Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
ہاسٹل کی عمارت پر صبح چڑھ چکی تھی ۔
منال کمبل میں دبکی ہوئی ہاتھی گھوڑے بھینس بکرے بیچے سوئی پڑی تھی ۔ اسکا موبائل جو کہ کمبل میں ہی کہیں گھسا پڑا تھا الارم کو کوئی چھوٹی دفعہ کھڑکھا چکا تھا ۔
منال تو نہیں اٹھی مگر الارم کی تیز آواز نے ٹریسا کو اٹھا دیا تھا ۔۔
آج اس نے آفس سے لیف لیا تھا
پچھلے دنوں کام کی زیادتی کے باعث آرام کا بلکل وقت نہیں مل رہا تھا اور کل رات سے وہ جسم میں تھکاوٹ محسوس کر رہی تھی سو آج آرام کرنے کا سوچا ۔
ٹریسا بھاری ہوتے سر کے ساتھ اٹھی اور منال کے اوپر سے کمبل اتارا
” ہاں ۔ ہوں ۔ ککک ۔کون ” منال غنودگی میں بڑبڑاتی پھر سو گئی ۔
وہ بہت گہری نیند میں تھی اور ہلکا سا منہ بھی کھلا تھا ۔
موبائل نے ایک بار پھر الارم بجایا ۔
” منال اٹھو ۔ یونی نہیں جانا تم نے ” ٹریسا نے پھر سے اسے جھنجوڑا مگر اس پر کوئی اثر نا ہوا ۔
ٹریسا نے رک کر سوچ پھر کچن سے پانی کی بوتل لائی اور منال پر انڈیل دی
” ہائے بچاو ۔ ہائے میں ڈوب گئی ۔ ہائے کوئی بچائے مجھے ” ٹھنڈا پانی ڈلتے ہی منال بن جل کی مچھلی کی طرح ٹرپی تھی ۔
ہائے اسکو تو ٹھنڈ بھی زیادہ لگتی تھی اور ٹریسا نے یہ کیا کر دیا تھا
دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو پونچتے منال نے چھوٹی آنکھیں بامشکل کھول کر سامنے دیکھا تو ٹریسا کھڑی ہنس رہی تھی ۔
” تم نے مجھ پر پانی کیوں ڈالا ؟ ” اگلے لمحے وہ ٹریسا پر جھپٹی تھی ۔
دونوں ایک ساتھ زمین پر گری تھیں ۔
” اف توبہ موتی ۔ ہٹو مجھ پر سے ۔ ہائے مر جاوں گی میں ۔۔ اللہ اللہ ۔۔۔! ” منال کے نیچے دبی ٹریسا ہاتھ پاوں مارنے لگی
منال جسکا ارادہ فورا اٹھنے کا نہیں تھا ٹریسا کے آخری الفاظوں پر اٹھ کر بیٹھ گئی اور ٹریسا کی طرف دیکھنے لگی ۔
اپنے بازوں دباتے ٹریسا بھی اٹھ کر بیٹھی تو اسنے منال کو خود کو عجیب نظروں سے دیکھتے پایا
” کیا ہوا ۔ ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ۔ ؟ ” ٹریسا نے استفار کیا ۔
” تم نے ابھی اللہ اللہ کہا ۔ تم تو کرسچن ہو ” منال نے اپنی حیرت کا سبب بتایا ۔
” اچھا ۔ میں تو بس تمہیں پیچھے ہٹانے کے لیے وہ سب بول رہی تھی ۔ مجھے دیھان نہیں رہا میں نے ایسا بولا ۔ ” ٹریسا بھی حیرت کا شکار ہوتے ہوئے کہنے لگی ۔
” بابا کہتے ہیں یوں بے دیھانی میں اللہ کا نام اسکی زبان سے ہی نکلتا ہے جو خوش قسمت ہو ۔ بابا نے ایک بار بتایا تھا ایک ہندو کے بارے میں۔ وہ اپنے بھگوان کی پوجہ کر رہا تھا جب اسے نیند آگئی ۔ وہ صنم صنم کہہ رہا تھا مگر نیند کے غلبے کے باعث اسکے منہ سے صمد صمد نکلنے لگا ۔
صمد اللہ کا ایک صفاتی نام ہے ۔ جب وہ اللہ کا نام پکارنے لگا تو اللہ نے اسکی پکار سنی اور فرمایا بول میرے بندے کیا چاہیے ۔
تب فرشتوں نے حیرت سے سوال کیا کہ وہ بندہ تو ہندو ہے اور بے دیھانی میں یا صمد پکار رہا ہے ۔ پھر اللہ پاک اسکی پکار کا جواب کیوں دے رہے ہیں تو اللہ نے فرمایا ۔
اگر میں اسکی پکار کا جواب نہیں دوں گا تو مجھ میں اور اس پھتر کے بھگوان میں کیا فرق رہ جائے گا ۔ اپنی مخلوق کی پکار میں نہیں سنو گا تو اور کون سنے گا ۔
بابا یہ واقعہ سنا کر ہمیں یہ بتایا کرتے تھے کہ اللہ پوری کائنات کا مالک ہے ۔ وہ صرف مسلمانوں کی نہیں غیر مسلموں کی بھی سنتا ہے ۔ جانوروں کی بھی ۔ دوسرے جانداروں کی بھی ۔ ” واصف صاحب کی کبھی بچپن میں بتائی گئی بات کو اپنے الفاظوں میں بیان کرتی وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی ۔
” او مائی گاڈ ۔ آج تو لیٹ ہو گئی یونی سے ۔ ” موبائل پر ٹائم دیکھتے وہ ماتھے ٹھنکتے ہوئے بولی اور تیزی تیزی میں کپڑے چینج کیے بھاگ ڈور میں نکل گئی ۔
منال نے دیھان نہیں دیا ٹریسا ابھی تک اپنی جگہ ساکت بیٹھی تھی ۔
” اللہ سب کی سنتا ہے
یوں بے دیھانی میں اللہ کا نام اسکے منہ سے نکلتا ہے جو خوش قسمت ہو ۔
اگر میں اپنی مخلوق کی پکار نہیں سنو گا تو کون سنے گا ۔”
منال کے بولے گئے یہ تمام جملے ٹریسا کے زہن میں گردش کرنے لگے یہاں تک کہ دل کی ڈھرکن تیز ہو گئی ۔
اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے ۔
اسکا مزہب کہتا تھا جیزس صرف عیسائیوں کی سنتے ہیں
بھگوان صرف ہندووں کی سنتے ہیں ۔
مگر اللہ تو سب کی سنتا ہے ۔
نہیں درحقیقت وہ ہی تمام مخلوق کا مالک ہے ۔
جو جیزس سے مانگتا ہے یا جو بھگوان سے مانگتا ہے اسے اسکی عنایت اللہ ہی تو دے رہے ہوتے ہیں ۔
ٹریسا کے زہن میں اور بھی کئی باتیں گھوم رہی تھیں جو اسنے اسلام کے بارے میں پڑھی تھی ۔
اس لمحے اس کے دل نے گواہی دی تھی کہ اللہ ہی تمام مخلوق کا مالک ہے اور وہ ہی اپنی مخلوق کی پکار سنتا ہے اس بات سے مبرا کہ وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم ۔
اور ٹریسا کو ایک لمحہ لگا تھا فیصلہ کرنے میں ۔
اپنی بہتری کے لیے فیصلہ کرنے میں
خود کو غلط راہ سے سراط مستقیم پر لانے کے لیے ۔
وہ انسو پونچھتے اٹھی اور فرح کو کال ملائی ۔
” میں تم سے ملنا چاہتی ہوں ” گیلی سانس کھینچتے اسنے کال اٹھتے ہی کہا ۔
” میں ابھی مصروف ہوں ۔ سکول میں فائنل ٹرمز ہونے والے ہیں ۔ میری پیاری میں جیسے ہی فارغ ہونگی ۔ تم دونوں سے ملنے ہاسٹل آوں گی ۔ ” دوسری طرف سے فرح نے معزرت خوا لہجے میں کہا
” میں تمھارا انتظار کروں گی ” ٹریسا نے بے چینی سے کہا اور کال بند کر دی ۔
وہ وہیں بیٹھے بے تابی سے اپنے ہاتھ مسلنے لگی ۔
اب انتظار مشکل لگ رہا تھا
وہ اپنی دل کی کیفیت فرح کو بتانا چاہتی تھی ۔
وہ اپنے فیصلے سے آگاہ کرنا چاہتی تھی مگر پہلے چند باتیں تھیں جو فرح سے ہوچھنا باقی تھیں ۔
ابھی تو نماز پڑھنے کی آخری دو وجوہات بھی باقی تھیں ۔
مزہبی اور عشقیہ
وہ ان باتوں کے بارے میں سوچنے لگی جس کے بارے میں اب تک فرح نے بتایا تھا اور آج تک بتائی گئی تمام باتوں کے مخفف اسنے یہ ہی نکالا تھا کہ اسلام بہت خوبصورت مزہب ہے ۔
وہ سوچتے ہوئے مسکرا پڑی ۔
پھر اٹھ کر کچن میں آئی اپنے لیے ناشتہ بنایا ۔
ناشتہ لیکر کمرے میں واپس آئی اور موبائل پر ترجمہ کے ساتھ تلاوت لگا دی ۔
یہ بھی چند دن پہلے کا معمول تھا ۔ اسنے ترجمے کے ساتھ قرآن کی تلاوت سننا شروع کی تھی ۔
وہ بغور آیتوں کے ترجمے سنتی اسے اپنی زہن اصطلاح کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتی مگر ابھی اسکا فہم و سمجھ اتنا نہیں تھا کہ قرآن کی نشانیوں کو اچھے سے سمجھ سکے
ابھی تو سفر کا آغاز تھا ۔
ابھی تو اسے اس راہ پر بہت دیر تک چلنا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
منال بھاگتی دوڑتی یونی کے لیے نکلی تھی ۔
ابھی آدھا راستہ باقی تھا جب پیچھے سے آتے ایک پتلے دبلے لڑکے نا اسکا بیگ کھینچا اور بھاگ پڑا ۔
منال کو یک دم سمجھ نا آیا کیا ہوا ہے پھر سمجھ آتے ہی وہ بھی اس لڑکے کے پیچھے بھاگی ۔۔۔۔
” چور ۔۔۔چور ۔۔۔ چور ۔۔۔۔۔۔۔ ارے کوئی پکڑوں اسے ۔ میرا بیگ ۔ وہ لے کے بھاگ گیا ۔ روکو ۔۔۔۔۔ میں تمہے چھوڑوں گی نہیں ۔ پکڑ لونگی تمہے ۔ میں تمہارا حشر بگاڑ دونگی ۔ ” منال اتھل پتھل سانس کے ساتھ چور کے پیچھے بھاگتی یونی کی طرف بڑھ رہی تھی ۔
وہ پتلا دبلا لڑکا مظبوطی سے بیگ تھامے آگے کو بھاگا جا رہا تھا ۔ ایک لحظے کو رک کر پیچھے دیکھا اور پھر واپس سیدھا ہوا تو کوئی زور دار شے اسکے منہ پر آکر لگی ۔ وہ ایک زبردست قسم کا پنچ تھا جسے کھانے کے بعد لڑکا اپنا توازن بر قرار نا رکھ سکا اور اوندھے منہ زمین پر گرا ۔
کچھ فاصلے سے منال یہ منظر دیکھ چکی تھی ۔ مارنے والا روعان تھا ۔
” واہ ہیرو واہ ۔ کیا شاندار اینٹری ماری ہے وہ بھی ٹائم پر ۔ ” بھاگتے ہوئے قریب آئی اور روعان کے اعزاز میں تالیاں پیٹی ۔
پھر نیچے جھکی اپنا بیگ اٹھایا ۔ اگلے ہی پل وہ ڈھڑا دھڑ بیگ لڑکے کے منہ پر برسانے لگی ۔
” کہا تھا نا میں نے ۔ تمھارا حشر بگاڑ دونگی ۔ اب کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے ۔ میرا تو دل کر رہا ہے تمہے آگ لگا دوں ۔ مطلب ایک تو چوری اور وہ بھی منال کی ۔ واہ اتنی سی جان اور اتنی بڑی ہمت ۔ ” وہ کسی خونخور شیرنی کی طرح چور پر برس پڑی تھی ۔ زمین بوس ہوا لڑکا جو ابھی پنچ کے زیر اثر سے نہیں نکلا تھا ترا ترا اپنے منہ پر پڑھنے والے پرس سے بے حال ہو چکا تھا ۔
” ہائےےےےے ۔ ” بہت دور سے بھاگ کر آ رہی تھی ۔ سو سانس بری طرح پھول چکا تھا ۔ ایک لمحے کو وہ سانس لینے کو رکی ۔ لڑکے نے اسی بات کا فائدہ اٹھایا اور سر پر پاوں رکھتا بھاگ کھڑا ہوا ۔
” روکو ۔ کدھر جا رہے ہو ۔ ابھی تو مجھے تمھاری شکل بگاڑنی تھی ۔ بھاگ گیا ڈر کے ۔ مطلب منال سے پنگا ۔ کاراٹے چیمپین سے پنگا ۔ اس مار کو ہمیشہ یاد رکھنا ۔ سمجھے بانس کے ڈنڈے ” عقب سے وہ چلائی مگر لڑکا سو کی سپیڈ سے بھاگتا چلا گیا ۔
” اسے سبق مل گیا ۔ اب جانے دو ۔ ” روعان نے کول ڈاون کرنے کی کوشش کی ۔
” ارے ابھی کہاں ۔ ابھی تو اسنے منال کے مضبوط ہاتھ کا پنچ نہیں کھایا ۔ ابھی تو اس کے انجر پنجر ڈھیلے نہیں ہوئے ۔ ” وہ دانت کڑوڑ کر اور ہاتھ مسلتے ہوئے بولی ۔
” تم بلیک بیلڈ ہولڈر ہو تو کیا مطلب کمزوروں پر ظلم ڈھاوں گی ۔” روعان نے معصومیت بھری شکل بنائی ۔
” او ہیلو ۔ زیادہ ضرورت نہیں ہے چور کی طرف داری کرنے کی ۔ کہیں تم ہے ہی نا پیٹ دوں ۔ ” ہاتھ اٹھا کر منال نے واضح دھمکی لگی ۔ ساتھ میں مکا بھی دکھایا۔
” نہیں میں ابھی اپنی ہڈیاں سلامت چاہتا ہوں ۔” روعان دو قدم پیچھے ہٹا کیونکہ منال کا کوئی بھروسہ نہیں تھا ۔
” تمھارے ساتھ والا نمونہ کہاں ہے ؟ ” روعان نے ارد گرد پوچھتے سوال کیا ۔
لڑکے کی ٹھکائی لگانے کے بعد اسے جوش چڑھا ہوا تھا وہ کسی کا منہ توڑنا چاہتی تھی اور حدید سے اچھی آپشن کوئی ہو نہیں سکتی تھی ۔
” وہ ج کل اپنی نئی دوست کے ساتھ بزی رہتا ہے ۔ تین دن سے روز صبح اسکی مدد کے لیے جاتا ہے ۔ میرا دوست آج کل بہت بدل گیا ہے ۔ ” یونی کے اندر جاتے ہوئے روعان نے اسے بتایا ۔
” اچھا ۔ مطلب مس سنڈی سدھر رہے ہیں ۔ لیکن میں اپنے ناول میں اسے نہیں سدھاروں گی ۔ اسکا کیریکٹر میں ایسا شرارتی ٹائپ ہی لکھوں گی ۔ او ہاں لکھنے سے یاد آیا ۔ مجھے ہیرو کی بچپن کی زندگی کے بارے میں بھی لکھنا ہے ۔ اور ہمیں تنگ کرنے کو وہ نمونہ بھی نہیں ہے ۔ سو چلو جلدی سے شروع ہق جاو اور اپنے بچپن کے بارے میں کچھ بتاو ۔ ” ایک ہی سانس میں وہ کسی ریپورٹر کے انداز میں سب کچھ کہتی گئی ۔
” سانس تو لے لو ۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے ” روعان نے ہاتھ اٹھا کر اسکے اتاولے پن کو روکنے کی کوشش کی
” جلدی تم جانتے نہیں اس شوق نے میری راتوں کی نیند اڑا دی ہے ۔ میں کل رات بھی دیر تک ناول کی قسط ترتیب دیتی رہی تھی ۔ کچھ سینز لکھ بھی لیے ہیں ۔ صبح شام بس اسکے بارے میں سوچتی ہوں ۔ نا بھوک لگتی ہے یا پیاس ۔ مجھے لگتا ہے ۔۔۔ مجھے لگتا ہے میں لکھنے سے محبت کرنے لگی ہوں ۔ میں ہر وقت اپنے کرداروں میں گھری رہتی ہوں ۔ کبھی میں منال ہوتی ہوں تو کبھی میں تم بن جاتی ہوں ۔ کبھی میں فرح آپی بن کر خود کو سمجھانے لگتی ہوں تو کبھی ٹریسا بن کر سوال جواب کرنے لگتی ہوں ۔ کبھی حدید بن کر منال سے پنگے لیتی ہوں ۔ میں ایک ساتھ کئی زندگیاں جینے لگی ہوں ۔ اپنے ناول کے کاریکٹرز کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں ۔ میں تمھارے بارے میں سوچتی رہتی ہوں ۔ ۔۔۔ ” منال کی بولتی پھر سے شروع ہوئی اور وہ بس بولے جا رہی تھی ۔
جو منہ میں آرہا تھا بول رہی تھی ۔
روعان اسکی باتیں سنتے سنتے یک ٹک اسے دیکھنے لگا
” تمھارے بارے میں سوچتی رہتی ہوں ۔ ” یہ جملہ کانوں میں نہیں دل پر پڑا تھا
وہ بھی اسکے بارے میں بے خیالی میں سوچنے لگا تھا ۔
کبھی رات کو بیڈ پر لیٹے کروٹ بدلتے دور سے اسکی طرف بھاگتی ہوئی او ہیرو ہیرو چلاتی ہوئی ۔
کبھی حدید کے ساتھ بھڑتی ہوئی ۔
ناجانے کیوں مگر وہ اچھی لگنے لگی تھی یا شاید اچھی سے بھی کچھ زیادہ ۔
منال اپنی ہی دھن میں لگی ہوئی یہ غور نہیں کر پائی کہ روعان اسے بہت گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
” اچھا تم گیٹ پر کھڑے کیا کر رہے تھے ” منال نے خیال آنے پر پوچھا
” تمھارا انتظار کر رہا تھا ” وہ نظروں کا جزب لہجے میں لیے کھوئے سے انداز میں بولا ۔
” او ۔ وااااااو ” منال جوش میں ہونٹ گول کرتی بولی ۔
” آج صبح صبح ہی ایک اور سین مل گیا ناول کے لیے ۔ ہیروئیں چور کے پیچھے بھاگتے ہوئے ۔ سامنے سے ہیرو کا زور دار پنچ ۔ ہیروئین نے چور کو ٹھکائی لگائی ۔ ہیرو ہیروئین کے انتظار میں کھڑا ہوتا ہے ۔۔۔۔ ” بولتے بولتے وہ یک دم رکی ۔
” مگر تم میرا انتظار کیوں کر رہے تھے ” آبرو اچکا کر سوال کیا تو روعان جو اسے دیکھے جا رہا تھا یک دم گڑبڑا کر کہنے لگا ۔
” تمھارا انتظار ۔ وو۔ وہ اس لیے کہ حدید ساتھ نہیں تھا نا آج ۔ اکیلے بور ہوجاتا ۔ اور پھر تمھارے ناول کا ہیرو بھی تو ہوں ۔ مجھے ہی تو دیکھ کر تم نے اپنے ناول کا کاریکٹر لکھنا ہے ” روعان نے تیزی سے عزر گھڑا ۔
” اچھا چلو اب مجھے اپنے بچپن کے بارے میں بتاو ۔ آو گراونڈ چلتے ہیں ۔ اب یہ مت کہنا تم نکمے سٹوڈنٹ تھے ۔ میرے ہیرو کو بلکل بھی نکما نہیں ہونا چاہیے ۔ اگر ہو بھی تو کوئی بات نہیں میں ناول میں تمہیں برائٹ سٹوڈنٹ ہی لکھوں گی ” وہ بولتی جاتی گراونڈ کی طرف بڑھنے لگی جبکہ روعان مزے سے اسکی باتیں سنتا اسکے پیچھے چلنے لگا ۔
چینی آنکھوں والی گول گپا سی چھوٹے قد والی منال واصف جو کہ روعان کے سینے سے بھی نیچے آتی تھی
اسکے دل میں گدگدی کرنے لگی تھی ۔
پہلے تو روعان نے سوچا اپنے بچپن کے بارے میں سچ نہیں بتائے گا مگر پھر دل نے کہا اسے سب بتا دو ۔
اسے بھی ہمراز بنالو
اسے بھی یادوں کا ساتھی بنالو
اسے بھی اپنی حقیقت کا متلاشی بنالو
اور اس خیال کے ساتھ روعان کے زہن میں وہ کاغز آیا جو ہندو عورت کے گھر سے لایا تھا ۔
اسکے ماں باپ کے بارے میں اس کاغز پر لکھا تھا مگر اس کاغز کی تحریر ہندی میں تھی ۔
اب اسے کوئی ایسا انسان ڈھونڈنا تھا جو اس تحریر کا مفہوم بتا سکے ۔
” او ہیرو ۔ کہاں گم ہو گئے ۔ آو ” منال نے کچھ فاصلے سے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ سر جھٹکا آگے بڑھ گیا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
