Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249 Episode 40
No Download Link
Rate this Novel
Episode 40
قسط نمبر 40
از قلم حرا شاہ
ہسپتال میں روز مرہ کی معمولات چل رہی تھیں ۔
ڈاکٹرز اور نرسز اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے مریضوں کا علاج کر رہے تھے ۔
اس کاریڈور میں آدم بے چینی اور پریشانی کی کیفیت میں کھڑا تھا جب ایک ڈاکٹر اسکے پاس آیا ۔
” پیشنٹ کو ہوش آ گیا ہے ۔ سر پر زیادہ چوٹ آئی ہے مگر خطرے والی کوئی بات نہیں ۔ اسکے علاوہ بازو اور ٹانگ پر معمولی چوٹیں آئی ہیں ” ڈاکٹر اپنے مخصوص پیشہ ورانہ انداز میں کہہ کر آگے بڑھ گیا جب کہ آدم نے اپنے قدم وارڈ کی طرف پھیر لیے ۔
وہ دروازہ کھول کر اندر آیا تو بیڈ پر لیٹا شہوار اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
آدم تیزی سے قریب پہنچا اور سہارا دیا ۔
” کیا کر رہے ہو تم ۔ ” اسے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ آدم نے سوال کیا ۔
” مجھے پیلس جانا ہے ۔ مم۔۔۔ مجھے سچ جاننا ہے ۔ ” سرخ ہوتی آنکھوں کے باعث وہ تکلیف سے بولا تھا ۔
اور آدم اچھی طرح جانتا تھا یہ تکلیف شہوار کے جسم پر لگے زخموں کی نہیں تھی بلکہ دل پر لگی چوٹ کی تھی ۔
” ہاں لیکن ابھی بہت رات ہو گئی ۔ کل تک ویٹ کر لو ۔ ” آدم نے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔
” انتظار ۔ کیسے کروں میں انتظار ۔ میرا دل پھٹ رہا ہے ۔ میرا وجود آگ میں جھلس رہا ہے اور تم کہتے ہو میں انتظار کروں ۔ ” آدم کی بات سن کر شہوار گلہ آمیز لہجے میں دبا دبا سا چلایا تھا ۔
” میں سمجھ سکتا ہوں تمھاری حالت ۔ مگر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ صیام بخاری کی کوئی چال ہو ۔ تمہیں کمزور کرنے کی ۔ تمہیں زاتی مسئلے میں پھنسا کر کاروباری نقصان پینچانے کی ۔” آدم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی اور اپنا خدشہ ظاہر کیا ۔
شہوار کچھ نا بولا ۔
محض سر اثبات میں ہلا دیا ۔
اسے خود کو پرسکون رکھنا تھا ۔
کسی بھی نہج یا فیصلے پر پہنچنے سے پہلے مکمل سچائی جاننا تھی ۔
ایک اسکا اپنا بھائی تھا جو اس سے نفرت کرتا تھا ۔ سلار کے پاس یہی وجہ کافی تھی اس بات کے لیے کہ وہ شہوار کو فرح سے بدگمان کر دے ۔
ایک اسکا کاروباری حریف تھا ۔ اور صیام بخاری اسے کسی بھی قسم کی تکلیف دینے سے کبھی گریز نہیں کرتا اور اس کے لیے وہ کوئی بھی چال چل سکتا تھا ۔
شہوار کا زہن اس وقت سوچوں اور الجھنوں کا گہوارا بنا ہوا تھا ۔
یہاں تک کہ اسے اپنا دماغ سن ہوتا محسوس ہوا
اگلے لمحے وہ واپس بیڈ پر ڈھے گیا ۔
شہوار پر دوائیوں کی غنودگی چھانے لگی تھی
آدم نے لائٹس بند کردی تاکہ وہ سو جائے ۔
اسے اس بات کا مکمل یقین تھا کہ صیام بخاری جھوٹ بول رہا تھا ۔
شہوار کے مکمل نیند میں جانے کے بعد آدم بھی وہیں سائیڈ پر رکھے بینچ پر بیٹھ گیا ۔
وارڈ کی کھڑکی کے باہر رات آہستہ آہستہ پگھل رہی تھی ۔
ایک الجھن زدہ
تشویش بھری رات
کرب زدہ
درد بھرے دن میں بدلنے کے لیے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
اگلے روز ظہر کی اذانیں شہر کی مساجد میں گونج رہی تھیں ۔
ٹریسا اپنے کیبن کی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی ۔
یہاں سے اذان کی آواز بہت صاف سنائی دیتی تھی ۔
جب بھی اذان کا وقت ہوتا وہ اپنا کام چھوڑ کر کھڑکی کے پاس آکر کھڑی ہو جاتی ۔
اس وقت بھی وہ آنکھیں موندھے اذان سن رہی تھی ۔
پہلے وہ صرف اذان کے الفاظ سنتی تھی
لیکن جب سے اس نے اذان کا ترجمہ جانا تھا وہ ان الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کرتی ۔
اذان ختم ہوئی ۔
ٹریسا نے گہری پر سکون سانس لیکر آنکھیں کھولیں ۔
پھر ہمیشہ کی طرح اسی جگہ کھڑے ایک سجدہ ادا کیا ۔
اسکے بعد اسنے اپنے ہاتھ اسی انداز میں اوپر اٹھا لیے جیسے فرح کو دعا مانگتے دیکھتی تھی ۔
ٹریسا کو سمجھ نا آیا کیا کہے
چند لمحوں بعد اسکی زبان سے خود ہی یہ الفاظ ادا ہوئے
” اللہ مجھے ہدایت دے “
ٹریسا نے محسوس کیا یہ الفاظ اسکی اندر کی آواز تھی
اسکے دل کی آواز
کچھ دیر بعد اپنا کام نپٹا کر وہ آفس سے ہاف لیف لے کر نکل آئی۔
آفس کے سامنے سے ٹیکسی پکڑی اور اسے فرح کے گھر کا راستہ بتایا ۔
بیس منٹ بعد وہ پیلس کے دروازے پر موجود تھی ۔
ٹریسا نے پرس سے موبائل نکالا اور فرح کو ایک پیغام لکھا ۔
اپنے آنے کی اطلاع ۔
چند لمحوں بعد گیٹ کھلا اور سامنے کھڑی فرح نے اسے اندر آنے کو کہا ۔
” آداب ” ٹریسا کہتے ہوئے اندر داخل ہوئی ۔
فرح محض مسکرا کر سر ہلا کر اسکے ساتھ چلنے لگی
ٹریسا ادھر ادھر نظریں گھماتی پیلس کو دیکھنے لگی ۔
فرح کے ولیمے والے دن اسنے پیلس باہر سے دیکھا تھا ۔
باہر سے وہ سرمائی رنگوں کے مختلف شیڈز کا امتجاز لیے ہوئے تھا ۔
اندر سے وہ بلکل سفید تھا ۔
سفید
دودھیا سفید
جس کی دیواریں
پینٹنگز
دیکوریشن پیسز سے سجی ہوئی تھیں ۔
نا محسوس انداز میں ٹریسا کی نظروں نے کسی کو ڈھونڈنا چاہا ۔
وہ خود بھی سمجھ نہیں پائی یہاں آتے اسے اس لڑکے ( حدید ) کا خیال کیوں آیا تھا جس نے اسکا مذاق بنایا تھا ۔
فرح اسے لیکر اپنے کمرے میں آ گئی ۔
” یہ میرا اور شہوار کا کمرا ہے ۔ ” فرح نے اطلاعا بتایا ۔
” بہت خوبصورت ہے ۔ ” کمرے کی نفاست دیکھ ٹریسا تعریف کیے بنا نہیں رہ سکی ۔
” یہاں اور کون کون رہتا ہے ؟ ” کاوچ پر بیٹھتے ٹریسا نے سوال کیا ۔
” شہوار کی دادی جنہیں وہ بی جان کہتے ہیں ۔ دو چھوٹے بھائی روعان اور حدید ۔ ” فرح نے بتایا ۔
سلار کا خیال اسکے زہن سے محو ہو چکا تھا ۔
ایک ہی بار تو اسکا سامنا ہوا تھا سلار سے ولیمے والے دن
مگر یہ سامنا دوسری مرتبہ تھا ۔
پہلا سامنا لیلہ بیگم کے طوائف خانے پر ہوا تھا
” کیا تم خوش ہو فرح ؟ ” ٹریسا نے دلچسپی سے پوچھا ۔
” ہاں میں بہت خوش ہوں ۔ یہاں سب لوگ بہت اچھے ہیں ۔ میں اپنے اللہ کا جس قدر شکر کروں کم ہے ۔ ” فرح شکر کے جزبات لہجے میں گھولتے ہوئے بولی ۔
” او ہو ۔ تم پہلی بار میرے گھر آئی ہو اور میں نے کچھ کھانے پینے کو نہیں پوچھا ۔ روکو میں ابھی آتی ہوں ” فرح یک دم خیال آنے پر اٹھ کر جانے لگی تو ٹریسا نے اسکا ہاتھ پکڑا ۔
” مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔ تم بیٹھو مجھے تم سے باتیں کرنی ہیں ۔ تم سے سوال کرنے ہیں ۔ “
ٹریسا کی بات سن کر فرح واپس کاوچ پر بیٹھ گئی ۔
اور اطمینان سے ٹریسا کی طرف دیکھا ۔
” تم اچھی لگ رہی ہو ۔ “
ٹریسا کے کچھ کہنے سے پہلے فرح نے مداحی انداز میں کہا ۔
فرح کی نظریں ٹریسا کے چہرے پر ٹکی ہوئیں تھیں ۔
” کیا مطلب ۔ ” ٹریسا نے نا سمجھی سے پوچھا ۔
” یہ سکارف تم پر بہت اچھا لگ رہا ہے ” فرح نے نشاندہی کی
” اوہ ۔ یہ تو اذان کے وقت پہنا تھا ۔ پھر اتارنے کا خیال نہیں رہا ” ٹریسا نے جواب دیا ۔
” میرے ساتھ آو ” فرح اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی ہو گئی تو ٹریسا بھی اسکے پیچھے آئی
” خود کو شیشے میں دیکھو “
فرح کی تاکید پر ٹریسا نے اپنا عکس آئینے میں دیکھا ۔
” اس سکارف کی وجہ سے تمھارے بال سمتے ہوئے لگ رہے ہیں ۔ اور اس طرح تم با نسبت زیادہ اچھی لگ رہی ہو ۔ سمتے بالوں کی وجہ سے تمھارا پورا چہرا واضح ہو رہا ہے اور دیکھو کتنے خوبصورت نین نقش ہیں تمھارے ” پاس کھڑی فرح مداحی انداز میں کہہ رہی تھی ۔
” کیا سچ میں ” ٹریسا نے چہرا فرح کی طرف پھیرا
” ہاں پیاری سچ میں ۔ ” فرح نے بہت محبت سے اپنے ہاتھ سے اسکا چہرا چھوتے ہوئے کہا ۔
پھر وہ دونوں آکر دوبارہ کاوچ پر بیٹھ گئیں ۔
“ہر انسان کے خوبصورت ہونے کی پہلی دلیل یہ ہے کہ اللہ خود بھی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو ہی تخلیق کرتا ہے ۔ یہ اعمال ہوتے ہیں جن کی وجہ سے انسان بدصورت ہو سکتا ہے ظاہری شکل و صورت سے نہیں ۔ یہ باتیں ہم پہلے بھی تفصیل سے کر چکے ہیں ۔ اگر تمہیں یاد ہو تو میں نے تم سے اس روز پوچھا تھا کہ کیا تم نے کوئی گناہ کیا ہے ۔ تمھارا جواب لا علمی میں تھا ۔
اگر میرا اندازہ تھیک ہے اور جتنا میں تمھیں جانتی ہوں تم نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہو گا ۔
میں نے کبھی تمہیں جھوٹ بولتے نہیں دیکھا ۔ کسی کا دل دکھاتے نہیں دیکھا ۔ کسی کو پریشان کرتے نہیں دیکھا ۔ تم نے پروموشن حاصل کرنے کے لیے بھی کوئی غلط راستہ یا دھوکہ دھڑی اختیار نہیں کی ۔ میری نظر میں تم ایک اچھے اخلاق والی لڑکی ہو ۔ ہر انسان پر فیکٹ نہیں ہوتا مگر تم ایک بہتر حد تک اچھی انسان ہو ۔
اگر ہم مزاہب اور مسلق کی تفریق ہتا دیں تو اس دنیا میں رہنے والے سبھی لوگ سب سے پہلے انسان ہیں ۔
یہاں انسان میں تین طرح کی تفریق ہوتی ہے
اچھے انسان
برے انسان
اچھائی اور برائی دونوں خصلتیں رکھنے والے انسان ۔
ہر انسان اس دنیا میں اپنی عقل و فہم اور سمجھ بوجھ کے حساب سے اعمال سر انجام دے رہا ہے ۔
انسان کو اللہ نے اشرف المخلوق بنایا ہے ۔
اسے عقل عطا کی ہے
شعور دیا ہے
اور اسی عقل کو استعمال کرتے ہوئے وہ صحیح غلط میں فرق کرتا ہے ۔
اب اگ ہم انسانوں کی تفریق مزاہب پر کریں تو ہم دیکھتے ہیں اس دنیا میں بہت سے مزاہب ہیں اور تقریبا تمام بڑے اور مشہور مزاہب میں ایک سنہری اصول کامن ہے
وہ اصول ہمیں انسانیت کا سبق دیتا ہے ۔
ان مزاہب کے رہبر اپنے منفرز الفاظ مگر یکسا معنی کے ساتھ انسانیت کا سبق دیتے ہیں جسے گولڈن رول کہا جاتا ہے ۔
اس گولڈن رول کے مطابق ایک انسان کو دنیا میں سب سے پہلے انسانیت پریکٹس کرنی ہے ۔
چاہے اسکا تعلق کسی بھی مزہب سے ہو
اسکی کوشش ہو کہ اسکی زات سے کسی کو تکلیف نا پہنچے ۔ وہ دوسروں کے لیے بھی وہی آسانیاں پیدا کرے جیسی خود کے لیے چاہتا ہے
یہاں ایک معاملہ قابل غور ہے کہ کیا ہر طرح کے انسانوں کے ساتھ اچھائی کا معاملہ رکھا جائے تو ہاں ۔
کیا معلوم تمھاری اچھائی اور نیک خصلت دیکھ کر سامنے والے کا دل نرم پڑ جائے ۔
کیا معلوم تمھاری نیک عادات اسکے دل میں گھر کر جائیں اور وہ بری عادات ترک کرنے کی کوشش کرے ۔
کیا معلوم تمھاری اس کاوش کے نتیجے میں اللہ اس انسان کے دل میں ہدایت پانے کی طلب ڈال دے ” فرح تفصیلا اپنی بات واض کرتے ہوئے وقفہ لینے کو رکی تھی ۔
ٹریسا اسے بہت یکسوئی سے سن رہی تھی ۔
فرح کے بولے گئے آخری تین جملے اسنے سنے ہی نہیں تھے بلکہ محسوس بھی کیے تھے ۔
” میں اپنے دل سے گواہی دیتی ہوں فرح کہ یہ تمھارا اخلاق اور اچھائی ہی ہے جسکی وجہ سے مجھے اسلام کی طرف رغبت ہوئی ۔” ٹریسا نے فرح کا ہاتھ تھاما اور فخریہ انداز میں بولی ۔
” یہ اللہ کی مہربانی ہے مجھ پر اور تم پر ۔ وہ نا چاہے تو ہم آخر کر ہی کیا سکتے ہیں ” فرح کے لہجے میں مکمل عاجزی تھی ۔
” اپنی بات جاری رکھو ” ٹریسا نے درخواست کرتے ہوئے کہا ۔
” یہ بات واضح ہو گئی کہ ایک انسان ہونے کے ناطے اور کسی بھی مزاہب کے پیروکار ہونے کے ناطے اس بات کی کوشش کرنی ہے کہ اچھے کام کریں اور انسانیت کو فروغ دیں ۔
اب ایک مسئلہ درپیش یہ ہے کہ ہماری کی گئی اچھائیوں کا بدلہ کیا ہے ۔
اور ہماری کی گئی برائیوں کا انجام کیا ہوگا
میں دین اسلام کی بات کروں تو مسلمانوں کا اس بات پر پختہ عقیدہ ہے کہ موت کے بعد بھی ایک زندگی ہے جہاں ہمیں دنیا میں کیے گئے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی ۔
اسلام کا یہ اصول اہل اسلام والوں کے لیے ہے ۔
غیر مسلموں کے معاملے میں انسان کو اسکے نیک یا بد اعمال کی جزا دنیا میں ہی دے دی جاتی ہے ۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ
تجیء الأعمال یوم القیامة، -إلی أن قال- ثم یجیء الإسلام، فیقول: یا رب، أنت السلام، وأنا الإسلام، فیقول اللہ تعالی: إنک علی خیر، بک الیوم آخذ، وبک أعطی، قال اللہ تعالی: وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِینًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِینَ”.
(تفسیر ابن کثیر، سورة آل عمران)
یعنی
” قیامت کے دن “اسلام” اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کرے گا، اے پروردگار! آپ کا نام “سلام” ہے اور میں “اسلام” ہوں، تو اللہ تعالٰی ارشاد فرمائیں گے: بے شک تو ہی بھلائی پر ہے، میں آج کے دن( لوگوں کو ان کے اعمال ) کا (اچھا یا برا) بدلہ تیرے ذریعے دوں گا،(یعنی اگر اچھے عمل ہوں گے، اور ساتھ ساتھ اسلام بھی ہوگا تو اچھا بدلہ ملے گا اور اگر نیک اعمال کے ساتھ اسلام نہیں ہوگا، تو اس کے نیک اعمال ضائع ہوجائیں گے) “
اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسان کو اچھائی برائی کا صلہ بعد از اس دنیا کے اس صورت کے عطا ہو گا اگر اسکے ساتھ اسلام بھی ہے ۔
اگر وہ دیگر کسی مزہب سے تعلق رکھتا ہے تو اسکے اعمال کی جزا دنیا میں دے دی جائے گی اور اسکے اعمال آخرت میں کسی کام نہیں آئیں گے ۔
تمھارے معاملے میں بھی یہ ہی حکم کارفاما ہوتا ہے ۔
کوئی انسان چاہے وہ مسلمان ہو یا نا ہو کسی بھی مزہب سے تعلق رکھتا ہو اپنی زات میں ادھورا ہوتا ہے ۔
لاعلمی اور انجانے میں ہر انسان سے کوئی نا کوئی غلطی ضرور سرزد ہوتی ہے ۔
بعض اوقات ہم اپنی غلطیوں کے بارے میں جانتے ہیں ۔ اس صورت میں فورا رب کے حضور معافی کے طلب گار ہونا چاہیے ۔
اور اگر ایسا ہو کہ ہمیں معلوم نا پڑے کہ کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہے تو ہمیں وقتا فوقتا اپنے گناہوں کی اور پچھلی تمام غلطیوں کی معافی طلب کر لینی چاہیے ۔
وہ رب سب جانتا ہے
ہم طلب کریں گے تو عطا کرے گا
ہم سوال کریں گے تو جواب ضرور ملے گا ۔
بے شک وہ انہیں بھی دیتا ہے جو طلب نہیں کرتے
وہ انکی بھی سنتا ہے جو اہل اسلام سے نہیں ہے
مگر ان لوگوں کی اچھائی یابرائی کا معاملہ دنیا میں ہی نمٹ جائے گا ۔” فرح ایک مرتبہ پھر خاموش ہوئی اور ٹریسا کے چہرے کو بغور دیکھا ۔ ٹریسا اسکی بات سن کر گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی ۔
” تم کہنا چاہتی ہو کہ میرے دنیا میں کیے گئے ایکشنز کا صلہ دنیا میں ہی ملے گا مگر میرا مزہب تو لائف آفٹر ڈیٹھ کے اصول کو مانتا ہے ۔ میں زیادہ نہیں جانتی مگر اتنا تو معلوم ہے کہ میرے مزہب میں بھی مرنے کے بعد سزا یا جزا کا تصور پایا جاتا ہے ۔ پھر میرے انکشنز کا رزلٹ دنیا میں ہی ملنے سے کیا مراد ہوا ؟ ” ٹریسا نے الجھن زدہ انداز میں پوچھا ۔
فرح نے اسکی بات سن کر گہری سانس لی پھر مسکرائی ۔
” تمھارا مزہب یعنی عیسائیت کے ماننے والے حضرت عیسی کو نعوزب اللہ خدا مانتے ہیں جبکہ مسلمانوں کے لیے وہ اللہ کے بھیجے گئے نبی ہیں ۔ نبی جو قوم کے لیے اللہ کا پیغام لیکر آئے تھے ۔
عیسائیت مزہب کے پیروکار نعوزب اللہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی اللہ کے بیٹے ہیں ۔
اسلامی واحدانیت کے نقطہ نظر سے دنیا جہان کا واحد مالک اللہ ہے ۔ اسکا کوئی شریک نہیں ہے ۔ کیا حضرت عیسی کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دینا اللہ کے ساتھ شراکت نہیں ہوگی ۔ شرک ایک کبیرہ گناہ ہے جس کی معافی کسی صورت میں نہیں ہاں اس صورت میں جب انسان شرک کو ترک کر کے اللہ کی واحدانیت کا اقرار کر لے ۔
اللہ قرآن پاک میں فرماتا ہے
اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ وَ مَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ۔
(سورۃ آل عمران، آیت نمبر: 19)
ترجمہ:
بیشک (معتبر) دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے، اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، انہوں نے الگ راستہ لاعلمی میں نہیں، بلکہ علم آجانے کے بعد محض آپس کی ضد کی وجہ سے اختیار کیا اور جو شخص بھی اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے تو (اسے یاد رکھنا چاہیے کہ) اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ “
ان آیات میں واضح طور پر سب سے بہتر مزہب کا زکر کیا گیا ہے یعنی اسلام ۔ اسکے علاوہ کوئی دوسرا مزہب معتبر یا فلاح والا نہیں ” فرح نے قرآنی آیت کے حوالے سے اپنی بات بیان کی ۔
” تم کہتی ہو عیسی مسیح کو ماننے والے یا ان کے پیروکار غلط مزہب کو فولو کر رہے ہیں ۔ عیسائیت صحیح مزہب نہیں ہے ” ٹریسا نے فرح کے سامنے ایک اور سوال رکھا ۔
” میں وہی کہہ رہی ہوں جو رب کہتا ہے ۔ جو میرے نبی کہتے ہیں ۔ جو میرا دین کہتا ہے ۔
عیسائی مزہب جس کی بنیاد ہی شرک پر ہے وہ کیسے اور کیونکر ایک معتبر مزہب ہو سکتا ہے ۔
اسی حوالے سے اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں
وَ قَالَ الۡمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰٮہُ النَّارُ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ۔
(سورۃ المآئدۃ، آیت نمبر: 72)
ترجمہ:
وہ لوگ یقینا کافر ہوچکے ہیں، جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے۔ حالانکہ مسیح نے تو یہ کہا تھا کہ : اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو، جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ یقین جانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، اللہ نے اس کے لیے جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور جو لوگ (یہ) ظلم کرتے ہیں، ان کو کسی قسم کے یارومددگار میسر نہیں آئیں گے۔
ان آیات میں کسی بھی قسم کے شک و شبہات کے بنا واضح طور پر بات سامنے رکھ دی گئی ہے ۔
اللہ نے انسان کو عقل دی ہے
ہدایت حاصل کرنے کے زرائع دیے ہیں
کائنات کی ہر چھوٹی سی چھوٹی شے میں نشانیاں رکھی ہیں ۔
اب یہ تم پر منحصر ہے کہ اپنی عقل کو بروئے کار لاتے ہوئے حاصل ہوئی ہدایت کو خود پر کیسے امپلیمنٹ کروگی ۔
میں تمہیں دوست مانتی ہوں اور دوست ہونے کے حق سے میں چاہتی ہوں تمہیں سیدھا راستہ دیکھاوں ۔ جو مجھ سے ہو سکے اپنی مکمل کوشش کر کے تمھارے سوالوں کا جواب دے سکوں ۔” فرح نے ٹریسا کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا ۔ اسکے لہجے میں ٹریسا کے لیے محبت تھی ۔ اپنائیت تھی
وہ دل سے چاہتی تھی کہ ٹریسا مسلمان ہو جائے۔
ٹریسا نے آنکھیں بند کر کے کھولیں تو وہ بھیگی ہوئی تھیں ۔
” اگر میرا مزہب غلط ہے تو اللہ نے مجھے اس مزہب میں پیدا کیوں کیا ۔ میں مسلمان کیوں نہیں پیدا ہوئی ۔ اگر میں مسلمان پیدا ہوتی تو کیا پھر ہی مرنے کے بعد جنت میں جا پاتی ۔ اور عیسی مسیح جو کہ اللہ کے نبی ہیں انکی دی گئی تعلیمات کیا غلط ہیں ۔ کیا انہوں نے اللہ کا پیغام ہی لوگوں تک نہیں پہنچایا ۔ ؟ ” ٹریسا نے مزید سوال سامنے رکھے ۔ دل میں بہت سی الجھنیں تھیں جنہیں وہ آج سلجھانا چاہتی تھی ۔
” تمھارے ایک سوال کا جواب دوں گی کہ کیا مسلمان ہی جنت میں جائیں گے جواب ہے نہیں ۔ جنت میں وہ لوگ جائیں گے جو اللہ کو ایک مانتے ہوں گے اور اہل علم ہونگے ۔ کوئی شخص مسلمان پیدا تو ہوتا ہے مگر تمام عمر وہ گناہ کرتا ہے اور اسی حالت میں مر جاتا ہے تو وہ جنت کا حقدار نہیں سوائے اس صورت میں کہ اللہ اسے بخش دے ۔ اس طرح کوئی غیر مسلم پیدا ہوتا ہے اور مرنے سے پہلے ہدایت پا لیتا ہے تو یقینا اللہ نے اسکا ٹھکانا جنت رکھا ہے ۔ تمھارے اس سوال کا جواب کہ اللہ نے تمہیں مسلماں کیوں نہیں بنایا تو اللہ کس انسان کو کیا پیدا کرتا ہے ۔ کس مزہب میں پیدا کرتا ہے یہ اسکی مصلحت ہے ۔ یہ اسکے فیصلے ہیں جن کو انسانی عقل کبھی بھی سمجھ نہیں سکتی ۔ ہاں البتہ اللہ نے انسانوں کو مختلف مزاہب میں پیدا کر کے انہیں عقل و شعور بھی عطا کیا ہے ۔ ہدایت کے کئی زرائع ہمارے لیے موجود ہوتے ہیں ۔ اگر تم جستجو کرو اور اللہ کی رضا مندی بھی شامل ہو تو یقینا تم جان لو گی کہ سچا اور بہتر مزہب اسلام ہی ہے ۔ اور تمھارا مزہب واضح طور پر ایک شرکیہ مزہب ہے ۔
بات یہ نہیں کہ اللہ نے تمہیں عیسائیت میں پیدا کیا ۔ بات یہ ہے کہ اسنے تمھارے دل میں صحیح کی جستجو اور طلب ڈالی ۔ یہ اللہ کی ہی توفیق ہے مگر تمھاری کیا مجال کہ اسلام کے بارے میں سوال کرو اور میری کیا مرضی جو میں تمہیں گائیڈ کروں ۔
جانتی ہو یہ ہدایت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی
یہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو اس ہدایت کے قابل ہوتے ہیں
اور ایسے قابل لوگوں کو اللہ ہی اپنی مصلحت سے چن لیتا ہے ۔
تمھارے آخری سوال کا جواب
کیا حضرت عیسی کی تعملیمات غلط تھیں ۔
جواب نہیں بھی ہے اور ہاں بھی ۔
نہیں اس صورت میں کہ اللہ نے حضرت عیسی پر وحی کے زریعے جو الہامی کتاب اتاری تھی اسکی تعلیمات اور احکامات اللہ کی طرف سے تھے اور اللہ کی طرف سے آئے احکامات کسی صورت بھی غلط نہیں ہو سکتے مگر وہ احکامات اس زمانے کے لوگوں کے لیے تھے ۔ ان تعلیمات کو صرف حضرت عیسی کی قوم کے لوگ ہی فالو کر سکتے تھے ۔ حضرت آدم سے لیکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے ۔ جن میں سے چار نبیوں پر آسمانی کتابیں نازل ہوئیں ۔ ہر نبی نے اپنے دور میں لوگوں کو اللہ کی مخصوص کردہ تعلیمات سیکھائیں ۔ یہ تعلیمات ایک زمانے تک یا اگلے نبی کی آمد تک محدود ہوتی تھیں ۔ اس حساب سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسی پر اتری کتاب اور اسکی تعلیمات اس زمانے کے لوگوں کے لیے تھیک تھیں ۔ اسی سوال کا جواب نہیں اس صورت میں ہوگا کہ ایک تو حضرت عیسی کے بعد آنے والے نبی نے نئی تعلیمات لوگوں تک پہنچائی جسکے بعد پچھلی تعلیمات کی ضرورت پیش نہیں آئیں ۔ اور دوسرا یہ کہ بائبل یعنی انجیل میں اتنی صدیوں سے بہت تبدیلیاں ہوتی آئیں ۔ حضرت عیسی کے زمانے سے آگے چلنے والے زمانے میں لوگوں نے اپنی روایات اور جدید تعلیم ست میل جول رکھنے کے لیے کتاب میں بہت سی تبدیلیاں کی ہیں ۔ یہ تبدیلیاں ہر دور میں ہوتی آئیں ۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے ہم متفق طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ بائبل یعنی انجیل کی تمام تعلیمات صحیح نہیں ہے ۔ کیا تم سمجھ رہی ہو ۔” فرح نے بات مکمل کر کے اسکے کاندھے کو تھپکا تو ٹریسا جو اسکی باتیں سنتی ٹرانس میں چلی گئی تھی یک دم ہوش میں آئی ۔
فرح کا لہجہ ،بات کرنے اور سمجھانے کا انداز اس قدر مسحور کن تھا کہ سامنے والا متاثر ہوئے بنا رہ نہیں پاتا تھا اور ٹریسا ہمیشہ خود کو عجیب سے احساس میں پاتی تھی جب وہ فرح سے باتیں کرتی تھی ۔
اسے لگتا فرح کے الفاظ دل میں اتر رہے ہیں ۔
ایسے کہ وہ ان سے سکون پا رہی ہے ۔
” ہاں میں سمجھ رہی ہوں ۔ کیا میں مزید سوال کر سکتی ہوں ” ٹریسا نے جھجھکتے ہوئے پوچھا کہ کہیں فرح تھکی ہوئی نا ہو
” ہاں پوچھو پیاری ۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے تمہیں جواب دے کر ۔ ” فرح نے حوصلہ افزائی کی تو ٹریسا بھی مسکرادی ۔
” میں نے تم سے پوچھا تھا تم نماز کیوں پڑھتی ہو ۔ تم نے پانچ منتقیں بتائیں تھیں ۔ سائنسی ۔ باطنی ۔ ظاہری ۔ حکمیہ اور عشقیہ ۔ تین کا جواب تم دے چکی تھی ۔ میں چاہتی ہوں تم آخری دو منتقوں کا بھی جواب دو ۔ ” ٹریسا نے ادھورا چھوڑا ہوا سوال پوچھا جو اسنے سب سے پہلے فرح کو نماز پڑھتے دیکب کر پوچھا تھا ۔
” حکمیہ ۔ الفاظ سے ہی ظاہر ہے ۔ نماز اس لیے پڑھی جاتی ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے ۔ قرآن پاک میں کئی جگہ نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہم پر نماز فرض کی گئی ہے ۔ فرض جسکی ادائیگی میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیے ۔
تمہیں یاد ہو تو تم نے سوال کیوں کیا تھا کہ میں نماز کیوں کیوں پڑھتی ہوں ۔ جبکہ میں نے جواب اس نہج پر دیا تھا کہ مسلمان نماز کیوں پڑھتے ہیں ۔ پہلی چار وجوہات مسلمان کیوں نماز پڑھتے ہیں سے ریلیٹڈ ہیں ۔ جبکہ آخری منتق کا جواب اس سوال سے ریلیٹڈ ہے جو تم نے پوچھا تھا یعنی میں نماز کیوں پڑھتی ہوں تو اسکا جواب ہے کہ مجھے اپنے اللہ سے محبت ہے ۔ میں اپنے اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے نماز پڑھتی ہوں ۔ اللہ نے مجھے جو تعمتیں عطا کی ہوئی ہیں انکے شکر میں نماز ادا کرتی ہوں ۔ اگر اللہ نے مجھے کچھ بھی نا دیا ہوتا تب بھی اتنی ہی لگن اور محبت سے نماز ادا کرتی کیونکہ نماز اللہ کی طرف سے بھیجا گیا تحفہ ہے ۔ مسلمان کی میراج نماز ہے ۔ نماز کے زریعے میں اللہ سے کلام کرتی ہوں ۔ اس سے باتیں کر سکتی ہوں ۔ یہ موقع اللہ مجھے دن میں پانچ بار دیتا ہے پھر میں کیونکر نماز نا پڑھوں ۔ وہ جو دنیا جہان کا بادشاہ ہے وہ مجھے اور مجھ سمیت کئی مسلمانں کو ایک نہیں بلکہ دن میں پانچ بار اپنے حضور بلاتا ہے تو کوئی بدبخت ہی ہوگا جو لبیک نا کہے ۔ رب کے حضور حاضر نا ہو ۔ میں نماز پڑھتی ہوں کیونکہ مجھے اس سے عشق ہے ۔ یہ مجھے براہ راست اللہ سے جوڑتی ہے ۔ جب پریشان ہوتی ہوں تو نماز پڑھتی ہوں ۔ تکلیف میں نماز پڑھتی ہوں ۔ کیونکہ یہ ہر درد کا مداوہ ہے ۔ ہر درد کی مرہم ہے ۔ خوشی میں نماز پڑھتی ہوں تاکہ رب کی عنایتوں کا شکر ادا کر سکوں ۔ شاید کسی اور کو نماز پڑھنے کے لیے منتقوں کی ضرورت ہو مگر میرے لیے یہی کافی ہے کہ میرا رب کا حکم ہے ۔ یہ میرے رب کی چاہت ہے اور میں ہر وہ کام باخوشی کروں گی جس میں رب کی رضا شامل ہو ۔ ” آج فرح نے ٹریسا کے پوچھے گئے سوال کا جواب مکمل کر دیا تھا ۔
مگر یہ تو ابھی ابتدا تھی ۔
ٹریسا کچھ دیر خاموش رہی ۔
ہ جیسے فرح کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
چند لمحوں بعد ایک گہری سانس لیکر ٹریسا مدھم سا بولی ۔
” میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں فرح ” ٹریسا کا لہجا ایک عجیب سی کیفیت سے سجا ہوا تھا ۔
کیفیت جو کہ دل کی بات زبان تک لا رہی تھی ۔
کیفیت جو کہ روح کی جستجو لبو تک پہنچا رہی تھی ۔
ٹریسا کی بات سن کر فرح بے اختیار مسکرائی ۔
” الحمدللہ ۔ ” فرط جزبات سے کہتے فرح نے سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کیا کیونکہ اللہ ہی کی توفیق تھی جو ٹریسا نے یہ فیصلہ کیا تھا ۔
” مسلمان ہونے کے لیے لازم ہے کہ تین چیزوں کا اقرار کریں ” فرح نے اپنے ہاتھوں میں اسکا ہاتھ تھاما
” کون سی تین چیزیں ” ٹریسا نے بے تابی سے سوال کیا ۔
” کیا تم اقرار کرتی ہو کہ اللہ ایک ہے اسکے سوا کوئی رب نہیں ۔ ” فرح نے سوالیہ لہجے میں دریافت کیا
” میں اقرار کرتی ہوں ” دل نے گواہی دی اور اقرار زبان سے ہوا ۔
دو آنسو ٹوٹ کر چہرے پر لڑکھے ۔
” کیا تم اقرار کرتی ہو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں ۔ انکے بعد نا کوئی نبی آیا ہے نا آئے گا ” فرح نے اس سے اگلا حلف لیا ۔
” میں اقرار کرتی ہوں ” دل اور زبان نے پھر یک زبان ہو کر کہا ۔ دو آنسو مزید لڑکھ گئے
روح پر فسوں سا اتر گیا ۔
” کیا تم آخرت کی زندگی پر یقین کرتی ہو ” یہ تیسرا حلف تھا ۔
” کرتی ہوں ” دو لفظی رضامندی
آنکھوں سے بہتے آنسووں میں شدت ہو رہی تھی ۔
ٹریسا کو لگ رہا تھا جیسے وہ اب اپنے اصل کو حاصل کر پائی تھی ۔
وہ اب صحیح معنوں میں جینے لگی تھی ۔
” میرے ساتھ دہراو
اَشْهَدُ اَنْ لَّآ اِلٰه اِلَّا اﷲُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَ رَسُوْلُهُ ” فرح نے ٹھہر ٹھہر کر ایک ایک حرف پر زور دے کر پڑھا ۔
اسکے ساتھ ساتھ ٹریسا بھی دہراتی رہی ۔
“تم نے ابھی کلمہ شہادت پڑھا ہے ۔
اس کلمے کے معنی یہ ہیں ۔
’’میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور میں گواہی دیتی ہوں کہ (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘ فرح نے بتایا تو ٹریسا نے اثبات میں سر ہلایا ۔
“کیا تم زبان سے اور دل سے اللہ کی واحدانیت اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا اقرار کرچکی ہو ۔” فرح پوچھ رہی تھی اور ٹریسا سانس روکے بس سر کو ہی خم دے پائی ۔
” مبارک ہو ۔ تم مسلمان ہو ” فرح نے اسے خوشخبری سنائی تو ٹریسا کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی ۔
اپنا چہرا ہاتھوں میں چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔
کیسا احساس تھا وہ
کیسی کیفیت تھی
کیسی خوشی تھی
کیسا لمحہ تھا
وہ مسلمان تھی
یہ اسکا اصل تھا اور اپنے اصل کو پہنچ چکی تھی
مگر یہ سفر کی پہلی منزل تھی ۔
فرح کی آنکھوں میں بھی آنسووں آ گئے ۔
وہ ٹریسا کو دیکھتی رہی
شاید وہ سمجھنے سے قاصر تھی ٹریسا کی دل کی کیفیت اس لیے بس اسے دیکھتی ہی گئی ۔ ہاں وہ مسلسل اللہ کا شکر ادا کرتی رہی جس نے اس بندی ناچیز سے یہ نیک کام لیا تھا ۔
اور وہ روح کو گرمانے والی
دل کو خالص کرنے والی کیفیت صرف ٹریسا ہی سمجھ سکتی تھی ۔
” تم اب ایسے ہو جیسے کوئی بچہ جو ابھی ابھی پیدا ہوا ہو ۔ تمھاری نئی زندگی اس لمحے سے شروع ہوتی ہے ۔ تمھارے اعمالوں کا حساب اس لمحے سے لکھا جائے گا ۔ اب تمھارا مقصد اسلام کے اصولوں پر زندگی گزارنا ہوگا ” کچھ دیر بعد فرح نے اسے مزید سمجھاتے ہوئے کہا ۔
” ضرور ۔ تم میری مدد کرو گی تو میں ایک اچھی مسلمان بن سکوں گی ۔ ” ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے ٹریسا نے اس سے وعدہ لیا تو فرح نے اسے گلے لگا لیا ۔
” سب سے پہلے میری مسلمان دوست کو اسلام علیکم ” الگ ہوتے ہوئے فرح خوشدلی سے بولی ۔ اسلام پر زور دیا ۔
” وعلیکم اسلام ” ٹریسا نے بھی بھرپور دل سے جواب دیا ۔
” اب تمھارے لیے ایک اچھا سا مسلم نام انتخاب کرتے ہیں ” فرح کے کہنے پر ٹریسا پرجوش ہو گئی ۔
” تم میرے لیے نام رکھو ” ٹریسا نے فرمائشی انداز میں کہا ۔
فرح کچھ دیر سوچتی رہی پھر گویا ہوئی ۔
” میں تمھارا نام طوبی رکھتی ہوں ۔ “
” طوبی ” ٹریسا نے دہرایا ۔
” ہاں طوبی ۔ اسکا مطلب پاکیزگی کے ہیں ۔ خوشبو کے ہیں ۔ تمھارے لیے یہ نام بہت اچھا رہے گا ۔ کیا تمہیں اپنا نیا نام پسند ہے ” فرح نے اسے نئے نام کے مطلب سے روشناس کرواتے ہوئے اسکی رضا مندی لینا چاہی ۔
” مجھے پسند ہے ۔ “
سیاہ فام وہ عیسائی لڑکی مسلمان ہو چکی تھی
ٹریسا نامی وہ لڑکی اب طوبی ہو چکی تھی ۔
گمراہی کی زندگی سے ایمان والی زندگی میں قدم رکھ چکی تھی ۔
ایک ایسے سفر پر گامزن ہو چکی تھی جو کہ طویل بھی تھا سہل بھی
وسیع بھی تھا اور ایثار طلب بھی ۔
فرح اٹھ کر کپڑوں کی الماری تک گئی
ایک طرف کا خانہ کھول کر اس میں سے ایک نیلے رنگ کا شاپنگ بیگ نکال کر واپس طوبی کے پاس آئی ۔
” یہ میری طرف سے تمھارے لیے تحفہ ۔ ” طوبی کی طرف بڑھاتے ہوئے فرح نے کہا ۔
” اسکی کیا ضروت تھی ” طوبی نے گلہ کیا ۔
” تحفے ضرورت پر نہیں بلکہ خوشی پر دیے جاتے ہیں ۔ اور اس سے بڑھ کر بھلا کیا خوشی ہو سکتی ہے ۔ ” فرح کی بات سن کر طوبی نے وہ شاپنگ بیگ پکڑ لیا ۔
پھر اس میں سے پلاسٹک کے شفاف لفافے میں لپٹا سیاہ رنگ کا کپڑا باہر نکالا ۔
طوبی نے کھولا تو وہ عبایا تھا ۔
بلکل اس طرح کا عبایا جیسا فرح پہنتی تھی
سادہ سا
ڈھیلا سا
طوبی چند لمحے عبائے کو دیکھتی رہی
پھر مشکور نظروں سے فرح کی طرف دیکھا ۔
” یہ میری زندگی کا بہترین تحفہ ہے ۔ بہت شکریہ فرح ” وہ آگے بڑھی اور اسے گلے لگا لیا ۔
” تم چاہوں تو اسے نا بھی پہنو لیکن یاد رکھنا اگر پہنوں اور مزید اس پر حجاب یا نقاب بھی کروگی تو پھر تم ساری زندگی اسے اپنے لباس کا حصہ بناو گی ۔ شروع میں مشکل ہوتا ہے ۔ دم گھٹتا ہے ۔ گرمی لگتی ہے ۔ مگر آہستہ آہستہ عادت ہو جائے گی ۔ ” فرح نے فیصلہ اسکے ہاتھ میں چھوڑا ۔
” میں اسے ضرور پہنوں گی ۔ مسلم عورتیں ڈھکی ہوئی ہی اچھی لگتی ہیں ” طوبی نے مسکراتے ہوئے خود کو مسلم عورتوں میں شمار کیا تھا ۔
پھر وہ کھڑی ہوئی اور عبایا چڑھایا
چوڑائی تو ڈھیلی تھی مگر لمبائی پوری تھی جیسے اسی کی لمبائی پر سلائی کیا گیا ہو ۔
” لاو میں حجاب کرنے میں تمھاری مدد کردوں ۔ ” فرح نے پیشکش کی تو طوبی فورا بولی
” بلکل ویسے کرنا جیسا تم کرتی ہو “
پھر فرح نے اسے اپنی طرح ہی مکمل نقاب کروا دیا ۔
طوبی نے گھوم کر خود کو آئینے میں دیکھا اور کچھ لمحے رشک سے دیکھتی رہی
” میں کیسی لگ رہی ہوں ؟ “
” بہت پیاری ۔ بلکل اسلام کی ایک شہزادی لگ رہی ہو ” فرح نے کہتے ہوئے اسکا ماتھا چوما
اور طوبی کو خود پر اور رشک آیا
کیسا خوبصورت مزہب ہے اسلام جس سے جڑ کر وہ خود کو خاص محسوس کرنے لگی تھی
عام سی لڑکی زرا سے وقت میں شہزادی کہلائی جا رہی تھی ۔
” میں بتا نہیں سکتی کیا محسوس کر رہی ہوں ۔ یہ فیلنگ ہی کچھ الگ ہے ۔ خود کو نیا محسوس کر رہی ہوں ۔ “
طوبی نے اپنے جزبات کا اظہار کیا تو فرح مسکرا دی
” اللہ تمہیں اس نئے سفر پر چلنے کی بہتر توفیق دے ” فرح نے دعائیہ انداز میں کہتے کچھ دعائیں پڑھتے ہوئے اسکے چہرے پر پھونکا ۔
” بہت شکریہ فرح ۔ اب میں چلتی ہوں ۔ ” پھر طوبی نے اس سے اجازت لینا چاہی
” اگلی بار منال کو بھی ساتھ لاونگی ۔ پھر تمھارے ہاتھ کا کھانا ضرور کھائیں گے ” طوبی نے لائحہ عمل طے کرتے کہا ۔
” انشاءاللہ ۔ ضرور ۔ آو تمہیں گیٹ تک چھوڑ آوں ۔ ” کہہ کر فرح نے قدم باہر کی طرف بڑھائے ۔
طوبی بھی اسکے پیچھے باہر نکلی ۔۔۔۔۔۔۔۔
مین گیٹ پر کھڑے گارڈ نے روعان اور حدید کو اپنی سائکلیں چلاتے ہوئے پیلس کی طرف آتے دیکھا تو گیٹ کھول دیا ۔
حدید کا زخم تازہ تھا مگر وہ باز آنے والوں میں سے کہاں تھا ۔
دونوں نے سائیکل کھڑی کیں اور اندرونی جانب بڑھ گئے ۔ حدید کی چلنے کی رفتار کم تھی ۔
روعان اندر بڑھا تو اسنے فرح کو ایک لڑکی کے ساتھ بیرونی جانب آتے ہوئے دیکھا ۔
وہ ایک فاصلے سے ہی فرح کو سلام کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
دونوں لڑکیوں کے چہرے پر نقاب تھا پھر بھی اسکی نظریں نیچے تھیں ۔
اسکے پیچھے حدید اندر آیا ۔
فرح کو دیکھ کر محض سر کے اشارے سے سلام کیا ۔
پھر اسکے پاس سے ہی گزر کر دوسری سمت جانے لگا ۔
چہرا موڑ کر دوسری لڑکی کو دیکھا ۔
غالبا وہ فرح بھابھی کی کوئی دوست تھی ۔
لڑکی نے بھی اس لمحے حدید کی طرف دیکھا تھا ۔
دونوں کی نظریں ایک لمحے کو ملی تھیں
حدید نے نقاب کی وجہ سے پہچانا نہیں تھا
طوبی فورا پیچان گئی تھی
پھر وہ آگے بڑھ گئی
گیٹ تک پہنچتے وہ یہ ہی سوچتی رہی کہ اگر اس نے نقاب نا کیا ہوتا تو وہ لڑکا اسے کیسے دیکھتا
کیا وہ پھر سے اسکے رنگ کا مزاق بناتا
کیا وہ پھر سے اسکی تزلیل کرتا
شاید ہاں مگر آج ایسا نہیں ہوا تھا
آج وہ محفوظ رہی تھی
مین گیٹ پر ایک دوسرے سے الودائی کلمات کہہ کر طوبی رخصت ہو گئی ۔
وہ اندر کسی اور حیثیت سے داخل ہوئی تھی ۔
باہر کسی اور حیثیت سے نکلی تھی
اور اپنی نئی حیثیت
نیا مقام
نیا نام
اسے دل و جان سے عزیز تھا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
حدید کمرے میں آیا تو زہن باہر دیکھی ہوئی لڑکی میں اٹکا ہوا تھا ۔
ان آنکھوں کو کہیں دیکھا تھا
سیاہ ۔ گھنی پلکوں کی باڑ سے ڈھکی وہ بھیگی آنکھیں اس نے کہاں دیکھی تھیں وہ یاد نہیں کر پارہا تھا ۔
پھر اپنا وہم سمجھ کر اسنے سر جھٹک دیا ۔
روعان لولا کے ساتھ مصروف تھا اس لیے حدید کو الجھا ہوا دیکھ نہیں سکا ۔
لولا اب بہت موٹی ہو چکی تھی
کچھ ہی دن بعد وہ بچے دینے والی تھی اور روعان اس دن کے لیے بہت پر جوش تھا ۔
” اوئے رومیو ۔ کل جولیٹ کو ڈیٹ پر لیکر جانا ہے ۔ آجا تیرا منہ چمکا دوں ” حدید اسکے پیچھے جاکر کھڑا ہوا اور چمکانے کے نام پر اسکے منہ پر ایک ہاتھ جڑ دیا ۔
روعان یک دم بوکھلا کر پلٹا اور اسے گھورنے لگا ۔
اگلے ہی لمحے روعان نے ہاتھ گھمایا اور حدید کے چہرے پر چار انگلیوں کے نشان تھے ۔
حدید کی آنکھوں کے آگے یک دم تارے جھول گئے
واقعی روعان کا ہاتھ بہت بھاری تھا ۔
ہلکا سا بھی بہت زور سے پڑتا تھا
” ایسے کون مارتا ہے بھلا ” چہرا سہلاتے حدید نے بیچارگی سے پوچھا ۔
” میں ” یک لفظی جواب دے کر روعان بیڈ پر ڈھے گیا ۔
حدید کو شرارت سوجھی اور وہ بھی اسکے اوپر ہی بیڈ پر ڈھے گیا ۔
دونوں کی چینخیں بیک وقت نکلی ۔
روعان کی اس لیے کیونکہ حدید کی کہنی اسکھ پیٹ میں لگی تھی
اور حدید کی اس لیے کیونکہ اسکا زخم درد کیا تھا ۔
روعان نے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر حدید شرارتی انداز میں اسے گدگدی کرنے لگا جس پر روعان کھل کھلا کر ہنس پڑا ۔
حدید ایک لمحے کو رکا تو فورا روعان اسے گدگدی کرنے لگا ۔
بہت دیر تک وہ دونوں ایک دوسری کو ایسے گدگدی کرتے رہے اور ہنستے رہے
اتنا ہنسے کہ آنکھوں سے پانی نکل آیا ۔
یہ سلسلہ تب تھما جب لولا چڑھ کر روعان مے پیٹ پر آ بیٹھی اور چارو نا چار حدید کو پیچھے ہونا پڑا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕
فرح کمرے میں آئی تو شہوار کی فکر ستانے لگی ۔
اسنے پھر سے کال کی مگر نمبر بند ملا ۔
اسکے وسوسے اب یقین میں بدل رہے تھے ۔
بے اختیار اسنے چہرا اوپر کی طرف اٹھایا اور فریاد کرنے لگی ۔
اسے وقت دروازہ کھلا اور شہوار اندر داخل ہوا ۔
فرح بے صبری سے اسکی طرف بڑھنے لگی تھی مگر ٹھٹھک کر رک گئی ۔
وہ شہوار تھا مگر شہوار جیسا نہیں تھا ۔
سر پر پٹی بندھی تھی اور خون رس رہا تھا ۔
خون تو آنکھوں کی رگوں سے بھی پھوٹ رہا تھا ۔
چہرے پر نرم اور محبت والے نہیں بلکہ قہر آلود ثاثرات تھے ۔
ضبط سے مٹھیاں بھینچی ہوئی تھیں ۔
فرح کو شہوار سے خوف محسوس ہوا تھا ۔
” شہوار آپ کو کیا ہوا ہے ؟ ” با مشکل وہ بول پائی تھی ۔
” کون ہو تم ۔ ” شہوار نے الٹا اس سے سوال کیا تھا ۔
اسکا لہجہ بے انتہا قرب لیے ہوئے تھا ۔
” میں سمجھ نہیں پائی ۔ شہوار آپ کیا پوچھ رہی ہیں ” وہ فل وقت واقعی ہی نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ ہو کیا رہا ہے ۔
” ڈرامہ بند کرو ۔ اور مجھے سچ سچ بتاو کہ کون ہو تم ۔ ” شہوار دو قدم آگے بڑھا اور پوری قوت سے ڈھاڑا ۔
فرح کا دل اچھل کر حلق تک آیا ۔
آنکھیں لبا لب آنسووں سے بھر گئیں ۔
وہ تو انتظار کر رہی تھی کہ بچے کی خبر دے سکے مگر ۔۔۔۔
شہوار نے ایک تصویر اسکی طرف پھینکی پھر خود اس پر جھک کر اسکا چہرا دو انگلیوں میں پکڑا ۔
” کیا یہ سچ ہے ۔ بتاو مجھے کیا یہ سچ ہے ” وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا ۔
فرح نے کانپتے ہاتھوں سے تصویر دیکھی
اسے لگا اس پر پہاڑ توڑ دیا گیا تھا ۔
ماضی بڑی بے رحمی سے سامنے آ کھڑا ہوا تھا ۔
” مجھے جواب دو فرح ۔ میرے ضبط کو مزید نا آزماو ۔ کہہ دو کہ یہ جھوٹ ہے ۔ بس ایک بار کہہ دو یہ جھوٹ ہے ” شہوار کا لہجہ بدلا تھا اور اب وہ جیسے گزارش کر رہا تھا
التجا کر رہا تھا تاکہ فرح انکار کردے اور اسکے وجود سے بوجھ اٹھ سکے ۔
لیکن وہ بوجھ اٹھا نہیں تھا بلکہ مزید پڑ گیا تھا جب فرح نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
شہوار کا ہاتھ یک دم ڈھیلا پڑا ۔
وہ ڈھنے والے انداز میں نیچے بیٹھتا چلا گیا
فرح اٹھ کر بیٹھی اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی مگر شہوار نے پیچھے جھٹک دیا
اسکے انداز میں نفرت تھی
اتنی نفرت کے فرح کا دل دہل گیا ۔
” کاش تم ہاں کہنے سے پہلے میری جان نکال لیتی ۔ ” وہ زیر لب بہت ہی مدھم آواز میں بولا ۔
کرب کی جس شدت پر وہ تھا وہ وہی جانتا تھا
مگر کرب کی ایک دوسری شدت پر اس وقت فرح بھی تھی
اگلے ہی لمحے شہوار نے اپنے سر کو جھٹکا دیا اور اٹھ کھڑا ہوا
اسنے فرح کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیکر کمرے سے باہر نکل گیا ۔
گارڈ نے بہار جان کو اطلاع کردی کہ شہوار صاحب زخمی اور غصے کی حالت میں گھر آئیں ہیں ۔
بہار جان پریشان ہوتی اپنی چھڑی کے سہارے چلتی باہر آئیں تو ہونک زدہ رہ گئیں
شہوار اپنے ساتھ فرح کو کھینچتا ہوا لا رہا تھا ۔ اسکے چہرے پر غضب چھایا ہوا تھا ۔
ایسا کہ بہار جان بھی اسکے اس روپ سے ڈر گئیں تھیں ۔
” شہوار یہ آپ کیا کر رہے ہیں ” بہار جان نے خود کو سنبھالتے سوال کیا ۔
اسی وقت روعان اور حدید بھی اپنے کمرے سے باہر آئے تھے اور باہر کا منظر دیکھ کر حیرت زدہ تھے ۔
فرح کا ڈوبٹہ اترا ہوا تھا
پہلی بار اسکا چہرا ان دونوں کے سامنے عیاں تھا ۔
” بھاں آپ بھابھی کو ایسے کہاں لے جارہے ہیں ۔ ” روعان بھاگتا ہوا اسکے قریب آیا ۔
” یہ میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے ۔ تم درمیان میں مت آو ” شہوار نے جس انداز میں کہا تھا روعان سکتے سی کیفیت میں کھڑا رہ گیا ۔
وہ تینوں اپنی جگہ پر ہکا بکا کھڑے رہ گئے جبکہ شہوار فرح کو لیکر اپنے ساتھ باہر نکل گیا۔
اور فرح وہ سرخ بھیگی آنکھوں کے ساتھ بے سدھ سی چلتی چلی گئی ۔
اسنے ایک دو بار کچھ کہنے کی کوشش بھی مگر زبان نے ساتھ نا دیا ۔
بہار جان یک دم گرنے لگی تو روعان اور حدید نے تیزی سے آگے بڑھ کر انہیں سہارا دیا ۔
وہ دونوں انہیں انکے کمرے میں لے آئے ۔
تینوں کے درمیان خاموشی تھی ۔
وقت نے کیا عزاب ڈھایا ابھی وہ اس سے انجان تھے ۔
بہار جان مسلسل بے چین تھیں ۔
آج تک انہوں نے شہوار کو اتنا غضب ناک نہیں دیکھا تھا ۔
اور وہ دونوں بھی مخمصے کا شکار تھے کہ آخر ایسا کیا ہوا تھا جو بھاں س طرح پیش آئے تھے ۔
باہر دیکھو تو پیلس کی شیاہ اور سرمائی دیواروں پر ظالم رات آہستہ آہستہ اپنا قبضہ چڑھا رہی تھی ۔
یہ اندھیرا کبھی چھٹنا تھا
کیا اسکے مقدر میں روشنی تھی
جواب وقت کے ہاتھ میں تھا جسکی مٹھی اسکی مرضی سے ہی کھلنی تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے ۔
