Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 55

آتش_عشقم
قسط 55
از قلم حرا شاہ
بہار پیلس میں ہوئے آگ والے حادثے سے کچھ دیر پہلے ۔۔۔۔
حدید اور روعان کے مشترکہ کمرہ کی دو ڈیکوریٹر سجاوت کر رہے تھے
روعان نے اپنا سامان دوسرے کمرے میں شفٹ کر لیا تھا
شادی کے بعد مہکشاں پیلس میں رہے گی مگر جب بھی دل کرے گا وہ فلاور شاپ والے گھر چلی جایا کرے گی ۔
سجاوٹ مکمل ہو چکی تھی
ایک آدمی کچھ مشکوک سا لگ رہا تھا ۔
وہ بار بار اپنے ساتھی سے نظریں چرا رہا تھا
وہ بہانے تلاش کر رہا تا کہ موقع مل سکے
دوسرا آدمی باہر چلا گیا
پہلا والا بہانے سے رک گیا
اب وہ کمرے میں اکیلا تھا
اسنے اپنے بیگ سے ایک سپرے کی بوتل نکالی اور کمرے میں سپرے کرنے لگا
بوتل میں موجود محلول قطروں کے زریعے نکلتا پورے کمرے میں پھیل چکا تھا ۔
وہ محلول کیروسین تھا ……
گوہر بی بی سمیت اولڈ ہاوس کی تمام خواتین مدعو تھیں
بہار جان انکے ساتھ لان میں ہی بیٹھی باتیں کر رہی تھیں ۔
روعان کیٹرنگ کے انتظامات دیکھ رہا تھا ۔
شہوار نے مولوی صاحب کو لیکر آنا تھا ۔
حدید روعان کے پاس آیا اور اسے کہنے لگا ۔
” ویرے مجھے تیری بھابھی سے بات کرنی ہے ۔ میں اسے کچھ دیر کے لیے اپنے کمرے میں لے کر جاوں گا ۔ تو دیھان رکھیں خواتین کو پتا نا چلے ۔ ” حدید اسے ہدایت کرتے ہوئے بولا
” ایسی کونسی بات ہے جو بعد میں نہیں ہو سکتی ۔ ” روعان نے بازو پہلو پر جماتے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا ۔
” یہ میرا اور مہکشاں کا پرسنل میٹر ہے ۔ تو اپنے کام پر دیھان دے ” حدید نے اسکا کندھا تھپک کر کہا اور آگے بڑھ گیا
وہ اپنے ازلی حلیے کی نسبت آج اچھے حلیے میں تھا
سفید کڑتا جسکے گلے پر سرخ تلے کا کام تھا اور سرخ ہی لاچا شلوار
جبکہ روعان نے سفید اور سیاہ کا امتجاز کیا ہوا تھا
حدید پہلے اپنے کمرے میں آیا ۔
اسکے ہاتھ میں ایک ڈبہ تھا
اسنے بیڈ پر رکھا اور باہر نکل گیا ۔۔۔۔
اس کمرے میں مہکشاں موجود تھی
عروسی جوڑے زیب تن کیے
زیورات سے سجی ہوئی
سنگھار کی ہوئی
دلہن بنی بہت خوبصورت لگ رہی تھی
منہال اپنی ماں کو اس روپ میں دیکھ کر بہت خوش بھی ہو رہی تھی اور پرجوش بھی
مہکشاں اپنی انگلی میں منگنی کی انگوٹھی دیکھ رہی تھی جب حدید کمرے میں آیا
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔” وہ آنکھیں وا کر کے بولی
“کمرے میں آو کچھ کام ہے ” حدید تیزی سے بولا
” مگر ۔۔۔”
” اگر مگر چھوڑو ۔ کسی کو پتا چلے اس سے پہلے صرف پانچ منٹ کے لیے آ جاو ۔ ” حدید نے گویا اسکی منت کی تھی
مہکشاں نے منہال کو وہیں رکنے کا کہا اور حدید کے ساتھ اسکے کمرے میں آ گئی
” کچھ دیر بعد ہمارا نکاح ہو جائے گا حدید ۔ تم سے صبر نہیں ہو سکتا ۔ ” حدید کے پیچھے کمرے میں داخل ہوتی وہ شکایتی انداز میں بولی
” یہ کام نکاح سے پہلے کرنے والا ہے ۔ اور تم پلیز اپنے ہونے والے شوہر پر غصہ مت کرو ۔ ” حدید نے معصومیت سے کہا تو مہکشاں مسکرادی
وہ بیڈ کے پاس آیا اور وہاں رکھا ڈبہ کھولا
اندر کیک تھا
جس پر انگریزی زبان میں لکھا تھا
” بڑائڈ ٹو بی
گروم ٹو بی “
مہکشاں قریب آئی اور کیک کو دیکھا
” یہ ہماری نکاح سے پہلے چھوٹی سے پیچلرز سیلیبڑیشن ۔ ” مہکشاں کی طرف دیکھتے حدید نے بتایا تو وہ مسکرادی ۔
” رکو میں کینڈل جلا لوں ۔ پھر تم اسے کٹ کرنا” حدید نے کہتے کڑتے کی پاکٹ سے ماچس کی ڈبی نکالی اور تیلی جلا کر کینڈل جلائی ۔
اپنے تئیں اسنے ماچس بھجا کر ڈسٹ بن کی طرف پھینکی مگر وہ پردے پر جا گری
پردہ جس پر کیروسین کے قطرے چھرکے ہوئے تھے محض ماچس کی گرم راکھ کی وجہ سے فورا آگ پکڑ گیا ۔
حدید کی اس طرف پشت تھی
آگ تیزی سے اوپر کی جانب پھیل رہی تھی
مہکشاں کی نظر پڑی تو اسکی آنکھیں پھٹیں ۔
آگر پردے کی راڈ کو جلا رہی تھی
راڈ پردے سمیت نیچے حدید پر گرتا مہکشان نے آگے بڑھ کر اسے دوسری طرف دکھا دے دیا اور خود جلتے ہویے پردے کے نیچے آ گئی
حدید واپس پلٹا تو جیسے کسی نے اسے کچل دیا ہو
مہکشاں زمین پر پڑی تھی
اسکے اوپر پردہ تھا جو اسکے وجود کو بری طرح جھلسا رہا تھا ۔ مہکشاں کی درد ناک چینخیں سنائی دے رہی تھی ۔
وہ ہونکوں کی طرح اسکی طرف بڑھا مگر چھت پر لگا لکڑی کا ایک سجاوٹی ٹکرہ اسکے منہ پر آکر گرا
وہ منہ کے بل زمین پر گر گیا ۔
آگ تقریبا پورے کمرے میں پھیل چکی تھی
اور ساتھ میں دھواں بھی بھرتا جا رہا تھا ۔۔۔۔
کیٹھ اس طرف ست گزری تو اسنے کمرے کے دروازے کو آگ پکڑتے دیکھا ۔
وہ گھبرا کر باہر بھاگی اور چلائی
” آگ لگ گئی ۔ حدید سر کے کمرے میں آگ لگ گئی ۔ “
یہ سنتے ہی بہار جان نے بے اختیار اپنا دل تھاما
گوہر بی بی سمیت باقی خواتیں بھی پریشان ہوئیں
روعان سن کر فورا اندر بھاگا
دروازہ جل رہا تھا
بہار جان سٹیک کے سہارے چلتی وہاں آئیں
روعان نے بنا کسی ملازم کے پانی لانے کا انتظار کیے بنا اپنے ہاتھوں سے ہی دروازہ کھولنا شروع کر دیا
دروازہ پر لگی آگ اسکے ہاتھ جھلسا رہی تھی مگر پروا کسے تھی
وہ تو بس کسی طرح حدید اور مہکشاں کو باہر نکالنا چاہتا تھا ۔
دروازہ توٹ گیا
وہ جھلسے ہوئے ہاتھوں سے اندر بڑھا
آنکھوں میں آنسو تھے
اپنی تکلیف کے باعث نہیں
حدید اور مہکشاں کی تکلیف کے تصور سے
دھواں نے اسے بے اختیار کھانسنے پر مجبور کیا
اسنے نیچے بیٹھ کر حدید کے منہ سے جلتا ہوا سجاوٹی ٹکرا ہٹایا ۔
حدید دھواں کے باعث بے ہوش ہو چکا تھا ۔
روعان آگے بڑھا اور مہکشاں کے اوپر سے پردہ ہٹایا ۔
مہکشاں کندھوں سے نیچے جھلس چکی تھی
روعان کے سر پر دھواں کا اثر ہونے لگا ۔
وہ بے دم سا ہو کر نیچے گر پڑا
اسکے بازوں پر پردی کا ایک ٹکڑا گرا جو کہنیوں سے آگے تک اسکے بازوں جلانے لگا ۔۔۔۔
آگ بجھانے والا عملہ اور ایمبولنس پہنچ چکی تھی
آگ پر قابو پا کر کمرے سے تینوں نفوس کو سٹریچر پر نکالا گیا ۔
بہار جان اپنے ضبط پر اختیار کھو کر گر پڑیں
جبکہ گوہر بی بی بھی سخت صدمے سے دو چار ہوئیں
آج خوشی کا دن تھا
خوشی کا دن یوں ماتم میں بدل جائے گا
سوچا کس نے تھا
سوچتا کون تھا
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
شاکرہ کے طوائف اڈے پر رہتے ہوئے فرح کو تین ماہ ہو چکے تھے
وہ زیادہ تر وقت اماں بخت کے کمرے میں انکی خدمت میں گزارتی اس امید پر کہ ایک دن وہ اسے پہچان جائیں گی ۔
وہ اکثر طوائف اڈے کی خواتین کے لیے کھانا بنا دیا کرتی تھی
کچن کے باقی معاملات اور صفائی وغیرہ میں بھی ہاتھ بٹا دیتی ۔
وہ اس وقت اماں بخت کے کمرے میں بیٹھی قرآن پڑھ رہی تھی
اماں بخت کی الماری سے اسے قرآن مل گیا تھا
یہ وہی قرآن تھا جس سے اماں بخت نے اسے پڑھنا سکھایا تھا
جب وہ پڑھ گئی تو خود ہی خفظ بھی کرنے لگی
الماری میں موجود تراجم اور تفسیر کی کتابیں بھی پڑھتی اور سمجھتی ۔
کچھ نا سمجھ آتا تو اماں بخت سے پوچھ لیتی
وہ تلاوت کر رہی تھی جب سورت بقرہ کی اس آیت پر ٹھہری اور بار بار پڑھنے لگی
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے
وہ پڑھتی جاتی اور ایک امید بندھتی جاتی تھی
اسے حوصلہ ملتا جاتا تھا ۔
دفعتا اماں بخت نے آنکھیں کھولیں اور اس کی طرف دیکھا ۔
” تو چاندی ہے نا ؟ ” وہ نقاہت زدہ آواز میں بولیں تو فرح نے انکی طرف چونک کر دیکھا ۔
اوہ تو وہ یہ غلطی کر رہی تھی
فرح نام تو اسے گل آرا نے دیا تھا
جبکہ لیلہ بیگم نے اسکا نام چاندی رکھا تھا اور اماں بخت سمیت اسے طوائف خانے میں سبھی چاندی کہتے تھے
فرح کے زہن سے یہ بات نکل گئی تھی اور وہ اماں بخت کو اپنا تعارف فرح کے طور پر ہی کروائے جا رہی تھی ۔
” ہاں اماں ۔ میں چاندی ہی ہوں ۔ ” وہ تائیدی انداز میں کہتی انکے پاس آکر بیٹھی اور ہاتھ تھاما ۔
” تو نے مجھے آج قرآن نہیں سنایا ۔ ایسے ناغہ کرے گی تو سبق بھول جائے گی ۔ ” وہ جھڑکنے کے انداز میں بولیں
زہن جیسے ماضی میں قید تھا
ماضی کی سوچیں ہی سوار تھیں
” اماں میں ابھی سناتی ہوں ۔ ” فرح نے کہا اور انہیں سورت رحمن سنانے لگی
اماں بخت نے آنکھیں بند کیں اور سکون سے سننے لگی
فرح کی میٹھی اور نرم آواز میں تلاوت انہیں بہت سکون دے رہی تھی ۔
فرح آخری آیات پر ہوگی جب اسکے ہاتھ میں اماں بخت کا ہاتھ ڈھیلا پڑ گیا
فرح کی آواز کانپی
پھر روندھنے لگی
آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں
” اماں ۔ !” اسنے بے اختیار اماں بخت کو جھنجوڑا مگر وہ چاندی کا سبق سنتے ہوئے ابدی نیند سو چکی تھیں
اماں بخت اکثر فرح سے کہتیں کہ وہ انکے لیے دعا کرے کہ انہیں جب بھی موت آئے قرآن سنتے ہوئے آئے ۔
فرح انکے ہر بار کہنے پر دعا کر دیتی ۔ اس وقت تک یہ بات مشہور ہو چکی تھی کہ فرح کی ،کی گئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے ۔
اور آج اماں بخت کے لیے کی گئی اسکی دعا قبول ہو گئی تھی ۔
فرح کے آنسووں میں تیزی آ گئی
وہ کتنی ہی دیر یونہی بیٹھی رہی
یہ آخری امید تھی اور بھی ختم ہو گئی
مگر انسان کب جان پایا ہے اپنے رب کی مصلحتوں کو
انسان سوچتا کچھ ہے ہوتا کچھ ہے
اور جب اللہ کی تدبیریں کام کرتی ہیں تو انسان عقل کی تدبیریں دنگ رہ جاتی ہیں ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
سانحے سے دو ہفتے بعد ۔۔۔۔
وہ سوسائٹی کا قبرستان تھا جو کہ بہار پیلس کے پچھلی طرف تھا ۔
تازہ بنی ہوئی اس قبر پر وہ پہلی بار آیا تھا ۔
جب ہوش آیا تو سب سے پہلے ایک نام پکارا
” مہکشاں کہاں ہے ؟ ” بیڈ کے پاس کھڑا شہوار غمزدہ تاثرات کے ساتھ بس حدید کو دیکھے گیا جس کا چہرا سرجریز کے باعث کچھ حد تک دیکھنے کا قابل ہوا تھا ۔
” بھاں مجھے بتائیں مہکشاں کہاں ہیں ” شہوار کا ہاتھ تھامتے وہ ڈوبٹے دل کے ساتھ پوچھنے لگا
” وہ نہیں رہی ۔ ” شہوار نے نظریں چراتے ہوئے حدید کے گوش گزار یہ حقیقت کی
حدید پر پہلے بے یقینی اتری
وہ نفی میں سر ہلانے لگا
پھر اپنا سر دیوانہ وار پیٹنے لگا
شہوار نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی
اس وقت جہاں تک ہو سکے حدید کو اپنی تکلیف ظاہر کرنے کی ضرورت تھی
شہوار سے اسکی حالت دیکھی نا گئی تو وہ باہر آ گیا ۔
اور حدید وہ تو بن جل کی مچھلی کی طرح ٹرپنے لگا تھا
مہکشاں کیوں مر گئی
موت آنی تھی تو اسے آجاتی
وہ روئے جا رہا تھا
کمرے کی ہوا غمگین تھی
دیواریں ماتم زدہ تھی
ہسپتال سے ایک ہفتے بعد ڈسچارج ہو کر وہ پیلس نہیں گیا تھا بلکہ مہکشاں کے گھر آ گیا تھا
اسکا دل یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ مہکشاں مر گئی
وہ چھوٹے گھر میں رہتے ہوئے مہکشاں کی یادوں سے باتیں کرنے لگا تھا
اب وہ روتا نہیں تھا مگر آنکھیں روئی روئی سی ہی رہتی تھیں ۔
رنگوں کا شوقین حدید حیدر کے زیب تن لباس اب بے رنگ ہو چکے تھے
وہ سیاہ ہو چکے تھے
اب اسکے چہرے پر ہر وقت ماسک ہوتا تھا ۔
مہکشاں کے بعد اب اسکے پاس منہال تھی اسکی نشانی کے طور پر
وہ مہکشاں کا غم دل میں بسائے اگر جی رہا تھا تو محض منہال کے لیے
منہال شمش جس نے باپ کو کھویا اور پھر ماں کو
اب دنیا میں اسکے لیے ماں اور باپ کی جگہ حدید ہی تھا ۔
آج پہلی بار وہ منہال کے ساتھ مہکشاں کی قبر پر آیا تھا
وہ قبر کے پاس دو زانوں بیٹھ گیا
منہال ساتھ کھڑی رہی
بے آواز رونے لگی
اگر بول پاتی تو اسکی چینخیں کان پھاڑ دیتیں ۔
حدید نے قبر کی مٹی کو چھوا۔
وہ خود بھی بے اختیار رونے لگا تھا ۔
پھر اس نے قبر پر سے پھول اٹھائے اور یاسیت سے مسکرادیا
” میری پھولاں والی آج پھولوں کے نیچے سو گئی ۔ ” آواز رندھ گئی ۔
پھر چند لمحے وقفے کے بعد بولا ۔
” پتا ہے ہوش سنبھالا تو خود کو بہار جان کی آغوش میں پایا ۔ انہیں سے ماں باپ کی محبت اور شفقت ملی ۔ ان سے سنا تھا اپنے ماں باپ کے بارے میں مگر مجھے نا انکا لمس یاد تھا نا کچھ اور ۔ دل اداس ہو جاتا مگر کبھی اتنی تکلیف نہیں ہوئی ۔ میں نے کبھی کسی اپنے کو کھونے کا صدمہ شاید خود پر محسوس ہی نہیں کیا تھا مگر اب یہ جزبہ مجھ پر بری طرح سے حاوی ہے ۔ مہکشاں تم مجھے پر یہ ستم کیوں کر گئیں ۔ کیوں مجھے اذیت میں چھوڑ گئی ۔ جانتی ہو نا کتنی محبت کرتا ہوں ۔ کیوں اپنے دیوانے کو تنہا چھوڑ گئی ۔ کیوں۔۔۔۔۔!” وہ آنکھوں سے بہتے آنسووں کے درمیان ہاتھ سے قبر کی مٹی ٹتول رہا تھا
” تم نے کہا تھا نا کہ میں اپنی محنت سے تمھارے اور منہال کے لیے کماو ۔ میں وعدہ کرتا ہوں ایسا ہی کروں گا ۔ تمھاری فلاور شاپ اب میں چلاوں گا ۔ میں وعدہ کرتا ہوں منہال کی مکمل دیکھ بھال کروں گا ۔ تم پریشان مت ہونا ۔ ” وہ جیسے مہکشاں کو تسلی دے رہا تھا
اسنے سر اٹھایا تو سامنے مہکشاں آ کھڑی ہوئی
عروسی لباس میں سجی دھجی
وہ اس سے بات نہیں کرتی تھی
بس مسکرا کر دیکھتی رہتی تھی
حدید نے سرد آہ بھری تو وہ مہکشاں غائب ہو گئی
وہ کتنی دیر وہاں بیٹھا اس سے باتیں کرتا رہا یہاں تک کر شام پڑی تو وہ منہال کو لیکر وہاں سے چلا آیا ۔۔۔۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
حادثے کی خبر ملتے ہی آصف عیوب روعان اور منال کو گھر لے آئے تھے
روعان کو ہوش آیا تو وہ عیوب ہاوس میں تھا ۔
اسے اپنے بازوں کٹنے کا علم ہوا تو اس قدر دکھ نا ہو جتنا حدید اور مہکشاں کے لیے ہوا
وہ حدید کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا تھا
جس نے اسے جہنم جیسی زندگی سے نکالا تھا ۔
جو اسکا اس دنیا میں پہلا دوست تھا
جو اسے سگے بھائیوں سے بڑھ کر چاہتا تھا
اس حدید کے لیے وہ خوشی سے جان بھی قربان کر دیتا ۔
منال اس وقت کمرے میں کرسی پر بیٹھی تھی
وہ مہکشاں کی موت کے صدمے میں تھی
یوں ہی بے دیھانی میں کھوئے کھوئے انداز میں وہ موبائل چلا رہی تھی جب ایک میسج موصول ہوا ۔
” ناول درمیان میں کیوں چھوڑ دیا ۔ ہیروئین اپنے دوست کی شادی پر پہنچی کہ نہیں ۔ ” منال نے میسج پڑھا اور موبائل دیوار پر پٹخ کر دے مارا اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھاما
یہ کوسوں دور بیٹھے لاعلم لوگ
اگلی قسط کا انتظار کرتے قاری کہاں اس بات سے واقف تھے کہ جو کچھ ابھی تک اقساط کی صورت لکھا وہ سچے جزبے تھے ۔ وہ حقیقی احساس تھے ۔
وہ اسکی اپنی ہی کہانی تھی جس نے ایسا درد ناک موڑ لیا تھا جسے وہ کبھی بھی لفظوں میں ڈھال نہیں سکتی تھی ۔
کیسے کر سکتی تھی وہ ایسے
شوق کی خاطر شروع کی گئی حقیقی زندگی پر مبنی تحریر اب اگر وہ مزید لکھے گی تو خود پر ظلم کرے گی ۔
وہ یونہی بیٹھی تھی جب روعان کمرے میں آیا
وہ بے اختیار اٹھ کر اس تک آئی اور اسکے بازو دیکھے ۔
کہنیوں سے نیچے مصنوئی بازوں آپریٹ کے زریعے لگائے گئے تھے ۔ الیمینیم کے بنے وہ سائنسی فن کے تخلیق کردہ مصنوئی بازوں سینسر کے زریعے کام کرتے تھے جو دماغ کے زریعے بازوں کے اوپری حصے کو حرکت کروانے کے نتیجے میں انگلیوں کی حرکاتا ۔ مٹھی کی گرفت اور پکڑ جیسا عمل پیش میں لاتے تھے ۔
وہ مصنوئی بازو اصل کے جیسے تو نہیں تھے مگر نا ہونے سے اچھے تھے
روعان ان ہاتھوں سے ہلکے وزن کی چیزیں اٹھا لیتا تھا
زیادہ سختی سے نہیں مگر چیزوں پر گرفت کر لیتا تھا
آہستہ آہستہ وہ ان بازووں کو استعمال کرنا جان جائے گا ۔
منال رونے کے درمیان مسکرائی اور اسکے گلے لگ گئی
روعان نے بازوں اسکے گرد پھیلا لیے ۔
” تم میرے ساتھ ہو ۔ جیسی بھی حالت میں ہو ۔ بس میرے ساتھ ہو ۔ ہمیشہ میرے ساتھ رہو ” وہ اسکے سینے سے لگی جزبات سے کہہ رہی تھی جبکہ روعان اسے خاموشی سے سنے گیا ۔
وہ مسکرا نہیں سکا ۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
صیام بخاری کے گھر پر شام اتری ہوئی تھی
کچھ دیر پہلے رمیز وہاں سے نکلا تھا ۔
وہ اب تک صیام بخاری کو اپنی وفاداری کا یقین دلا چکا تھا ۔
دوسری جانب وہ شہوار سے بھی خفیہ طور پر رابطے میں تھا ۔
گیٹ پر شہوار کی گاڑی آکر رکی ۔
وہ گاڑی سے اترا اور گارڈ کو دھکیلتا بپھرے ہوئے انداز میں اندر بڑھ آیا ۔
صیام بخاری لان میں ہی بیٹھا چائے پی رہا تھا
اس نے شہوار کو دیکھا پھر گارڈ کو واپس جانے کا کہا
شہوار اسکے قریب پہنچا مگر وہ پرسکون سا بیٹھا رہا ۔
” تمھاری دشمنی مجھ سے تھی نا ۔ میرے گھر والوں کو کیوں گھسیٹا اس میں ۔ میرے بھائیوں کی زندگی کیوں خراب کی ” شہوار نے اسکی گردن دبوچی اور درشتی سے ڈھارا
” یہ تو محض ٹریلر تھا ۔ پوری فلم چلنا باقی ۔ تمھارے باپ اور آفندی نے مل کر جو کھیل شروع کیا تھا وہ میں پورا کروں گا شاہ اور آفندی کے خاندان کے ایک ایک انسان کو ختم کر کے ۔” صیام بخاری نے اسکا ہاتھ اپنی گردن سے کھینچا اور الفاظ چبا چبا کر بولا ۔
” میرے باپ نے آخر ایسا کیا کیا تھا ۔” شہوار نے استفار کیا ۔
” تم بے وقوف ہی نہیں جاہل بھی ہو ۔ اپنے باپ اور اسکے پارٹنر کو فرشتہ سمجھنے والے یہ ہے وہ سب جو کارنامے ان دونوں نے انجام دیے ہیں ” صیام بخاری نے کہتے ٹیبل سے فائل اٹھا کر اسکی طرف پٹخی
شہوار نے فائل کھول کر دیکھنا شروع کی
یہ وہی ثبوتوں کی فائل تھی جو اس نے کیپٹن ابراہیم اسد سے حاصل کی تھی ۔
شہوار پڑھتا جاتا اور اسکے چہرے پر ایک رنگ آتا ایک رنگ جاتا ۔
منی لانڈرنگ
کرپش
دھوکہ دری
لوگوں کی زمینوں پر ناجائز قبضے
اپنے خلاف ہونے والے لوگوں پر جھوٹے مقدمے ۔
شہوار نے دیکھا جن لوگوں پر جھوٹے مقدمے کروائے گئے تھے ان میں صیام بخاری کا بھی نام تھا
اسنے سر اٹھا کر اچھنبے سے اسکی طرف دیکھا
” تمھارے باپ نے پہلے میری زمین پر ناجائز قبضہ کیا اور پھر مجھ پر جھوٹا مقدمہ کروا کر جیل بجھوا دیا ۔ میرے باپ نے اس وقت اپنی جائیداد پر سے میرا نام ہٹا دیا ۔ اسے لگا میں پڑپراتی سنبھالنے کے قابل نہیں ہوں ۔ میرے جیل میں جانے کے باعث جو بدنامی ہوئی اسکی وجہ سے میری ماں نے جان دے دی ۔ اس وقت میں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ شاہ اور آفندیز کو ہی نہیں انکے خون کے آخری قطرے تک کو جان سے مار دوں گا ۔ اور تمہیں جو کرنا ہے کر لو ۔ میں تمھاری آنکھوں کے سامنے تمھارے پیاروں کی جان لوں گا اور پھر تمہیں تڑپا تڑپا کر ماروں گا ” شہوار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ دھمکی آمیز لہجے میں چبا چبا کر بولا تھا
” تم ایسا نہیں کر سکتے ۔ میرے بھائیوں کو اس بات کی سزا نہیں دے سکتے جس کے وہ قصور وار نہیں ہے ۔ ” وہ نفی میں سر ہلاتا بولا
” قصور وار میں بھی نہیں تھا ۔ قصوروار میری ماں بھی نہیں تھی ۔ یہ لوگ بھی نہیں تھے جو جھوٹے الزاموں میں زندگی بھر کے لیے قانون کے چنگل میں پھنس گئے ۔ ” شہوار کی بات سن کر وہ ڈھارا تھا ۔
پھر گہرا سانس لیکر خود کو پرسکون کیا
جبکہ شہوار کا تنفر تیز چل رہا تھا ۔
” میں چاہوں تو ابھی ان ثبوتوں کو نیب اور منی لانڈرنگ ڈیپارٹمنٹ میں دے کر تمہیں اور تمھاری ساری فیملی کو زندگی بھر کے لیے مقدموں کی پیشی میں پھنسا سکتا ہوں ۔ مگر میں اب اس کھیل سے بور ہو چکا ہوں ۔ اب کوئی مزیز کیس نہیں چلے گا ۔ اب صرف ڈائریکٹ تم سب کی موت ہو گی ۔ ” صیام بخاری نے اسے پھر سے دھمکی دی تھی ۔
شہوار کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا کہ پھر کورٹ کی اندرونی جیب سے گن نکال کر اس پر تانی
” میں ہر گز تمہیں اپنے مقصد میں شامل نہیں ہونے دوں گا ۔ پہلے تمہیں ماروں گا پھر خود کو مار کر قصہ ختم کردوں گا ” وہ فیصلہ کن انداز میں بولا تو صیام بخاری مسکرایا ۔
” تمہیں لگتا ہے میرے آدمی اسکے بعد تمھاری فیملی کو چھوڑ دیں گے ۔ چچ ۔ افسوس ۔ وہ سب سے پہلے شروعات تمھارے بچے سے کریں گے ۔ ” صیام نے اس بار ٹرپ کا پتا پھینکا تھا ۔
” بچہ ۔” شہوار کے منہ سے مدھم سا نکلا ۔ گن پر گرفت ڈھیلی پڑی ۔
” ہاں تمھارا بچہ جو اس وقت دنیا میں ہی نہیں آیا اور تمھاری غلطی کی وجہ سے اپنی جان گنوائے گا ۔ ” صیام بخاری کہہ رہا تھا اور شہوار کا دم گھٹنے لگا
دفعتا اس نے نفی میں سر ہلایا
” ایک طوائف زادی کبھی میرے بچے کی ماں نہیں ہو سکتی ۔ ” وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا ۔
گن ہاتھ سے چھوٹ کر گر چکی تھی
” فرح طوائف زادی ضرور ہے مگر طوائفہ نہیں ۔ چلو تمھارے دل پر یہ پچھتاوا بھی ڈال دوں ۔ فرح ہمیشہ سے ایک پاک باز عورت تھی ۔ وہ تمھارے ساتھ مخلص تھی ۔ اور تم نے اسے دھتکار دیا ۔ اس وقت جب اسے تمھارے ساتھ کی ضرورت تھی ۔ تمھارے بھروسے کی ضروت تھی ۔ تم شہوار شاہ تم اپنی بیوی اور بچے کے گناہ گار ہو ۔ ” صیام نے اسکی طرف انگلی اٹھا کر کہا
شہوار نے بے اختیار اپنا دل تھاما اور نیچے بیٹھا
” مجھے تم میں اور خود میں آج کوئی فرق محسوس نہیں ہو رہا ۔ میں نے بھی اسکی ماں کو بیچ راستے میں چھوڑا اور تم نے بھی ۔ پر معلوم ہے تم زیادہ ظالم ہو ۔ مجھے اسکی ماں سے کبھی محبت نہیں تھی ۔ میرے لیے عورت ہمیشہ استعمال کرنے کی چیز رہی تھی مگر تم نے اپنی زندگی میں شامل اس واحد عورت کو اس حالت میں تنہا چھوڑا جسے تم نے محبت بھی کی تھی ۔ ” صیام بخاری اس پر حقیقتیں واضح کر کے اسے پچھتاوں میںدھکیل رہا تھا جبکہ شہوار کا سانس رک رہا تھا
نہیں وہ ظالم نہیں ہو سکتا تھا
صیام بخاری مزید کچھ کہہ رہا تھا مگر اسکا سر گھومنے لگا تھا
سامنے خفگی سے گھورتی فرح آ کھڑی ہوئی ۔
وہ آج سمجھ پایا تھا اسکی خفگی کا سبب
اسنے بے اختیار سانس لینے کی کوشش کی مگر سینے میں کوئی درد سا ڈھنس کر رہ گیا
” جاو اور جا کر فرح کو تلاش کر لو ۔ مرنے سے پہلے تمہیں اتنی مہلت دیتا ہوں کہ اپنے بچے کی شکل دیکھ لو ۔ ” صیام بخاری نے جھک کر کہا ۔
اسے حقیقت بتا کر ایک عنایت کی اور اندر کی طرف بڑھ گیا ۔
آگاہی عزاب ہوتی ہے
اور اس وقت شہوار شاہ کا وجود عزاب کے گھیرے میں تھا
وہ کھڑا ہوا مگر جیسے ٹانگوں میں جان نہیں تھی
وہ با مشکل خود کو گھسیٹ کر باہر لایا تھا
سب کچھ گومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
فرح کا التجائی چہرا
فریاد کرتا لہجہ
وہ بار بار کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ نہیں سن رہا تھا
اپنے شاکڈ میں وہ اس قدر اندھا ہو گیا تھا کہ مکمل حقیقت جاننے کی کوشش ہی نہیں کی
وہ گاڑی میں نہیں بیٹھا ۔
اس وقت وہ ڈرائیو کرنے کی حالت میں نہیں تھا
وہ پیدل ہی چلنے لگا
پہلے جسے وہ آزمائش سمجھتا تھا اب سزا لگنے لگی تھی
اور سزا ملنی بھی چاہیے تھی
وہ اسکا حقدار بھی تھا ۔
چلتے چلتے وہ ایک تھرے پر بیٹھ گیا
آتے جاتے لوگ مڑ مڑ کر اسکو دیکھتے
اس تھرے کے سامنے ایک مسجد تھی
جہاں نے عشا کی اذان کی آواز بلند ہوئی
شہوار کے کانوں میں بلاوے کی صدا پڑی تو اسنے بے اختیار اپنا چہرا چھپا لیا
ایک ندامت سی تھی جو اسکے اندر بڑھتی جا رہی تھی
جب تک اذان ہوتی رہی وہ ایسے ہی منہ چھپائے روتا رہا
پھر اٹھا اور یوں ہی آنسووں سے بھرا چہرا لے کر مسجد میں چلا گیا ۔
لوگ اسکی طرف دیکھتے مگر اسے پروہ نہیں تھی ۔
اس روز شہوار شاہ نے بہت دنوں بعد آنسووں کے ساتھ ندامتی سجدے کیے تھے ۔
اپنی پریشانیوں میں الجھ کر وہ اپنے رب سے غافل ہو گیا تھا ۔ سجدے فراموش کر بیٹھا تھا
شہوار کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا
وہ نماز پڑھ کر سجدے کی ہی حالت میں گڑ گڑ کر معافی مانگنے لگا تھا ۔
اور اللہ ہی ہے جو اپنے نیک بندے کے بھٹک جانے پر ، غافل ہو جانے پر ‘ واپس لانے پر قادر ہے
وہ چاہے تو بھٹکے ہوئے کو بھٹکا ہی رہنے دے
وہ چاہے تو تکلیفوں سے زریعے اپنے بندے کو اپنے پاس واپس پھیر لے ۔
یہ اسکی مصلحتیں ہیں
جو عقل انسانی نا سمجھ سکی ہے نا سمجھ پائے گی
وہ صرف اتنا ہی سمجھ پائے گی جتنی توفیق ہو گی ۔ جتنا اللہ چاہے گا ۔
جیسا کہ اللہ نے خود قرآن میں ارشاد فرما دیا ہے
قَالُوْا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِـيْمُ الْحَكِـيْمُ ( البقرہ : 32 )
انہوں نے کہا تو پاک ہے، ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں بتایاہے، بے شک تو بڑے علم والا حکمت والا ہے۔
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
جاری ہے