Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38

اس گھر میں میری بھی کسی کو فکر ہے بھابھی صاحبہ۔! عاصم نے دل کے پھپھولے نکالنا شروع کیے تو زینہ نے ہنسی دبا کر عاصم کو دیکھا۔۔
ویرے آج سامعہ سے بات کرتی ہوں اور تمہاری دلہنیا پھپھو کی موجودگی میں لا کر چھوڑوں گی ان شاءاللہ۔
پھپھو آپ کا کیا خیال ہے۔؟
بھئی میرا تو کچھ پتا نہیں ہے ابھی ٹکٹ میں چند دن باقی رہ گئے ہیں اور ان رشتے والے کاموں میں وقت درکار ہے ۔۔۔
اور ویسے بھی جیمی بار بار واپسی کے لیے بلا رہا ہے۔
پھپھو آپ کہیں بھی نہیں جا رہیں ہیں جب تک عاصم کا رشتہ نہیں ہو جاتا اور میرا ولیمہ۔!
روحیل نے دوٹوک بولا۔۔۔
روحیل بچے یہ سب کام وقت لیتے ہیں ، میں اتنا لمبا عرصہ نہیں رک سکتی ہوں۔!
پھپھو آپ میرے نکاح میں بھی شامل نہیں ہو پائیں جسکا مجھے ابھی بھی افسوس ہے مگر ولیمہ تو آپ کی غیر موجودگی میں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔۔
پھپھو میں کونسا لمبا چوڑا ولیمہ کر رہا ہوں بس بہت قریبی چند لوگ یا پھر زینہ کے بہن بھائی ہوں گے۔۔
ڈیڈ آپ کا کیا خیال ہے ۔؟؟
بھئی مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے ،میں تو ولیمہ نکاح کے فورا بعد ہی کروانا چاہتا تھا مگر روحیل تم خود ہی نہیں مان رہے تھے اور پھر حالات بھی یکسر بدل گئے ، تمہیں ملک سے باہر جانا پڑ گیا اور پھر باجی بھی چل بسیں۔
شمیم تم اپنی ٹکٹ کینسل کرواؤ اور سنجیدگی سے عاصم کے رشتے پر غور و فکر کرو ۔!
دونوں بھائیوں کا ولیمہ اکٹھا ہی کر لیں گے ان شاءاللہ۔۔۔
ہرےےےےےے۔!!! ارے واہ ڈیڈ۔!! آپ کے منہ میں گھی شکر ۔! عاصم نے جوش سے نعرہ لگایا۔ خالص محبتی باپوں والی خوبیاں تو آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں۔۔
بس بس چھوٹے۔! ابھی صرف بات ہو رہی ہے کوئی دلہن ڈولی میں بیٹھ کر گھر کی دہلیز نہیں پار کر آئی ہے۔؟؟ روحیل نے عاصم کو چھیڑا۔۔۔
اپنی دلہن تو چند دنوں میں بیاہ لائے ہیں اور میری دلہن لاتے ہوئے آپ کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔؟
عاصم نے دہائی دی۔۔
زینہ بھابھی تم ابھی اسی وقت اپنی سہیلی سے میرے رشتے کی بات چلاؤ۔!!
مجھے تمہاری ہم خیال ہی لڑکی چاہئے جو صوم و صلوٰۃ اور پردے کی پابند ہو ۔۔!
کیوں نہیں ویرے۔!! میں آج ہی سامعہ کو فون کرتی ہوں۔! ابھی خوش ہو۔!!
آج نہیں بس ابھی اٹھو اور سہیلی کو فون ملاؤ۔!!
ویرے ابھی۔؟؟ زینہ نے حیرت سے عاصم سے پوچھا۔۔
ہاں تو اور کیا۔؟؟
ویرے تم حقیقتاً سنجیدہ ہو ۔؟؟
تو کیا میں غیر سنجیدہ نظر آ رہا ہوں۔؟؟
زینہ نے روحیل کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا۔۔۔
عاصم ابھی ہم جب اوپر جائیں گے تو زینہ کال کر لے گی اور جو جواب موصول ہوا تمہیں بزریعہ پیغام رسانی مطلع کر دیا جائے گا۔!
ڈیڈ دیکھا ہے بھیا مجھے ٹال رہے ہیں۔!! عاصم نے بچوں کی سی ضد کی تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔
عاصم تم تو ایسے ضد کر رہے ہو جیسے زینہ نے لڑکی جیب میں رکھی ہوئی ہے۔!
پھپھو یہ زینہ بھابھی صاحبہ بھی میرا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔!
ہائے میں کن جذبات سے عاری لوگوں میں گرفتار ہو چکا ہوں۔!! عاصم کی دہائیاں سب اہلِ خانہ کو محفوظ کر رہیں تھیں۔۔۔
زینہ تم جاؤ اور سہیلی کو فون کرو۔ ! میں شریفاں کے ساتھ مل کر برتن سمیٹ لیتی ہوں۔!
پھپھو آپ بیٹھیں میں کر لیتی ہوں۔! بلکہ سب کےلئے چائے بھی بنا لیتی ہوں۔!
زینہ تمہاری پھپھو ٹھیک کہہ رہی ہیں تم اوپر جاؤ اور سہیلی سے بات کرو۔!
آپ بھی ساتھ تشریف لے جائیں بھیا اور جوابی کاروائی کے متعلق مجھے فوری طور پر آگاہ کریں۔! عاصم نے روحیل کو بازو سے پکڑ کر اٹھانا چاہا۔
بھابھی بولنا لڑکا خوش شکل اور خود عقل بھی ہے۔!
خوش شکل کی تو سمجھ آتی ہے مگر خود عقل سے کیا مراد ہے ویرے ہے ۔؟؟
یہ وقت سوال و جواب کا نہیں ہے تم ادھر کھڑی میری زندگی کے قیمتی پل ضائع کرنے کے در پر ہو۔
اچھا ویرے میں جا رہی ہوں۔!
عاصم۔! زینہ ابھی فون بھی کرتی ہے مگر میں سوچ رہا ہوں اسے کچھ دنوں کے لیے میرپور چھوڑ آؤں تاکہ ہم دونوں بھی زید سے ملاقات کر لیں گے اور زینہ بھی بھائی کے ساتھ چند دن گزار آئے گی۔!
پھپھو ڈیڈ آپ کیا کہتے ہیں۔؟ زینہ کو چھوڑ آؤں۔؟؟
بھئی ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جیسے تم دونوں کو مناسب لگے۔۔
ٹھیک ہے پھر مری والے منصوبے کو فی الحال ملتوی کر دیتے ہیں اور صبح میرپور کے لئے نکلتے ہیں ان شاءاللہ۔
عاصم تم بھی تیار رہنا۔! روحیل نے عاصم کو کندھے سے تھپکا۔۔۔
میں اکیلا بعد میں ڈرائیور کے ساتھ آجاؤں گا بھیا۔! آپ دونوں چلے جانا۔ میں کس لیے میاں بیوی کے بیچ میں بیوقوفوں کی طرح جاؤں۔۔! نا بابا نا ۔!!
روحیل نے عاصم کے سر پر لاڈ سے چت لگائی ۔
بس ہر وقت بولتے ہی رہنا ۔!!
تو آپ کے فائدے کا ہی بولتا ہوں ، یہ الگ بات ہے کہ آپ کو میری حکمت عملی دیر بعد سمجھ آتی ہے۔!!
عاصم کی بات پر روحیل کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
تم نہایت بے صبرے انسان ہو۔!
جی جی جی۔ آپ کے صبر کو تو میں اچھی طرح جانتا ہوں آئے دن ڈیڈ کو کال کر کر کے ستایا ہوا تھا،اور جو بیچ میں مجھے سفارشی بنا رکھا تھا۔! اب جب میری باری آئی ہے تو سب نے ہاتھ اوپر اٹھا لیے ہیں۔!
عاصم میں ابھی معلومات لے کر تجھے بتاتا ہوں۔! اور تہجد شروع کر لے ، یاد ہے نا مجھے مشورے دیتا تھا تو اب یہ باتیں خود پر لاگو کر ۔۔!!!
روحیل نے عاصم کو یاددہانی کروائی اور پھر سب کو اجتماعی سلام بول کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی زینہ کو فون پر محو گفتگو پایا تو کنڈی چڑھا کر شب باشی کا لباس نکال کر غسل خانے میں گھس گیا۔۔۔
واپسی پر زینہ کو بےچینی سے اپنا منتظر پایا تو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
روحیل آپ کو پتا ہے ۔؟
کیا۔؟
آپ ادھر آرام سے بیٹھیں آپ کو بتاتی ہوں۔!
ہاں بولو۔! روحیل بیٹھتے ہی ہمہ تن گوش ہوا۔
وہ روحیل پتا نہیں آپ یا ویرے کو کیسا لگے گا ۔؟زینہ نے ہچکچاتے ہوئے سلسلہ کلام جاری کیا ۔ وہ بات دراصل یہ کہ سامعہ کے سرونٹ کوارٹر میں ایک بیوہ عورت دو ماہ سے رہائش پذیر ہے ۔
انکی اٹھارہ سالہ دو جڑواں بیٹیاں ہیں۔۔۔ زینہ کچھ دیر کے لئے ٹھہری اور روحیل کے تاثرات پڑھنے لگی۔۔
تو ۔؟؟ زینہ پوری بات بتاؤ یار۔!
وہ سامعہ کے گھر ملازمہ ہیں دو مہینے قبل انکے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے ، شوہر نے اپنی پہلی بیوی اور خاندان سے چھپ کر شادی کی ہوئی تھی اور انہیں ایک کرائے کا گھر دلایا ہوا تھا بس ۔
تو ۔؟؟
تو یہ ہے کہ شوہر کی حادثاتی موت پر انکے اخراجات اٹھانے والا کوئی نہیں ہے جبھی انہوں نے سامعہ کے ہاں پناہ لی ہے اور اس کےگھر کے کام کاج کی ذمّہ داری بھی لے لی۔
بقول سامعہ کے لڑکیاں بہت سلجھی ہوئی ہیں اور ایف ایس سی تک پڑھا ہے۔اور ابھی سامعہ انہیں اپنے گھر پر دینی تعلیم دے رہی ہے۔
روحیل خاموشی سے زینہ کی بات سن کر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
روحیل اگر یہ رشتہ ویرے کے لیے مناسب نہیں ہے تو ہم زید کے لیے پوچھ لیتے ہیں۔زینہ نے جھجھکتے ہوئے پوچھ ڈالا۔۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ وہ بھی تو اکیلا رہ گیا ہے ، اسے بھی ایک نہ ایک دن شادی تو کرنی ہے تو کیوں نا ابھی کوشش کی جائے؟؟۔!
آ ہاں کیوں نہیں۔؟ تمہیں لڑکیوں کے والد کے نام بارے میں کچھ اتا پتا ہے، میں وہاں پر بہت لوگوں کو جانتا ہوں شاید کسی سے کچھ پتا چل جائے۔
اور یہ رشتہ عاصم کے لیے مناسب کیوں نہیں ہو گا.؟؟
ووووووووہ اس لیے کہ شاید پھپھو ڈیڈ کو اعتراض ہو۔! زینہ گھبرا کر ہکلائی۔۔
تم اپنی سہیلی کو بولو بچیوں کی والدہ کو بتا دے کہ کل میں اور عاصم ان سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔
ایک مرتبہ خاندان وغیرہ کا پتا چل جائے تو پھر عاصم زید دونوں کا سادگی سے نکاح طے کر لیں گے۔
سچی۔؟؟ جوش میں زینہ اچھل کر روحیل کے ورزشی بازو کے ساتھ چپک کر بھینچنے لگی۔۔جبکہ روحیل اس اچانک لاڈ پر بھونچکا کر رہ گیا۔۔
آج بیوی صاحبہ کو مجھ ناچیز پر بڑا پیار آ رہا ہے۔ ماشاءاللہ نظر نہ لگ جائے۔! روحیل کی جذبے لٹاتی نگاہیں زینہ کو نشیلی آنکھیں جھکانے پر مجبور کر گئیں۔۔
زینہ بازو چھوڑ کر فوراً بھاگ کر صوفے پر جا بیٹھی۔
چلو جی اب آنکھ مچولی شروع ہو چکی ہے، باقیوں کی شادیاں بھی ہو جائیں گی ، اور یقیناً بچے بھی پیدا ہو جائیں مگر مجھ دل جلے کے بھاگ فی الحال جاگنے کے مواقع دور دور تک نظر نہیں آ رہے ہیں۔
چلو کوئی نہیں دیر آئے درست آئے۔! روحیل نے خودکلامی کی اور چلتا ہوا زینہ کے پاس آن بیٹھا۔
بیوی صاحبہ صرف بات کی ہے تم دل پر نا لے جانا۔۔
ویسے جو تم نے ڈائری میں میرے لیے تحریر کیا تھا خود پڑھ کر سناؤ نا ۔!
بہت جی چاہ رہا ہے کہ تمہاری زبان سے ادا ہوتے یہ الفاظ میری سماعتوں میں رس گھولیں ۔
زینہ جو پہلے ہی گھبراہٹ میں اپنا پسندیدہ مشغلہ مخروطی انگلیاں مروڑنے میں غلطاں تھی فوراً پلکوں کی جھالر اٹھائی اور پھر جھکا لی۔۔
روحیل نے لمبی سانس کھینچی اور مذید بولنے کے لیے لب واہ ہی کیے تھے کہ دروازے پر ٹھک ٹھک دستک ہونے لگی۔۔
چلو جی اس گھر میں سبھی ہی میرے جذبات کے دشمن ہیں۔!
روحیل کو مجبوری سے اٹھتے دیکھ کر زینہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔ جسے روحیل نے پلٹ کر ہاتھ کے اشارے سے باور کروایا کہ بھولوں گا نہیں ۔
جی فرماو چھوٹے تمہاری جان کو چین نہیں ہے اور نا مجھے چین لینے دیتے ہو۔!
بھیا کتنی مرتبہ فون کیا ہے اٹھاتے نہیں ہوتو مجھے مجبوراً آپ کی چوکھٹ پر آنا پڑا ہے جبکہ آپ جانتے ہیں کہ میں ہی سب سے زیادہ ہی آپ کا خیر خواہ ہوں۔
اب زیادہ لمبی لمبی نہ چھوڑ مدعا پہ آ۔!!
میں کیا مدعا بتاؤں ؟ آپ نے ہی تو بتانا ہے سب کچھ۔.!!
مجھے اندر تو آنے دیں یار بھیا۔!
زینہ اپنی ہنسی دباتی روحیل کے عقب سے سامنے آئی۔ ویرے آؤ نا ۔!
روحیل آپ ویرے کو ساری تفصیل بتائیں نا ۔
ہاں تو میں اسے ساری تفصیل ادھر سے بتا کر رخصت کر رہا ہوں ،مجھے پتا ہے اس نے کمرے میں بیٹھ کر میلا سجا لینا ہے اور پھر اٹھنے کا نام نہیں لے گا ،صبح ویسے بھی ہمیں جلدی گھر سے نکلنا ہے ۔
عاصم منہ کے زاویے بدل کر رہ گیا۔
تو جناب عاصم صاحب آپ کی لڑکی کی والدہ سے کل ملاقات ہوگی ،اب نو دو گیارہ ہو جاؤ۔!
بھیا مجھے ساری بات بتاؤ۔!
کیوں تم نے ابھی نکاح رچانا ہے ۔؟؟
زینہ تم بتاؤ میرا مطلب بھابھی زینہ۔! عاصم جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے لگا جبکہ زینہ کی کھنکتی ہنسی کمرے میں جلترنگ بجانے لگی۔۔
زینہ کے نقرئی قہقہے روحیل کے دل کے تار چھیڑنے لگے۔۔
روحیل نے فوراً پلٹ کر گھورا۔۔
ویرے تم اندر آؤ میں تمہیں تفصیل سے بات بتاتی ہوں۔۔!!
ہاں ہاں تم اسے اندر بلاؤ اور پھر خود آدھی رات تک نیند سے جھولتی رہنا ، اس قصہ گو کے قصے ہی اختتام پذیر نہیں ہونگے۔! روحیل نے دانت پیس کر عاصم کو راستہ دیا۔۔۔
جئے جئے بھابھی زینہ زندہ باد ۔!
ایک ہی نعرہ روحیل بھیا میں نے کیا ہے آپ کا بگاڑا۔؟؟
روحیل نے جواب کے بجائے کن اکھیوں سے عاصم کو گھورا جبکہ زینہ کی کھنکتی ہنسی کا فوارہ دوبارہ پھوٹ چکا تھا۔۔
ویرے تم ادھر آ کر بیٹھو۔!! میرے شہزادے بھائی میں تمہیں ایک ایک بات بتاتی ہوں۔!
عاصم سینہ تان کر کونے میں پڑے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گیا اور معنی خیزی سے مسکرا کر روحیل کی لاچارگی سے لطف اندوز ہونے لگا۔۔۔
زینہ جلدی سے بتا دو اس سے پہلے بھیا کا ایک پاؤ خون جل جائے۔
اپنا وقت بھول چکے ہیں کہ جب میرے سامنے دست سوال دراز کرتے تھے اور اب جب میرا وقت آیا ہے تو مجھے (پیڑی) بری ساس کی طرح ٹرخا رہے ہیں۔۔۔
چھوٹے تو یہاں بیٹھ کر باتیں نہ بھگار بلکہ باتیں سن کر نو دو گیارہ ہو جا۔۔!!
زینہ تم رہنے دو میں خود اسے خلاصہ کلام بتاتا ہوں تاکہ اسے چین کی نیند آئے۔۔۔
عاصم پانچ منٹ کے اندر مکمل بات سن کر شب بخیر بولو اور کمرے سے نکل جاؤ۔!
اور یار بھیا میں کب تاخیر کا قائل ہوں میں خود آپ کو گوشہء تنہائی فراہم کرنے کے حق میں ہوں۔ اب جلدی سے مجھے میرے مطلب کی بات بتائیں تاکہ میں جاؤں۔۔۔
روحیل نے دو منٹ سے کم وقت میں ساری تفصیلات عاصم کو سنائیں اور ساتھ ہی کمرے سے نکل جانے کا عندیہ بھی سنا دیا۔۔
ویسے بھیا کل صرف لڑکی کی ماں سے کیوں ملنا ہے ۔؟؟ ساتھ ہی لڑکی بھی دکھا دو تاکہ وقت کا ضیاع نہ ہو ۔!
اب روز روز میرپور جانا کونسا (سوکھا) آسان ہے ۔۔
بے صبرے انسان “(چھری تھلے ساہ لے)”چھری نیچے سانس لے۔!!
بھابھی صبح تم نے لڑکی سے مجھے ضرور ملوانا ہے ۔!! سمجھی ہونا۔؟؟
ہاں ہاں ویرے سمجھ گئی ہوں تم بےفکر ہو کر سو جاؤ ، میں پوری کوشش کروں گی۔!
کوشش نہیں کرنی بلکہ عمل کرنا ہے ۔!!
اچھا نا بول دیا ہے ، اگر لڑکی کی والدہ نے اجازت دی تو لڑکی دکھلا دوں گی ان شاءاللہ۔
ویسے بھیا آپ کے لئے اطلاعا عرض ہے کہ چھری کے نیچے سانس آتی نہیں ہے بلکہ آئی ہوئی سانس بھی خشک ہو جاتی ہے ۔!
عاصم نے روحیل کو چڑایا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا جبکہ زینہ صوفے پر براجمان ان دونوں کی نوک جھونک پر محفوظ ہو رہی تھی۔۔
روحیل نے عاصم کے نکلتے ہی دروازہ کنڈی کیا اور پلٹ کر صوفے پر زینہ کے بالکل قریب آن بیٹھا۔۔
اس عاصم بےصبرے نے سارا تسلسل خراب کر دیا ہے۔
اللہ جانے اسے کب عقل آئے گی۔؟؟
روحیل نے تپ کر دل کے پھپھولے نکالے جبکہ زینہ کی ناچاہتے ہوئے بھی ہنسی نکل گئی۔۔
تم ہنس رہی ہو۔؟
جی غلطی سے ہنسی نکل گئی ہے۔! زینہ نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی کو روکنے کی بھرپور کوشش کی۔۔
آپ یہ غمگین چہرہ درست کریں تاکہ میری دوبارہ ہنسی نہ چھوٹے۔۔۔!! زینہ نے صوفے سے اچانک اٹھتے ہوئے بولا۔۔
زینہ تم میرے صبر کو نہ آزماؤ تو بہتر ہے۔!
ہائے میں نے کیا کیا ہے ۔؟؟زینہ نے معصومیت کے ریکارڈ توڑ دیئے۔۔
تمہیں بتاؤں تم کیا کرتی ہو۔؟
ننننننننہیں مجھے نہیں سننا ۔!! آپ جہاں پر تشریف فرما ہیں وہی پر رہیں۔!! زینہ نے دور سے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا۔۔۔
روحیل سر تھام کر بیٹھ گیا۔۔!
اچھا میرا بیگ دو۔! میں آن لائن ہو کر اپنا کام تو شروع کروں ، ابھی صرف پندرہ منٹ باقی ہیں ، روحیل نے کلائی پر بندھی بیش قیمت گھڑی کو دیکھا۔
جی بہتر۔ زینہ نے اپنی جان بخشی پر سکھ کا سانس لیا اور فوراً سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ لیا۔۔
الماری میں پڑا لیپ ٹاپ بیگ نکال کر پلٹی تو روحیل بستر پر براجمان تھا۔۔
آپ یہاں پر بیٹھیں گے؟؟
جی کوئی اعتراض ہے کیا۔؟
ننننننننہیں مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔ زینہ نے روحیل کے بدلتے تیور دیکھ کر تھوک نگلا۔۔
لگتا ہے میں نے ہنس کر انہیں غصہ دلا دیا ہے ، بہتر ہے فوراً معافی مانگ لوں۔
روحیل ۔!
جی فرماؤ۔! روحیل لیپ ٹاپ کھول کر پھرتی سے ٹائپنگ شروع کر چکا تھا۔۔
ہائے غصے میں ہیں۔۔۔زینہ کی رہی سہی ہمت بھی جواب دینے لگی۔۔۔
روحیل۔!! بستر کی پائنتی پر ٹکی زینہ نے ڈرتے ڈرتے دھیمے لہجے میں دوبارہ پکارا۔۔
جواب کے بجائے روحیل نے کڑی نظروں سے زینہ کو دیکھا۔۔
وہ آپ میرے سے ناراض ہیں کیا .؟؟؟
زینہ بہتر ہے مجھے تنگ نہ کرو اور خاموشی سے اپنی جگہ پر جاکر سو جاؤ۔! میرا کام جلدی نپٹ گیا تو رات کے دو بھی بج سکتے ہیں ورنہ فجر کے بعد چند گھنٹے سونے کو ملیں گے۔۔
ٹھیک ہے میں سو جاتی ہوں مگر آپ مجھ سے خفا نہ ہوں پلیز۔! زینہ کی نشیلی آنکھیں چھلکنے لگیں تو فوراً گال رگڑ ڈالے۔
روحیل نے خشمگیں نظروں سے گھورا مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر لیپ ٹاپ بستر سے ملحق دراز پر رکھا اور پائنتی پر ٹکی زینہ کو اپنے حصار میں لے لیا۔۔
میرے صبر کا امتحان کیوں لیتی ہو۔؟؟ اب یہ رونا دھونا بند کرو۔! نجانے تمہاری آنکھوں میں پانی کا کتنا بڑا ذخیرہ نصب ہے جو روزانہ جھرنے بہاتا ہے ۔
روحیل کے ساتھ لپٹی زینہ نے یکدم روحیل کو پیچھے دھکیلا اور گویا ہوئی۔
آپ نے مجھے کچھ دیر قبل صرف “جی” سے مخاطب کیا تھا ؟؟
تو ۔؟؟ روحیل نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔۔
آپ مجھے جان روحیل کہہ کر پکارتے تھے مگر ابھی ایسا نہیں کیا۔!
میں آپ سے ناراض ہوں۔!
روحیل ہونک بنا زینہ کی شکوہ کنائی پر مسکرا کر رہ گیا۔۔
تمہیں میرے جان نہ پکارنے پر کس قدر اذیت پہنچی ہے اور جو مجھے اذیت سے دوچار کیا ہوا ہے، اس کا تو تمہیں رتی برابر ملال نہیں ہے۔۔؟
“یعنی چور الٹا کوتوال کو ڈانٹے۔!”
خیر ابھی خاموشی سے اپنے کونے کی طرف چلی جاؤ اس سے پہلے میرے ارادے بدل جائیں۔!
نہیں جاؤں گی جب تک جان روحیل نہیں بولیں گے۔! زینہ نے منہ بسور کر بولا تو روحیل کا فلک گیر قہقہہ بلند ہو گیا۔۔”میری بلی مجھی کو میاؤں.!”
ایک تو تمہاری شکل اس قدر معصوم ہے اور اوپر سے جو تمہارے جان لیوا مطالبات ہیں ۔!!
جان روحیل محترمہ بیوی صاحبہ ، محبوبہ صاحبہ ، خشک مزاج صاحبہ اور میرے ارمانوں کی قاتل ہٹلر صاحبہ ابھی اچھے بچوں کی طرح سو جاؤ اور مجھے میرا کام کرنے دو۔!
ورنہ۔!!!
کوئی ورنہ شرنہ نہیں ہے۔میں سونے جا رہی ہوں۔! زینہ پھدک کر بستر کی پائنتی سے اٹھی۔۔
اچھا جان روحیل کمرے کی بڑی بتی بند کرو ، میں اس طرف سے یہ چھوٹا لیمپ جلا لیتا ہوں۔!
جی بہتر ۔!!
اور ہاں تمہاری تحریر کل دوران سفر تمہاری زبانی سنوں گا۔! کوئی بہانا نہیں چلے گا وگرنہ سزا ملے گی۔!
جی جناب جو حکم ۔! کنیز حاضر ہو گی ان شاءاللہ۔!!
ہا ہا ہا روحیل نے ہنستے ہوئے سر اونچا کر کے بستر کی بیک سے ٹکا کر لیپ ٹاپ اپنی گود میں رکھ لیا اور برق رفتاری سے ٹائپنگ میں مصروف ہو گیا جبکہ زینہ خاموشی سے بستر کے ایک کونے میں لیٹ گئی اور اذکار مسنونہ سے فراغت کے بعد کروٹ بدل کر دل کے مکین کو کام میں مشغول پاکر اس کا بغور جائزہ لینے لگی۔۔
کس قدر باکا سجیلا سا ہے ، چہرے کے نقوش سے لے کر دودھیا رنگت کے ساتھ گھنی کالی سیاہ داڑھی اس شخص کی شخصیت کو کس قدر رعب دار بناتی ہے۔مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔ شب باشی کے سادہ سے جوڑے میں بھی اس شخص کی شخصیت کتنی نکھری نکھری لگ رہی ہے۔۔ماشاءاللہ۔
روحیل مجھے تھوڑا سا وقت اور دے دیں۔زینہ اپنے خیالوں میں گم خودکلامی کرتی ، ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔
روحیل کو نظروں کی تپش کا احساس ہوا تو فوراً اپنی بائیں جانب لیٹی دشمن جاں کو دیکھا ۔
روحیل کے دیکھتے ہی زینہ نے اپنی چوری پکڑے جانے پر فوراً آنکھیں سختی سے بند کر لیں۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *