Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

از قلم حرا شاہ
قسط نمبر 4
شام ڈھلی
سورج نے گھونگٹ اورا
اندھیرے نے ڈھاک بیٹھائی ۔
ہاسٹل کا ماحول بھی یخ ہونے لگا ۔
اور یخ فضا میں کانپتی ہوئی ہاتھوں کو رگڑتی ہوئی سیاہ فام ٹریسا ہاسٹل میں داخل ہوئی ۔
اسکی فیملی دوسرے شہر رہتی تھی اور وہ جاب کی وجہ سے یہاں رہ رہی تھی ۔
” من۔۔۔ من۔۔۔۔مناااال ۔ایک کپ ٹھنڈی کافی ۔ اوہ مطلب گرم کافی تو بنا دو ۔ ” سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے آج اسکی آواز اونچی نہیں بلکہ نکل ہی نہیں رہی تھی ۔
” کیا برف کھا کر آئی ہو ۔ ” منال اسکے ٹھٹھرنے پر ہنسی ضبط کرتے ہوئے بولی ۔
” تم نکلو زرا باہر معلوم ہو ۔ سارا دن گھر میں پڑے رہ کر موبائل میم گھسی رہتی ہو ۔ ” ٹریسا نے منہ چڑا کر کہا ۔
منال انیس سال کی تھی اور ٹریسا تئیس سال کی مگر لڑتی دونوں ہم جولیوں کی طرح تھیں ۔
” تو اور کیا کروں میں بھئی ۔ پیپرز دے دیے ہیں ۔ اب کیا جا کر خود چیک بھی کروں ۔ رزلٹ آئے گا تو نکلو گی نا باہر ” منال کمبل میں گھستے ہوئے بولی اور سر تک کمبل تان لیا ۔
” لو جی گئی بھینس کمبل میں ۔آہا ” ٹریسا نے خود ہی اپنے لیے کافی بنانا آفیت سمجھی کیونکہ منال کے آثرے میں رہتی تو گلیشیئر بن جاتی ۔
” بھینس کس کو کہا ۔ ” منال نے کمبل فورا منہ سے ہٹایا ۔
” تم کو ۔ موٹی لڑکی ۔ اور تمھارے علاوہ یہاں بھینس کون ہے ” ٹریسا اسکی طرف جھکی اور اپنے ٹھنڈے ہاتھ منال کے گول گپے گالوں پر لگائے ۔
” اف اتنے ٹھنڈے ہاتھ ۔ جاو جاکر توے پر سیکھ کر گرم کر کے آو ” ٹریسا کو پیچھے دھکا دیتے ہوئے منال نے کمبل پھر سے اوڑھ لیا ۔ کمبل میں ٹھرٹھرہٹ واضح تھی ۔
ٹریسا نے حیرت سے اسے دیکھا ۔
منال تو ہاسٹل میں بیٹھ کر ہی ٹھٹھر رہیں تھی۔
باہر جاتی تو فروزن ہی بن کر آتی ۔
اپنی سوچیں جھٹک کر وہ کچن کی جانب بڑھی تھی کافی بنانے جب فرح ہاتھ میں ٹرے کے ساتھ نمودرا ہوئی ۔
” میں بنا لائی ہوں کافی ۔ ” چہرے پر ہر بار کی طرح پھولوں سی مسکراہٹ سجائے جو دیکھنے والے کو خیرا کر دیتی تھی ۔
” آآااااا ۔ ٹھینکس فرح ۔ یو آر گریٹ ۔ اس موٹی سے تو کوئی امید نہیں ۔ دیکھو زرا کیسے گھسی ہے کمبل میں جیسے ہمالیہ ابھی اسی نے سر کیا ہے ۔ ” کافی کا کپ پکڑتے ہوئے ٹریسا نے کمبل میں لپٹی منال پر طنز کیا ۔
ہاتھوں کو کافی کے کپ کے گرد رکھا تاکہ گرمائی آئے ۔
” سر نہیں پاوں کروں گی ۔ مجھے سر کے بل چلنا نہیں آتا ۔ ” کمبل کے اندر سے ہی جوابی کروائی ہوئی جس پر ٹریسا نے قہقہہ لگایا جب کہ فرح مسکرائی ۔
” موٹی بھینس تم سے زمین پر تو چلا نہیں جاتا ۔ پہاڑ پر کیسے چڑھو گی ۔ ” ٹریسا نے کافی کا گھونٹ بھرتے ایک بار مزید چھیڑا ۔
” ٹریسا !۔ تمھارا کےٹو کا سفر کیسا رہا ۔ میری پتلی دوست کسی سوراخ میں گر تو نہیں گئی تھی ۔ ” وہ منال ہی کیا جو پلٹ کر طنز نا کرے ۔
وہ ایسے منہ بنا بنا اور آنکھیں مٹکا کر بولی تھی کہ ہنسی رک نہیں رہی تھی ۔
” شکر کرو تم نہیں گئی ۔ ورنہ کرین بلوانی پڑتی تمہے گھڈے میں سے نکالنے کے لیے ۔ ” ٹریسا نے کافی کا آخری گھونٹ لگایا اور تالی پیٹتے ہوئی بولی ۔
” ہائے سچی ۔ میں نے کبھی کرین کی سیر نہیں کی ۔ ایسا ہو تو مزا آجاتا ۔ ” منال آنکھیں بڑی کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کرین میں جھولے لینے کا تصور کرنے لگی ۔ اسکی آنکھیں پہلے تو چھوٹی تھیں اوپر سے بھرے ہوئے چہرے پر اور بھی چھوٹی ہو جاتی تھیں ۔
” موٹی تمھارے وزن سے کرین بھی توٹ جائے گی ۔ ” ٹریسا نے علمیہ ظاہر کیا ۔
” تو اچھی والی کرین منگوانا نا ۔ اپنے جیسے پتلی سی نا منگوانا لینا ۔ میں سونے لگی ہوں ۔ گڈ نائیٹ ۔ ” ایک بار مزید ٹریسا پر مزاق کرتی وہ سونے کا اعالان کر کے کمبل میں گھس گئی ۔
اب چاہے ہمالیہ یا کے ٹو خود چل کر منال واصف کے پاس آئے وہ نہیں جاگے گی جب تک کہ اسکی آنکھ خود نا کھل جائے ۔
ٹریسا کو فرح سے کتابیں مانگنے کا یاد آیا مگر آج وہ بہت تھکی ہوئی تھی اس لیے پھر کبھی پر رکھ لیں ۔
کچھ بوریت کا احساس ہوا تو ریمورٹ پکڑ کر ٹی وہ آن کیا ۔
نیوز چینل لگا ہوا تھا جو خبر دے رہا تھا کہ اسلامآباد کی ایک مشہور شہراہ پر ٹائر پھٹنے سے گاڑی کا اکسیڈنٹ ۔
گاڑی میں سوار دو نوجوانوں کو مقامی لوگوں نے ایبولینس کے زریعے ہسپتال پہنچایا ۔
دونوں نوجوان بری طرح زخمی ۔
ایک کی حالت نہایت تشویش ناک ۔
ساتھ ساتھ ٹی وی پر جائے وقوع کے منظر بھی دکھائے جا رہے تھے ۔ ٹریسا دیکھ دیکھ کر جھجھری لے رہی تھی ۔
ایک پرانا منظر اسکی آنکھوں میں لہرایا۔
وہ چھوٹی تھی ۔ کتنی چھوٹی یاد نہیں ۔
گھر کے پاس والے پارک سے کھیل کر لوٹی تھی ۔
گھر جانے کے راستے میں ایک عجیب درد ناک منظر اسکے انتظار میں تھا ۔
سڑک پر ایکسیڈنٹ ہوا تھا ۔
گاڑی اور رکشہ آپس میں ٹکڑائے تھا۔ رکشے والا بچ گیا تھا
گاڑی میں سوار دو نفوس میں سے ایک جاں بحق ہو گیا تھا ۔
ٹریسا لوگوں میں گھستی ہوئی گاڑی تک پہنچی اور پہلا ہی منظر دیکھتے زور دار چینخ ماری ۔
ٹوٹے ہوئے دروازے سے باہر لٹکا وہ ٹریسا کی ماں کا مردہ وجود تھا ۔
خون پیشانی اور بازو سے ابل رہا تھا ۔
بازو سے خون بہہ بہہ کر زمین پر ٹپک رہا تھا ۔
وہ بھاگی اور اپنے ہاتھوں سے ماں کو جھنجوڑنے لگی جو کہ اب اسکی کوئی بات سننے کے قابل نہیں تھی ۔
ٹریسا کو یاد نہیں تھا اسے ماں کے پاس سے کس نے ہٹایا مگر جاتے جاتے اسنے اپنی ماں کے بازوں میں لٹکتا سفید کڑا اتار لیا ۔
خون سے بھرا سفید کڑا ہمیشہ ٹریسا کے بازو کی زینت رہا تھا ۔
ماضی کو سوچتے ہوئے کب اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ گئے اسے معلوم نا ہوا۔
فرح کے آنے پر اسنے جلدی سے اپنے آنسو پونچھ لیے۔
ٹی وی میں ابھی بھی جائے وقوع کے منظر چل رہے تھے ۔
پولیس آفیسر اب آس پاس گشت کرتے نظر آرہے تھے ۔ حادثے کی جگہ کے چاروں طرف نو انٹری کی زرد پٹی لگادی گئی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
دو ہفتے پہلے ۔
بہار پیلس پر صبح چڑھ چکی تھی ۔
اپنے اور حدید کے مشترکہ کمرے میں شیشے کے اگے کھڑا روعان بال سیٹ کر رہا تھا ۔
وہ یونی کے لیے تیار ہو رہا تھا ۔
جینز کے اوپر براون سوئٹر پہنے وہ بہت پیارا لگ رہا تھا ۔
اپنے بالوں میں سرایت سے انگلیاں پھیرتا وہ گاہے بگاہے باتھ روم کی طرف بھی دیکھتا ۔
اسنے ایک آخری نظر خود پر ڈالی اور پیچھے دیکھا جہاں باتھ روم سے ٹاول لپیٹ کر حدید ابھی نکلا تھا ۔
وہ سیدھا آکر بیڈ پر بیٹھا تھا اور ساری چادر گیلی کردی تھی ۔
” میں تیار ہو گیا ہوں ۔ آپ کتنے گھنٹے لیں گے ۔ ” روعان اسکی طرف پلٹا اور طنزیہ مودب سا بولا ۔
” بس یہ ہی کوئی چار گھنٹے ۔ ” پینٹ کا پائنچا اڑاتے ہوئے حدید نے کہا ۔
” حادی چار گھنٹے نہیں چار سال کہو ۔ ہم چار سال سے ایم کام فائنل ایئر میں ہی ہیں ۔ ” روعان نے یاد کروایا ۔
” رونی میری جان فکر کیوں کرتا ہے ۔ علم حاصل کرنے کی کوئی ( کوئی کو لمبا کھینچا ) عمر نہیں ہوتی ۔ لوگ تو پچاس پچاس سال کی عمر میں بھی پڑھتے ہیں ۔ میں اور تم تو صرف تئیس سال کے ہیں ۔ جسٹ چل میرے یار ۔ ” شوخ لہجے میں کہتے حدید نے تقریبا روعان کے گال انگلیوں سے گوند ہی دیے تھے ۔
” ہمارے ساتھ کے سٹوڈنٹس کہاں کہاں پہنچ گئے ۔ ” روعان نے اس کے ہاتھ ہٹاتے اور گالوں کو سہلاتے ہوئے جتایا ۔
” پہنچنے دے ۔ جہنم تو نہیں پہنچے نا ۔ اور پڑھنے کے لیے بہت ٹائم پڑھا ہے یہ ٹائم تو موج مستی کرنے کا ہے ۔ فن کرنے کا ہے ۔ ” ابکی بار حدید نے روعان کے کنگھی شدہ بال بگاڑے ۔
” حدید !” روعان چینخا مگر وہ منہ چڑھا کر شیشے کی طرف بڑھ گیا ۔
وہاں سے برش اٹھا کر لایا اور روعان کے ہاتھ میں دیا ۔
” چل نا غصہ تھوک دے ۔ میرا بیٹا نہیں ہے ۔” حدید نے کسی چھوٹے بچے کی طرح اسے بہلایا تو روعان ہنس پڑا ۔
لولا کمرے میں آئی اور روعان کی ٹانگوں میں کھیلنے لگی ۔
وہ اسے گود میں اٹھاکر پیار کرنے لگا ۔
” لولا میڈم ایکسکیوزمی ۔ ” روعان کے پاس سے لولا کو لیا اور برش اسکے ہاتھ میں تھما کر خود کوچ پر بیٹھا ۔
روعان اسکے بال برش کرنے لگا ۔
حدید کے بال وہ ہی برش کرتا تھا ۔
حدید اسے اپنا بیٹا کہتا تھا اور کام سارے ماوں والے لیتا تھا ۔
اسکے سارے چھوٹے موٹے کام
بال کنگھی کرنا
جوگر کے لیسز باندھنا
ٹائی باندھنا
الماری میں کپڑے سیٹ کرنا
کتابیں وغیرہ اور باقی سمان تھیک جگہ پر رکھنا
جیسے سارے کام
حدید کو تو ہوش بھی نہیں ہوتا تھا اسکی کون سی چیز کس جگہ پر پڑی ہے ۔
” رونی جانی لولا بہت موٹی ہو گئی ۔ ” وہ لولا کو آڑھا ترچھا کرتے ہوئے بولا ۔
” تم ڈائت نہیں کرواتے اسے ۔ “
” بلیوں کی کونسی ڈائٹ ہوتی ہے ۔ ” روعان کے ہاتھ میں اسکے بال تھے سو زور سے جھٹکے ۔
” مجھے لگتا ہے یہ ۔۔۔۔۔۔”
” ماں بننے والی ہے ۔ ” دونوں ایک ساتھ بولے تھے ۔
روعان نے اسکے بال چھوڑے اور لولا کو اٹھایا ۔ وہ واقعی بھاری تھی ۔
اسکی چال بھی زرا سست تھی ۔
” اوئے ہوئے مبارکاں بھئی مبارکاں ۔ میرا یار نانا بننے والا ہے ۔ پیلس میں ننھے منے لولے لولی لولو پھرتے پھریں گے ” تالیاں بجاتے حدید کا اگر بس چلتا تو یہ خبر سی این این پر چلاتا ۔
” اور تم ماموں بنو گے ۔ ” روعان ہنس کر بولا ۔
حدید نے واپس لولا کو گود میں اٹھایا ۔
” او برفیلی حسینہ ۔ تمھارے بچو کو باپ کون ہے ویسے “
” پوما ” جواب روعان نے دیا تھا ۔
” آئے ہائے لولا تمہیں وہی کالا کلوٹا ملا تھا ۔ اور باقی بلے فوت ہو گئے تھے ۔ ” وہ برا سا منہ بنا کر بولا ۔
اسے سیاہ رنگ سے نفرت تھی ۔
چاہے وہ کسی چیز کا ہو یا انسان کا ۔
” پوما کے علاوہ اور کوئی بلا نہیں ہے ۔ ٹویٹی اور سنو بیل بلیاں ہیں ۔ ” روعان نے اسکی آگاہی میں اضافہ کیا ۔
” صحیح ہے بھئی ۔ لولہ اب تمھارے کالے پیلے بچے پیدا ہوں گے ۔ لگاتی رہنا پھر انہیں کریمیں ۔ روعان آئی تھنک ہمیں کریمز کے جار آڈر کر دینے چاہیے ۔ میں تو کہتا ہوں پوما کو بھی فیئر اینڈ لوللی سے نہلایا کرو بلکہ کھلایا بھی کیا کرو ” حدید کی بڑ بڑ شروع ہو چکی تھی ۔
وہ بنا رکے دو گھنٹے تک بول سکتا تھا ۔
روعان نے اسکا بیگ اسے تھمایا پھر منہ پر ہاتھ رکھ اسکی بولتی بند کی اور کمرے سے باہر دھکا دیا ۔۔۔
گیٹ پر ۔۔۔
” حودی تم یونی چلے جاو ۔ میں کچھ دیر تک آتا ہوں ۔ مجھے لولا تھیک نہیں لگ رہی ۔ ” سست پڑھتی لولا کو فکرمندی سے سہلاتے ہوئے روعان نے کہا ۔ روعان کی شکل لولا کو دیکھ کر رونے والی ہو رہی تھی ۔
” اچھا پھر ٹائم سے پہنچ جانا ۔ تیرے بنا میرے پھیپھرے نہیں لگتے ۔”
حدید سائیکل کو پیڈل مارتا اونچی آواز میں اعلان کرتا نکل گیا ۔
وہ ہمیشہ کی طرح عجیب حلیے میں تھا ۔
پھٹی ہوئی جینز
جیکٹ
بازوں میں ڈھیر سارے بینڈز
گلے میں پڑا ایچ والا لاکٹ
بالوں کے آڑھے ترچھے سپائکس بنائے ہوئے۔
اور ماتھے پر رنگین بینڈ لگائے ہوئے ۔
حدید رنگوں کا شیدائی تھا ۔
سترنگی مزاج کا انسان ۔
بہار پیلس کے گیراج میں دو دو گاڑیاں کھڑی تھیں مگر حدید کو سائیکل چلانا زیادہ پسند تھا
اور حدید کی وجہ سے روعان کو بھی سائیکل پر جانا پڑھتا تھا ۔
یونی جاتے ہوئے حدید کی طرف سے ایک خود ساختہ ریس لگی ہوتی جو ہمیشہ وہ ہی جیتتا تھا ۔
اور ہار کے بدلے روعان کو حدید کا کوئی ڈیئر پورا کرنا ہوتا تھا ۔
وہ اکثر جان بوجھ کر ہارتا تھا ۔
حدید کے چہرے پر جیتنے والی خوشی دیکھنے کے لیے
اور خود کے ہارنے پر حدید کا اسے چڑھانا ۔
روعان اگر ساری عمر بھی ہارتا رہے تو اسے غم نہیں تھا کیونکہ حدید جیتتا تھا اور روعان کی جیت حدید کے جیتنے میں ہی تھی ۔
حدید روعان کی زندگی میں آنے والا پہلا دوست تھا پھر وہ دوست سے یار بنا یار سے جگری یار بنا اور جگری یار سے جان بن گیا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
سیاہ ریسنگ کار کا ٹائڑ بلاسٹ ہوا ۔ وہ سڑک پر ہچکولے کھاتے ہوئے دیوار سے جا ٹکرائی ۔
گاڑی سامنے سے تباہ ہوگئی ۔
حنین عرف ہنی کے چہرے اور بازووں پر چوٹیں آئیں ۔ وہ بے ہوش ہو گیا ۔
سالار کے سر سینے اورر ٹانگ پر چوٹیں آئیں تھیں ۔
نیم بے ہوشی میں اس نے واضح محسوس کیا کچھ لوگ دوڑھتے ہوئے آئے اور ان دونوں کو گاڑی سے نکالا تھا ۔
پھر زمین پر لٹا دیا گیا ۔
کھلتی بند ہوتی آنکھوں سے وہ کئی قدم اپنے ارد گرد دیکھ سکتا تھا ۔
اسکے اعصاب عام لوگوں سے تیز تھے ۔ اس پر جلدی کسی چیز کا اثر نہیں ہوتا تھا ۔
وہ درد جس میں عام لوگ ٹرپنے لگتے تھے سالار کے لیے وہ عام بات تھی ۔
وہ احساسات سے عاری کوئی پتھر نما انسان تھا ۔
ماتھے سے خون بہہ کر آنکھ تک آیا ۔
ایک قطرہ پلکوں سے نیچے ٹپکا اور اس قطرے میں منظر واضح ہوا ۔ خونی منظر
چیختے چلاتے نفوس اور بے دردی سے ان کے جسموں میں خنجر کھبوتے لوگ ۔
منظر پر خون تیزی سے پھیلنے لگا یہاں تک کہ اسکی آنکھوں میں چھبا ۔
سالار نے آکھیں موندھ لیں ۔
بند آنکھوں کے باوجود اور سر میں اٹھتی ٹیسوں کے باوجود وہ خود کو اٹھایا جانا اور سٹریچر پر لٹایا جانا محسوس کر رہا تھا ۔
ایمبولنس کا سائیرن اسکی سماعت میں پڑھ رہا تھا ۔
فوری دی گئی طبی آمداد اور زخموں سے بہتے خون کی روک تھام کی کوشش وہ سب محسوس کر رہا تھا ۔
یہاں تک کہ ڈاکٹرز اسے مکمل بے ہوش سمجھ رہے تھے وہ آس پاس کی ہر آواز سن رہا تھا ۔
ہلکی سی آہٹ بھی محسوس کر پا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
بہار جان کو شہوار نے اطلاع دی تو ایک لمحے کے لیے انکی جان نکل گئی ۔
” ہمیں سالار کے پاس لے چلیں ۔ ہمارا کلیجہ پھٹ جائے گا شہوار ” وہ بے تابی سے دل تھامتے ہوئے بولی ۔
شہوار انہیں ہسپتال لے آیا کیونکہ اگر وہ اپنی نظروں سے سالار کو نا دیکھ لینگی وہ سکون نہیں پائیں گی ۔
اپنے واحد بیٹے شاز عالم شاہ اور بہو ثمرین شاہ کی تکلیف دہ موت کے بعد سے وہ جب بھی کسی کی تکلیف سنتی تھی انکے غم تازہ ہونے لگتے تھے ۔ وہ نئے سرے سے سلگنے لگتے تھے ۔
” شہوار ہمارا دل بیٹھ رہا ہے ۔ ڈاکڑ سے پوچھئے سالار کیسے ہیں ۔ ” وہ بار بار اضطراری انداز میں شہوار کا کندھا تھامتی ۔
” بی جان حوصلہ رکھیں ۔ سالار اور اسکا دوست تھیک ہونگے ۔ ” شہوار انہیں اپنے ساتھ لگاتے ہوئے حوصلہ دے رہا تھا ۔
” اس دن بھی یہ ہی کہا گیا تھا ۔ مگر ہمارا بیٹا اور بہو ہمارے پاس واپس نہیں آئے تھے ۔ مجھے اسکی شکل دکھا دیں شہوار ۔ مجھے سالار کی آواز سنا دیں ۔ مجھے چین اسی صورت میں آئے گا ۔ ” بہار جان نم آنکھوں کے ساتھ التجا کر رہیں تھیں ۔
شہوار وہ بھی ایک پل کو لرزہ تھا ۔
وہ خون میں لپٹی لاشیں اسے کبھی نہیں بھول سکتی تھیں ۔
تبھی آپریشن ٹھیٹر سے نکلتے ڈاکٹر جواد انکی طرف آئے ۔
بہار جان بے تابی سے اٹھ کر انکے پاس پہنچی ۔
” کیسے ہیں ہمارے پوتے ۔ کیا وہ تھیک ہیں “
” ہی از آل رائٹ ۔ معمولی چوٹیں ہیں وہ جلد صحتیاب ہو جائے گا ۔ آپ بلکل فکر نا کریں ۔ ” ڈاکٹر جواد نے انکی مکمل تسلی کروائی تو بہار جان کو کچھ ٹھنڈک پڑی۔
” ہم اس سے مل سکتے ہیں۔ ” بہار جان نے عجلت سے پوچھا ۔
” ابھی وہ دواوں کے زیر اثر ہے ۔ ” ڈاکٹر جواد نے بتایا مگر بہار جان کو سکون نا آنا تھا ۔
شہوار انکے پیچھے انہیں تھامے کھڑا تھا ۔
ڈاکٹر جواد انکی حالت دیکھتے ہوئے بولے ۔
” آپ اسے دیکھ سکتی ہیں ۔ ابھی وہ بات کرنے کی کنڈیشن میں نہیں ہے ۔ ” وہ کہہ کر آگے بڑھ گئے جبکہ شہوار بہار جان کو تھام کر روم میں لے جانے لگا جہاں سالار کو شفٹ کردیا گیا تھا ۔
( ” اپنے بھائی کا بہت خیال رکھنا ۔ ” شاز عالم شاہ سفر کی تیاری مکمل کر کے شہوار کو سامنے بیٹھاتے ہوئے ہدایت کرتے ہوئے بولے تھے ۔
” بابا آپ پریشان نا ہو ۔ ” دس سالہ شہوار نے بڑے بھائی کی طرح زمہ داری قبول کی تھی ۔
” میرا سمجھدار بیٹا ۔ ” شاز عالم نے اسے گلے لگایا اور یہ آخری بار تھا ۔
کاش وہ جانتے کہ پھر ملنا نہیں ہوگا تو اپنے دونوں بیٹوں کو بھینچ لیتے یا ان سے دور ہی نہیں جاتے
مگر یہ کاش ہمیشہ حسرت بن کر رہ جاتا ہے ۔
ستم تو یہ ہے کہ آنے والی انہونی کے بارے میں الہام تک بھی تو نہیں ہوتا ۔
” ہم ایک ہفتے میں واپس آجائیں گے ۔ آپ بھائی کے ساتھ بی جان کا بھی خیال رکھنا ۔ ” ثمرین شاہ نے اسکے ماتھے کا بوسہ لیتے ہوئے پیار سے کہا ۔
کاش وہ جانتی کہ یہ سفر ایک ہفتے کا نہیں کبھی نا ختم ہونے والا تھا مگر صد افسوس پھر وہی کاش آڑے آ گئی ۔
” سالار ادھر آئیں ۔ ” ثمرین نے کمرے کے کونے میں کھڑے ناراض سے سالار کو آواز دی۔
وہ پانچ سال کا تھا مگر اپنے ہم عمر بچوں سے بڑا لگتا تھا ۔
سالار نے زور زور سے سر نفی میں ہلا دیا ۔ نارضی اسکی آنکھوں سے واضح تھی ۔
” کیا ہوا ہے میری جان کے ٹوٹے کو ۔ ” ثمرین شاہ اسکے سامنے بیٹھیں اور لاڈ سے اسکا گال چھوا ۔
” آپ مت جائیں ۔ ” سالار کی معصومیت بھری آواز نکلی ۔
یہ پانچ سالوں میں پہلی بار ہوا تھا جب ثمرین اہم کاروباری مقاصد کی وجہ سے اپنے دونوں بیٹوں کو چھوڑ کر جا رہیں تھیں ۔
” میرا بچہ روتے نہیں ہیں ۔ ماما جلدی واپس آ جائیں گی۔ ” ثمرین کا دل بھر آیا مگر وہ مسکراکر اسے سمجھا رہیں تھیں ۔
” مجھے اپنے ساتھ لے چلیں ۔ ” سالار کی آنکھیں موٹے موٹے آنسووں سے بھریں تھیں ۔
” ہم آپ کو ساتھ نہیں لے کر جا سکتے ۔ میرا بیٹا بہت بہادر ہے ۔ وہ اپنا بھی خیال رکھے گا اور بی جان کو بلکل بھی پریشان نہیں کرے گا ۔ مائی بریو سن ۔ میرا بیٹا بلکل نہیں روتا ۔ ” ثمرین شاہ نے اسے بہلاتے ہوئے گلے لگایا جبکہ سالار نے انہیں زور سے بھینچ لیا ۔
” ماما آپ نا جائیں ۔ “
وہ بار بار یہ ہی کہتا تھا ۔
جیسے التجا کر رہا ہو
جیسے فریاد کر رہا ہو
جیسے آنے والی انہونی کا الہام ہو چکا ہو
” ہم ایسا کرتے ہیں ۔ آپ ایئر پورٹ تک ہمارے ساتھ چلیں ۔ ” ثمرین نے اسے الگ کیا اور آنکھوں سے بھل بھل کرتے آنسو پونچھے ۔
” میرا اچھا بیٹا ۔ میرا بہادر بیٹا ۔ بہادر بچے ایسے روتے نہیں ہیں ۔ آئیں چلیں ۔ ” ثمرین نے سالار کے ماتھے پر بوسہ دیا اور ہاتھ پکڑے باہر لے آئیں ۔
پانچ سالہ سالار کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔
وہ آخری وقت تک فریادی و التجائی نظروں سے ماں کو دیکھتا رہا تھا ۔ )
” شہوار” بی جان نے اسکا کندھا ہلایا تو وہ ہسپتال کی راہ داری میں واپس آیا ۔ ماضی ہوا میں تحلیل ہو گیا ۔
وہ دونوں روم کے دروازے پر کھڑے تھے ۔
شہوار نے دروازہ کھولا اور دونوں اندر بڑھ گئے ۔
بیڈ پر سالار آنکھیں موندھے لیٹا تھا ۔
اسکا سر پٹی میں جکڑا تھا ۔
سینے پر کندھے سے زرا نیچھے بھی پٹی بندھی تھی ۔
بائیں بازو پر ڈرپ لگی تھی ۔
ٹانگ کو اوپر کی طرف اٹھا کر باندھا گیا تھا ۔
اسکا چہرا کسی بھی قسم کے ثاثر سے عاری تھی
وہ پر سکون تھا
یا پھر سرد مہر
بہار جان نے شہوار سے ہاتھ چھڑوایا اور اسکے قریب پہنچ گئیں ۔
بہت پیار اور شفقت سے اسکا پٹی زدہ ماتھا چوما ۔
سالار کے ماتھے پر لکیریں پڑیں ۔
پھر اپنے ہاتھ میں اسکا ہاتھ پکڑ کر چوما ۔
سالار کی پلکوں میں لرکھڑاہٹ ہوئی پھر اسنے آہستہ سے آنکھیں کھول دیں ۔
نظریں زرا سی موڑیں تو بی جان کا ضعیف مگر شفاف چہرا نظر آیا جو آنسووں سے دھلا ہوا تھا ۔
اسے ہوش میں آتے دیکھ بی جان نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر شکر ادا کیا ۔
” میرا بچہ ۔ اب کیسے ہیں آپ ۔ ” وہ اسکے ہاتھ کی پشت سہلاتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
شہوار بیڈ کے پائینتیوں والی سائیڈ پر کھڑا تھا ۔
سالار نے نظریں پھیر کر اسے دیکھا ۔
ہلکا سا مسکرایا
پر اسرار مسکراہٹ
پھر بی جان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔
” میں تھیک ہوں ۔ میری اتنی فکر نا کیا کریں آپ ۔ ” وہ نہایت سرد مہری سے بولا تھا ۔ کوئی رنجش تھی یا ناراضی جو دور ہونے کا نام نہیں لیتی تھی ۔
نا اظہار کیا جاتا تھا
نا معاف کیا جاتا تھا
بہار جان کا دل کٹ کر رہ گیا ۔
وہ بولنے کی کوشش کرنے لگیں مگر ہلق میں پھندھے آڑتے گئے ۔
الفاظ ان پھندوں میں الجھتے گئے ۔
سالار کا چہرا اب دوسری طرف تھا ۔
وہ پھر سے آنکھین موندھ گیا ۔
یہ کمرے میں موجود نفوس سے لاتعلقی کا اعلان تھا ۔
” آئیں بی جان ۔ وہ ایسے تھیک ہے ۔ اسے ہماری ضرورت نہیں ہے ۔ ” تکلیف تو شہوار کو بھی ہوئی تھی مگر اس وقت اسے بہار جان کو سنبھالنا تھا ۔
بہار جان اسکے ساتھ باہر آگئیں ۔
انکے جاتے ہی سالار نے واپس آنکھیں کھول دیں ۔ وہ سرخ تھیں ۔
انکی رگیں سرخ تھیں ۔
سرخ خون کی طرح ۔
خون جو انتقام کی علامت تھی
خون جو وحشت کی علامت تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے