Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode (Watching)
Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
شکریہ کے لیے بس اتنا سا بول رہی ہو زینہ ۔؟؟ بھئی الفاظ کا نیا ذخیرہ لے کر آؤ۔! روحیل زینہ کو چھیڑنے سے باز نہ آیا۔۔
اچھا۔! کیا یاد رکھیں گے روحیل صاحب کس سخی لڑکی سے شادی ہوئی ہے ۔؟ آج آپ پر الفاظ کی بوچھاڑ کرنی پڑے گی تاکہ آپ کے تمام شکوے میرے لفظوں کے تاثیر سے دھل جائیں۔۔۔
ارشاد ارشاد۔! بیوی صاحبہ۔! خادم بیقراری سے منتظر ہے۔۔۔!
لاہور والے خادم اعلیٰ بن رہے ہیں یا میرے والے خادم ہی ہیں۔؟؟
ہاہاہاہا ہاہاہاہا روحیل کا فلک گیر قہقہہ بلند ہوا ۔ تم تو اس نالائق عاصم کے زیر اثر ہوتی جا رہی ہو۔!
بھئی اچھی صحبت کا کچھ تو اثر لوں گی نا۔!!
اچھا جی۔! میری صحبت اچھی نہیں ہے کیا ۔؟؟ پھر میری صحبت کا اثر کب لو گی۔؟؟
آپ کی صحبت تو سر آنکھوں پر ہے روحیل۔!
زینہ نے انگلیوں کی پوروں سے گالوں کو رگڑا اور گلا کھنکار کر گویا ہوئی۔۔۔
“وہ اک شخص جو میری زندگی میں آیا ہے
نرالا سا متوالا سا ہے
میری ٹوہ میں جو رہتا تھا چھوڑ کے سارے کام
روک کے راستہ میرا کہنے لگا اک دن
میری ہو جاؤ۔!
میں نے کہا منہ ماری کی عادت ہے
جاؤ۔! کسی اور دوشیزہ پر آزماؤ
شاید وہ ڈھیٹ تھا یا پھر مخلص تھا
میں فیصلہ نہیں کر پائی
میں اس سے بہت تنگ تھی
جی چاہا اک دن سر میں اس کا پھاڑ دوں یا پھر اسکو جیل میں بھجوا دوں
ہزار جتن کے باوجود بھی وہ دیوانہ باز نہ آیا
میرے حالات نے پھر پلٹا کھایا اور وہ دوبارہ میری زندگی میں در آیا
محبت کا پرچار وہ کرتا
جینا میرا محال وہ کرتا
کہنے لگا اک دن کیوں دور تم مجھ سے جاتی ہو۔؟؟
میری سانسوں میں تم بستی ہو
میرے حال کی کہانی ہو
میری روح کی روانی ہو
پھر رفتہ رفتہ قریب وہ میرے ہونے لگا
میری سانسوں میں وہ رچنے لگا
میری دعاؤں کا جو ثمر ہے
وہ میرا شوہر ، میرا روحیل ہے
بات صرف اتنی سی ہے
پر اظہار میرے لیے محال ہے
اب نہ پوچھے وہ مجھ سے
جو سامنے بیٹھا ہمہ تن گوش ہے
میں ہوں صرف اسکی
وہی جو منڈلاتا تھا میرے خواب میں
حقیقت میں وہ میرا ہے
سامنے بیٹھا ہے جو میرے
اب نہ پوچھے وہ مجھ سے
میں ہوں صرف اس کی
وہ میرا ہے اور صرف میرا ہے۔!”
واؤ واؤوووووووووو زینہ ماشاءاللہ۔!!!
تم نے تو میرے مہینوں کی محنت پر محبت کا پانی پھیر دیا ہے ۔۔۔
کیا اظہار ہے یار۔؟! روحیل نے مسکراتے ہوئے زینہ کو شاباشی دی اور ہاتھ تھام کر پوچھنے لگا۔۔۔
اب میں کچھ بولوں۔؟!
جی جناب۔! ارشاد فرمائیں۔
پتا ہے ابھی جو بولوں گا نا اسے بولنے کے لیے مجھے مناسب وقت درکار نہیں تھا گو کہ اب وقت آچکا ہے لہٰذا میں اپنے حافظے کا امتحان بھی لے لوں اور ویسے بھی آج کام سے بھی چھٹی ہے۔!!
اجازت ہے ۔؟
جی۔! بولیں میں ہمہ تن گوش ہوں روحیل۔!
زینہ چہرہ اوپر اٹھا کر روحیل کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔
اپنی پیشانی آگے لاؤ۔!
جی۔! یہ لیں۔! پیشانی سمیت سر بھی حاضر ہے ۔
شاباش۔! زینہ میری فرمانبردار سی اچھی سی ، پاکیزہ سی ،معصوم سی بیوی۔!
روحیل نے دائیں ہاتھ سے زینہ کی پیشانی تھام کر مسنون دعا پڑھی تو مسکراہٹوں کے جلترنگ اس کمرے کے در و دیوار میں سرگوشیاں کرنے لگے۔
جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کسی عورت سے شادی کرو ، یا کوئ غلام خریدو ، (یا کوئی جانور خریدو) تو اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بسم اللہ کہتے ہوئے برکت کی دعا کرو ، اور یہ دعا پڑھو :
” اے اللہ ميں اس كى بھلائى طلب كرتا ہوں اور جس پر تو نے اسے پيدا كيا ہے اس كى بھلائى كا سوال كرتا ہوں، اور تيرى پناہ مانگتا ہوں اس كے شر سے، اور اس چيز كے شر سے جس پر تو نے اسے پيدا كيا ہے” .
[ دیکھئے: سنن ابی داؤد :2160 سنن ابن ماجہ:1839 علامہ البانی نے حسن کہا ہے]
اس کے بعد سلف صالحین سے منقول عمل کو اختیار کرتے ہوئے دو رکعت نماز پڑھے ، اس کا طریقہ یہ ہے : شوہر آگے بڑھ کر امامت کرے جبکہ دلہن دلہے کے پیچھے نماز ادا کرے. اس سے دلہا دلہن کے دل میں اگر کوئی نفرت ، کراہیت یا ناپسندیگی ہو گی تو ان شاء اللہ دور ہوجائے گی.
شقيق رحمہ اللہ بيان كرتے ہيں كہ: ابو حريز نامى ايک شخص آيا اور عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كو عرض كرنے لگا: ميں نے ايک نوجوان كنوارى لڑكى سے شادى كى ہے، اور مجھے خطرہ ہے كہ كہيں وہ مجھے ناپسند نہ كرنے لگے تو عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہ نے فرمایا:
” الفت و محبت تو اللہ كى جانب سے ہے، اور ناپسنديدگى شيطان كى جانب سے، وہ يہ چاہتا ہے كہ اللہ نے جو تمہارے ليے حلال كيا ہے اسے تمہارے ليے ناپسند بنا دے، لہذا جب تم اپنى بيوى كے پاس جاؤ تو اسے كہو كے وہ تمہارے پيچھے دو ركعت نماز ادا كرے “۔۔
[ دیکھئے : المصنف لابن ابی شیبة:7/50، آداب الزفاف للالبانی :96 آپ نے اس اثر کو صحیح کہا ہے ]
ناول میں دعاؤں کی شمولیت ناول کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے نہیں لکھتی ہوں بلکہ آپ سب کو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی یاددہانی کروانا مقصود ہے۔)
ایک سال بعد:
مدہوش زینہ گہری نیند میں ننھی کلی کی چوں چوں سننے سے بےخبر تھی۔ ہاتھ پاؤں مارتی چوں چوں کرتی ننھی کلی شاید بھوک سے نڈھال ہو کر گلا پھاڑ کر اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگی۔
یکدم روحیل کی آنکھ کھل گئی ، فوراً آنکھیں مسل کر بستر کے بیچ میں پڑی اس نئی مہمان کو کمبل میں لپیٹا۔۔
آ آ آ آ آ بابا کی جان کو بھوک لگی ہے اور امی جان گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہی ہیں۔۔
ہائے یہ تو اتنی چھوٹی اور نازک سی ہے ، کہیں ہاتھوں سے گر ہی نہ جائے۔
روحیل نے سانس روک کر بمشکل اس معصوم کو اپنی آغوش میں لیا۔۔ اور دھیرے دھیرے اسے لوری دینے لگا۔۔
ننھی کلی بھی اپنے نام کی ایک تھی ، چوں چوں سے چاں چاں پر گلا پھاڑنے لگی۔
زینہ۔!! یار اٹھ جاؤ ۔! معصوم تو بھوک سے چلا رہی ہے۔!
میری بچی کا رونا سن کر دادا دادی نے فورا پہنچ آنا ہے اور اگر رونا اسی رفتار سے جاری رہا تو چاچو عاصم بھی دبئی چھوڑ آئے گا۔۔
روحیل بستر سے اتر کر کمرے میں ایک کونے سے دوسرے کونے میں معصوم کلی کو اٹھائے لوریاں دے کر تھک ہار گیا تو زینہ کروٹ بدل کر گہری نیند سے بیدار ہو کر خالی بستر پاکر یکدم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
ہائے میری بچی کہاں پر چلی گئی ہے۔۔؟؟
بیگم صاحبہ آپ کی بچی گزشتہ دس منٹ سے چلا رہی تھی ابھی بمشکل لوریاں دے کر سلایا ہے۔
روحیل آپ نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں ہے۔؟ زینہ نے نیند سے لال ہوتی آنکھوں کو مسلا۔۔۔
جی اٹھایا تھا مگر تم گہری نیند میں تھی تو تمہارے آرام کا سوچ کر اسے خود ہی اٹھا لیا۔۔
سوری روحیل آپ کی نیند خراب ہوئی ہے ، لائیں اسے مجھے دیں۔!
گل گوتھنی سی ننھی کلی نیند میں بھی رونے والی شکلیں بنا رہی تھی۔۔۔
آ آ آ آ میری گڑیا کو نونا نونا آ رہا ہے۔
بابا گندے ہیں۔! انہیں گڑیا کو سنبھالنا نہیں آتا ہے۔
زینہ نے معصوم کلی کو روحیل کے ہاتھوں سے لیتے ہوئے اپنے سارے لاڈ ایک سانس میں دہرائے۔۔۔
جی جی جی بابا گندے ہیں اسی لئے پہلی چوں پر آنکھ کھول کر اسے اٹھا لیا ہے اور امی صاحبہ سوتی رہی ہیں۔۔!
میرے عزیز از جان روحیل بڑی بتی جلا دیں ، میں اسکی نیپی دیکھ لوں۔ شاید اسی لیے رو رہی تھی۔۔
جی جو حکم۔ روحیل نیند سے نڈھال دیوار کی طرف بڑھ گیا ، بتی جلائی اور بستر پر نیم دراز ہوتے ہی آنکھیں موند لیں۔۔
روحیل گڑیا پانچ دن کی ہو گئی ہے اور ہم نے ابھی تک نام کا انتخاب نہیں کیا یے۔۔
زینہ نے نہایت دقت سے نیپی بدل کر تھکن سے چور روحیل کو مخاطب کیا اور ہاتھ دھونے غسل خانے میں گھس گئی۔۔
معصوم کلی نے دوبارہ گلا پھاڑنا شروع کر دیا۔
لاچار نیند کے مارے روحیل نے اسے اٹھا کر اپنے سینے پر لٹا کر تھپکنا شروع کر دیا۔۔
زینہ غسل خانے سے لوٹی تو روحیل کی بھاری سانسیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔۔
مجھے ہر وقت یہی بولتے تھے کہ زینہ میری نیند بہت کم ہے اور اب جناب کی آنکھ ہی نہیں کھلتی ہے۔ زینہ شکوہ کناں ہوتی اپنی جگہ پر آگئی اور محتاط انداز میں لیٹنے لگی۔۔
اب میری منزل جو میرے دل کے قریب رہتی ہے تو نیند بھی مہربان ہونے لگی۔
ہیں۔؟ ابھی کچھ دیر قبل خراٹے لیے جا رہے تھے اور ابھی حاضر جوابی تو دیکھیں ذرا۔!!
معصوم کو ادھر سے اٹھا کر بستر پر لٹاؤ ورنہ اسے ایسے سونے کی عادت ہو جائے گی۔۔
جی پھپھو بھی یہی بول رہی تھی کہ اسے زیادہ دیر اٹھائے نہیں رکھنا ورنہ اسکی عادتیں بگڑ جائیں گی۔۔
زینہ نے دھیرے سے معصوم کلی کو روحیل کے سینے سے اٹھا کر بستر پر رکھا تو ننھی کلی پوری آنکھیں کھول کر رونے کے لیے پر تولنے لگی۔۔
آ آ آ آ میری جان کو دوبارہ نونا نونا آنے لگا ہے ، دن میں مصروفیت کی بنا پر رو نہیں پاتی ہو۔۔
ابھی دادو اور دادا نے آپ کا رونا سن کر فوراً پہنچ آنا ہے۔۔
روحیل اگر پھپھو نا آتیں تو سب کتنا کٹھن ہو جاتا ، مجھے تو اسکے کپڑے بدلنا اور اسے نہلانا تک نہیں آتا ہے ، مشکل سے نیپی بدلنا سیکھا ہے۔
آپا کو بھی ذیشان بھائی نے نہیں آنے دیا۔۔ یا اللہ میرے بہنوئی کو ہدایت دے اور میری بہن کو اس کے صبر پر اجر عظیم عطا فرما۔روحیل نے زینہ کے ساتھ ہم آواز ہو کر آمین بولا۔۔
روحیل نام کا تو بتائیں نا۔!
زینہ عقیقہ تک شاید عاصم بھی آجائے پھر نام کا بھی فیصلہ کر لیں گے۔ روحیل نے آنکھیں موندے تھکن زدہ لہجے میں جواب دیا۔۔
روحیل آپ بھول رہے ہیں کہ سویرا کا سفر کرنا شاید مناسب نہ ہو لہٰذا آپ ویرے کو مجبور نہ کریں۔!
ہاں واقعی میں بھول گیا تھا خیر نام کے فیصلے کے بارے میں بھی سوچتے ہیں، فی الحال رات کے تین بج رہے ہیں۔روحیل نے بمشکل جمائی روکی۔۔
روحیل۔!
جی روحیل کی جان۔! بلکہ اب میری جان میری ثمر روحیل بھی ہو گی۔!
ہیں۔؟ زینہ حیرت سے اٹھ بیٹھی۔
آپ نے نام کا انتخاب بھی کر لیا ہے۔؟
یہ میری اور تمہاری دعاؤں کے مرکب کا ثمر ہے ، اس لیے میں نے اسکے نام کا فیصلہ کر لیا ہے۔
روحیل بھی اٹھ بیٹھا۔۔۔
بخاری ومسلم میں مروی ہے کہ :
“اسماءبنت ابوبکر بیان کرتی ہیں کہ جب انھوں نے عبداللہ بن زبیر کو جنم دیا تو وہ انھیں لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور منگوائی، اسے چبایا، پھر بچے کے منہ میں لعاب ڈالا، چنانچہ سب سے پہلی چیز جو ان کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب تھا، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کھجور کی گھٹی دی اور ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی”۔ (بخاری ومسلم)
تمام محدثین، فقہاء امت اور جمہور اہل سنت کے نزدیک عقیقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” ہر بچے کے ساتھ عقیقہ ہے، تو اس کی طرف سے خون بہاو (عقیقہ کرو) اور اس سے میل کچیل دور کرو (یعنی سر کے بال مونڈ دو) “۔
سمرہ بن جندب سے مرفوعا روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ہر بچہ اپنے ءعقیقہ کے ساتھ گروی ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے (جانور) ذبح کیا،اس کا ( بچہ کا) سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے”
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“لڑکے کی طرف سے دو ہم مثل بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے”
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین کی طرف سے ساتویں دن دو بکریاں ذبح کی اور ان دونوں کا نام رکھا، اور ان دونوں کے سر سے میل کچیل دور کرنے (سرمنڈوانے)کا حکم دیا، وہ فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے نام سے ذبح کرو اور کہو :
ذبح کے وقت بسم اللہ واللہ اکبر کے بعد یہ کہنا مسنون ہے
اللَّهُمَّ لك واليك هَذِهِ عَقِيقَةُ فُلَانٍ
“یا اللہ یہ تیری نعمت ہے اور فلاں کے عقیقہ کے طور پر تیری قدمت میں پیش ہے”۔(بیہقی19294 بحوالہ المجموع 8/428)۔
نوٹ:فلاں کی جگہ بچہ کا نام لینا ہے۔
امام نوویؒ نے اسے حسن فرمایا ہے۔
“ثمر روحیل” میں چاہتا ہوں میری ثمر کا کردار زینہ حیات جیسا ہو جیسے نے آوارہ مزاج امیر زادے کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا مگر اپنی پارسائی پر آنچ نہیں آنے دی۔۔ میں چاہتا ہوں میری بیٹی کی تربیت زینہ حیات جیسی ہو ، جسے تنہائی میں بھی صرف ایک رب کا خوف ہو ، جو اللہ کے احکامات کی بجا آوری کرنے میں کوتاہی کرنے والی نہ ہو۔ جو محرم اور نامحرم کے درمیان تمیز رکھنے والی ہو۔میری بیٹی ثمر حیا دار ہو۔
زینہ میری بیٹی کی ایسی ہی تربیت کرو گی نا ۔؟؟
ان شاءاللہ۔! زینہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تو فوراً بات بدلی آپ اور آپ کی بیٹی کی وجہ سے میری ڈگری ادھوری رہ گئی ہے۔
زینہ نے منہ بسورا۔
ڈگری کا کیا ہے۔؟ ثمر کو کھانے پینے کے قابل ہونے دو تو میں اسے خود سنبھال لوں گا اور تم اپنی ڈگری مکمل کر لینا۔
زینہ دیکھو اسکی خمدار پلکیں اور آنکھیں بالکل تمہارے جیسی ہیں۔
جی اور باقی ساری شکل آپ جیسی ہے ۔اور رنگ بھی آپ جیسا ہے ماشاءاللہ۔
کیوں تمہارے رنگ کو کیا ہے۔؟
میرا رنگ تو سانولا ہے۔! زینہ نے حقیقت بیان کی۔
تمہارا یہ رنگ مجھے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ پیارا ہے۔سمجھی ہو۔! آئندہ ایسا نہ بولنا۔!
جی۔! سمجھ گئی ہوں جناب۔!
روحیل نے پاس لیٹی گول گوتھنی سی ثمر کے پھولے گالوں کو چوما۔
روحیل مشکل سے سلایا ہے آپ نے اسے دوبارہ جگا دینا ہے۔! ثمر بولو زینہ ۔!
جی آپ کی اور میری ثمر روحیل۔!
زینہ مجھے دنیا کا بہترین تحفہ دینے کے لیے بہت شکریہ۔
روحیل آپ اس بات کو روزانہ دہراتے ہیں لہٰذا آپ کا بھی بہت شکریہ۔
اپنے عزیز از جان شوہر کو شکریہ ایسے بولتی ہو۔؟
جی فی الحال نیند کا خمار میری ساری شاعری نگل چکا ہے اور یقیناً آپ بھی نیند کے ترسے ہوئے ہیں۔!
ہاہاہاہا ہاہاہاہا۔ روحیل کا قہقہہ بلند ہوا جسے زینہ نے آگے بڑھ کر فورا منہ پر ہاتھ رکھ کر روک دیا۔
ثمر جاگ گئے گی۔!
آپ بھول جاتے ہیں۔!
سرگوشیوں میں بات کرنے کی عادت ڈالیں!
چلو جی اب مزاج کے خلاف نئی عادت ڈالو روحیل ارشاد۔!
آپ کا علاج ہے۔!
میرے خیال میں ثمر ہم دونوں کا علاج ٹھیک طریقے سے کرے گی، وہ دیکھو ابھی پھر کروٹیں بدل کر ٹیڑھی میڑھی ہو رہی ہے۔
مجھے بھی نظر آ رہی ہے ، آپ بڑی والی بتی جا کر بجھا دیں ۔
صرف بستر کے قریب والا لیمپ رہنے دیں۔!
یہ بڑی اور چھوٹی بتی والی ذمہ داری روزانہ رات کو کم وبیش دس سے بیس بار سر انجام دیتا ہوں۔
روحیل بابا بننے کی مبارک باد قبول فرمائیں۔! اور بتی کے ساتھ بھی دوستی گانٹھ لیں۔زینہ نے سرگوشی میں بول کر بمشکل ہنسی روکی۔
اب تو خواب میں بھی بتی بند اور جلانے کی صدائیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔روحیل بتی بجھا کر بستر پر نیم دراز ہوا تو ثمر نے دوبارہ رونا شروع کر دیا۔
روحیل دوبارہ بڑی بتی جلا دیں۔! زینہ کے بولنے سے قبل روحیل زینہ کے انداز میں بول کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
دونوں کی بے ساختہ ہنسی کی کھی کھی معصوم گول گوتھنی سی ثمر کو آنکھیں واہ کرنے پر مجبور کر گئی۔۔
ختم شد۔
