Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

ایک رات پہلے ۔۔۔۔۔
فجر کی ازانیں فظا میں مٹھاس گھولنے کے لیے شروع ہو چکی تھیں ۔ موزن بھٹکے ہووں کو ، غفلت میں پڑے لوگوں کو کامیابی کی طرف آنے کا پیغام خاص سنا رہا تھا ۔
وہ اسلامآباد کے ایک پوش علاقے میں بنی سوسائٹی تھی ۔ سوسائٹی میں تمام بنگلے واقع تھے جہاں کے مقیم اعلی طبقے سے تعلق رکھتے تھے ۔ اس ہی سوسائٹی میں بہار پیلس بھی واقع تھا جس کی دیواروں اور ٹائلوں کا سرمائی رنگ و روغن صبح کے رات پر اختیار حاصل کرنے کی خوشی میں چمک رہا تھا ۔
سوسائٹی کے گیٹ سے نکل کر مین سڑک پر پریشال چلتی جا رہی تھی ۔ وہ ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی ۔
موسم کی سختی اب کچھ اس پر اثر انداز ہو رہی تھی ۔
گھر کے کمرے میں کمبل یا رضائی میں گھس کر بیٹھنے اور موم پھلیاں چبانے سے کئی بہتر پریشال کو سرد رات میں تنہا چہل قدمی کرنا لگتی تھی ۔
تنہا چہل قدمی اپنے ساتھ
کچھ وقت اپنے لیے
خاموشی سے گفتگو خود کے ساتھ
آنکھیں موند کر خود کو دیکھنا اور سرہانہ
بازوں پھیلائے خود کو گلے لگانا ۔
وہ سوسائٹی کے گیٹ سے نکل کر باہر سڑک پر چلتی جا رہی تھی ۔
ایک کلومیٹر کی دوری پر اسکا گھر تھا ۔
آج وہ خود کے ساتھ چلتی ہوئی اس طرف نکل آئی تھی ۔
خوب اچھی طرح خود کو پوری سوسائٹی وزٹ کرائی اور ایک بنگلے پر دل آگیا ۔
اسے سیاہ رنگ پسند تھا ۔
ہر وہ رنگ جو سیاہی مائل لگتا تھا وہ اسکی توجہ حاصل کر لیتا تھا ۔
رات کے وقت سرمائی رنگ سیاہ کا ہی گمان دے رہا تھا ۔
موذن کی فلاح کی زمانتوں کا آغاز ہوا تو پریشال نے سر پر کوٹ کی ہوڈی اوڑھ لی ۔
سڑک خالی تھی ۔ آدھے چاند کے نیچھے پریشال چلتی جا رہی تھی جب سامنے سے کوئی وجود آتا نظر آیا ۔
اس لڑکے کے قدموں میں لرکھڑاہٹ کی رمق تھی۔
وہ نشے میں تھا ۔
پریشال نے مکمل طور پر اسے نظر انداز کیا ۔
اسے اس قسم کے اوباش لڑکوں سے نفرت تھی ۔
” ہاو مچ ۔” لڑکا بلکل پاس آکر بولا ۔
” ایکسکیزمی ۔” پریشال چلتے چلتے رکی ۔
لڑکے کی آواز بہت گہری اور پر کشش تھی ۔ آواز سے بلکل نہیں لگتا تھا وہ نشے میں ہے ۔
” آئی ایم اسکنگ ہاو مچ ” اسنے اپنا فقرہ پھر دہرایا ۔
ساتھ ہی وہ گہری نظروں سے پریشال کو سر سے پاوں تک دیکھ رہا تھا ۔ اسکی نیت کے کھوٹ کا پول آنکھیں کھول رہی تھیں ۔
” کیا قیمت ہے تمھاری ۔ ” جواب ندارد ہونے پر وہ ڈھاڑا ۔
آواز اتنی تھی کہ فظا میں بہتی نمی ایک پل کو سہم کر رہ گئی ۔
آواز کی لہروں نے ہوا کے تانے بانے تک ہلا کر رکھ دیے ۔
” شٹ اپ ” پریشال کا ہاتھ اگلے ہی لمحے اٹھا اور لڑکے کے چہرے پر ثبت ہو گیا ۔
ایک بار پھر تھپر کی گرج دار آواز نے رات کی خاموشی کا مزاق اڑایا ۔
” گھٹیا انسان ” پریشال نے لہجے سے ہی اس لڑکے پر لعنت بھیجی تھی ۔
اسکا چہرا سخت سردی میں بھی تمتمانے لگا تھا ۔
وہ لڑکا اسے کال گرل سمجھ رہا تھا ۔
اسکی یہ ہمت کیسے ہوئی ۔
لڑکے نے کچھ ردعمل نہیں دیا بلکہ وہ لب کاٹتے ہوئے پریشال کو اور بھی شہوت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔ ہونٹوں پر چھبن زدہ مسکراہٹ رینگ رہی تھی ۔
پریشال آگے بڑھ گئی ۔
لڑکا وہیں کھڑا رہا ۔
” یو باسٹرڈ لیڈی ۔ یو ول پے فار اٹ “
پریشال نے مٹھیاں بھینچ لیں ۔
اسکے کانوں کی لوہیں سرخ ہو رہیں تھیں ۔
دل چاہ رہا تھا کہ واپس پلٹے اور اسکا منہ توڑ دے مگر وہ ضبط سے چلتی رہی ۔
عجیب سماع تھا جہاں اللہ کی طرف سے کامیابی کی دعوت دی جا رہی تھی جبکہ اس پر گناہ کو منتخب کیا جا رہا تھا ۔
لڑکے نے قدم سوسائٹی کی طرف بڑھا دیے ۔
اسکے منہ پر پریشال کے ہاتھ کا نشان تھا ۔
وہ نشان اسکی عزت نفس پر ثبت ہو چکا تھا جو پریشال کی بربادی سے ہی مٹ سکتا تھا ۔
منشیات کے بے حد استعمال کے باعث اسکی ناک سے خون بہہ رہا تھا مگر اس پر نشہ طاری نہیں ہو رہا تھا ۔
اور یہ بات اسکے لیے ناگوار تھی ۔
اپنی عمر کے دوسرے لوگوں کی نسبت اسکی سہنے کی طاقت زیادہ تھی تبھی ایک خطرناک حد تک جسم میں منشیات دھکیلنے کے بعد بھی وہ اپنے قدموں پر کھڑا تھا ۔
وہ سوسائی کے اندر بڑھ گیا ۔
وہ اندر واقع بنگلوں میں سے ایک میں ہی مقیم تھا ۔
مقیم ایسے کہ بنگلے میں رہائش پزیر ایک بھی فرد سے کوئی تعلق نہیں ۔ جیسے چند نفوس کے درمیان لاتعلق سا تنہا وجود ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
شہوار کمرے کا دروازہ کھول کر اندر بڑھا جب ناگوار بو نے اسکا دماغ گھما کر رکھ دیا ۔
وہ سالار کا کمرہ تھا ۔
شہوار نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لائٹس آن کی اور فورا ہی اپنا چہرا دوسری طرف گھمایا ۔
دروازے کے بلکل سامنے بیڈ کی دائیں جانب والی دیوار پر لڑکیوں کے نیم عریاں پوسٹر لگے تھے ۔ وہ ایسے تھے کوئی شریف انسان غلطی سے دیکھ لے تو آنکھوں کو تیزاب سے غسل کروانا فرض سمجھے
اور وہ لگائی بھی اس جگہ تھیں کہ دروازہ کھلتے سب سے پہلے ان پر نظر پڑے ۔
اس دیوار کے ساتھ والی دیوار پر چھوٹے بڑے بے شمار چاقو اور خنجر لٹکے ہوئے تھے ۔ دیوار کا رنگ بلکل سیاہ تھا ۔
بیڈ کی پچھلی دیوار پر بڑا سا فریم لگا تھا جس میں تین سیاہ بھیڑیے عکاسی کیے ہوئے تھے ۔
وہ تینوں چار معصوم ہرنوں پر چھپٹے اسے چیر پھاڑ کر رہے تھے ۔
بیڈ کے بلکل سامنے والی دیوار پر وسعت میں ایل ای ڈی لگی تھی ۔ اسکے چاروں طرف چھوٹے بڑے آڑھے ترچھے فریم لگے تھے جس میں ڈیولز ( شیطان) کی تصویریں تھیں۔ ہر تصویر میں سیاہ رنگ بہت گہرا اور واضح تھا ۔ سیاہ کے علاوہ وہاں ایک اور رنگ تھا ۔
سرخ رنگ
خون کا رنگ
بدلے کا رنگ
وحشت کا رنگ
کمرے میں سگریٹ کی ناگوار بو پھیلی ہوئی تھیں ۔ دھواں ابھی تک تازہ تھا ۔ شراب کی غلیظ بو بھی اے سی کی کھنک میں رچی بسی ناقابل برداشت ہو رہی تھی ۔
بیڈ کی چادر مکمل زمین بوس تھی جس پر جلتے بھجتے بچے ہوئے سگریٹ پڑے تھے ۔
بیڈ پر لیٹے سالار کے بھاری سانس اٹھ رہے تھے ۔
وہ بے دھنگے انداز میں لیٹا ہوا تھا ۔
ایک سگریٹ اسکے ہاتھ میں بھی تھا ۔ شاید سموکنگ کرتا سو گیا تھا ۔
دسمبر کی سرد رات میں بھی اسکے کمرے کا اے سی چلا ہوا تھا ۔ اسکے بعد بھی وہ کمبل میں نہیں لپٹا ہوا تھا بلکہ شارٹس
اور بغیر بازووں والی ٹی شرٹ میں ملبوس ہونے کے باعث بھی اس پر کپکپی طاری نہیں ہو رہی تھی ۔
کچھ لمحے پہلے ہی وہ پارٹی سے آیا تھا ۔
جو اسکے نزدیک بورنگ تھی ۔
شہوار کو بیک وقت اس پر ترس بھی آیا اور غصہ بھی ۔
وہ آگے بڑھا اور سالار کو ہلایا ۔
” نماز کا وقت نکل رہا ہے ۔ اٹھ جاو “
” ہاں ۔۔۔ ہوں ۔ ” سالار کچی نیند سے چونک کر اٹھا ۔
اسکی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں ۔
شہوار کو اسنے نا سمجھی سے دیکھا پھر واپس ٹکیے پر گر گیا ۔
” شرابی کی نمازیں قبول نہیں ہوتی ۔ جاو سونے دو مجھے ۔ ” وہ خمار آلود لہجے میں کہہ کر پھر سے گہری نیند میں چلا گیا ۔
شہوار نے پھر سے ہلایا مگر وہ غافل ہی رہا ۔
” یااللہ اسے ہدایت دے دے ۔ اے پاک مولا اسکا راستہ پھیر دے ۔ ” شہوار کے دل سے دعا نکلی ۔
وہ اپنے سے پانچ سال چھوٹے بھائی کو یوں برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
” شرابی کی نمازیں قبول نا ہوتی تو بشر حافی کبھی ولی اللہ نا بنتے ۔ تم قبولیت کی نیت سے نماز پڑھ کر تو دیکھو “
گہرے لہجے میں کہتے ہوئے شہوار نیچھے جھکا اور سگریٹ کے ٹکڑے اٹھانے لگا ۔
۔انہیں ڈسٹ بن میں پھینکا ۔
سالار کو سیدھا کیا اور اسے کمبل اڑایا ۔
کمرے میں پھیلے کپڑے سمیت کر الماری میں رکھے ۔
یہ شہوار کی زمہ داریوں میں سے ایک تھا ۔
کیٹھ اس کمرے میں نہیں آتی تھی ۔ وہ ہی اکثر سالار کی غیر موجودگی میں اسکا کمرہ صاف کر دیتا تھا ۔
ورنہ سالار تو ہمیشہ بکھیر کر ہی رکھتا تھا ۔
کمرہ پوری طرح سمٹ گیا تو شہوار نے ایک بار پھر سالار کو دیکھا ۔
شاز عالم شاہ اور ثمرین شاہ کی المناک موت کے بعد وہ ایسا ہو گیا تھا ۔
سب سے الگ تھلگ اپنی ہی دنیا میں ۔
اپنی من مرضیاں
من مرضیاں جن میں برائی اور بے حیائی کے کام عروج پر تھے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
فظا میں رس گھولتی ازان کی آوازیں اب خاموش ہو چکی تھیں ۔ اہل ایمان اپنے رب کے حضور اسکی نعمتیں حاصل کرنے کے لیے سجدہ ریز ہو چکے تھے ۔
جبکہ اہل جہل نیند کو زیادہ مقدم جان کر سوئے پڑے تھے ۔
ہاسٹل کے ایک کمرے سے ٹریسا باہر نکلی ۔ اونچا اونچا فرح کو پکارا پھر منال سے الجھ کر فرح کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
وہ دروازہ کھول کر اندر گئی تو ٹریسا نے عجیب سی تازگی محسوس کی ۔
سادہ سا کمرہ
ایک سنگل بیڈ
ایک کپڑوں کی الماری
ایک کتابوں کا ریک جس میں اسلامی کتب رکھیں ہوئی تھیں۔
اور بیڈ کے ساتھ بچھی چادر ۔
ٹریسا نے کبھی بھی فرح کے کمرے میں کوئی غیر ضروری چیز نہیں دیکھی تھی ۔
جائے نماز بچھائے فرح بیٹھی دعا مانگ رہی تھی ۔
گرم چادر کے ہالے میں لپٹا فرح کا شفاف چہرا ٹریسا کو بہت پرسکون اور خوصبورت لگتا تھا ۔
کھڑکی سے چھن کر آتی صبح کی تازہ کرنیں فرح کے چہرے پر پڑتی اسے اور چمکا رہیں تھیں ۔
ٹریسا پاس ہی زمین پر بیٹھ گئی ۔ فرح کو دیکھ وہ ہمیشہ ایک ٹرانس میں چلی جاتی تھی ۔
اگر ٹریسا سے پوچھو اسنے کبھی حور دیکھی ہے تو وہ بے ڈھڑک فرح کا نام لے دے گی ۔
فرح کی تازہ کھلتی ہوئی رنگت کے سامنے ٹریسا کو اپنی سیاہ رنگت ہمیشہ احساس کمتری کا شکار کر دیتی تھی ۔
فرح نے دعا مکمل کی ۔ ہاتھوں کو چہرے پر پھیر کر الحمدللہ کہا ۔
پھر خود پر پڑھ کر پھونکا ساتھ ہی ٹریسا پر بھی پھونکا ۔
“کیا کام تھا ۔ ” جائے نماز لپیٹتے ہوئے فرح اپنے نرم اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں دریافت کرنے لگی ۔
ٹریسا کچھ نا بولی ۔
اسکے زہن سے مہو ہو چکا تھا وہ کیا کہنے آئی تھی ۔
فرح اسکے پاس ہی زمین پر بیٹھی ۔ ہاتھ میں تسبیح تھی جس پر استغفار پڑھتی جاتی تھی ۔
” کہو ٹریسا ۔ کیا کام تھا ۔ ” فرح نے پھر سے استفار کیا تو ٹریسا چونک کر ہوش میں آئی ۔
گھٹنے اٹھا کر اپنا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں رکھا اور گہری سانس لیکر بولی ۔
” تم نماز کیوں پڑھتی ہو “
تین ہفتے پہلے وہ ہاسٹل میں آئی تھی ۔ اسنے فرح کو کئی مرتبہ مکمل خشوع خضوع سے نماز پڑھتے دیکھا تھا ۔ آج وہ سوال کر ہی بیٹھی تھی ۔
فرح اسکا سوال سن کر مسکرائی ۔
” اس سوال کے جواب کی ایک سے زیادہ منتق ہیں ۔ سائنسی و جسمانی ، باطنی ، دنیاوی ، مزہبی اور عشقیہ ۔ تم کونسی منتق کا جواب پسند کروگی گی ۔ ” فرح نے ٹریسا کے سامنے چند پتے رکھے جس میں سے وہ مرضی کا ایک چن لے ۔
ٹریسا کچھ لمحے مخمصے کا شکار رہی ۔
اسے کس منتق کا جواب لینا چاہیے تھا ۔
” اگر تم کنفیوز ہو تو میں مدد کر دیتی ہوں ۔ ہم پہلی منتق سے شروع کرتے ہیں ۔ چونکہ تم غیر مسلم ہو تو پہلی منتق سائنسی و جسمانی سے شروع کرتے ہیں ۔ ” فرح نے اسکی الجھن سمجھ کر خود ہی بات شروع کی ۔
ٹریسا نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
اونچا بولنے والی ٹریسا نا جانے کیوں فرح کے آگے بول نہیں پاتی تھی ۔ فرح کی شخصیت ایسی تھی کہ اسکے سامنے بولنے سے زیادہ سننے کو ترجیح دی جاتی تھی ۔
” نماز کیوں پڑھی جاتی ہے یا کیوں ضروری ہے اسکا سائنسی و جسمانی منطق کے حوالے سے جواب یہ ہے کہ پانچ وقت نماز ادا کرنے سے انسانی جسم کی بہترین ورزش ہو جاتی ہے ۔
ورزش کے فوائد سے تم واقف ہی ہو ۔ نماز پانچ اوقات انسان کو بہترین ورزش کا موقع فراہم کرتی ہے ۔
تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ صبح کے وقت(دوپہر سے پہلے تک) جسم کی درد برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔انسان اگر معمولی نوعیت کی چوٹوں یا عضلاتی ورموں کا شکار ہیں تو صبح کا وقت ورزش کے لیے انتہائی موزوں رہتا ہے ۔ غور کرو تو صبح کے اس وقت مسلمان نماز فجر ادا کرتا ہے ۔ اس وقت کی ہوا تازہ ہوتی ہے ۔ جو انسانی جسم میں اچھے اثرات مرتکب کرتی ہے ۔
اب آتے ہیں باقی اوقات پر ۔
پروفیسر ڈیوڈ ڈبلیو ہل کا کہنا ہے کہ دوپہر سے شام چھے بجے تک عضلات کی قوت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ غالباً اس کی وجہ دن میں جسم کے درجہ حرارت میں اضافے کے سبب عضلات کی مزاحمت میں کمی ہوتی ہے ،لہٰذا اپنی وزن برداری کی مشق دوپہر کے وقت کرنا مناسب رہے گا ۔ اس وقت کے دوران مسلمان ظہر اور اثر کی نماز ادا کرتا ہے ۔ شام چھ بجے تک آپ کے عضلات پھیلنے اور زیادہ عرصے تک حرکت کرنے کی صلاحیت بہترین ہوجاتی ہے، لہٰذا سہ پہر اور شام کا وقت ہوگا اور جمناسٹک وغیرہ جیسے مشاغل کے لیے مناسب ترین ہوتا ہے ۔ اس وقت میں نماز مغرب ادا کی جاتی ہے ۔ بہت سے کھیلوں میں دن ڈھلنے کے ساتھ کارکردگی میں بہتری آنا شروع ہوجاتی ہے۔ مثال کے طورپر پیراکوں کی کارکردگی رات دس بجے کے قریب مثالی ہوتی ہے۔ اور دس بجے یا اس سے کچھ پہلے کے اوقات میں نماز عشا مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے ۔
اگر تم غور کرو تو ورزش اور کھیلوں کے لیے مناسب کردہ اوقات میں ہی نماز کے اوقات پائے گئے ہیں اور یہ انسانی جسم پر بہترین طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں ۔” فرح نے حوالے دے کر ٹریسا کو تفصیل سے سمجھایا ۔ آخر میں ٹھہر کا ٹریسا کے تاثرات دیکھے ۔
ٹریسا مسکرائی ۔
اسے فرح کی بات سمجھ آنے لگی تھی ۔
” اسکے علاوہ نماز کا ایک سائسنی فوائد سجدے میں پشیدہ ہے ۔ ہمارے جسم میں اعضا کی ترتیب میں دماغ اوپر اور دل نیچے ہے ۔ دل کا کام جسم میں خون سپلائی کرنا ہوتا ہے ۔ چونکہ انسانی دماغ کو خون کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ دل کو اس تک خون پہنچانے کے لیے زیادہ زور کی ضرورت پڑھتی ہے اگر انسان کھڑا ہوا ہو ۔
لیٹے ہوئی صورت میں خون برابر کا تقسیم ہوتا ہے مگر نماز پڑھتے ہوئے سجدے کی حالت میں دل اوپر اور دماغ نیچھے ہوتا ہے ۔ اس حالت میں خون کا زیادہ بہاو دماغ اور چہرے کی طرف ذیادہ ہوتا ہے ۔
خون کی بہتر سپلائی دماغ کی شریانوں سے اضافی چربی زائل کرتی ہے ۔ جسکے نتائج میں بہت سی دماغی و زہنی بیماریاں ختم ہوتی ہیں ۔ چہرے کی طرف خون کا بہاو اسکے نکھار میں اضافہ کرتا ہے ۔ آنکھوں کی بینائی تیز ہوتی ہے ۔ سماعت کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے ۔ الغرض سر اور چہرے سے متعلق ہر بیماری سے انسان محفوظ ہوتا ہے ۔ اگر سوچو مسلمان دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرتا ہے تو وہ 88 بار سجدے میں جاتا ہے ۔ یعنی 24 گھنٹوں میں 88 بار اس حالت میں ہونا کہ دل اپنے سے اوپر والے اعضا کو بہتر طریقے سے خون پہنچا سکے یہ کتنا فائدہ مند ہوگا ۔
نماز نا پڑھنے کے باعث دل کو دماغ تک خون پینچانے کے لیے زیادہ رفتار سے کام کرنا پڑھتا ہے جو کہ بلڈ پریشر زیادہ ہونے کا باعث بنتا ہے ۔ یعنی سجدہ ریز ہونے سے بلڈ پریشر بھی کنٹرول رہتا ہے ۔ دل پر دباو زیادہ نا پڑھنے پر دل کی بیماریوں سے بھی انسان محفوظ رہتا ہے ۔ اسکے علاوہ مکمل نماز پڑھتے ہوئے جسمانی اعضا کی حرکات ہوتی ہے جو کہ ان اعضا کو تندرست رکھتی ہے ۔ یہ ہیں کچھ بہت مختصر جسمانی فوائد نماز کے ۔ اسکے علاوہ سینکڑوں جسمانی فوائد ہیں جنہیں بیان کرنے لگوں تو زندگی کم پڑے ۔ الغرض نماز ادا کرتے ہوئے غور کرو تو سر بازوں کمر ٹانگے ہر اعضا حرکت کرتی ہے اور یہ حرکات ان اعضا کو وہ فوائد پہنچاتی ہیں جو کہ ورزش یا یوگا کرنے سے بھی زیادہ بہتر ہوتے ہیں ۔”
سورج مکمل چڑھ چکا تھا ۔
سردیوں کا سورج جو جسم کو تقویت بخش رہا تھا ۔ ایسی تقویت جو سردی کے باعث جمے جسموں کو نرم سی تپش فراہم کر رہا تھا ۔
فرح خاموش ہوئی تو ٹریسا جو اسکی باتوں کے حصار میں قید ہوگئی تھی یک دم آزاد ہوئی اور گہرا سانس لیا ۔
” شکریہ فرح ۔ کیا صرف یہ ہی جسمانی فوائد ہیں نماز کے ” ٹریسا نے تجسس سے پوچھا ۔
” نہیں یہ تو فقط ایک قطرہ ہے جو میں نے بیان کیا ۔ یہ صرف اتنا علم ہے جو ان کتابوں سے میں نے حاصل کیا جو میرے پاس ہیں۔” فرح نے بک ریک کی طرف اشارہ کیا ۔
” ہممم ۔ ” ٹریسا نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا ۔
” آج کے لیے اتنا کافی ہے ۔ ابھی صرف اس کو سمجھو جو بتایا ہے ۔ ” فرح مسکراکر اٹھ دی ۔
اسے سکول جانے کے لیے تیار ہونا تھا ۔
کچھ دیر بعد فرح اپنے سکول کے لیے ایسے نکلی کے سیاہ عبایا زیب تن کر رکھا تھا ۔ اسکا عبایا فیشن والا نہیں تھا جس سے جسم کے سارے خدوخال ظاہر ہوتے ہوں ۔ وہ کھلا سا تھا ۔ آنکھوں کی جگہ جالی لگی تھی جس سے فرح تو دیکھ سکتی تھی مگر سامنے والا اسکی آنکھیں واضح نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
ہاتھوں پر سیاہ دستانے تھے ۔
وہ مکمل طور پر شرعی پردے میں ملبوس ہاسٹل سے نکلی تھی ۔
جبکہ اسکے برعکس ٹریسا جاب پر ایسے نکلی تھی کہ نیلے سوئٹر کے نیچھے پیلی لانگ سکرٹ پہن رکھی تھی ۔ بال بھی کھلے تھے اور چہرا بھی ۔
پیروں میں ہیل تھی اور سیاہ فام بازوں میں لٹکتا سفید کڑا ۔
فرح سکول میں جتنا ٹائم پڑھاتی رہی وہ پردے میں رہی ۔ اگر کسی مرد طالب علم یا استاد سے بات کرنا ضروری ہوئی تو آواز کو بہت دھیما رکھا اور پردہ ہونے کے باوجود بھی اپنا رخ ایک طرف کو پھیر کر بات کی ۔
جبکہ ٹریسا آفس میں اپنے کولیگز کے ساتھ قہقہے لگاکر باتیں کرتی رہی ۔ ایک آدھ سے تو ہاتھ پر ہاتھ مار کر بھی قہقہہ لگایا ۔
وہ کرسچن تھی اسکے مزہب میں غیر مسلم سے بے ڈھرک بے تکلف ہو جانا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا ۔
دوپہر چڑھ چکی تھی ۔ ظہر کی میٹھی ازانیں شروع ہو چکی تھیں ۔ فرح نے اپنی آخری کلاس کو خدا حافط کہا پھر سکول کے سٹاف روم میں ہی نماز ادا کی ۔
لینچ بریک میں ٹریسا کچھ کھانے کی نیت سے آفس سے باہر نکلی تو اذان کے الفاظ کانوں میں پڑے ۔ وہ انہیں سمجھ تو نہیں پائی تھی مگر ایک جگہ ٹھہر کر اذان سنی ضرور تھی ۔
فرح کی باتیں اسکے زہن میں چلنے لگی تھی ۔
ابھی تو فرح نے اسے پہلی منطق کا بھی کچھ حصہ بتایا تھا ۔
ٹریسا کے دل میں اس پل مزید بھی جاننے کی کسک اٹھی ۔
وہ گھر جاکر فرح سے اسکی کتابیں لے کر پڑھے گی ۔
اسنے ارادہ کیا اور آگے بڑھ گئی ۔
فضا میں اذانوں کی آوازیں مکمل ہو چکی تھیں ۔ خوش نصیب اپنے رب کے آگے سجدہ ریز ہو چکے تھے ۔ بد نصیب اپنے کاموں میں مشغول رہے تھے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
تین ہفتے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہ نومبر کا آغاز تھا ۔
موسم میں کھنکی آہستہ آہستہ عروج پکڑ رہی تھی ۔
اس روز سورج بادلوں میں چھپا تھا ۔
فظا میں نمی تھی جو باتیں کرنے پر منہ سے نکلی کاربن ڈایئاکسائڈ کے ساتھ مل کر بخارات بن کر فظا میں ہی تحلیل ہو رہی تھی ۔
وہ منظر ایک اولڈ ہاوس کا تھا ۔
کشادہ ہال تھا جہاں کے سارے بیڈ ایک طرف کر کے درمیان میں جگہ بنائی گئی تھی ۔
بائیس سالہ وہ لڑکی صبح سے ادھر ادھر گھومتی پورے ہال میں پھولوں کی سجاوٹ کرنے میں مصروف تھی ۔
ایک پل کو بھی آرام سے نا بیٹھی تھی ۔
ہال میں موجود ایک طرف بیڈ پر اولڈ ہاوس کی خواتین بیٹھیں ۔ وہ کافی دیر سے اسے سجاوٹ کرتا دیکھ رہیں تھیں ۔
وہ بہت خوبصورت طریقے سے پھولوں کی سجاوٹ کر رہی تھی ۔
” مہکشاں اور کتنا انتظار کرنا ہے ۔ ” خواتین میں سے ایک نے اس سے پوچھا ۔
” بس یہ ہو گیا ۔ ” مہکشاں آخری پھول سیٹ کرتے ہوئے بولی ۔
وہ پٹھانی خدوخال کی لڑکی تھی ۔ لہجا بھی پٹھانی تھا ۔
مہکشاں نے ایک بار وسعت میں کھڑے ہوکر ساری سجاوٹ کا جائزہ لیا ۔ ہلکے زرد اور سرخ رنگوں کے گلاب سے ہوئی سجاوٹ نے اس ہال کو نیا رنگ دے دیا تھا ۔
مہکشاں نے چہرا ایک طرف موڑا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں سوال کیا۔
گلابی پھول فراک پہنے وہ چھ سالہ بچی تھی جس نے انگوٹھے کا نشان دکھا کر بہت خوب کا اشارہ کیا تھا ۔
بچی مسکرائی تو مہکشاں بھی مسکرادی ۔
” چلیں آپ سب اپنی جگہیں سنبھال لیں ۔ میں گوہر بی بی کو لیکر آتی ہوں ۔ ” مہکشاں نے خواتین کی طرف مڑ کر کہا اور باہر نکل گئی ۔
اسکے پیچھے لائٹس آف کردی گئی ۔
کچھ لمحے بعد مہکشاں ویل چیئر چلاتی ہوئی 100 سالہ گوہر بی بی کو ہال میں لائی ۔ اندر اندھیرا پاکر گوہر بی بی یک دم گھبرا گئیں ۔
اس سے پہلے وہ کوئی سوال کرتی ہال کی لائٹس آن ہوئی ۔
گوہر بی بی پر پھولوں کی بارش ہوئی ۔
ہال میں خواتین کی تالیوں کی آواز گونجی ۔
سب کے لبوں پر ایک ہی فقرہ تھا ۔
” سو سالہ بہاریں مبارک ہو گوہر بی بی ۔ “
گوہر بی بی ایک پل کو تو بلکل شکڈ سی رہ گئیں ۔
مہکشاں آگے آئی اور جھک کر انہیں گلے لگایا ۔
” سو سالہ بہاریں مبارک ۔ ” مہکشاں نے مسکراکر انہیں سالگرہ کی مبارک باد دی ۔
پھر بہت پیار سے انکے رخسار پر بوسہ لیا ۔
گوہر بی بی کی آنکھوں میں موتی لہرانے لگے ۔
خوشی کے آنسو ۔
” آں ۔ دیکھیں زرا بڑٹھ ڈے گرل کیوں رونے لگی ۔” مہکشاں نے بڑے لاڈ سے انکے آنسو پونچھے ۔
” میرے بچوں نے کبھی ایک پھول تک نہیں دیا مجھے ۔ ” گوہر بی بی گلوگیر لہجے میں گلہ کرنے لگیں ۔
” تو میں کون ہوں ۔ میں بھی تو آپکی بیٹی ہوں نا ۔ ” مہکشاں نے مان کے ساتھ کہا تو گوہر بی بی نے مسکراکر اسے پھر سے گلے لگایا
” ہاں ہاں تم تو میری سب سے پیاری بیٹی ہو ۔ ” فرط جزبات سے انکی آنکھیں بار بار چھلک رہیں تھیں ۔ ضعف چہرے پر ایک دلکش سی چمک اٹھ گئی تھی ۔
گلابی فراک والی لال گلال رخساروں والی بچی قریب آئی اور ایک تحفہ گوہر بی بی کی طرف بڑھایا ۔
وہ منہ سے کچھ نا بولی ۔
گوہر بی بی نے تحفہ وصول کیا اور بچی کو ڈھیر سارا پیار کیا ۔
اسکے بعد مہکشاں انہیں سینٹر ٹیبل پر لے آئی ۔ ٹیبل پر چار منزل چورس کیک رکھا تھا ۔
مہکشاں نے گوہر بی بی کا ہاتھ پکڑ کر کیک کٹوایا ۔
سب نے ایک بار پھر تالیاں بجائیں ۔
مہکشان نے کیک کا ایک ٹکڑا لیا پھر گوہر بی بی کو کھلایا ۔
پھر زرا زرا سا باقی سب خواتین کو بھی اپنے ہاتھ سے کھلایا ۔
اتنی دیر میں دو تین خواتین نے کیک کے برابر ٹکڑے کیے اور سب میں بانٹے ۔
تقریبا ہر عورت شوگر کی مریض تھی مگر آج سب کا مشترکہ بد پرہیزی کا دن تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” مہکشاں اللہ تمہے ہمیشہ سلامت رکھے ۔ تم ان خواتین کے ساتھ اتنا کرتی ہو جتنا انکے اصل خاندانوں نے نہیں کیا ۔ ” وہ اولڈ ہاوس کی اونر مسز امجد کو کیک دینے آئی تھی جب وہ اسے دعائیں دینے لگی ۔
” مس امجد اللہ نے مجھ سے ایک ماں لیکر مجھے اتنی مائیں دے دیں ۔ میں شاید دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی ہوں ۔ میرے سر پر اتنی ساری ماوں کے سایے ہیں ۔ ” مہکشاں مسکراکر اپنی قسمت پر رشک کرتی بولی ۔
” بے شک ۔ میں ان بد نصیبوں کے بارے میں سوچتی ہوں جو گھروں سے اپنا مقدر اپنی جنت خود نکال دیتے ہیں ۔” مس امجد نے افسوس بھری سانس بھری ۔
” اگر میرے بس میں ہو تو ایسا کرنے والوں کو سخت سزا دوں ۔ بلکہ ہولڈ ہاوس کا قیام ہی نہیں ہونا چاہیے ۔ نا ہو گے نا لوگ اپنے ماں باپ کو یہاں رکھیں گے ۔ ” مہکشاں کے لہجے میں غصہ پنہاں تھا ۔ وہ سنجیدہ سی ہو گئی تھی ۔
” اگر ایسا ہو تو یہ بیچارے والدین اپنی آخری پناہ گاہ بھی کھو دیں گے ۔ یہ تو اولاد کا احسان ہے کہ وہ ماں باپ کو اولڈ ہاوس چھوڑ دیتے ہیں اور ماہانہ اخراجات بھی دیتے ہیں ۔ ورنہ بہت سے لوگ گھر سے باہر نکال کر چھوڑ دیتے ہیں ۔ ماں باپ کہاں جائیں گے کیا کریں گے انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔ ایسے میں ایدھی فاونڈیشن جیسے ادارے نا ہو تو ان بیچاروں کا کون سہارا بنے ۔ کیا تمہے لگتا ہے اگر اولڈ ہوم نا ہو تو لوگ والدین کو گھر سے نکالنا چھوڑ دیں گے ۔ نہیں بلکہ اگر اولڈ ہوم نہیں ہونگے تو وہ ماں باپ کو ایسے ہی کسی پناہ گاہ کے بنا ہی گھر سے نکال دیں گے ۔ جو بد نصیب ہیں ۔ جو اپنے ہاتھوں سے اپنی جنت اجاڑنے والے ہیں انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ ” مس امجد بولتے بولتے افسردہ ہی ہو گئیں ۔
مہکشاں کی آنکھوں میں بھی نمی تھی ۔
” کاش کہ میں کسی ایک کو یہ بات سمجھانے کے قابل ہو جاوں کہ وہ اپنی دنیا و آخرت مت بگاڑیں ۔ کاش میں کسی ایک کو والدین کی اہمیت باور کروا سکوں ۔ ” آنسو صاف کرتے ہوئے مہکشاں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ۔
” اللہ تمہیں کامیابی دے ۔ اور میری ایک بات یاد رکھنا ۔ ہم جب کاش کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اسکا مطلب وہ خواہش ہے جو ناممکن ہو یا جو حسرت بن گئی ہو ۔
اور اللہ سے حسرت نہیں خواہش کی جاتی ہے ۔ دعا کی جاتی ہے اور اسکے لیے انشاءاللہ بولا جاتا ہے ۔ آمین بولا جاتا ہے ” مس امجد نے اسے سمجھایا تو مہکشاں مشکور سی مسکرا دی ۔
” شکریہ مس امجد آپ نے میری تصحیح کری۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اس سے مانگتے وقت دل میں کوئی شک و ابہام نہیں ہونا چاہیے ۔ “
” بلکل ۔ ” مس امجد نے تائید کی تو مہکشاں بھی مسکرادی ۔
” مس امجد اگر آپ ہال میں آئیں گیں تو گوہر بی بی بہت خوش ہوں گی ۔ ” مہکشاں نے ان سے درخواست کی تو وہ مسکرکر اٹھ گئیں ۔
” ہاں کیوں نہیں ضرور ۔ وہ میری بھی بڑی ہیں۔ مجھے بھی حق ہے ان سے دعائیں لینے کا ۔ “
پھر وہ دونوں ایک ساتھ آفس سے ہال کی طرف بڑھ گئیں ۔
گوہر بی بی چونکہ سب سے بڑی تھیں ۔ وہ سب کو اپنے بچپن جوانی کے قصے سنا رہیں تھیں ۔
گوہر بی بی کی سو سالہ بہاریں اہنے اندر کئی رنگ لیے ہوئے تھیں ۔ وہ ہر دفعہ ایک نیا رنگ سب کے سامنے پیش کرتیں تھیں ۔ ہر بار انکی زبان اور سننے والے کی سماعت ایک نئے رنگ سے سجتی تھی ۔
ہر قصہ پہلے سے منفرد ہوتا تھا ۔
مہکشاں اور مس امجد بھی ایک ساتھ کھڑے ہو کر انکی باتیں سننے لگی ۔
گوہر بی بی بہت خوش نظر آ رہیں تھیں ۔ وہ بار بار اپنی آنکھیں پونچھتی تھیں ۔
مہکشاں کے پاس چھوٹی بچی آکر کھڑی ہوئی تو اسنے جھک کر اسکے گال پر پیار کیا ۔ مس امجد نے بھی اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
منہال شمس ۔ ایک پیاری سی بے زبان بچی
مہکشاں کے لیے آزمائش دنیا کی نظر میں
مہکشاں کے لیے تحفہ اسکی اپنی نظر میں
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے