Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249 Episode 45
No Download Link
Rate this Novel
Episode 45
آتش_عشقم
قسط نمبر 45
از قلم حرا شاہ
وہ گھر آبادی سے زرا ہٹ کے تھا
ارد گرد جھاڑیاں موجود تھیں
ایک پولیس وین وہاں آکر رکی ۔
دو پولیس آفیسر باہر اترے
ساتھ میں میڈم رابعہ ( گرلز ہاسٹل کی اونر ) کو بھی اتارا جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی
رابعہ حیران تھی کہ آخر پولیس انسپیکٹر نے اسکی آنکھوں پر پٹی کیوں باندھی ہے ۔
اسکی حیرت کا اضافہ تب ہوا جب پٹی کھولی گئی اور سامنے پولیس اسٹیشن نہیں تھا
بلکہ سنسان جگہ پر بنا چھوٹا گھر تھا ۔
” اندر چلو ” ایک انسپیکٹر گن دیکھاتے ہوئے بولا تو رابعہ نے قدم اندر بڑھائے
یہ تو طے تھا کہ وہ دونوں آدمی پولیس آفیسر نہیں تھے اور اسے پولیس نے گرفتار نہیں کیا تھا
گھر میں داخل ہوتے ہی گن والا نکلی آفیسر اسے ایک کمرے میں لے گیا ۔
اسنے رابعہ کو وہاں بیٹھنے کا کہا اور خود چلا گیا
رابعہ کرسی پر بیٹھی ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے گھبراہت اور پریشانی سے اپنی انگلیاں مڑورنے لگ گئی
دفعتا دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوا
رابعہ نے چہرا گھما کر دیکھا اور چونک کر کھڑی ہو گئی
وہ بلکل ویسا ہی تھا
وہی مغرور آنکھیں
وہی کھڑی ناک
وہی تیکھے نکوش
بیس سالوں میں کچھ فرق نہیں پڑا تھا
ہاں بس بال کنپٹیوں سے سفید ہو گئے تھے جو اسے مزید جازب نظر بنا رہے تھے ۔
” بیٹھ جاو ۔ کچھ باتیں کرنی ہیں تم سے ” صیام بخاری ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے رابعہ کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
” کیا چاہتے ہو تم ؟ ” رابعہ بھی بیٹھتے ہوئے بولی ۔ اسکی نظروں میں یک دم نفرت اتر آئی تھی
” پہلے میں چاہتا ہوں تم پرانی باتیں بھول جاو ۔ اسکے بعد ہم آگے بات کریں گے ” صیام بخاری نے ہاتھ اٹھا کر کہا ۔
” کیسی بات ۔ اب مجھ سے کیا کام ہے تمہیں جو بیس سال پہلے تمھارے لیے بیکار عورت تھی ۔ جسے تم نے محبت کے جھانسے دے کر بیچ تعلق میں اپنی زندگی سے نکال پھینکا تھا ۔ ” رابعہ ماضی کا زکر کرتے ہوئے مٹھیاں بھینچ کر بولی تھی ۔ اسکی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں ۔
صیسم بخاری اطمینان سے اسے دیکھتا رہا ۔
” معلوم ہے ایسی کئی لڑکیاں تھیں جن کے ساتھ میرا افیر تھا ۔ جو میرے بستر تک آئیں تھیں ۔ ہر خوبصورت لڑکی میرا من بہلانے کے لی مجھے میسر تھی ۔ تم بھی ان میں سے ایک تھی ۔ مجھے تو کسی ایک لڑکی کا نام تک یاد نہیں نا ہی شکل ۔ تمہیں کیا لگا تھا صیام بخاری تم جیسی لو کلاس لڑکی سے محبت کرے گا۔ چچ چچ ۔ تم جیسی عورتیں خود کو جھوٹے خواب دکھا کر خود ہی پھنسا لیتی ہو ۔ خیر تم مجھ سے نفرت کرو یا نہیں مجھے فرق نہیں پڑھتا ۔ میں اب بھی تم سے ملاقات نہیں کرتا مگر مجھے تم سے ایک ضروری چیز چاہیے تھی اس لیے تمہاری شکل دیکھنی پڑ رہی ہے ” صیام بخاری آگے ہو کر بیٹھا اور رابعہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہڈ دھرمی سے بولا ۔
رابعہ کچھ نہیں بولی بس اسے غصے سے دیکھے گی
اسکا بس نہیں چل رہا تھا اس آدمی کا قتل کردے ۔
” بیس سال پہلے تم نے میرے خلاف کچھ ثبوت اکھٹے کیے تھے غالبا مجھ سے بدلہ لینے کے لیے ۔ ان ثبوتوں میں ایک ریکارڈنگ بھی تھی ۔ کال ریکارڈنگ ۔ مجھے بس وہ چاہیے۔ ” صیام بخاری پیچھے ہو کر بیٹھا اور اپنا مطالبہ رکھا
” میرے پاس کچھ نہیں ہے ” رابعہ نخوت پھنکار کر بولی
” ایسا بولنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ مجھے معلوم ہے سب تمھارے پاس ہے ۔ میں زبردستی بھی لے سکتا ہوں ۔ سوچو تم یہاں ہو اور تمھارے گھر چوری ہو جائے ۔
مجھے یہ بھی پتا ہے کہ تم ان ثبوتوں کو لیکر پولیس کے پاس نہیں گئی تھی کیونکہ وہ نا کافی تھے ۔ لیکن ان کافی ثبوتوں میں بس وہ ریکارڈنگ میرے لیے کافی ہے ۔ ” وہ اسکے انکار کرنے پر ہاتھ جھلا کر کہتا اسے چوری کی دھمکی لگا گیا ۔
” اگر میں نا دوں تو ؟ ” رابعہ نے جیسے چیلنج کیا
صیام بخاری نے مسکراکر گہری سانس لی پھر رابعہ سے مخاطب ہوا تو لہجہ کاٹ دار تھا ۔
” اگر تم نہیں دو گی تو میں کیا کروں گا اسکا نظارہ تم کر چکی ہو ۔ اگلی بار تمہیں اصلی پولیس گرفتار کرے گی ہاسٹل کی لڑکیوں کی سمگلنگ کا ریکٹ چلانے کا جرم میں ۔ تمھارے ہی ہاسٹل کی لڑکیاں تمھارے خلاف گواہی دیں گی۔ تمھارے اوپر بدنامی کا وہ داغ لگے گا جو کبھی نہیں اترے گا ۔ اب فیصلہ تمھارا ہے ۔ یا تو عمر بھر کی جیل یا پھر وہ ریکارڈنگ ” وہ اپنی بات کہہ کر خاموش ہوا اور رابعہ کے جواب کا انتظار کرنے لگا ۔
” میرے پاس وقت نہیں ہے ۔ ” رابعہ کو خاموش پا کر وہ گھڑی دیکھتے ہوئے کوفت سے بولا ۔
” تھیک ہے ۔ میں وہ ریکاڑڈنگ تمہیں دے دوں گی ۔ ” بلاآخر وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی ۔
” یہ اچھا فیصلہ کیا تم نے ۔ مجھے یہی امید تھی ۔ کل میرے آفس میں ملتے ہیں ۔ میرے آدمی تمہیں ہاسٹل واپس چھوڑ دیں گے ” وہ کرسی سے کھڑا ہوا اور اپنی ٹائی درست کرتے ہوئے سرسری انداز میں کہتا باہر نکل گیا
رابعہ نے مٹھیاں بھینچ کر ضبط کیا
پھر خود بھی باہر آگئی
وین میں بیٹھتے ہی اسکی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی
وہ ہاسٹل پہنچی تو تمام لڑکیاں سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگیں ۔
کوئی جواب دیے بنا وہ سیدھا اپنے آفس چلی گئی تھی
” یہ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگا مسٹر صیام بخاری ” خود کلامی کے انداز میں وہ چیلنج کرتے ہوئے بولی
پھر ٹیبل پر رکھا لیپ ٹاپ آن کر لیا ۔
صیام کی منگوائی گئی ریکاڑڈنگ محفوظ تھی بھی یا نہیں وہ دیکھنے لگی تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ کمرا خالی تھا ۔
وسعت میں کرسی رکھی تھی جس پر وہ بیٹھا رسیوں سے باندھا تھا
اسکے جسم پر شرٹ نہیں تھی
چہرے گردن اور سینے پر چوٹوں کے نشان تھے ۔
اسکی گردن جھکی ہوئی تھی وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا جب اس پر ڈھیر سارا پانی اچھال دیا گیا ۔
آدم ہڑبڑا کر ہوش میں آیا اور زخمی چہرا اٹھا کر سامنے کھڑے ناصر ملک کو دیکھا پھر طنزیہ مسکرایا
” جتنا مار سکتے ہو مار لو ۔ چاہے جان سے مار دو مگر میں ہر گز وہ نہیں کروں گا جو تم چاہتے ہو ” ساتھ ہی منہ سے خون تھوکا
” کام تو تم سے پہلے کرنے کو کہا تھا جو تم نے نہیں کیا ۔ شہوار کی بجائے ہمارے ساتھ ہی غداری کر لی ۔ یہ جو تمھاری حالت ہے یہ اسکی سزا ہے ۔ ” ناصر ملک نے اسکا چہرا اپنے ہاتھ سے دبوچا اور چبا چبا کر بولا
” مجھے ابھی مار دوں ورنہ میں زندہ بچا تو پہلا قتل تمھارا کروں گا ” وہ غڑایا تھا ۔
ناصر ملک کو طیش آیا اور اسنے ایک ہاتھ آدم کے منہ پر جڑ دیا ۔
” آسان موت نہیں آئے گی تمہیں ۔ “
” موت تمھاری بھی آسان نہیں ہوگی ” وہ بھی بے خوفی سے ترقی با ترقی بولا ۔
ناصر ملک نے زور دار قہقہہ لگایا جیسے آدم نے مزاق کیا ہو ۔
” خیر! یہ بتاو جب تم سچ جانتے تھے تو شہوار کو بتایا کیوں نہیں ۔ ” وہ مدعے پر آیا ۔
” کیسا سچ ” آدم نے الجھن سے دیکھا ۔
” یہی سچ کہ شہوار کے ماں باپ اور آفندیز کو صیام بخاری نے قتل کروایا ہے ” وہ اسکی طرف جھک کر بولا ۔
” میرے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں تھا ” آدم نے نظریں پھیرتے ہوئے جواب دیا ۔
” کیا شہوار تمھارے کہنے کا بھی یقین نا کرتا ” ناصر ملک اسے اکسانے کے انداز میں بولا ۔
” وہ یقین کرتا مگر پولیس یقین نہیں کرتی ۔ ” آدم نے نامیدی سے جواب دیا ۔
” چچ ۔۔ چچ ۔ یہ پولیس بھی نا ۔ ان ثبوتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ناجانے کتنے مجرم کھلے پھر رہے ہیں ۔ افسوس کہ تمھارے ہاتھ کوئی ثبوت نہیں لگا ” وہ مصنوئی افسوس سے کہتا آدم کو وہیں چھوڑ کر باہر چلا گیا ۔
باہر آکر اسنے کال ملائی
” میں تمہیں چار گناہ پیسے دوں گا ۔ مجھے بس وہ ثبوت چاہیے جو تم نے ماڈلنگ سٹوڈیو میں ہونے والی لڑکیوں کی سمگلنگ کے حوالے سے اکھٹے کیے ہیں ” پیش کش کرتے ناصر ملک نے ثبوتوں کے لیے مطالبہ کیا ۔
” مجھے دس گناہ چاہیے ” دوسری طرف سے مطالبہ مزید ہوا
” جتنا دے رہا ہوں لے لو ۔ ورنہ تمھاری جان نکال کر بھی لے سکتا ہوں ” ناصر ملک غصے سے بولا ۔
” تم میری جان لوگے تب بھی یہ ثبوت پولیس کے پاس چلے جائیں گے ۔ تم بچ پھر بھی نہیں پاو گے ۔ دس گناہ والی آپشن اچھی ہے ۔ ” اس آدمی نے ناصر ملک کو ہی الٹا دھمکی لگا دی ۔
” تھیک ہے ۔ مجھے ثبوت کب ملیں گے ” غصے کو اندر اتارتے ناصر ملک نے سوال کیا ۔
” میرے اکاونٹ میں کل پیسے دلواو ۔ تمھارے گھر پارسل آ جائے گا ۔ ” وہ ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو کے مصدق بولا تھا ۔
” منظور ہے لیکن کسی قسم کی ۔۔۔”
” ہاں ہاں ہوشیاری مت کرنا وغیرہ وغیرہ ۔ جانتا ہوں سب ۔ یہ دھمکی کسی اور کو لگاو ” وہ آدمی ماصر ملک کی بات کاٹتے ہوئے استہزائیہ انداز میں بولا ۔
” بھولو نہیں میرے لیے کام کرتے ہو تم ۔ میرے ہی کہنے پر تم نے سلار کو ڈرگز کیس میں پھنسایا تھا ۔ میرے ٹکروں پر پلنے والے مجھ پر ہی بھونک رہے ہو تم ” وہ لفظ چبا چبا کر کہہ رہا تھا مگر دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی تھی ۔
ناصر نے طیش سے موبائل کو دیکھا ۔
” تم اب نہیں بچو گے ۔ ” کہتے ہوئے اسنے ایک اور کال کی ۔۔
” ایک قتل کرنا ہے ۔
وہی جو تمھارے ساتھ میرے لیے کام کرتا تھا
جس کے ساتھ مل کر تم نے سلار کو پھنسوایا تھا
بہت زیادہ ہوا میں اڑ رہا ہے ۔ اوقات یاد کروانی ہے ” حکم صادر کر کے کال بند کرتے ہوئے وہ آگے بڑھ گیا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕 ۔
ناصر ملک کی کال کٹ کر کے اسنے معنی خیزی سے موبائل کو دیکھا ۔
” تمھارے زریعے میں صیام بخاری تک پہنچوں گا۔ اسکا حشر برا ہونے والا ہے ۔ ” وہ آنکھوں میں تپش اور لہجے میں بدلے کا جوش بھرتے ہوئے بولا
پھر سامنے رکھی ٹیبل سے وہ یو ایس بی اٹھائی جو ارم نے دی تھی ۔
وہ اپنے ہاتھ سے اسے گھمانے لگا
چہرے پر پر سوچ ثاثر تھے
پھر اسنے دوبارہ کال اٹھائی اور ایک نمبر ملایا
” مجھے شاہ گروپ آف انڈسٹریز کے مالک شہوار شاہ سے ضروری بات کرنی ہے ” وہ سنجیدہ سے لہجے میں بولا ۔
دوسری طرف کا جواب سن کر وہ مسکرایا ۔
شاید ملاقات کے لیے وقت مل گیا تھا
کال بند کر کے وہ اٹھا اور کمرے سے باہر چلا گیا
وہ فلیٹ کا کمرہ تھا
اسکا دوسرا ساتھی ابھی وہاں موجود نہیں تھا
جسے ناصر ملک نے اسکے قتل کا حکم دیا تھا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
شہوار اس وقت نئے آفس میں تھا
آفس کی سرگرمیاں تقریبا شروع ہو چکی تھیں
اسنے خود کو بہت مصروف کر لیا تھا ۔
خود کو ایک لمحہ بھی فارغ نا رکھتا کہ فرح کا خیال آ جاتا اور تکلیف کا سلسلہ پھر شروع ہو جاتا
اسکا وقت وہ پریشانی سے آفس میں ٹہل رہا تھا
دو دن سے آدم کا کوئی پتا نہیں تھا
اسنے بہت کالز ملائی مگر نمبر بند گیا
نمبر بند ہونے کی وجہ سے وہ ٹریسا بھی نہیں ہو پا رہا تھا
تبھی ایک ایمپلائی جو کہ نئے آفس کا ریسپشنسٹ تھا آفس میں آیا
” سر ایک آدمی آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ اسے ضروری بات کرنی ہے ۔ ” ایمپلائی نے اطلاع دی
شہوار پریشان تھا ابھی اسے کسی سے نہیں ملنا تھا پھر کچھ سوچ کر ملاقات کی اجازت دے دی ۔
کچھ دیر بعد نیلی جینز اور بھوری جیکٹ کے ساتھ وہ شہوار کے آفس میں داخل ہوا
وہ خوش شکل تھا
شہوار کو اسکا چہرا بہت مانوس سا لگا تھا
شہوار کی نظر اسکے کٹے ہوئے ہاتھ پر پڑی ۔
” یہ آپ کے بھائی کی مہربانی ہے ۔ اپنی عورت کو کسی کا ہاتھ لگنا اسے پسند نہیں آیا ” وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا تو شہوار کے دماغ میں جھمکا ہوا
اپنی عورت
اوہ وہ لڑکی
فارم ہاوس میں قید ہو لڑکی
سلار نے اسے کہا تھا اس لڑکی کو آزاد کردے
وہ اپنے چکر میں بھول گیا تھا
اففففف
کہیں اس لڑکی کو کچھ ہو نا گیا ہو ۔
زہن میں خدشہ آتے ہی وہ تیزی سے اٹھا جبکہ دوسرا شخص اسے نا سمجھی سے دیکھتا رہا ۔
شہوار فارم ہاوس پہنچا تو وہاں کوئی نہیں تھا
فارم ہاوس خالی تھا
لڑکی کہیں نہیں تھی
اسکی پریشانی اور بڑھ گئی
وہ سلار کے کمرے میں آیا
بند کمرا
سگریٹ کا دھواں
شراب کی بد بو
ڈرگز کی گند
شہوار بامشکل سانس لیتے ہوئے اندر آیا
اس کمرے میں کھڑکی بھی تو نہیں تھی کہ ہوا کا گزر ہو جائے
وہ اگے بڑھا تو باتھ روم کے کھلا دروازے سے اسے اندر کی دیوار نظر آئی
دیوار کی سلاخیں کاٹی گئیں تھیں
وہ سمجھ گیا کہ لڑکی یہاں سے بھاگ گئی ہے
شہوار نے اطمینان کا سانس لیا
چلو وہ لڑکی خود ہی یہاں سے نکل گئی
وہ باہر آنے لگا پھر رکا ۔
الماری تک آیا اور اسے کھولا
ایک خانے میں محض ایک ڈوبتہ رکھا تھا
خون آلود ڈوبٹہ ۔
ثمرین شاہ کا ڈوبٹہ
وہ ہمیشہ سے سلار کے پاس ہوتا تھا
شہوار کا دل کھینچا تھا
وہ تو محض وہ قاتلانہ منظر تصور کر کے کانپ جاتا تھا
سلار نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا
شہوار نے ایک کرب زدہ سانس لی پھر اسے واپس رکھ دیا ۔
جب اسکی نظر ایک لفالے پر پڑی
وہ ایک طرف رکھا ہوا تھا
شہوار نے کھول کر دیکھا تو اندر تصویریں تھیں
لڑکی کی
وہ تصویریں بنا اجازت چھپ کر لی گئیں تھیں جیسے
ایک تصویر میں وہ رات کے وقت سڑک پر اکیلی چل رہی تھی ۔
اگلی تصویر میں وہ فیشن اسٹوڈیو سے نکلتی ہوئی دکھ رہی تھی
اگلی تصویر میں وہ کرسی پر بندھی بیٹھی تھی
اگلی تصویر میں وہ جائے نماز پر بیٹھی نماز پڑھ رہی تھی
اگلی تصویر میں وہ سوئی ہوئی بیڈ پر لیٹی تھی اسکے ہاتھ میں مردانہ ہاتھ تھا
شہوار پہچانتا تھا وہ سلار کا ہاتھ تھا
شہوار نے تصوریں واپس لفالے میں ڈالی اور سوچتے ہوئے باہر آگیا ۔
وہ لفافہ بھی ساتھ لے آیا
یہ تو واضح تھا کہ وہی اغوہ کی گئی لڑکی تھی
پہلی تین تصوریں تو سمجھ آتی تھی
دو میں نظر رکھی گئی تھی اور تیسری میں اسے بندھی بنا لیا گیا تھا
مگر آخری دو تصویروں کا کیا مقصد تھا
یہ جواب تو سلار ہی دے گا ۔
وہ سر جھٹک کر فارم ہاوس سے باہر آ گیا ۔
وہ واپس آفس آیا تو ملاقات کو آیا آدمی وہیں موجود تھا
” معزرت مجھے اچانک جانا پڑا ۔ کیا ضروری بات کرنی تھی ۔” وہ پاور سیٹ پر بیٹھتے ہوئے اسے بولنے کا اشارہ کرتے ہوئے فائل کھول لی ۔ لفافہ وہ دراز میں ڈال چکا تھا
” آپ کا خاص آدمی رائٹ ہینڈ آدم کہاں ہے میں جانتا ہوں ۔ ” اس نے رازداری سے کہا تو شہوار نے فائل سے سر اٹھایا
” کہاں ۔ کیا کچھ ہوا ہے اسے ” شہوار نے پریشانی سے استفار کیا
” ابھی نہیں مگر بہت جلد ہو سکتا ہے مارا جائے ۔ ” اسنے کندھے اچکا کر کہا تو شہوار نے آپس میں دانت پیوست کیے
” کیا مطلب ہے تمھارا “
” مطلب یہ کہ صیام بخاری خاموش تو نہیں بیٹھے گا ۔ آدم نے اسکے ساتھ دھوکہ کیا ہے وہ بدلہ تو لے گا ہی ” وہ سامنے رکھا پیپر ویٹ اپنے ہاتھ سے گھماتے ہوئے اندازہ کرتے ہوئے بولا ۔
شہوار نے اپنی کنپتی مسلی
اففف
وہ یہ کیسے بھول سکتا تھا
اسے اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ صیام بخاری سکون سے نہیں بیٹھے گا ۔
” کیا جانتے ہو اسکے بارے میں ۔ کہاں ہے وہ ” خود کر کمپوز کر کے اسنے سامنے بیٹھے شخص سے سوال کیا ۔
” میں آپ کو اسکی لوکیشن دوں گا بدلے میں مجھے ایک فیور چاہیے ۔ ” وہ آگے کو ہوا اور شہوار کے سامنے ڈیل رکھی ۔
” کیسی آفر ” شہوار نے بے تابی سے دریافت کیا ۔
” مجھے آپکی سپورٹ چاہیے ۔ بزنس میں ہونے کی وجہ سے آپکی اچھی پہنچان ہوگی ۔ ” وہ بتاتے ہوئے بولا
” اس سے تمہیں کیا فائدہ ہو گا ” شہوار نے اسے آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھا
” کہتے ہیں طاقتور سے لڑنے کے لیے خود بھی طاقتور ہونا پڑتا ہے ۔ میں طاقتور تو نہیں ہوں مگر طاقتور کو استعمال ضرور کر سکتا ہوں۔ ” وہ مسکراکر آبرو اچکا کر بولا
” اور یہ طاقتور کون ہے ۔” شہوار نے اسے بغور دیکھتے پوچھا
” صیام بخاری ” ایک نام اور شہوار نے زور دار قہقہہ لگایا
” تو تم بھی اسکی دشمنی پال کر بیٹھے ہو ۔”
” دشمنی نہیں نفرت ۔ ” وہ دانت پیس کر بولا تھا
” تھیک ہے ۔ تمہیں جو مدد چاہیے ہو گی میں کروں گا ۔ آدم کا پتا دو ۔ ” شہوار نے حامی بھرتے ہوئے کہا
” کیا آپ جاننا نہیں چاہو گے میں کون ہوں ” اس نے کہا تو شہوار مسکرایا
” تم وہی ہو جو میرے بھائی کے ساتھ ڈرگز ڈیلنگ میں شامل تھا اور اسکی گاڑی میں ڈرگز رکھ کر اسے پھنسایا بھی تھا ۔ ایک اور ساتھی بھی تھا نا تمھارا ۔ ” شہوار پر اعتماد لہجے میں اسکی سچائی بتاتے ہوئے بولا ۔
” ہوں ۔ سب جان کر بھی مجھ سے ڈیل کر رہے ہو ۔ ” وہ مشکوک لہجے میں بولا
” ابھی ہم نے ایک ڈیل کی ہے ۔ آدم کے بدلے میری طرف سے فیور ۔ سلار والی الگ بات ہے ۔ اس بارے میں کیا کرنا ہے یہ میں بعد میں سوچوں گا ” وہ سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھا اور کہا
وہ آدمی مسکرایا
” کیا یہ بھی جاننا نہیں چاہو گے مجھے صیام بخاری سے نفرت کیوں ہے ” اسنے پھر سے سوال کیا
” یہ تمھارا زاتی مسئلہ ہے ۔ مجھے ضرورت نہیں جاننے کی ۔” شہوار لاپرواہی سے بولا
” میرا نام رمیز ہے ۔ آدم ناصر ملک کے شہر سے باہر گھر میں ہے ۔ میں اپنی آفر وقت آنے پر لوں گا ” رمیز اٹھ کر کھڑا ہوا اور آگاہ کرتے ہوئے باہر نکل گیا ۔
اسکے جاتے ہی شہوار نے کال لگائی
پولیس اسٹیشن
کال بند کر کے وہ خود بھی اٹھ کر آفس سے باہر نکل آیا ۔
اس سے پہلے ناصر ملک آدم کو زیادہ نقصان پہنچائے اسے آدم تک پہنچنا تھا
اپنی گاڑی میں بیٹھتے اسکے چہرے پر سخت پریشانی تھی
گاڑی تیزی سے سڑکوں پر آگے بڑھتی جا رہی تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
لاہور جیل کے قیدی اس وقت اپنی کوٹھریوں سے باہر تھے
وہ سب صحن میں موجود تھے
پولیس نے انکے زمے کام لگائے تھے
ایک طرف سلار دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا تھا
وہ سامنے زمین پر بیٹھے نادر کو چھبتی نظروں سے دیکھ رہا تھا
اذان کی آواز فظا میں گونجنے لگی تھی ۔
سلار نے آنکھیں بند کیں اور ان الفاظوں کو دل میں اتارنے لگا
” تجھے خاص طور پر کہنا پڑے گا کہ کام کر ” ایک عجیب سی مردانہ آواز آئی تو سلار نے بد دل ہو کر آنکھیں کھولیں
سامنے سانولی رنگت والا قیدی کھڑا تھا
اذان جاری تھی
سلار کچھ نا بولا
قیدی کو نظر انداز کر کے واپس آنکھیں موندھ لیں
قیدی کو غضہ آیا ۔
اسنے ہاتھ کا مکا بنا کر سلار کی طرف چلایا مگر سلار نے اپنے ہاتھ سے اسے روک دیا
قیدی نے زور لگایا مگر سلار کی گرفت مضبوط تھی
سلار نے آنکھیں کھولیں تو آنکھوں میں انگاڑے تھے
اگلے ہی لمحے وہ دوسرے ہاتھ سے قیدی کے منہ پر مکا جڑ چکا تھا
قیدی کی زور دار چینخ نکلی ۔
باقی قیدی بھی وہاں متوجہ ہو گئے
قیدی کی ناک توٹ گئی تھی جس سے خون نکل آیا تھا
” تجھے تو میں ” وہ بپھر کر کہتا دوبارہ سلار پر حملہ آور ہوا ۔ اس بار سلار پیچھے ہٹا اور قیدی کا مکا دیوار میں جا کر لگا ۔ وہ پھر درد سے ٹرپ گیا
سلار اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا
قیدی واپس پلٹتا سلار نے اسے گردن سے دبوچ لیا
وہ اسکی گردن دبا ہی دیتا جب پیچھے سے دو پولیس کانسٹیبل آئے اور اسکی گرفت سے قیدی کو چھڑوا یا
اسے واپس کوٹھری میں بند کر دیا گیا ۔
سلار ایک چہرے پر گہری مسکان آئی ۔
وہ ایک دیوار کے آگے آکر کھڑا ہوا بلکل سیدھا پھر نماز کے لیے نیت باندھ لی
وضو وہ کچھ دیر پہلے کر چکا تھا
دربار میں ملے درویش نے کہا تھا سکون حاصل کرنا ہے تو نماز پڑھ
اس وقت سلار بے چینی کی کیفیت میں تھا ۔
یہ بے چینیاں بھی اللہ کی عطا کردی ہوتی ہیں ۔ اور پھر سکون بھی اسی کی عطا ہے۔۔۔۔
پریشال کے قید خانے میں باہر کی آواز نہیں آتی تھی ۔ وہ خود ہی اندازہ کرتے ہوئے کھڑی ہوئی
زنجیروں کی ہلنے کی آواز نے خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا
پھر اندازے سے ہی ایک طرف رخ کر کے کھڑی ہوئی ۔
وہ کچھ دیر ایسے کھڑی رہی
اسکا وضو نہیں تھا ۔
لیکن وہ تیمم کر سکتی تھی
وہ بائیں دیوار کی طرف مڑی اور دیوار کو دیکھنے لگی
تبھی اسکے برابر میں کوئی آ کھڑا ہوا
پریشال نے گردن موڑی تو اسکی ماں تھی
وہ اسکے تصور سے نکل کر عکس بن کر سامنے کھڑی تھی
” کیا سوچ رہی ہو ۔ ” ملیحہ نے اسکا اجڑا ہوا چہرا دکھ سے دیکھتے پوچھا
” پتا نہیں ۔ ” پریشال نے گردن جھکا لی
” نماز پڑھ لو ۔ تمھارے رب کو سب پتا ہے ۔ وہ تمھاری بے چینی کا حل نکال دے گا ۔ ” ملیحہ نے اسکا چہرا ہاتھ سے اوپر کیا اور پیار سے بولی
وہ بھی مسکرائی
گہری یابسیست بھری مسکراہٹ
ملیحہ نے رخ دیوار کی طرف موڑا اور تیمم کرنے لگی
پریشال نے بھی ویسے ہی کیا ۔
” صبر کرو ۔ اللہ پر یقین رکھو ۔ وہ اپنے بندے کو مصیبت میں ڈال کر اکیلا نہیں چھوڑتا بلکہ مزید قریب ہو جاتا ہے ۔ یہ مصیبت بھی ٹل جائے گی ۔ بس تم نا شکری نا ہونا ۔ شکایت نا کرنا ۔ ” ملیحہ نے اسے سمجھاتے ہوئے ماتھے پر بوسہ دیا
پریشال نے آکھیں موندھ لیں پھر کھولی تو وہ اکیلی تھی ۔
اسنے گہری سانس لی اور نماز کے لیے نیت باندھ لی
صبر اور یقین
بے شک یہی دو چیزیں آزمائش پر اترنے میں مدد دیتی تھی
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے
