Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32

زینہ روحیل کے جواب پر بے ساختہ کھلکھلاتی گھر کے سامنے والے
حصے کی طرف بڑھنے لگی۔
شریفاں نے دور سے ہی ہاتھ کے اشارے سے باورچی خانے میں جانے کا عندیہ سنا دیا۔۔
سفر کیسا گزرا۔؟؟
بہت غمگین۔!
وہ کیوں۔؟ کیا آپ جہاز کو دھکا لگا کر گئے ہیں۔؟
جہاز کو دھکا لگانے سے اوپر کا کام تھا۔!
کیا مطلب۔؟؟
میرا جی چاہ رہا تھا کہ جہاز کی کھڑکی سے کود جاؤں۔!
استغفر اللہ۔! ہائے اللہ وہ کیوں۔؟
تم یاد آ رہی تھی۔!
آپ بھی حد کرتے ہیں۔!
اتنی چھوٹی سی بات پر کوئی کھڑکی سے کودتا ہے بھلا۔۔؟
بیوی صاحبہ تم دل نہ جلاؤ جہاز کی کھڑکی بہت چھوٹی اور موٹی ہوتی ہے۔اور میں کونسا کودنے لگا تھا ، بس کودنے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا۔!
بہت بری بات ہے۔! آپ اچھی اچھی باتیں سوچا کریں۔۔!
تمہیں ہی تو اچھی طرح سوچتا رہا ہوں۔!
آپ نے سفر میں دعائیں مانگی تھیں۔؟؟
ہاں بہت زیادہ۔!
پوچھوں گی تو بتائیں گے ۔؟
نہیں بتاؤں گا کیونکہ یہ میری ذاتی دعائیں ہیں، صرف میرے اور میرے اللہ کے درمیان ۔!
چلیں کوئی بات نہیں ہے۔
آپ کو آرام کی اشد ضرورت ہے ، آپ کی آواز بہت تھکی تھکی لگ رہی ہے۔۔
چلو میں ابھی سونے کی کوشش کرتا ہوں شاید چند گھنٹے آنکھ لگ جائے۔اور ہاں تم نے مجھے ویڈیو کال کرنی ہے۔
میں کہاں سے ویڈیو کال کروں گی ؟ امی کے سامنے مجھے شرم آتی ہے۔
اچھا میرے کمرے میں چلی جانا۔
یا اگر ابھی فارغ ہوتو جاؤ تاکہ تمہیں ایک جھلک دیکھ کر میں پرسکون نیند لے سکوں۔
اچھا چلیں پھر میں آپ کو دس منٹ بعد اپنے فون سے کال کرتی ہوں مگر زیادہ لمبی بات نہیں کروں گی۔
کیوں۔؟
وہ دوپہر کا کھانا بنانا ہے نا.!!
زینہ کھانا بنانا میرے سے زیادہ ضروری ہے کیا۔؟؟
نہیں تو۔! آپ کو پتا ہے۔؟؟ صبح سے امی مجھے سمجھانے بیٹھی ہوئی ہیں، میں نہیں چاہتی میری کسی بھی لاپرواہی سے امی پریشان ہوں۔
اور میں آپ کو بھی پریشان نہیں کرنا چاہتی ہوں۔
ابھی فون بند کرتی ہوں اور آپکو دوبارہ کال کرتی ہوں ان شاءاللہ۔
زینہ سامنے والے باغیچے سے پلٹ کر عقبی باغیچے کا رخ کرنے لگی تو سامنے سے جیمی باچھیں پھیلائے کھڑا تھا۔۔
بہت محبت کرتی ہو روحیل سے ۔؟؟
زینہ نے بنا جواب دیئے خاموشی سے گزر جانا چاہا مگر جیمی نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راستہ روک لیا۔۔۔
بھائی صاحب آپ اپنی حد پار کر رہے ہیں۔
تم سے ایک ادنیٰ سا سوال پوچھا ہے مگر تم مجھے نظر انداز کر کے بھاگ رہی ہو۔۔۔جیمی نے للچائی نظروں سے زینہ کو گھورنا واجب سمجھا۔۔
روحیل سے محبت نہیں کرتی ہو کیا ۔؟؟اگر کرتی ہوتی تو فوراً مجھے جواب دے دیتی۔!!
تم جیسی مفلسی کا شکار لڑکیاں ہم جیسے امیر زادوں کو اپنی ادائیں دکھا کر پھانس لیتی ہو۔!!
جہاں پر لمبے نوٹ کار کوٹھی دیکھی ، دل ہار بیٹھتی ہو۔!!
ان لبادوں میں خود کو چھپا کر روحیل کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکو۔!! جیمی ایک ہی سانس میں ملغظات بکتے ہوئے زینہ کی پاکیزہ روح چھلنی کر دیا۔۔
بھائی صاحب میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں ۔! زینہ نے ترش لہجے میں جواب دے کر جیمی سے دور ہٹ کر گزرنا چاہا ۔۔
تمہیں پتا ہے میری موم تمہیں رتی بھر پسند نہیں کرتی ہیں ، میرے ساتھ بنا کر رکھو گی تو تمہارا اس گھر میں گزارا آسان رہے گا۔
زینہ کو تو جیسے پاؤں سے لگی اور سر سے نکلی۔
یکدم سارا خوف بھلا کر دیدہ دلیری سے گویا ہوئی۔۔
آپ غالباً کسی بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں بھائی صاحب جو یوں اپنا قیمتی وقت میری جاسوسیوں میں ضائع کر رہے ہیں، آئندہ اگر آپ نے حد پار کرنے کی کوشش کی تو میں نے روحیل کو آپکی کارستانیوں کے بارے میں ایک پل ضائع کیے بنا بتا دینا ہے ، انہیں اپنی بیوی پر آپ سے زیادہ اعتبار ہے ۔!!
مجھے آپکو اپنی صفائی میں کچھ بھی نہیں کہنا ہے کیونکہ آپ میرے لیے ایک نامحرم کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔۔
مجھے بکاؤ مال سمجھ کر کیش کروانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی بھول ہے ۔ میری نظر میں غلیظ تفکیر کے لوگ گلی کے تنکے سے کم تر حیثیت رکھتے ہیں۔۔
زینہ تلخ لہجے میں بول کر جیمی کو لاجواب کر گئی اور جھٹکے سے آگے بڑھ گئی۔۔
ہونہہ بڑی آئی پاکدامن۔!! دوٹکے کی لڑکی مجھے دھونس جما رہی ہے۔ جیمی کھول کر رہ گیا۔۔
زینہ عقبی باغیچے میں سسر کو اپنا فون دے کر پلٹی تو جیمی آن دھمکا۔۔۔
زینہ بھابھی صاحبہ ایک منٹ رکو ۔!
آپ کی موجودگی میں تمام حقائق بیان کرنا پسند کروں گا۔! چونکہ میں پیٹھ پیچھے بات کرنے کا عادی نہیں ہوں لہٰذا آپ کو میری بات مکمل ہونے تک یہاں ہر بیٹھنا پڑے گا ۔!
برائے مہربانی یہاں پر تشریف رکھیں۔!
جیمی نے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔۔
زینہ کا دل تھر تھر کانپنے لگا۔ چار و ناچار کرسی کی طرف بڑھ گئی۔ جیمی زینہ کے کرسی پر بیٹھتے ہی طنز کے تیر برسانے لگا۔
ماموں جان جب میزبان یعنی گھر کے مکین مہمانوں سے اپنا چہرہ چھپاتے پھریں تو مہمانوں کے دل پہ کیا گزرتی ہے۔؟؟
کیا ہو گیا ہے جیمی یار ۔؟؟ارشاد صاحب نے لگاوٹ سے پوچھا۔
ماموں جان آپ نے دیکھا نہیں ہے کہ آپ کی نئی نویلی بہو نے گھر کا ماحول خراب کر رکھا ہے۔؟؟
ارے جیمی تم تو ایسے ہی پریشان ہو رہے ہو یار ۔!!
زینہ شروع سے ہی پردے کی پابند ہے ، اس نے ہمارے گھر آ کر پردہ تھوڑی شروع کیا ہے۔
ماموں میں تو بالکل بھی پسند نہیں کرتا ہوں کہ گھر آئے مہمانوں سے چھپا جائے ۔!! اور نا ہی میں آپ کی بہو کے پردے سے آرام دہ محسوس کرتا ہوں، مجھے تو ایسے لگتا ہے جیسے مجھے بنا بولے اشارہ دیا جا رہا ہے ایک لمحہ ضائع کیے بنا ہمارے گھر سے نکل جاؤ۔!
ماموں جان آپکی بہو صاحبہ کو اس حلیے میں دیکھ کر میرا تو دم گھٹتا ہے ، سچی پوچھیں تو آپ کی بہو کبھی کبھی ڈاکو رانی معلوم ہوتی ہے۔۔!!
ایسے لگتا ہے صحرائی قافلہ لوٹنے میں مہارت رکھتی ہے۔! جیمی نے شرعی پردے کی دھجیاں اللہ کے عذاب سے بےخوف و خطر ہو کر اڑانا شروع کر دیں۔۔اس آوارہ مزاج کے تمسخرانہ قہقہے زینہ کے تقویٰ و ایمان پر کاری ضربیں لگانے لگے۔
زینہ کو اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہونے لگا، شرعی علم ہونے کے باوجود بھی کچھ لمحوں کے لئے ڈگمگا گئی۔دل خون کے آنسو رونے لگا۔
بےجوڑ شادیاں شاید اسی لیے کامیاب نہیں ہوتیں ہیں،پاکیزہ مومن مردوں کے لئے پاکیزہ مومن عورتیں ہی ہونی چاہئیں ۔۔زینہ کے دماغ میں جکڑ چلنے لگے۔۔
زبان تالوں کے ساتھ جا لگی ،جسم پر لرزا طاری ہو گیا۔۔
جیمی اور پھپھو کے بلند و بالا قہقہے زینہ کی سماعتوں میں گونجنے لگے جبکہ ارشاد صاحب شرمندگی سے زینہ کو دیکھتے رہ گئے۔۔
جیمی نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ماموں کو زینہ کے پردے سے متنفر کرنا چاہا۔۔
شاید اسکی یہ کوشش کسی حد تک کامیاب بھی ہو چکی تھی۔۔ مگر کچھ دیر کے توقف کے بعد ارشاد صاحب نے گلا کھنکارا اور گویا ہوئے۔
شمیم اور جیمی کیا ہو گیا ہے آپ لوگوں کو ؟؟آپ دونوں بالکل بچوں والی حرکتیں کر رہے ہو ۔!! اچانک ارشاد صاحب کی آواز بلند ہو گئی۔۔
خبردار جو کسی نے میری بہو کے بارے میں ایک لفظ بھی منہ سے نکالا ، مذاق کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔۔ ارشاد صاحب کے دفاع پر زینہ کو اپنے جسم میں زندگی لوٹتی محسوس ہونے لگی۔ سسر کا ساتھ پاکر زینہ کا دل بھر آیا۔۔
بمشکل آنسوؤں پر بندھ باندھے۔
بھائی جان آپ تو غصہ کر گئے ہیں۔! جیمی تو زینہ کے فائدے کی بات کر رہا ہے کہ کس لئے اپنی ننھی سی جان کو اس تنبو میں چھپائے پھرتی ہے؟ ، اپنی زندگی کو آسان بنائے ، ہمارا تو آنا جانا لگا رہے گا تو زینہ کتنا عرصہ جیمی سے چھپتی پھرے گی۔؟
زینہ کا جی چاہا کہ پھپھو اور جیمی کو کھری کھری سنا ڈالے مگر ماں کی نصیحتیں یاد آتے ہو ہی زبان پر قفل لگا دیئے۔۔
بحث سے خاموشی بہتر ہے ، یہ جہلاء کیا جانیں۔!
یا اللہ انہیں دین کی سمجھ بوجھ اور ہدایت دے آمین۔ زینہ نے تڑپ کر دعا مانگی ۔ دل و دماغ میں پیارے نبی کا فرمان تازہ ہونے لگا۔۔
💖حديث أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: “الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر”۔۔(صحیح مسلم/الزہد: 1)
ابوہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ (جیل) ہے اور کافر کے لیے جنت (باغ و بہار) ہے“۔
📌اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح قید خانے کا قیدی اس کے قواعد و ضوابط کا پابند ہوتا ہے اسی طرح یہ دنیا مومن کے لیے ایک قید خانہ کی مثل ہے، اس میں مومن شہوات و خواہشات نفس سے بچتا ہوا مومنانہ و متقیانہ زندگی گزارتا ہے، اس کے برعکس کافر ہر طرح سے آزاد رہ کر خواہشات و شہوات کی لذتوں میں مست رہتا ہے گویا دنیا اس کے لیے جنت ہے جب کہ مومن کے لیے قید خانہ ہے۔
دنیا دارالعمل اور آخرت دار الجزا ہے، تو مومنوں کو بدلہ جنت اور کافروں کو جہنم کی صورت میں ملے گا۔
تو جب “جنت” طیب اور اچھی جگہ ہے تو اس میں داخل بھی وہی ہوگا جو کہ اچھا اور طیب ہوگا اور پھر اللہ تعالی طیب اور پاک صاف ہے تو وہ قبول بھی طیب اور پاک صاف چیز ہی کرتا ہے اسی لئے اللہ تعالی کا اپنے بندوں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آزمانے کےلئے مصائب اور فتنہ میں ڈالتا ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ مومن کون اور کافر کون ہے اور جھوٹے اور سچے کے درمیان تمیز ہوسکے ۔۔
💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
“کیا لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دینگے؟ ان سے پہلوں کو بھی ہم نے خوب آزمایا تھا یقینا اللہ تعالی انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی جو معلوم کرلے گا جو کہ جھوٹے ہیں۔” (العنکبوت1-2)
تو کامیابی اور نجات اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک کہ امتحان نہ ہوجائے اور طیب خبیث سے علیحدہ نہ ہوجائے اور مومن اور کافر کا پتہ نہ چل جائے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:
“جس حال پر تم ہو اسی پر اللہ تعالی ایمان والوں کہ نہ چھوڑدے گا جب تک کہ پاک اور ناپاک کو الگ نہ کردے اور نہ ہی اللہ تعالی ایسا ہے کہ تمہیں غیب سے آگاہ کردے گا”(آل عمران: 179)
وہ آزمائش جس سے اللہ تعالی اپنے بندوں کو مبتلا کرتا ہے تاکہ مومن اور کافر کے درمیان تمیز ہوسکے اس کا ذکر اس فرمان میں کیا ہے:
“اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کرینگے دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے، اور ان پر صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے جنہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالی کی ملکیت ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، ان پر ان کے رب کی رحمتیں اور نوازشیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں”۔۔( البقرۃ: 155؛157)
تو اللہ تعالی بندوں کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے اور صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں جنت کی خوشخبری دے رہا ہے۔۔
💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮
چچا جان مجھے اجازت ہے ؟ کیا میں ابھی جا سکتی ہوں۔؟ زینہ نے رندھی ہوئی آواز میں پوچھا ۔۔
ہاں بیٹی تم جاؤ اور اپنا کام کاج کرو ۔! جیمی اور پھپھو کی باتوں کو دل پر لینے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔! سسر کا پرشفیق لب و لہجہ زینہ کے زخموں پر پھاہوں کا کام کرنے لگا۔۔
جی چچا جان۔!
زینہ خاموشی سے کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور گھر کے داخلی دروازے کا رخ کر گئی ۔۔
مہمان خانے میں پہنچتے ہی روحیل کا خیال آیا تو گھبرا کر رہ گئی۔!
ہائے اللہ وہ تو میری ویڈیو کال کے منتظر تھے ۔
آنکھوں میں آئے آنسو رگڑ ڈالے اور فوراً امی کے کمرے کا رخ کیا۔۔
امی وہیل چئیر پر بیٹھی اونگھ رہیں تھیں۔
امی فزیو نہیں آیا کیا ؟؟
آیا تھا مگر آج صرف آدھا گھنٹہ ورزش کروائی ہے، اسے کسی کام سے جانا پڑ گیا ہے۔۔ امی نے کمزور آواز میں جواب دیا۔
چلیں شکر ہے ۔ میں رات کو آپ کو تمام ورزش کرواؤں گی ان شاءاللہ۔
امی ابھی لیٹنا ہے ؟
ہاں مجھے بستر پر لٹا دو ،کافی تھک گئی ہوں۔۔
جی بہتر۔! زینہ ماں کی ویل چیئر گھسیٹ کر بستر کے قریب لے آئی اور شدید دقت کے ساتھ ماں کو تقریباً گرانے والے انداز میں بستر پر بٹھایا۔۔
میرے لئے کتنا مشکل ہے امی کو اٹھانا بٹھانا۔
روحیل اور ویر کس قدر آسانی سے یہ سب کر رہے تھے۔۔ یکدم روحیل کے لئے جذبہ ہمدردی نے دل میں سر اٹھایا تو لب مسکرانے لگے۔۔
امی آپا کیا کہہ رہی تھی۔؟ سب خیریت ہے۔؟
زینہ جلدی جلدی ماں سے بات کرکے روحیل کو فون ملانے کی تگ و دو میں تھی۔۔
ہاں وہ اور ذیشان ادھر آنے کا سوچ رہے ہیں ، مگر میں نے بولا ہے نا آؤ ، میں چند ہفتوں میں خود ہی میرپور لوٹ آؤں گی۔ اب ساری عمر بیٹی کے سسرال میں پڑے رہنا اچھی بات تو نہیں ہے نا۔۔
جی امی ۔! میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ پھپھو لوگ بھی ادھر موجود ہیں تو انہیں شاید پسند نہ آئے۔اور ویسے بھی ذیشان بھائی کی عادتیں بھی قابل قبول نہیں ہیں ، نجانے یہاں آکر کیا گل کھلا کر جائیں ۔؟؟
ہاں بس میں نے بھی یہی سوچ کر منع کر دیا ہے۔
تم نے دوپہر کا کھانا بنا لیا ہے ۔؟؟
ارے نہیں امی۔! ابھی کدھر ، شریفاں خالہ لہسن پیاز تیار کر رہی ہیں ،میں بس روحیل کو فون کر کے باورچی خانے میں جا رہی ہوں۔
بیٹی اتنی دیر کہاں لگا دی ہے۔؟
امی وہ پھپھو کے ساتھ باغیچے میں باتیں کر رہی تھی۔۔
اچھا چلو اس کو بھی وقت دینا ضروری ہے۔!
تم جاؤ جلدی سے اپنا کام نپٹاو اور مجھے صرف ایک گلاس پانی کا دے جاؤ۔!
جی امی۔! زینہ نے جگ سے پانی انڈیل کر ماں کو پیش کیا اور خود میز پر پڑے فون کو دیکھ کر گھبرا گئی۔
ہائے اللہ یہ تو بہت غصے میں ہیں ، پونے گھنٹے سے اوپر کا وقت گزر چکا ہے۔۔ زینہ نے روحیل کے غصیلے پیغامات پڑھ کر جھرجھری لی۔
امی آپ آرام کریں ،میں اوپر روحیل کے کمرے میں جا رہی ہوں۔۔۔
نقاب سے چہرہ ڈھکا اور سرعت سے سیڑھیاں پھلانگنے لگی۔۔
بھاگ کر کمرے کا دروازہ اندر سے کنڈی کیا اور پھولی سانسوں سے فون ملانے لگی۔۔
مسلسل گھنٹی جا رہی تھی مگر روحیل نے زینہ کی سکائپ کال نہ اٹھائی۔۔
ایک نہیں زینہ نے دس بار کال ملائی مگر روحیل نے زینہ کی کال کو نظر انداز کیا۔۔
آخر کار پیغام صوتی کی ٹھانی۔۔
“روحیل ناراض نہ ہوں پلیز وہ دراصل پھپھو نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا تھا جسکی بنا پر میں آپ کو کال نہیں کر پائی ہوں۔ زینہ دانستہ طور پر جیمی کے ذکر کو گول کر گئی وہ نہیں چاہتی تھی کہ روحیل پردیس میں پریشان ہو۔۔
میں آپ سے معافی چاہتی ہوں ، آئندہ میں ہر وقت فون اپنے پاس رکھوں گی ان شاءاللہ۔
ابھی راضی ہو جائیں ۔! ورنہ میرے سے دوپہر کا کھانا اچھا نہیں بنے گا” ۔!
اور آپ جانتے ہیں کہ پھپھو کتنا اچھا کھانا بناتی ہیں۔ کیا آپ چاہیں گے کہ آپکی بیوی آپکی ناراضگی کی وجہ سے برا کھانا پکائے۔؟؟
زینہ نے پیغام صوتی بھیج کر نیچے باورچی خانے کی راہ لی۔۔
بار بار فون دیکھتی مگر روحیل کی کوئی خیر خبر نہ تھی۔۔
شدید گھبراہٹ میں لال لوبیہ اور ابلے چاول پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ ابھی چٹنی سلاد کا سوچ رہی تھی کہ پھپھو آن دھمکیں۔
بنا بات کیے پتیلوں کے ڈھکن اٹھا کر جائزہ لینے لگیں۔
لال لوبیہ ککر میں گلایا ہے کیا۔؟
جی پھپھو۔! زینہ نے تابعداری سے جواب دیا۔۔
اچھا اب میٹھے میں گاجر کا حلوہ یا پھر شیر خورما بنا لو۔!
بنا لیتی ہو ۔؟؟
جی پھپھو۔!! میں فرج میں دودھ دیکھتی ہوں اگر مطلوبہ میٹھوں کے لیے کافی ہے تو میں بنا لیتی ہوں۔
گاجر کو چینی اور تھوڑے سے نمک میں گلا لو اور میں باہر سے خالص کھویا منگوا لیتی ہوں۔!
جی بہتر۔
زینہ نے ٹوکری میں پڑی تازہ لال گاجروں کو دیکھا جنہیں صاف کرکے دھونا اور پھر کدوکش کرنا ایک طویل مرحلہ تھا۔
اللہ جانے کدوکش کے لیے مشین موجود ہے یا پھر مولی کترے پر کام چلانا پڑے گا ۔۔
پھپھو حکم نامہ جاری کرکے باورچی خانے سے غائب ہو گئیں جبکہ زینہ عبایا کی آستینیں موڑتی گاجروں کے ساتھ زور آزمائی کرنے لگی۔۔
شریفاں زینہ کی ظہر کی ادائیگی کے بعد سے باورچی خانے سے جا چکی تھی۔۔
زینہ نے بھرپور مشقت سے تین کلو گاجروں کو پار لگایا ہی تھا کہ شریفاں خالہ ہاتھ میں اشیاء خوردونوش تھامے داخل ہوئیں۔
خالہ یہ کیا ۔؟؟
بی بی جی بڑی بیگم صاحبہ نے شام کے کھانے پر کچھ مہمانوں کو دعوت پر بلایا ہے تو اسی سلسلے میں ، میں ڈرائیور کے ساتھ خریداری کے لیے گئی تھی۔۔
اچھا چلیں ۔! میں آپکی مدد کرواتی ہوں ، ذرا گاجر کے حلوے کو فارغ کر لوں۔
بی بی جی آپ نے کھانا تیار کر لیا ہے ، آپ جا کر کھانا کھائیں ،باقی میں دیکھ لیتی ہوں۔
خالہ آپ سب کو میز پر بلاؤ۔ وہ لوگ جیسے پہنچیں مجھے آگاہ کریں تاکہ میں اسی وقت گرم گرم کھانا نکال لوں۔۔!
زینہ نے کدو کش گاجریں چولہے پر چڑھا دیں تو فون کو دوبارہ کھول کر دیکھا ۔
روحیل کی طرف سے مکمل خاموشی تھی۔
یقیناً ناراض ہو کر سو گئے ہیں۔تھکے ہوئے بھی تو تھے۔۔
گھر کے اہل خانہ کو کھانا پہنچا کر خود امی کو کھانا کھلانے جا پہنچی ، امی کے کھانے سے فراغت کے بعد دوبارہ کال ملانے کا سوچ کر اوپر روحیل کے کمرے کا رخ کر گئی۔۔۔
پہلے عصر ادا کر لوں پھر کال کرتی ہوں۔۔
باورچی خانے میں تین سے چار گھنٹے گزار کر سارے جسم کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا ، جی چاہا آرام سے سو جائے مگر روحیل کی ناراضگی کہاں چین لینے دے رہی تھی۔۔
میرا پیغام بھی سن لیا ہے مگر جواب پھر بھی نہیں دے رہے ہیں۔
اگر اب فون نہیں اٹھایا تو ویر کو کال کروں گی۔
عصر ادا کر لی ، بار بار فون ملانے پر بھی کوئی جواب نہ پاکر زینہ کا جی چاہا رو دے ۔ یہ کیسی محبت ہے جو چھوٹی سی غلطی پر اتنی لمبی ناراضگی اختیار کر لی ہے۔؟؟ خوب آنسو بہا کر زینہ نے عاصم کو کال ملائی۔۔
السلام علیکم۔! کیسے ہو ویر۔؟؟
میں خیریت سے ہوں۔ تم سناؤ ویر کی یاد آگئی ہے۔؟؟
یقیناً بھیا نے فون نہیں اٹھایا اسی لیے مجھے کال کی زحمت کر ڈالی ہے۔
ہاہاہاہا ہاہاہاہا ویر تم کتنے معاملہ فہم ہو ماشاءاللہ۔
جی تمہارا ویر تو اڑتی چڑیا کے پر گن لیتا ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ کسی لڑکی کو نہیں پھانس پایا ہے۔۔
یہ تو بہت خوشی کی بات ہے ویر۔شرافت سے شادی کرنا۔!!
اسی شرافت سے میرے بالوں میں چاندی اتر آئے گی۔!
اللہ نہ کرے ویر۔! تم خیریت سے وآپس آؤ تو تمہیں بیوی کے بغیر نہیں جانے دوں گی ان شاءاللہ۔
چلو کہتی ہوتو مان لیتا ہوں مگر امید تو نظر نہیں آتی ہے۔
ویر میں اپنی سہیلی سامعہ کو بولوں گی اسکے سسرال میں شاید کوئی مناسب رشتہ مل جائے۔!
یعنی بات ابھی بھی “شاید” تک ہی ہے۔؟؟
اللہ جانے “یقینی” کاروائی کب ہو گی۔؟؟
ویر تم بھی نا ہتھیلی پر سرسوں جمانے پر تلے ہو۔!!
اپنی شادی پہلے کرواتے تو پھر اپنے بھیا کی کرواتے نا ؟؟
جی اور جو دن رات میں سرد آہیں سنتا رہا ہوں وہ تو مجھے پتا ہے ، بھیا صاحب مجنوں بنے پھرتے تھے۔ انکی دکھیاری حالت دیکھ کر میری حالت بھی غیر ہوتی رہتی تھی۔۔
اچھا تو ان کی اس وقت اتنی حالت غیر ہوتی تھی تو اب کیا ہو گیا ہے ۔؟؟ میری کال کیوں نہیں اٹھا رہے ہیں۔؟
کم و بیش بیس مرتبہ کال کر چکی ہوں۔۔اب تو سکائپ بھی میرے سے پناہ مانگ رہی ہے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *