Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10

حزن و ملال میں جکڑی زینہ اس بات سے بالکل بے خبر تھی کہ وہ کسی کی متلاشی نظروں کے حصار میں آ چکی ہے۔ روحیل نا چاہتے ہوئے بھی انتظار گاہ سے نکل کر داخلی برآمدے کے ایک کونے میں پڑے بینچ پر بیٹھ گیا۔۔۔ جی چاہا زینہ کے پاس آکر اسکے سارے غموں کے مداوے کی یقین دہائی کروائے۔۔۔۔
زینہ اپنے اردگرد سے بالکل بے خبر نمکین پانی لٹانے میں اس قدر مشغول تھی کہ ایک بار روحیل کا شدت سے جی چاہا اسے اپنے حصار میں لے کر اس کی لاچارگی، بےبسی کو اپنے اندر سمو لے مگر وہ اپنے اس جذباتی پن کو اپنے دل کے اندر دبا گیا ۔۔
کاش یہ مان جائے۔میں اسے ایک کانٹا بھی چبھنے نہ دوں۔۔۔۔
زید عاصم کو ڈاکٹر کے ہمراہ کمرے سے نکلتے دیکھا تو فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور انکی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔
زینہ نظریں جمائے زید اور عاصم کی واپسی کی منتظر تھی، انہیں کمرے سے نمودار ہوتے دیکھا تو فوراً لپکی مگر روحیل کا زینہ سے قبل از وقت پہنچنا زینہ کو ناگوار گزرا مگر لب سی لیئے، دونوں بھائیوں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔
زینہ کے بولنے سے قبل روحیل تمام تفصیلات پوچھنے لگا۔۔۔
ڈاکٹر نے یہی بولا ہے کہ انکا فشار الخون خطرناک حد تک نیچے چلا گیا تھا جس کی بنا پر فالج کا حملہ ہوا ہے ۔ڈاکٹر کے مطابق دماغ میں خون کا لوتھڑا بن چکا ہے، جسے ادویات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگلے 48 گھنٹے میں بچت ہو گئی تو ٹھیک وگرنہ فی الحال کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے جبکہ ڈاکٹر بر وقت طبی امداد ملنے پر بھی بچت کی امید دلا رہے ہیں چونکہ ماسی جسمانی لحاظ سے بہت کمزور ہیں اس لیے انہیں مذید حملے کا خطرہ بھی لاحق ہے، اس وقت فشار القلب اور خون پتلا کرنے والی ادویات دی جا رہی ہیں ۔۔۔عاصم روحیل کو تفصیلاً بتا کر عقب میں کھڑی تڑپتی زینہ کی طرف بڑھ گیا جو روحیل کی موجودگی کی بنا پر چند گز کے فاصلے پر کھڑی اسکے چلے جانے کی منتظر تھی مگر روحیل تمام تفصیلات لینے کے بعد زینہ کے قرب میں پڑے بینچ پر جا بیٹھا۔۔۔
روحیل کے ہٹتے ہی زینہ عاصم زید کی طرف تڑپ کر لپکی اور ان دونوں کے ساتھ لپٹ کر دوبارہ سے بکھرنے لگی۔۔۔
زید عاصم ویرے ڈاکٹر کو بولو میری امی کو بچا لیں۔!!
عاصم ویرے تم تو دبئی سے آئے ہو ، تمہیں علاج معالجے کا زیادہ پتا ہو گا ، تم ڈاکٹروں سے اچھے طریقے سے بات کرو نا۔۔! انہیں بولو میری امی کا علاج اچھے سے کریں۔۔زینہ کی حالت قابلِ رحم ہوتی جا رہی تھی جبکہ عقب میں بیٹھے روحیل کا جی چاہ رہا تھا کہ زینہ کو اپنی آغوش میں لے کر اسکے سارے دکھ درد چن لے۔۔۔
زید عاصم اپنی طرف سے تسلی تشفی میں غلطاں تھے کہ روحیل سے رہا نہ گیا اور اٹھ کر قریب چلا آیا۔۔۔
زید اور عاصم میرے خیال میں آپ لوگ گھر جاؤ کیونکہ ماسی ابھی انتہائی نگہداشت کے کمرے میں موجود ہیں اور کسی کو بھی ملنے کی اجازت نہیں ملے گی جب تک انکی حالت نہیں سنبھلتی ہے۔۔۔۔
میں رات ادھر ہی ہوں ، آپ لوگ گھر چلے جاؤ۔!!
عاصم ویرے میں کہیں نہیں جاؤں گی جب تک میں اپنی امی کو نہ دیکھ لوں۔
مشورہ دینے والوں سے بولو خود گھر جا کر آرام فرمائیں۔۔۔!!!
جزبات کی رو میں بہتی زینہ کے منہ میں جو بھی آیا بول گئی۔۔۔
آپا کیا ہو گیا ہے آپ کو ۔؟؟
روحیل بھائی آپ سے بڑے ہیں۔!! ہوش میں آئیں۔ ! زید نے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے زینہ کو کندھوں سے پکڑ کر ایک طرف لے جا کر جھنجھوڑا۔۔
آپا یہ انکا احسان ہے کہ وہ آدھی رات میں ہمارے ساتھ خوار ہو رہے ہیں۔وہ ہمارے ہمسائے پندرہ سال قبل تھے ۔!
اب نہیں ہیں۔!جو ہماری زمہ داریوں کا بوجھ اٹھائیں۔ یہ تو ان دونوں بھائیوں کا حسن خلق یا پھر حسن سلوک ہے جو ہمارے اس غریب خانے میں ٹھہرے رہے ہیں وگرنہ ہمارے گھر تو مفلسی کی بنا پر سگے رشتہ دار آنا پسند نہیں کرتے ہیں آپا۔۔!
کون دیتا ہے اپنی نیند کی قربانی۔؟روحیل بھائی اپنے آرام سکون کو چھوڑ کر وہ دس منٹ کے اندر اندر امی سمیت ہمارے سارے کنبے کو ہسپتال لائے ہیں اور آپ اس طرح ترش لہجے میں بات کر رہی ہیں۔؟!!
آپا مجھے آپ سے ایسی امید تو نہ تھی۔! آپ تو ہمت اور حوصلے والی ہیں۔! آپ ہی نے تو مجھے سکھایا تھا کہ مصیبت کے وقت صبر پر ہی اجر ملتا ہے مگر آج آپ وہ سب بھول گئیں ہیں۔!
زید تم اس شخص کی سیاہ کاریوں کو نہیں جانتے۔! تمہیں پتہ چلے تو تم اسکی چمڑی ادھیڑ کر رکھ دو۔۔!!
تم اسکی شکل دیکھنا بھی گوارا نہ کرو۔!۔موقع کی نزاکت کو مدِنظر رکھتے ہوئے زینہ زبان پر نہ لا سکی اور صرف اندر ہی اندر کڑھ کر رہ گئی۔۔۔
زید کی یاد دہانیوں پر صرف اسکی ہاں میں ہاں ملاتی رہی۔۔۔جبکہ دوسرے کونے میں عاصم روحیل کو حکمت استعمال کرنے پر درس دے رہا تھا۔۔۔
یار بھیا زینہ کے سامنے بولنے کی کیا تک بنتی تھی۔؟ یار پہلے سے ہی وہ ماسی کی وجہ سے پریشان ہے اوپر سے آپ سے چڑتی ہے تو آپ بیچ میں کیوں بولے ۔۔؟؟
یار عاصم تم نے اسکی حالت دیکھی ہے ۔؟؟؟ساری رات رو رو کر اور اسی بینچ پر بیٹھ بیٹھ کر فنا ہو جائے گی۔۔۔!
یار بھیا مجھے سرگوشی میں بتا دیتے نا ۔۔۔ میں حالات کو سازگار بنانے کی تگ و دو میں ہوں اور آپ بیچ میں آن کود پڑے ہیں۔۔!
یار مجھے اسکی فکر ہے۔! مجھے اس سے ہمدردی ہے۔! روحیل نے ملتجی لہجے میں بولا۔۔۔
بھیا جو کچھ آپ اس کے ساتھ کر چکے ہیں نا وہ سب بھلانے میں وقت لگے گا۔ لہٰذا صبر کا گھونٹ بھریں اور زینہ کے ارد گرد نہ منڈلائیں۔! یہ نا ہو ساتھ میرا بھی آنا جانا بند ہو جائے پھر آپ اپنے ناکام عشق پر ٹسوے بہاتے رہنا۔۔
ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو چھوٹے۔۔! روحیل نے شرمندگی سے عاصم کی بات کی تائید کی۔۔
پر یار عاصم ماسی اچھی بھلی تھیں جب میں انہیں الوداع بول کر آیا ہوں، پھر اچانک ایسا کیا ہوا ہے جو وہ اس حالت میں جا پہنچی ہیں۔!
ماسی کے داماد سے تو ملے ہیں نا ؟ بس اسی نے زینہ کے رشتے کے حوالے کوئی تلخ بات بولی ہے ، ماسی فون سنتے سنتے زمین بوس ہونے لگیں وہ تو صد شکر میں نے اور زید نے بھاگ کر تھام لیا۔۔!
عاصم میرا جی چاہتا ہے میں اس ذیشان کے چودہ طبق روشن کر دوں۔! روحیل نے غصے سے دانت پیسے۔۔
بھیا اس وقت طبق روشن کرنے کی نہیں بلکہ طبق کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ماسی کی صحت یابی کیلئے دعا کریں ورنہ زینہ کی جو حالت ہو رہی ہے وہ آپ سے چھپی نہیں ہے۔۔۔!!
یار مجھے ماسی اور زینہ کی ہی تو فکر کھائے جا رہی ہے۔۔
عاصم یار میں باہر سے کچھ کوفی چائے لاتا ہوں تم اسے پلا دو پلیز۔۔! یہ تو رو رو کر ہلکان پاگل ہو جائے گی۔۔
بھائی جان آپ اپنی بیقراری اپنے تک محدود رکھیں اور ماسی کے لیے دعا کریں بس۔! اور زینہ کی پہنچ سے بھی دور رہیں ورنہ وہ آپ کا قلع قمع کر دے گی ، جلتی پر تیل نہ چھڑکیں پیارے بھائی جان۔! عاصم نے التجا کی ہے۔۔
میں کیا کروں یار ۔؟؟ میرے سے رہا نہیں جاتا ہے۔ میں پہلے اسی غرض سے باہر رکا تھا کہ زینہ کو برا لگے گا مگر اب یار تمام حقائق جاننے کے بعد کہ اسکی ماں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ، کیا میں باہر بیٹھ سکتا ہوں۔؟؟
اگر باہر نہیں بیٹھ سکتے تو احاطے میں زینہ سے فاصلے پر تشریف رکھیں۔یا پھر گھر جا کر آرام فرمائیں۔۔
ہونہہ آرام ۔! میں تو چاہتا ہوں تم لوگ گھر چلے جاؤ ، میں ویسے بھی رات کو بہت کم سوتا ہوں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا یار ۔! کم ازکم تم لوگ تو گھر جا کر آرام کرو ۔۔!
بھیا سگی اولاد زندگی اور موت کی کشمکش میں ماں کو چھوڑ کر گھر آرام کے لئے جائے گی۔؟؟ یار بھیا آپ بھی نا آج کچھ زیادہ ہی جزباتی ہو رہے ہیں۔۔
اچھا وہ لوگ اگر نہیں جاتے تو میں بھی ادھر ہی ہوں۔روحیل نے اپنی خمار آلود آواز میں بولا۔۔ سادہ سے حلیے میں پریشان سا روحیل کسی بھی لڑکی کے دل میں گھر کر جانےکی صلاحیت رکھتا تھا مگر زینہ اسے آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتی۔۔
اتنے قریب ہوتے ہوئے بھی زینہ اس کی دسترس سے بہت دور تھی۔
نفرتوں کے بیچ تو روحیل نے خود اپنے ہاتھوں سے بوئے تھے مگر اب ان بیچوں کی تیار شدہ فصل خاردار کانٹوں کا روپ دھار چکی تھی۔ پاس آؤ تو زخمی کرے ، دور جاؤ تو کسک بڑھائے۔۔
عاصم نے تمام حفاظتی تدابیر سمجھانے کے بعد
انگلی کے اشارہ سے بولا۔ بھیا زینہ سے دور رہنا۔۔!!
اپنے دل کو قابو میں رکھنا۔!!
آپ کے دل کا مچلنا آپ کے لئے نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔!! لہٰذا احتیاط علاج سے بہتر ہے۔!! اچھا میرے باپ۔! روحیل نے اپنے آپ کو قابو کرتے ہوئے بولا۔۔
مختصراً سلسلہ کلام کے بعد عاصم متوازن چال چلتا زید اور زینہ کے پاس آن بیٹھا۔۔جبکہ روحیل دل مسوس کر خارجی انتظار گاہ کی طرف بڑھ گیا۔۔
اس دوران زید نے زینہ کو سمجھا بجھا کر بینچ پر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔۔ زینہ ہنوز ہچکیوں سے رونے میں مشغول تھی۔۔۔
عاصم نے زینہ کے قریب بیٹھتے ہوئے اسکے دونوں ہاتھ تھامے اور ہوئے بولا۔ زینہ میری بات غور سے سنو۔ !!
دیکھو زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
ابھی بجائے رونے کے تم ماسی امی کے لئے شدت سے دعا کرو پلیز۔۔
تمہیں تو یہ سب باتیں خود سے پتا ہیں۔
عاصم ویرے میں دل میں بہت ساری دعائیں مانگ رہی ہوں مگر میرے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔۔زینہ نے بھرائی آواز میں بولا۔۔۔
میں کوشش کرتی ہوں کہ میرے آنسو نہ نکلیں مگر ایسے ہی بہے جا رہے ہیں۔۔!!! زینہ نے اپنی روشن آنکھوں کو رگڑ ڈالا۔۔
زینہ میری بہن میں ہوں نا ۔! ماسی کے علاج معالجے میں کسی قسم کی کوئی کمی کوتاہی نہیں ہونے دوں گا۔۔تم بس ہمت اور حوصلے سے کام لو بلکہ ہمیں تو انتہائی نگہداشت والے کمرے میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں ہے تو اگر مناسب لگے تو کچھ دیر بعد تم اور زید گھر چلے جاؤ ، میں یہاں پر ماسی کے پاس رکتا ہوں۔
نہ ویرے میں نہیں رہ سکوں گی امی کے بغیر۔! مجھے گھر نہ بھجواو ویرے۔۔! زینہ نے تڑپ کر عاصم کے دونوں ہاتھوں کو دبایا۔۔۔
دو زانوں بیٹھے عاصم نے اوپر اٹھتے ہوئے زینہ کو تسلی دی اور بولا تم اگر گھر نہیں جانا چاہتی تو کوئی بات نہیں مگر جب تھک گئی تو بتانا۔!! روحیل بھیا باہر ہی ہیں وہ تم دونوں کو چھوڑ آئیں گے۔۔
روحیل کا نام سن کر زینہ کا دل شدید بیزار ہوا مگر حالات کے پیشِ نظر خاموش ہو گئی۔۔
******************************************
میرے مالک میری ماں کو مکمل شفایاب کر دے۔! یا اللہ زندگی میں اگر کوئی ایک خالص نیکی صرف اور صرف تیری خوشنودی کے لیے کی ہے تو اسی کے بدلے میری دعاؤں کو قبول و منظور فرما۔! یا اللہ تجھے تیرے غفور الرحیم ہونے کا واسطہ بیشک تو ہی مسب الاسباب ہے میری ماں کی صحت لوٹا دے آمین۔۔
زینہ نجی ہسپتال کے ایک خالی کمرے میں اللہ کے حضور گریہ زاری میں ڈوبی ہوئی تھی۔ گھڑی رات کے دو بجا رہی تھی۔ چار سو سناٹا پھیلا ہوا تھا۔ آس پاس کمروں سے نرسوں کی سرگوشیاں اور انکے قدموں کی چاپ یا پھر مریضوں کی آہ و بقا فضا میں ارتعاش پیدا کرتی وگرنہ یہ طویل رات طویل تر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
ساری رات آنکھوں میں کٹی ، فجر کی ادائیگی کے ساتھ ہی غم سے نڈھال زینہ غنودگی میں جانے لگی۔۔۔
زینہ اپنے پاکیزہ وجود کو حیا کی چادروں میں لپیٹے ارد گرد سے بے خبر گٹھڑی بنی جائے نماز پر پڑی تھی۔ روحیل نے بھی ساری رات تڑپ کر گزاری، زینہ سے دوری اسے پریشان کر رہی تھی۔ مسجد سے واپسی پر یونہی نظر ادھ کھلے دروازے سے کمرے میں پڑے وجود پر گئی تو گویا
زینہ اپنے پاکیزہ وجود کو حیا کی چادروں میں لپیٹے ارد گرد سے بے خبر گٹھڑی بنی جائے نماز پر پڑی تھی۔ روحیل نے بھی ساری رات تڑپ کر گزاری، زینہ سے دوری اسے پریشان کر رہی تھی۔ مسجد سے واپسی پر یونہی نظر ادھ کھلے دروازے سے کمرے میں پڑے وجود پر گئی تو گویا کسی نے دل مٹھی میں جکڑ لیا، احساسِ محبت کے ساتھ ساتھ احساسِ تڑپ نے آن گھیرا ، رہا نہ گیا اور کمرے کے اندر داخل ہو گیا۔۔۔
جی چاہا اس ٹھنڈے یخ فرش پر بے نیاز اس ہستی کو اپنی باہوں میں بھرے اور ان تمام غموں ، پریشانیوں سے دور لے جائے۔۔
روحیل نے دبے پاؤں آگے بڑھنا شروع کر دیا۔۔
چند قدموں کے فاصلے پر آ کر دیکھا تو زینہ حیات اپنا چہرہ ڈھکے دنیا و مافیا سے بےخبر تھی۔۔۔
زینہ ۔!!
روحیل نے کچھ سوچ کر نہایت دھیمی آواز میں پکارا۔۔
دو تین مرتبہ پکارنے کے باوجود بھی زینہ کے طرف سے کوئی ردعمل ظاہر نہ ہوا تو روحیل دو زانوں بیٹھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ عقب سے عاصم کی آواز آئی ۔
بھیا۔!!! کیا کر رہے ہو یار۔؟؟ عاصم نے گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا ۔۔
یہ منظر دیکھ کر عاصم کا تو دماغ گھومنا شروع ہو گیا۔۔
بھیا آپ ادھر کیوں بیٹھ رہے ہیں؟؟ زید یا کسی اور نے دیکھ لیا تو آپ کی اور اس بیچاری کی کیا عزت رہ جائے گا۔ عاصم نے التجائیہ انداز اپناتے ہوئے روحیل کو جھنجھوڑ ڈالا۔۔ بھیا اٹھ جائیں ۔! کیا کر رہے ہیں یار ۔!!
شکر کریں صرف میں نے دیکھا ہے ۔!
بھیا اللہ کا واسطہ اٹھ جائیں۔۔۔ عاصم سرگوشیوں میں روحیل کے بازو کو جھنجھوڑ رہا تھا۔۔۔
یار عاصم یہ بیمار پڑ جائے گی۔! اسے اتنے ٹھنڈے فرش پر نہیں ہونا چاہئے ۔ یار اس کمزور جان کو نمونیا ہو جائے گا۔ پلیز عاصم اسے یہاں سے اٹھاؤ۔!
مجھے اس کا یہاں فرش پر پڑے رہنا برداشت نہیں ہے ۔ میں تو اسے بولنے آیا تھا کہ یہاں سے اٹھے اور گھر چلے۔۔ روحیل دیوانوں کی طرح زینہ کے لیے تڑپ رہا تھا۔۔۔
یار بھیا میں اسکو اٹھا لیتا ہوں پلیز آپ یہاں سے چلے جائیں۔! عاصم کی جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔۔
عاصم کی التجائیہ سرگوشیاں اپنے عروج پر تھیں۔
روحیل زینہ سے چند قدموں کے فاصلے پر بیٹھا عاصم کی التجاؤں پر غور و فکر کر رہا تھا۔۔۔
بھیا اب اٹھ بھی جائیں۔!
عاصم پہلے اسے اٹھاؤ۔!! یار بھیا یہ میری ذمہ داری ہے میں اسے اٹھا لیتا ہوں آپ بس یہاں سے چلے جائیں پلیز ۔۔! یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ زید نے نہیں دیکھا ورنہ وہ آپ کے بارے میں کیا سوچتا۔؟؟ یار بھیا کچھ تو عقل سے کام لیں۔۔
عاصم نے تقریباً کھینچتے ہوئے روحیل کو کمرے سے باہر نکال کر برآمدے میں اپنے سامنے کھڑا کیا اور بولا ۔ بھیا یار آپ کو کیا ہو گا ؟؟ آپ کیوں ایسی حرکتیں کر رہے ہیں۔؟؟ یار وہ پہلے ہی آپ سے اتنی خار کھاتی ہے اور آپ اگر اس طرح کی حرکتیں کریں گے تو کیا اسکی نظروں میں آپ معتبر بن جائیں گے ۔؟؟عاصم نے فکر مندی سے دھیمے لہجے میں پوچھا۔۔۔
عاصم مجھے خود سمجھ نہیں آتی ہے۔! میں اس لڑکی کے معاملے میں اس قدر حساس ہو چکا ہوں کہ میں باوجود کوشش کے بھی اسکو نہیں چھوڑ سکتا ہوں۔۔۔
یار اسکے کردار کی خوشبو نے مجھے اسکا دیوانہ بنا دیا ہے ۔۔ مجھے اسکے کردار کی کشش نے احساس کرنے والا بنا دیا ہے ۔ تم نے دیکھا نہیں ہے کہ یہ اپنی ماں کے مرض کا سن کر کتنا تڑپی ہے۔!! اور یہ اپنی تڑپ کا علاج ایک رب سے جوڑے ہوئے ہے۔
یار میں رات کو بارہا اس کمرے کے باہر کے چکر کاٹ چکا ہوں۔ جب بھی آیا ہوں اسے اللہ کے حضور گریہ زاری کرتے دیکھا ہے ۔۔ اللہ کے سامنے پھیلے اسکے ہاتھ نیچے نہیں گئے۔۔۔ فجر سے قبل اسکی حالت ایسی نہ تھی ۔! بس ابھی کچھ دیر قبل ہی تو یہ زمین بوس ہو کر بےسدھ ہوئی ہے۔۔۔!!
روحیل نے اپنی خمار آلود آواز میں عاصم کو اپنے دل کا حال سنایا۔۔۔
یار بھیا آپ لاعلاج ہو چکے ہیں۔!! ساری رات آپ اسکی پہرہ داری کرتے رہے ہیں۔؟؟ میں سمجھا تھا کہ آپ خارجی انتظار گاہ میں بیٹھے ہوں گے مگر یہ نہیں پتا تھا کہ آپ نے سی آئی ڈی کا ریکارڈ توڑ ڈالا ہے۔۔! جاسوس نہ ہوں تو ۔!! آپکو یہاں پر نہیں ٹھہرنا چاہیے تھا۔۔!
رات میں نے آپکو کس قدر سمجھایا تھا کہ ایسی حرکت دوبارہ نہیں کرنی مگر آپ پھر بھی اس روش پر چلتے چلے جا رہے ہیں۔!
میں کیا کروں عاصم ۔؟؟ میں کیسے برداشت کروں کہ یہ اکیلی ایک انجان کمرے میں ایسے تنہا بیٹھ کر روتی تڑپتی رہے۔۔۔۔
اور کوئی بھی غیر شخص اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔!! روحیل نے اترے چہرے اور بےخواب تھکی آنکھوں سے عاصم کو دیکھا۔۔۔
بھیا آپ بھی اس کے لیے غیر ہی ہیں ، آپ یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں۔؟؟
“عاصم میں تمہیں بتا رہا ہوں زینہ میری اور صرف میری ہے”۔کان کھول کر میری بات سن لو۔۔
عاصم روحیل کی دیوانگی پر سر جھٹک کر رہ گیا۔۔۔ پھر مجبور ہو کر بولا۔۔۔
زینہ میری بہن ہے اور میری ذمہ داری ہے۔! میں اسکی حفاظت کرنا جانتا ہوں۔۔آپ بالکل بےفکر ہو کر گھر جائیں۔۔!!
آپ نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہیں۔ ؟ کثرت بےخوابی سے آنکھوں کے ارد گرد گڑھے بن چکے ہیں۔بھیا آپ بیمار پڑ جاؤ گے۔۔۔ خدارا میری بات مان جائیں اور گھر جائیں۔۔۔
عاصم جب تک تم اسے یہاں فرش سے نہیں اٹھاؤ گے میں کہیں بھی نہیں جانے والا۔۔! روحیل دو ٹوک بول کر سامنے پڑے بینچ پر کسی ضدی بچے کی طرح جا بیٹھا۔۔
عاصم روحیل کے اس رویے پر صرف سر جھٹک کر رہ گیا اور دوبارہ کمرے میں گٹھڑی بنی زینہ کو اٹھانا شروع کر دیا۔۔۔
******************************************
دیکھ لیا ہے شہلا ۔! گھر کے داماد کی یہ حیثیت ہے ۔! ساری رات گزر گئی کسی نے گوارا نہیں کیا کہ بہنوئی کو بتا دیں۔! تمہیں بار بار بولا ہے انکے لیے نہ رویا کر ۔! انہیں تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے۔!
تم صرف ذیشان احمد کی بیوی ہو اور بس ۔! باقی سب ٹوپی ڈرامہ ہے۔۔۔ ذیشان کا لگاوٹ بھرا لہجہ شہلا کو مزید طیش دلا گیا۔۔۔
بس کر دو رونا شہلا ۔! جب شوہر کا ساتھ ہوتو باقی سب رشتے بے معنی ہوتے ہیں۔! ذیشان نے ہسپتال پہنچتے ہی واویلا مچا دیا۔ پھر فوراً پینترا بدلتے ہوئے شہلا کو بھڑکانے لگا ۔۔
ہمیں بتانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اب رضاعی بھائی جو آچکا ہے۔ تمہیں تو رضاعی بھائی کوئی نہیں ملنے آیا۔۔۔
پھسر پھسر روتی شہلا نے شکوہ کناں نظروں سے زینہ کو گھورا۔۔۔
زینہ امی کو کچھ ہو جاتا تو میں تمہیں کبھی معاف نہ کرتی۔ ! تمہارے یہ پردے اور یہ دوریاں ہم بہن بھائیوں کو بکھیر رہی ہیں۔! شہلا نے شدید غصے میں زینہ کے لتے لینا شروع کر دیئے جبکہ ذیشان اپنی بھڑکائی ہوئی آگ پر مسرور نظر آ رہا تھا۔۔
ایک کونے میں کھڑے عاصم اور روحیل خاموشی سے ذیشان کی سیاست پر خون جلا رہے تھے جبکہ زید اور زینہ رونے کا شغل پورا کر رہے تھے۔۔۔
ذیشان ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر کھا جانے والی نظروں سے حجاب میں لپٹی زینہ کی خاموشی پر اسے گھور رہا تھا۔۔۔ اسکا چلایا ہوا تیر زینہ پر اثرانداز نہ ہوا اور وہ صبر سے بند زبان کے ساتھ گردن جھکائے کھڑی تھی۔۔
شہلا نے کچھ دیر کے بعد توپوں کا رُخ عاصم کی طرف موڑ لیا۔۔۔
اوئے عاصم۔!! تم تو ہمارے ویر تھے۔امی نے بچپن سے ہمیں “ویر”( بھائی) کہنے کی تلقین کی ہے۔۔مگر تم نے ایک رتی برابر نہ سوچا کہ تمہاری کوئی بڑی بہن بھی ہے۔ !! کل سے تم آئے ہو ذرا نہ ہوا کہ ذیشان کی گھر واپسی پر اسی کے ساتھ آ کر مجھے مل جاتے۔۔۔! شہلا کے ٹسوے اور شکوہ کنائی اپنے عروج پر تھی۔۔۔
وووووہ آپا میں نے آج آنا تھا مگر موقع ہی نہ ملا رات کو ہی ماسی کی طبیعت اچانک بگڑ گئی ۔ ذیشان بھائی سے بات کرتے ساتھ ہی ماسی بیہوش ہو گئیں تھیں۔ عاصم نے جانچتی نظروں سے ذیشان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
اسی وقت طبیعت خراب ہوئی تھی تو اسی وقت مجھے کال ملا کر مطلع بھی تو کیا جا سکتا تھا نا۔؟ حد ہے لاپرواہی کی بھی۔! میں گھر کا بڑا ہوں مگر مجھے ایک ملازم کی سی حیثیت دی جاتی ہے۔۔ ذیشان نے عاصم کا منہ بند کروا دیا جبکہ روحیل نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے ذیشان کا گریبان پکڑنا چاہا جسے عاصم نے بروقت سختی سے تھام کر روک لیا۔۔۔
بھیا یہ شخص اس وقت اپنے اندر کی غلاظت ہمارے سر تھوپنا چاہتا ہے ، ہوش کے ناخن لو۔! عاصم نے دھیمے لہجے میں روحیل کو باور کروایا۔۔۔
عاصم تو دیکھ نہیں رہا ہے یہ زینہ کو کیسے گھور رہا ہے۔؟! روحیل نے دانت پیستے ہوئے بولا۔۔۔
بھیا یار سب دیکھ رہا ہوں مگر ہمارا اس وقت خاموش رہنا ہی بہتر ہے یار۔ ماسی اندر زندگی موت کی جنگ لڑ رہیں ہیں اور ادھر داماد اپنی سیاست چمکا رہا ہے۔۔
ذیشان سب کی طرف سے جواب نہ پاکر تلملا کر دائیں بائیں دیکھنے لگا ، انتظار گاہ میں ماسوائے زینہ اور شہلا کی ہچکیوں کے مکمل سکوت تھا۔۔۔
دس منٹ کے بعد زید سے بڑی بہن کا رونا دیکھا نہ گیا تو گویا ہوا بڑی آپا بس کر دو ۔! نہ رو ۔! میں مانتا ہوں کہ ہم سے غلطی ہو گئی ہے مجھے اسی وقت آپکو مطلع کرنا چاہئے تھا مگر امی کی اچانک نازک صورتحال کے پیشِ نظر دماغ ماؤف ہو گیا ، میری تو سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔! اور اوپر سے آپکی طبیعت بھی ایسی نہ تھی کہ آپکو آدھی رات کے وقت دوبارہ تکلیف دیتا۔۔۔
ارے میاں بس کرو ۔! رہنے دو یہ سب عورتوں والے ڈھگوسلے ہیں۔ شہلا سے قبل ذیشان نے زہر افشانیاں شروع کر دیں۔۔۔
صد شکر وہ تو میں صبح تمہارے میکے کے دروازے پر رشتے کی” ہاں” سننے کے لیے گیا تھا وگرنہ شہلا بیگم تم نے بےخبر ہی رہنا تھا۔۔۔
میں ادھر نہ جاتا تو تم نے ابھی تک بےخبر ہی رہنا تھا۔! یہ تو دروازہ نہ کھلنے پر میری چھٹی حس نے کچھ اشارہ دے دیا کہ کچھ نہ کچھ چل رہا ہے ۔۔ سالہ صاحب کو فون کرنے پر پتا چلا کہ خالہ صآحبہ ہسپتال داخل ہیں۔۔۔
ذیشان بھائی آپ جب سے آئے ہیں شکوہ کناں ہی ہیں ، ہماری ماں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے اگر دلاسہ نہیں دے سکتے تو کم ازکم ہمارا دل تو نہ جلائیں۔۔۔!!! زید نے دھیمے لہجے میں سمجھانا چاہا۔۔۔۔ مگر جن کی نیت میں کھوٹ ہو وہ کوئی وار خالی نہیں جانے دیتے ہیں۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *