Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46

آتش_عشقم
قسط نمبر 46
از قلم حرا شاہ
فظا میں عشا کی اذانیں گونج رہی تھیں ۔
فرح اس وقت کھڑکی کے ساتھ کھڑی تھی
کھلی کھڑکی سے اندر آتی ہوا اسکے بال اڑا رہی تھی ۔
ہمیشہ کی طرح ڈوبتہ سر پر نہیں کاندھوں پر ڈالا ہوا تھا یا اسے ڈوبٹے کی ہوش ہی نہیں تھی ۔
اسے تو اپنی بھی ہوش نہیں تھی
بے جان پتلے کی ماند کھڑی کسی مرکائی نکتے کو تکتی جا رہی تھی
نا پلکیں جھپکاتی
نا کوئی اور لغزش
محض آنکھوں سے نکلتی آنسووں کی لڑی تھی جو حرکت میں تھی ۔
” تم میرے لیے مر چکی ہو ” شہوار کی کرب زدہ آواز سماعت میں گونجی تھی تو اسکے آنسووں میں روانی در آئی ۔
شہوار وہ پہلا اور آخری شخص تھا جس کی نفرت وہ سہہ نہیں سکتی تھی لیکن وہ سہہ رہی تھی
وہ اگر زندہ تھی تو اپنے ہونے والے بچے کے لیے
وہ اپنے بچے کو سزا نہیں دے سکتی تھی
اذان اپنے آخری کلمات پر تھی
فرح یوں ہی کھڑی رہی جب کسی آواز نے اسے جھنجوڑا ۔
دروازے پر ہوئی دستک نے اسکا دل دہلا دیا تھا ۔
وہ گہرے سانس لیتی پلٹ گئی
مگر بولی کچھ نا کہ گلے میں آنسووں کا پھندا اٹک رہا تھا ۔
دوسری دستک کے ساتھ دروازہ کھلا اور ایک ملازمہ اندر آئی ۔
” سر آپکا نیچے انتظار کر رہے ہیں ” با ادب کھڑے ہو کر اطلاع دی اور واپس چلی گئی
فرح نے آنکھیں موندھ کر کھولیں ۔
کیوں تھی وہ اس جگہ
کیا وہ کہیں اور نہیں ہو سکتی تھی
یہی سوچتے وہ آگے آئی اور دائیں جانب مڑی تو دیوار گیر شیشے میں اپنا عکس نظر آیا
سرخ روئی ہوئی آنکھیں
کھلے الجھے بال
نقاہت زدہ چہرا
وہ شیشے میں خود کو دیکھتی رہی یہاں تک کہ اس کے عکس میں ایک اور عکس جھلکنے لگا
اور دیکھتے دیکھتے وہی عکس منظر پر حاوی ہو گیا ۔
گلا آرا کا عکس
اسکی ماں کا عکس ۔
وہ بھی تو ایسی ہی تھی
کمزور
نقاہت زدہ
زرد مائل
بے وفائی کی ڈسی ہوئی
فرح کے معاملے میں بے وفائی نہیں غلط فہمی تھی ۔
وہ دیکھتی رہی جب منظر بدلہ اور بہار پیلس کا اندرونی حصہ آ گیا ۔
شہوار کے اسے کھینچ کر لے جانے کی وجہ سے اسکا ڈوبتہ کھل کر اتر گیا تھا
وہ بے پردہ ہو گئی تھی
شہوار نے نہیں دیکھا مگر روعان اور حدید نے نظریں جھکا لی تھیں ۔
روعان شہوار کے سامنے آیا تب بھی اسے دیکھنے سے پر ہیز کیا
فرح آنسووں کے درمیان یا سیست سے مسکرائی
” تمہیں ہوش نہیں رہا لیکن تمھارے بھائیوں نے اپنا فرض نبھایا ۔ ” وہ زیر لب توٹے ہوئے لہجے میں بولی
دفعتا منظر دھندلا ہونے لگا
آنکھیں ہاتھ کی پشت سے رگڑ کا صاف کیں
پھر گہرے سانس لیکر خود کو ظاہری طور پر پرسکون کیا ۔
پھر اپنا حلیہ کچھ تھیک کر کے کمرے سے باہر نکل گئی
وہ نیچے آئی تو صیام بخاری صوفہ پر بیٹھا اسکے انتظار میں ہی تھا
” آ جاو بیٹا ۔ مجھے امید نہیں تھی تم آ جاو گی مگر تمھارا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ تم اپنے باپ کو معاف کرنے لگی ہو ۔ ” صیام بخاری اٹھ کر اس تک گیا اور مشکور انداز میں بولا۔
” کیا آپکو میرے معاف کرنے سے فرق پڑتا ہے ” فرح نے باپ کی آنکھوں میں دیکھ طنزیہ کہا۔
” اگر واقعی شرمندہ ہیں تو مجھ سے نہیں میری ماں سے معافی مانگو ۔ اس عورت سے معافی مانگو جسے آپ نے برباد کر دیا ۔ موت کے منہ میں دھکیل دیا ۔ وہ بستر پر پڑی چھت کو گھورتی اس انتظار میں رہی کہ ایک دن آپ لوٹ کر آو گے ۔ اپنی غلطی کا اعتراف کرو گے اور اسے ساتھ لے جاو گے لیکن آپ نے کیا کیا۔
آپ آئے ۔ ضرور آئے مگر محض اپنی دل لگی کے لیے
گل آرا ترپٹی رہی اور آپ دوسری عورتوں کے ساتھ ۔۔۔۔ ” وہ کہتے ہوئے ضبط سے ہونٹ پیوست کر گئی جیسے وہ الفاظ زبان پر لانا بھی معیوب لگ رہا تھا ۔
” میری ماں اور میں ایک بہترین زندگی جی سکتے تھے اگر آپ ۔۔ ” شدت سے کہتے اسکی آواز روندھ گئی
آنسووں کا ریلا تھا جو اسکی آنکھ سے بہہ رہا تھا ۔۔
” کس قدر نفرت کرتی ہو اپنے باپ سے ۔ میں اب تم سے معافی نہیں مانگوں گا ۔ میں اس قابل نہیں ۔ لیکن ایک بات مان لو اپنے باپ کی ۔ اب اپنے باپ کو چھوڑ کر مت جانا ۔ میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں ۔ چاہے مجھ سے ناراض رہو مگر میرے ساتھ رہو ۔۔۔۔!” اسنے فرح کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے اور روتے ہوئے کہنے لگا ۔
وہ اچھی اداکاری کر لیتا تھا
” میرے پاس سب کچھ ہے بیٹا۔ پیسہ پاور اختیار ، نوکر چاکر ۔ نہیں ہے تو بس کوئی اپنا نہیں ہے۔ تمھاری صورت میں مجھے کوئی اپنا مل رہا ہے اسے مجھ سے نا چھینوں ۔ میں ریکویسٹ کرتا ہوں ” صیام بخاری مکمل طور پر جزباتی پن سے بولا ۔
ہر بار اپنے باپ کو اٹھی گردن اور رعب دار انداز میں دیکھنے والی فرح آج اسے جھکی گردن اور پشیمان دیکھ رہی تھی
اسکا دل ایک لحضے کو پھگلا تھا ۔
اللہ بھی تو غلطیاں معاف کر دیتا ہے
وہ بھی تو کر سکتی تھی
مگر کیا صیام بخاری کی غلطی معافی کے قابل تھی
فرح کچھ نا بولی بس باپ کا چہرا ٹکتی رہی ۔
کیا معاف کرنا آسان تھا
اپنی زندگی کے کئی سال اسنے جس شخص سے نفرت کرتے ہوئے گزارے تھے کیا اسے معاف کردے ۔
اور پھر اسکی موجودہ حالت کا زمہ دار بھی تو صیام بخاری ہی تھا ۔
فرح نے اپنے ہاتھ چھڑوالیے
” میں آپکو کبھی معاف نہیں کر سکتی ۔ یہ میری ماں کے ساتھ نا انصافی ہو گی ۔ اور رہی بات اپنوں کی تو وہ بہت پہلے خود کھو چکے ہیں ۔ اگر شرمندہ ہیں تو اللہ سے معافی مانگے ۔ ہو سکے اللہ آپکو معاف کردے مگر مجھ میں اتنا جبر نہیں ۔ میں سب کچھ برداشت کر سکتی ہوں مگر اس شخص کو نہیں جو میری ماں کی موت کا سبب بنا ۔ ” وہ دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے آنسو گلے میں اتاری حتمی لہجے میں گویا ہوئی پھر مڑی اور اپنے کمرے کی طرف تیزی سے بڑھ گئی
اسکے جاتے ہی صیام بخاری کے چہرے کے تاثرات بدلے
وہ ناگواریت سے اس طرف دیکھتا رہا ۔
” بہت ضدی ہو تم ۔ خیر میرا کام ہونے پر تمہیں اس ضد کے ساتھ باہر نکال پھینکوں گا ۔ ” چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ لاتے ہوئے وہ ارادتا بولا پھر خود بھی اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
فرح کمرے میں آئی اور دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی
پھر ایسے ہی بیٹھتی چلی گئی
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کیا کرے
اسے سکون چاہیے تھا
سکون نماز میں ملتا ہے
نماز
یہ خیال آتے ہی فرح نے اپنا سر ہاتھوں میں پکڑ لیا ۔
” اوہ اللہ ۔ مجھے معاف کردو ۔ تو مجھے کبھی نہیں بھولتا اور میں تجھے بھول بیٹھی ۔ میں جانتی ہوں یہ تیری طرف سے آزمائش ہے ۔ تیری دی ہوئی آزمائشیں تو تجھ سے قریب کرتی ہیں اور میں کتنی بد نصیب ہوں پچھلے کچھ دنوں سے تیرے حضور نہیں آئی ۔ تیری صدا پر لبیک نا کہا ۔ سجدہ تو ہر حالت میں فرض ہے ۔ امام حسین نے تو موت کے وقت بھی کیا ۔ مجھ پر ایک مصیبت آئی تو سجدہ ہی فراموش کر بیٹھی ۔ اوہ اللہ مجھے معاف کردے ” وہ اپنی بھول کا اعتراف کرتے ہوئے اسی جگہ سجدے میں چلی گئی
کتنی دیر وہ اسی حالت میں روتی رہی
دعائیں کرتی رہی
معافی مانگتی رہی
صبر مانگتی
آزمائش پر اترنے کا حوصلہ مانگتی رہی ۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
مہکشاں کی فلاور شاپ پر اس وقت دو تین گاہک کھڑے تھے
آج کل اسکے پاس بہت آڈر آ رہے تھے
وہ کام نپٹاتی پیچھے گھر کی طرف دیکھ کر مسکرائی جہاں حدید اور منہال ایک دوسرے کے ساتھ کھیل رہے تھے
وہ منہال کے ساتھ اس قدر اٹیچ ہو گیا تھا کہ مہکشاں کو اب اس بات میں کوئی شک نہیں رہا تھا کہ وہ ایک اچھا باپ ثابت ہو گا ۔
کچھ فراغت ملی تو وہ اندر آ گئی
منہال حدید کی لائی ہوئی چاکلیٹ کھا رہی تھی
چاکلیٹ ہونٹوں کے اطراف میں لگی ہوئی تھی
مہکشاں نے مصنوئی خفگی سے اسے گھورا تو وہ بے آواز ہنس پڑی
” چلو آ جاو منہ ہاتھ دھو کر سو جاو ۔ پھر سکول کا کام بھی کرنا ہے ” مہکشاں نے کہتے ہوئے منہال کو گود میں اٹھا لیا ۔
” حدید تم شاپ کو دیکھ لو گے ۔ میں اسے سلا کر آئی ” وہ حدید سے مخاطب ہوئی تو حدید نے فوری حامی میں سر ہلا دیا ۔
کچھ دیر بعد حدید فلاور شاپ میں موجود تھا جب مہکشاں بھی آ گئی ۔
حدید کے ہاتھ میں سرخ گلاب تھا جسے وہ نرمی سے چھو رہا تھا ۔
اسنے وہ مہکشاں کی طرف بڑھا دیا
” آئی لو یو ” ساتھ میں محبت سے کہا ۔
مہکشاں نے پھول تھاما اور لہجے میں لاج لاتے ہوئے بولی
” ٹھینکس “
” ہیں ۔ میرے خیال سے اس کا جواب آئی لو یو ٹو ہوتا ہے ” حدید نے پہلووں پر بازو جمائے
” کچھ باتیں کہنے کی نہیں سمجھنے کی ہوتی ہے ” مہکشاں ٹھورا نزدیک آئی اور اسکی شرٹ سے نادیدہ گرد جھاڑنے لگی۔
” لڑکی کا پھول پکڑ لینا ۔ مسکرا دینا ۔ مسکرا کر شرما جانا اور ٹھینکس کہنا ہی آئی لو یو ٹو کی دلیل ہیں ۔ ” وہ پیار سے بولتی اب اسکے چہرے کو دیکھ رہی تھی
” میں چاہتا ہوں تم ہمیشہ میرے پاس رہو۔ اتنا پاس کہ مجھے میری موجودگی کا احساس نا ہو ” حدید بنا پلکے جھپکائے مہکشاں کا خوبصورت چہرا اپنی آنکھوں میں لیے بولا تھا ۔
ساتھ ہی اسنے دو انگلیوں سے اسکے چہرے پر جھولتی لٹ بھی کان کے پیچھے ارسی تھی ۔ ایسا کرنے پر مہکشاں سرخ ہوئی تھی
” بس تین مہینے اور پھر ہم دونوں ہمیشہ ساتھ ہونگے ” مہکشاں نے اسکے چہرے کو ہاتھ سے چھو کر کہا
تو حدید کے چہرے پر نا پسندیدہ تاثر آئے
” تین مہنے کیوں ۔ مجھ سے اتنا ویٹ نہیں ہوگا ۔ ” وہ منہ بنا کر بولے ۔
” تین مہینے بعد فائنل ایئر کے ایکزیم ہیں ۔ میں چاہتی ہوں اس بار تم ایکزیم پاس کرو ۔ اپنی ڈگری لو ۔ اسے شادی کے لیے میری شرط سمجھ لو ” مہکشاں پیچھے ہٹی اور سنجیدگی سے کہا ۔
” یعنی اب پڑھنا پڑے گا ۔ ” وہ کان کھجاتے ہوئے بولا ۔۔
” بلکل اور پھر پریکٹیکل بھی ہونا پڑے گا ۔ شادی صرف نکاح کر کے ایک ہونے کا نام نہیں ہے ۔ یہ بہت بڑی ریسپانسیبلیٹی ہے ۔ مجھے پتا ہے تم ساری زندگی کوئی جاب نا بھی کرو تو بھی آرام سے رہ سکتے ہو لیکن میں چاہتی ہوں تم میرے اور منہال کے لیے اپنی محنت سے پیسا کماو ۔ اپنے کمائے ہوئے پیسے ہم پر خرچ کرو ۔ کیا تم کرو گے نا ۔ “
وہ پھر اسکی طرف پلٹ کر آنکھوں میں امید اور لہجے میں ارمان لیکر بولی ۔
” تم کہو تو دنیا سے لڑ جاوں ۔ یہ ایگزیم کیا لائف کے بھی سارے ایگزیم کلیئر کر لوں ۔ اگر تمہاری یہ خواہش ہے تو زہے نصیب آپ کا حکم سر آنکھوں پر ” حدید نے تعظیم بھرے انداز میں کہتے اسکا ہاتھ تھاما اور اسکی پشت پر بوسہ دیا ۔ ساتھ ہی وہ زرا سا جھکا بھی تھا
مہکشاں اسکے انداز پر سرشار سی ہو کر ہنس پڑی ۔
” کیا کر رہے ہو ۔ کوئی دیکھ لے گا ۔ ” وہ اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے حجل زدہ ہوتے بولی
” کوئی دیکھے تو اسکی آنکھیں نا نکال دوں ۔ اور اپنی ہونے والی بیوی کا ہاتھ پکڑا ہے کس کی مجال روک کر دیکھائے ” وہ چیلنجنگ انداز میں گویا ہوا ۔
” بیوی اور ہونے والی بیوی میں فرق ہوتا ہے ” مہکشاں پھولوں کو سیٹ کرتے ہوئے مدھم سے مسکراکر بولی ۔
” ہونے والی بیوی جی ایک بات بتاوں آپکو ” وہ خود بھی اسکے ساتھ پھول سیٹ کرنے لگا۔
“ہاں بتاو ” مہکشاں پھول اکھٹے کر رہی تھی انکا بوکے بنانے کے لیے ۔
” جب مجھے تمھارا نام نہیں پتا تھا تو میں نے تمھارا نام پھولاں والی رکھا ہوا تھا ۔ ” وہ خود بھی بوکے میں پھول لگانے لگا ۔
” اور میں نے کاڑتون ” اسکی بات پر وہ بھی شرارتی انداز میں بولی تو حدید قہقہہ لگا گیا ۔
گاہک آکر کھڑا ہوا تو مہکشاں اس کی طرف متوجہ ہوئی ۔
اپنی مطلوبہ چیز لیکر وہ چلا گیا تو مہکشاں نے تھکان زدہ سانس لی ۔
” میرے خیال سے اب شاپ بند کر دینی چاہیے ۔ ” وہ حدید سے مخاطب ہوئی ۔
” ہاں تھیک کہا ۔ آج بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہو ۔ چلو میں تمہی کافی بنا کر پلاتا ہوں ” حدید نے اسکی بات کی تائید کرتے ہوئے پیش کش کی
مہکشاں سر اثبات میں ہلا کر کاونٹر کی چیزیں سمیٹنے لگی ۔
کچھ دیر بعد وہ گھر میں موجود تھا ۔
حدید نے کافی بنا کر اسکے سامنے رکھی ۔۔
دونوں کیچن میں کھڑے تھے ۔
” واو ۔ مزے کی بنی ہے ۔ شمس بھی ایسی ہی بناتا تھا ” وہ تعریفی انداز میں کہتے شمس کا زکر کر گئی تو حدید کے تاثرات تنے
شمس اسکا پہلا شوہر تھا
اور ہر محبت کرنے والے انسان کی طرح حدید کو بھی یہ گوارا نہیں تھا کہ اسکی محبوبہ کسی دوسرے کا زکر کرے چاہے وہ اسکا سابقہ شوہر ہی کیوں نا ہو ۔
مہکشاں کو خود بھی اندازہ ہوا تو اسکے چہرے پر اداسی در آئی ۔
” وہ دو اپریل کا دن تھا ۔ میری اور منہال کی زندگی کا ایک مشکل دن ۔ شمس کی میت میرے سامنے رکھی تھی ۔ ہوش و حواس ، احساس اور ہر سوچ سے بیگانہ دیوار سے لگی بس روئے جا رہی تھی ۔ شمس میرا واحد سہارا تھا ۔ اسکے بنا کیا کروں گی یہ سوچ ہی دل دہلا دیتی تھی ۔ اور منہال وہ تو سمجھتی رہی اسکے بابا سو رہے ہیں ۔ اپنے چھوٹے ہاتھوں سے وہ بس اپنے بابا کا چہرا تھپتھاتی رہی ۔ اس امید پر کہ وہ آنکھیں کھولیں گے اور اسے پیار کریں گے ۔ شمس نے آنکھیں نہیں کھولیں ۔ وہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گئی تھیں ۔ ” وہ ماضی یاد کرتے ہوئے خود ہی بولنا شروع ہوئی ۔
آنکھیں ساکت رکھے جیسے سامنے ہی شمس کی میت رکھی ہو ۔
حدید بس اسے دیکھے جا رہا تھا ۔
” میرا ماضی تکلیفوں سے بھرا تھا ۔ میں بہت روئی ہوں اپنے حالات پر ۔ تمھاری وجہ سے مجھے پھر سے خوشیاں ملی ہیں ۔ ” وہ آنسووں کے درمیان مسکراتے ہوئے بولی تو حدید کا دل کسی نے بھینچا ۔
مہکشاں کے آنسو اسے درد دے رہے تھے ۔
” میں ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئی جہاں بیٹی ہونا معیوب تھا ۔ مجھ سے بڑا ایک بھائی تھا ۔دس سال بڑا ۔ شاید دوسرے بیٹے کی خواہش پر میں پیدا ہوئی تھی ۔ اماں باتوں میں بول جاتی تھیں کہ ابا نے انہیں میرے پیدا ہونے پر بہت باتیں سنائی تھیں ۔ مارا پیٹا بھی تھا ۔ ” وہ رکی اور ہچکی اندر اتاری ۔
حدید اسکے پیچھے آکر کھڑا اور کندھے پر ہاتھ رکھا
دلاسے کا
” بولنے سے دل کا اسٹریس کم ہو گا ۔ مجھے بتاو ۔ ایک ہی بار دل کا دکھ کم کر لو ۔ مگر پھر پرومس کرو ۔ پھر کبھی نہیں رو گی ۔ تمھارے آنسو میرا دل کاٹ رہے ہیں ۔ کرو مجھ سے پرومس ” حدید نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ۔
مہکشاں نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ۔
” پرومس ” دوسرے ہاتھ کی پشت سے اسنے آنسو صاف کر لیے اور مسکرا دی ۔
” یہ ہوئی نا میری پھولاں والی جیسی بات ” وہ اسے سہراتے ہوئے بولا ۔
” پھر کیا ہوا ؟ ” حدید نے دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے پوچھا
یہ پہلی اور آخری بار ہونا تھا کہ مہکشاں اپنے ماضی کا زکر کرتی ۔
اسکے بعد اسے اجازت نہیں تھی ۔
” جب ہوش سنبھالا تو باپ کی نفرت دیکھی ۔ بھائی کی بے رخی دیکھی ۔ صرف ماں تھی جو پیار کرتی تھی ۔ خب ابا کو غصہ آتا وہ مجھے مارنے لگتے ۔ اماں درمیان میں آ جاتی ۔
بھائی بھی اکثر ڈپٹ دیتا ۔
مجھے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی ۔ میرے گاوں میں بیٹیاں اس لیے گھروں میں نہیں چھپائی جاتیں کہ بے پردگی نا ہو بلکہ اس لیے کہ برادری میں زلت نا ہو ۔ بیٹی یعنی زلت ۔
چھ سال کی تھی ۔
ابا اور بھائی گھر پر نہیں تھے ۔
اماں کے منع کرنے کے با وجود بھی باہر نکل گئی
وہ دن میری زندگی کا پہلا بڑا بد تر دین تھا ۔
کسی راستے پر چلتے ہوئے ایک آدمی نے مجھے پکڑ لیا اور ۔ !” وہ بولتے بولتے سانس لینے کو رکی اور ضبط سے ہونٹ بھینچے ۔
حدید نے اسکا ہاتھ زور سے دبایا ۔
وہ سمجھ گیا تھا اسکی بات کا مطلب ۔
اسکی اپنی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں ۔
” ابا گھر پہنچے ۔ میں نہیں تھی اماں پر غصہ ہوئے ۔ مجھے ڈھونڈنے کے لیے بیجھا ۔
اماں نے مجھے جھاڑیوں میں سے اٹھایا ۔
میں نیم بے ہوشی میں تھی ۔ آنکھیں بند ہونے سے پہلے دیکھا اماں نے مجھے سینے سے لگایا تھا ۔ وہ رو رہی تھیں ۔ پھر جب ہوش آیا تو دیکھا کمرے میں تھی اور ابا اماں کو مار رہے تھے ۔ چیخ رہے تھے ۔ کہہ رہے تھے کہ ان کا قصور ہے ۔ انکی لاپرواہی کی وجہ سے یہ سب ہوا ۔ اماں سیدھی سادھی شوہر سھ ڈرنے والی تھیں ۔ مار کھاتی رہی ۔ روتی رہی ۔ ادھر میں رو تی رہی ۔
ابا کو علم ہوا کہ میرے ساتھ زیادتی کرنے والا انکا شناسہ ہے تو پتا ہے ایک غیرت مند باپ کی طرح انہوں نے اس آدمی کو کچھ نا کہا کیونکہ وہ سرپنچ کا آدمی تھا بلکہ مجھے مارا ۔۔ ” وہ پھر بولتے ہوئے رکی
اس بار رو نہیں رہی تھی ۔ فقط آنکھوں میں کرب کی کرچیاں تھیں
حدید کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا ۔
” چار سال اور گزرے ۔ میرا واحد سہارا اماں بیمار رہنے لگی۔ 4 مئی ۔ وہ رات زندگی کی دوسری بڑی بدترین رات تھی ۔
اماں رات میں ہی چل بسی ۔
میرے پاس لیتی مجھے سونے کا کہہ رہی تھی
اور خود سو گئی ہمیشہ کے لیے ” وہ رکی اور گہرا سانس لیا
” ابا کی مار اور بھائی کی ڈانٹ ڈپٹ کی تو عادت ہو چکی تھی ۔ میں اپنے ہی گھر میں نوکرانی کی طرح تھی ۔ دن بھر کام کرتی اور شام کو مار کھاتی ۔ مزید کچھ سال اس طرح گزر گئے ۔ تیرا سال کی عمر تھی ۔ 9 نومبر کی شام تھی ۔ تیسری بڑی بدترین شام ۔ بھائی اپنے ساتھ کچھ دوستوں کو گھر لایا تھا ۔ وہ عیاش قسم کے اور آوارہ تھے ۔ اور اس شام بھائی نے مجھے اپنے دوستوں کے حوالے کر دیا ۔ وہ چار تھے میں اکیلی تھی ۔۔
نا کسی نے میری فریاد سنی
نا آہو پکار سنی
اس روز دوسری بار میری عزت داغ دار ہوئی تھی ۔
اس روز کے بعد مجھ میں جینے کی ساری حسیں ختم ہو گئی تھیں
میں نے خود کو مارنے کی کوشش کی ۔
ایک بار ۔ کئی بار ۔ مگر مار نا سکی
شاید بزدل تھی ۔
دعا کرنے لگی کہ قدرت ہی جان نکال۔ ” اسکے لفظ منہ میں دب گئے جب حدید نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا
” پلیز ۔ میں تمھاری باتوں میں بھی موت کا نام نہیں سننا چاہتا ۔ نا ہی وہم و گمان میں ” سر نفی میں ہلاتا وہ فریاد کرتے ہوئے بولا
مہکشاں نے اسکا ہاتھ ہٹایا اور معزرت بھری نظروں سے دیکھا ۔
” اب نہیں بولوں گی “
” میں کبھی تصور نہیں کر سکتا تھا تمھارا پاسٹ اتنا ڈارک ہو گا ۔ کاش ہم اس وقت ملے ہوتے ۔ میں تمھارے لیے ہر اس شخص کو مار دیتا جس نے تمہیں رلایا ۔ جس نے تکلیف دی ۔” وہ برہم زدہ لہجے میں بولا ۔
” کیا تم میرے لیے انہیں مار سکتے ہو ۔؟ ” مہکشاں نے سوالیہ دریافت کیا ۔
” بلکل ۔” ایک لفظی جواب مضبوط لہجے میں دیا گیا ۔
” مجھے اندازہ ہے ۔ اس دن روعان پولیس کو لیکر نا آتا تو تم زخمی ہونے کے باوجود بھی ان دو آدمیوں کو مار دیتے ۔ “
” میں بلکل ویسا کرتا ۔ مگر وہ آدمی تھے کون ۔اور کیا چاہتے تھے تم سے ” حدید کو یک دم خیال آیا تو استفار کیا
” وہ سر پنچ کے آدمی تھے ۔ ” مہکشاں نے جواب دیا ۔
” مگر وہ تم سے کیا چاہتے تھے ” حدید الجھن زدہ ہوا
” پندرہ سال کی تھی ۔ 2 جنوری کا دن تھا ۔ بھائی نے قتل کر دیا ۔ سر پنچ کے بیٹے کا قتل کر دیا ۔ میری قسمت ایسے معاشرے میں پیدا ہوئی جہاں قتل ہونے پر بیٹے کو بچانے کے لیے بیٹیاں قربان کی جاتی تھیں ۔ قتل کے بدلے مجھے ونی کر دیا گیا ۔ “
” یہ ونی کیا ہوتا ہے ” حدید اس لفظ سے بلکل نا واقف تھا ۔
” ایک رسم ہے جو گاوں وغیرہ میں پائی جاتی ہے ۔ قاتل کی بہن یا خاندان کی کوئی اور لڑکی مقتول کے باپ یا بھائی کے حوالے کردی جاتی ہے ۔ شادی ہو جاتی ہے ۔ چھوٹی عمر کی لڑکیوں کی بڑی عمر کے مردوں ساتھ شادی کردی جاتی ہے ۔ وہ باندیاں بنا دی جاتی ہیں ۔” مہکشاں نے واضح کیا ۔
” قتل تمھارے بھائی نے کیا اور سزا تمہیں ۔ یہ کیسا رول ہے ” حدید کوفت زدہ ہو کر بولا۔
” یہی روایت ہے ۔ یہی اصول تھا ۔ اس لیے بیٹیاں ونی کردی جاتی تھیں کہ لڑائی ختم ہو جائے ۔ ایک طرح کا کفارا ہوتیں تھیں بیٹیاں ۔” وہ گہرا سانس لیکر یاسیست سے بولی
“پھر کیا ہوا؟ ” حدید کو آگے جاننے کی کسک ہوئی ۔
” جس دن میرا سر پنچ کے ساتھ نکاح طے تھا سوچا بھاگ جاوں گی ۔ سر پنچ نے دو شادیاں کر رکھی تھیں ۔ ایک بیوی شہر میں تھی ۔ اس سے ایک بیٹا تھا ۔ وہ شمس تھا ۔
اس دن شمس گاوں آیا ہوا تھا ۔
اسے تمام معاملے کی خبر ہوئی ۔ ضمیر تھا یا تربیت شمس نے گوارا نا کیا کہ اسکا ساٹھ سال کا باپ ایک پندرہ سال کی لڑکی سے شادی کرے ۔ اور پھر اس روز شمس مجھے وہاں سے بھگا کر لے گیا ۔
مجھے بس نکلنا تھا اور میں اسکے ساتھ چلی گئی
شمس تیس سال کا تھا مجھ سے پندرہ سال بڑا
وہ اپنے باپ اور سوتیلے بھائی جیسا نہیں تھا
وہ ایک ڈاکٹر تھا ۔ اسکی ماں بھی پڑھی لکھی عورت تھی ۔ شمس نے مجھے کہا وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے ۔ ایک عزت دار زندگی دینا چاہتا ۔ اس لمحے مجھے شمس سے محبت ہوئی تھی ۔ مجھے عزت دینے کی بات کرنے والا وہ پہلا شخص تھا ۔
22 اگست کا دن تھا ۔ جب ہمارا نکاح ہوا
شمس کے روپ میں ہم سفر ملا ۔ انجم آنٹی کے روپ میں ماں ملی مگر وہ چھ ماں بعد ہاڑت اٹیک سے چل بسی۔ میں نے دوسری بار اپنی ماں کو کھویا۔
وقت آگے بڑھا ۔
منہال پیدا ہوئی ۔
زندگی بدل گئی تھی ۔ لگتا تھا تکلیفیں ختم ہو گئی ۔ اب بس خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی ۔ مگر ابھی زندگی نے ایک غم اور دینا تھا۔ شمس کی موت کا” وہ سانس لینے کو رکی اور پلکیں جھپکا کر آنسو اندر ہی اتارے ۔
” کیا ہوا تھا ” حدید نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
” وہ ایک ہفتے کے لیے میڈیکل کیمپ گیا تھا ۔ کسی گاوں میں ۔ وہاں کوئی وبائی مرض پھیلا ہوا تھا ۔ لوگوں کا علاج کرتے کرتے وہ خود بھی اسکے کنٹیکٹ میں آ گیا ۔ دو دن ہسپتال میں رہ کر اسنے دم توڑ دیا ۔ ” اس بار مہکشاں نے اپنے آنسو روکے نہیں بلکہ انہیں بہنے دیا ۔
وہ ساتھ ہی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
حدید نے اس بار اسے رونے سے منع نہیں کیا۔
آج وہ کھل کر رو لے
پھر اسکی زندگی میں آنسووں کی جگہ نہیں ہوگی
حدید نے خود سے وعدہ کیا ۔
” میری زندگی پھر اجڑ گئی ۔ لگا اس بار مر جاوں مگر پھر منہال کو دیکھا ۔ مجھے جینا تھا اور منال کے لیے جینا تھا ۔ شمس نے مجھے حعصلہ دیا تھا ۔ میرے اندر سے ڈر اور خوف نکالا تھا ۔ مقابلہ کرنا سیکھایا تھا ۔ فلاور شاپ بھی اسی نے کھول کر دی تھی تاکہ خود مختار ہو سکوں ۔ شادی کی پہلی اینیورسری پر اسنے سائیکل گفٹ کی تھی ۔ یہ کہتے ہوئے کہ میں چاہتا ہوں تم اب اپنا بچپنا جیو ۔ وہ منہال کے لیے کھلونے لاتا تو میرے لیے بھی لاتا ۔ مجھے پڑھنا لکھنا بھی شمس نے سیکھایا تھا ۔ وہ چاہتا تھا میں مزید پڑھوں ۔ شمس کی خواہش پر ہی میں نے کالج جوائن کیا اور اب یونیورسٹی ۔ ” شمس کے بارے میں بتاتے ہوئے مہکشاں کے چہرے پر کئی رنگ کھل رہے تھے ۔
” چار سال اکیلے منہال کی پرورش کی ہے ۔ کئی مشکلوں سے گزری ہوں ۔ مجھے اندازہ تھا کہ سر پنچ آرام سے نہیں بیٹھے گا ۔ وہ اپنے آدمیوں کو میری تلاش میں ضرور بیجھے گا ۔ اور اس دن وہ دو آدمی اس لیے ہی آئے تھے تاکہ مجھے اور منہال کو لے جائیں ۔ پھر سے اس جہنم میں لے جائیں جہاں میں نے پندرہ سال گزارے تھے ۔ اس روز مجھے اور میری بچی کو برباد ہونے سے تم نے بچایا تھا ۔ میں جتنا تمھارا احسان مانو کم ہے ۔ “
” میری مدد کا بدلہ ساری عمر مجھ سے محبت کر کے دو ” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جزب سے بولا تھا
” اور تم منحوس نہیں ہو ۔ منحوس وہ لوگ ہیں جنہوں نے تمھاری قدر نہیں کی ۔ میں وعدہ کرتا ہوں تمھاری زندگی میں اتنی خوشیاں بھردوں گا کہ اپنے پاسٹ کو بھول جاو گی ۔ یہ حدید کا پکا وعدہ ہے ۔ ” حدید نے کہتے اسے نا محسوس انداز سے اپنے قریب کیا ۔
مہکشاں کی ڈھرکن رکی
پھر بہت پیار سے حدید نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔
مہکشاں نے آنکھیں موندھ لیں
اسکے ہونٹوں کا لمس محسوس کیا
پھر تیزی سے پیچھے ہٹ گئی
” تم یہ سب ابھی نہیں کر سکتے ۔ جب نکاح ہو جائے پھر تمھارا مکمل مجھ پر اختیار ہوگا “
” میری ایک ایک سانس اب اس دن کا انتظار کرنے والی ہیں ۔ دل کرتا ہے پلک جھپکتے ہی وہ لمحہ آ جائے ” وہ دل پر ہاتھ رکھتے بولا۔
” بس ٹھورا اور صبر ” مہکشاں نے تسلے بھرے لہجے میں کہا ۔
مگر یہ صبر تین مہینے سے زندگی بھر کا دکھ بننے والا تھا ۔
جس لڑکی کو حدید فراموش بھی کر چکا تھا اس سیاہ فام لڑکی کی آہ عرش تک پہنچ چکی تھی
حدید کو بلکل اندازہ نہیں تھا کہ طوبی ( ٹریسا ) کے رنگ کا مزاق اڑانا اسے کس قدر بھاری پڑ سکتا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
شہوار پولیس کے ساتھ ناصر ملک کے شہر سے باہر گھر پر پہنچا تھا ۔
ناصر ملک موجود نہیں تھا
چار پہرے دار تھے جنہیں پولیس نے پکڑ لیا تھا ۔
شہوار اندر بڑھا
وہ کمرے چیک کرنے لگا ۔
تیسرے کمرے میں اسے آدم مل گیا ۔
زخمی
بے حال حالت میں
وہ بنا شرٹ کے کرسی سے بندھا تھا ۔
اسکا چہرس گردن اور سینے سے خون رس رہا تھا
شہوار تیزی سے اس تک پہنچا اور رسیاں کھولیں ۔ اسے ناصر ملک پر شدید غصہ آ رہا تھا
آدم نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں اور شہوار کو دیکھ کر مسکرایا ۔
” مجھے معلوم تھا تم ضرور آو گے ۔ ” توٹے پھوٹے اتکتے لہجے میں کہا ۔
اسکی آنکھیں نہیں کھل رہی تھیں
بار بار اندھیرا چھا رہا تھا
سر گھوم رہا تھا
” چلو اٹھو ۔ ہمت کرو ” شہوار نے اسے اٹھنے کا کہا تو آدم نے اسکا ہاتھ پکڑا
” کچھ بتانا ہے تمہیں ۔ “
” ابھی اسکا وقت نہیں ہے ” شہوار نے کوفت سے کہا ۔
” نہیں بعد میں دیر ہو جائے گی ” آدم کا لہجہ اکھڑ رہا تھا
” کہو میں سن رہا ہوں ” شہوار نے حامی بھرلی
” تمھارے ماں باپ کا قاتل ۔۔۔ ” آدم رکا تھا اور شہوار کی سانس رکی تھی
” صیام بخاری ہے “
شہوار کے چہرا یک دم آگ بگولہ ہوا تھا
صیام بخاری گھٹیا انسان تو تھا ہی اپنے مفاد کے لیے کسی کی جان بھی لے سکتا تھا ۔
شہوار کو زیادہ حیرت نہیں ہوئی تھی ۔ البتہ صیام بخاری کے ساتھ کاروباری دشمنی لمحوں میں زاتی دشمنی بنی تھی ۔
” میرے پاس ایک ثبوت ہے۔” آدم مزید کہہ رہا مگر اس پر پھر بے ہوشی طاری ہونے لگی ۔
اسکے سر پر گہری چوٹ لگی تھی ۔
اگلے لمحے وہ مکمل بے ہوش ہو گیا۔
شہوار سیدھا ہوا اور گہرے سانس لیکر ضبط کیا ۔۔
ایک بیٹی تھی جو اب اسکی زندگی برباد کر گئی تھی ۔
ایک باپ تھا جس نے بیس سال پہلے کی تھی۔
” میں قسم کھاتا ہوں صیام بخاری ۔ تم سے میرے ماں باپ اور آفندیز کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لوں گا ” انگاڑ آنکھیں اور سخت لہجہ میں کہتے اسنے خود کو چیلنج دیا تھا ۔
پھر ایمبولینس کو کال کی تاکہ آدم کو ہسپتال پینچایا جائے ۔
صیام بخاری اسکے لیے تکلیف کا باعث بنا تھا اور آگے بھی بننے والا تھا
اس بار یہ تکلیف چھوٹے بھائیوں کے حصے میں آنے والی تھی
تکلیف انہیں
درد اسے
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕 ۔
جاری ہے