۔
شہوار نے ایک تیز نظر اس پر ڈال پر پیکٹ پکڑا اور اسے کھول لگا ۔
اندر ایک تصویر تھی ۔
وہ پہلے سمجھ نہیں پایا اس تصویر میں ایسا کیا تھا ۔
ایک سجا ہوا صحن تھا جہاں چند سجی دھجی لڑکیاں رقس کر رہی تھیں ۔ ارد گرد کے ماحول سے وہ جگہ طوائف خانہ لگ رہی تھی ۔ شہوار نے بغور مکمل تصویر کو دیکھا تب اسے وہ نظر آ گئی ۔ پردے کے پیچھے سے جھانکتی ہوئی ۔ اسکا چہرا نیم واضح تھا مگر شہوار شاہ کو وہ مکمل نظر آئی تھی ۔
” آپکی بیوی ایک بازارو عورت ہے ۔ “
وہ لاہور پولیس اسٹیشن میں تھا جب سلار نے یہ الفاظ کہے تھے ۔
وہ بتا رہا تھا کہ اسنے ریڈ لائٹ ایریا کی ایک عورت کے ہاتھ پر وہی نشان دیکھا تھا جو اس نے فرح کے ہاتھ پر دیکھا ہے ۔
خود پر با مشکل قابو پاتے شہوار سلار کی طرف بڑھا تھا ۔
” یہ تم کس قسم کی بکواس کر رہے ہو ۔ میرے لیے تمھارے دل میں اتنی نفرت بھر گئی کہ میری بیوی پر الزام لگا رہے ہو ۔ ” لال ہوتی آنکھوں اور سخت گیر لہجے سے وہ ڈھارا تھا ۔
” کاش کہ یہ بکواس ہوتا مگر یہی سچ ہے ۔ ” سلار بلکل پرسکون تھا ۔
اسے جیسے شہوار کی یہ حالت دیکھ کر مزا آ رہا تھا ۔
” تم ۔ تم نے اسکی شکل دیکھی تھی ۔ ” چند لمحوں بعد شہوار نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا ۔
” نہیں ۔ میں نے شکل نہیں دیکھی ۔ لیکن یقین سے کہہ سکتا ہوں وہ لڑکی آپ کی بیوی ہی تھی ۔” سلار اپنی بات پر قائم تھا ۔
” وہ کوئی اور لڑکی ہوگی ۔ میری بیوی کا اس جگہ سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا ۔ سنا تم نے ۔ ” شہوار نے انگلی اٹھا کر اسے تنبیہ کی اور تیز تیز قدم اٹھاتا اسٹیشن سے باہر نکل آیا ۔
اسکی گاڑی اسلام آباد کے راستے پر تھی ۔
شہوار کا مکمل وجود پسینے میں نہایا ہوا تھا ۔
پہلے تو اسے سلار کے ڈرگز کے ساتھ پکڑے جانے کا شاک لگا تھا
مگر وہ تو کچھ نہیں تھا ۔
پھر اسے سلار کے ڈرگز کے کاروبار میں ملوث ہونے کا معلوم ہوا
شاید یہ بھی ایک بڑا دھچکا نہیں تھا
مگر سلار کی طرف سے کیا گیا یہ انکشاف یقینا بڑا اور تکلیف دہ دھچکا تھا ۔
” وہ فرح نہیں ہو سکتی ۔ سلار نے کسی اور کا ہاتھ دیکھا ہوگا ۔ کسی اور لڑکی کے ہاتھ پر ایسا نشان ہوگا ۔ ” تمام راستے وہ خود کو یہی سمجھاتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا ۔
اسے مکمل سچ جانے بنا سلار کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے تھا ۔
وہ اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوا جب اسے آدم کا میسج آیا ۔
” صیام بخاری کے گھر پر ملتے ہیں۔ “
شہوار نے کوئی جواب نہیں دیا ۔
موبائل واپس ساتھ والی سیٹ پر ڈال دیا اور ڈرائونگ کرنے لگا ۔
وہ صیام بخاری کے گھر پر خود کو مکمل پرسکون کر کے گیا تھا ۔ وہ اپنی پریشانی کی کیفیت صیام بخاری پر واضح نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
لیکن صیام بخاری نے اسکے سامنے وہی حقیقت رکھ دی تھی جس سے وہ منہ موڑتا آ یا تھا ۔
صیام بخاری نے اسکے ہاتھ سے تصویر پکڑی ۔
اور شہوار کا کندھا ہلایا جو بلکل مجسمہ صورت شاکڈ سی کیفیت میں کھڑا تھا ۔
” مجھے معلوم ہے تمہیں یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی ہوگی مگر کیا کروں تمہیں برباد کرنے میں ہی تو مزہ ہے ” صیام بخاری اسکی حالت سے محظوظ ہوتے دانت پیس کر بولا تھا ۔
” ہاں یہ ایک زاتی مسئلہ ہے مگر میں نے تو بس ایک اچھے دشمن کی طرح تمھاری آنکھیں کھولیں ہیں۔ اس حقیقت کو جس قدر قبول کر لو تمھارے لیے بہتر ہوگا اور تکلیف کم ہو گی ” صیام بخاری مکمل طور پر اسکے زخموں پر نمک چڑھکنے کا کام کر رہا تھا ۔
شہوار نے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔
وہ اس حالت میں ہی نہیں تھا ۔
اس وقت اپنے قدموں پر بھی کھڑا تھا تو بڑی بات تھی ۔
اگلے ہی پل شہوار ہوش میں آیا ۔
اسنے صیام بخاری کے ہاتھ سے واپس تصویر اچکی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اسکے گھر سے نکل گیا ۔
” یہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔”
اسکے جاتے ہی آدم بھی صیام بخاری کی طرف ایک نفرت بھری نظر ڈال کر شہوار کے پیچھے بھاگا ۔
اسے شہوار کو روکنا تھا کہ اس سے پہلے وہ کوئی سخت قدم اٹھالے ۔
شہوار گاڑی میں بیٹھ کر اسے زن سے آگے بڑھا لے گیا ۔
وہ کہاں جا رہا تھا اسے معلوم نہیں تھا ۔
بس معلوم تھا تو یہ کہ سب کچھ بہت دھندلا اور غیر واضح تھا ۔
کیا زندگی اسکے اعتماد اور چاہت کا امتحان لے رہی تھی
یوں اچانک سے زندگی اس قدر بے رحم کیوں ہو گئی تھی ۔
کیا وہ کم تھا جو وقت نے بیس سال پہلے کیا تھا ۔
کیا ابھی بھی مزید تکلیفیں لکھی ہوئی تھیں ۔
بہت سی باتیں
بہت سی الجھنیں اس وقت شہوار کا دماغ چکرا رہی تھیں اور وہ بنا ارد گرد کی خبر رکھے ریش ڈرائیونگ کر رہا تھا ۔
جب اچانک سامنے سے آتی تیز روشنی نے اسکی آنکھیں چندھیا دیں
وہ دوسری گاڑی تھی جو اسکی سمت ہی آرہی تھی اور کسی بھی لمحے ٹکڑانے والی تھی ۔
شہوار کے پاس بریک لگانے اور گاڑی موڑنے کا موقع نہیں تھا
اگلے لمحے ارد گرد کے درختوں نے
عمارتوں نے اور شام کے ڈھلتے سایوں نے سڑک پر دو گاڑیوں کا تصادم ہوتے ہوئے دیکھا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے