Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

قسط نمبر 35
از قلم حرا شاہ
فارم ہاوس پر ایک اور صبح چڑھ چکی تھی ۔
یہ پریشال ابراہیم کی قید کا چوتھا ہفتہ تھا ۔
تین دن ہو گئے تھے
سلار اس پر بول کر گیا تھا اسکے بعد واپس نہیں آیا تھا ۔
پریشال اٹھ کر کچن تک آئی
وہاں کچھ بھی کھانے کو نہیں تھا
سب کچھ ختم تھا ۔
پریشال نے پانی کے ہی دو گلاس پیے اور باہر آ گئی
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے
وہ بس اتنا جانتی تھی مزید اس جگہ رہی تو وہ پاگل ہو جائے گی ۔
وہ تو دن میں سٹودیوز کے چکر کاٹنے کی خاطر سڑکوں پر پھرنے والی لڑکی تھی ۔
وہ تو راتوں کو خود کے ساتھ سڑکوں پر چہل قدمی کرنے کی عادی تھی ۔
ایسی لڑکی اتنی دیر تک قید میں کیسے رہ سکتی تھی ۔
اور یہ ہی حال پریشال کا تھا۔
وہ پاگل ہو رہی تھی ۔
ابا کی فکر الگ تھی ۔
اوپر سے کل سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا ۔
سلار کھانے پینے کا سامان کیچن میں لا کر رکھتا تھا مگر اس بار سامان بھی ختم تھا اور سالار بھی نہیں آر ہا تھا ۔
وہ کمرے میں آئی اور شیشے میں خود کو دیکھا ۔
وہ اپنے آپ کو بے رونق سی لگی تھی ۔
چند گہری سانسیں لیکر پریشال نے بالوں میں ہاتھ پھیرے ۔
” دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں ۔ ” سلار کا سوال دماغ میں گونجا ۔
اور اسکے ساتھ ہی پریشال کے زہن میں بہت کچھ گھومنے لگا ۔
ایسے ہی سوچتے سوچتے وہ یک دم تیزی سے کمرے سے باہر نکلی ۔
باہر کوئی نہیں تھا ۔
پریشال کو یک دم خود پر حیرت ہوئی ۔
اسنے واضح طور پر قدموں کی آواز سنی تھی ۔
وہ پہنچانتی تھی وہ سلار کی ہی آہٹ تھی ۔
اسکی سانسوں نے سلار کا پرفیوم بھی محسوس کیا تھا ۔
یہ اسکے ساتھ کیا ہو رہا تھا ۔
ایسا تین دن پہلے بھی ہوا تھا ۔
سلار کے نا موجود ہونے کے باوجود بھی وہ اسکی موجودگی کیوں محسوس کر رہی تھی ۔
وہ ایسا کیوں محسوس کر رہی تھی کہ وہ اسکے قریب ہی ہے بہت قریب
اتنا قریب کہ دل کے پاس محسوس ہوتا ہو
اور اسی لمحے پریشال کا دل کھینچا تھا ۔
اسے پسینے آنے لگے تھے ۔
وہ بس کسی طرح یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی ۔
وہ کچن کی طرف گئی
ہڑبڑاہٹ اور رکتی سانس کے ساتھ کبرڈز کھول کر دیکھنے لگی ۔
کچھ تو مل جائے ۔
کوئی ایسی چیز جس سے وہ بیرونی دروازے کا لاک کھول سکے ۔
وہ ایک لمحے کو ٹھہری اور واپس کمرے میں آئی ۔
دراز کھولی اور کھنگالنے لگی ۔
کچھ نہیں ۔۔
دوسری کمرے کی طرف گئی جہاں سلار سوتا تھا اور اسے جانے سے منع کیا ہوا تھا ۔
دروازہ کھولنے سے پہلے وہ ایک لمحے کو رکی۔
یوں لگا جیسے سلار پیچھے ہی کھڑا ہے ۔
لیکن اسنے ایک ہچکی زدہ سانس لیکر دروازہ کھول لیا
دروازہ کھولتے ہی پریشال پر ناگوار بو کا حملہ ہوا ۔
پیچھے ہٹتے ہوئے وہ کافی دیر تک دہری ہوتی کھانستی رہی
پرفیوم
منشیات
سگریٹ
اور شراب
سمیت ہر چیز کی بو کے بھبوکے اس کمرے سے اٹھ رہے تھے
دروازہ بند رہنے کی وجہ سے وہ بدبو اور بھی ناگوار اور جان لیوہ ہو گئی تھی ۔
پریشال کی آنکھیں پانیوں سے بھر چکی تھیں ۔
اسنے دوبارہ دروازہ بند کیا اور وہیں زمین پر بیٹھ گئی ۔
سلار اس کمرے میں کیسے جاتا تھا
اسکے زہن میں سوال آیا
وہ عادی ہوگا ۔
زہن نے ہی جواب دیا ۔
وہ پھر اٹھی اور اپنے کمرے میں آئی ۔
شیشے کی طرف دیکھا تو وہاں اسکا عکس تھا مگر عکس کے تاثر کھینچے کھینچے سے تھے اور وہ تیز نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
آج پھر اسکا لاشعور عکس بن کر اسکے سامنے کھڑا تھا ۔
پریشال نے نظریں پھیر لیں ۔
” کیا ہوا ۔ یہاں سے بھاگ کیوں نہیں رہیں ۔ ” شیشے والی پریشال نے طنزیہ پوچھا ۔
” میں ہر جگہ دیکھ چکی ہوں بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ ” پریشال نے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔
” راستہ ہے مگر تم بھاگنا نہیں چاہتی ” عکس والی پریشال افسوس سے بولی ۔
پریشال نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔
” کیا مطلب ہے تمھارا ۔ ؟ ” اسکا لہجہ سوالیہ ہوا تھا ۔
” تم خود یہاں سے نہیں جانا چاہتی کیوں کہ تم سلار کے آنے کا انتظار کر رہی ہو ۔ تمہیں اسکی موجودگی اچھی لگنے لگی تھی ۔ تبھی وہ تین دن سے واپس نہیں آیا تو تم بے چین ہو رہی ہو ۔ اس روز تم بے ہوش ہوئی تو سلار تمھارے پاس تھا ۔ تم جانتی تھی وہ سارا وقت تمھارے پاس تھا تمھارے لیے فکر مند ہوا تھا مگر تم نے اسے باتیں سنائی تھیں ۔ تم جانتی تھی کہ تمھارے بے ہوش ہونے کے باوجود بھی اس نے تمھارے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا تھا ۔ طاقت اور زور رکھنے کے باوجود بھی اتنے دن میں اسنے تمہیں کوئی تکلیف نہیں دی ۔ تم بھوکی نا رہو اس لیے ہمیشہ کیچن میں سامان موجود رکھا ۔ اور وہ دن جب ایک آدمی نے تمہیں چھونے کی کوشش کی تھی اور سلار نے اسکا ہاتھ کاٹ دیا تھا ۔ کیا یہ سچ نہیں اس وقت تمھارے دل میں اسکے لیے نرم گوشہ پیدا ہوا تھا ۔ اس روز تم نے اسے مختلف انداز میں دیکھا تھا ۔ اسکے بارے میں مختلف انداز میں سوچا تھا ۔ بولو ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تمہیں سلار سے۔۔۔۔۔۔ “
عکس والی پریشال گزرے دنوں کا زکر کرتے ہوئے اسے کچھ باور کر وارہی تھی جب پریشال نے اسے درمیان میں ٹوکا ۔
” جھوٹ ۔ سب جھوٹ ۔ ایسا کچھ نہیں ۔ ” نفی میں سر ہلاتی وہ انکار کر رہی تھی ۔
” یہ ہی سچ ہے ۔ تم یقین کرو یا نا کرو یہ ہی سچ ہے کہ تم سلار سے محبت کرنے لگی ہو ۔” عکس والی پریشال نے اس بار اپنی بات مکمل کی تھی ۔ محبت لفظ پر زور دیا گیا تھا ۔
” ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ میں اس جیسے انسان سے کبھی محبت نہیں کر سکتی تم جھوٹ بول رہی ہو ۔ ” وہ شیشے تک آئی اور ہاتھ پھیر کر جیسے عکس کو مٹانا چاہا ۔ اسکی سانسیں یک دم پھولنے لگی تھیں ۔
اسکا اپنا ہی لاشعور آخر ایسی بات کیسے کہہ سکتا تھا ۔
” تم اس لیے انکار کر رہی ہو کیونکہ تم خود بھی یہ بات نہیں جانتی ۔ تم خود ہی اپنی محبت سے انجان ہو ۔ ” عکس والی پریشال نہایت سکون سے کھڑی اب سینے پر بازو لیپٹ گئی تھی ۔
” تم جھوٹ بول رہی ہو ۔ ” پریشال چلائی تھی
” یہ ہی سچ ہے ۔ تم ناواقف ہو مگر جلد ہی جان جاو گی ۔ جلد ہی تم یہ جان لو گی کہ تم سلار سے محبت کرنے لگی ہو ۔ ” عکس والی پریشال نے بھی اتنی ہی تیزی سے اپنی بات دہرائی تھی ۔
” تم سلار سے محبت کرنے لگی ہو “
” تم سلار سے محبت کرنے لگی ہو “
اس جملے کی تکرار اسے بار بار سنائی دینے لگی یہاں تک کہ پریشال نے کوفت سے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے ۔
” شٹ اپ ۔ پلیز چپ ہو جاو ۔ میرا سر پھٹ جائے گا ۔” کانوں پر ہاتھ رکھے وہ نیچے بیٹھتی چلی گئی ۔آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں ۔
وہ بار بار اپنی آنکھیں میچتی جاتی ۔
(شٹ اپ ۔ شٹ اپ ۔۔۔ میں نے کہا اپنی بکواس بند کرو ” یک دم اسے سلار کی اس وقت کی آواز سنائی دی جب پہلی بار وہ اسکے سامنے آیا تھا اور اسے چھونے کی کوشش کرنے لگا تھا ۔
(تت۔۔۔ تم کہو اس سے وہ چپ ہو جائے ۔
میرا سر پھٹ جائے گا ۔ میرے کان خون اگل دینگے ۔ کہو کہ وہ چپ ہو جائے ۔ ” سلار کی فریاد جو وہ زمین پر دہرا ہوتا تڑپتے ہوئے کر رہا تھا پریشال کو واضح طور پر محسوس ہو رہی تھی ۔
اسے اپنے عکس کی آواز آنا بند ہو گئی تھیں ۔
پریشال نے کانوں سے ہاتھ ہٹا لیے ۔
وہ کھڑی ہوئی اور عکس کو دیکھا ۔
وہ اسکا ہی تھا ۔
وہ لاشعور نہیں تھا ۔
اسنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیری ۔
گہری سانس لیکر خود کو کمپوز کیا ۔
” اسکی آنکھیں دو رنگ کی ہیں ۔ ” مزید ایک جملہ زہن میں گونجا ۔
پریشال کا سر پھٹنے لگا تھا ۔
اسے آج اچانک سے یہ سب باتیں کیوں یاد آرہی تھیں ۔
پریشال نے سر جھٹک کر زہن میں گونجتی آوازوں کو روکنے کی کوشش کی ۔
لیکن اسے ایک ایک کر کے سلار کی تمام باتیں یاد آنے لگی ۔
وہ سب باتیں ریکارڈنگ کی طرح اسکے زہن میں گونج رہی تھیں ۔
یوں لگتا کہ سلار خود ہی وہ سب باتیں بول رہا ہے ۔
اگلے ہی لمحے پریشال باتھ روم کی طرف بڑھ گئی ۔
نل کھول کر منہ پر پانی کے چھٹے مارے ۔
گہری سانسیں لیکر خود کو کمپوز کیا ۔
وہ پاگل ہو نہیں رہی تھی ہو چکی تھی ۔
مزید ایک بار تر ہاتھ چہرے پر پھیرتے اسنے عکس دیکھا ۔
زہن میں جھماکا سا ہوا تھا ۔
” تم یہاں سے نکلنا ہی نہیں چاہتی ۔ ” اپنے لاشعور کا ایک جملہ زہن میں گردش کیا ۔
” نہیں ۔ میں یہاں سے نکلوں گی اور ۔۔۔ اور آج ہی نکلوں گی ۔ ” شیشے کی طرف انگلی اٹھا کر اپنے ہی لاشعور کو چیلنج کیا تھا ۔
” ایک کیڈنیپر کبھی میری محبت کا حقدار نہیں ہو سکتا ۔ اور کیا کہا تھا تم نے میرے بےہوش ہونے پر اسنے میرا خیال رکھا تھا تو اسنے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا تھا ۔ اور یہ سلار کی آوازیں ۔ اسکی آہٹیں اس جگہ بند رہنے کی وجہ سے ہیں ۔ اس لیے نہیں کہ مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے ۔ ” وہ ترقی با ترقی ایک ایک بات کا جواب دیتی باہر نکلی تھی ۔
کمرے سے باہر نکل کر اسنے اندازہ لگانے کی کوشش کی ۔
پھر سلار کے کمرے کی طرف دیکھا ۔
خود پر جبر کرتی وہ کمرے کے اندر بڑھ گئی ۔
بدبو نے آ گھیرا مگر اس نے پروا نہیں کی ۔
کمرے میں ہر طرف سب کچھ بکھرا ہوا تھا ۔
یوں معلوم ہوتا ایک عرصے سے کوئی چیز سمیٹی نہیں گئی ۔
وہ سامان میں ڈھونڈنے لگی ۔
الماری کھولی تو سلار کے کچھ کپڑوں میں ایک زنانہ ڈوبٹہ نظر آیا ۔ ڈوبتے پر سوکھا خون جما تھا ۔
یقینا اسکی ماں کا ہوگا ۔
پریشال نے اندازہ لگایا ۔
پریشال نے ڈوبٹہ واپس رکھا اور پھر سے تلاش شروع کردی ۔
کچھ دیر بعد الماری کے ایک کونے میں اسے مل ہی گئی ۔
لوہے کی تیز دھار آری ۔
وہ آری جس سے سلار نے اس آدمی کا ہاتھ کاٹا تھا ۔
آری پکڑے وہ تیزی سے بیرونی دروازے کی طرف بڑھی ۔
پریشال نے لاک کاٹنے کی کوشش کی مگر آری کا لوہا دروازے کی درمیانی درز میں گیا ہی نہیں
کوئی اور دروازہ ۔
نہیں ۔
وہ فارم ہاوس کا ایک ایک چپا دیکھ چکی تھی اور کوئی دروازہ نہیں تھا باہر جانے کا ۔
نا ہی کوئی راستہ تھا ۔
وہ لانج میں آکر کھڑی ہوئی ۔
پریشانی سے سوچتے لب کچانے لگی ۔
یہ بھی ڈھرکا لگا ہوا تھا کہ سلار نا آجائے ۔
اسے سلار کے آنے سے پہلے یہاں سے نکلنا تھا ۔
پریشال ایک بار پھر فارم ہاوس کا جائزہ لینے لگی ۔
یہاں تک کہ وہ سلار کے کمرے کے باتھ روم میں آ پہنچی ۔
اور اندر داخل ہوتے ہی اسنے سکون کی سانس لی
یہاں اگر وہ پہلے ہی آجاتی تو کب کی بھاگ چکی ہوتی ۔
باتھ روم کی ایک دیوار پر کھڑکی تھی ۔
کھڑکی پر لوہے کی تین سلاخیں لگی تھیں ۔
پریشال واپس باہر آئی ۔
کیچن میں ایک چھوٹا میز پڑا تھا ۔
وہ اسے اٹھا لائی اور کھڑکی کے نیچے رکھا ۔
اسکا ہاتھ ابھی بھی سلاخ تک تھیک سے نہیں پہنچا تھا ۔
وہ پھر باتھ روم سے باہر نکلی
کمرے میں تیزی سے نظریں دوڑائیں ۔
وہ ہر کام تیزی سے کر رہی تھی ۔
کمرے میں ایک باکس رکھا نظر آیا ۔
باکس لاکڈ تھا ۔
پریشال کو اس سے مطلب نہیں تھا کہ باکس میں کیا ہے ۔
اسنے باکس اٹھایا اور باتھ روم میں لا کر میز پر رکھا ۔
پھر اس پر چڑھ کر کھڑی ہوئی۔
اس بار ہاتھ پہنچ گیا تھا ۔
پریشال نے تیزی سے آری سے سلاخ کاٹنا شروع کی ۔
سماعت دروازے کی طرف بھی لگا رکھی تھی ۔
پہلی سلاخ کٹ گئی ۔
اسنے دوسری سلاخ پر آری رکھی تو ایک لمحے کو ٹھہری۔
اسے لگا جیسے کسی نے روکا ہو ۔
وہ یہاں سے نا جائے دل میں کہیں سے یہ خیال اترا تھا ۔
مگر وہ یہاں نہیں رہ سکتی تھی ۔
تین دن کی بھوکی تھی ۔
اسے اپنا ہی لاشعور تنگ کرنے لگا تھا ۔
وہ خالی جگہ پر آوازیں سننے لگی تھی ۔
اس سے پہلے وہ مکمل طور پر زہنی مریض بن جاتی اسے یہاں سے نکلنا تھا ۔
اسے خود کے لیے نکلنا تھا ۔
ابراہیم صاحب کے لیے نکلنا تھا ۔
اور آج جب موقع ملا تھا تو وہ ضایع نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
دوسری سلاخ بھی کٹ گئی ۔
( میرے سوال کے جواب دو اور یہاں سے آزاد ہو جاو ۔ ) سلار کی آواز ایک بار پھر گونجی ۔
پریشال ایک لمحے کو ٹھہری ۔
پھر سر جھٹک کر تیسری سلاخ کاٹنا شروع کی ۔
آری نیچے رکھنے وہ میز سے اتری تو یوں ہی نظر باتھ روم کے شیشے پر پڑی ۔
وہاں لا شعور والی پریشال پر سوچ انداز میں کھڑی تھی ۔
پریشال کی نظر اس پر ٹھہر گئی ۔
ناجانے وہ اب کیا کہنے والی تھی ۔
” تین دن سے سلار واپس نہیں آیا ۔ ایسا تو پہلے نہیں ہوا وہ اتنے دن غائب رہا ہو ۔ کیا تمہیں فکر نہیں ہو رہی وہ کہاں ہو گا۔ “
” میں یہاں پاگل ہو رہی ہوں ۔ مر رہی ہوں اور تم چاہتی ہو میں اس کی فکر کروں ۔ ” پریشال نے درشتی سے جواب دیا تھا ۔
” میں تمھارا ہی لاشعور ہوں ۔ میں فقط وہ کہہ رہی ہوں جو تمہارے لاشعور میں چل رہا ہے ۔ تم مسلسل سلار کے بارے میں سوچ رہی ہو یہاں تک کہ وہ تمھارے لاشعور تک جا چکا ہے ۔ لاشعور سے شعور تک لانا تمھارا کام ہے ” عکس والی پریشال سمجھانے والے انداز میں بولی ۔
پریشال نے کوئی جواب نہیں دیا ۔
وہ اپنے ہی لاشعور سے بحث کرنے میں وقت ضایع نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
اسنے کھڑکی کی طرف دیکھا ۔
اب وہاں دیوار پر ایک چکور خلا تھا ۔
پریشال پھر سے اوپر چڑھی اور نچلی دیوار پر ہاتھ رکھ کر اوپر ہونے کی کوشش کی ۔
تیسری کوشش میں وہ کامیاب ہو گئی ۔
نہیں اب کوئی آہٹ کوئی آواز
کوئی خیال ۔ کوئی لاشعور کی بات اسے نہیں روکے گی ۔
ہر چیز ذہن سے جھٹک کر پریشال نے گہری سانس لی اور باہر کی طرف چھلانگ لگا دی ۔
تقریبا ایک ماہ بعد وہ اپنی قید سے آزاد ہوئی تھی ۔
سلار یا کوئی اور آئے اس سے پہلے اسے یہاں سے بھاگ جانا چاہیے تھا ۔
اپنے کاندھوں پر ڈلی شال کھول کر اچھی طرح اپنے گرد لپیٹی وہ آگے کی طرف بڑھ گئی ۔
اسکے قدم تیز تیز چل رہے تھے ۔
شام اتر رہی تھی ۔
رات ہونے سے پہلے اسے گھر پہنچنا تھا ۔
کیا وہ کسی کی مدد لے ۔
ایک سڑک پر آکر اسنے سوچا ۔
یہاں سے گھر کا راستہ کس طرف تھا ۔
وہ الجھن کا شکار ہوئی ۔
لیکن پھر اندازہ کر کے ایک طرف چلنے لگی ۔
وہ فارم ہاوس سے نکل چکی تھی ۔
گھر بھی پہنچ ہی جائے گی ۔
پریشال پر امید سی آگے بڑھ رہی تھی مگر اسے یہ نہیں معلوم تھا وہ آسمان سے گر کر کھجوڑ میں اٹکنے والی تھی ۔
وہ سمجھ رہی تھی کہ سب کچھ پیچھے رہ گیا مگر وہ سب اسکے ساتھ ہی چل پڑا تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
دو دن پہلے ۔
وہ شہر لاہور کا ایک تنگ علاقہ تھا ۔
اس علاقے کی گلیاں تنگ تھی ۔
ساتھ ساتھ جڑے ہوئے گھر جن کی حالت بوسیدہ تھی ۔
اس جگہ نچلا طبقہ رہائش پزیر تھا جس کے مرد مزدوری اور عورتیں لوگوں کے گھر کام کر کے گزر بسر کرتی تھیں ۔
علاقہ شروع ہونے سے کچھ پہلے ایک پکی سڑک تھی ۔
سیاہ سپورٹش کار اس سڑک پر آ کر رکی ۔
گاڑی میں بیٹھے سلار نے ناگواریت سے کچی سڑک کی طرف دیکھا ۔
” تم جہنم میں بھی چلے جاو ۔ میں وہاں بھی تمہیں ڈھونڈ لوں گا ” لہجے میں انگاڑا بھرتے سلار نے کہا اور دروازہ کھول کر باہر اتر گیا ۔
وہ پکی سڑک سے اتر کر گلیوں کے اندر چلنے لگا ۔
جیسے جیسے وہ قدم آگے رکھتا اس کے چہرے پر نفرت اور غضب کے آثار نمودار ہوتے جاتے ۔
آنکھوں کے سامنے عالم شاہ اور ثمرین شاہ کا مردہ چہرا آیا ۔
ساتھ ہی ڈرائیور نادر کا گھنونا چہرا آیا ۔
سلار نے ہوڈی سر پر ڈالی اور تیز تیز چلنے لگا ۔
وہ ایک کے بعد ایک گلی مڑتا جاتا ۔
یہاں تک کہ وہ مطلوبہ جگہ پر پہنچ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درمیانہ قد
ملگجے بال
سیاہ اور سفید بالوں کا امتجاز لیے
وہ درمیانی عمر کا آدمی
بوسیدہ سے کپڑے پہنے لاٹھی کے سہارے چلتا گلی میں آگے بڑھ رہا تھا ۔
اس آدمی نے چہرا رومال سے ڈھانپ رکھا تھا ۔
وہ گھر کے آگے رکا ۔
دونوں طرف دیکھا ۔
اسکا رویہ مشکوک سا لگا رہا تھا ۔
پھر وہ اندر بڑھ گیا ۔
اندر آکر اسنے رومال ہٹایا تو چہرا واضح ہوا ۔
وہ نادر تھا
ڈرائیور نادر
وہی انسان جس نے دو مزید لوگوں کے ساتھ مل کر عالم شاہ ثمرین شاہ ، حیدر آفندی اور لائبہ آفندی کا بے دردی سے قتل کیا تھا ۔
نادر کا چہرا جھریوں زدہ تھا اور اسکی حالت بہت خراب لگ رہی تھی ۔
وہ بہت کمزور اور علیل محسوس ہوا رہا تھا ۔
دفعتا نادر نے منہ پر ہاتھ رکھ کر کھانسنا شروع کر دیا ۔
اسکی کھانسی زور پکڑتی گئی اور دہرا ہوتا بے حال ہوتا گیا ۔
اچانک اسکے سامنے پانی کا گلاس آیا ۔
نادر نے گلاس پکڑنے کی کوشش کی مگر گلاس پکڑنے والے نے گلاس کا سارا پانی اسکے منہ پر ہی انڈیل دیا ۔
نادر کچھ دیکھ یا سمجھ پاتا اسکے پیٹ میں زور دار ٹانگ پڑی اور وہ کمر کے بل زمین پر جا گرا ۔
کمزوری کے باعث اسے اٹھنے میں وقت لگا ۔
بہت مشکل سے وہ کرہاتا ہوا اٹھا تو سامنے دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا ۔
سامنے کرسی پر سلار ٹانگ پر ٹانگ جماکر بیٹھا غضب ناک تاثرات کے ساتھ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
” تتت ۔۔۔۔ تم کون ہو ” نادر کی آواز میں کپپی تھی ۔
” تیری موت ” سلار نے سفاک لہجے میں کہا ۔
نادر کی آنکھیں پھٹ گئیں ۔
وہ اسکی بات سمجھ پاتا
اس سے پہلے ہی سلار اٹھا اور اپنے مضبوط ہاتھ میں نادر کی مریل سی گردن دبوچی ۔
ہلکا سا ہی زور دینے پر نادر کی آنکھیں پھٹنے کو ہونے لگی ۔
دونوں ہاتھوں سے سلار کا ہاتھ چھڑوانے کی وہ لاچار تگودو کرنے لگا ۔
سلار اسکی بے بس حالت سے محفوظ ہوا تھا ۔
اسنے شیطانی انداز میں مسکراکر نادر کی گردن چھوڑی اور اسے ایک طرف دکھا دے دیا ۔
اس طرف پڑی چاڑپائی پر نادر اوندھے منہ جا کر گرا ۔
گلا دبنے کی وجہ سے اسکا سانس رک گیا تھا جسے وہ گلے کو سہلا کر اور کھانس کر بحال کرنے لگا ۔
سلار اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا ۔
نادر کو تڑپتا ہوا دیکھ کر سلار کو بہت لطف آ رہا تھا ۔
اور ابھی تو یہ کچھ بھی نہیں تھا ۔
جس طرح اسکے ماں باپ ٹرپے تھے وہ اس سے بھی زیادہ بری طرح سے نادر کو اذیت دینے کی سوچ رہا تھا ۔
اس قدر اذیت کہ نادر کی روح تک کانپ جائے ۔
ہر روز قطرہ قطرہ اذیت
ایسی اذیت کہ وہ بلبلائے ۔
تڑپے
موت کی بھیک مانگے مگر موت میسر نا ہو ۔
نادر سمجھ نہیں پا رہا تھا آخر وہ شخص کون تھا اور اسے ایسے کیوں مار رہا تھا ۔
” ککک ۔۔کون ہو تم ” اپنا سانس بحال کرتے ہوئے نادر نے کمزور سی آواز میں پوچھا ۔
” میں وہی ہوں جس کے سامنے تو نے اور تیرے ساتھیوں نے چار لوگوں کو بے رحمی دے قتل کر دیا تھا ۔”
سلار ڈھارتی ہوئی آواز میں کہتے اسکی طرف جھکا اور نادر جو کہ ابھی اسکی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا سلار کا زور دار مکا اسکے منہ پر پڑا ۔
نادر کا سر گھوم کر رہ گیا ۔
وہ اس اچانک پڑے مکے کی تاب نا لاتے ہوئے بے ہوش ہو گیا ۔
سر نے بے زاریت سے سر جھٹکا ۔
اسے مزہ نہیں آیا تھا ۔
وہ تو ایک مکا کھا کر ہی بے ہوش ہو گیا تھا ۔
اس طرح تو وہ وہ جلد مر جائے گا ۔
اسے تڑپا تڑپا کر مارنے والا مزہ نہیں آئے گا ۔
سلار نے کچھ سوچا اور واپس آکر کرسی پر بیٹھا ۔
اس چھوٹے سے کمرے پر نظر ڈالی
سیمنٹ اکھڑی دیواریں
توٹی ہوئی ٹپکتی چھت
ایک ناکارا سی چاڑپائی ۔
نادر کی حالت اور کمرے کی حالت دے معلوم ہوتا تھا نادر کی زندگی بہت تنگ دستی سے گزر رہی تھی ۔
مگر
سلار کے چہرے پر تخریبی مسکراہٹ آئی ۔
اب اسکی زندگی مزید عذاب بننے والی تھی ۔
دفعتا اسنے جینز کی پاکٹ میں سے موبائل نکالا اور ایک نمبر ڈائل کیا ۔
دوسری طرف سے کال اٹھالی گئی تو سلار خاموشی سی اسکی بات سننے لگا ۔
فون بند کرتے ہی سلار نے بد مزگی بھری کوفت سے چاڑپائی کو ٹھوکر ماری ۔
” تیرے وہ دونوں ساتھی پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے ۔ انکی قسمت اچھی تھی ۔ میرے ہاتھ لگتے تو کھال اڈھیر لیتا ۔ ” وہ چبا چبا کر ایک ایک لفظ بولا ۔
پھر کھڑا ہوا اور کمرے کے ایک کونے میں رکھے مٹی کے برتن سے گلاس میں پانی لیا اور نادر کے منہ پر انڈیل دیا ۔
پانی گرتے ہی نادر ہڑبڑا کر اٹھا ۔
اسکی آنکھیں پوری کھلتی اس سے پہلے ہی سلار نے ایک اور مکا اسکے منہ پر رسید کر دیا ۔
ابکی بار وہ بے ہوش نہیں ہوا مگر لرز کر رہ گیا تھا ۔
مممم۔۔۔ مجھے معاف کردو ۔ میں نے جان بوجھ کر ۔۔۔ ” اپنی صفائی میں نادر نے کچھ بولنا چاہا مگر سلار کے تیسرے مکے نے نادر کی سماجت منہ میں ہی روک دی ۔
نادر کا جبڑا ہل کر رہ گیا ۔
” کیا کہا معاف کردوں ۔ ” سلار نے اسکا منہ دبوچا اور ڈھارتے ہوئے کہا
” اتنے سال کی تلاش ۔ اتنے سال کی محنت میں نے اس لیے نہیں کی تیرے ملنے پر تجھے معاف کردوں ۔ تیرا تو وہ حشر کروں گا کہ تیری روح تک کانپ جائے گی ۔ ” آنکھوں میں تپش اور لہجے میں سلگتی نفرت لیے سلار نے اسے جیسے باور کروایا تھا ۔
نادر کا جسم خوف اور سلار کے لہجے کی تپش کے باعث کانپنے لگا تھا ۔
سلار سیدھا ہوا اور ادھر ادھر نظر دوڑائی ۔
زمین پر لکڑی کی لاٹھی پڑی تھی ۔ سلار نے اسے اٹھایا اور دلچسپی سے دیکھا ۔
ابکی بار نادر پہلے ہی سمجھ چکا تھا کہ سلار کیا کرنے والا ہے مگر وہ اپنے بچاو میں کچھ کر پاتا سلار نے وہ لاٹھی اسکے سر پر دے ماری ۔
اسنے ضرب اس طرح لگائی تھی جس سے نادر صرف بے ہوش ہو ۔
مر نہیں جائے گا ۔
نادر کا لاچار اور کمزور جسم ایک بار پھر ہوش سے بیگانہ پڑا تھا ۔
سلار نے لاٹھی ایک طرف پھینکی ۔
اب اسے صرف رات ہونے کا انتظار تھا ۔
رات ہوتے ہی وہ نادر کو لیکر یہاں سے نکل جائے گا ۔
اسنے وقت دیکھا ۔
ابھی دو گھنٹے پڑے تھے ۔
تبھی ادکا فون بجا ۔
کال شہوار کی تھی ۔
سلار نے کال نہیں اٹھائی ۔
فون کافی دیر تک بجتا رہا ۔
تقریبا دس مس کالز کے بعد سکرین پر میسج چمکا ۔
“کال اٹھاو مجھے بات کرنی ہے “
گیارہویں کال آئی تو سلار نے بد دل ہو کر کال ریسیو کی ۔
” کہاں ہو تم ؟ ” کال اٹھاتے ہی شہوار کی فکر مند آواز گونجی ۔
” آپکو اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے میں کہاں ہوں ۔ ” سلار نے بے رخی سے کہا ۔
” تم چاہو یا نا چاہو مجھے اس بات سے مطلب بھی ہے اور فرق بھی پڑتا ہے کہ تم کہاں ہو اور کیا کر رہے ہو ۔ اب مجھے شرافت سے بتاو تم لاہور میں کیا کر رہے ہو ۔ ” دوسری جانب سلار کی ضبط زدہ سی آواز آئی ۔
سلار کے لہجے اور رویے نے یقینا اسے تکلیف دی تھی ۔
” اوہ ! تو آپ کو پتا چل گیا میں لاہور میں ہوں ۔ ” سلار نے طنزیہ انداز میں کہا ۔
” تو یہ بھی معلوم ہوگا میں لاہور میں کیا کر رہا ہوں ۔ اگر نہیں تو اسی آدمی سے پوچھ لیں جسے میری جاسوسی پر لگایا ہے ۔ بلکہ آپ کے لیے بہتر ہوگا اپنے کام سے کام رکھیں اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں ۔ آپکی فکر کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے ” وہ اپنے ازلی بے رخی اور لا تعلقی بھرے انداز میں بولتا فون کاٹ گیا ۔
شہوار کی پھر سے کال آنے لگیں مگر اسنے اٹھائیں نہیں
کچھ دیر بعد کوفت میں آکر اسنے موبائل آف کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔
بہار پیلس میں موجود اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس شہوار کھڑا تھا ۔
اسکے چہرے پر عجیب قسم کا ضبظ طاری تھا ۔
سلار نے فون بند کر دیا تھا ۔
شہوار کو اب پریشانی ہونے لگی تھی ۔
اور یہ پریشانی کوئی نئی نہیں تھی ۔
وہ تھا کہ سلار کی فکر میں پریشان ہوا جاتا تھا اور سلار تھا کہ اسے فرق نہیں پڑتا تھا ۔
فرح کمرے میں آئی تو اسنے شہوار کو پریشان سا کھڑے دیکھا ۔
فرح کو اتنا تو اندازہ ہو گیا تھا ۔
شہوار آج کل دو وجوہات کی بنا پر پریشان رہتا تھا ۔
ایک سلار
اور دوسرا آدم
شہوار نے کبھی فرح سے زکر نہیں کیا تھا ۔
اور نا ہی فرح نے اسے زور دیا تھا بتانے کے لیے ۔
وہ اسے اگر پریشان دیکھتی تو ایک اچھی بیوی اور ہمسفر ہونے کے ناطے اسے تسلی ضرور دیتی تھی اور شہوار کے لیے یہی کافی ہوتا تھا ۔
فرح چل کر اس تک آئی اور کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
شہوار جو سوچوں میں گم تھا ہڑبڑا کر اسکی طرف مڑا ۔
پھر ایک گہرا سانس لیکر واپس چہرا کھڑکی کی طرف کر لیا ۔
” تمھارا کام کیسا چل رہا ہے ” چند لمحوں بعد شہوار نے سرسری انداز میں پوچھا ۔
” اللہ کا شکر ہے بہت اچھا ۔ ایگمیز چند ہی دنوں میں ختم ہو جائیں گے ۔ “
فرح نے اطلاعا بتایا ۔
” اسکے بعد فری ہوگی تم ” شہوار نے ابکے اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
” ہاں نیا سیشن شروع ہونے سے پہلے کچھ دن فری ہونگی ۔ کوئی کام کرنا ہے کیا ۔ ” فرح نے بتاتے ہوئے وجہ کے بابت پوچھا ۔
” ہاں ۔ جب وقت آئے گا بتا دوں گا ۔ ” شہوار نے مدھم سا مسکرا کر کہا تو فرح نے اثبات میں سر ہلایا ۔
” مجھے انتظار رہے گا ۔ “
” میں زرا شام کے کھانے کی تیاری کر لوں ۔ “
فرح کہتے ہوئے پھر سے کمرے سے نکل گئی ۔
شادی کے چار دن بعد اسنے بہار جان سے کہہ کر خانسامہ کو ہٹوا دیا تھا ۔
جب ایک عورت گھر میں موجود تھی تو خانسامہ کی کیا ضرورت تھی ۔
اب روز کے کھانے وہ خود ہی پکاتی تھی ۔
اور کچھ ہی دنوں میں سب کو اسکے ہاتھ کا کھانا پسند آگیا تھا ۔
روعان اور حدید تو اکثر بھابی کے ہاتھ کے ذائقے کی تعریف کرتے رہتے ۔
بہار جان بھی خوش ہو کر خوب دعائیں دیتی تھیں ۔
فرح کیچن میں آئی اور کام میں مصروف ہو گئی ۔
وہ شہوار کو پریشان دیکھ کر آئی تھی سو خود کا دل بھی بیٹھ سا گیا تھا ۔
اور یہ ہی تو محبت کی شرائط میں سے ایک شرط ہے کہ اپنے ساتھی کے دل کا حال بنا کہے جان لیا جائے سن لیا جائے سمجھ لیا جائے ۔
شہوار سلار کے حوالے سے فکر مند تھا ۔
ولیمے والے جو سلار نے فرح کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تھی اور شہوار کا غصہ کرنا
اس پر سلار کا دھمکی دے کر نکل جانا ۔
یوں لگتا تھا دونوں بھائیوں میں سخت دڑار آ چکی ہے ۔
شہوار سلار پر غصے کی وجہ سے اسکی فکر نہیں کرے گا
مگر بھائیوں میں ان دیکھی یک طرف دڑار تو بہت پہلے کی قائم تھی ۔
اور فرح نے محسوس کیا تھا سلار پر غصہ یا ناراض ہونے کے باوجود بھی ایک لمحہ ایسا نہیں گزرا تھا جب شہوار کو اسکی فکر نا ستائی ہو ۔
جب شہوار اسکے لیے پریشان نا ہوا ہو ۔
وہ تو بڑے بھائی کا فرض نبھا رہا تھا
سلار تھا جو چھوٹا بھائی نہیں بن پا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
اگلے روز آفس کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری تھیں
نامحسوس انداز میں شہوار آدم کی حرکات پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔
آدم بھی آج کل سب کچھ بہت احتیاط سے کر رہا تھا ۔
شہوار اس وقت ایک میٹنگ سے فارغ ہو کر اپنے آفس کی طرف بڑھ رہا تھا جب اسکے موبائل پر کال آنے لگی ۔
” ہاں بولو ” کال اٹھاتے آدم نے پوچھا ۔
” سلار صاحب کو لاہور پولیس نے گرفتار کر لیا ہے ۔ انکی گاڑی میں موٹروے پولیس کو ڈرگز ملی ہے ” دوسری طرف سے شہوار کے آدمی نے اطلاع دی
اور شہوار کو لگا وہ کچھ پل کے لیے سماعت سے محروم ہو گیا ہے ۔
کچھ بولے بنا اسنے کال کاٹ دی ۔
وہ آفس میں آیا
چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو کمپوز کیا ۔
کچھ دیر بعد شہوار کی گاڑی لاہور کی طرف رواں تھی ۔
راستے میں ہی اسنے ضمانت کروانے کے لیے وکیل سے رابطہ کر لیا تھا ۔
تیز رفتار سے گاڑی چلاتے ہوئے شہوار اس وقت سخت پریشانی کے عالم میں ڈوبا ہوا تھا ۔
ڈرگز
اور اس سے آگے بہت سے خدشات تھے جو اسے الجھائے ہوئے تھے ۔
سلار کی گاڑی میں سے ڈرگز ملی تھیں
کیوں
اور اس کیوں کا جواب سلار کے پاس ہی تھا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے