Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19
میری ہمراہی میں چائے یا پھر کوفی۔!!!
چلو باورچی خانے میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر پلاتا ہوں۔۔!
زینہ خاموشی سے روحیل کے ہمراہ کھچی چلی جا رہی تھی۔۔۔
باورچی خانے میں پہنچ کر درازوں کے کھنگالنے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ روحیل نے کبھی باورچی خانے کے اندر جھانک کر بھی نہیں دیکھا مگر آج زینہ کو اپنے ساتھ بٹھانے کی خاطر ہاتھ پاؤں مارنے لگا جبکہ زینہ خاموش کھڑی اس کی ساری کاروائی پر پریشان ہو کر رہ گئی۔۔۔
روحیل کا ہاتھ لگنے سے چینی کا شیشے کا ڈبہ گرتے گرتے بچا۔۔۔ پتا نہیں یہ پتی کونسے دراز میں پڑی ہے۔۔۔؟ روحیل پھرتی سے مرتب دروازوں کا بیڑا غرق کرنے لگا ۔۔ اسکی یہ حالت دیکھ کر زینہ کو ہنسی آئی مگر پھر ہنسی کو دباتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔۔
پیچھے ہٹیں.!!! یہ آپ کے بس سے باہر ہے۔۔ اگر کبھی باورچی خانے کی شکل نہیں دیکھی ہے تو ابھی ہیرو بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ آپ کا نکاح بھی ہو چکا ہے اور منکوحہ بھی آپ کے پاس موجود ہے۔۔۔ زینہ نے روحیل کے ہاتھ سے چینی کا ڈبہ لیا اور باقی الٹ پلٹ ڈبوں کو انکی جگہ پر رکھنے لگی۔۔۔
روحیل زینہ کی اس پیش رفت پر دل سے شکر گزار تھا مگر زبان پر نہ لا سکا۔۔۔
مصالحہ جات کے دراز سے فراغت کے بعد پتیلی کی تلاش میں زینہ نے باورچی خانے کے تقریباً تمام دراز کھنگال ڈالے۔۔۔
بالآخر پتیلی کا حصول ممکن ہوا ۔۔۔زینہ اپنے خیالوں میں گم چائے کی تیاری میں اس قدر مگن ہو گئی کہ روحیل کی موجودگی مکمل طور پر نظر انداز کر گئی۔۔۔
روحیل بھی شرافت کا لبادہ اوڑھے اس پاکیزہ نفس کی حرکات و سکنات آنکھوں میں محفوظ کر رہا تھا۔۔
ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ سب خواب ہے۔۔ دل کی کیفیت عجیب سی ہونے لگی۔۔۔
زینہ۔!!
جججججججی۔! زینہ فوراً پلٹی۔۔
زینہ تم ابھی بھی مجھ سے ناراض ہو ۔؟؟
کس بات پر ۔؟؟؟
وہی جو میں نے اور منیب نے راستے میں تمہارے ساتھ کیا تھا۔روحیل نے تھکے رنجیدہ لہجے میں پوچھا۔۔
اس بات کو بھول جائیں وہ بات ہمارا ماضی بن چکی ہے۔۔۔ ! زینہ نے پتیلی میں چائے کو پھینٹتے ہوئے رنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔
تمہیں وہ تمام باتیں ابھی بھی یاد آتی ہیں۔؟؟؟
پوچھیں کب بھولیں ہیں ؟؟؟
اسکا مطلب ہے تم نے مجھے اور منیب کو معاف نہیں کیا ہے۔؟؟؟
معاف تو کر دیا ہے مگر بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جو مندمل ہونے کے باوجود بھی درد رستے ہیں۔۔ ان زخموں کے نشان وقت کی برق رفتاری میں مٹ ضرور جاتے ہیں مگر اپنے حقیقی الم کو برقرار رکھتے ہیں۔۔
زینہ۔!!! میری طرف دیکھو۔!!
زینہ سوگوار شکل لیے پلٹی۔۔۔
اوہ پیچھے چائے دیکھو۔!!
روحیل نے بھاگ کر چولہا بند کیا۔۔۔
شکر ہے نظر پڑ گئی ورنہ تمہاری محنت ضائع چلی جاتی۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔! زینہ کا دھیما لہجہ روحیل کو مزید پوچھ گچھ کرنے کی ہمت بڑھا گیا۔۔
زینہ ہنوز آنکھوں میں اداسی سموئے اس نئے رشتے کو اپنانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔۔۔روحیل میں تقدیر کے لکھے کو قبول کر چکی ہوں۔۔
زینہ تمہیں برا لگا ہے، میرا یوں تمہیں بلانا۔؟؟؟
نہیں۔!!! زینہ مختصر جواب دے کر خاموش ہو گئی۔۔۔
روحیل نے فوراً موضوع بدلتے ہوئے نیا شوشہ چھوڑا۔۔۔
اچھا چائے چائے دانی میں ڈالو ۔!! ہم دونوں اوپر میرے کمرے میں بیٹھ کر پیئیں گے۔۔
کمرے کا نام سن کر زینہ کے پسینے چھوٹے مگر پھر نئی دھمکی سے بچنے کے لیے ہامی بھر لی۔۔
زینہ خاموش بھاری دل کے ساتھ روحیل کے کمرے میں آ گئی مگر گھبراہٹ اپنے عروج پر تھی۔۔
اُدھر بستر پر بیٹھو مجھے تم سے بہت ساری باتیں کرنی ہے۔ روحیل نے کمرے میں پڑی کرسی کھینچی اور زینہ کے سامنے بیٹھ گیا۔۔
دیکھو زینہ۔! میں مانتا ہوں کہ جن حالات میں ہماری ملاقات ہوئی یا پھر ہمارا رشتہ قائم ہوا ہے وہ حالات تمہاری سوچ اور تمہاری منشا کے مطابق قطعاً نہ تھے ۔مگر بقول تمہارے اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لو پلیز۔۔۔
زینہ میں نے ہر مزاج کی لڑکی دیکھی ہے ، مگر ان میں سے اکثریت کو میں نے بہت سستا پایا ہے،چند ٹکوں کی خاطر لڑکیاں مرد کی من چاہی مراد پوری کرنے کے لیے ہر دم تیار ہوتی ہیں ، انہیں صرف بنگلہ کار کوٹھی چاہئے ہے بس ۔۔۔ تم وہ واحد لڑکی ہو جسے میں نے سر راہ بےمول کر دیا تھا ، تمہیں گلی میں پڑے تنکے سے ہلکا سمجھ کر ذلیل کیا مگر اس کے باوجود تم اپنے ایمان ، اپنے تقویٰ سے ایک رتی برابر نہیں ہٹی۔۔۔ تم نے وہ عمل صالح ترک نہیں کیا، تم نے اپنا پردہ اپنا حجاب ترک نہیں کیا ۔۔ پتا ہے تم نے ایسا کیوں نہیں کیا۔؟؟ کیونکہ تم اپنے خالق کے ساتھ مخلص تھی ، تم اس رب کی فرمانبرداری میں اپنی خواہشات نفس کی ماہر قاتلہ تھی۔تم نے اپنے راستے میں آنے والے پتھروں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا ، تم نے اس حادثے کو اپنی منزل کی ایک رکاوٹ سمجھ کر جھٹک ڈالا۔۔ ہماری وہ شیطانی سوچ تمہیں تمہارے مقصد حیات سے ہٹا نہ پائی۔ جو لڑکی اپنے رب کی اتنی فرمانبردار ہے تو وہ یقیناً شوہر کی اطاعت گزار بھی تو ہوگی نا ۔۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“عورت سے شادی چار اشیاء کی وجہ سے کی جاتی ہے، اس کے مال، حسب نسب، حسن، اور دین کیوجہ سے، دین دار کو پا لو تمہارے ہاتھ خاک آلود کر دے گی.” (صحیح بخآری:4802؛صحیح مسلم:1466)
اس حدیث میں کسی بھی حسین ، یا حسب نسب والی یا مالدار خاتون سے نکاح کی ترغیب نہیں ہے۔
بلکہ اس حدیث کا معنی ہےکہ لوگ شادی کیلئے ان چار مقاصد کو سامنے رکھتے ہیں، کچھ تو حُسن تلاش کرتے ہیں، اور کچھ اچھا خاندان، اور کچھ مال کے بھوکے ہوتے ہیں، اور کچھ لوگ دینداری کی وجہ سےشادی کرتےہیں، اسی آخری کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دلائی ہےاور فرمایا: (دین دار کو پا لو تمہارے ہاتھ خاک آلود کر دے گی)
امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں کہا:
“اس حدیث کا صحیح معنی یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے متعلق بتلایا ہے کہ وہ شادی کرتے وقت کیا کرتے ہیں، تو عام طور انہی چار چیزوں کو مدّ نظر رکھا جاتا ہے، چنانچہ لوگوں کے ہاں آخری چیز دینداری ہے، راہنمائی کے طالب! تم دیندار کو ہی پسند کرنا، کہ تمہیں اسی کا حکم دیا جا رہا ہے۔۔۔ یہ حدیث ہر چیز میں دیندار لوگوں کی صحبت پر زور دے رہی ہے، کہ انسان انکی صحبت میں رہ کر انکے اخلاق، حسن معاملہ سے مستفید ہوتا ہےاور اُسے اِن کی طرف سے کسی نقصان کا ڈر نہیں ہوتا۔
زینہ مجھے ایسی ہی لڑکی کی تلاش تھی جو مجھے سیاہ کاریوں سے بچائے گی ، جو میری آنے والی نسل یعنی میری اولاد کی احسن طریقے سے تربیت کرے گی۔۔۔میرے بچوں کی بہت اچھی والی ماں بنو گی نا۔؟؟
میرا مطلب ابھی نہیں ہے بلکہ میں مستقبل قریب کی بات کر رہا ہوں۔۔ روحیل نے فوراً صفائی پیش کی۔۔
روحیل کے تمام فرامین سن کر زینہ کا چہرہ شرم سے لال ہونے لگا ، بےقابو دل روحیل کی باتوں پر احتجاجی مظاہرے کرنے لگا ، دھک دھک کرتا دل فریادی قیدی کی طرح صدائیں لگانے لگا۔ زینہ نے فورا پہلو بدل کر نظریں جھکا لیں۔۔
وہ آپ چائے پیئں ٹھنڈی ہو جائے گی۔۔ مجھے ابھی جانا ہے ۔۔۔
نہیں زینہ۔!!! جب تک میں نہ بولوں تم یہاں سے ہل نہیں سکتی ہو۔۔
سنتے ساتھ زینہ حواس باختہ ہونے لگی۔۔
دیکھیں مجھے جانے دیں ، باقی باتیں ہم کل کر لیں گے۔۔زینہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہو گئی۔۔
تم نہایت بیوقوف پاگل لڑکی ہو اور مجھے مجبور نہ کرو کہ میں تمہیں سمجھانے کے لیے تمہارے ساتھ دوسرا طریقہ کار اپناؤں۔
خوف کے مارے زینہ کو واپس بیٹھنا پڑ گیا۔۔۔
چائے ڈالو۔!! نیا حکم نامہ جاری ہو گیا۔۔
زینہ نے کونے میں پڑے چھوٹے میز پر پیالیوں میں چائے انڈیلنا چاہی مگر ہاتھوں کی لرزش کے باعث چائے انڈیل نہیں پا رہی تھی۔۔۔ کرسی پر بیٹھا روحیل بآسانی زینہ کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ دیکھ رہا تھا۔۔۔
زینہ۔!! مجبوراً روحیل کو پاس جانا پڑا۔۔۔
مجھے دو ۔! تم ادھر جا کر بیٹھو۔!!
جججججججی۔ زینہ نے عرق آلود پیشانی کو دوپٹے سے رگڑا۔۔۔
یہ لو اور آرام سے پیو۔! تمہیں یہاں پر کوئی نہیں کھائے گا۔! چھانگا مانگا جنگل میں نہیں بیٹھی ہو۔!!
روحیل اپنی پیالی تھامے چسکیاں لینے لگا جبکہ زینہ کا جی چاہ رہا تھا کہ ایک ہی سانس میں ساری چائے چڑھائے اور اس کمرے سے بھاگ جائے۔۔۔
چائے سے اجازت مانگ رہی ہو کہ تمہیں پیوں یا نہ پیوں.؟؟ روحیل نے زچ ہو کر پوچھا۔۔
ننننہیں ایسی بات نہیں ہے، گہری سوچوں میں گم زینہ یکدم چونکی۔۔۔
ویسے چائے بہت اچھی بنی ہے۔۔۔!
زینہ روحیل سے نظر نہیں ملا پا رہی تھی۔۔۔ نجانے اس شخص کی نظروں میں کونسی ایسی چیز تھی جسے دیکھتے ہی زینہ کی ہمت جواب دے جاتی۔۔
زینہ کی مضطرب حالت دیکھ کر روحیل نے موضوع بدلا۔۔
میں نے زید کو اپنے پہنچنے کی اطلاع دے دی تھی۔۔۔
زینہ نے ہلکی سی گردن جھٹکی اور چائے کی پیالی کو گھورنے لگی۔۔۔
زینہ ۔!!!! میری طرف دیکھو۔!!
جججی۔! نشیلی آنکھیں اوپر اٹھیں پھر پلکوں کی باڑ میں چھپ گئیں۔
زینہ کل پھپھو بھی آ رہی ہیں، ہو سکتا ہے وہ تمہارے ساتھ کچھ تلخ کلامی کر جائیں تو پلیز انکی باتوں کو دل پر نہ لینا۔۔ وہ دراصل پھپھو چاہتی تھیں کہ میں انکے جیٹھ کی بیٹی سے شادی کروں مگر مجھے اس لڑکی کی بےباکی بالکل بھی پسند نہیں تھی ۔۔ ہمارے گھر آکر بنا اجازت وہ میرے کمرے تک پہنچ آئی تھی۔۔۔
زینہ گردن جھکائے خاموشی سے سن رہی تھی۔۔
تم سن رہی ہو نا۔؟؟
جی میں سن رہی ہوں۔ پھنسی ہوئی آواز برآمد ہوئی۔۔۔
زینہ ہماری پھپھو ہمیں اور ابو کو بہت عزیز ہیں کیونکہ امی کی وفات کے بعد پھپھو نے ہماری دیکھ بھال کی غرض سے پانچ سال تک شادی نہیں کی تھی۔۔ ہمیں سکول سے لانا ، چھوڑنا اور سکول کے سبق کی دہرائی پھپھو کی ذمّہ داری تھی۔۔۔
پرسوں میرے نکاح کی خبر ملتے ہی آج وہ اٹلی سے واپس آ گئیں ہیں۔۔۔
ہو سکتا ہے وہ بہت سارے گلے شکوے بھی کریں مگر تم نے حسن سلوک سے پیش آنا ہے پلیز۔۔۔
بس ایسے سمجھنا جیسے وہ تمہاری ساس ہیں اور تمہیں میری وجہ سے برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔
مجھے پتا ہے یہ سب قربانیاں محبت سے بنے رشتے میں دی جاتی ہیں مگر مجھے پتا ہے تم انسانیت کے رشتے کو ضرور نبھاؤ گی۔۔
مجھے اور کچھ نہیں صرف پھپھو کے ساتھ حسن سلوک کی درخواست کرنا تھی ۔۔۔
بولو میرا ساتھ دو گی نا ۔؟؟؟
جی دوں گی ان شاءاللہ۔!
روحیل نے سینے کا بوجھ ایک لمبی سانس کے ذریعے باہر کھینچ کر نکالا۔۔۔
زینہ بس یہی وجہ تھی جسکی بنا پر تم میرا انتخاب بنی۔۔۔ رشتوں کو نبھانے والی۔۔۔ صرف اپنا نہیں دوسروں کا بھی احساس کرنے والی۔۔
زینہ تمہارا بہت شکریہ۔
اب میں جاؤں۔؟؟ زینہ کا ملتجی لب و لہجہ روحیل کو پگھلا گیا۔۔۔
میرا جی نہیں چاہ رہا مگر وعدے کے مطابق تمہیں جانے کی اجازت دیتا ہوں۔!
بلکہ میں خود چھوڑ کر آؤں گا۔۔۔ ہو سکتا ہے رات کو ایک آدھ بار تمہارے کمرے کا چکر بھی لگاؤں لہٰذا کمرہ کنڈی نہیں کرنا۔!!!!
جی بہتر ۔!!!
*************#Zaynah_Hayyat************
اے شہلا۔!! ہو جاتی ہیں غلطیاں اب تم تو ادھر کی ہو کر بیٹھ گئی ہو۔۔۔
خالہ یہ غلطیاں معمولی نہیں تھی جن کو آپ دبانا چاہتی ہیں۔۔
میرا بچہ فوت ہوگیا اور میرے سسرال کو توفیق تک نہ ہوئی کہ آ کر مجھے یا میری ماں کو دیکھ لیں۔۔۔ خالہ پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا۔۔! آپ لوگ صرف خرچوں سے بچنے کے لیے ہم سے دور بھاگ رہے تھے نا ، اب پتا ہے امی والا کانٹا بھی نکل چکا ہے تو اس لیے آپکو بہو یاد آ گئی ہے۔۔۔
اے زید ۔! تو سمجھا اسے۔!
ذیشان اسے کھو کر پچھتا رہا ہے ۔۔۔
خالہ میری بہن میرے اوپر دو روٹیوں کی وجہ سے بھاری نہیں ہے ، جہاں میں روکھی سوکھی کھاؤں گا وہی پر یہ بھی کھا لے گی۔۔۔ اب یہ آپا کا فیصلہ ہے کہ اس نے ذیشان بھائی کے ساتھ رہنا ہے یا نہیں ، میں آپا کو کسی معاملے میں مجبور نہیں کرو گا کیونکہ آنکھوں دیکھی مکھی کوئی نہیں نگلتا ہے۔۔۔جس شخص کو اپنی اولاد کی پرواہ نہیں ہے اسے بیوی کی پرواہ خاک ہو گی۔۔۔! زید نے بھی اگلی پچھلی کسر نکالی۔۔۔
میری بہن یہاں پر موجود ہوتی تو تم لوگ مجھے باتیں سنانے کی جراءت نہ کرتے مگر میں بیٹے کا گھر اجڑتا ہوا نہیں دیکھ سکتی اسی لیے آ گئی ہوں۔ خالہ نے مگرمچھ کے آنسو بہانا شروع کر دیئے۔۔۔
خالہ اس وقت بہن کی یاد نہ آئی جب وہ کتنے دن زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں۔؟؟ شہلا سے رہا نہ گیا۔۔۔
اے شہلا مجھے تیکھی نہ سنا ۔!! میں آئی تھی مگر مجھے اس تیرے بھائی اور نئے داماد صاحب نے بیرونی دروازے سے نکال باہر کیا تھا۔۔۔ ہائے میں کرموں جلی کیوں بھانجی کی ہمدردی میں آ گئی ورنہ ذیشان کے لیے لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہے ۔ اے ابھی کل کی بات ہے منڈی میں آڑھتی کی بیٹی کا رشتہ آیا پڑا ہے میرے خوبرو ذیشان کے لیے۔۔ابھی اسکی عمر ہی کیا ہے ۔؟ ابھی بھی لڑکیاں فریفتہ ہوئے جاتی ہیں۔۔ شہلا میں تجھے بتا رہی ہوں ۔!!
خالہ نے ہوا میں ایک اور تیر پھینکا۔ ۔۔
ٹھیک ہے خالہ آپ ان لڑکیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔۔ جب تک ذیشان خود آ کر اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرے گا ،میں اپنے اس مفلس بھائی کے گھر پر ہوں ۔۔۔ روکھی سوکھی کھا لیتی ہوں مگر آئے روز کے کوسنے سننے کو نہیں ملتے ہیں۔۔۔
اے شہلا سیدھی بول کہ تو زینہ کے سسرالیوں کو دیکھ کر ذیشان سے آنکھیں پھیرتی جا رہی ہے۔!
خالہ آپ کی سوچ کو میں ہزار دلائل دے کر بھی نہیں بدل سکتی ہوں۔ آپ کی مرضی جو جی میں آئے سمجھیں۔۔
شہلا تو اس دن کو سوچ کر پچھتائے گی ۔! ہیرا کھو دے گی ہیرا۔!!!
میں چلتی ہوں تم اپنی اکڑ میں بیٹھی رہو۔۔اپنے سگوں کے خون سفید ہوتے جارہے ہیں۔ رشتہ داروں کے ساتھ تو نیکی کرنی ہی نہیں چاہئے ورنہ گلے کی ہڈی بن کر پھنس جاتی ہے جو ابھی میرا حال ہے۔۔ خالہ اپنے دل کی بھڑاس نکال کر یہ جا اور وہ جا۔۔
**********************#Zaynah_Hayyat
زینہ کمرے میں آؤ تمہیں کچھ دکھانا ہے۔خالہ میری بیوی کو بولیں میرے ساتھ آئے۔ روحیل نے لاڈ سے ساس کو پکارا۔۔ جبکہ زینہ شرم سے لال ہوئے جا رہی تھی۔۔
یہ شخص کب سدھرے گا۔؟ آپ چلیں ۔! میں ویرے کے ساتھ آتی ہوں۔۔
سنتے ساتھ روحیل نے دانت پیس کر آنکھیں دکھائیں۔۔۔
امی اپنے داماد سے بولیں میرے ویر سے خار نہ کھائیں۔۔ زینہ نے جلتی پر تیل ڈالا۔۔۔
شہناز بیگم دونوں کی نوک جھونک پر مسکرا کر رہ گئیں۔۔
کوئی بات نہیں زینہ ۔! روحیل نے جو دکھانا ہے جا کر دیکھ آؤ۔! تمہاری کونسی پاؤں سے مہندی اتر جائے گی۔۔ ویل چیئر پر بیٹھی شہناز بیگم نے ہمیشہ کی طرح روحیل کا ساتھ دیا۔۔۔
ناشتے سے فراغت کے بعد سبھی عقبی باغیچے میں مارچ کی دھوپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ روحیل کو اپنی سوجھی۔۔۔
عاصم اپنا فون پکڑے ہمیشہ کی طرح کمپنی کے کھاتے سیدھے کرنے کے چکروں میں سب سے بے نیاز بیٹھا تھا۔۔۔
سب کے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی نہیں تھا۔۔
امی آپ ہر وقت انکی طرف داری کرتی ہیں۔! زینہ نے منہ بسورا۔
اے پگلی وہ کوئی غلط تو نہیں بول رہا ہے اسے کچھ دکھانا ہے جاؤ جا کر دیکھ آؤ۔ ویسے بھی شام تک بھائی صاحب مہمانوں کے ہمراہ پہنچ آئیں گے۔۔
چار و ناچار زینہ کو اٹھنا پڑا جبکہ روحیل معنی خیز نظروں سے گھورنے سے باز نہ آیا۔۔۔
سہمے دل کے ساتھ زینہ روحیل کی پیروی میں چلنے لگی۔۔ اندرونی مہمان خانے میں پہنچنے پر روحیل نے ہاتھ تھامنے کی درخواست کی جسے زینہ نے بنا چوں چراں کیے فوراً قبول کر لیا جبکہ چہرے پر بارہ بج رہے تھے۔۔
زینہ۔!
جی۔!
تم شروع سے ایسی ہی ہو ۔؟؟
جی ۔؟؟
میرا مطلب ہے کہ ڈرپوک ، سہم جانے والی، دبو اور بزدل وغیرہ وغیرہ۔۔۔
یہ ساری خوبیاں میرے میں کم عمری سے بددرجہ کمال موجود تھیں مگر باقی کمی بیشی روحیل ارشاد نے پوری کر دی ۔۔۔
زینہ نے ہمت کرکے سچ اگل دیا۔۔۔
روحیل ارشاد اس باقی ماندہ “کمی بیشی” کے پورا کرنے کا کرب ناک خمیازہ بھگت چکا ہے اور شاید اب مزید بھگتے۔!! روحیل نے بھنویں اچکائیں۔۔۔
ویسے آج شیرنی بنی پھر رہی ہو۔!
جی صبح فجر کے بعد دوگھنٹے والدہ ماجدہ نے آپ کی فرمانبرداری پر درس دیا ہے ۔۔۔ !!! زینہ نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔۔
ہائے میری ساس کتنی ہمدرد غمگسار ہیں۔! روحیل نے دوبارہ معنی خیز نظروں سے زینہ کو گھورا۔۔
آپ مجھے گھورا نہ کریں۔! زینہ نے منہ بسورا۔۔
ویسے میں بنا آپ کا ہاتھ تھامے گھر میں چلنے پھرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔۔! اگر اجازت دیں تو میں خود سے چل سکوں۔۔؟؟
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے زینہ۔۔۔!!!
دیکھیں میں چچا کے سامنے ایسے ہاتھ تھام کر نہیں چلوں گی۔ زینہ نے سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے ادنی سی کوشش کر ڈالی۔۔
بھگا کر تو نہیں لایا ہوں جو سب سے چھپتا پھروں۔!!۔روحیل نے رک کر زینہ کو شانوں سے پکڑ کر سامنے کھڑا کر لیا۔۔۔
مگر پھر بھی کچھ اس رشتے کے ادب و اخلاق ہونے چاہئے ۔! مجھے بے باک افعال سے شرمندگی ہوتی ہے وہ بھی گھر کے بڑے بزرگوں کے سامنے۔!! زینہ نے ہمت کرکے بول تو دیا مگر روحیل کے تیور دیکھ کر روح پرواز کرنے لگی۔۔۔
میری طرف دیکھو۔!!
زینہ نے فورا چور نظروں سے روحیل کو دیکھا۔۔
مجھے تنہائی میں بھی اخلاقیات ہی سننے کو ملتے ہیں تو پھر میں کیا کروں.؟؟؟ کم ازکم باقی اہل خانہ کے سامنے تم میری جائز پیش رفت پر پابندی عائد نہیں کر سکتی ہو۔۔۔
میں معذرت چاہتی ہوں مگر اس رشتے کو احسن طریقے سے لے کر چلنے میں مجھے کچھ وقت درکار ہے۔! امید ہے آپ مجھے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔! زینہ نے بمشکل اپنی بات مکمل کی جبکہ روحیل اسکے چہرے کے بدلتے رنگوں کو بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
زینہ مجھے صرف ایک بات بتا دو تم میں کس چیز کا خوف ہے۔؟؟کیوں ہر وقت لرزتی کپکپاتی رہتی ہو۔؟؟روحیل نے اپنے کمرے کے اندر داخل ہوتے ہوئے دوبارہ اصرار کیا۔۔۔
اگر آپ اتنے مصر ہیں تو میں آپ کو بتا دیتی ہوں لیکن مجھے یہ خوف بھی ستا رہا ہے کہیں میرا یہ بولنا ناشکرے پن میں نہ لکھ دیا جائے۔۔مگر اللہ شاہد ہے میں اپنے ماضی پر شکر گزار تھی الحمدللہ۔
زینہ پلیز بولو۔!! میں تمہیں سننا چاہتا ہوں۔روحیل کا ملتجی لہجہ زینہ کو سوچنے پر مجبور کر گیا ۔تم تو میری دن رات کی دعاؤں کا ثمر ہو ، اور میاں بیوی تو ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں تو پھر میرے سے کیا چھپانا۔۔؟
زینہ کی آنکھیں شدت جذبات سے بھر آئیں۔!! دل سے دعا نکلی یا اللہ اگر یہ شخص ظاہر کی طرح باطن سے بھی متقی ہے تو تو میرے دل میں اسکی محبت جاگزیں کر دے۔ چند آنسو لڑھک کر گالوں پر پھیل گئے۔۔۔
زینہ پھر سے رونا۔؟ روحیل نے فوراً زینہ کے آنسو اپنی پوروں سے چن لئے۔۔۔
تمہیں بولا ہے میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔!! پھر خود کو اتنا کمزور اور تنہا کیوں محسوس کرتی ہو۔؟؟ بس ماضی کے کچھ ایسے گھاؤ ہیں جو کبھی کبھار افسردہ کر دیتے ہیں، انسان ہوں نا ۔!!! بس میرا بھی دل کبھی کبھی بھر آتا ہے۔۔
زینہ تمہارا دل تو ہر دوسرے گھنٹے بھرا ہوا ہوتا ہے۔۔۔ بےموسم برسات کی ٹھیکیدار ہو تم !!!
اب یہاں پر کھڑے نہیں رہنا بلکہ ادھر بیٹھ کر آرام سے بات کرو۔۔ !! چونکہ مجھے پھپھو کی پسند کے تمام کھانے ازبر ہیں، اس لیے میں نے ملازمہ کو سب بتا دیا ہے ، پھپھو ڈیڈ کی آمد سے قبل کھانا تیار ہوگا۔۔!
اب وقت تمہارے دل کی سننے کا ہوا چاہتا ہے۔۔!!!
روحیل بستر پر آلتی پالتی مارتے ہوئے زینہ کو بھی اطمینان سے بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔
جی تو زینہ عرف بیگم روحیل میں ہمہ تن گوش ہوں۔۔۔ روحیل کی جذبے لٹاتی آنکھیں اور سحر انگیز شخصیت زینہ کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے لگی۔۔۔ میں تو اس شخص کے مقابلے میں صفر ہوں پھر یہ شخص میری ذات کی نفی کرنے کے بجاۓ ہمیشہ مثبت کی دوڑ میں کیوں رہتا ہے۔؟؟کیوں یہ مجھے اتنی توجہ دیتا ہے۔؟؟ شاید میں اس شخص کے قابل نہیں ہوں ، شام کو نجانے پھپھو مجھے دیکھ کر کیا تاثر دیں گی۔۔۔؟؟
زینہ مجھے گھورنے سے منع کرتی ہو اور ابھی مجھے گھور گھور کر نظر لگانے کا ارادہ رکھتی ہو۔۔۔!!!
سوچوں میں غلطاں زینہ فوراً ہوش میں آئی۔۔۔
آپ مجھے کچھ دکھانے لائے تھے۔ زینہ نے نظریں چرائیں۔۔
پہلے سنوں گا پھر دکھاؤں گا۔۔!! جلدی سے بولنا شروع کر دو ورنہ نئی سزا کے لئے تیار ہو جاؤ۔۔!!
زینہ نے فوراً پلکوں کی جھالر اٹھائی اور گلا صاف کر کے الفاظ چننے لگی۔۔
جاری ہے
