Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

یہ پریشال کی قید کا دوسرا دن تھا ۔
وہ دو دن سے بھوکی پیاسی کرسی سے بندھی تھی ۔
کلائیوں سے خون رس رس کر خشک ہو چکا تھا ۔۔
سر کی پچھلی طرف لگی چوٹ کی وجہ سے بار بار بے ہوش ہو جاتی تھی ۔
اس وقت بھی پریشال بے ہوشی سے اٹھی تھی
سر بھاری ہو رہا تھا ۔
دو دن سے سلار اس کمرے میں نہیں آیا تھا ۔
آخر وہ کیا چاہتا تھا اس سے ۔
کیوں ایسے باندھ کر رکھا تھا
یہ سوال یہ الجھن پریشال کے زہن کو کوفت میں ڈال رہے تھے ۔
اور اس پر حاوی ایک دوسرا خیال ابراہیم صاحب کا تھا ۔
وہ بے چینی سے انکے بارے میں سوچنے لگی ۔
وہ گمشدہ ہے یا اغوا کی گئی ہے اس بارے میں جب ابا کو معلوم ہو تو ان پر کیا بیتے گی ۔
وہ کس حال میں ہونگے ۔
وہ اسکے لیے کتنا پریشان ہو رہے ہونگے ۔
کیسی اذیت سے گزر رہے ہونگے ۔
یہ سب سوچتے ہوئے پریشال کی آنکھوں میں نمی بھر گئی ۔
وہ انہیں خیالوں میں ڈوبی ہوئی تھی جب دروازہ کھلا ۔
جھکی گردن کے ساتھ بھی پریشال جانتی تھی وہ سلار ہو گا ۔
سلار نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لائٹ آن کی ۔
کمرہ یک دم روشنی میں نہا گیا تو بے اختیار پریشال نے آنکھیں موندھ لیں ۔
ایک لمحے بعد اسنے آنکھیں اٹھا کر دیکھیں تو سلار اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
بغور ۔ بہت گہری نظر سے
ایسی نظر جو پریشال کے اندر تک سرایت کر گئی ۔
پریشال نے نظریں پھیر لیں کہ سلار کی نطروں سے اسے خوف محسوس ہو رہا تھا ۔
سلار قدم قدم چلتا کرسی کے پیچھے آیا اور رسی سے اسکے ہاتھ آزاد کیے ۔
پریشال کے ہاتھ آزاد ہوئے تو تیزی سے آگے کر کے انہیں دبانے لگی ۔ وہ اکڑے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔ زخموں میں چھبن ہو رہی تھی ۔
سلار آگے آیا اور بلکل سامنے زمین پر گھٹنے اٹھا کر بیٹھا ۔
پریشال کا دھیان اپنے ہاتھوں کی طرف تھا وہ دیکھ نا پائی سلار کب آکر سامنے بیٹھا ہے جب یونہی سامنے کی طرف دیکھا تو بری طرح چونک گئی ۔ ۔
وہ کرسی کے آگے اتنا قریب بیٹھا تھا کہ پریشال کے پاوں اور سلار کے پاوں میں محض ایک انچ کا فرق تھا ۔
پریشال نے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیری
” آخر تم مجھ سے چاہتے کیا ہو ؟ ” زہن میں گردش کرتا سوال وہ لبوں پر لائی تھی ۔
سلار کچھ نہیں بولا ۔ بس ٹکٹکی باندھ کر پریشال کے چہرے کو دیکھتا رہا جس پر دونوں اطراف سے بال بکھرے ہوئے تھے ۔
کیا وہ پاگل تھا ۔
یہ پہلا خیال تھا جو پریشال کے زہن میں آیا تھا ۔
سلار کی نظریں اسے زچ کر رہی تھیں ۔
” تم بول کیوں نہیں رہے ۔ آخر مجھے کیوں پکڑ کر رکھا ہے ” اب کے وہ اپنے الفاظوں پر زور ڈالتے ہوئے چلائی تھی ۔
” کون ہو تم ؟ ” سوال کے جواب میں سوال بہت گہرے انداز میں پوچھا گیا تھا ۔
لہجہ بلکل کھویا ہوا سا تھا
” کیا مطلب ؟ ” پریشال سمجھی نہیں تھی ۔
کیونکہ وہ یہ ہی سمجھ رہی تھی کہ سلار اسکے بارے میں سب جانتا ہے ۔
” تم انسان نہیں لگتی ۔ ” سلار نے عام سے انداز میں کہا تو پریشال پر حیرت کا غلبہ طاری ہوا ۔
یعنی یہ پاگل انسان اب اسے بھی پاگل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا
” تم کہنا کیا چاہتے ہو ۔ ؟ ” وہ کوفت کی شدت لیکر بولی تھی ۔
” پرسوں جب تمہیں چھونے کی کوشش کی تو کسی چیز نے مجھے دھکا دے دیا ۔ تم سے دور کر دیا ۔ تمہیں چھونے نہیں دیا ۔ ایسا کیوں ؟ ۔ تم یقینا کوئی اور مخلوق ہو ۔ جو انسان کے روپ میں ہے ۔ یا کہیں تم ساحرہ تو نہیں ۔ ” وہ بہت دلچسپی سے پریشال کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔
” میں نے جب بھی جس بھی لڑکی کو اپنے قریب کرنا چاہا وہ مجھے حاصل ہو گئی ۔ مگر تم پہلی لڑکی ہو جسے میں چھو نہیں سکا ۔ جسکے قریب نہیں ہو سکا ۔ ” وہ مزید کہہ رہا تھا اور پریشال کے لب اطمینان بھرے اعتماد میں ڈھلتے گئے ۔
” ماما تھیک کہتی تھیں ۔ ” وہ زیر لب بولی مگر سلار نے سن لیا ۔
” کیا کہتی تھیں وہ ۔ ؟ ” سلار نے اشتیاق سے پوچھا ۔
” تم جیسے غلیظ انسانوں سے بچنے کے لیے مجھے دعائیں سیکھایا کرتی تھیں ۔ مجھے تلقین کرتی کہ صبح شام ان دعاوں کو پڑھوں اور اسے اپنی زندگی کا معمول بنا لوں ۔ یہ کوئی جادو نہیں ہے مگر اللہ کے کلام کا اثر ہے کہ تم جیسے گھٹیا انسان سے محفوظ رہی ۔ اللہ اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور آگے بھی ایسے ہی میری حفاظت کرتا رہے گا ۔ مجھے مکمل یقین ہے ۔۔۔۔” پر یقین انداز میں کہتے پریشال نے ایک لمحے توقف کیا
” اور تمہیں اپنے کیے ہر گناہ کی سزا ملے گی ۔ ” ابکی بار پریشال نے سلار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لفظوں پر زور ڈالتے ہوئے کہا تھا ۔ ۔
پریشال کی بات سن کر سلار نے مدھم سا قہقہہ لگایا ۔
پریشال نے محسوس کیا اس قہقہے میں درد پنہا تھا
سلار ایسے ہی ہنستے ہوئے اٹھا اور کمرے سے چلا گیا ۔
وہ دروازہ کھول کے گیا تھا ۔
پریشال کے ہاتھ بھی کھلے تھے
وہ بھاگ سکتی تھی ۔
وہ سوچ ہی رہی تھی جب سلار واپس آیا
اسکے ہاتھ میں ایک سینڈوچ تھا ۔
” کھا لو ” ایک لفظی حکم دے کر ہاتھ پریشال کی طرف بڑھایا ۔
پریشال کا دل کیا وہ اسکا ہاتھ جھٹک دے مگر اگلے ہی لمحے یہ سوچ کر پکڑ لیا کہ نا کھا کر وہ خود کا ہی نقصان کرے گی ۔
زندہ رہنے اور اپنی سانسیں چلانے کے لیے کھانا ضروری تھی ۔
پریشال نے اپنے ہاتھ دیکھے جو خون آلود تھے ۔ وہ ایسے نہیں کھا سکتی تھی ۔
اسکے بولنے سے پہلے ہی سلار سمجھ گیا جب اسے مجاطب کیا ۔
” میرے ساتھ آو ۔” وہ کہہ کر رکا نہیں بلکے کمرے سے باہر نکل گیا ۔
پریشال جھجھکتے ہوئے کرسی سے اٹھی اور اپنے قدم سلار کے پیچھے بڑھائے ۔
” اندر سے ہاتھ دھولو ۔ ” باتھ روم کے پاس پہنچ کر سلار نے اس طرف اشارہ کیا ۔
پریشال اندر چلی گئی ۔
کچھ دیر بعد واپس آئی تو سلار باہر ہی کھڑا تھا ۔ جیسے پہرا دے رہا ہو ۔
” آو بیٹھوں یہاں ۔ ” ابکی بار سلار نے صوفے کی طرف اشارہ کیا ۔
پریشال اسکی طرف دیکھتے ہوئے میکانکی انداز میں صوفے پر جا کر بیٹھ گئی ۔
کچھ تھا سلار کے لہجے میں جو وہ منع نہیں کر پا رہی تھی ۔
وہ صوفے پر بیٹھ کر ارد گرد کا جائزہ لینے لگی ۔
سلار ایک کمرے میں چلا گیا تھا ۔
پریشال نے دیکھا بیرونی دروازہ کھلا تھا ۔
اسکے پاس ایک اور موقع تھا بھاگنے کا ۔
اپنی نظریں اس دروازے پر رکھ کر جہاں سلار غائب ہوا تھا وہ آہستہ قدموں سے بیرونی دروازے کی طرف بڑھی تھی ۔
دو قدم کی دوری پر دروازہ تھا جب سلار کی گہری غصیلی تنبیہ کرتی آواز اسکے کانوں میں پڑی ۔
” ایک قدم بھی اور آگے نہیں بڑھانا ۔ “
پریشال کے قدموں کے ساتھ سانس بھی اٹکی تھی ۔
وہ ایسے ہی اٹکی سانس کے ساتھ مڑی تو دیکھا سلار اسے تیز نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
” میری بات مانوں گی تو جلد یہاں سے رہا ہو جاو گی ۔ آو ادھر آکر بیٹھوں ۔ ” وہ اس دفعہ لہجے کو عام اور سمجھانے والا بناکر بولا تھا
ابکی بار لہجے میں غصہ یا دھمکی نہیں تھی ۔
پریشال نے اٹکی سانس بحال کی اور دوبارہ صوفے پر آکر بیٹھی ۔
سلار بھی دو زانوں زمین پر بیٹھا ۔
ہاتھ میں پکڑا فسٹ ایڈ باکس کھولا اور زخموں پر لگانے والی آئنمنٹ نکالی
اسنے پریشال کے زخموں پر لگانے کی غرض سے ہاتھ آگے بڑھایا تو پریشال نے ہاتھ پیچھے کر لیے ۔
سلار نے اسکی حرکت پر اثبات میں سر ہلایا اور آئمنٹ اسکی طرف بڑھائی ۔
” لگا لو ۔ تھیک ہو جائیں گے زخم ۔ ” وہ شخص اسکے زخموں کی پروا کیوں کر رہا تھا ۔ پریشال نے الجھتے ہوئے آئمنٹ پکڑی ۔
سلار کھڑا ہوا اور اس کمرے کی طرف بڑھ گیا جہاں پریشال کو کرسی سے باندھ کر رکھا ہوا تھا ۔
وہ واپس آیا تو ہاتھ میں سینڈوچ تھا ۔
” میں مدد کر دوں ۔” پریشال آئمنٹ لگانے کے لیے الجھ رہی تھی کہ دونوں ہاتھ زخمی تھے اور خود سے لگ نہیں رہی تھی جب سلار کی آواز آئی ۔
” ننن ۔۔۔ ہاں ” پریشال نے جیسے مجبوری میں ہاں کہا تھا ۔
سلار دوبارہ اسکے سامنے بیٹھا اور آئمنٹ لیکر اسکی کلائیوں پر لگائی ۔ ایک نظر پریشال کی طرف دیکھا اور اپنی انگلی سے آہستہ سے زخموں پر آئمنٹ کا مساج کرنے لگا ۔
وہ آئمنٹ لگا رہا تھا اور پریشال نا محسوس انداز میں اسے دیکھے جارہی تھی یہاں تک کہ سلار نے کب اپنی انگلی پیچھے کی اسے معلوم نا ہوا
وہ ہوش میں تب آئی جب سلار نے سینڈوچ اسکی طرف بڑھایا ۔
پریشال نے پکڑ کر کھانا شروع کیا ۔ دل ہی دل میں خود کو کوسا کہ وہ سلار کو ایسے کیوں دیکھ رہی تھی ۔
وہ اپنے ہاتھ دھو کر فرسٹ ایڈ باکس رکھ کر واپس آیا تو وہ سینڈوچ ختم کر چکی تھی ۔۔
اس بار سلار زمین پر نہیں دوسرے صوفے پر بیٹھا ۔
پریشال بغور اسکا چہرا دیکھنے لگی ۔ وہ بے تاثر تھا ۔
” اس رات تم نے مجھے تھپر مارا تو تمہں قتل کرنے کا دل کیا ۔ ” وہ عام سے انداز میں جیسے یاد کرتے ہوئے بولا تھا ۔
پریشال کے زہن میں جھمکا ہوا ۔
تو وہ لڑکا سلار تھا ۔ وہ تو اس رات کو فراموش بھی کر چکی تھی ۔
” کاش میں نے تھپر نا مارا ہوتا بلکہ منہ توڑا ہوتا تمھارا ۔ ” وہ منہ بنا کر بولی مگر سلار اسے سن نہیں رہا تھا ۔ ۔
” اس تھپر کا بدلا لینے کے لیے اپنی انا کو تسکیں پہنچانے کے لیے تمھارے بارے میں معلوم کیا اور اغوا کروا لیا ۔ پرسوں رات تمہیں اذیت دے کر تمھارے تھپر کا بدلہ لینا چاہتا تھا مگر ایسا نہیں کر سکا ۔ ” وہ بولتے بولتے سانس لینے کو رکا ۔ انداز بلکل پر سکون تھا ۔
پریشال ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پیوست کر کے اسے سن رہی تھی ۔
” میں تمہں یہاں لیکر اسی ارادے سے آیا تھا مگر ۔۔۔ اب میں یہ نہیں چاہتا ۔ ” وہ خاموش ہوا اور گہری سانس اندر اتاری ۔
” یعنی میں آزاد ہوں ۔ ” پریشال نے بے تابی سے استفار کیا تو سلار نے نفی میں سر ہلایا ۔
” میں نے کہا تھا یہاں جو بھی آتا ہے میری مرضی سے آتا ہے اور میری مرضی سے جاتا ہے ۔ ” وہ آگے کو ہوا اور گہری سنجیدہ آواز میں دہرایا ۔
” اور میں نا یہ کہا کہ تمہیں اذیت دینے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اب نہیں رکھتا ۔ آزاد کرنے کے بارے میں تو کہا ہی نہیں ۔ ” واپس پیچھے ہو کر صوفے سے ٹیک لگائی ۔ ٹانگ پر ٹانگ جمائی اور کمدھے اچکاتے ہوئے بات مکمل کی ۔
پریشال ایک سرد سانس لیکر رہ گئی ۔
” اگر آزاد نہیں کرنا تو پھر کیا چاہتے ہو ؟ ” پریشال نے سوالیہ نگاہوں سے پوچھا ۔
سلار خاموش رہا ۔
پریشال اسکے جواب کا انتظار کرنے لگی
وہ بہت پر سکون سا لگ رہا تھا
یا پھر اندر کے طوفان کو دبائے بیٹھا ۔
پریشال کو سلار سے آج وہ خوف محسوس نہیں ہوا تھا جو پرسوں اسکے عجیب رویے اور چلانے کی وجہ سے ہوا تھا ۔
ساتھ ہی سلار کی وہ آوازیں بھی کانوں میں گونجی جو وہ اس سے کہہ رہا تھا
درد سے
تکلیف سے
کسی کو منع کرنے کے لیے
مگر آج سلار کا رویہ کافی بدلہ ہوا تھا ۔
وہ اسکے بارے میں سوچ ہی رہی تھی جب سلار اس سے دوبارہ مخاطب ہوا ۔۔
” تم نے کہا تھا اللہ اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے ۔” سلار نے اسکی ہی بات دہرائی تو بے اختیار پریشال نے اثبات میں سر ہلایا ۔
” تمھاری ماں نے تمہیں حفاظت کی دعائیں بتا رکھیں تھیں ۔ ” سلار نے پھر سے اسکی ہی کہی بات دہرائی ۔
پریشال سانس روکے اسے سن رہی تھی ۔
” ماما بھی وہ دعائیں پڑھتی تھیں ۔ ” سلار کا لہجا مدھم ہوا ۔
” وہ بھی دعائیں کرتی تھیں ۔ ہر روز اپنی اور اپنے گھر والوں کی حفاظت کے لیے ۔ مجھے اور شہوار کو بھی دعائیں سیکھائیں تھیں ۔” وہ ایک لحظے کو رکا اور اذیت بھری سانس کھینچی ۔
” وہ بھی جب دعائیں کرتی تھیں تو پھر اللہ نے انکی حفاظت کیوں نہیں کی ۔ کیوں اس دن بے دردی سے ماما باپ کا قتل کیا گیا ۔ ” درد ، کرب ، اذیت کی شدت لیکر سلار کہہ رہا تھا ۔
یہ وہ باتیں تھیں جو آج تک سلار نے کسی سے نا کہیں تھیں نا پوچھیں تھیں ۔
سلار نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موندھ لیں ۔
آنسو کا ایک قطرہ بائیں آنکھ سے نکل کر بہہ گیا ۔
پریشال انگلیاں مڑورٹی اپنے دانت کاٹتی رہی ۔
وہ سلار کی اذیت جیسے محسوس کر پارہی تھی ۔
دل نامحسوس طریقے سے ڈوب سا رہا تھا ۔
دفعتا سلار سیدھا ہو کر بیٹھا ۔
اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔
” میرے اس سوال کا جواب دو ۔ اور آزادی حاصل کر لو ۔ ” بے تاثر سپاٹ لہجے میں کہہ کر وہ کھڑا ہوا اور تیزی سے ڈگ بھرتا بیرونی دروازے سے نکل گیا ۔
اسکے جانے کے بعد پریشال نے بے اختیار اپنا سر تھاما ۔
وہ زہن پر زور ڈالنے لگی ۔
آخر سلار کے سول کا وہ کیا جواب دے ۔
وہ دنیاوی قسم کی لڑکی تھی ۔
کبھی ان باتوں پر زیادہ غور نہیں دیا ۔
اور آج سلار اسکے سامنے ایک سوال رکھ گیا تھا کہ اسکی ماں کی دعائیں قبول کیوں نہیں ہوئیں ۔
پریشال نے خود کو پر سکون کیا ۔
وہ سوچنے لگی ۔
بہت بچپن کی بات تھی جب ماما اسے قرآن پڑھاتے ہوئے چھوٹی چھوٹی دینی معلومات بھی دیتی تھیں ۔
اسکا رہجان اس طرف زیادہ نہیں تھا سو بہت سی باتیں وقت کے ساتھ ساتھ زہن سے نکل چکی تھیں ۔
اسے اس جگہ سے آزادی پانے کے لیے سلار کے سوال کے لیے کوئی اچھا جواب تلاش کرنا تھا ۔
وہ یہی سوچتے ہوئے کھڑی ہوئی مگر سر میں یک دم درد اٹھا ۔
اسے یاد ہی نہیں رہا کہ سر کی پچھلی طرف سلار نے کوئی چیز ماری تھی ۔
وہ بے اختیار واپس صوفے پر بیٹھی ۔ سر کو ہاتھ سے زور سے دبایا ۔
اسے پین کلر چاہیے تھی ۔
پریشال اٹھی اور اس کمرے میں چلی گئی جہاں سے سلار فسٹ ایڈ باکس لایا تھا ۔
کچھ دیر ڈھوندنے کے بعد اسے فسٹ اید باکس مل گیا ۔شکر کے اس میں پین کلر تھی ۔
وہ کچن میں آئی ۔
پانی لیا اور گولی نگل لی ۔
وہ واپس صوفے پر آکر بیٹھی ۔
ایک بار پھر ابراہیم صاحب کی فکر ستانے لگی ۔
اور انہیں کہ بارے میں سوچتے ہوئے پین کلر کا اثر دماغ پر چڑھا اور پریشال بیٹھے بیٹھے ہی نیند کی وادی میں کھو گئی ۔
پچھلی جانب بنی کھڑی سے آتی روشنی پتا دیتی تھی کہ شام اترنے والی ہے ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
شہر پر دوپہر اتر چکی تھی ۔
آج موسم زرا نرم گرم سا تھا ۔
سردی کی شدت قدرے کم تھی ۔
بہار پیلس کے گیست روم میں آو تو صوفے پر پردے میں سمٹی فرح بیٹھی تھی ۔
بہار جان نے دو روز بعد اسے فون کر کے پیلس بلاوایا تھا تاکہ وہ شہوار سے ملاقات کر لے ۔
بہار جان فرح کا پیغام شہوار کو اس ہی دن دے چکی تھیں ۔ شہوار تو اس روز ہی ملاقات کرنا چاہتا تھا مگر کاروباری سلسلے میں دو روز کے لیے اسے شہر سے بایر جانا پڑا ۔
آج صبح ہی واپس آیا تو بہار جان نے آنے کا پیغام دے دیا ۔
بہار جان کچھ دیر اسکے پاس بیٹھ کر شہوار کو بلوانے کا کہہ کر چلی گئیں ۔
فرح مکمل اعتماد سے بیٹھی تھی مگر دل گھبرا بھی رہا تھا ۔
دفعتا دروازہ کھلا اور شہوار اندر داخل ہوا ۔
وہ نیلے رنگ کی شلوار کمیذ پہنے ہوئے تھے ۔
چہرے پر تجسس بھری سنجیدگی تھی ۔
باریش چہرا جو اسکی مردانہ وجاہت میں مزید اضافہ کر رہا تھا ۔
وہ دوسرے صوفے پر آکر بیٹھا اور نطریں جھکا کر ہی رکھیں
” اسلام علیکم ” ایک لمحے کے توقف کے بعد شہوار نے بات کا آغاز شروع کیا ۔
” وعلیکم اسلام ” فرح نے جوابا کہا ۔
” بی جان یقینا آپ سے بات کر چکی ہیں ۔ وہ شادی کا مطالبہ رکھ چکی ہیں ۔ مجھے اور انہیں اب آپ کے جواب کا انتطار ہے ۔ یقینا آپ نے فیصلہ کر لیا ہوگا ۔ اور ہاں آپ کا جو بھی فیصلہ ہوگا مجھے دل و جان سے قبول ہوگا ۔ ” شہوار بنا کوئی تمہید باندھے اصل مدعے کی طرف آیا ۔
فرح کچھ لمحے کچھ سوچتی رہی پھر گویا ہوئی۔
” میں اپنا جواب دینے سے پہلے کچھ سوال کرنا چاہتی ہوں ۔” فرح نے خواہش کا اظہار کیا تو شہوار مسکرایا ۔
” جی ضرور ۔ پوچھیے ۔ ” وہ نہایت نرم لہجے میں بولا تھا ۔
” اسلام نے عورت سے نکاح کر نے کے لیے کونسی وجوہات پیش کیں ہیں ۔ ” فرح نے اپنا سوال سامنے رکھا ۔
شہوار نے ایک لحضے کا توقف کیا پھر بولا ۔
” اسلام نے عورت سے نکاح کرنے کے لیے چار وجوہات رکھیں ہیں ۔
حدیث کے مطابق
عورت سے نکاح اسکے مال کی وجہ سے
اسکے خاندان کی وجہ سے
اسکی خوبصورتی کی وجہ سے
اسکے دین کی وجہ سے “
شہوار نے پر اعتماد انداز میں سوال کا جواب دیا ۔
” آپ مجھ سے کس وجہ کی بنا پر نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔ ” فرح نے اگلا سوال کیا ۔
دل عجیب طرح سے ڈھرکا تھا ۔
” جیسا ہمیں معلوم ہے پہلی وجہ مال ہے ۔ یہ میں اور آپ دونوں جانتے ہیں کہ آپ مال دار نہیں ہیں ۔ یعنی پہلی وجہ نہیں ہو سکتی ۔ دوسری وجہ بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ آپ بی جان کو بتا چکی ہیں آپ کسی اعلی خاندان سے تعلق نہیں رکھتی ۔ تیسری وجہ خوبصورتی ہے مگر میں نے ابھی تک آپ کو نہیں دیکھا تو یہ وجہ بھی نہیں ہے ۔ اب بات آتی ہے چوتھی وجہ یعنی دین کی اور یہ ہی وجہ سب سے افضل ہے ۔ میں آپکی دین داری کی بنا پر آپ سے نکاح کرنس چاہتا ہوہں۔ آپ کے پردے کی وجہ سے آپ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ۔ میں اپنی زندگی میں ایسی شریک حیات چاہتا ہوں جسے نا کبھی کسی نے دیکھا ہو نا چھوا ہوا ۔ بی جان سے جتنا آپ کے بارے میں سنا اور میں نے خود دیکھا آپ دنیاوی کے ساتھ دینی ریجان رکھنے والی خاتون ہیں اور مجھے آپ سے نکاح کرنے کے لیے صرف یہ ہی وجہ کافی ہے ۔ ” شہوار نے تفصیل سے اپنا موقف رکھا تو نقاب کے پیچھے فرح مدھم سا مسکرائی ۔
” آپ نے اپنے بارے میں تو بتایا ۔ کیا آپ مجھے وضاحت کریں گے کہ مجھے کس وجہ کی بنا پر آپ سے نکاح کے لیے حامی بھرنی چاہیے ۔ ” فرح نے اگلا سوال زرا سنجیدگی سے سامنے رکھا ۔
شہوار نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور پھر گویا ہوا ۔
” مجھ سے نکاح کرنے کے لیے ایک وجہ یہ ہے کہ میں نے آپ کو آپکت دین کی وجہ سے پسند کیا اور نکاح کی دعوت دی ناکہ دوستی کرنے یا حرام ریلیشنشپ میں بندھنے کے لیے کہا ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مجھے اس رشتے کے قائم ہو نے میں اپنی مرضی سے زیادہ آپکی مرضی مقدم ہے ۔ کیا آپ کو نہیں لگتا جو شخص اثر و وثوق رکھنے کے بعد بھی عورت کی مرضی کو زیادہ مقدم رکھے وہ بہترین شریک حیات ثابت ہو سکتا ہے ۔
اور تیسری وجہ یہ ہے کہ میں آپکی عزت کرتا ہوں ۔
آپ کے پردے کی عزت کرتا ہوں ۔
آج کل میاں بیوی کے تعلقات میں محبت تو ہوتی ہے مگر عزت نہیں ۔ ایک وقت آنے پر محبت ختم ہو جاتی ہے مگر عزت ہمیشہ رہتی ہے ۔ ایک عورت محبت کے بنا رہ سکتی ہے مگر عزت کے بنا نہیں ۔ میں وعدہ کرتا ہوں چاہے آپ کے لیے میری محبت میں کمی آجائے مگر عزت میں کبھی نہیں آئے گی کیونکہ آپ عزت کی حقدار ہیں اور میں اس فرض کو باخوبی نبھاوں گا ۔ ” وہ اتنے جزب اور فرح کے لیے لہجے میں مان اور وقار لیکر بولا تھا کہ نقاب کے پیچھے فرح کی آنکھیں خود با خود بھیگنا شروع ہو گئیں ۔
یہ ہی تو وہ چاہتی تھی ۔
ایک ایسا شریک حیات جو صورت سے زیادہ سیرت کو فوقیت دے
ایک ایسا ہمسفر جسے محبت سے زیادہ عزت کا پاس رکھنا آتا ہو ۔
ایک ایسا مجازی خدا جسے اسکے پردے سے اعتراض نا ہو ۔
ایک ایسا انسان جسے اپنے مرد ہونے کا گھمنڈ نا ہو اور وہ عورت کے فیصلے کی قدر کرتا ہو ۔
اور دب سے مقدم ایسا ساتھی جو اسی کی طرح دینی رہجان رکھتا ہو
اسکی دعائیں یقینا قبول ہوتی تھیں ۔ بہتر طور پر قبول کی جاتی تھیں ۔
شہوار خاموشی سے اسکے ردعمل کا انتظار کر رہا تھا ۔
اسنے تمام عرصہ ایک بار بھی نطر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا ۔
فرح نے دل کی تصدیق لی ۔
اللہ کے فیصلے پر شکر گزار ہوتے ہوئے اطمینان بھری سانس لی
اور قدرے اونچی آواز میں ایک حدیث مبارکہ پڑھی ۔
” أخرج الترمذي أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ سولم قال للمغیرة: انظر إلیہا فإنہ أحری أن یوٴدَمَ بینکما“ (الحدیث)”
ترجمہ : ” اس کی طرف دیکھو کیونکہ اس سے بہتر ہے کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ پابند ہوں۔ “(حدیث)
شہوار نے حدیث کا مفہوم سمجھ کر پہلی بار نظر اٹھائیں تو دیکھا فرح کے چہرے پر نقاب نہیں تھا وہ اپنا نقاب اتارے ہوئے تھی ۔
شہوار کی ڈھرکن رک کر چلی تھی ۔
جیسا خیال کیا تھا فرح اس سے کئی زیادہ خوبصورت تھی ۔
ملائم چمک دار کتابی چہرا ۔
شہوار ایک لمحے کے لیے ٹرانس میں چلا گیا ۔
پھر کھنکارتے ہوئے نظروں میں فرح کا چہرا بھرتے ہوئے کہا ۔
” ماشااللہ “
وہ تعریفی انداز میں بولا ۔ فرح مسکرادی تو شہوار کے ہونٹ بھی مسکراہٹ میں ڈھلے ۔
” ایک مسئلہ درپیش ہے نکاح کے فرائض کے متعلق ” کچھ لمحے بعد فرح فکر مندی سے گویا ہوئی ۔
‘جی بتائیے ۔ ” شہوار سنجیدگی سے اسکی طرف متوجہ ہوا ۔
” میرے پاس کوئی ولی نہیں ہے ۔ ” فرح نے پریشانی کا اظہار کیا تو شہوار کچھ لمحے سوچنے لگا ۔
” کیا کوئی بھی نہیں ” شہوار نے استفار کیا ۔
فرح کی نظروں میں ایک چہرا لہرایا ۔
اسکے باپ کا چہرا ۔
مگر اگلے لمحے اسنے نفی میں سر ہلا دیا ۔
اسکا باپ وہ واحد شخص تھا جس سے فرح نفرت کرتی تھی ۔ وہ شخص جس کی وجہ سے اسکی ماں سسک سسک کر مری تھی ۔
” مس فرح ” شہوار کے پکارنے پر وہ خیال سے چونکی ۔
” میں ولی کا بندوبست کر لوں گا ۔ آپ بتائیں نکاح کب کیا جائے ” وہ ایک بار پھر نہایت خوش اخلاقی سے اسکی مرضی کے متعلق پوچھ رہا تھا ۔
” آپ جب چاہیں مگر یہ بہتر ہوگا کہ جلد ہو جائے ۔ مگر میں نکاح شرعی طریقے سے کرنا چاہوں گی ۔ ” فرح نے شرط رکھی تو شہوار مسکرادیا ۔
” بے شک میں بھی یہ چاہتا ہوں ۔ سادگی سے نکاح اور اگلے دن دعوت ولیمہ ۔ ” شہوار نے فرح کی بات سے متفق ہو کر کہا تو فرح دوبارہ نقاب درست کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
” میں آپکا ہاسٹل میں ایجاب و قبول کی غرض سے انتظار کروں گی ۔ ” امید ۔ مان اور چاہت کے ملے جلے جزبات لیکر فرح گویا ہوئی ۔
” ضرور جلد ہی مولوی صاحب کے ساتھ حاضر ہوتا ہوں ۔ ” شہوار خود بھی اٹھ کھڑا ہوا اور سینے ہر ہاتھ رکھتے بولا ۔
انگلی میں پینا پھتر بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔
” اسلام علیکم ” وہ اجازت طلب لہجے میں بولی اور قدم آگے بڑھائے ۔
شہوار اسکے ساتھ مین گیٹ تک آیا ۔
ڈرائیور کو احتیاط کے ساتھ فرح کو ہاسٹل چھورنے کی تلقین کی ۔
فرح نے ایک مسکراتی نظر اس پر ڈالی اور گاڑی میں بیٹھ گئی ۔
گاڑی جب تک نظروں سے اوجھل نا ہو گئی وہ وہیں کھڑا رہا ۔
وہ اپنی قسمت پر رشک کرتے ہوئے پلٹا ہی تھا جب سامنے حدید اور روعان کو کھڑے پایا ۔
وہ دونوں اسے اشتیاق اور معنی خیز نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔
” بھاں بھاں اور کتنا لال ہونا ہے ۔ بلکل کشمیری سیب لگ رہے ہو ” حدید شوخی سے کہتا چھیڑنے والے انداز میں بولا ۔
شہوار نے ایک مصنوئی گھوری لگائی اور قدم اندر کی جانب بڑھائے ۔
” بھاں آپکی شادی پر تو میں ڈانس کے ساری ریکاڑڈ ٹوڑ دینے ہیں ۔ ڈھول پر ایسا بھنگٹرا ڈالنا ہے کہ بس زمین ہلا کر رکھ دینی ہے ۔ اور ہم ڈی جے کو بھی بلوائیں ۔۔۔۔۔ ” حدید مزید پلین بتا رہا جس پر شہوار نے بڑے مزے سے پانی پھیر دیا ۔
” شادی میں صرف نکاح اور ولیمہ ہوگا ۔ کوئی گانا بجانا ڈھول نہیں ۔ “
حدید کا منہ لٹکا ۔
” ہیں ! یہ کیا بات ہوئی ۔”
” یہ ہی سنت اور مسنون طریقہ ہے اور میں اپنی نئی زندگی کی شروعات ناچ گانے جیسی حرام چیز کے ساتھ نہیں کرنا چاہتا ” شہوار نے بات پر زور ڈالتے ہوئے حدید کے کندھے سے نادیدہ گرد جھاڑی اور اندر بڑھ گیا ۔ ۔۔
” بھاں تھیک کہتے ہیں ۔ نکاح جیسے مبارک تعلق کے باندھنے کے درمیان گانے بجانے کی نحوست شامل نہیں ہونی چاہیے ۔ ” روعان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو حدید نے سمجھ کر سر ہلایا ۔
” بس ایک بار پھولاں والی ہاں کردے میں بھی ایسے ہی نکاح کروں گا بنا کسی نحوست کو درمیان میں لائے ۔ بلکل ایسے جیسے بھاں کریں گے ۔ ” حدید نے روعان کی طرف دیکھتے ہوئے ارادہ کرتے ہوئے کہا تو روعان مسکرادیا ۔
روعان نے اپنا بازو اسکی گردن میں حمائل کر لیا اور دونوں شہوار کی شادی کے متعلق باتیں کرتے آگے بڑھ گئے
” پیلس کو ڈیکور تو لازمی کرنا ہے ۔ میں چیک کرتا ہوں کوئی آن لائن ڈیکوڑ کمپنی ہے تو اپائمنٹ لے لوں ۔ ” دونوں کے مشترکہ کمرے میں پہنچ کر حدید نے کہا اور لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا ۔
سکرین پر مختلف سائیٹس کھلی تھیں ۔
مختلف ایونٹ ڈیکور کی کمپنی کی لسٹ ۔
حدید غیر ارادی طور پر کسی چیز کی تلاش میں تھا پھر وہ اسے نظر بھی آ گئی ۔
کچھ سوچے بنا ہی حدید نے اس مخصوص سائٹ ہر کلک کر دیا ۔
” اچھا تو اب میری بھابھی سے پیلس کو ڈیکور کروائے گا ۔ ” روعان نے آبرو اچکاتے پوچھا تو حدید نے بتیسی نکالی پھر
ایونٹ بک کروانے کے لیے ضروری کوائف پر کرنے لگا ۔
کہیں سے لولہ آکر روعان کی گود میں چڑھ گئی ۔ وہ بہت موٹی اور بھاری ہو گئی تھی ۔ روعان اسکی کمر سہلانے لگا تھا ۔
” اس بہانے جان پہچان بن جائے گی ۔ اچھا ہے نا تیری بھابھی دیکھ لے گی اپنا ہونے والا سسرال ۔ ” حدید نے آنکھ مارتے ہوئے کہا تو روعان نے اسکے سر پر تھپکی لگائی ۔
حدید روعان کی گود میں بیٹھی موٹو لولا سے کھیلنے لگا ۔
سامنے پڑے لیپ ٹاپ کی سکریمن پر کھلی سائٹ میں سب سے اوپر لکھا تھا ۔
” منہال فلاور ڈیکوڑ “
پھولاں والی کا نام منہال ہے وہ دونوں یہ ہی سمجھے تھے ۔
اب بس بے صبری سے بھاں کی شادی کا انتظار تھا ۔ اور حدید کو پھولاں والی سے ملنے کا
بھاں کی شادی والے دن وہ اسے سنجیدگی سے پرپوز کردے گا ۔۔۔
کوئی الٹی سیدھی حرکت یا بات نہیں
وہ خود سے پختہ ارادہ کرتے ہوئے بے صبری سے انتظار کی سوئیاں چننے لگا تھا ۔
مگر وقت ہمیشہ انسان کی مرضی کے مطابق نہیں چلتا ۔
وقت کو بعض اوقات کچھ اور ہی منظور ہوتا ہے ۔
اور وقت نے حدید حیدر کے لیے وہ لکھ رکھا تھا جسکا اسنے گمان تک نہیں کیا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
گرلز ہاسٹل میں آو تو چھوٹی آنکھوں اور پھولے گالوں والی منال واصف صوفے پر دراز خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی ۔ وہ اپنے ناول کے لیے کہانی سوچ رہی تھی مگر کوئی اچھی ترتیب نہیں بن رہی تھی ۔
دروازہ کھلا اور ٹریسا تھکے تھکے قدموں سے چلتی اندر آئی ۔
وہ ڈھ جانے والے انداز میں بیٹھی ۔
” کیا ہوا کالی چڑیل منہ کیوں لٹکا ہوا ہے ۔ ؟” منال اٹھ کر بیٹھی اور ٹریسا کا اترا ہوا منہ دیکھ کر پوچھا ۔
ٹریسا نے اپنا چہرا ہاتھوں میں چھپایا ۔
منال کو لگا وہ رو رہی تھی ۔
” کیوں آخر کیوں میرا رنگ ایسا ہے ۔ ” ایک لمحے بعد وہ ہاتھ اٹھاتی روندھے لہجے میں بولی ۔
” بچپن سے لیکر آج تک کتنے طعنے طنز اور مزاق برداشت کیے ہیں اس رنگ کی وجہ سے ” وہ اپنی انگلیاں بالوں میں ارستی اندر کا غبار نکالتے ہوئے بولی ۔
منال اسے دکھ سے دیکھ رہی تھی ۔
اسے خود پر غصہ آیا کہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھی جو ٹریسا کا رنگ کی وجہ سے مزاق اڑاتے تھے ۔
” اور آج یہ رنگ میرے کیریر میں بھی آڑے آ گیا ۔ باس نے میری پرموشن صرف اس لیے نہیں کی کہ انٹرنیشل فورم پر کمپنی کو ریپریزنٹ کرنے کے لیے وہ کسی کالی لڑکی کو پیش نہیں کرنا چاہتے ۔ میرا حق میری محنت کا تمام صلہ ایک گورے رنگ والی کو دے دیا گیا ۔ ” وہ خود اذیتی کی انتہا پر روتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔
منال کا دل بھر آیا تو تسلی بھرے انداز میں ٹریسا کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
منال اسے سمجھانا چاہتی تھی مگر اسکے پاس وہ الفاظ نہیں تھے
اور جب کسی کی دل جوئی کرنے کے لیے الفاظ نا ہوں تو بہتر ہے خاموشی سے سامنے والے کی بات سنی جائے تاکہ اسکا دل ہلکا ہو جائے ۔
یہ ہر بار ضروری نہیں کہ کوئی اپنا مسئلہ صرف مشورہ لینے کے لیے بیان کرے
دل کا بوجھ اتارنے کو بھی ایسا کیا جا سکتا ہے ۔
اور کچھ غم خاص لوگوں کے ساتھ ہی بانٹے جاتے ہیں ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے