Aatish E Ishqam By Hira Shah Readelle50249 Episode 30
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
روعان اور منال گراونڈ آکر ایک طرف سائڈ پر بیٹھ گئے ۔ اس طرف سٹوڈنٹس کم ہی تھے ۔
تبھی ہلکی ہلکی سی مست ہوا چلنے لگی
یا روعان کو ایسا محسوس ہوا کہ مسحور کن ہوا چل رہی ہے ۔
منال اپنے ہیرو مطلب ناول کے ہیرو کے بچپن کی دستان سننے اور اسے لکھنے میں کوئی دخل اندازی نہیں چاہتی تھی ۔
” ہاں تو سب سے پہلے یہ بتاو تم بچپن میں شرارتی تھے یا معصوم تھے ” ڈائری نکالے وہ مکمل انہماک سے اسکے جواب کا انتظار کرنے لگی ۔
(واصف عیوب اپنے چھوٹے بھائی آصف کے کمرے میں داخل ہوئے تو انہیں بدستور ایک فوٹو فریم کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے پایا ۔
فریم میں آصف عیوب کی جوانی کی تصویر تھی ۔ ساتھ میں ایک سنوالے رنگ کی مگر پرکشش نین نقش والی لڑکی موجود تھی ۔ اور آصف صاحب نے گود میں تین سالہ بیٹے کو اٹھایا ہوا تھا۔ دونوں میاں بیوی نے مسکرا کر تصویر بنائی ہوئی تھی ۔ بچہ کسی شے کو دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس رہا تھا ۔)
” نا شرارتی نا معصوم ہاں مگر خاموش مزاج ضرور تھا ” روعان نے یاد کرتے ہوئے کہا ۔
” ہیییں ۔! تم بچپن میں دکھی آتما کیوں تھے ۔ ؟ ” منال نے منہ بگاڑ کر حیرت سے سوال کیا
” وہ بچہ جسے دن رات کام کروایا جاتا ہو ۔ بات بات پر گالی دی جاتی ہو ۔ جس کی ماں کو منحوس یا کرم جلی کہا جاتا ہو ۔ مارا پیٹا جاتا ہو ۔ کیا وہ بچہ ہنس سکتا ہوگا ۔ ” ایک گہرا سانس لیتے روعان نے یاسیست سے کہا ۔
منال دم سادھے اسکا چہرا دیکھ رہی تھی ۔
” ککک کون کرتا تھا یہ سب ۔ ” وہ بلکل شاکڈ سی کیفیت میں بولی
” وہ ایک ہندو عورت تھی ۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے وہ مجھ سے بہت نفرت کرتی تھی ۔ ہر وقت مجھے کسی نا کسی بات پر ڈانٹی یا مارتی رہتی تھی ۔ میں ایک بدترین بچپن گزار رہا تھا جب تک میری ملاقات حدید سے نہیں ہوئی ۔ وہ پہلا انسان تھا جس نے مجھے کچھ کھانے کو آفر کیا تھا ۔ وہ پہلا انسان تھا جس نے مجھے دوستی کی آفر کی تھی ۔ وہ مجھے اپنے ساتھ پیلس لے آیا بلیوں کا بہانہ بنا کر جبکہ پیلس میں اس وقت کوئی بلی نہیں تھی ۔
میرے دل نے کہا اسکے ساتھ جاوں اور میں نے ایسا ہی کیا ۔
اور یہ میری زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ تھا ۔
اس دن کے بعد سے میری زندگی بدل گئی تھی ۔ مجھے محبت کرنے والے لوگ مل گئے تھے ۔ بہار جان کے روپ میں ایک محبت کرنے والی محسن ۔ حدید کے روپ میں دکھ سکھ کا ساتھی ۔ شہوار بھاں کے روپ میں بڑا بھائی ملا جس نے ہر موقع پر گائد کیا ۔ ہاں سلار کے ساتھ زیادہ نہیں بنتی ۔ وہ الگ تھلگ اور کنزرٹیو رہتا ہے ۔ میری زندگی میں بہت سی تبدلیاں آئیں تھیں ۔
بہار جان کی محبت شہوار بھاں کے پیار اور حدید کی دوستی نے مجھے جینا سکھایا تھا ۔
وقت گزرنے کے ساتھ مجھے یہ علم ہوا کہ حدید بھی اس گھر کا فرد نہیں ہے ۔ ہم دونوں ہی اپنے نہیں تھے مگر اپنوں سے بھر کر محبت ملی ۔ بہار جان کی افیکشن نے یہ سمجھایا کہ رشتے صرف خون سے نہیں بنتے احساس سے بنتے ہیں ۔ اور ہمارے درمیان خون کی نہیں محبت کی بونڈنگ ہے ” وہ مکمل طور پر ماضی میں غوطہ زن ہوئے چہرے پر مدھم سے مسکراہٹ لیے بتا رہا تھا
منال ڈئری چھوڑ کر بس اسے سنے جا رہی تھی ۔
وہ بول رہا تھا اور منال سن رہی تھی ۔
اس لمحے منال کی سماعت ارد گرد سے ماوف ہو چکی تھیں ۔ کانوں میں صرف روعان کی آواز پڑھ رہی تھی اور اس وقت دل چاہ رہا تھا بس وہ بولتا رہے اور وہ سنتی رہے ۔
( ” اور کتنا خود کو بے حال کرتے رہو گے آصف ۔ سترہ سال گزر گئے ہیں ۔ خود کو اس تکلیف سے نکالو ” واصف عیوب قریب آئے اور آصف عیوب کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
” آہ بھائی جان ۔ یہ تکلیف وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہے ۔ انیس سال سے اپنی بیوی اور بیٹے کو نہیں دیکھا ۔ یہ بھی معلوم نہیں زندہ ہیں نا نہیں ۔ کہاں کہاں تلاش نہیں کیا میں نے ان دونوں کو ۔ بلاج میرا بلاج اب بڑا ہو گیا ہوگا ۔ کیسا ہوگا ۔ کس حال میں ہوگا ۔ کیا اسے یہ معلوم ہوگا کہ اسکا باپ اسکی راہ دیکھ رہا ہے ۔ ” آصف عیوب فرط جزبات سے بولتے رونے لگے تھے ۔ انہوں نے فوٹو فریم سینے سے لگاکر اسے اپنے ساتھ بھینچ لیا ۔)
” مزید وقت گزرنے کے ساتھ مجھے یہ علم ہوا کہ وہ ہندو عورت شاید میری نانی تھی ۔ وہ اپنی بیٹی سے نفرت کرتی تھی ۔ وہی نفرت وہ میرے ساتھ بھی نکالتی تھیں ۔ ایک روز میں واپس اس گھر گیا تھا ۔ تاکہ ان سے اپنے ماں باپ کے بارے میں پوچھوں ۔ مگر جب میں وہاں گیا تو وہ بیمار پڑیں تھیں ۔ انکا جسم پیرالائز تھا ۔ نا بول سکتی تھیں نا اٹھ سکتی تھیں ۔ اس دن مجھے اس عورت پر ترس آیا تھا ۔ اپنے ساتھ اسکا رویہ بھول گیا ۔ یہ بہار جان کی ہی تربیت تھی ۔ انہوں نے ہی سکھایا کہ کوئی غلط کرے تو اسکے ساتھ اچھا کرو ۔ ہو سکتا ہے وہ انسان تمھاری اچھائی سے متاثر ہو کر خود بھی اچھا ہو جائے ۔
میں کئی عرصہ اس عورت کے پاس جاتا رہا اس امید پر کہ وہ مجھے میرے ماں باپ کے بارے میں کچھ بتائے گی ۔ اور کچھ دنوں پہلے اسنے مرنے سے پہلا مجھے ایک کاغز تھما دیا ۔ اس کاغز میں میری اصل لکھی ہے ۔ میرا باپ کے بارے میں لکھا ہے ۔ میری ماں ایک ہندو تھی ۔ وہ مر گئیں تھیں مگر میرے بابا شاید ابھی زندہ ہیں ۔ ان کا کس مزہب سے تعلق تھا یہ اس کاغز پر لکھا ہے ۔ ” روعان نے مزید تفصیل سے بتاتے ہوئے اپنے بیگ سے ایک کاغز نکالا ۔
” مگر یہ ہندی میں لکھا ہے ۔ ” وہ اداسی سے بولا تھا ۔
منال جو سانس روکے اسکی بات سن رہی تھی ایک گہری سانس لیکر اسکے ہاتھ سے کاغز پکڑا ۔
” انٹرسٹنگ ۔ تمھاری کہانی تو واقعی کسی ہیرو جیسی ہے ۔ اب ہیرو کو معلوم ہوگا اسکا باپ کون ہے اور وہ اپنے باپ کو تلاش کرے گا ۔ کیا تم کرو گے ” کاغز کو دیکھتے ہوئے منال نے تجسس سے پوچھا ۔
( واصف عیوب نے تسلی آمیز انداز میں آصف عیوب کا کاندھا تھپکا تھا ۔
اب تو اتنا عرصہ گزر چکا تھا کہ بات تسلیوں سے آگے نکل چکی تھی ۔
” بھائی جان مجھے مکمل بھروسہ ہے ایک دن حفضہ اور بلاج مجھے ضرور ملے گے ۔ میری صرف یہ ہی ایک حسرت ہے ان کا چہرا دیکھے بنا مجھے موت نا آئے ” بیگھتی آنکھوں کے ساتھ وہ لہجے میں اعتماد لیکر بولے تھے ۔
” انشاءاللہ ۔ وہ ضرور ملے گے ” واصف عیوب نے بھی بھائی کا دل رکھنے کو پریقین انداز میں کہا ۔ )
” ہاں میں انکو ضرور تلاش کرنا چاہوں گا ۔ ” روعان بے تابی سے بولا ۔
” ہم دونوں مل کر تلاش کریں گے ۔ ہیش ٹیگ پارٹنر ان فائنڈنگ ڈیڈی ” منال نے کہہ کر ہاتھ آگے بڑھایا تو روعان نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ۔
” مگر ہم یہ کیسے جانے گے اس پر کیا لکھا ہے ” روعان نے دوبارہ کاغز تھاما ۔
تو منال زور سے ہنس پڑی ۔
” فرح آپی کہتی ہیں جاننا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔ تمھارے ہاتھ میں کیا ہے ” منال نے آنکھیں مٹکا کر کہتے اسکے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا تو وہ نا سمجھی سے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھنے لگا ۔۔
” ارے بدھو ! تمھارے ہاتھ میں موبائل ہے ۔ موبائل پر گوگل ٹرانسلیٹر کھولو ۔ اسکی تصویر لو اور انگلش میں ٹرانسلیٹ کرلو ۔ ” منال نے چٹکی بجاتے جیسے مسئلہ حل کیا تھا
اور اس وقت روعان کا دل کیا اپنی عقل پر ماتم کرے ۔
یہ خیال اسکے زہن میں کیوں نہیں آیا ۔
مگر کچھ باتیں زہن سے قدرتی طور پر نکل جاتی ہیں اپنے صحیح وقت پر وقوع پزیر ہونے کے لیے ۔
روعان نے تیزی سے موبائل پر گوگل کے ساتھ کیمرہ کی آپشن کھولی اور کاغز کو فوکس کیا ۔
لیکن وہ کچھ سوچ کر رک گیا ۔
” اگر میرے بابا ایک ہندو ہوئے تو ۔ میں نے اپنی زندگی ایک مسلمان کی طرح گزاری ہے ۔ اگر۔۔” روعان نے خدشاتا بات ادھوری چھوڑی ۔
” کیا پتا وہ ہندو نا ہو ” منال نے مکمل اعتمادی سے کہا تو جیسے روعان کی ڈھارس بندھی ۔
دل ڈھرک رہا تھا عجیب طرح سے ۔
منال نے روعان کے ہاتھ سے موبائل پکڑا اور خود اس کاغز کی تصویر لیکر ٹرانسلیٹ کرنے لگی
گوگل ٹرانسلیٹر نے اگلے لمحے ہندی تحریر کا انگریزی ترجمہ کر کے سامنے رکھا ۔
منال نے دوبارہ موبائل روعان کو دیا
روعان نے ڈھرکتے دل کے ساتھ اسے پڑھنا شروع کیا ۔
” میں سادھنا ہوں ۔ تمھاری نانی۔ میری بیٹی اور میں تنہا رہتے تھے ۔ میری بیٹی یعنی تیری ماں شالینی ایک دن گھر آئی اور بتایا اسنے شادی کر لی ۔ مجھے اس بات سے مسئلہ نہیں تھا ۔ مجھے جس بات نے غصہ دلایا وہ یہ تھی کہ میری بیٹی نے غیر مزہب میں شادی کی ۔ مجھ سے یہ بات گوارا نا ہوئی اور میں نے دھکے مار کر اپنی بیٹی کو گھر سے نکال دیا ۔ اس روز وہ میرے لیے مر گئی تھی ۔
لیکن تین سال بعد وہ کرم جلی پھر واپس آئی ۔ اپنے شوہر سے لڑ کر آئی تھی ۔ میری بہت منت سماجت کریں ۔ میرے پاوں پکڑے ۔ وہ بیمار تھی ۔ مجھے رحم آیا ۔ میں نے اسے قبول کر لیا ۔ مگر میں نے تجھے قبول نہیں کیا ۔ میں اس بچے کو قبول نہیں کر سکتی تھی جس کی رگوں میں کسی غیر مزہب کے انسان کا خون دوڑھتا تھا ۔ تیری ماں چند دن میں مر گئی ۔ اور تجھے میرے گلے چھوڑ گئی ۔ وہ کہتی تھی تیرا باپ تجھے لینے آئے گا مگر وہ نہیں آیا ۔ تجھے دیکھ کر ہمیشہ نفرت ہوتی تھی ۔ یہ سوچ کے خون کھولتا تھا کہ تیری رگوں میں دشمن مزہب کے انسان کا خون کھولتا ہے ۔ تیرے باپ نے ناجانے کیا جادو کیا شالینی پر وہ اپنا مزہب چھوڑ کر اسکے مزہب کی ہوگئی ۔ وہ مسلمان ہو گئی ۔ ” وہ ڈھڑکتے دل اور رکی سانس کے ساتھ اس تحریر کو پڑھ رہا تھا کہ اس جگہ آکر اسکی آنکھیں بے اختیار بھیگنے لگیں ۔
روعان نے سانس بحال کرتے بے یقینی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا ۔
” تیری ماں مسلمان ہوگئی ” وہ اس جملے کو منہ ہی منہ میں بار بار دہراتا جا رہا تھا ۔
” کیا لکھا ہے اس میں جلدی بتاو ” منال نے بے صبری سے پوچھا ۔
” میرے بابا مسلمان تھے ۔ مم ۔میں مسلمان ہوں ۔ ” کوئی اس وقت روعان حیدر سے پوچھتا اسے کتنا بڑا خزانہ ملا ہے ۔
اسے کتنی بڑی خوشی ملی ہے ۔
” سچ ” منال بھی اسکی خوشی میں برابر کی شریک ہوتے ہوئے مسکرائی ۔
” ہاں ۔۔ میرے بابا مسلمان تھے ” روعان جزباتی انداز میں کہتے والہانہ انداز میں آگے کو ہوا اور منال کو گلے لگایا ۔
اگر اسکے پاس حدید ہوتا تو وہ اسے گلے لگتا ۔
شہوار ہوتا تو اسکے بہار جان ہوتی تو انکے ۔
وہ اتنا پرجوش اور خوش تھا کہ اسے معلوم نا ہوا اپنے جزبات میں آکر اسنے منال کو ہی گلے لگا لیا تھا ۔
جیسے ہی روعان اسکے گلے لگا منال یک دم ساکت ہوگئی۔
اسکا دل تھما تھا ۔
سب اتنا اچانک ہوا کہ دونوں کو کچھ لمحے سمجھ نا آیا ۔
سٹوڈنٹس دلچسپی سے انکی طرف دیکھنے لگے ۔
منال کا چہرا سرخ ہونے لگا ۔
احساس ہونے پر روعان اس سے الگ ہوا ۔
اسکا چہرا بھی سرخ ہو رہا تھا ۔
خوشی سے
جزبات سے
منال کو بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے یا کہے ۔
وہ جانتی تھی روعان نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا ۔
اس سے بلا ارادہ یہ ہوا تھا ۔
( ” آصف میرے خیال سے ہمیں خلا کے پیپرز تیار کروا لینے چاہیے ۔ ” آصف عیوب کے آنسو تھمے تو واصف عیوب نے وہ زکر چھیڑا جس کے لیے یہاں آئے تھے
” مگر خلا کے پیپرز پر بھی تو سائن چاہیے ۔ وہ کہاں سے لو گے ۔ جب تک بلاج سائن نہیں کرے گا خلا کیسے ملی گی ۔ اور خلا اسی صورت میں لینی ہے نا کہ بلاج کے ملنے کی کوئی امید نہیں ہے ۔ اگر بلاج مل گیا تو کیا خلا کیا طلاق ۔ بھائی جان مزید کچھ انتظار کر لیتے ہیں ۔ اسکے بعد آپ جا سے چاہیں منال کی شادی کر لینا ۔ نکاح پر نکاح ہوگ تو پہلا نکاح خود ہی توٹ جائے گا ۔ مگر ہو سکتا ہے بلاج واپس مل جائے ۔ ” آصف صاحب اب بھی اس بات پر قائم تھے کہ انکے بیٹا بلاج انہیں ضرور ملے گا ۔
وہ بہت آس لیکر بھائی سے کہہ رہے تھے ۔
” تھیک ہے ۔ منال کی پڑھائی مکمل ہوتے ہی میں اسکا رشتہ کہیں اور کردوں ۔ میں اپنی بچی کو ایسے انسان کے ساتھ نہیں باندھنا چاہتا جس کے اتے پتے کا کچھ معلوم نہیں ہے ۔ ” واصف صاحب نے فیصلہ کن لہجے میں اپنا ارادہ ظاہر کیا ۔
آصف عیوب کچھ نہیں بولے ۔
وہ دل ہی دل میں وہ دعا کرنے لگے جو پچھلے کئی عرصے سے انکی زبان پر ثبت ہو گئی تھی ۔ )
” اوئے لو بائٹ ۔ یہ کیا ؟ جھپی شپی ۔ خیر تو ہے تیرے ساتھ ” وہ حدید تھا جو گلے لگنے والا سارا منظر دیکھ کر دور سے ہی چلاتا ہوا قریب آیا ۔
اسکے ساتھ مہکشاں بھی تھی ۔
حدید کے قریب آتے ہی روعان اسکے گلے لگ گیا ۔
” مم۔ مجھے آج اپنے بارے میں پتا چل گیا ۔ میرے بابا مسلمان تھے ۔ حادی میں مسلمان ہوں ” حدید کے گلے لگے اسے خود سے بھینچتے ہوئے وہ پر جوش انداز میں بتانے لگا ۔
مہکشاں آکر منال کے ساتھ کھڑی ہو گئی جس کا ہاتھ ابھی تک کانپن رہے تھے
آج سے پہلے اسنے ایسا کبھی محسوس نہیں کیا تھا ۔
روعان کے گلے لگاتے ہی ایک عجیب سے گدگدا پن دل میں محسوس ہوا ۔
اس ایک لمحے وہ دل کے بہت قریب لگا ۔
اس ایک لمحے وہ شدت سے اپنا اپنا لگا تھا ۔
اس لمحے منال واصف پر یہ راز واضح ہوا تھا اسے اپنی زندگی میں جس ہیرو کی تلاش تھی وہ روعان ہی تھا ۔
روعان حیدر اسکے ناول کا نہیں اسکا زندگی کا بھی ہیرو تھا ۔
” سچ ۔ یہ ۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے ” زور سے چلاتے ہوئے حدید نے گلے لگے لگے ہی اپنے ساتھ روعان کو گول گول گھمایا ۔
” میں بہت خوش ہوں تیرے لیے جانی ۔ شہوار بھاں اور بہار جان بھی یہ سن کر بہت خوش ہونگے ۔ ” حدید نے الگ ہوتے ہوئے کہا تو روعان نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
انکی طرف دیکھتے سٹوڈنٹس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر کس بات کی خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔
” لیڈی پانڈا یہ بات جان کر اصولا روعان کو پہلے مجھے گلے لگانا چاہیے تھا ۔ تم کیوں آئی پہلے سامنے ” منہ بگاڑ کر حدید نے منال کی طرف دیکھا تو منال اپنے ہاتھ مڑورتی بس دانٹ کچکچاتی رہی
آج اسنے اسکی بات کا کرارا جواب نہیں دیا تھا ۔
روعان بھی اپنا کان کھجاتے ہوئے منال کی طرف دیکھتا تو وہ اپنی نظریں چرا لیتی ۔
اور حدید ان دونوں کو شک بھری نگاہ سے دیکھنے لگا ۔
” کیا چل رہا تم دونوں میں ۔ ہاں ” باری باری دونوں کو دیکھتے حدید نے آبرو اچکا کر پوچھا ۔
” تمہیں نظر نہیں آتا ۔ ڈے آر ان لو ۔ ” جواب مہکشاں نے دیا تھا
تینوں نے بے اختیار اسکی طرف دیکھا تھا ۔
” مجھے کیا دیکھ رہے ہو ۔ ایسے نظریں محبت کرنے والے ہی چراتے ہیں۔ شاید ان دونوں کو بھی نہیں پتا مگر یہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے ہیں ” مہکشاں نے کاندھے اچکا کر کہا فلسفی انداز میں کہا ۔
” نہیںںںں ۔۔۔۔۔ ! یہ کیا کیا تو نے ۔ میں نے کہا تھا تیرے لیے لڑکی میں ہی پرپوز کروں گا ۔ تجھے محبت ہوئی تو مجھے آکر بتائے گا ۔ ” گراونڈ پر سر پکڑ کر بیٹھتے حدید کو اپنی فکر لگ گئی تھی ۔
” ایسی کوئی بات نہیں ۔ تمہں غلط فہمی ہوئی ہے ۔ ” گڑبڑاتے ہوئے الفاظ ادا کرتے روعان مہکشاں سے کہتا بیگ اٹھاتا وہاں سے چلا گیا ۔
منال کا دل ڈوب کے ابھرا تھا
مطلب صرف یہ وہ تھی جو محبت کرنے لگی تھی ۔
اور پھر آخر روعان کیوں اس جیسی چھوٹے قد کی موٹی لڑکی سے محبت کرے گا ۔
” کیا تم بھی یہ ہی کہوں گی مجھے مس انڈرسٹینڈنگ ہوئی ہے ۔ ” مہکشاں نے منال کو مخاطب کیا تو اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
” میں نہیں جانتی “
وہ بھی کہہ کر رکی نہیں اپنا بیگ اٹھا کر وہاں سے چلی گئی ۔
اسکا چہرا سرخ ہونے لگا تھا ۔
مہکشاں دلچسپی سے مسکرا دی ۔
” یوں جب نظریں چراتی ہوں نا تو اس بات کا یقین ہو جاتا ہے مجھ سے محبت کرنے لگی ہو ۔ ” ماضی کے جھروکے میں سے وہ شمس کے الفاظ تھے جو مہکشاں کو سنائی دیے تھے
اسکی آنکھ میں ایک آنسو آکر ٹھہرا ۔
حدید بھی اٹھ کر روعان کے پیچھے بھاگ گیا تھا ۔
مہکشاں اب تنہا کھڑی تھی ۔
اسکا دل عجیب الجھن کا شکار ہونے لگا تھا ۔
اپنے دل میں ایک شخص کو رکھتے ہوئے وہ دوسرے کو کیسے جگہ دے سکتی تھی ۔
وہ مخمصے میں پڑی تھی ۔
مہکشاں وہیں زمین پر بیٹھ گئی ۔
روعان لائبریری آ گیا اور حدید بھی اسکے پیچھے چلا آیا ۔
” بول جانی ۔ تجھے واقعی اس موٹو سے محبت ہو گئی ہے ۔بتا نا ” حدید کی تفتیش شروع ہو چکی تھی ۔
منال واصف اپنے دل میں روعان حیدر کی محبت لیے کیمپس کے اندر چلی آئی اس بات سے کوسوں انجان کہ اسکا نکاح اپنے کزن بلاج سے بچپن میں ہی ہو گیا تھا ۔
منال واصف کی زندگی میں آخر کون آنے والا تھا
روعان حیدر
یا بلاج آصف
یہ پہیلی بھی ہمیشہ کی طرح وقت کے ہاتھ میں تھی ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕۔
جاری ہے ۔
