No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
لولا کچھ تھیک معلوم ہوئی تو روعان کی جان میں جان آئی ۔
وہ اس وقت بہار پیلس میں بنے اپنی کیوٹیز کے لیے مخصوص کردہ کمرے میں موجود تھا ۔
کمرا خاص بلیوں کے لیے ہی سجایا گیا تھا ۔
ایک طرف سنو بیل اور ٹویٹی آپس میں رنگ برنگی بالز کے ساتھ کھیل کم کشتی زیادہ کر رہی تھیں ۔
جبکہ پوما نامی بلا اپنے کھانے کے باول پر جھکا تھا ۔
وہ سیاہ بلا صرف کھانے سے غرض رکھتا یا کبھی سنو بیل سے پنگے لگا لیتا ۔
مگر وہ گوری چٹی نیلی آنکھوں والی نازک سی لولا کا دیوانہ تھا ۔
روعان کرسی پر بیٹھا تھا ۔
گود میں لولا کو بیٹھا رکھا تھا اور پیار سے اسکی کمر سہلا رہا تھا ۔
لولا بھی آنکھیں موندھے اسکا ہاتھ کا لمس محسوس کرتی پر سکون سی لیٹی تھی ۔
اگر روعان بلیوں کا دیوانہ تھا تو وہ سب بھی اسکی دیوانی تھیں ۔
( وہ آوارہ بلی تھی جو متر گشت کرتی ہاسٹل کے اندر آ گئی تھی ۔ منال جو کہ کچھ دیر پہلے آڈر کیا ہوا لارج پیزا مکمل خود ہی کھا کر برآمدے میں ٹہل رہی تھی زور زور سے چھینکیں مارنے لگی ۔ اسکی ناک مکمل سرخ ہو چکی تھی۔ آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اور چھینکیں وہ تو پے در پے آتی جا رہی تھیں ۔ وہ اس بری طرح سے چھینکیں مار رہی تھی کہ کمرے سے نکل کر فرح آئی اور اسکی کمر سہلانے لگی ۔ ایک لڑکی پانی لے آئی ۔ وہ بڑی طرح سے ہانپ رہی تھی ۔
منال نے دو گھونٹ لیے دفعتا اسکی نظریں بلی پر پڑی جو سیڑھیوں میں بیٹھی تھی ۔ وہ تیزی سے اندر کمرے میں بھاگی ۔
چھینکوں کی وجہ سردی نہیں بلی تھی ۔
منال واصف کو بلیوں سے الرجی تھی ۔
کئی فٹ دور سے بھی بلی اسکے پاس سے گزر جائے تو چھینکوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا ۔ )
” شہوار ایک بیوقوف انسان ہے ۔ اسنے ایمپلوئز کو سر پر چڑھا رکھا ہے ۔” لولا کی کمر سہلاتے ہوئے یونہی روعان کے زہن میں ناصر کی کہی بات آ گئی ۔
ناصر ملک ، شاہ بزنس ٹائیکون کے مخالفیں کا آدمی تھا اور اپنے رضا کار سے قہقہہ مار کر کہا تھا ۔
” ایسی بیوقوفیاں کر کے وہ جلد اپنے ہاتھوں سے کاروبار کھو دے گا ۔ ” رضا کار نے بھی بات سے بات جوری تھی ۔
” دیکھنا جن لوگوں پر شہوار اتنا مہربان ہو رہا ہے کل کو وہی اسکے پیٹھ میں خنجر گھونپے گے ۔ ” ناصر جتاتے ہوئے لہجے میں بولا ۔
” ہمیں کیا سر ۔ ہم تو آرام سے تماشہ دیکھیں گے ۔ ” رضا کار نے معنی خیزی سے کہا تو ناصر ہنس پڑا ۔
روعان نے یہ باتیں ایک کلاس فیلو کے منہ سے سنی تھیں جو کہ ناصر ملک کا سیکنڈ کزن تھا ۔
روعان کو اسکی باتوں میں کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا تھا ۔
وہ بھاں سے بات کرے گا اسنے فیصلہ کیا تھا ۔
لولا مکمک سو چکی تھی ۔
اسنے بڑے آرام سے لولا کو اسکے بستر پر لٹایا اور چل کر ٹویٹی اور سنو بیل تک آیا ۔
اور ان دونوں کی کمر کو ہاتھوں سے سہلایا ۔
ٹویٹی فورا اسکے ہاتھ سے اپنے چہرا مس کرنے لگی ۔
(” جانور ۔ غلیظ انسان ۔ بد بخت ۔ ارے او ناجائز انسان مر جا کہیں جا کر ۔ ارے تیری ماں کو موت نا آئی تجھے جنم دیتے ۔ کرم جلی کو شرم نا آئی میرے گھر لا کر تجھے پٹختے ہوئے ۔ ارے کیڑے پڑے اس سے بھی اور تجھے بھی ۔ آگ لگے تجھے۔ بر باد ہو جائے تو ۔ ہاتھ ٹوٹے تیرے ۔ منحوس مارا کہیں کا ۔ ” ساڑھی میں لپٹی وہ گندمی رنگ کی بھری جسامت والی عورت نفرت اور زہر میں لہجے کو گوندھے سامنے کھڑے بچے کو کوستی جاتی تھی ساتھ ساتھ ہاتھ میں پکڑی چھڑی بھی اس پر برساتی ۔ اس عورت کے ماتھے پر لال تلک لگا ہوا تھا ۔ بلا شبہ وہ ہندو تھی ۔
چھڑی پڑتی تو بچہ ایک لمحے کو ٹرپ کر رہ جاتا ۔
دفعتا بچے کی نظر پیچھے دیوار پر چلتی بلی پر پڑی تو وہ اشتیاق سے اس طرف دیکھنے لگا ۔ یہاں تک کہ اب عورت کی مار اسے محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔
اور عورت یہ دیکھ کر مزید تیزی سے چھڑی برسانے لگی ۔ )
حدید دروازہ کھول کر اندر آیا تو روعان جھٹکے سے ماضی سے باہر آیا ۔
” رونی ۔رونی ۔۔۔ رونی ۔ گیس کر آج کیا ہوا یونی جاتے ہوئے ۔ ” حدید روعان کو دیکھے بغیر ہی زور سے چلاتا ہوا پیچھے سے آیا اور اسکے کندھوں سے جھول گیا ۔
” اب کونسا کارنامہ کر دیا تم نے ۔ ” روعان نے فقط نظریں اسکی طرف پھیریں کیونکہ حدید کا چہرا اسکے چہرے کے بالکل ساتھ لگا ہوا تھا ۔
” لولا کے بچوں سے کھیلنے کے لیے بچوں کا انتظام کر کے آیا ہوں ۔ ” ایسے ہی روعان کی کمر سے لٹکتے ہوئے وہ کہنے لگا
روعان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا ۔
” ارے تیری بھابھی سے ملا کر آ رہا ہوں ۔ ” حدید نے جوش میں ہوش کھونے والے انداز میں روعان کے کاندھوں پر اپنے بازو ڈھیلے چھوڑیں ۔
روعان نے اوہ کہہ کر گہری سانس لی اور حدید کو بازووں سے پکڑ کر پیچھے کو جھٹک دیا ۔
حدید زمین پر کمر کے بل گرا اور اگلے ہی لمحے روعان اس پر جھکا ۔
” تو اس میں نئی بات کونسی ہے ۔ اس شہر میں ایسی کونسی لڑکی رہ گئی جسے تم نے میری بھابھی ہونے کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا ۔ کوئی لڑکی رہ گئ ہے جو تم نے میرے لیے چھوڑی ہو ۔ کوئی لڑکی بلائے تو منہ سے بے اختیار جی بھابھی جی نکلتا ہے ۔ مجھے تو لگتا ہے اپنی بیوی کو بھی بھابھی بول دیا کروں گا ۔ ” حدید پر جھکے ہوئے وہ اسے کوستے ہوئے بولا ۔
اسکی بات پر بے اختیار حدید کا قہقہہ بلند ہوا ۔
” جانی فکر کیوں کرتا ہے ۔ ” حدید نے روعان کو پیچھے کیا اور اسکے کندھوں پر سامنے سے بازوں رکھ کر بیٹھا ایسے کہ دونوں آمنے سامنے اکڑو بیٹھے تھے ۔
” آج جسے دیکھ کر آ رہا ہوں نا وہ پکا تیری بھابھی بنے گی ۔ مجھے سچے والا
پکے والا
ٹرو والا
فل اینڈ فائنل والا عشق ہو گیا ہے ۔
کسی لڑکی سے بات کر کے یا ایک ملاقات بعد چہرا بھول جاتا ہے مگر جانی وہ چہرا تو یہاں جیسے فار ایور پیسٹ ہو گیا ہے ۔ ( دل پر انگلی سے دستک دی )
مجھے لگتا ہے اب تک فضول جی رہا تھا ۔ زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔
میں اسے پانے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔
بس اب ایک پل بھی اس سے دور نہیں رہ سکتا ۔ ہائےےےےے وہ حسینہ حدید حیدر کو پاگل بنا گئی ۔ ” وہ دل کی عکاسی کرتے ہوئے گہرے سانس لیکر بولا۔ یقینا محبت کا روگ لے بیٹھا تھا۔
روعان نے مٹھی چہرے تلے رکھ کر مزے سے اسکی باتیں سنی پھر ہاتھ بڑھا کر اسکے ماتھے پر رکھا
” کوئی بات نہیں حادی ۔ تمہیں پھر سے دورا پڑا ہے ۔ کل تک سارا عشق و معشوقی کا بھوت اتر جائے گا ۔ کل تم نارمل ہو جاو گے ۔ ” حدید کا کاندھا تھپک کر ماہر نفسیات کی طرح تسلی دی تو حدید نے ایک دم برا سا منہ بنایا ۔
” تجھے مذاق لگ رہی ہیں میری باتیں ۔ ” اسنے دو انگلیوں میں روعان کے ہونٹ بھینچے ۔
” تم سیریس کب ہوتے ہو ۔ ” روعان نے منہ چھڑوایا اور اٹھ کر باہر نکل گیا ۔
حدید بھی پیچھے باہر نکل آیا ۔
” اور میں ثابت کر دوں کہ میں سیریس ہوں ۔ ” اسکے پیچھے تقریبا بھاگتے ہوئے حدید نے دعوا کیا تھا ۔
” اگر ایسا ہوا تو جو تم کہو گے وہ کروں گا ۔ ” روعان نے بھی چیلنج قبول کیا ۔
” ڈن ہو گیا ۔ آج کے بعد سے پھولاں والی کے علاوہ ہر لڑکی میری بہن ۔ آج کے بعد سے کسی لڑکی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھوں گا ۔ ” وہ جوشیلے انداز میں علانیہ بولا اور روعان کو واقعی اسکے لہجے میں سچائی نظر آئی تھی ۔
اس بار یہ واقعی حقیقی تھا اور روعان کو حدید سے خوف محسوس ہوا تھا ۔
” قیامت نا آجائے اگر ایسا ہوا تو ۔ ” روعان طنزیہ کہتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
” تجھے اپنی فکر ہو رہی ہے لگتا ۔ ” حدید بھی کمرے میں آیا ۔
روعان جو المماری کھولے کپڑے نکال رہا تھا اسکی بات پر چونک کر پلٹا ۔
” میرے شونے مونے تجھے جو ہر لڑکی بہن یا بھابھی لگتی ہے نا ڈونٹ وری ۔ ایک دن جو تیرے لیے اتری ہے وہ بھی ملے گی ۔ بس مجھے ایک بار بتا دینا کون ہے وہ ۔ تجھ سے تو لڑکی سیٹ نہیں ہوگی تو تیرے لیے لڑکی کو میں پرپوز کر دوں گا ” وہ فراخ دلی کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے بیڈ پر اچھل کر بیٹھا پھر شرٹ کا کالر جھاڑ کر روعان کو آفر کرتے ہوئے بولا ۔
” پھر تو گئی بھینس پانی میں ۔ ” روعانے نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور ہاتھ میں پکڑی پینٹ حدید کے منہ پر دے ماری ۔
” لو جی یہ بھینس کہاں سے آگئی ۔ میں ادھر لڑکی کی بات کر رہا ہوں اور تجھے بھینس کو پانی میں اترنے کی پڑی ہے۔ اتنی سردی میں مر جائے گی بیچاری ۔ ” پینٹ کو گول مول کر کے فرش پر پٹخا اور ہاتھ جھلاتے ہوئے بولا ۔
” مجھ پر ایک احسان کرنا ۔ ۔۔۔”
” کہ مجھ پر کوئی احسان نا کرنا ” حدید نے تالی پیٹتے ہوئے سلمان خان کا ڈائلاگ دہرایا تو روعان نے اسے گھورا جس پر حدید کی بتیسی اندر ہوئی
” کہ اگر میری زندگی میں کوئی لڑکی آئے تو اسکے قریب بھی نا بھٹکنا ۔ ” روعان نے آگے بڑھ کر اسے کالر سے پکڑا اور ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا ۔
” یہ تو بہت ناممکن بات کہہ دی تو نے ۔ میں آج اور ابھی تجھ سے شرط لگاتا ہوں تیری والی کو تیرے لیے میں ہی پرپوز کروں گا ۔ ” حدید آج شرطوں اور دعووں کے موڈ میں تھا ۔
ایک ہاتھ آگے بھی بڑھا رکھا تھا ۔
روعان نے کچھ دیر اسکی طرف دیکھا پھر اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھا جسھ حدید نے ہاتھ بند کر کے جکڑ لیا ۔
” بس اگر وہ لڑکی پاس آکر مسکرائے تو سمجھ جانا کام بن گیا اور اگر پاس آکر ایک تھپر مار دے تو سمجھ جانا گئی بھینس واقعی پانی میں ۔ ” وہ قہقہہ مار کر دونوں ممکنات کا زکر کرتے بولا تو روعان نے بے اختیار ہاتھ چہرے پر رکھا ۔
دوسری ممکنات کا تو ہزار فیصد چانس تھا ۔
وہ تو تصور میں خود کو تھپر پڑھتے ہوئے بھی دیکھ چکا تھا ۔
روعان نے جھر جھری سی لی اور حدید کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوایا ۔
” ہم اس لڑکی کے پیچھے شرط کیوں لگا رہے ہیں جو ایگزیسٹ ہی نہیں کرتی ابھی ۔ ” وہ بس بات ختم کرنے والے انداز میں بیڈ کے دوسری طرف آیا اور پینٹ اٹھائی ۔
شڑٹ اور سوئٹر بھی الماری میں سے نکالا اور چینجنگ روم میں چلا گیا ۔
” کیوں آیگزیسٹ نہیں کرتی ۔ ضرور ہو گی ۔ کوئی نا کوئی ہر کسی کے لیے ہوتا ہے ۔ وہ اچانک سے سامنے آئے گی اور تیری دنیا بدل جائے گی ۔ جیسے آج صبح تک پھولاں والی ایگزیسٹ نہیں کرتی تھی مگر اب صرف میرے لیے وہ ہی ایگزیسٹ کرتی ہے ۔ ” روعان چینگ کر کے باہر نکلا تو روعان کی پھر سے بولتی شروع ہو گئی ۔
” کیا ہوگا کیا نہیں وقت آنے پر دیکھا جائے گا ۔ ” روعان بیڈ پر بیٹھا اور پینٹ کے پائنچے درست کیے ۔
وہ کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا ۔
” ویسے جا کہاں رہا ہے ؟ ” حدید اسے تیار ہوتا دیکھ کر پوچھنے لگا مگر اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی سمجھ گیا ۔
” کیا کوئی فائدہ ہوا اب تک اس گھر میں جانے کا ۔ ” حدید روعان کے سامنے ڈریسنگ پر آکر بیٹھا اور سنجیدگی سے پوچھنے لگا ۔
” ہو ہی جائے گا ایک دن ۔ ” بالوں میں برش پھیرتے وہ عام سے انداز میں بولا ۔
” وہ عورت جو ایک لفظ بھی بول نہیں پاتی ۔ آخر کیوں تو روز اسکے ساتھ سر کھپاتا ہے ۔ ” حدید نے افسوس سے اسے دیکھا ۔
روعان نے ایک گہری سانس لیکر برش واپس رکھا ۔
ماحول میں یک دم تناو سا آیا ۔
” جب تک آخری امید بھی ختم نا ہوجائے ۔ جب تک اپنا اصل نا جان جاوں گا ۔ ” روعان نے جوگرز نکالے اور بیڈ پر آکر بیٹھا ۔
” تمھارا اصل ہم ہیں جانی ۔ میں۔ بہار جان ۔ بھاں ۔ سالار ۔ ہم ہیں تمھارا اصل ۔ ” وہ اسکے سامنے آکر اکڑو بیٹھا ۔
” اصل تو یہ تمھارا بھی نہیں ہے ۔ ” روعان نے اسکی طرف استہزائیہ دیکھا ۔
” میں اس کو اپنا اصل مان چکا ہوں ۔ ” حدید زور دے کر بولا ۔
روعان فقط مسکرایا اور اٹھ کر باہر نکل گیا ۔
جبکہ حدید کارپیٹڈ فرش پر اکڑو ہی بیٹھا رہ گیا ۔
آج بھی روعان ان گلیوں میں ہی تھا جہاں سے آیا تھا ۔
آج بھی وہ وہیں کھڑا تھا ۔
” اصل تو یہ تمھارا بھی نہیں ہے ۔ ” حدید کے کانوں میں الفاظ گونجے ۔ اسکا دل میں کسک پیدا ہوئی۔
” یہ ہی میرا اصل ہے ۔ میں مان چکا ہوں ۔ بہار جان شہوار بھاں اور سالار کی طرح میری بھی دادی ہیں ۔ وہ میری بھی ویل ویشر ہیں ۔ جب وقت نے مجھ سے میرے اپنے چھینے تھے تب بہار جان تھیں جنہوں نے مجھے اپنوں کی طرح تھاما تھا ۔ مجھے کبھی غیر ہونے کا احساس نہیں دلایا ۔ میں آخر کیوں پھر اس سب کو اپنا اصل نا مانوں ۔” وہ خود سے ہی باتیں کرتا خود بھی کمرے سے باہر نکل گیا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
حالیہ دن ۔۔۔۔۔۔
شام مست سی سنہری کرنوں میں ڈوبی شہر پر اتری تھی ۔ ڈوبتے سورج نے کیا حسین رنگ بکھیرے تھے کہ دل بے اختیار اس منظر کے خالق کی بہترین رنگ ساز کی مداحی کرنے پر مجبور ہو جائے ۔
اللہ یقینا بہترین رنگ ساز ہے ۔
اور ایسے ہی بہترین اور منفرد رنگ اسنے انسانوں کو بھی دیے ہیں ۔
چاہے سپید ہو یا سیاہ
گندمی ہو یا سرخ مائل
سنہری ہو یا گلابی
ہر رنگ کا فرد منفرد اور میرے رب کی بہترین تخلیق ہے
بلاشبہ وہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو تخلیق فرماتا ہے
ہاسٹل کے سب سے نیچی منزل پر ہال کمرا بنا ہوا تھا ۔
تقریبا تمام لڑکیاں وہاں موجود تھیں ۔
ایک پاڑٹی کا ماحول بنا ہوا تھا ۔
آج نیو ایئر پارٹی منائی جا رہی تھی
ایک سائڈ پر رکھے سپیکر کے ساتھ منال نے اپنا موبائل اٹیچ کیا ہوا تھا ۔ سپیکر مسلسل مختلف موسیقاروں کے گانے اونچی آواز میں چلا رہا تھا ۔
منال جو کہ فر والی بھوری جیکٹ اور فر والے ہی گھٹنوں تک آتے جوتے پہنے بھالوں لگ رہی تھی میوزک پر تھڑک رہی تھی ۔ ڈانسنگ ٹیڈی ۔۔۔
کالڈ درنکز پیزا برگر اور باربی کیو مانیو میں شامل تھا ۔
کچھ لڑکیاں وسعت میں کھڑی مست ہوئیں ڈانس کر رہی تھیں ۔
کچھ ایک دوسرے سے گپے لڑانے میں مصروف تھی ۔
الغرض ادھر ادھر چہل پہل کرتی لڑکیاں ایک بھور پور پارٹی سے لطف اندوز ہو رہی تھیں ۔
ہال کے دروازے کے آگے ٹریسا کھڑی تھی ۔ اسکے ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کا گلاس تھا ۔
” کوک بھی ٹریسا سے زیادہ سفید لگ رہی ہے ۔” ناجانے وہ کون تھی جو شور شرابے میں جملہ کس رہی تھی اور ٹریسا وہ تو ایک لمحے کے لیے سن رہ گئی ۔
” اتنا سیاہ رنگ ۔ میں نے تو سنا ہے انسان کے اعمال اچھے نا ہو تو رنگ کالا ہو جاتا ہے ۔ ” وہ لڑکی پاس ہی کھڑی تھی اس بات سے انجان کے ٹریسا اسے سن رہی ہے ۔
” وہ تو عیسائی ہے ۔ بعد میں بھی جہنم میں جلنا ہے ۔ وہ تو ابھی سے جلی ہوئی ہے ” دوسری لڑکی طنز کرتے ہوئے بولی تو بے اختیار ٹریسا کی آنکھ میں آنسو آئے جسے اسنے ضبط کیا ۔
گلاس ٹیبل پر رکھا اور ہاتھ سامنے کیے
وہ بہت سیاہ تھے
کالی رات سے بھی زیادہ سیاہ
پھر جھٹک دیے اور خود کو کنپوز کرنے لگی ۔
دفعتا اسکی نگاہ ایک کونے میں کرسی پر بیٹھی فرح پر پڑی ۔
وہ حجاب کیے ہوئے تھی ۔
باقی سب کی طرح وہ کھلے بالوں ۔ فینسی لباس میں نہیں تھی بلکہ اپنے مخصوص پردے والے حلیے میں تھی ۔
چہرے پر مدھم مسکراہٹ سجائے ۔
” کاش میرا رنگ بھی فرح جیسا ہوتا ” ٹریسا کے دل سے بے اختیار صدا اٹھی تھی ۔
فرح نے کلائی پر بندھی گھڑی دیکھی ۔ وقت عشا ہو چکا تھا ۔
وہ اٹھی اور تیز قدم چلتی ہوئی ہال سے باہر نکل گئی ۔
ٹریسا بھی پیچھے آئی ۔
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی فرح کو جائے نماز بچھاتے ہوئے دیکھا ۔
فرح نیت باندھ کر کھڑی ہو گئی ۔
ٹریسا اسکے پیچھے کھڑی تھی ۔
بے اختیار اسکے دل میں اپنا کیا سوال آیا ۔
” فرح نماز کیوں پڑھتی ہے ” اور اس سوال کے جواب میں ایک منتق کا حوالہ دیا تھا ۔
اسکے بعد موقع نہیں ملا تفصیل سے بات ہو ۔
آج پھر سے دل نے طلب کی مزید جاننے کی
بے شک اللہ جسے چاہتا ہے اسکے دل میں طلب ڈال دیتا ہے ۔
فرح نماز سے فارغ ہوئی پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔
” یا اللہ تو بہتر پردہ فرمانے والا ہے ۔ میرے ماضی پر ہمیشہ پردہ ڈال کر رکھنا ۔ مجھے دنیا کے سامنے رسوا نا کرنا ۔ اللہ میرے ماضی سے کوئی زرا بھر مٹی بھی لوگوں کو نا دے دینا جو میرے اوپر کیچر بن کر اچھلے ۔ میری پردہ پوشی کرنا بے شک تو سب کی پردہ پوشی فرمانے والا ہے ۔ ” مکمل وثوق اور دل سے نکلی دعا فرح کی آنکھوں سے آنسو بھی بہا لے گئی ۔
ایک عجیب سا ڈھرکا تھا ۔
اسکا ماضی کہیں مستقبل پر حاوی نا ہو جائے
وہ کتنی ہی دیر آہ و زاری کرتی رہی
رب کے حضور آنسووں سے دعائیں کرتی رہی ۔
اور ٹریسا ہر بار کی طرح اس بار بھی ٹرانس کی کیفیت میں فرح کی پشت دیکھتی رہی ۔
فرح نے دعا مکمل کی ۔ دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے ۔ آنسو اب آنکھوں میں جمع تھے ۔
پھر جائے نماز طے کرتے پلٹی تو ٹھٹک گئی ۔
ٹریسا کب آئی اسے معلوم نا ہوا ۔
فرح نے تیزی سے آنسو پونچھے ۔
اپنے آنسووں کو پابند بنا لیں کہ یہ صرف اللہ سے بات کرتے ہوئے ہی نکلے ۔ لوگوں کے سامنے بہاو گے تو فقط تماشہ ہی بنے گا ۔
ان کی کوئی وقعت نہیں رہ جائے گی ۔ یہ بے مول ہو کر پانی کی طرح بہہ جائیں گے ۔ لوگوں کو اپنی دلچسپی کے لیے تمھاری دھکتی رگ مل جائے گی ۔
” ہماری بات اس روز ادھوری رہ گئی تھی ۔ ” ٹریسا نے بات کا آغاز کیا ۔
فرح کو ٹریسا کے لب ہلتے دکھائی دیے مگر اسکی بات سنائی نا دی ۔ پھر خیال آنے پر اپنا حجاب ڈھیلا کیا اور کانوں میں لگی روئی باہر نکالی ۔ روئی کی چھوٹی بال جو دونوں کانوں میں ڈال رکھیں تھیں ۔
” یہ کیا ہے فرح ۔ تم نے کانوں میں کاٹن کیوں ڈال رکھی تھی ” ڑریسا نے اچھنبے سے پوچھا ۔
” خود پر رحم کرنے کے لیے ۔ آج میں اپنے کانوں پر رحم کروں گی تو قیامت والے دن یہ مجھ پر رحم کریں گے میری شکایت نا کر کے ۔ ” فرح نے الماری پر رکھا قران پاک اتارا اور عقیدت سے چوما ۔
” کیا مطلب ؟” ٹریسا اسکی بات سمجھی نہیں تھی ۔
فرح مسکرادی پھر بیڈ پر بیٹھ کر قرآن پاک کھولا ۔
اور ایک آیت کا ترجمہ باآواز پڑھا
” اور بعض آدمی ایسا ہے جو ان باتوں کا خریدار بنتا ہے جو غافل کرنے والی ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بے سمجھے بوجھے گمراہ کرے اور اس کی ہنسی اڑا دے، ایسے لوگوں کیلئے ذلت کا عذاب ہے(لقمان: ۶)” پھر ٹھہر کر ٹریسا کو دیکھا ۔
” پاس آو ۔” وہ جو دروازے پر ہی کھڑی تھی بلانے پر پاس جا کر بیٹھی ۔
” میں جانتی ہوں یہ کتاب تمھارے مسلق کی نہیں ہے ۔ ایسا میں یا تم سمجھتے ہیں مگر یہ کتاب ہر امت ہر مزہب اور بنی نوح کی اصلاح کے لیے اتاری گئی ہے ۔ اس کتاب سے صرف مسلمان نہیں غیر مسلم بھی مستفید ہو سکتا ہے ۔ ہر کوئی اس سے اپنی حیثیت اور طلب کے مطابق فائدہ لے سکتا ہے ۔
ابھی جو آیت میں نے پڑھی تھی اس میں ایسے لوگوں کے لیے زلت اور گناہ کا وعدہ کیا ہے جو گمراہ کرنے کا سامان خریدتا ہے اور لوگوں کو بھی بیچتا ہے ۔ یہاں گمراہ کرنے والا سامان گانا سننا اور بجانا ہے ۔ گانا یا موسیقی ایسی چیز ہے جو انسان کو گمراہ کرتی ہے ۔ اسکے دل میں بے حیائی ڈالتی ہے ۔ اسکے زہن کو بھٹکاتی ۔ گانے کے الفاظ نفاق پیدا کرتے ہیں ۔ انسان غیر اللہ کی جانب راغب ہوتا ہے ۔ میرے اللہ نے ایسے لوگوں کے لیے سخت عزاب رکھا ہے ۔ جہنم کا عزاب رکھا ہے ۔ موسیقی میرے کانوں پر حرام قرار دی گئی ہے ۔ آج میں اپنے کانوں کو موسیقی سے دور رکھ کر ان پر رحم کروں گی تو قیامت والے دن یہ اللہ سے میری شکایت نہیں کریں گے ۔ یہ بھی مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کہ قیامت والے دن ہماری جسمانی اعضا بولیں گے ۔ آنکھیں کہیں گیں انسان مجھے بے حیائی دکھاتا رہا ۔ زبان کہے گی یہ مجھ سے بے حیائی کی اور غلط بات کہلواتا رہا ۔ کان کہیں گے یہ ہمیں حرام سناتا رہا ۔ ان شارٹ ہر وہ عضا جس کے زریعے ہم گناہ کا کام کرتے ہیں قیامت والے دن گواہی دے گا ۔
جب مجھے یہ سب معلوم ہے مجھے مکمل یقین ہے تو کیوں نا میں خود کو بعض رکھوں ۔ میں آج خود کو دنیا کی موسیقی سے دور رکھوں گی تو کل کو انشاللہ میری سماعت جنتی موسیقی سے گونجے گی ۔ وہ اس موسیقی سے بہتر ہوگی ۔ ” فرح نے ٹریسا کا ہاتھ پکڑ رکھ تھا اور اسکی پشت پر اپنا انگوٹھا مسلے اپنے مخصوص ٹھہر ٹھہر کر بولنے والے انداز میں سمجھا رہی تھی ۔
وہ ہر الفاظ مکمل ادا کرتی تھی ۔
کوئی جلد بازی نہیں
یہ ہی وجہ تھی ٹریسا کو سکون ملتا تھا فرح کی باتیں سننے کا ۔
” چونکہ تم کرسچن ہو ۔ تمھاری ریلیجن میں قرآن کو نہیں مانا جاتا ۔ مگر گانا گانا یا سننا کیوں منع ہے اسکا جواب سائنسی رو سے بھی دے سکتی ہوں ۔ ” فرح نے اسے آفر کی تھی ۔
ٹریسا پھیکا سا مسکرائی ۔
” میں یہ جواب بعد میں لینا چاہوں گی ۔ ابھی مجھے وہ بات مکمل کرنی ہے جو نماز کے متعلق ادھوری رہ گئی تھی ۔ ” ٹریسا نے مطالبہ کیا تو فرح مسکرادی ۔
” مجھے خوشی ہوئی تمہیں میری باتیں یاد ہے ۔ مجھے خوشی ہوئی تم نے خود مطالبہ کیا ۔ سیکھنے کی سب سے بڑی شرط طلب ہوتی ہے ۔ اگر تم طلب رکھتے ہو تو یقینا تمھارے لیے سیکھ بھی رکھی گئی ہے ۔ میں اب آتی ہوں موضوع کی طرف ۔ نماز کیوں پڑھی جاتی ہے ۔ اس جواب کی دوسری منطق میں نے باطنی کہا تھا ۔
ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ۔ باطنی اور ظاہری ۔
ظاہر وہ جو سب کے سامنے ہے ۔
تم دیکھتی ہو کہ میں ظاہری طور پر کیسی ہوں
مگر تم میرا باطن نہیں دیکھتی ۔
ہر انسان ایک دوسرے کا ظاہر دیکھ سکتا ہے ۔
میرا اللہ اس بات پر قادر ہے کہ باطن بھی دیکھتا ہے ۔
باطن ہماری زات کا پوشیدہ حصہ ہے ۔
ہم سوچتے ہیں کہ لوگ دیکھ رہیں ہیں سو اپنا ظاہر بہتر بناو مگر لوگوں سے پہلے اللہ دیکھ رہا ہے ۔ وہ ، وہ دیکھتا ہے جو لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ اور اللہ ہمارے ظاہر سے زیادہ باطن کو دیکھتا ہے ۔
ہمارے اعمال ظاہر کا حصہ ہیں جبکہ نیت باطن کا حصہ ہے ۔
مجھے ظاہری طور پر اچھے ہونے کا کوئی فائدہ نہیں جب تک میرا باطن بھی اچھا نا ہو ۔
اب زکر کریں نماز کا تو نماز میرے ظاہر کے ساتھ باطن کو بھی اچھا بناتی ہے ۔ یہ مجھے سکھاتی ہے میں اپنے باطن کو ہمیشہ پاک رکھوں ۔
نماز میرے باطن کے سب سے اہم حصے نفس کو قابو رکھنے میں مدد کرتی ہے
اللہ سورت عنکبوت کی آیت نمبر 45 میں فرماتا ہے
” بے شک نماز روکتی ہے بے حیائی اور بڑائی سے ۔ “
بے حیائی کا تعلق عموما ہمارے باطن سے ہوتا ہے ۔ ہم لوگوں کے سامنے ظاہر کرتے ہیں بہت پرسا ہیں ۔ مگر باطن اسکے متضاد ہوتا ہے ۔
یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ عمل کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور نیت کا تعلق باطن سے ہوتا ہے ۔
میں ظاہری طور پر جتنے بھی سجدے کر لوں وہ بیکار ہیں جب تک میری نیت اور باطن بھی میرے ظاہر کے تابع نا ہو۔
نماز کا باطنی فوائد یہ ہے کہ یہ مجھے ظاہری ہی نہیں باطنی طور پر بھی برائی سے روکتی ہے ۔
یہ میرے باطن کو پاک رکھتی ہے
یہ ہر اس برائی اور گناہ کو مجھ سے دور رکھتی ہے جو باطنی طور پر سر زد ہوتے ہیں ۔
یہ میرے باطن کو مضبوط کرتی ہے ۔
یہ میرے ظاہر کے ساتھ باطن کو بھی فلاح کی طرف بلاتی ہے
ازان کے الفاظ ” حی الفلاح ” یعنی آو کامیابی کی طرف سے مراد یہ نہیں کہ میں ظاہری یا جسمانی طور پر ہی کامیابی کی طرف بڑھوں بلکہ دلی و باطنی طور پر کامیابی کی طرف بڑھوں ۔ “
باہر شہر پر رات آہستہ پھگل رہی تھی ۔ سیاہ رات جو اپنے اندر کئی راز دفن کرتی تھی ۔ سیاہ رات جو برائی کو چھپاتی تھی ۔
فرح نے بات ختم کر کے ٹریسا کے چہرے کو دیکھا جو دمک رہا تھا ۔
” میں امید کرتی ہوں میری باتیں سمجھ پا رہی ہوگی ۔ ” فرح کے کہنے پر ٹریسا نے زرا سا گڑ بڑا کر اسے دیکھا ۔
” میں سمجھ گئی ۔ بعض اوقات ہمارا ذہن پہلی بار میں بات کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے ۔ اسکے لیے چاہیے بار بار اس چیز کے بارے میں مختلف زریعے سے جاننے کی کوشش کریں ۔ کوشش جاری رکھو ایک روز ضرور سمجھ جاو گی ۔ اب رات ہو گئی ہے ۔ یہ بہتر ہوگا کہ کل ایک نئے دن کے آغاز کے ساتھ اس بارے میں مزید جاننے کی کوشش کرو ۔ میں تمہیں اتنا ہی بتا سکتی ہوں جو میرا ناقص علم جانتا ہے ۔ یہ تمھارے ہاتھ میں ہے کہ تم مزید کتنا جاننا چاہتی ہو ۔ اتنا کہ تمھارے ڈاوٹس کلیئر ہو جائیں ۔ ” فرح نے کہا تو ٹریسا نے اس الماری کی طرف دیکھا جہاں کتابیں رکھیں تھیں ۔
” مجھے کتابیں دے دو کچھ ۔ یہ اچھا رہے گا کہ میں خود ان کتابوں کو سٹاڈی کر کے اپنے سوالوں کے جواب جاننے کی کوشش کروں ۔ ” ٹریسا نے مطالبہ کیا تو فرح مسکرادی ۔
” یہ کتابیں تو محض کچھ حصہ ہیں ۔ تمھارے جواب ان سے مکمل طور پر واضح نہیں ہوں گے ۔ “
” تو پھر ۔؟ ” ٹریسا نے اسے سوالیہ دیکھا ۔
” میں نے کہا یہ تمھارے ہاتھ میں ہے کہ تم مزید کتنا جاننا چاہتی ہو ۔ غور کرو تمھارے ہاتھ میں کیا ہے ۔ ” فرح نے ٹریسا کی ہتھیلی پر انگلی بجائی ۔
وہ سمجھ نا سکی ۔
” تمھارے ہاتھ میں قسمت ہے کہ تم کتنا جاننا چاہو گی ۔ اگر تمھاری قسمت میں کم جاننا لکھا ہے تو ہاتھوں کو اٹھاو اور دعا کرو ۔ جستجو کرو ۔ طلب کرو ۔ بے شک اللہ قادر ہے وہ تمھاری قسمت میں مزید جاننا لکھنے پر ۔
اور جاننا کے لیے زریعہ ہونا ضروری ہے ۔
انسان پر الہام نہیں ہوتے ۔
پیاسہ خود چل کر کنویں کے پاس جاتا ہے
اگر تم میں جستجو ہے تو ذریعہ کی طرف تم نے خود جانا ہے ۔
اور اس وقت تمھارے ہاتھ میں بہترین زریعہ موبائل ہے ۔ ” وہ ایک لحظہ کو ٹھہری ۔
” آج سائنس بہت ترقی کر چکا ہے ۔ اور کمپیوٹر سائنس کی سب سے بڑی ترقی گوگل ہے ۔ موبائل میں شامل ایک ایسا پلیٹ فارم جو ہر طرح کی معلومات فراہم کرتا ہے محض چند سیکنڈز میں ۔ میرے پاس یہاں دس کتابیں ہیں مگر تمھارے ہاتھ میں موجود سینکڑوں کتابیں ہیں ۔ تم سرچ بار پر محض اپنا سوال لکھوں اور اس سے متعلق سب معلومات تمھارے سامنے ہونگی ۔ تم یوٹیوب کھولوں اور متعلقہ سوال لکھوں ۔ اس بارے میں کئی ویڈیوز آئیں گی ۔ مختلف لوگوں کی ۔ کیا یہ موبائل علم کا خزانہ نہیں جہاں ایک ساتھ اتنا کچھ فراہم کر دیا گیا ۔
یہاں تمہیں قران کی ہر آیت کا ترجمہ ملے گے ۔ تفسیر ملے گی ۔
ہر موضوع پر جامع تفصیل ملے گی ۔
اور یہاں غلط موضوعات بھی ملے گے۔
اللہ نے انسان کو عقل دی ۔
یہ انسان پر منحصر ہے وہ عقل کو کیسے استعمال کرتا ہے
موبائل کے اچھے پہلو بھی ہیں اور برے بھی
ناو اٹس اپٹو یو تم اسکا استعمال کیسے کرتی ہو ۔
موبائل بزات خود ایک بری چیز نہیں ہے ۔
چاہو تو نامناسب چیزیں دیکھ کر اسے خود کے لیے برا بنا لو ۔
چاہو تو اچھی باتوں کے بارے میں جان کر اسے خود کے لیے اچھا بنا لو ۔ ” وہ مسکرا کر کہتی ایک ایک لفظ ٹریسا کے دل میں اتار رہی تھی ۔ ٹریسا نے اطمینان بھرا سانس لیا پھر اٹھ کھڑی ہوئی
” شب بخیر فرح ۔ ” دروازے پر کھڑے ہو کر کہا اور باہر نکل گئی ۔
فرح بھی مدھم سا مسکرائی ۔
” اللہ اگر تو نے میرے زمہ کسی کی حدایت کا سامان رکھا ہے تو مجھے اس میں کامیاب کرنا ۔ ” دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے پھر قرآن پاک کھول لیا ۔
سورت نسا نکالی
اور پڑھنا شروع کی
اسے اچھا لگتا تھا وہ احکام و یدایتیں پڑھنا جو اسکی زات کے لیے لکھی گئیں تھیں ۔
وہ ہر بار قرآن پڑھتے ہوئے محسوس کرتی تھی کہ صرف اس سے ہی مخاطب ہوا گیا ہے ۔
اسکے نفع نقصان کی ہدایتیں بیان کی گئیں ہیں ۔
اسکے حقوق و فرائض کا زکر کیا گیا ۔
قرآن کا ہر قاری خوش قسمت ہے کیونکہ یہ واحد کتاب ہے جسے پڑھنے والا ہر فرد اسے اپنی سوچ اور حیثیت کے مطابق سمجھتا ہے ۔ یہ فرد کے لیے ایسے ہے جیسے خاص اسکے لیے ہی اتارا گیا ہو ۔ ۔
نیچھے ہال میں پارٹی جاری تھی ۔
ایک رنگین رات آہستہ آہستہ اختتام کو پہنچ رہی تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
اگلی صبح شہر پر سرد طلوع ہوئی تھی ۔
کاروباری زندگی معمول کے مطابق چہل پہل کر رہی تھی ۔
وہ شاہ بزنس ٹائیکون کی نئی عمارت تھی جو کچھ دن پہلے ہی مکمل ہوئی تھی ۔
آج نئے آفس کا افتتاح تھا ۔
افتتاح کے بعد میٹنگ روم میں بورڈ میمبرز کی میٹنگ تھی ۔
دیوار پر چلتے سلائڈ کے سامنے شہوار شاہ کھڑا تھا ۔ ہمیشہ کی طرح با رعب ۔ با اعتماد اور شاندار شخصیت کا مالک
ڈارک گرے کلر کا سوٹ پہنے وہ بہت پر کشش لگ رہا تھا ۔
وہ نہایت اعتماد کے ساتھ بولتا وہاں بیٹھے لوگوں سے اپنا موقف بیان کر رہا تھا ۔ خود اعتمادی لہجے کی پختگی اور الفاظ کا چناو یہ وہ سب عنصر تھے جو بورڈ میمبرز کو اسکا قائل کر رہے تھے ۔
میٹنگ ختم ہوئی
وہ کامیاب رہی تھی ۔
آخر میں شہوار نے آدم سے کہا وہ میٹنگ کے فائنل پوائنٹ واضغ کر دے ۔
اب شہوار کی جگہ آدم کھڑا تھا ۔
میٹنگ کا آخری مرحلہ بھی مکمل ہوا ۔ بورڈ میمبرز چلے گئے
آدم شہوار کی طرف متوجہ ہوا جو کرسی پر کھوئے سے انداز میں بیٹھا تھا ۔
اسکی سوچین کہیں اور ہی پرواز کر رہی تھیں ۔
” کسے سوچ رہے ہو ۔ ؟ ” آدم نے اسکے قریب ٹیبل پر انگلی بجائی تو شہوار ہوش میں آیا پھر مدھم سا مسکرا دیا ۔
” آدم وہ لڑکی میرے حواسوں سے جاتی ہی نہیں ہے ۔ ” وہ عجیب مخمصے کی کیفیت میں بولا تھا ۔
” میں اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتا مگر لگتا ہے بہت پرانا تعلق ہو ۔ ” وہ بار بار بائیں ہاتھ کی آخری انگلی میں پہنی انگوٹھی گھماتا ۔ سبز رنگ کا پلیٹینیم میں جڑا مرکت پتھر اسکی انگلی میں بہت جچتا تھا ۔
جیسے اسکے لیے ہی بنا ہو ۔
” میں تمھارے لیے اسے تلاش کر لوں مگر کوئی کلیو تو ہو ۔ نا نام پتا ہے نا ہی چہرے سے پہچان ہے ۔ ” آدم نے الجھن سے کہا تو شہوار مسکرا دیا ۔
” کیا تم دعاوں پر یقین رکھتے ہو ۔ جب کوئی اشارہ نا مل رہا ہو ۔ تب صرف صدق دل سے دعا کرو ۔ اللہ اسباب خود بنا دے گا ۔
میری اللہ سے یہ ہی دعا ہے اگر وہ لڑکی میرے لیے بنائی گئی ہے تو ہمارے ملنے کا اسباب پیدا کر ۔ اگر نہیں تو میرے دل سے اسکا خیال نکال دے ۔ ” وہ اپنی آجکل کی جانے والی دعا کا زکر کرتے ہوئے بولا ۔
” آمین۔” آدم نے مسکرا کرکہا اور ٹیبل سے میٹنگ کے ہارڈ فارم میں لکھے پوائنٹس سمیٹنے لگا ۔
” اب تم بھی اپنے بارے میں سوچ لو ۔ کب تک اکیلے رہنے کا ارادہ ہے ۔ ” شہوار کے کہنے پر آدم جھینپ کر مسکرایا ۔
” جب قسمت میں ہوگا ۔ ابھی میرا اس سب سے دور رہنے کا ہی ارادہ ہے ” آدم دونوں ہاتھ اٹھاتے بولا تو شہوار ہنس دیا ۔
” اللہ نے انسان کو مکمل نہیں بنیایا ۔ انسان کو ادھورا رکھ کر اسکا دوسرا حصہ کسی اور زات میں رکھ دیا ۔ یہ اللہ کی ہی طرف سے ہے جب انسان شدت سے اپنی زات کا دوسرا حصہ پانے کی کوشش کرتا ہے ۔ آدم مجھ پر وہ شدت حاوی ہو رہی ہے ۔ اب لگ رہا ہے ادھورا رہنا مشکل ہے ۔ ” وہ آدم پر اپنے دل کی کیفیت آشکار کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا
” یو آر ان لو ۔ ” آدم بھی اسکے پیچھے باہر نکلا ۔
” اگر ایسا ہے تو اللہ میری محبت کو حلال بنائے ۔ میرے دل میں اسی عورت کی محبت ڈالے جسے وہ میرے لائق بہتر سمجھتا ہے ۔ ” کاریڈور میں رک کر شہوار نے مضبوط لہجے میں کہا پھر تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھ گیا ۔
آدم وہیں کھڑا رہا
دفعتا اسکا فون بجا ۔
” یس باس ۔ ” کال پک کر کے وہ عجلت سے بولا تھا ۔
” کیا خبر ہے آج کی میٹنگ کے باری میں ” دوسری طرف گھمبیر آواز ابھری۔
” ہمیشہ کی طرح کامیاب مگر ڈیل فائنل نہیں ہوگی ۔ ” آدم نے دوسری طرف یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ۔
” گڈ ایسے ہی شہوار کے دل میں اعتماد قائم رکھو ۔ وقت آنے پر وہ دیکھے گا کہ حد سے زیادہ کسی پر بھروسہ کیسے انسان کو منہ کے بل گراتا ہے ۔ ” ایک زور دار قہقہے کے ساتھ کال کٹ ہو گئی ۔
وہ ناصر ملک تھا ۔
شاہ بزنس ایمپائر کا مخالف ۔
آدم کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ ڈوری ۔ پھر موبائل رکھتے ہوئے وہ بھی آگے بڑھ گیا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے ۔
