Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249 Episode 53
No Download Link
Rate this Novel
Episode 53
آتش_عشقم
قسط نمبر 53
از قلم حرا شاہ
” کیا کہہ رہے ہو تم ۔ ناصر ملک کی موت کیسے ہو سکتی ہے ” اگلی صبح انویسٹیگیشن آفیسر نے آتے ہی جب ناصر ملک کا لاک اپ خالی دیکھا تو گاڑد سے دریافت کرنے پر اسے یہ بات معلوم ہوئی ۔
” سر مجھے اسکے درد سے کرہانے کی آواز آئی۔ میں نے جا کر دیکھا تو وہ زمین پر گرا پڑا تھا ۔ میں نے چیک کیا تو سانسیں بند تھیں ۔ وہ مر چکا تھا ۔ ” گاڑد ( جو کہ صیام بخاری کا آدمی تھا ) نے تمام واقعے کی تفصیل سے آگاہ کیا ۔
” اس وقت ڈیڈ باڈی کہاں ہے ” آفیسر نے پوچھا ۔
وہ سخت پریشان لگ رہا تھا ۔
” مردہ خانے میں منتقل کردی ہے ” گارڈ نے بتایا جبکہ وہ آفیسر کی پریشانی سے اندر ہی اندر محظوظ ہو رہا تھا ۔
” اگر کسی کو پتا چلا کہ ہمارے ڈیپاڑٹمنٹ کے لاک اپ میں ایک مجرم کی موت ہوئی ہے تو ہماری بدنامی ہو جائے گی ۔ تمام شک ہم پر جائے گا ۔ مجھے بتاو کیا میرے بعد یہاں کوئی آیا تھا اس سے ملنے ۔ ” آفیسر نے خدشات کا زکر کرتے ہوئے گاڑڈ سے عجلت میں پوچھا ۔
” نہیں سر کوئی نہیں آیا” گارڈ نے بہت صفائی سے جھوٹ بول دیا ۔
سلار کے آنے کے نشانات جیسے سی سی ٹی وہ فوٹیج فنگر پرنٹس وغیرہ وہ پہلے ہی مٹا چکا تھا ۔
ساتھ ہی ہاشم لغاری کو بھی دھمکا کر خاموش رہنے کا کہہ دیا تھا ۔
” ڈیڈ باڈی کا جلد از جلد پاسٹ مارٹم کرواو تاکہ موت کی وجہ پتا لگ سکے ۔ ” آفیسر نے ہدایت کی تو گارڈ نے سر اثبات میں ہلا دیا ۔
اس وقت ڈیپارٹمنٹ کے باقی لوگ موجود نہیں تھے ۔
اس سے پہلے وہ سب آتے اسے ناصر ملک کی لاش وہاں سے نکالنی تھی ۔
اس نے فون اٹھایا اور ڈاکٹر کو کال لگانے لگا ۔
ڈاکٹر نے کال پر کہا کہ لاش اسکے کلینک میں پہنچا دی جائے ۔
گارڈ نے اس بات کی اطلاع آفیسر کو دی تو آفیسر نے خفیہ طریقے سے لاش کلینک پہچانے کی تنبیہ کی ۔
گارڈ کے جاتے ہی وہ خود سوچ میں پڑ گیا
اسے ناصر ملک کے غائب ہونے کی ایسی کہانی بنانی تھی جس سے ڈیپارٹمنت پر شک نا جائے
دفعتا اسے ایک خیال آیا
اسے اب گارڈ کے واپس آنے کا انتظار تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
” کیا تمھارا کام ہو گیا ” صیام بخاری آفس کی پاور سیٹ پر بیٹھا فون پر کہہ رہا تھا
مخاطب سلار تھا ۔
” بلکل ۔ ابھی کچھ دیر بعد ٹی وہ پر خبر آئے گی ۔ انٹی ہیومن ٹریفنک ڈیپاڑٹمنٹ کے لاک اپ سے ایک قیدی گارڈ پر حملہ کر کے فرار ” سلار نے خبر پڑھنے کے انداز میں کہا ۔
” فرار مطلب ۔ میں نے تمہیں مارنے کے لیے کہا تھا ۔ بھگانے کے لیے نہیں ۔ ” ناصر ملک نے الفاظ دبا کر بولتے پہلو بدلا ۔
” ڈیپارٹمنٹ یہ بات باہر نہیں نکال سکتا کہ اسکے لاک اپ میں ایک موت ہوئی ہے ۔ فرار ہونے والی بات تو ایک کور سٹوری ہے محض ” سلار نے واضح کیا ۔
” تھیک ہے ۔ ” صیام بخاری نے کہا اور فون بند کر دیا ۔
کچھ دیر وہ پر سوچ انداز میں بیٹھا رہا ۔
اسے سلار پر مکمل بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا
آخر کو تھا تو وہ اسکے حریف کا بھائی ہی
یہ سوچتے ہوئے اسنے اپنے ایک آدمی کو سلار پر نظر رکھنے کا کام سونپ دیا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
شہوار شاہ اس وقت پیلس کی سٹڈی میں موجود تھا ۔
سامنے والی دیوار پر کالی گرافی کی پینٹنگز لگی تھیں جو روعان نے بنائی تھیں ۔
وہ اکثر یہاں بیٹھ کر کنویس پر کالی گرافی کرتا اور قرآن کی آیت خوبصورت انداز میں لکھتا
شہوار اس وقت گہری سوچ میں تھا جب سامنے لگی کیلی گرافی کی ایک آیت پر اسکی نظر ٹھہر گئی ۔
تمھارا مستقبل تمھارے ماضی سے بہتر ہوگا..
(القران93:4)
شہوار نے اس آیت کو بارہا پڑھا یہاں تک کہ اس کے اندر ایک اطمینان اترا
اسے لگا جیسے اللہ برائے راست اس سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہو
آزمائشیں
تکالیف
اور آفات کے بعد
آسانیاں اور بہتری ضرور آئے گی
اگر تم صحیح راستے پر چل رہے ہو
شہوار نے ایک گہری سانس لیکر رخ پھیرا تو ٹھٹک کر رکا ۔
وہ فرح تھی یا فرح کا عکس
جو بھی تھا
وہ اسے خفگی سے دیکھ رہی تھی
اور بس دیکھے جا رہی تھی ۔
شہوار نے اپنا سر جھٹکا ۔
آنکھیں مسلیں
پھر دوبارہ دیکھا تو کوئی نہیں تھا
وہ اٹھ کر کمرے میں آ گیا
باتھ روم گیا اور نل کھول کر منہ پر چھینٹے مارنے لگا ۔
کچھ غلط تھا
کچھ غلط ہوا تھا
کچھ غلط ہونے والا تھا
شہوار کے دل میں اس وقت شدت سے وسوے اٹھ رہے تھے
خود کو کمپوز کر کے وہ باہر نکلا تو اسکا فون بج رہا تھا
کال انسپیکٹر ظفر کی تھی
سلار کے بارے میں کوئی اطلاع دینی ہوگی
” جی ظفر صاحب۔ ” شہوار نے کال اٹھائی
” دو دن پہلے سلار کی ضمانت ہو گئی تھی تو وہ یہاں سے چلا گیا تھا ۔ کچھ پوچھ تاچھ کے لیے مجھے اسکی ضرورت تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا ۔ اسلیے آپ سے کہہ رہا ہوں ۔ اسے اطلاع دے دیجیے گا ” ظفر نے درخواست کی تو شہوار حیرت زدہ ہوا
” کس نے ضمانت کروائی ۔ ” وہ چونک کر بولا
” مسٹر صیام بخاری نے ۔ کیا آپ کو خبر نہیں ” شہوار کے انداز سے اس نے اندازہ لگایا
اور شہوار کا یہ نام سن کر بھک سے دماغ اڑا
صیام بخاری بے فائدہ تو سلار کی ضمانت نہیں کروائے گا ۔
وہ ضرور بدلے میں اس سے کوئی کام کروائے گا
ممکن ہے کہ اسکے ہی خلاف
اور سلار جو کہ پہلے ہی اپنے بھائی سے نفرت میں مبتلا ہے وہ اسے نقصان پہنچانے کے لیے کچھ بھی کر جائے گا
دل کے وسوے حقیقت کا روپ دھار رہے تھے
” ٹھیک ہے ۔ میں اسے کہہ دوں گا ” شہوار نے فون پر کہہ کر کال کٹ کی اور خود تیزی سے باہر نکل گیا ۔
کمرے میں رکھی جائے نماز اور قرآن پاک اداسی سے اسے جاتا دیکھتے رہے
آزمائشیں تو اللہ سے قریب کرتیں ہیں ۔
لیکن وہ اپنی آزمائشوں میں الجھا دور ہوتا جا رہا تھا
مگر اللہ کو اپنے بندے کو قریب کرنا آتا ہے
کبھی پیار سے
کبھی غضب سے
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
ڈیوس مارک کے گھر آج اسکی دونوں بیٹیاں مدعو تھیں ۔
وہ بہت بیمار رہنے لگا تھا
اس وقت بھی بیڈ پر لیٹا مسلسل کھانس رہا تھا
بڑی بیٹی ویلٹ اپنے شوہر آرٹھر کے ساتھ آ چکی تھی
اب دوسری بیٹی کا انتظار تھا۔۔۔
سر سے لیکر پاوں تک مکمل برقع میں لپٹی طوبی نے اپنے باپ کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر گہرے سانس لیے
وہ اپنی مرضی سے کبھی اس گھر میں قدم نا رکھتی
وہ اندر بڑھ گئی
جب ڈیوس کے کمرے میں پہنچی تو وہاں موجود تینوں نفوس نے اسے چونک کر دیکھا
وہ اول تو اسے پہنچانے نہیں
پھر جب اس نے نقاب اتارا تو چہرا واضح ہوا
” یہ تم کیا بنی ہوئی ہو ؟ ” ویلٹ حیرت زدہ تھی
” جو بھی ہے اچھی بات ہے چہرہ چھپا کر ہی رکھے ۔ مجھے ویسے بھی اسکی کالی صورت سے گھن آتی ہے ” ڈیوس نے چہرہ دوسری طرف پھیرتے نقاہت اور حقارت سے کہا تو طوبی مسکرائی
” چہرہ نہیں چھپا رہی بلکہ خود کو ممتاز کر رہی ہوں ۔ ” وہ پر اعتماد لہجے میں بولی
” کیا مطلب ہے تمھارا ۔” ویلٹ نے سوال کیا
” دوسری عورتوں سے خود کو الگ کر رہی ہوں تاکہ پہنچانی جا سکوں ۔ یہ صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ ایک پہچان ہے ۔ ایک مہر ہے ایک دلیل ہے اس بات کی کہ اب میں زمانہ جاہلیت میں نہیں جی رہی ۔ بلکہ حقیقت کو پا کر صحیح راستے پر قدم رکھ چکی ہوں ۔ میں مسلم ہو گئی ہوں اور مجھے اپنے فیصلے پر فخر ہے ” ویلٹ کی بات کا جواب دیتے اسنے آخری جملہ ڈیوس کی طرف دیکھتے ہوئے فخریہ انداز میں کہا ۔
ویلٹ اور ڈیوس کو دھچکا لگا
” یہ تم کیا کہہ رہی ہو ۔ تم مسلمان کیسے ہو سکتی ہو ۔ تم اپنے مزہب سے غداری کیسے کر سکتی ہو ۔ ” ڈیوس اٹھ کر بیٹھتا طوبی سے پوچھتا سخت کبیدہ خاطر لگ رہا تھا ۔
” اللہ نے مجھے ہدایت دی ۔ مجھے اسلام کو جاننے کا موقع دیا ۔ میں نے اس مزہب کو اپنے سابقہ مزہب سے بہتر پایا اور سچے دل سے اسے اپنانے کا فیصلہ کیا ” ٹریسا نے جوابا کہا
” مجھے پہلے ہی شک تھا تم کسی اور کا خون ہو ۔ ایک نا ایک دن اپنا رنگ ضرور دیکھاو گی ” ڈیوس نفرت آمیز لہجے میں بولتا کھانسنے لگا تھا
” خون تو میں آپکا ہی ہوں ۔ آپ یقین نا کریں تو میں کچھ نہیں کر سکتی ۔” وہ کہتے ہوئے آگے بڑھی اور پانی کا گلاس ڈیوس کو پیش کیا جسے اس نے پیچھے دھکیل دیا ۔
گلاس فرش پر گر کر چکنا چور ہو گیا
” تمہیں شرم نہیں آتی ۔ غیر مزہب کی پیروکار بن کر کتنے ڈھٹائی سے ہمارے سامنے کھڑی ہو ۔” یک ویلٹ آگے بڑھی اور غصے سے کہتے ایک زور دار تھپر اس کے منہ پر جڑ دیا
طوبی نے ضبط کیا
پھر بہن سے گویا ہوئی
” میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے شرم محسوس کروں ۔ رہی بات یہاں موجود ہونے کی تو میں یہاں ڈیڈ کے بلانے سے آئی ہوں۔۔۔!” وہ سرخ ہوتی آنکھوں سے ابھی کہہ ہی رہی تھی جب ڈیوس نے اسکی بات کاٹی
” اپنی غلیظ زبان سے مجھے ڈیڈ مت کہنا ۔ میں نے تمہیں بلایا اور اب میں ہی تمہیں دفع ہونے کا کہہ رہا ہوں ۔ تم پر ترس کھا کر سوچا پڑاپڑٹی کو دونوں میں برابر تقسیم کر دوں مگر اب تمھارا کوئی حصہ نہیں ۔ تمھارا اس خاندان سے کوئی تعلق نہیں ۔ دفع ہو جاو میری نظروں سے ” ڈیوس نے حتمی انداز میں کہتے ہاتھ جھلا کر اسے دفعان ہونے کا کہا ۔
تو وہ یاسیت سے مسکرائی
” تعلق تو آپ نے ویسے بھی مجھ سے نہیں رکھا ۔ نا جائز اولاد کہہ کہہ کر میری ماں کو اتنا ٹار چر کیا کہ وہ نفسیاتی مریض بن گئی اور کار ایکسیڈنٹ میں اپنی جان دے دی ۔ ایک گھر میں ہوتے ہوئے بھی مجھ سے لا تعلقی اور عداوت رکھی ۔ میرے حصے کا پیار بھی ویلٹ کو دیا ۔
مجھے ہمیشہ ایک بے کار چیز سمجھتے رہے ۔ نظر انداز کرتے رہے ۔ تعلق تو آپ لوگ مجھ سے پہلے ہی ختم کر چکے ہیں ۔ آج میں بھی اس تعلق کو ختم کرتی ہوں ۔ جس میں تضہیک اور نفرت کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ ” وہ ایک ایک لفظ مضبوط انداز میں کہتی ڈیوس سے مخاطب تھی
” آپکی دنیاوی دولت ویلٹ کو مبارک ہو ۔ مجھے حقیقی دولت مل چکی ہے ۔ مجھے اس دنیاوی دولت سے کوئی سروکار نہیں ۔ ” ویلٹ کی طرف دیکھتے پختگی سے کہا ۔
” بہت بکواس کر لی تم نے ۔ یہاں سے دفع ہو جاو اب ” ویلٹ کو طیش چڑھا
وہ اس بار بھی ہاتھ اٹھانے آگے بڑھی مگر طوبی نے روک دیا ۔
” نہیں ویلٹ ۔ دوبارہ ایسا مت کرنا ۔ ورنہ میں بھول جاوں گی تم میری بہن ہو۔ میں خاموشی سے پہلا تھپر برداشت کر گئی تھی کیونکہ اسلام نے مجھے صبر کرنا سکھایا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سکھایا ہے کہ ظلم ہونے پر اپنے حق کے لیے لڑنا بھی چاہیے ۔ ” ویلٹ کا ہاتھ پیچھے جھٹکتی وہ سخت لہجے میں بولی
پھر موبائل نکال کر اسلامک کوٹس کی ایپ کھولی اور کل رات پڑھی گئی ایک آیت با آواز بلند پڑھی ۔
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌO الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌO
’’ان لوگوں کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے (ناحق) جنگ کی جا رہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک اﷲ ان (مظلوموں) کی مدد پر بڑا قادر ہےo (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا)، اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جدو جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقینًا اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک اﷲ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے (گویا حق اور باطل کے تضاد و تصادم کے انقلابی عمل سے ہی حق کی بقا ممکن ہے)o‘‘
الحج، 22 : 39 – 40″
وہ آیت کریم کہہ کر رکی نہیں تھی ۔
اپنا نقاب درست کیا اور پر اعتماد انداز میں چلتی کمرے سے باہر نکل گئی ۔
پیچھے ڈیوس اس پر مسلسل لعن تعن کر رہا تھا
جبکہ ویلٹ اسے بد دعائیں دے رہی تھی
اور طوبی جانتی تھی کہ نا لعن تعن نا بد دعائیں اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں جب تک اللہ اسکے ساتھ ہے
اور حق کا جہاد تو گھر والوں کے خلاف ہی سب سے پہلے شروع ہوتا ہے ۔
وہ گھر سے باہر نکلی تو بارش ہونا شروع ہو گئی
ہلکی پھکلی بوندیں گر رہی تھیں
وہ ایک طرف ہو کر چلنا شروع ہوئی
اسکی جاب چلی گئی تھی اس پردے کی وجہ سے
اسکا باپ اور بہن سے تعلق ختم ہو گیا تھا جو کہ نا ہونے کے برابر تھا
مگر اسے کوئی غم نہیں تھا ۔
چاہے ساری دنیا چھوٹ جائے
چاہے ساری دنیا سے تعلق ختم ہو جائے
نا چھوٹے کوئی تو وہ بس اللہ ہو
نا کسی سے تعلق ختم ہو تو وہ بس اللہ ہو
وہ سیدھی چلتی جا رہی تھی جب موبائل پر میسج کی ٹون بجی
اس نے کھول کر دیکھا تو وہ تصدیقی پیغام تھا ۔
ایک کمپنی میں اسنے اپنے سارے کوائف دے کر جاب کے لیے اپلائی کیا تھا وہیں پر انٹرویو کے لیے بلا گیا تھا ۔
ایک در ختم ہوا تھا تو دوسرا کھل گیا تھا
وہ سکون زدہ ہوتی آگے بڑھ گئی
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
” اماں بخت زندہ ہیں کیا ؟ ” فرح نے پر امیدی کے ساتھ شاکرہ سے سوال کیا ۔
شاکرہ جو کہ منہ میں پان رکھ رہی تھی برا سا منہ بنایا۔
” ہاں بھئی زندہ ہیں ۔ نا جانے کونسی ڈائن کی عمر لیکر پیدا ہوئی ہے بڑھیا مرنے کا نام نہیں لے رہی ۔ بابا آدم کے زمانے کی لگتی ہے مجھے تو ۔ ” پان چباتے شاکرہ ہاتھ جھلا کر کہتی جا رہی تھی خبکہ فرح اسکی مکمل بات سن کر ایک طرف کو بھاگی ۔
اماں بخت لیلہ بیگم کی ماں تھیں
انکے لیے ایک مختص تھا جہاں وہ رہتی تھیں ۔
کبھی بھی کمرے سے باہر نہیں نکلی تھیں ۔
وہ مزہبی افکار کی خاتون تھیں
ناچ گانا اور طوائف کا دھندا انہیں سخت نا پسند تھا ۔
کئی بار لیلہ بیگم کو بھی منع کیا مگر وہ ماں کو ڈپٹ دیتی ۔
پیسے کی لالچی لیلہ بیگم کو اپنے کوٹھے سے اتنی کمائی مل رہی تھی کہ وہ کبھی یہ کام چھوڑنے پر راضی نا ہوتی
اور جب اسی پیسے کے پیچھے صیام بخاری کے ہاتھوں اپنی جان گنوائی تو قبر میں ایک پائی بھی نہیں لے جا سکی
فرح نے دروازہ کھٹکھٹایا
دروازہ کھلا تھا
وہ اندر چلی گئی ۔
اماں بخت
پلنگ پر پڑی ہوئیں
کمزور
لاغر جسم
لٹکی ہوئی جھریوں زدہ کھال
120 سالا ضعیف عمر
بے ضرر
فرح آگے آئی اور اماں بخت کے پلنگ پر ساتھ بیٹھی
” اسلام علیکم اماں ۔” انکا ہاتھ پکڑتے فرح نے کہا
” تو کون ہیں؟ ” لیٹے لیٹے ہی اماں بخت نے آنکھیں کھو لیں اور فرح کو اجنبیوں کی طرح دیکھا
فرح ایک لمحے کو ساکت رہ گئی
” اماں میں فرح ہوں ۔ گل آرا کی بیٹی ۔ وہ فرح جسے آپ نے قرآن پڑھایا تھا ۔ جسے آپ نے اسلام سکھایا تھا ۔ ” فرح نے اپنا تعارف کرواتے حوالے دیے تھے ۔
” اے میں نہیں جانتی تجھے ۔ ” اماں بخت نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا تو فرح کا سانس رکا
اماں بخت آخری امید تھیں مگر شاید وہ ضعف عمری کے باعث یاداشت کھو چکی تھیں ۔ وہ اسے پہچان نہیں پا رہی تھیں ۔
اسنے اماں بخت کا ہاتھ چھوڑا اور اٹھ کھڑی ہوئی
پھر مرے مرے قدموں سے باہر آ گئی
اب اسکے پاس کیا ٹھکانہ تھا
نا شہوار کا گھر
نا صیام بخاری کا گھر
نا ہی ہاسٹل
فرح نے بہت ضبط سے فیصلہ کیا ۔
وہ شاکرہ کے پاس پہنچی جو کہ لڑکیوں کا رقس دیکھ رہی تھی ۔
” اب کیا چاہیے تجھے ۔ ” شاکرہ نے سرسری سا اس طرف دیکھا ۔
” رہنے کے لیے ایک کمرہ ۔ ” فرح نے تزبز سے کہا ورنہ اسکا دل تو اس جگہ سے بھاگنے کا کر رہا تھا ۔
” بدلے میں کیا دے ۔ ناچ گانا کرے گی یا راتیں رنگین کرے گی ۔” شاکرہ کا سوال تھا یا تیز دھار چڑھیاں تو فرح کے وجود پر چلی تھیں
اس جگہ پیدا ہو کر بھی
لیلہ بیگم کے دباو کے باوجود بھی
مار ڈھاڑ کے باوجود بھی
اسنے یہ کام نا کیا تھا تو اب بھی نہیں کرے گی
کیا رب کی دنیا ختم ہو گئی تھی
ہر گز نہیں
اسے کوئی ٹکھانہ مل جائے گا
وہ پلٹنے لگی تو شاکرہ نے آواز دی
” اے سن تو پیٹ سے ہے ۔ کہاں دھکے کھائے گی ۔ تجھے کمرہ دے دیتی ہوں جب تک بچہ پیدا نا ہو ۔ اسکے بعد کہیں بھی کچھ بھی کام کر کے مجھے پیسہ چکا دیں ” شاکرہ نے اسکی حالت پر ترس کھاتے ہوئے کہا
تو فرح نے احسان مندی کا اظہار کیا
شاکرہ نے اسے گل آرا کا کمرہ دیا
فرح کو اس کمرے میں اپنی ماں کی خوشبو محسوس ہوئی
اسکی تڑپ
اسکی آہیں
اسکا انتظار
یہاں تک کہ آخری ہچکی بھی اس کمرے کی در و دیوار میں بسی ہوئی تھیں
وہ اپنی ماں کے مقام پر آ گئی تھی
کیا اسکا انجام اپنی ماں جیسا ہونا تھا یا مختلف
یقینا مختلف
کیونکہ صیام بخاری اور شہوار شاہ دونوں مختلف انسان تھے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
