Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249 Last updated: 19 September 2025
No Download Link
Rate this Novel
Aatishe Isqam
By Hira Shah
عصر کی اذانوں نے فظا کو معطر کیا نمازی نماز کے لیے کھڑا ہوئے سیاہ شلوار کمیز پہنے وہ بھی جماعت میں شامل ہوا اس نے سیاہ ہی چادر اوڑھ رکھی تھی ۔ ہمیشہ کی طرح دربار کا ماحول سکون دینے والا تھا نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ امام صاحب کے گرد بیٹھ گئے " آج کا موضوع گفتگو زکر ہے " امام صاحب نے بتایا سیاہ چادر اوڑھے سلار کو اپنے اندر سے درویش کی صدا آئی وہ اللہ اللہ پکار رہا تھا " زکر کے لغوی معانی ہیں یاد کرنا ۔ بیان کرنا ۔ چرچہ کرنا ۔ زکر الہی سے مراد زبان پر اللہ کا نام رکھنا ۔ اسکی وحدانیت بیان کرتے رہنا زکر کی دو اقسام ہیں ۱۔ ذکر لسانی ۲۔ ذکر قلبی ذکرِ لسانی میں انسان اپنی زبان سے ذکر شروع کرتا ہے اورپھر ایسا وقت آجاتا ہے کہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے ہر وقت تر رہتی ہے۔ یہ جس کو نصیب ہوجائے وہ نہایت ہی خوش نصیب انسان ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولِ مقبولﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہر وقت اس زمین پر ہر شخص پر برس رہی ہیں۔ مگر اس سے بڑھ کر کسی دوسرے پر نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اپنی یاد کی توفیق دیدے۔ ذکرِ قلبی اگلی منزل ہے۔ جس میں زبان سے ذکر ہو یا نہ ہو اس کا دل ہر وقت ذکر میں مشغول رہے۔ یہ حالت انسان کے لیے اصل نصیب کی بات ہے۔ہاتھوں سے کام کرے، پاؤں سے چلے، یہاں تک کہ زبان سے کلام کرے مگر اس کا دل ہر وقت خدا کی یاد میں دھڑکتا رہے۔ یہ کیفیت صرف بہت اعلیٰ نصیب والوں کو ہی ملتی ہے۔ اللہ نے قرآن پاک میں کئی مقام پر زکر الہی کا حکم دیا ہے ۔ اسکی اہیمیت اور فضیلت بیان کی ہے ۔ اس حوالے سے چند آیات بیان کرتا ہوں 1۔ فَاذْکُرُوْنِيْٓ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِيْ وَلَا تَکْفُرُوْنِo (البقرۃ، 2 : 152) ’’سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کروo‘‘ 2۔ فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْکُرُوا اللهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِکُمْ۔ (النساء، 4 : 103) ’’پھر اے (مسلمانو!) جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہر حال میں) یاد کرتے رہو۔‘‘ 3۔ یٰـٓاَیُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللهَ کَثِيْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo (الأنفال، 8 : 45) ’’اے ایمان والو! جب (دشمن کی) کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہا کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤo‘‘ 4۔ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُھُمْ بِذِکْرِ اللهِ ط اَلاَ بِذِکْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُo (الرعد، 13 : 28) ’’جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہےo‘‘ 5۔ وَلَذِکْرُ اللهِ اَکْبَرُ ط وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَo (العنکبوت، 29 : 45) ’’اور واقعی اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ ان (کاموں) کو جانتا ہے جو تم کرتے ہوo‘‘ 6۔ یٰٓـاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللهَ ذِکْرًا کَثِيْرًاo وَّسَبِّحُوْهُ بُکْرَةً وَّاَصِيْلًاo (الأحزاب، 33 : 41) ’’اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کروo اور صبح و شام اسکی تسبیح کیا کروo‘‘ 7۔ یٰـٓاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللهِ وَ ذَرُوا الْبَيْعَ ط ذٰلِکُمْ خَيْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلوٰةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْکُرُوا اللهَ کَثِيْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo (الجمعۃ، 62 : 9، 10) ’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن (جمعہ کی) نماز کے لیے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر (یعنی خطبہ و نماز) کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خرید و فروخت (یعنی کاروبار) چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہوo پھر جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ اور (پھر) اللہ کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرنے لگو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پاؤo‘‘ بات کرتے ہیں سب سے بہترین زکر کی تو حدیث مبارکہ کے مطابق سب سے افضل ذکر ”لا إلٰہَ إلا الله“ ہے۔ زکر کے بہت سے فوائد ہیں اس سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے انسان کا دل مضبوط ہوتا ہے دل میں خوف خدا پیدا ہوتا ہے دل میں برائی یا وسوسے جگہ نہیں بناتے شیطان دل تک رسائی نہیں حاصل کر پاتا انسان کی زبان ہر وقت پاک رہتی ہے۔۔۔ " امام صاحب مزید بیان کر رہے تھے کہ سلار اٹھ کھڑا ہوا وہ اس مقام پر آ بیٹھا جہاں درویش بیٹھتا تھا یعنی اسکا ضمیر وہ سر جھکا کر کچھ لمحے بیٹھا پھر سر کو ہلکی سی جنبش دیتے ہوئے اللہ اللہ کی صدا بلند کرنے لگا دربار کی ہوا یک دم سلار کو فسوں میں گھیرتی محسوس ہوئی وہ جتنا زکر کرتا جاتا اتنا فسوں بڑھتا جاتا یہاں تک کہ سر کی جنبش میں تیزی آگئی ارد گرد کی آوازیں معاوف ہو گئیں اسکے اندر باہر صرف ایک ہی آواز تھی اللہ اللہ اللہ اللہ
