Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249

Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249

Last updated:

0.0(0 ratings)
Episodes
61
Views
51.4K
Status
—

About this novel

Aatishe Isqam

By Hira Shah

عصر کی اذانوں نے فظا کو معطر کیا
نمازی نماز کے لیے کھڑا ہوئے
سیاہ شلوار کمیز پہنے وہ بھی جماعت میں شامل ہوا
اس نے سیاہ ہی چادر اوڑھ رکھی تھی ۔
ہمیشہ کی طرح دربار کا ماحول سکون دینے والا تھا
نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ امام صاحب کے گرد بیٹھ گئے
” آج کا موضوع گفتگو زکر ہے ” امام صاحب نے بتایا
سیاہ چادر اوڑھے سلار کو اپنے اندر سے درویش کی صدا آئی
وہ اللہ اللہ پکار رہا تھا
” زکر کے لغوی معانی ہیں یاد کرنا ۔ بیان کرنا ۔ چرچہ کرنا ۔ زکر الہی سے مراد زبان پر اللہ کا نام رکھنا ۔ اسکی وحدانیت بیان کرتے رہنا
زکر کی دو اقسام ہیں
۱۔ ذکر لسانی
۲۔ ذکر قلبی
ذکرِ لسانی میں انسان اپنی زبان سے ذکر شروع کرتا ہے اورپھر ایسا وقت آجاتا ہے کہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے ہر وقت تر رہتی ہے۔ یہ جس کو نصیب ہوجائے وہ نہایت ہی خوش نصیب انسان ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولِ مقبولﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہر وقت اس زمین پر ہر شخص پر برس رہی ہیں۔ مگر اس سے بڑھ کر کسی دوسرے پر نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اپنی یاد کی توفیق دیدے۔
ذکرِ قلبی اگلی منزل ہے۔ جس میں زبان سے ذکر ہو یا نہ ہو اس کا دل ہر وقت ذکر میں مشغول رہے۔ یہ حالت انسان کے لیے اصل نصیب کی بات ہے۔ہاتھوں سے کام کرے، پاؤں سے چلے، یہاں تک کہ زبان سے کلام کرے مگر اس کا دل ہر وقت خدا کی یاد میں دھڑکتا رہے۔ یہ کیفیت صرف بہت اعلیٰ نصیب والوں کو ہی ملتی ہے۔
اللہ نے قرآن پاک میں کئی مقام پر زکر الہی کا حکم دیا ہے ۔ اسکی اہیمیت اور فضیلت بیان کی ہے ۔ اس حوالے سے چند آیات بیان کرتا ہوں
1۔ فَاذْکُرُوْنِيْٓ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِيْ وَلَا تَکْفُرُوْنِo
(البقرۃ، 2 : 152)
’’سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کروo‘‘
2۔ فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْکُرُوا اللهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِکُمْ۔
(النساء، 4 : 103)
’’پھر اے (مسلمانو!) جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہر حال میں) یاد کرتے رہو۔‘‘
3۔ یٰـٓاَیُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللهَ کَثِيْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo
(الأنفال، 8 : 45)
’’اے ایمان والو! جب (دشمن کی) کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہا کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤo‘‘
4۔ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُھُمْ بِذِکْرِ اللهِ ط اَلاَ بِذِکْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُo
(الرعد، 13 : 28)
’’جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہےo‘‘
5۔ وَلَذِکْرُ اللهِ اَکْبَرُ ط وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَo
(العنکبوت، 29 : 45)
’’اور واقعی اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ ان (کاموں) کو جانتا ہے جو تم کرتے ہوo‘‘
6۔ یٰٓـاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللهَ ذِکْرًا کَثِيْرًاo وَّسَبِّحُوْهُ بُکْرَةً وَّاَصِيْلًاo
(الأحزاب، 33 : 41)
’’اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کروo اور صبح و شام اسکی تسبیح کیا کروo‘‘
7۔ یٰـٓاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللهِ وَ ذَرُوا الْبَيْعَ ط ذٰلِکُمْ خَيْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلوٰةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْکُرُوا اللهَ کَثِيْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo
(الجمعۃ، 62 : 9، 10)
’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن (جمعہ کی) نماز کے لیے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر (یعنی خطبہ و نماز) کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خرید و فروخت (یعنی کاروبار) چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہوo پھر جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ اور (پھر) اللہ کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرنے لگو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پاؤo‘‘
بات کرتے ہیں سب سے بہترین زکر کی تو حدیث مبارکہ کے مطابق سب سے افضل ذکر ”لا إلٰہَ إلا الله“ ہے۔
زکر کے بہت سے فوائد ہیں
اس سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے
انسان کا دل مضبوط ہوتا ہے
دل میں خوف خدا پیدا ہوتا ہے
دل میں برائی یا وسوسے جگہ نہیں بناتے
شیطان دل تک رسائی نہیں حاصل کر پاتا
انسان کی زبان ہر وقت پاک رہتی ہے۔۔۔ ”
امام صاحب مزید بیان کر رہے تھے کہ سلار اٹھ کھڑا ہوا
وہ اس مقام پر آ بیٹھا جہاں درویش بیٹھتا تھا
یعنی اسکا ضمیر
وہ سر جھکا کر کچھ لمحے بیٹھا پھر سر کو ہلکی سی جنبش دیتے ہوئے اللہ اللہ کی صدا بلند کرنے لگا
دربار کی ہوا یک دم سلار کو فسوں میں گھیرتی محسوس ہوئی
وہ جتنا زکر کرتا جاتا اتنا فسوں بڑھتا جاتا
یہاں تک کہ سر کی جنبش میں تیزی آگئی
ارد گرد کی آوازیں معاوف ہو گئیں
اسکے اندر باہر صرف ایک ہی آواز تھی
اللہ اللہ اللہ اللہ

 

Episodes

Episode 1

از قلم ۔ حرا شاہ
قسط نمبر 1
وہ دسمبر کی یخ بستہ رات تھی ۔
رات جب زی نفس اپنے کمروں میں کمبل میں دبکے آرام دہ نیند لے رہے تھے وہیں وہ اس کشادہ مگر سنسان سڑک پر مزے سے جھومتی چلتی جا رہی تھی ۔
رات کا پچھلا پہر تھا غالبا ۔
وہ وقت جگہ اور موسم کا لحاظ کیے بنا ہی دونوں ہاتھ کوٹ کی جیبوں میں ڈالے دھیمے سے گنگناتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی ۔
اسنے ٹخنوں تک آتا زرد فراک پہن رکھا تھا ۔ سادہ سا فراک تھا جس کا گھیراو زیادہ نا تھا ۔
اسکے اوپر سیاہ رنگ کا کوٹ پہن رکھا تھا ۔
ہوائیں اسکے چہرے پر دونوں اطراف بال گرا رہیں تھیں۔ وہ کمر سے نیچے تک لمبے تھے ۔ گہرے سیاہ بال جو کہ کندھوں تک سیدھے تھے مگر اس سے نیچے گھنگھریالے ہو جاتے تھے ۔ اسکی آنکھیں بھی ویسی ہی تھی ۔ سیاہ
گہری ۔ دلکش اور چمک دار ۔
ایک بنگلے کے سامنے اس نے قدم روکے ۔
بنگلے کے باہر کیاری بنی تھی جس میں گلاب کے مختلف رنگ کے پھول کھلے تھے مگر اندھیرے میں ہر رنگ ہی نیلگوں سا گماں دے رہا تھا ۔
وہ قریب آئی اور ہاتھ میں نازک اندامی سے پھول کو پکڑا ۔
نرم پھول اسکے نرم و ملائم ہاتھوں کو گداز لمس بخشنے لگا ۔
اسنے سانس اندر اتاری ۔
گلاب کی مخصوص خوشبو سانسوں کے زریعے اسکے بدن تک اتر گئی ۔
وہ کتنے ہی لمحے گلاب کی خوشبو سے اپنی روح کو فرحت بخشتی رہی ۔
اچانک کسی خیال کے تحت سیدھی ہوئی ۔
سڑک پر پیچھے کو گئی اور بنگلے کو بغور دیکھا ۔
اندھیرے میں رنگ معلوم نا ہوتا تھا مگر اسکی نظریں بہت تیز تھیں ۔ وہ سرمائی رنگ کے مختلف شیڈز والی دیواروں اور ٹائلوں سے آراستہ بنگلہ تھا ۔
لڑکی نے دیکھتے دیکھتے ہی گھر کا بیرونی نقشہ زہن میں مقید کر لیا ۔
ہوا کے باعث بال ایک بار مزید اڑ کر منہ پر آئے تو انگلی کی مدد سے پیچھے کیے اور اگلے ہی لمحے مسرور سی ہنسی ہنس کر آگے بڑھ گئی ۔
وہ پھر سے گنگناتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی ۔
ایک رتی بھر بھی نظر کسی دوسرے گھر یا بنگلے پر بھی نا ڈالتی تھی ۔
اسکی نظریں تو بن دیکھے بھی سرمائی بنگلے پر ہی جم چکی تھیں ۔
وہ ایسی ہی تھی جو چیز پہلی ہی بار میں زہن میں نقش چھوڑ جائے اسکی آنکھوں کو خیرہ کر دے یا اسکی توجہ اپنی طرف کھینچ لے وہ اسکی چاہت بن جاتی تھی اس چیز کو حاصل کرنا اسکا جنون بن جاتا تھا ۔
وہ وسعت سڑک میں دونوں بازوں کھول کر قدموں پر مکمل گھومی ۔
یخ بستہ ہوائیں اور موسم کی سختی اس پر اثر انداز نہیں ہو رہی تھی ۔
نیلگوں روشنی میں پریشال چلتی ہوئی اسکا ہی حصہ لگ رہی تھی ۔ دفعتا وہ ایک موڑ مڑی اور گویا ہوا میں کہیں غائب ہو گئی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
نشے سی چڑھ گئی اوئے
کڑی پتنگ سی لڑ گئی
پتنگ سی لڑ گئی اوئے
کڑی نشے سی چڑھ گئی ۔
اس کمرے میں سماعت کو تباہ کر دینے والی آواز میں میوزک بج رہا تھا ۔
مناسب سائز کے اس کمرے میں دو بوفر رکھے تھے جو چھ گھنٹے سے گلا پھاڑ کر گا رہے تھے جبکہ وہ پانچ لڑکے دھت ہوئے پڑے تھے ۔
ڈانس کر کے اور ڈرنک کر کے جب تھکن سے چور ہو چکے تو فرش پر جو جہاں تھا وہیں ڈھے گیا ۔
کسی کی ہمت نا تھی کہ میوزک کی آواز کم کردے ۔
زمین پر جا بجا کھانے کے پیکٹ پڑے تھے جو اس طرح بکھرے تھے کہ اگر مرغیوں کے ڈربے میں رکھے جاتے تو زیادہ نفاست سے پڑے ہوتے ۔
ایک جانب شراب کی بوتلیں لڑکھیں پڑی تھی ۔ جلتی بجھتی سگریٹوں کا ڈھیر بھی پاس ہی بکھرا پڑا تھا ۔
پاس ہی لڑکا بیٹھا آنکھیں بند کیے منہ میں گانے کے الفاظ بڑبڑائے جا رہا تھا ۔
دو لڑکے اسکے قدموں میں اونڈھے منہ لیٹے ہوئے تھے ۔
چوتھا لڑکا دائیں دیوار کے پاس پڑا تھا جبکہ پانچواں ٹیک لگاکر بیٹھا تقریبا ساتھ والے کی ٹانگوں میں گرا پڑا تھا ۔
وہ پانچ مکمل طور پر اپنے وجودوں سے بیگانہ معلوم ہوتے تھے سوائے ایک کے ۔
وہ دروازے کے سامنے بیٹھا تھا ۔
اسکی آنکھیں مکمل کھلی تھیں۔
ہیزل رنگ کی آنکھیں جس کی رگیں نشے کی زیادتی کے باعث پھولی ہوئیں تھیں مگر وہ پورے ہوش و حواس میں تھا ۔
باقی لڑکوں کو دیکھتے ہوئے اسنے ناگواریت سے سر جھٹکا ۔
تیز میوزک اسکی سماعت پر اثر انداز نہیں ہو رہا تھا ۔
وہ اس سے بھی زیادہ تیز آواز با آسانی سن سکتا تھا حالانکہ آواز تو اتنی تھی کہ ایک ہوش مند انسان کے کانوں سے خون بہہ پڑے ۔
مگر اس وقت تو نشے کی زیادتی کی وجہ سے اسکی ناک سے خون بہہ رہا تھا ۔
لڑکے نے انگلی کی پور سے خون کا قطرہ اٹھایا اور نظروں کے سامنے لایا ۔ پھر استہزائیہ انداز میں دیکھتے ہوئے پھونک مار کر ہوا میں اڑا دیا ۔
ایک بار مزید باقی لڑکوں کو دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔
اتنا نشہ کرنے کے باوجود بھی وہ لڑکھڑایا نہیں تھا۔
آرام سے بنا ڈولے دروازہ کھولا ۔
” بلیڈی بورنگ پاڑتی ۔ ” لڑکوں کی طرف منہ کر کے تھوکا جس میں خون بھی شامل تھا اور دروازہ ڈھار کر کے بند کر دیا ۔
وہ پاڑتی بلکل بھی بورنگ نہیں تھی۔ ایک دھماکے دار پاڑتی جس میں میوزک ۔ ناچ گانا ۔ نشہ جات اور لڑکیاں تک بھی شامل تھیں ۔
کمرے میں تیز بجتا میوزک اور دھت پڑے لڑکے یونہی پڑے رہے ۔
دسمبر کی سرد راتوں میں سے وہ رات بھی آہستہ آہستہ ڈھل رہی تھی تاکہ اگلی صبح ابھر سکے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
” فرح ۔۔۔ فرحاااااااااااااااا” ٹریسا اپنی اونچا بولنے والی عادت سے مجبور اسے ہاسٹل میں آوازیں دیتی پھر رہی تھی ۔
” توبہ ہے ٹریسا ۔ کیوں صبح صبح کان کھا رہی ہو۔ فرح آپی اپنے کمرے میں ہی ہونگی نا ۔” ہاسٹل کے برآمدے میں رکھے صوفے پر دھری منال نوٹ بک سے سر ہٹاتے ہوئے بولی جس پر وہ سوچ سوچ کر کچھ لکھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
وہ درمیانے قد کی صحتمند لڑکی تھی ۔ چٹا سفید رنگ ۔ بال لڑکوں کے سٹائل میں کٹے ہوئے ۔ جینز اور سوئٹر پہنے وہ بلکل ٹوم بوائے لگتی تھی ۔ سرمائی رنگ کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی سی جو مسکراتے ہوئے تقریبا بند ہو جاتی تھیں ۔
” تم کیا لکھ رہی ہو ۔ ” ٹریسا اسکے ساتھ آکر دھڑام سے بیٹھی ۔
منال نا صرف اسکے بیٹھنے سے بلکہ اسکی اونچی آواز کی وجہ سے ڈر کر صوفے سے اچھلی ۔
” ٹٹ! ٹریسا اگر تم کالونی کے گیٹ پر بھی جاکر یہ سوال کرو تو مجھے سنائی دے گا ۔ تم پلیز پاس نا آیا کرو ۔ ” ہاتھ میں پکڑی نوٹ بک پوری قوت کے ساتھ ٹریسا کے منہ پر دے ماری ۔
” اچھا آئندہ سے کالونی کے گیٹ سے ہی تمہے آواز دوں گی ۔ مگر مجھے تمھاری آواز نہیں آئے گی سو مجھے قریب آنا ہی پڑے گا ! ” منال کی پھینکی گئی نوٹ بک واپس اسکی طرف اچھالتے ہوئے ٹریسا اسکے کان کے پاس آکر ڈھٹائی سے چلائی تھی اور رکے بنا فرح کے کمرے کی طرف بھاگ گئی ۔
” پھاٹا سپیکر ۔۔ بے سری کالی بد روح ” منال نے کانوں پر ہاتھ رکھ کر چند سعاتیں انکی سنسناہٹ دور کری جو سردی کے باعث کچھ زیادہ ہی محسوس ہوئی تھی پھر پوری قوت سے چلا کر ٹریسا کو القابات سے نوزا ۔
ٹریسا ایک سیاہ فام کرسچن لڑکی تھی ۔
سیاہ جلد سیاہ پھولے ہوئے گھنگھریالے بال اور سیاہ آنکھوں کے ساتھ واحد چیز جو سفید تھی وہ اسکے دانت تھے یا پھر وہ سفید کڑا جو اسکی کلائی میں جھولتا رہتا تھا ۔
اسکے کپڑے بھی سیاہ تھے اور بقول منال کے وہ کالی بد روح ہی لگ رہی تھی ۔
” چٹی کوی ۔” ٹریسا نے بھی اسے القاب سے نوازنا ضروری سمجھا تھا ۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو القاب نوازنا اپنا اولین فرض سمجھتی تھیں۔
ٹریسا دروازہ کھول کر فرح کے کمرے میں گھس گئی جبکہ منال منہ ہی منہ میں جگالیاں کرتی واپس نوٹ بک پر جھک گئی ۔
آج کل اسے ایک شوق چڑھا ہوا تھا ناول لکھنے کا ۔ وہ پین منہ میں ڈبائے خیالوں ، تاروں، سیاروں اور خلاوں میں جا چکی تھی ۔
نیچے گود میں پڑی نوٹ بک دو دن سے اس انتظار میں تھی کہ کب منال محترما اسکے سفید پنوں کو سیاہی سے سجائیں گیں ۔
ایک سائڈ پر لگے ہیٹر کے باعث گرماہٹ تھی ورنہ باہر کا موسم تو ٹھٹرانے والا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
کمرہ مدھم زرد روشنی میں ڈوبا تھا ۔
دیواروں کے رنگ و روغن سے وہ ایک نفیس قسم کے انسان کا کمرہ معلوم ہوتا تھا ۔ سادہ سا کمرہ جس کے بیڈ سے لیکر کھڑکیوں پر پڑے پردے بھی سادہ اور نفیس تھے ۔ سامنے والی دیوار پر خوبصورت کیلیگرافی میں مکمل بسم اللہ لکھی ہوئی سینری لگی تھی ۔
کھڑکی سے باہر نیلگوں اندھیرا روشن صبح میں بدل رہا تھا ۔
فظا میں موذن کی آزان کہتی پرلطف آوازیں گونج رہیں تھیں ۔
ایک جانب جہاں تیز موسیقی سن کر دل بہکائے جاریے تھے وہاں دوسری جانب آزان کے پرنور بول سے دل کو بہلایا جارہا تھا ۔
بیڈ کی ایک جانب پیچھے کر کے جائے نماز بچھا تھا ۔ سفید رنگ کے کرتا شلوار میں ملبوس وہ دو زانوں بیٹھا نماز ادا کر رہا تھا ۔
وہ شہوار شاہ تھا ۔
تیس سالا شہوار شاہ جس کے چہرے پر سنت نبوی سجی ہوئی تھی ۔ اسکی آنکھیں بھوری اور چمکدار تھیں ۔ چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ اور شفیف سا تاثر رہتا تھا ۔ بات کرتے ہوئے لہجا میٹھا اور انداز با زوق ہوتا تھا ۔
وہ بہار پیلس میں مقیم تمام لڑکوں میں سب سے بڑا تھا ۔
شہوار نے سلام پھیرا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ۔ نظروں کے سامنے ایک چہرا آیا ۔
” یا اللہ میں تجھ سے ہدایت مانگتا ہوں ۔ یا اللہ میں تجھ سے میرے اپنوں کے لیے ہدایت مانگتا ہوں ۔ یا اللہ میں تجھ سے جنت میں اپنوں کا ساتھ مانگتا ہوں ۔ مجھے اور میرے پیاروں کو اپنے راستے کی طرف موڑ دے ۔ راستہ جو سچا ہے ۔ راستہ جس پر تیرا انعام ہے ۔ مجھے وہ توفیق دے کہ تجھ کو راضی کر سکوں ۔ میرے پیاروں سے بھی راضی ہوجا ” مکمل وثوق کے ساتھ دعا کرتے شہوار شاہ کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے ۔
یہ خوبصورتی ہے انسان کے اللہ سے مانگے کی کہ بڑے سے بڑا انسان دو آنسو بہا کر بچے کی طرح بات منوا لیتا ہے اور اللہ تو ستر ماوں سے زیادہ چاہتا ہے وہ کیونکر اپنے بندے کی چاہت رد کرے گا جو بڑے لاڈ اور ضد سے کی گئی ہو ۔۔۔۔۔
شہوار نے جائے نماز تہہ کر کے سائڈ میں رکھا پھر خیال آنے پر کمرے سے نکلا ۔
خیال کسی اپنے کا ۔ پیارے کا ۔
اور شہوار شاہ کے پیاروں کی فہرست میں سب سے مقدم اور اول درجے پر ایک شخص موجود تھا جو اسکی دعاوں کا ہمیشہ حصہ رہتا تھا ۔ جو اس کی فکر کا محور رہتا تھا ۔
شہوار نے ایک دوسرے کمرے کا دروازہ بجایا ۔ کوئی جواب نہیں ۔
موصوف اب تک سو رہے ہیں ۔
خیال آنے پر وہ اندر بڑھ گیا ۔
اسے اندر سوئے انسان کو اٹھانا تھا نماز کے لیے ۔
اور صبح کی نماز کے لیے ہزار میٹھیں نیند بھی قربان کرنا پڑے تو غلط نہیں ۔
” بے شک نماز نیند سے بہتر ہے “
شہوار نے کمرے میں قدم رکھا جو اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔ ایک عجیب سی ناگوار بو نے اسکی سانسوں کا احاطہ کیا ۔ ایک لمحے کے لیے شہوار کا دماغ گھوم کر رہ گیا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ صبح سرد سی طلوع ہوئی تھی ۔
ایسے سرد موسم میں “بہار پیلس” سینٹرل ہیٹر کے باعث نرم گرم ماحول میں ڈھلا ہوا تھا ۔ خوبصورت بنگلے کے اندر آو تو وہ ایک فرہبہ مائل خاتون تھیں ۔ آف وائٹ کلر کی سادہ لانگ میکسی اور گلے میں موتیوں کی لڑی پہنے وہ بہت ڈیسنٹ سی معلوم ہو رہیں تھیں ۔ چہرے پر جھریاں نمایاں تھیں مگر رنگ و نقوش سے وہ ایک خوبصورت خاتون تھیں ۔
سٹیک کے سہارے چلتی ہوئیں وہ اپنے کمرے سے نکلی تو ایک ملازمہ ( کیٹھ ) با وردی ہاتھ باندھے سامنے کھڑی تھیں ۔
” صبح باخیر میڈم ” ملازمہ نے سر کو جھکاتے ہوئے صبح کا سلام پیش کیا ۔
خاتون نے مسکراکر ملازمہ کا سلام قبول کیا اور قدم آگے بڑھائے ۔ کیٹھ بھی ساتھ پیچھے ہو لی ۔
” میرے شہزادے اٹھ گئے ” خاتون نے دریافت کیا ۔
” نہیں میڈم ۔ ” عیسائی ملازمہ نے اطلاع دی ۔
” ہوں ۔ ہم دیکھتے ہیں ۔ آپ شیف کو کہہ کر ناشتہ لگوائیے ۔ ” کیٹھ حکم پاتے ہی فورا کچن کی طرف مڑ گئی جبکہ خاتوں نے رخ اپنے شہزادوں کے کمرے کی طرف کر لیا ۔
دروازہ کھول کر وہ اندر بڑھیں اور توقع کے مطابق ایک نفوس آڑھا ترچھا کمبل میں لپٹا بیڈ پر پڑا تھا ۔
کچھ دیر وہ بیڈ پے پڑے اپنے نالائق شہزادے کو دیکھتی رہیں پھر آگے بڑھیں اور سٹیک اٹھا کر زور سے کمبل پر ماری ۔
” اٹھ جائیں میرے نالائق پوتے ۔ دن چڑھ چکا ہے ۔ “
کمبل کے نیچے کوئی حرکت نہیں ہوئی ۔
” کسی نے سچ کہا ہے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ اور آپ بھی وہی بھوت ہیں ۔ ” انہوں نے ایک بار پھر سے سٹیک زور سے کمبل پر برسائی ۔
فائدہ نا ہوا تو مزید دو مرتبہ ہتھیار چلایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
” اولا ڈاڑلنگ اچھا سوری نا بابا ۔ میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ ” چٹی چٹاک نیلی آنکھوں والی اولا اپنے چار قدموں پر چلتی لان سے بہار پیلس کی اندرونی طرف آتے ہوئے نکھرا دکھانے میں مصروف تھی ۔ وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے خود کو نظر انداز کرنے والے کو ادھر ادھر گھما رہی تھی ۔
اولا کی خفگی عروج پر تھی ۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ اسے چھوڑ کر دوسری بلی کو پہلے پیار کر لیا گیا تھا ۔ یہ خوبصورت حسینہ کے حق پر ڈاکہ تھا ۔
اور اب اسے پورا حق تھا ناراض ہونے کا ۔
” تھیک ہے پھر جاو ۔ میں بھی بات نہیں کروں گا ۔ میں ٹویٹی کے پاس جا رہا ہوں ۔ ” الٹا چور کوتوال کو ڈانتے والی چال چلی گئی ۔
اور اولا کو جب قدم پلٹتے ہوئے سنائی دیے اور یقین ہو گیا کہ اسکے حصے کا پیار کسی اور بلی کو ملنے والا ہے تو ساری ناراضی پس پشت ڈال کر اسکی طرف بھاگی ۔
” میییی آووں ” تھوڑا کھینچ کے شکایتی انداز میں بولتی وہ اس کی ٹانگوں سے چمٹ گئی ۔
” ہا ہا ۔ ٹویٹی کا نام سن کر کیسے سیدھی ہوئی ہو ۔ تم جلتی ہو وہ تم سے زیادہ خوبصورت ہے ۔ ” اولا کو بازوں میں اٹھاتے ہوئے وہ تنگ کرنے والے انداز میں بولا ۔
اولا نے بھی جوابی کاروائی کرتے ہوئے اپنے پنجے چلائے ۔ وہ گولڈن بلی اسے کسی صورت پسند نہیں تھی ۔
” اچھا بابا ۔بس بس ۔ اتنی ہائپر کیوں ہو جاتی ہو ۔ تم ہی زیادہ خوبصورت ہو ” نیلی آنکھوں والی حسینہ کے آگے سر تسلیم خم کرنے میں ہی آفیت تھی ۔
اولا کو ایسے ہی گود میں اٹھائے اسکی کمر کو سہلاتے ہوئے وہ بیڈ روم کی جانب بڑھا تب دیکھا کہ بہار جان اپنی سٹیک کمبل پر بارسا رہی ہیں ۔
” بہار جان ۔ کیا کر رہیں ہیں ۔۔ ” اولا کو نیچے اتارا اور آگے بڑھ کر ان سے سٹیک لی۔
اولا نیچے اتر کر اسکے قدموں پر لوٹنے لگی ۔ وہ تئیس سالہ روعان حیدر تھا ۔ بال سلیقے سے کنگھی کیے ہوئے ۔ خوبصورت نقوش وال مرد ۔ گہری بھوری چمکدار آنکھیں ۔
” یہ دھیٹ ہڈی ہیں روعان جان ۔ انکو ایسے کچھ نہیں ہوگا ۔ اب بھلا دیکھیں دن نکل چکا ہے اور یہ پڑے ہیں مزے سے بستر ٹورنے کو ” دادو نے گلا کیا ۔
” بہار جان حدید کافی دیر تک پڑھتا رہا ہے کل ۔ اسے سونے دیں اس وقت ۔” روعان کی بات سن کر بہار جان کی آنکھیں اچھنبے سے وا ہوئیں۔
” بیٹا اگر آپ کہتے سورج آج جنوب سے نکلا ہے تو ہم یقین کر لیتے ۔ مگر یہ آپ نے بہت نا ممکن بات کردی ہے ۔ ” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے ٹھوڈی تلے ہاتھ رکھ کر بولیں ۔
” میری پیاری بہار جان اپنی سماعت پر یقین کر لیں ۔ اور ویسے بھی میں آپ سے اس قدر خطرناک مزاق کیونکر کروں گا ” روعان نے اپنے ہاتھ بہار جان کے کندھوں پر رکھ انہیں یقین دہانی کروائی ۔
” مگر یہ کرشمہ سر زد کیسے ہوا ؟” وہ ابھی تک شک میں تھی ۔ حدید پڑھ رہا تھا وہ بھی رات کو اور وہ بھی ہفتے کی رات کو یہ نہایت اٹپٹی سی بات لگتی تھی ۔
” آہ بہار جان ۔ ایک پری کی بدولت ” وہ انکا ہاتھ پکڑ کے باہر لاتے ہوئے بتانے لگا ۔
” اچھا ۔ ہمیں تفصیل سے بتائیے ۔ ” بہار جان نے فرمائش کی ۔
” میڈم ناشتہ لگ چکا ہے ۔” روعان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی کیٹھ ( ملازمہ ) نے آکر اطلاع دی ۔
” ٹھیک ہے ۔ جاکر میرے دوسرے فرزندوں کو بھی بلا لائیے ” روعان کا ہاتھ پکڑے وہ ناشتے کی میز کی طرف بڑھتے ہوئے بولیں۔
” میڈم میں شہوار صاحب کو کہہ آئی ہوں ۔ چھوٹے صاحب کو آپ خود ہی بلاوا بیجھ دیں ۔ میں انکے کمرے میں نہیں جاوں گی ۔ ” کیٹھ نے گویا ہاتھ جوڑ کر منت کی تھی ۔ بہار پیلس کا ایک واحد کمرہ تھا جسے کیٹھ اپنے لیے سرحد سمجھتی تھی ۔ وہاں جانا ممنوع تھا ۔ اس کمرے میں صرف ایک انسان کو جانے کی اجازت تھی اور وہ صرف شہوار شاہ تھا ۔
” ٹھیک ہے ۔ شہوار خود ہی اسے پیغام دے دیں گے ۔ ” کہتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے کیٹھ کو جانے کا کہا ۔
” گڈ ماااااااااااااارننگ بہار جان ” وہ روعان کا ہم عمر حدید حیدر تھا جو جمائی روکتا ہوا روعان کے ساتھ والی کرسی پر آکر بیٹھا ۔
پٹھی ہوئی کالی جینز کے اوپر رنگوں کی بھرمار والی شرٹ جس پر سامنے کی طرف آڑے ترچھے کٹ لگے ہوئے تھے ۔
بال نہایت نفیس طریقے سے مشرق مغرب شمال اور جنوب کی جانب مہو پرواز تھے ۔ وہ اجڑے چمن کی عکاسی کر رہے تھے ۔ گلے میں انگریزی لفظ ایچ کا لٹکتا ہوا لاکٹ ۔ بائیں کان کی لو میں دھنسی ہوئی میٹل کی پن ۔
کلائی میں پڑے بے شمار رنگ برنگے بینڈز ۔
وہ منہ دھوکر رات والے کپڑے بدلے بنا ہی آگیا تھا ۔ پانی کے قطرے اسکی شہد رنگ آنکھوں پر باڑ کی طرح سجی پلکوں پر جمے تھے ۔
” ماشااللہ ۔ زہے نصیب ۔ بیدار ہوگئے میرے جہاد بلعلم کے مجاہد ” بہار جان نے طنز بھرے پیار سے اسکی طرف دیکھا ۔
” لیڈی سپرنگ اتنی ٹف اردو نا بولیں کریں ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی ” حدید نے جوس کا گلاس بھرتے ہوئے منہ بناتے ہوئے کہا ۔
جس پر بہار جان مسکرادیں ۔ روعان بھی ناشتہ کرتے ہوئے مسکرا دیا ۔
وہ انہیں لاڈ میں لیڈی سپرنگ کہا کرتا تھا ۔
” اسلام علیکم بی جان ” وہ شہوار تھا ۔ اپنے بھاری مگر نفیس آواز میں سلام کرتے ہوئے اسنے بہار جان کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیا ۔ وہ انہیں بہار جان کے بجائے بی جان مخاطب کرتا تھا ۔
” وعلیکم اسلام ہمارے خوبرو خوب صیرت فرزند ۔ اللہ آپ کو ہر کامیابی عطا کرے ” بہار جان نے شفقت سے شہوار کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر دعائیں دیں۔
شہوار بھی ناشتے کے لیے بیٹھ گیا ۔
” حدید جان سیدھے ہو کر بیٹھیں ۔ ” بہار جان نے اسے ٹوکا جو کرسی پر پالتی مار کر بیٹھا تھا ۔
انکے ٹوکنے پر ایک ٹانگ نیچھے گرالی ۔
” ہاں تو میں پوچھ رہی تھی کل رات آپ پڑھ رہے تھے ۔ زرا ہمیں بھی بتائیں یہ تبدیلی کیسے آئی ۔ ” بہار بیگم واپس ناحل شدہ مدعے کی طرف آئی ۔
” لیڈی سپرنگ آپ جانتی ہیں نا سٹیڈی بہت ایمپوڑٹنٹ ہے ۔ میرا دل ہے اب اس اہم کام کو پورے زور و شور سے کرنے کا ۔ آپ کا نام روشن کرنے کا ۔ موج مستی کا کیا ہے وہ تو بعد میں بھی ہوتی رہے گی ۔ “حدید فخریہ کالر جھاڑتے ہوئے بولا ۔
” ویسے ہمارا نام تو آپ اب بھی روشن کر رہے ہیں اور سٹیڈی اہم ہے یا وہ لڑکی ۔” بہار جان نے لڑکی کے لفظ پر زور دیا تو اسنے چونک کر روعان کو دیکھا ۔
“رونی مائی سن لگتا ہے تمھاری بلیاں بہت تنگ کرنے لگی ہیں ۔ کہو تو انہیں کسی نالی میں پھینک آوں ۔ ” حدید نے ٹیبل کے نیچھے سے روعان کے پاوں پر پاوں مارا تو روعان نے اسے گھورا ۔
” ہم سے بات کریں۔ ہمیں بتائیں کون ہے وہ لڑکی ۔ ” بہار جان نے حدید سے استفار کیا ۔ ساتھ ہی نظروں سے ٹوکا بھی تھا ۔
” ہاں حدید بولو ۔ اگر مناسب ہوا تو میں اور بی جان تمھارا رشتہ لیکر اسکے گھر جائیں گے ۔” شہوار نے بھی اسکی حوصلہ افزائی کی ۔
” بھاں پہلے تو آپ کی شادی ہونی چاہیے اصولا ۔ میرا نمبر تو تیسرا ہے ۔ ” حدید واپس ٹانگیں اوپر کر کے بیٹھتے ہوئے حساب لگاتے ہوئے بولا ۔
وہ شہوار کو بھاں پکارتا تھا ۔ یہ عادت بچپن کی تھی ۔
اولا روعان کی ٹانگوں سے آکر لپٹی تو اسنے اولا کو گود میں بٹھا لیا ۔ روعان کی ایک جان ان بلیوں میں بستی تھی اور ایک جان حدید میں ۔
” ایسا ضروری تو نہیں۔ مجھ سے پہلے تمھاری شادی کوئی غلط بات نہیں ہے ۔ ہاں اگر تمہیں کوئی پسند ہے تو اس سے نسبت طے کر لو بجائے اسکے کہ بے نام رشتہ قائم کرو ” شہوار سمجھتاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔ اسکا اشارہ محبت کے نام پر لڑکا لڑکی کا بوائے فرینڈ گرل فرینڈ بن جانے کی طرف تھا ۔
” ہاں حدید جان شہوار تھیک کہہ رہیں ہیں ۔ ” بہار جان نے بھی تائید کی ۔
” لڑکی نے ایک شرط رکھی ہے بہار جان ۔” روعان نے حدید کے بولنے سے پہلے اطلاع دی ۔
” اگر اس بار حدید فائنل ایئر کلیئر کر لیتا ہے تو وہ ضرور حدید سے شادی کرے گی ۔ پہلے تو وہ حدید کی حرکتیں دیکھ کر اس سے بھاگتی رہی مگر جب اس نے پیچھا نا چھوڑا تو لڑکی نے یہ شرط رکھ دی ۔ اسے لگا حدید اسکا پیچھا چھوڑ دے گا مگر یہ تو کتاب کھول کر بیٹھ گیا ۔ ” روعان نے مزید بتایا ۔
” صحیح ۔ یعنی یہ وجہ خاص ہے محترم کے پڑھائی کو اہم جاننے کے پیچھے ۔ ہم ملنا چاییں گے اس فرشتہ صفت دوشیزہ سے جس نے ہماری زندگی کا یہ معمہ حل کر دیا ۔ ” بہار جان واقعتا شکر بجا لائیں تھیں ۔
اس سے پہلے کوئی کچھ اور بولتا شہوار کی طرف والی سب سے آخر والی کرسی پر وہ آکر بیٹھا ۔
سیاہ بال ماتھے پر بکھیرے ہوئے جو گردن کے پاس دو انچ کی پونی میں بندھے تھے ایسے کہ آگے سے چھوٹے ہی تھے ۔ جینز اور سیاہ جیکٹ میں ملبوس ۔ دائیں بازوں میں لٹکتا ڈھیلا سا بریسلیٹ ۔
بائیں انگوٹھے میں پلیٹینیم کا چھلا چڑھائے ہوئے ۔
ہیزل رنگ آنکھوں میں بیزاریت اور نشے کا ہلکا سا خمار لیے ۔ اپنے وجود کے گرد ایکس باڈی سپرے کا احاطہ کیے ہوئے جس کی خوشبو وہاں موجود نفوس کی سانسوں کو بدحواس کر رہیں تھیں۔ وہ کسی بھی قسم کے سلام و دعا کے بغیر آکر بیٹھا ۔ جوس کا گلاس ایک ہی گھونٹ میں خالی کیا ۔ بڑیڈ کا سلائس سوکھا ہی منہ میں چباتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔ اسنے وہاں بیٹھے ایک بھی نفوس پر نظر نہیں ڈالی ۔ اسے اپنی ہی دنیا میں رہنا پسند تھا ۔
اسکے قدم باہر کی طرف تھے ۔ کہاں جا رہا ہے ۔ کب آئے گا ۔ کوئی اطلاع نہیں ۔
ایک لمحے کے لیے آتا تھا اور چلا جاتا تھا ۔
شہوار نے اسے افسوس سے دیکھا تھا ۔ بہار جان کی آنکھوں میں بھی فکر لہرائی تھی ۔ روعان نے ان کا ہاتھ دباکر تسلی دی تھی ۔
حدید کی سوچوں نے بھی دور تک اسکا پیچھا کیا تھا ۔
” شہوار آپ کچھ سمجھاتے کیوں نہیں اسے ۔ ” بہار جان نے شہاور کی طرف امید سے دیکھا ۔
” میں کوشش کر رہا ہوں ۔ اسے کچھ وقت دیں وہ بہتر ہوگا ۔ ” شہوار نے انہیں تسلی دلائی ۔
انکے چار فرزندوں میں سے وہ ایک ہی تھا جو انکی رگوں میں دوڑتے خون کی جنبش کی تیزی کا سبب بنتا تھا ۔
وہ ضدی ۔خود سر ۔ خود غرض ۔ اکھڑ مزاج اور نہایت بگڑا ہوا انکا چھوٹا پوتا تھا ۔
وہ پراسرار شخصیت رکھنے والا پچس سالہ سالار شاہ تھا ۔
وہ کیا کرتا ہے ۔ کیا سوچتا ہے ۔ یہ ہمیشہ ایک حل طلب سوال ہوتا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے

Similar Novels

You may also like these novels.

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

0.0 / 5 · 0 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Innocent Heroinelove story basedRevenge Based NovelsRomantic Urdu NovelsRude heroUrdu Novels