Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21

روحیل صاحب آپکی بیگم تیار ہیں اگر آپ انکو دیکھ کر مزید رد و بدل کروانا چاہتے ہیں تو ہمیں بتا دیں ورنہ آپکی بیگم حجاب و نقاب پہننے پر مصر ہیں۔۔ بیوٹیشن نے انتظار گاہ میں بیٹھے روحیل کو آگاہ کیا۔۔۔
جی ٹھیک ہے وہ پہننا چاہتی ہے تو پہننے دیں ،مجھے بالکل بھی اعتراض نہیں ہے۔! یہ سب سن کر روحیل کا دل خوشی سے پھولا نہ سمایا۔۔
سر ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہے مگر سارا ہیئر سٹائل خراب ہو جائے گا۔۔ انکے بال بہت ملائم اور ریشمی ہیں ،ہم نے بہت محنت سے انہیں ہیئر سپرے اور جیل سے قابو کیا ہے ۔۔۔ اور سر آپ نے ہزاروں روپے خرچ کر کے بال اور میک اپ کروایا ہے لیکن سر پر حجاب اوڑھنے سے بالوں کا سٹائل خراب ہو جائے گا۔۔ بیوٹیشن اپنے پالر کی ساکھ بچانے کےلئے سر دھڑ کی کوشش کر رہی تھی۔۔
روحیل کی مسکراہٹ ہنوز برقرار تھی۔۔۔
کوئی بات نہیں آپ مجھے میری بیوی سے ملوا دیں پلیز۔۔۔ایک کونے والے مخصوص کمرے میں زینہ تنہا بیٹھی اپنے جلوے بکھیر رہی تھی۔۔۔
سر پلیز آپ اندر تشریف لے جائیں۔! بیوٹیشن روحیل کو دروازے پر چھوڑ کر خود ملحقہ کمرے میں غائب ہو گئی۔۔۔
روحیل نے کمرے میں پہنچ کر عقب سے گلا کھنکارا ۔۔
زینہ چونک کر فوراً کھڑی ہو گئی۔۔۔
ماشاءاللہ۔!!!! یہ میری زینہ ہے یا آسمان سے اتری حور ہے ۔؟؟ روحیل کے والہانہ استقبال پر زینہ جھینپ گئی۔۔
ارے بیوی صاحبہ مکھڑا اوپر اٹھاؤ۔!!
آج تو پھپھو نے دل ہار بیٹھنا ہے اور پھپھو کے بھتیجے کے حال دل کا پوچھو ہی نا۔۔!!
اور اگر میں انہیں پسند نہ آئی تو.؟؟ یا جب وہ مجھے میک اپ کے بغیر دیکھیں گی تو پھر کیا ہوگا۔؟؟ زینہ فکرمندی سے فوراً پوچھ بیٹھی۔۔ زینہ روحیل کے خوف سے بمشکل آنسوؤں پر بند باندھے ہوئے کھڑی تھی۔۔
تم اس بات کی فکر نہ کرو بس ذرا مجھے گھوم کر دکھاؤ۔!!
جی ۔؟؟
ہاں بھئی میں ذرا دیکھوں کہ گلے پر جو کام ہوا ہے وہ کیسا سج رہا ہے۔! روحیل کسی ماہر ڈیزائنر کی طرح معائنہ کر رہا تھا۔۔
زینہ کے سیاہ لمبے لباس کے گلے میں جڑے جھلملاتے رنگ برنگی موتی ستاروں کے ساتھ چھوٹے ٹسل (لٹکن)، چست لمبی آستیوں پر سفید ریشمی دھاگے سے نفیس کڑھائی کے ساتھ موتیوں کی چھوٹی چھوٹی لٹکنیں اس سیاہ “کچے ریشم” کے نفیس لباس کی اٹھان بڑھا رہے تھے ، گھیرے پر موتیوں کا ہم رنگ عنابی فیتہ اور جالی دار جھالر اس فراک کو چار چاند لگانے لگی۔۔
دبلی پتلی سی زینہ پر ماہرانہ ہاتھوں سے پارٹی میک اپ بہت جچ رہا تھا۔ آنکھوں میں گہری سیاہ کاجل کی دھار، گھنی پلکوں پر مسکارے کی بھرمار آنکھوں کے سموکی میک اپ میں زینہ کی آنکھیں روحیل کے دل پر تیر برسانے لگیں۔۔
ریشمی سیاہ لمبے ملائم بال لمبے (کرل) بلوں کی شکل اختیار کر کے شانوں پر پھیلے ہوئے تھے۔۔
روحیل کے طویل معائنہ کے بعد زینہ نے سکھ کا سانس لیا۔۔
زینہ تمہیں پتا ہے تم کتنی خوبصورت لگ رہی ہو۔؟؟
یہ تو آپ کو پتا ہو گا ۔! زینہ نے شرما کر چہرہ جھکا لیا۔۔
تم میری بےحد پیاری بیوی ہو اور بہت بہت بہت بہت بہت خوب صورت لگ رہی ہو ماشاءاللہ ۔روحیل کی جذبے لٹاتی آنکھیں زینہ کی دھڑکنیں اتھل پتھل کرنے لگیں۔۔۔ اب بس بھی کر دیں مجھے شرم آ رہی ہے۔ خجل ہوتی زینہ نے چہرہ جھکا لیا۔۔۔
روحیل فوراً خود پر قابو پاتے ہوئے گویا ہوا اب جلدی سے حجاب لے لو ، عاصم کئی مرتبہ پوچھ چکا ہے۔، ہمیں پھپھو کے گھر پہنچنے سے قبل پہنچنا ہے۔ !!
جی بہتر۔! زینہ سرعت سے اپنا شرعی لباس اوڑھنے لگی۔۔
جبکہ روحیل اسکے ہر روپ سے متاثر تھا۔۔ بیوٹیشن کو لمبے نوٹوں کی گڈی پکڑا کر دونوں گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
ابھی گاڑی کے قریب ہی پہنچے ہوں گے تو کسی نے بےباکی سے روحیل کو عقب سے جکڑ لیا۔۔۔
روحیل بےوفا انسان اتنے طویل عرصے سے کہاں پر غائب ہو ۔؟؟ تمہارے ہر نمبر پر کال ملائی ہے مگر تم نے مجھے بلاک کیوں کر رکھا ہے۔؟؟ لپٹنے والی ہستی تو اگلے پچھلے حساب برابر کرنے پر تلی ہوئی تھی۔۔۔
چست جینز اور چھوٹی تنگ قمیض میں ملبوس لڑکی بیتابی سے روحیل کے ساتھ چپکی چلی جا رہی تھی۔۔۔ زینہ کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہونے لگا ۔۔ جس کا ڈر تھا یہ شخص وہی نکلا ہے ۔۔۔ گلا مکمل طور پر خشک ہو گیا۔۔
گوفی کیا کر رہی ہو ۔؟؟ چھوڑو مجھے پلیز۔!! روحیل نے ڈپٹ کر ساتھ میں لپٹی واہیات لڑکی کو ہٹانا چاہا ۔۔
ارے واہ۔!! تم تو آنکھیں پھیرنے لگے ، یاد نہیں جب کلب میں بیٹھ کر وعدے اور وہ جو قسمیں مجھے دیں تھیں وہ کہاں گئیں۔؟؟؟ وہ ہماری حسین شامیں سب بھول گئے ہو کیا۔؟؟ بےباک لڑکی بار بار روحیل سے چپکنے کے بہانے ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔
جیسے ہی نظر حجاب میں چھپی پاکیزہ ہستی پر پڑی تو روحیل کو حیرت سے دیکھا۔۔
یہ کون ہے ؟؟ اور اسکا تمہارے ساتھ کیا میچ ہے ۔۔؟؟ تم کب سے مولوی بن گئے ہو۔۔ ؟؟ کلب کا بہترین فلور ڈانسر اور اس برقعہ پوش لڑکی کے ہمراہ ۔؟؟۔ آفرین ہے روحیل ارشاد ۔!!!
روحیل کے جواب سے قبل ہی گوفی نے طعنوں کے نشتر چلانے شروع کر دیئے۔۔
گوفی۔!! گوفی ۔!! گوفی۔!!! اپنی زبان کو لگام دو ۔!! بیوی ہے یہ میری۔!
اور آئندہ میرے راستے میں آنے کی کوشش نہ کرنا۔! روحیل نے دانت پیس کر غضب ناک لہجے میں بولا۔۔
ہونہہ میرے راستے میں نہ آنا ۔ وہ وقت بھول گئے ہو جب تمہاری راتیں میرے ہاں کٹتی تھیں۔۔ تمہیں میرے حسن کے علاوہ کوئی اور حسین دکھتا نہ تھا۔۔۔ میری زلفوں کا جادو تمہارے سر چڑھ کر بولتا تھا۔۔ کیا وہ سب جھوٹ تھا ؟ دھوکہ تھا۔۔؟؟
ہاں وہ سب جھوٹ تھا اور دھوکہ تھا۔؟
ناچاہتے ہوئے بھی روحیل کی آواز اونچی ہونے لگی۔۔
آس پاس سے گزرتے چند لوگوں نے کھڑا ہونا شروع کر دیا۔۔۔
زینہ تم گاڑی میں بیٹھو۔ روحیل نے نرم لہجے میں زینہ کو حکم صادر کیا اور سامنے والی نشست کا دروازہ وا کر دیا ۔۔ اے لڑکی رکو۔!!
یہ شخص جس کے ساتھ تم شادی رچا چکی ہو نجانے کتنی لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکا ہے۔ اب یہ تم پر ہے کہ استعمال شدہ شخص کے ساتھ رہنا چاہتی ہو یا پھر جیسی خود ہو ویسا ہی تمہارا معیار ہے ۔۔۔
تھر تھر کانپتی زینہ بنا جواب دیئے گاڑی کی سیٹ پر نڈھال ہو کر گر پڑی۔۔
دل میں پیدا ہونے والے تمام خوبصورت جذبات دم توڑنے لگے۔۔۔
نشیلی آنکھیں بنا روک ٹوک نقاب کو تر کرنے لگیں۔۔۔ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے منہ کے بل زور سے دھکا دے کر گرایا ہے۔۔
آج شادی سے قبل والے خدشات کی تصدیق ہو گئی۔۔۔
نشست پر براجمان زینہ اپنے نصیب کے لکھے پر اشکبار تھی ، چند لمحوں کی خوشی گوفی کے مغلظات نے ہوا کر دی۔۔
بےکل دل عداوت کے نرغے میں پھڑپھڑانے لگا، جی چاہا روحیل سے کوسوں دور بھاگ جائے۔
لڑکیوں کو چھیڑنا تو جرم تھا ہی مگر جنسی تعلقات استوار کر لینا ، سوچ سوچ کر زینہ کو اپنا آپ کمتر اور روحیل سے کراہت محسوس ہونے لگی۔۔
گاڑی کے بند دروازے سے روحیل اور گوفی کے درمیان مکالمہ آرائی اپنے عروج پر تھی مگر زینہ کا مان تو ٹوٹ گیا ۔۔۔ چند لمحوں کی خوشی خاک آلود ہو گئی۔۔۔
دہائی دیتا دل شدید کرب و الم کی کیفیات میں ڈوبنے لگا۔۔
جی چاہا گاڑی کا دروازہ کھول کر بھاگ جائے ، روحیل سے اتنی دور چلی جائے کہ اس شخص کی آواز بھی کانوں میں سنائی نہ دے۔۔۔
دل و دماغ میں جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا۔۔۔
دل اپنی ناقدری پر شکوہ کناں اور دماغ حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری۔۔
زینہ شاید اب وقت آ چکا ہے کہ آنکھوں دیکھی مکھی نگل لے یا پھر خود غلاظت کا ڈھیر بن جا۔
زخمی دل دائیں ہاتھ پر کھڑے روحیل کو دیکھنے لگا۔۔ کاش یہ شخص اپنے ظاہر کی طرح باطن سے بھی اتنا ہی خوبصورت ہوتا ۔۔۔
میرے اللہ مجھے صبر دے ،میرے معاملات کو آسان بنا آمین ثم آمین۔۔۔
زینہ کے منہ سے سسکی نکلی۔۔۔
ناتواں جسم حالات کے نرغے میں آ چکا تھا۔۔ شر کے تھپیڑے زینہ کی پارسائی پر کاری وار کرنے لگے۔۔
شکست خوردہ دل ذکر الہٰی کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔
💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮
📌مصیبت اور پریشانی کے وقت کی دعائیں
اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھنے کی تلقین کی :
💖 “ﷲُ رَبِّیْ لَا أُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا”
’’اللہ ہی میرا رب ہے ، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا۔‘‘
[ابو داؤد: 1525، وصححہ الالبانی فی صحیح سنن ابی داؤد ج 1 ص 284 ]
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے :
💖“لَا إلٰہَ إلَّا اﷲُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ،لَا إلٰہَ إلَّا اﷲُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ،لَا إلٰہَ إلَّا اﷲُ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ َورَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ
[بخاری : الدعوات ،باب الدعاء عند الکرب ، الفتح ج 11، ص 123 ، مسلم : 2730]
’’اللہ کے سوا کوئی معبود ِ برحق نہیں ، وہ عظمت والا ا وربرد بار ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود ِ برحق نہیں، وہ عرشِ عظیم کا رب ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود ِ برحق نہیں، وہ آسمانوں کا رب اور زمین کا رب اور عرشِ عظیم کا رب ہے۔‘‘
علی رضی اللہ تعالی عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھنے کی تلقین کی :
💖لَا إلٰہَ إلَّا اﷲُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ ، سُبْحَانَ اﷲِ وَتَبَارَکَ اﷲُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ، وَالْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ”
’’اللہ کے سوا کوئی معبود ِ برحق نہیں ، وہ برد بار اور کریم ہے ، اللہ پاک ہے ، اور با برکت ہے وہ اللہ جو کہ عرشِ عظیم کا رب ہے ، اور تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘
[ مسنداحمدج 1 ص 91 وصححہ الشیخ احمد شاکر ج 2 ص 87 ]
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پریشان حال کو یہ دعا پڑھنی چاہیے :
💖اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ فَلََا تَکِلْنِیْ إلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ ، وَأَصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ کُلَّہُ
[ ابو داؤد : 5090 ، وحسنہ الالبانی فی صحیح الکلم الطیب : 121]
’’اے اللہ ! میں تیری رحمت کا امید وار ہوں، لہذا تو مجھے پل بھر کیلئے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرا ہر ہر کام میرے لئے ٹھیک کردے۔‘‘
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے :
💖“یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیْثُ [ترمذی : 3526]
’’اے زندہ ! اے قیوم ! میں تیری رحمت کے ساتھ مدد کا طلبگار ہوں۔‘‘
دعائے یونس علیہ السلام:
💖﴿لَا إلٰہَ إلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ﴾
’’تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ، تو پاک ہے ، بے شک میں ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘
💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮
زینہ سیلاب زدہ آنکھیں لیے باطنی محاذ پر تن تنہا لڑ رہی تھی کہ روحیل ڈرائیونگ نشست پر آن بیٹھا۔۔
شکستگی اسکے چہرے پر عیاں تھی، چہرے کی اڑی رنگت اسکے دل کا حال سنا رہی تھی۔۔
چند لمحوں کے لئے سر سٹیرنگ ویل پر ٹکا دیا۔پھر کچھ ہمت جمع کرکے ساتھ بیٹھی پارسا ہستی کو پکارنے لگا۔۔۔
زینہ۔!!! میری طرف دیکھو پلیز۔ ملتجی دھیما لہجہ ۔۔۔ سوگوار آنکھیں۔ دس منٹ قبل ہشاش بشاش دکھنے والا جوان اب ایک تھکن زدہ مسافر کا روپ دھار چکا تھا۔۔یکدم آنکھوں کی چمک غائب ہو گئی، شدت کرب نے آنکھیں لال انگارا بنا دیں، زینہ کا ساتھ پانے کی خوشی چند لمحوں میں ہوا ہو گئی۔۔۔
زینہ۔!!! ایک مرتبہ میری طرف دیکھ لو پلیز ورنہ میں گاڑی نہیں چلا پاؤں گا ۔۔۔
زینہ روٹھنا تمہارا حق ہے ، میں یہ حق تمہیں خود دے رہا ہوں مگر صرف ایک مرتبہ میری طرف دیکھ تو لو، مجھے یہ احساس ہو جائے کہ میری بیوی نے میری سیاہ کاریوں کی پردہ پوشی کی ہے۔۔۔
زینہ گوفی نے جو بھی بولا ہے، میں وہ سب ترک کر چکا ہوں ، سچی توبہ کر چکا ہوں۔۔!!
زینہ ہنوز ساکت بیٹھی سیلابی ریلوں کے ساتھ نبردآزما ہو رہی تھی۔۔
زینہ سو قتل کرنے والے کو وہ غفور الرحیم معاف کر سکتا ہے تو میں بھی تو اسی خالق کی مخلوق ہوں، وہ مجھے بھی معاف کر دے گا ان شاءاللہ۔۔
روحیل کا دھیما اور مجبور لہجہ زینہ کی سماعتوں کو گھائل کرنے لگا۔۔۔
زینہ تم نے سنا نہیں تھا وہ کہہ رہی تھی کہ میں نے اسے تمام نمبروں سے بلاک کر دیا ہے۔۔۔؟
روحیل کا ٹوٹا لہجہ زینہ کے ساتھ کا شدید طالب تھا مگر شاید زینہ کے زخمی دل اور چھلنی روح کا مداوا فی الوقت ممکن نہ تھا۔۔
زینہ جب تک تم میری طرف نہیں دیکھو گی میں گاڑی نہیں چلاؤں گا۔۔! ناچاہتے ہوئے بھی روحیل ایک اور مجبور سی دھمکی دے گیا۔۔
دیکھو ابھی بھی عاصم کی کال آ رہی ہے۔
زینہ پلیز میری طرف دیکھو ۔!
زینہ کی دبی سسکی روحیل کی جان مٹھی میں کر گئی۔۔ سسکتے ہوئے زینہ نے ڈرائیونگ نشست پر براجمان روحیل کو شکست خوردہ نظروں سے دیکھا۔۔۔ ڈھکے چہرے سے جھلکتے دو نشیلے نین اذیت بھری داستانیں سنا رہے تھے۔۔۔
زینہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجھے اس کائنات میں صرف تم سے محبت ہے۔ دنیا کی کوئی عورت تمہاری جگہ نہیں لے پائے گی۔۔!
تمہیں میں نے بولا تھا کہ جب تم رخصت ہو کر میرے کمرے میں آؤ گی تو میں تمہیں تمام حقائق سے آگاہ کروں گا مگر آج میری سیاہ کاری کا پہلا باب شگفتہ عرف گوفی نے دھڑلے سے کھول دیا ہے ۔۔
میں مانتا ہوں میرا غلیظ ترین ماضی تھا، میں نے ہر وہ کام کیا ہے جس سے اللہ کی پکڑ آئے۔۔
زینہ اس وقت تو میری رسی دراز تھی ، مگر اب میری رسی کھینچ لی گئی ہے ، میری پکڑ کا وقت آ چکا ہے ۔ میری آزمائش شروع ہو چکی ہے۔۔ میرے سے وعدہ کرو مجھے چھوڑو گی نہیں پلیز۔۔
اشک بہاتی زینہ سسکیوں سے ہچکیوں تک پہنچ آئی جبکہ روحیل اس پارسا ہستی کے ساتھ کا بھکاری بنا جواب کا منتظر تھا۔۔
زینہ میری طرف دیکھو۔۔!!
زینہ نے پلٹ کر دیکھا ۔
کچھ تو بولو زینہ ۔!
مجھے برا بھلا ہی بول دو ، مجھے علم ہے میں برا تھا، میں نے برائیاں کی ہیں مگر مجھے زینہ حیات کا ساتھ چاہیئے ہے۔۔۔ وجیہہ خوبرو روحیل آج ٹوٹ کر بکھر چکا تھا۔۔
گاڑی میں مکمل سکوت چھا گیا۔۔۔ زینہ کی شکوہ کناں ہچکیاں روحیل کا دل چھلنی کرنے کے لیے کافی تھیں۔۔۔
زینہ مجھے اپنا ہاتھ دو ۔!!!
زینہ نے بنا دیکھے اپنا دایاں ہاتھ روحیل کی طرف بڑھا دیا۔۔
روحیل کو کچھ حوصلہ ہوا ، دل میں اطمینان اتر آیا۔۔۔
روحیل ہاتھ تھام کر گویا ہوا ۔ زینہ مجھے پتا تھا تمہارا ظرف بہت بڑا ہے شاید کہ میری سوچ سے بھی زیادہ۔۔!
زینہ مجھے تمہاری آواز سننی ہے ۔ ایک لفظ ہی بول دو پلیز۔! روحیل نے نرمی سے زینہ کا ہاتھ دبایا۔۔
ہمیں دیر ہو رہی ہے گھر بھی پہنچنا ہے یار۔ زینہ پھپھو کے سامنے کچھ ظاہر نہ کرنا پلیز۔! اگر ڈیڈ کو بھنک بھی پڑ گئی تو میری چمڑی ادھیڑ دیں گے۔ زینہ تم نے جو بولنا ہے مجھے ادھر ہی بول دو ۔! اپنے دل کی بھڑاس یہیں پر نکال دو ۔! میں چاہتا ہوں تم گھر پر ہنستی مسکراتی ہوئی داخل ہو۔!
پلیز زینہ۔!! میری اچھی والی بیوی ہونا تو پلیز بولو۔۔! روحیل کا ملتجی لب و لہجہ اور اسکے احسانوں تلے دبی زینہ بھرائی ہوئی آواز میں گویا ہوئی۔۔
“میں محلوں کی خواہش مند کبھی بھی نہ تھی۔! میں تو کردار اور اخلاق کی متمنی تھی، مجھے آپ نے گھاٹی سے دھکا دے کر ایک تاریک غار میں چن دیا ہے ۔۔۔ غار بھی ایسا ہے کہ اگر نکلنا بھی چاہوں گی تو آپ کی عیاشی کی پستیاں مجھے ڈس لیں گی ۔۔۔
کاش۔!!! میرے بدگمان دل میں آپ کے لئے کوئی گنجائش نکل آئے مگر میں اپنی چھلنی روح کی کرچیاں سمیٹ نہیں پاؤں گی”۔۔
روحیل آپ نے مجھے بہت دکھ دیا ہے۔!
میرا جی چاہ رہا ہے میں آپ سے دور بہت دور چلی جاؤں۔!! ہچکیوں میں بولتی زینہ کی ہمت جواب دینے لگی۔۔نڈھال ہو کر نشست کی پشت سے سر ٹکا لیا۔۔۔
زینہ مجھ سے کبھی بھی دور جانے کا سوچنا بھی مت۔!!
زینہ میں تمہارے بنا نہیں رہ پاؤں گا۔۔
ابھی صرف میرے تمہارے رشتے کی بات چل رہی تھی تو مجھے ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے تم میرے آس پاس ہو ، میرے ساتھ ہمکلام ہو۔ !
زینہ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا ہوں۔!
زینہ تم میرے دل کی ملکہ ہو ۔!
تم میری روح کا قرار ہو۔!
تم میری آنکھوں کی پارسا بینائی ہو زینہ۔!!!
میں تمہیں کبھی بھی نہیں چھوڑ سکتا ہوں۔زینہ کا ہاتھ تھامے روحیل اپنے جذبات و احساسات سے زینہ کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا جبکہ ڈیش بورڈ پر پڑا فون بار بار چلاتا۔۔۔
آپ فون اٹھائیں۔!! ویر کی کال ہے ۔! زینہ نے سوگوار لہجے میں بول کر اپنا ہاتھ آزاد کروانا چاہا جسے روحیل نے دوبارہ مضبوطی سے جکڑ لیا۔۔
بائیں ہاتھ سے فون سپیکر پر لگا دیا۔۔۔
کال اٹھاتے ہی عاصم لتے لینے لگا ۔ یار بھیا ۔!
آپ لوگ میک اپ کروانے گئے ہو یا مویشی منڈی۔؟؟
حد ہوتی ہے یار ۔! ڈیڈ اور پھپھو آدھے گھنٹے سے آئے بیٹھے ہیں اور آپ دونوں کا بار بار پوچھ رہے ہیں اوپر سے میرا فون بھی نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔۔۔ ڈیڈ نے بارہا کال کی ہے مگر آپ بیوی کے غلام بن چکے ہیں۔۔۔ دیکھنا گھر آتے ساتھ پھپھو نے آپ کی کٹ لگانی ہے۔۔
چھوٹے بولنے کا موقع دوگے تو بولوں گا یار۔
جی جی دلہا صاحب فرمائیے۔
اور میری بہن کب سے خراب ہو چکی ہے۔؟ اتنے نخرے ۔!! توبہ اب تو میرا فون بھی نہیں اٹھاتی ہے۔۔۔
یار تم زینہ کو کچھ نہیں بولو۔!!
ہائے ماں صدقے جائے بڑے بھائی کی زن مریدی پر۔!! ۔
ابھی نکاح کو اڑتالیس گھنٹے بھی نہیں گزرے اور موصوف کا یہ حال ہے ، اللہ جانے جب گزر جائیں گے تو پھر بیگم کے قدموں میں ہی پائے جائیں گے۔۔!
عاصم تم بہت فضول بولتے ہو یار۔ روحیل پھیکا ہنسا۔۔۔
بھیا جی یہ تو آپ گھر تشریف لائیں گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ میں زیادہ بولتا ہوں یا پھر پھپھو ۔!!
بہرحال پیشگی چھترول مبارک ہو۔! میرا کام تھا مطلع کرنا جو میں کر چکا ہوں باقی آپ جانو اور آپکی چہیتی بیگم ، مجھ کنوارے کے زخمی دل کو کوئی نہ چھیڑے۔۔۔!!
عاصم کی دہائی سے روحیل کا قہقہہ بلند ہوا جبکہ زینہ کا دماغ مسلسل “استعمال شدہ” کی گردان کر رہا تھا۔۔۔
چل بچے تیرا بھی کوئی بندوبست کرواتا ہوں ۔ ! فون بند کر میں گاڑی چلانے لگا ہوں۔۔
روحیل نے فون بند کر کے جیب میں ڈالا اور یکدم زینہ کے ہاتھ کو لبوں سے لگا لیا۔۔۔
زینہ کو جھٹکا لگا۔۔
یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟؟
اپنی پارسا بیوی کو اسکی پارسائی کا انعام دے رہا ہوں جو اس سے بھی زیادہ کی حقدار ہے۔!!!
کوئی دیکھ لے گا ۔میرا ہاتھ چھوڑیں۔!!! زینہ نے اپنے دفاع میں ہاتھ چھڑانا چاہا۔۔۔
زینہ اگر یوں ضد سے ہاتھ چھڑاؤ گی تو میں کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا۔ اور ویسے بھی ابھی مغرب طلوع ہونے والی ہے اور اس ویران کار پارک میں ہمیں دیکھنے کے لیے کوئی نہیں فارغ بیٹھا ہوا۔۔
پیار سے بولو گی تو ہاتھ چھوٹے گا ورنہ میں ساری رات ادھر ہی بتا دوں گا۔!!!
یا اللہ۔ یہ شخص تو پاگل ہے ، دیوانہ ہے۔
آپ بس میرا ہاتھ چھوڑیں۔! زینہ کا روٹھا لہجہ روحیل کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔
نہیں چھوڑوں گا۔!
کر لو جو کرنا ہے۔!!
دیکھیں ہمیں مغرب سے قبل گھر پہنچنا ہے۔
تو کیا ہوا ۔؟ پانچ منٹ کی ڈرائیو ہے ۔
ٹھیک ہے پھر میں نے گھر جاکر سب سے پہلے میک اپ کو وضو کی نظر کرنا ہے پھر آپ کی پھپھو سے ملوں گی۔۔!
ہاہاہاہا ہاہاہاہا میری بلی مجھے ہی میاؤں۔۔ مجھے دھمکی دی جا رہی ہے۔۔ روحیل نے معنی خیز نظروں سے زینہ کی طرف دیکھا۔۔
آپ سے ہی سیکھا ہے۔! زینہ ہنوز روٹھی ہوئی تھی۔۔۔
زینہ تم بہت خوبصورت دل رکھتی ہو۔! تمہارا ایسے دھمکی دینا اچھا لگا ہے۔۔
ایسے ہی کیا کرو۔!
مجھے اچھا لگے گا، تمہارا یوں حق جتانا، نخرے دکھانا۔
میں نخرے نہیں دکھاتی۔!!!
آپ عشق فرمانے کے بجائے گاڑی چلائیں پلیز۔
روحیل کا جاندار قہقہہ بلند ہوا۔ گوفی کا پھیلایا ہوا گند زینہ کی حکمت اور اعلیٰ ظرفی نے وقتی طور پر زائل کر دیا*
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *