Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18

روحیل گاڑی سے نکل کر عقبی نشست کی طرف آ گیا اور شہناز بیگم والا دروازہ کھولا۔ جبکہ زینہ ہنوز بیٹھی کشمکش میں مبتلا تھی کہ خود سے نکل جائے یا پھر روحیل کا انتظار کرے۔۔۔
دونوں بھائیوں نے شہناز بیگم کو سہارا دے کر بمشکل ویل چیئر پر بٹھایا، اور عاصم انہیں ویل چیئر سمیت لے کر گھر کے اندرونی حصے کی طرف چل پڑا۔۔۔
ہائے ویر نے تو میری طرف دیکھا بھی نہیں اور چل پڑا ہے، کم از کم ایک مرتبہ پلٹ کر دیکھ پوچھ تو لیتا ۔ زینہ کے دل نے دہائی دی ۔۔۔
ویر بھی بدل گیا ہے۔۔
زینہ خاموشی سے بیٹھی یہ سارا منظر شکوہ کنائی کی نظر کرنے میں غلطاں تھی کہ روحیل اسکی نشست کی طرف پلٹا۔۔
زینہ باہر نکلو۔! روحیل نے گاڑی کا دروازہ واہ کر کے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔۔۔
زینہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ روحیل کا ہاتھ تھاما اور باہر نکل آئی۔۔۔ ایک تو طویل سفر کی تھکان اوپر سے روحیل کا خوف اعصاب پر بری طرح سوار تھا۔۔، ناتواں جان کھچے پٹھوں کے ساتھ بنا کچھ بولے روحیل کا ہاتھ تھام کر اس کی ہمراہی میں چلنے لگی۔۔۔صد شکر لمبی ایڑھی والا جوتا سامان میں رکھ چھوڑا وگرنہ اس ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کا حوصلہ زینہ کھو چکی تھی۔۔۔
منتشر دھڑکنیں ، خشک گلا، میک اپ زدہ چہرہ ، جوڑے میں جکڑے بال اور کامدار لباس میں ملبوس زینہ اس وقت مکمل طور پر روحیل کے رحم و کرم پر تھی۔۔۔
روحیل کی خاموشی زینہ کی حالت ابتر کرنے لگی ۔۔ زینہ خاموشی سے اس دھمکی باز کے ساتھ چلتی چلی جا رہی تھی۔۔۔
اینٹوں سے بنی کشادہ روش پار کر کے اندورنی ہال میں داخل ہوتے ہی زینہ کی آنکھیں چندھیا گئیں۔۔ سفید سنگ مرمر کا فرش اور لکڑی سے مزین نصف دیواریں ، دبیز صوفے ، میز کرسیاں اپنی مثال آپ تھے۔۔۔
زینہ ایک نظر میں ہال کے چاروں اطراف میں دروازوں کی تعداد کا تعین نہ کر پائی مگر سارا دھیان امی میں اٹکا ہوا تھا۔۔ پتا نہیں امی کونسے کمرے میں چلی گئی ہیں۔ ویر بھی غائب ہی ہو گیا ہے ۔۔ کون ایسے کرتا ہے بھلا ۔؟
آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگیں مگر روحیل کے خوف سے خود پر قابو پانے کی ناکام کوشش جاری رکھی۔۔۔
کشادہ ہال کے بیچ و بیچ گولائی میں بنی کشادہ سیڑھیاں بھی اپنی مثال آپ تھیں۔۔ مضبوط لکڑی سے بنی ریلنگ اور زینے ناظر کو اہل خانہ کی مالداری کا ثبوت دے رہے تھے۔۔۔
ایک دو بار زینہ نے ہاتھ چھڑانا چاہا مگر ہاتھ تھامنے والا بھی روحیل تھا۔ فورا رک کر آنکھ کے اشارے سے ساتھ ساتھ چلنے کا حکم صادر فرمایا۔۔۔۔
ہائے امی کدھر گئیں ہیں۔؟؟ وہ تو اتنی سیڑھیاں نہیں چڑھ پائیں گی۔۔۔
مجھے تو امی کے ساتھ ٹھہرنا ہے تو پھر یہ شخص مجھے کہاں پر لے جا رہا ہے۔۔۔
آخری زینے کے بعد ایک لمبی گلی اور اسکے دونوں طرف قرینے سے سجے کمرے ، اوپری منزل پر تو گویا کوئی پرندہ پر نہیں مارتا تھا۔۔۔ شدید قسم کی خاموشی۔۔۔ زینہ کا دل گھبرانے لگا۔۔ اپنا پانچ مرلے کا مکان جس کے صحن میں بیٹھ کر وہ کھلے آسمان کو تو دیکھ سکتی تھی۔مگر یہاں پر تو بیش قیمت ساز و سامان سے سجا گھر کم سویا ہوا بند محل زیادہ معلوم ہو رہا تھا۔۔۔
ایک دروازے پر پہنچتے ہی روحیل نے ہاتھ چھوڑا اور اندر جانے کا حکم جاری کیا۔۔۔
زینہ تھوک نگلتی کمرے کے اندر داخل ہوئی تو روحیل نے عقب سے دروازہ کنڈی کر دیا۔۔۔
کلک کی آواز پر زینہ تڑپ کر پلٹی۔۔۔
ییییییییہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔؟؟ میری امی کدھر ہیں۔؟؟
مجھے تو امی کے ساتھ ہونا چاہئے تھا۔۔۔! زینہ نے بھاگ کر دروازہ کھولنا چاہا جسے روحیل نے سرعت سے روک دیا۔۔۔
آپ بولتے کیوں نہیں ہیں ۔؟؟؟
مجھے شدید گھبراہٹ ہو رہی ہے۔پلیز دروازہ کھولیں مجھے امی کے پاس جانا ہے۔۔۔ زینہ نے زارو قطار رونا شروع کر دیا۔ ۔جبکہ روحیل سینے پر ہاتھ باندھے خاموشی سے بند دروازے کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑا تھا۔۔۔
آپ جواب کیوں نہیں دے رہے ہیں۔؟؟؟ آپ نے میرے ساتھ دھوکا کیا ہے۔؟؟ آپ نے مجھے اغواء کر لیا ہے۔!! اللہ کا واسطہ ہے مجھے جانے دیں۔ میرا دم گھٹ جائے گا ۔!! زینہ رو رو کر نڈھال ہونے لگی۔۔
روحیل ہنوز خاموش کھڑا اسے ہراساں کر رہا تھا۔۔۔
مجھے پہلے ہی شک تھا آپ نے مجھے استعمال کرنا ہے ، آپ صرف مجھ سے اپنی بےعزتی کا بدلہ لینا چاہتے ہیں، وہی باتیں جو میں نے یونیورسٹی میں آپ کے ساتھ کہیں تھیں آپ نے ان باتوں کا بدلہ لینے کے لئے نکاح کا ڈھونگ رچایا ہے ۔۔۔
زینہ روتے روتے فرش پر بیٹھ گئی۔۔۔
روحیل نے آگے بڑھ کر زینہ کا نقاب ہٹایا اور زینہ کو کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا ۔۔۔
میری آنکھوں میں دیکھو بیوقوف لڑکی۔! کیا میں تمہیں بیوپاری لگتا ہوں۔؟؟ کوٹھے پر بیٹھا کوئی دلال لگتا ہوں جو ایک پاکیزہ نفس کی سودے بازی کرنے چلا ہے۔۔۔ نکاح تو عزت و تکریم کی چادر ہے جو میں تمہیں کتنے گھنٹے قبل گواہوں کی موجودگی میں اوڑھا چکا ہوں۔اور بیوی کے ساتھ تخلیہ کوئی جرم تو نہیں ہے۔۔!!!
تم واقعی میں بیوقوف ہو یا مجھے تنگ کرنے کے لیے بن رہی ہوں۔۔۔؟؟
روحیل کا دھیما لہجہ اور محبت بھری نظروں کی تاب نہ لا کر زینہ نے خود کو چھڑانا چاہا۔۔۔
آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں؟؟
مجھے اپنی امی کے ساتھ ہونا چاہئے تھا۔!
امی کا خیال رکھنے کے لیے ملازمہ اور عاصم موجود ہیں، تم کیوں گھل رہی ہو ۔؟
مجھے یہاں پر لانے کی کیا تک بنتی ہے بھلا۔؟؟؟
بتاؤں کیا تک بنتی ہے ۔؟؟ روحیل کی نظروں کے ارادے دیکھ کر زینہ نے گھبرا کر انگلیاں مروڑنا شروع کر دیں۔۔
مجھے نہیں پتا مجھے امی کے پاس جانا ہے ابھی اور اسی وقت پلیز۔۔!
زینہ الزام تراشیوں کو بھول کر منت سماجت پر اتر آئی۔۔جبکہ روحیل اطمینان سے بھرپور زینہ کے چہرے کا طواف کر رہا تھا۔۔
حجاب اتارو۔!!
جییییییی۔؟
مجھے نہیں اتارنا میں اپنے کمرے میں جاکر اتار لوں گی۔کورا جواب پاکر روحیل آگے بڑھا۔۔۔
کوئی بات نہیں ہے برقعے کے وسطی بٹن کھولنا کونسا راکٹ سائنس ہے ۔!اور سر سے حجاب اتارنا بھی بہت سہل ہے میری بیوی صاحبہ۔۔!
ظہر عصر تو تم پڑھ ہی چکی ہو تو اب لگے ہاتھوں اپنے شوہر کا دل جیتو ۔۔
مغرب میں ایک گھنٹہ باقی ہے۔۔۔روحیل نے زینہ کو باتوں میں الجھا لیا ۔۔
زینہ روحیل کی باتوں اور نئی نئی حرکتوں پر ششدر رہ گئی۔۔۔
زبان گنگ ہو گئی مگر نشیلی آنکھیں وفاداری نبھانے میں پیش پیش تھیں، آنسوؤں کی لڑیاں بلا روک ٹوک نینوں کا کاجل اپنے ساتھ بہائے چلے جا رہی تھیں۔۔۔
روحیل نے بت بنی زینہ کا حجاب سرکا کر نرم ہاتھوں سے اتارا اور بستر کی پائنتی پر پھینکا۔۔۔حجاب کی بدولت ریشمی بال سر کے ساتھ چپکے ہوئے تھے مگر حجاب کے اترتے ہی ریشمی زلفوں کی چند لٹیں ڈھیلے ڈھالے جوڑے سے بے وفائی کرنے لگیں۔۔
روحیل کے ہاتھ زینہ کے عبایا کی طرف بڑھے تو زینہ نے روتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے پیچھے ہٹایا۔۔۔
پھر ہمت کر کے گویا ہوئی۔
آپ صرف مجھے دیکھنا چاہتے ہیں نا ۔؟ یہ لیں جی بھر کر دیکھ لیں ، زینہ نے غصے میں سارے بٹنوں کو سرعت سے نوچنا شروع کر دیا۔۔۔
(عبایہ)برقعہ وسط سے کھل کر زمین بوس ہو گیا۔ سفید میکسی میں زینہ کے جسمانی خطوط واضح ہونے لگے۔۔ سانولی سلونی دبلی سی زینہ سفید میکسی میں مومی گڑیا لگ رہی تھی۔ سوگوار نشیلی آنکھیں روحیل کا دل مٹھی میں لینے لگیں۔۔
دیکھ لیا ہے نا مجھے ۔؟ حسرت پوری ہو گئی یا ابھی باقی ہے۔؟؟
میرے خیال میں آپ کی خاموشی اس بات کی شاہد ہے کہ حسرت پوری نہیں ہوئی ہے۔۔
زینہ نے جوڑے میں جڑی پنوں کے ساتھ زور آزمائی شروع کر دی۔۔۔
جوڑا کھلتے ہی گھنیری لمبی ریشمی سیاہ زلفیں زینہ کے شانوں پر بکھر گئیں۔۔۔
روحیل ہنوز ہاتھ باندھے خاموشی سے زینہ کی دیدہ دلیری پر خوش ہو رہا تھا ، اسکا ہر تیر مطلوبہ نشانے پر بیٹھ رہا تھا۔۔۔
زینہ روحیل کی طویل خاموشی پر جھلا گئی۔۔
مجھے لگتا ہے آپ کی پیاسی نگاہیں مزید کی منتظر ہیں ۔۔۔
آپ کا وہ شوق بھی پورا کر دیتی ہوں مگر خدارا مجھے میری ماں سے ملوا دیں۔۔مجھ مغوی لڑکی پر رحم فرمائیں۔۔۔
زینہ نے دونوں ہاتھ اپنی پشت کی طرف لے جا کر میکسی میں لگی زپ کو کھولنا شروع کر دیا۔۔۔
ابھی چند انچ تک کھینچ تان کر زپ کی شنوائی ہوئی تو روحیل نے لپک کر زینہ کے ہاتھ روک دیئے۔۔۔
تم پاگل ہو گئی ہو۔۔! بس کر دو اب ۔!
تمہارا یہ دھوپ چھاؤں سا مزاج بھی عجیب ہے ، کبھی تم خوف سے لرزتی ہو تو کبھی تم بپھری شیرنی بن جاتی ہو ۔۔!! کبھی دعوت نظارہ دیتی ہو تو کبھی بے رخی پہ اتر آتی ہو۔! روحیل نے زینہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کا آغاز کیا۔
میں تمہیں اپنے کمرے میں اس لیے لایا تھا کہ تمہیں تمہارے حقیقی مقام سے متعارف کروا سکوں۔
اور شوہر کے سامنے بے حجاب ہونا گناہ تو نہیں ہے زینہ۔۔۔
تم کیوں میرے بارے میں اس قدر بدگمان ہو۔؟؟
میں تو تمہیں صرف اپنے ساتھ مانوس کرنا چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں تمہارے اندر کا خوف زائل ہو جائے۔۔۔
تم بیوی ہو میری۔! میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو تم زینہ۔! مجھے تمہارے جسم سے زیادہ تمہاری سوچ ، تمہاری روح سے محبت ہوئی ہے ۔ سر راہ کسی روتی بلکتی لڑکی کی ایک جھلک دیکھ لینا محبت کی دلیل نہیں ہے۔۔۔
میری محبت کا آغاز تو ایک خاص لمحے، ایک خاص وقت پر ہوا تھا۔۔ خیر چھوڑو۔! یہ باتیں ابھی تمہارے اس ننھے منے دماغ میں نہیں بیٹھیں گی۔۔
روحیل نے بت بنی زینہ کو کندھوں سے تھام کر جہازی سائز نرم گداز بستر پر بٹھایا ،پھر آگے بڑھ کر زینہ کی پشت پر ادھ کھلی زپ کو بند کیا اور خود کونے میں پڑی الماری میں اپنی شیروانی اتار کر لٹکانے لگا۔۔
زینہ اضطرابی کیفیت سے دوچار اپنے ہونٹ کا کونا چبانے لگی۔۔۔
روحیل زینہ کی طرف پلٹا۔
تم نے غسل خانے جانا ہے تو یہ بس چند قدموں کے فاصلے پر ہے ۔جاوء اپنی یہ رونی صورت پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارو۔! بلکہ اس میکسی کو تبدیل کر لو۔!!!
یکدم زینہ نے گھبرا کر خوبرو روحیل کی طرف دیکھا جو مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا۔۔۔ زینہ کے دل کے تار چند ثانیوں کے لیے چھڑ گئے۔۔
ہر معمولی بات پر کیوں ڈرتی ہو ۔۔؟ تمہاری ضرورت کا تمام سامان میرے کمرے میں رہے گا ، تم صرف رات کو ماسی امی کے ساتھ سویا کرو گی، جب تک وہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو جاتیں اور پھر تمہیں رخصت ہو کر اس کمرے میں آنا ہے ۔!! تمہارا اصل مقام یہیں پر ہے ، اس شخص پر اس شخص سے جڑی ہر چیز پر ہے ۔۔میں اپنے وعدے سے نہیں مکروں گا۔۔! روحیل نے مزید وضاحت دی۔۔
مجھے نیند سے اٹھانا تمہاری ذمہ داری ہوگی اور رات دس بجے کوفی یا چائے میرے کمرے میں خود پہنچانی ہو گی کیونکہ میں رات گئے تک کام کرتا ہوں اور فجر کے بعد سوتا ہوں۔۔!
میری بات سمجھ آگئی ہے یا دوبارہ سمجھاؤں۔؟؟ روحیل نے زینہ کو چھیڑتے ہوئے اپنی آنکھیں پھیلائیں۔۔۔
اب بیٹھی مجھے کیا گھور رہی ہو ۔؟ لگتا ہے تمہیں مجھ سے دوران سفر شدید قسم کی محبت ہو گئی ہے ۔؟؟؟ جاؤ الماری میں سے شب خوابی کا لباس میرا مطلب ہے جو تمہیں آرام دہ لباس لگتا ہے نکال کر پہن لو۔۔!!! روحیل لفظ شب خوابی کی ادائیگی پر خود ہی چوکنا ہو گیا اور فورا وضاحت دے دی۔۔
زینہ روبوٹ کی طرح روحیل کے اشارے پر چلتی الماری تک آئی تو الماری میں لٹکے رنگ برنگی لباس دیکھ کر دنگ رہ گئی۔۔
خاموشی سے ایک سوتی شلوار قمیض نکال کر غسل خانے کی طرف بڑھ گئی۔۔
یا اللہ اس بےحس لڑکی کے دل میں میری محبت جاگزیں کر دے۔۔۔ آمین۔۔۔
روحیل نے گھبرائی شرمیلی سی زینہ کو غسل خانے کی طرف بڑھتے دیکھا تو دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی۔۔۔
کالے اور فیروزی رنگ کے امتزاج کے ساتھ ڈھیلی ڈھالی قمیض اور ساتھ میں ہم رنگ پاجامہ ، میک اپ سے مبرا دھلا نکھرا چہرہ ، ریشمی زلفیں بکھیرے سوگوار نشیلی جھکی آنکھوں کے ساتھ غسل خانے سے نمودار ہوئی۔۔۔
چند لمحوں کے لیے روحیل کا دل مچلا کے اپنی اس قیمتی متاع کو اپنے مضبوط حصار میں جکڑ لے مگر پھر حکمت سے سوچ کر خود کو ڈپٹا۔۔۔
گھبرائی سی زینہ نے ملتجی نظروں سے روحیل کو دیکھا۔۔۔
وہ اس جوڑے کے ساتھ دوپٹہ نہیں ہے کیا۔؟؟ دوپٹہ ہونا تو چاہیئے تھا ، شاید درزی نے ٹسل لگاتے ہوئے ساتھ نہیں دیا ہے۔
روحیل کے منہ سے لفظ ٹسل سن کر زینہ کو جھٹکا لگا۔ اللہ جانے درزی بھی خود ہی نہ ہو۔ گھر میں کوئی عورت موجود نہیں ہے تو پھر باریک بینی سے زنانہ کپڑوں کے بارے میں کیسے اتنی معلومات ہو سکتی ہیں۔؟ زینہ اپنی سوچوں کے گھوڑے دوڑانے لگی۔
روحیل نے آگے بڑھ کر الماری میں لٹکے کپڑے کھنگالنا شروع کر دیئے۔۔۔
چلو کوئی نہیں میں کل درزی کو فون کرکے پوچھ لوں گا۔۔
یہ میکسی کیوں تھامے کھڑی ہو ؟ اسے ادھر ہی لٹکا دو۔!!
خیالوں میں گم زینہ یکدم چونکی۔۔
جججججججی۔
میکسی سے فراغت کے بعد وہی ملتجی نظریں۔
وہ میں اب امی سے مل سکتی ہوں۔؟؟؟ انگلیاں مروڑتے ہوئے زینہ نے پوچھا۔۔۔
اپنی ان مخروطی انگلیوں کو کیوں سزا دیتی ہو۔؟؟؟
ابھی ہم دونوں اکھٹے نیچے جائیں گے تو وہ تمہارا ویر عاصم اور ماسی امی زیادہ خوش ہوں گے ۔۔۔
روحیل نے زینہ کا ہاتھ تھام کر تھپتھپایا۔۔۔
زینہ گردن ہلا کر رہ گئی۔۔۔ وہ میں کوئی اور دوپٹہ لے لوں۔۔!
ہاں لے لو مگر میرے سامنے نہیں باقی اہل خانہ کے سامنے صرف۔!!!
جججججججی۔!
تم ابھی بھی ہکلا رہی ہو۔؟
روحیل نے الماری کے پٹ کھول کر دوپٹے کی تلاش میں محو زینہ کو مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔۔۔
میرے خیال میں یہ سادہ سا دوپٹہ اس جوڑے کے ساتھ جچے گا۔۔۔
جی۔۔!!!
زینہ تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں۔! روحیل کی زبان الماری کے پٹ بند کرتے ہوئے دوبارہ پھسلی جبکہ زینہ نے بالوں کو پونی میں جکڑنے کے لیے دائیں بائیں دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔
کچھ ڈھونڈ رہی ہو ۔؟؟
جی بالوں کو باندھنا چاہتی ہوں۔زینہ نے مجرموں کی طرح اپنی نئی فرمائش ظاہر کی۔۔۔
سنگھار میز کے دراز میں کلپ پونیاں سبھی موجود ہیں مگر بالوں کو کھلا رہنے دو۔مجھے بہت اچھا لگے گا۔۔۔
اس شخص کو کلپ پونیاں بھی خریدنی آتی ہیں۔؟
کیا پتا کسی زنانہ دکان میں کام کرتا رہا ہے یا پھر مختلف سہیلیوں نے یہ سب سکھا دیا ہے۔۔۔
***********************
پر تکلف کھانے کے بعد گپ شپ کا طویل سلسلہ شروع ہو گیا جبکہ زینہ امی کے بستر پر دبکی بیٹھی تھی ،آدھے سے زیادہ جسم کمبل میں چھپا رکھا تھا۔۔
روحیل کا سارا دھیان زینہ کی ہر چھوٹی موٹی حرکت پر تھا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ وہ زینہ کی ہر حرکت کو ازبر کر رہا ہے۔۔۔۔
یار ڈیڈ نے آج پھپھو کی وجہ سے اتنی پیاری محفل چھوڑ دی ہے۔۔ تمہیں تو پتا ہے ڈیڈ پھپھو کی کوئی بات نہیں ٹالتے اور آج تو انہوں نے اچانک چھاپہ مارا ہے تو ڈیڈ کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں۔۔
عاصم نے روحیل کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔
ماسی امی کل دن دو بجے فزیوتھراپیسٹ گھر آئے گا۔۔ اول تو عاصم گھر پر ہو گا ورنہ میں بھی جاگ چکا ہوں گا۔۔۔
آپ کو ہفتے میں دو دن جم لے کر جائیں گے اور باقی پانچ دن فزیو گھر آیا کرے گا۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا ہے جیسے تم لوگوں کو مناسب لگے ، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔میں تو بس اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتی ہوں تاکہ محتاجی سے بچ سکوں۔۔ شہناز بیگم کی آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں۔۔۔
ارے ماسی امی۔!!! آپ تو ویسے ہی پریشان ہو رہی ہیں۔ اسلام آباد کا سب سے بہترین فزیو آپ کو ورزش کروائے گا۔۔ دیکھنا دو ہفتوں میں آپ اپنے پاؤں پر چل کر باہر باغیچے میں جائیں گی ان شاءاللہ۔۔
روحیل عاصم دونوں تسلی دینے میں جت گئے جبکہ زینہ کو تو بس رونے کا بہانا چاہئیے ہوتا ہے اسکی آنکھیں تو برساتی نالے بہانے میں ماہر ہیں۔۔ روحیل سوچ کر رہ گیا۔۔۔
ماسی آپ لوگ آرام کریں۔ ہم لوگ بھی چلتے ہیں ابھی۔۔
عاصم نے مشترکہ الوداعی سلام بولا اور کمرے سے نکل گیا۔۔ زینہ حیران و پریشان تھی کہ ویر عاصم اس سے اس قدر فاصلے کیوں بڑھا رہا ہے۔شاید اس عاشق مزاج نے ہی بولا ہو کہ اسے موقع فراہم کیا جائے۔۔ اشکبار زینہ نے گالوں کو رگڑتے ہوئے سوچا ۔۔۔
ماسی رات کو میں جاگ کر کمپیوٹر پر کام کرتا ہوں ، آپ کو کسی قسم کی کوئی ضرورت پیش آئی تو مجھے ضرور مطلع کرنا۔۔
روحیل نے بستر کی پائنتی پر بیٹھتے ہوئے شہناز بیگم کو یاددہانی کروائی جبکہ چند ہاتھ کے فاصلے پر زینہ غم کی تصویر بنی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔
چلیں ماسی میں آپکو لیٹنے میں مدد کرتا ہوں ، یہ بڑے والے تکیے مجھے دیں دے ۔۔۔
روحیل نے آگے بڑھ کر ساس کو سہارا دیا جبکہ نظریں زینہ کے چہرے کا طواف کر رہیں تھیں۔۔۔
زینہ تم اس طرف آؤ۔! ماسی امی کو دیوار کی طرف لیٹنے دو۔۔
جی۔!! زینہ فورا حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی جگہ سے کھسک کر روحیل کی جانب بڑھی جہاں وہ بستر کے قریب کھڑا ہدایات دے رہا تھا۔۔۔ زینہ کے قریب آتے ہی کان میں سرگوشی کی۔۔۔
مجھے تمہارے بنا چین نہیں آئے گا پلیز رات کو کچھ دیر میرے ساتھ فون پر بات کرلینا۔۔ اور تمہیں پہلے بھی بارہا بول چکا ہوں کہ رونا دھونا چھوڑ دو مجھے تمہارا رونا دھونا اذیت دیتا ہے۔۔روحیل نے ایک ہی سانس میں اپنی بےکلی زینہ کے گوش گزار کر دی۔۔
زینہ کے کان کی لوئیں یکدم لال پڑ گئیں۔۔ دل کی دھڑکنیں بےقابو ہونے لگیں ۔۔
اگر عمل نہ ہوا تو اس کمرے سے اٹھا کر لے جاؤں گا۔
ماسی تو ویسے بھی اکثر دواؤں کے زیر اثر رہتی ہیں۔۔!!!
اس نئی دھمکی پر زینہ کی حالت ابتر ہونے لگی۔گھبرا کر روحیل کی طرف دیکھا جسکی آنکھوں میں چاہ کا سمندر موجزن تھا۔۔۔
زینہ نے دیکھتے ساتھ فورا نظریں چرائیں۔۔۔
وہ ماسی امی میں سوچ رہا تھا کہ زینہ کو گھر دکھا دوں اگر آپ اجازت دیں تو اسے لے جاؤں۔؟ شرافت اور معصومیت کا لبادہ اوڑھے روحیل نے زینہ کی جان سولی پر لٹکا دی۔۔۔
ارے بیٹا تمہیں بھلا اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے ، بیوی ہے تمہاری جہاں جی چاہے گھماؤ پھراوء۔!! اسے باقی گھر سے قبل باورچی خانے کا راستہ ضرور دکھانا۔۔۔کھانا اب زینہ ہی بنائے گی۔۔! امی نے لیٹے لیٹے روحیل کے ہاتھ میں اجازت نامہ تھما دیا۔۔۔
ماسی امی آپ بہت اچھی ہیں ۔! روحیل نے فرحت جذبات میں آگے بڑھ کر ساس کے ہاتھ چوم ڈالے، اور پھر اپنی ایڑیوں پر گھومتے ہوئے
بھنویں اچکا کر زینہ کو اپنی حیثیت باور کروائی۔۔۔
ماسی امی کچھ چائے پانی تو نہیں چاہئیے میں بھجوا دیتا ہوں۔۔
ارے نہیں بیٹا میں ابھی سونے کی کوشش کرتی ہوں صبح فجر بھی ادا کرنی ہے۔۔۔
تم زینہ کو باورچی خانہ ضرور دکھانا۔۔۔ ۔ارے نہیں خالہ زینہ ابھی نئی نئی دلہن ہے ،میرا مطلب ہے کہ ملازمین کی موجودگی میں اسے کام کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔
روحیل نے کن اکھیوں سے زینہ کو چھیڑا۔۔۔
زینہ دل ہی دل میں کھول کر رہ گئی۔۔
امی میں گھر کل دن میں دیکھ لوں گی ،میں نے بھی تو فجر پڑھنی ہے نا ۔؟؟
اے لڑکی تم نیا خون ہو ، جب چاہو سو جاؤ ، جب چاہو جاگو۔۔۔!!
جاؤ تمہیں شوہر کی خواہش کا احترام کرنا چاہیے۔۔ خوشی سے اپنا گھر دکھانا چاہتا ہے تو جاؤ دیکھ آؤ تمہارا کونسا بل آنا ہے ۔؟؟
امی نے آخری کیل ٹھونک کر روحیل کی دلی مراد پوری کر دی۔۔
زینہ ہونٹ کاٹتی زبان دانتوں تلے دبائے حزن و ملال کی کیفیت سے دوچار تھی ۔۔۔
جبکہ روحیل تو بغلیں بجانے لگا ۔۔
چلو زینہ آؤ سب سے پہلے تمہیں میں اپنا کمرہ دکھاتا ہوں۔۔
روحیل نے زینہ کو تقریباً کھینچتے ہوئےامی کے کمرے سے باہر نکال کر پیچھے سے دروازہ بند کر دیا۔۔۔
زینہ کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگیں۔۔۔
آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔؟
کیوں کہ تم شرافت کی زبان نہیں سمجھتی ہو۔!
جب فون پر پیغام رسانی کے لیے بولا تھا تو سیدھے سے حامی بھر لیتی مگر تمہیں تو اپنی چلانی ہوتی ہے۔۔!
اب بھگتو۔!!
کیا ؟؟
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *