Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31

میں ہر ڈال کا بھنورا منیب سے بھی چھپانے لگا۔۔۔ منیب کے بارہا اصرار پر بھی اسکی ویڈیو اپلوڈ نہ کر پایا۔۔۔ زینہ صفحات پلٹتی چلی جا رہی تھی اور ہر نیا صفحہ نئی داستان سنا رہا تھا۔۔۔
بہت سوچ بچار کے بعد منیب کو اس سے معافی تلافی پر رضامند کیا کہ شاید میرے اس بے کل دل کو قرار مل جائے مگر ہنوز وہی تشنگی اپنے حصار میں لیے ہوئے تھی۔۔
منیب کی وفات کے بعد تو ایسے لگنے لگا جیسے اس لڑکی کی بددعائیں ہمارا پیچھا کرتی رہیں ہیں، جیسے ہمیں اسکی آہ لگ گئی ہے۔۔ اور اسکی آہ و زاری کی زد میں سب سے زیادہ میں بدذات خود آیا ہوں، میری تو راتوں کی نیند اڑ چکی ہے۔
رتجگوں کی سزا میں افاقے کے لیے کام کی شفٹ دن کے بجائے رات کو کرنے لگا ہوں ، بار بار دماغ بھٹک جاتا ہے ، لیپ ٹاپ کی سکرین پر کھلے ونڈوز دھندلانے لگتے ہیں۔
میں کیسے اس لڑکی کو یقین دلاؤں کے مجھے اسکے ساتھ کیے گئے ظلم کی سزا اللہ کے بہترین عدل کے مطابق مل رہی ہے، میری بھوک اڑ چکی ہے۔۔ کان سائیں سائیں کرنے لگے ہیں، سینے کی جکڑن بڑھتی چلی جا رہی ہے، ڈیڈ میرے ہر وقت ٹپ ٹاپ حلیے کے بجائے اجڑی حالت پر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ آئے روز میرے سے پوچھ تاچھ کرتے ہیں مگر میرے پاس انہیں بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا کیوں کہ میں نے ابلیس کے راستے کا انتخاب خود کیا ہے۔۔
اب رنگ و بو کی محفلوں میں میرا دل نہیں لگتا ہے، حسین وجمیل دل لبھاتی لڑکیاں میرے سامنے ایک زانیہ ، بدکار کے سوا کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہیں ،مجھے ایسی لڑکیوں سے گھن آنے لگی ہے جبکہ چند ہفتے قبل میں بھی اسی آوارگی کا دلدادہ تھا۔۔۔ میں زانی تھا ، میں بدکار تھا۔
آئے دن میرے بستر کی رونق بننے والی ایک نئی دوشیزہ ہوتی تھی۔ میری ایک گہری مسکراہٹ اور ایک جملہ ان امیر زادیوں کے لئے حرف آخر کی حیثیت رکھتا تھا۔۔ میری موہنی صورت پر مرنے والی یہ بیوقوف لڑکیاں اپنے آپ کو میرے سامنے کسی نئے کھلونے کی طرح وار دیتی تھیں۔۔
آخری جملے پڑھ کر زینہ کی آنکھیں چھلکنے لگیں ، دل پر گھبراہٹ طاری ہونے لگی مگر ہمت و حوصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ڈائری میں مقید حقائق کو جاننے کی چاہ میں مطالعہ جاری رکھا۔۔۔
اگلا صفحہ پلٹا:
روزانہ اسکا ویڈیو دیکھتا ہوں تو پچھتاووں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہوں ، میری نظر میں دنیا کی حسین ترین لڑکی اس پارسا زینہ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہے ۔ میری دعا ہے کہ میں کسی طرح اس لڑکی کو اپنا حال دل سنا سکوں۔۔
اس کی یونیورسٹی آج بھی گیا ، اسے دیکھا تھا مگر اس سے بات کرنے کی ہمت نہیں کر پایا ۔۔ اسکی پارسائی کا رعب میرے گناہوں پر حاوی ہو جاتا ہے ، اسکے کردار کا نور میری سیاہ کاریوں پر غالب آ جاتا ہے۔
اب ارادہ یہی ہے کہ روزانہ اسے یونیورسٹی میں فاصلے پر رہ کر دیکھ تو آیا کروں۔۔
زینہ کا تجسّس بڑھنے لگا دھڑکتے دل کے ساتھ اگلا صفحہ پلٹا۔۔
روز دیکھتا ہوں اور دل میں کسک اٹھتی ہے کہ کاش میں اس لڑکی کو پا لوں۔۔
اپنے گناہوں کی توبہ دن رات کرتا ہوں، اسلام آباد میں رنگ و بو کی محفلوں کو چھوڑ کر زیادہ وقت میرپور میں گزارنے لگا ہوں۔ ماموں کے چھوڑے گئے ترکے نے میرے لیے اس شہر میں قیام کو آسان بنا دیا ہے ورنہ ڈیڈ کا روز کریدنا میرے چھکے چھڑا دیتا ۔۔ ایسے لگتا ہے جیسے اسکی اس شہر میں موجودگی مجھے تقویت بخشتی ہے۔۔۔
ساری رات آنکھوں میں کٹتی ہے اور آج سالوں بعد فجر کی باجماعت ادائیگی کی توفیق ملی ہے۔۔
میں ایک پتھر دل انسان کی اللہ کے حضور سجدوں میں ہچکیاں بندھ گئیں۔۔۔
اللہ کے حضور گردن جھکی تو دل کا غبار نکلا ہے ، اب میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا ہے ، آج شاید اس پارسا شہزادی سے بات کرنے کی ہمت پیدا کر سکوں۔
روزانہ کوشش کرتا ہوں مگر ناکام رہتا ہے۔۔۔
زینہ بچی آج کمرے میں کیوں بیٹھی ہو ؟ جاؤ کوئی کام کاج کرو میری بچی۔!!
میں ناشتہ کر چکی ہوں کچھ دیر بعد فزیو آ جائے گا۔۔۔
زینہ امی کی پکار پر چونک کر پلٹی۔۔
امی روحیل کے پھپھی زاد جیمی رات کو اچانک آئے ہیں تو پھر میں انکے سامنے سارا دن حجاب میں تو نہیں گھوم سکتی ہوں۔
اے بیٹی سسرال کا معاملہ ہے ، ماں کے گھر کی بات اور تھی ،تم اپنا ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر اپنی بات منوا لیتی تھی مگر سسرال میں رہتے ہوئے انکی منشاء کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔
پھپھی مہمان بن کر میکے آئی ہے ، نجانے کتنے دن کا قیام ہے۔؟ کہیں دل پر نہ لے جائے۔۔
امی نے دھیمے لہجے میں زینہ کو تنبیہ کرنا واجب سمجھا۔۔
زینہ نے چند لمحوں میں دلعزیز بن جانے والی ڈائری بند کرکے دواؤں والے دراز میں چھپا دی۔۔ متوازن چال چلتی ماں کے پاس بستر پر آن اٹکی۔۔
ماں کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر گویا ہوئی۔ امی ہم اللہ کی احکامات کی نافرمانی کرتے ہوئے ناراض کیوں نہیں ہوتے ہیں۔؟؟ ہم رسم و رواج کے لیے خالق کے حکم کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔!
وہ مالک جس کی عطا کردہ لاتعداد نعمتوں سے ہم دن رات فیض یاب ہوتے ہیں، ہم اسی خالق کی حکم عدولی پر کیوں فخر محسوس کرتے ہیں۔؟؟
امی میں اللہ کے حکم کے سامنے لوگوں کے حکم کو نہیں مانوں گی۔!
زینہ میری بچی بعض اوقات مصلحت سے کام لینا پڑتا ہے۔! تم میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔!!
امی جی۔! یہ کیسی مصلحت ہے کہ میں ذیشان بھائی سے پردہ کروں اور روحیل کے پھپھی زاد کے سامنے کھلا چہرہ لے کر گھوموں پھرو کیوں کہ وہ میرا سسرالی رشتہ دار ہے ، میرے شوہر کا پھپھی زاد ہے۔؟؟ امی یہ تو اللہ کے دین کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
اپنے نفس کی پیروی کرنا ہے ۔ نعوذ باللہ یہ تو دین کے ساتھ مذاق ہے ۔
💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
💖بَدَأَ الْاِسْلَامُ غَرِیْبًا وَسَیَعُوْدُ کَمَا بَدَاَ‘ فَطُوْبَی لِلْغُرَبَائِ”
”اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب پھر اجنبی ہو جائے گا،جیسے شروع میں تھا، تو ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں(غرباء ) کے لیے خوشخبری ہے“۔
اس کا معنی یہ ہے کہ اسلام ابتداء میں مکہ کے اندر اور ہجرت کے ایام میں مدینہ میں اجنبی تھا ،لوگ اسے جانتے نہیں تھے ، اس پرعمل کرنے والے بھی قلیل تعداد میں تھے ،پھر یہ دین اللہ کی مدد سے دنیا میں پھیلا ،اور لوگ فوج در فوج اس میں شامل ہوئے ،اور یہ دین باقی تمام ادیان و مذاہب پر غالب آگیا ،
پھر ایک زمانہ آئے گا کہ ،دنیا میں یہ دین حق لوگ بھول جائیں گے ،اور ابتدا اسلام کی طرح ایک مرتبہ پھر یہ لوگوں کیلئے “اجنبی” بن کے رہ جائے گا؛
بہت کم لوگ اس کو جاننے ، ماننے والے رہ جائیں گے یہی “غرباء” ہونگے ؛
انہی لوگوں کو نبی کریم ﷺ نے خوشخبری دی ہے ((فطوبى للغرباء))
صحیح مسلم کے علاوہ مصادر میں موجود اس حدیث میں مزید یہ بات بھی ہے کہ :
((قيل يا رسول الله ومن الغرباء؟ فقال: الذين يصلحون إذا فسد الناس)).
وفي لفظ آخر: ((هم الذين يصلحون ما أفسد الناس من سنتي)).
یہ ارشاد سن کر لوگوں نے پوچھا :’’ غرباء ‘‘ کون ہونگے ؟
فرمایا :جب دوسرے لوگ دین سے بگڑ جائیں ۔۔یہ “غرباء” اصلاح کریں گے،۔۔یا فرمایا :لوگوں نے میری سنت میں جو بگاڑ پیدا کیا ہوگا ،یہ غرباء اس کی اصلاح کریں گے۔(مجموع فتاوى العلامة عبد العزيز بن باز رحمه الله۔۔25-104)
💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮
زینہ تم موقع کی نزاکت نہیں سمجھ رہی ہو۔!
امی میں سب سمجھتی ہوں۔!
روحیل نے مجھے اجازت دے رکھی ہے کہ میں اپنے شرعی پردے میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہ کروں۔ امی میرا شوہر میرے ساتھ ہے ، وہ مجھے تحفظات دے رہا ہے تو میں دوسروں کی باتوں کی پرواہ کیوں کروں۔؟؟
پھر بھی زینہ بچی سسرال میں سہج سہج کر قدم اٹھاتے ہیں۔!!
امی میں آپ کی بات سمجھ رہی ہوں مگر میں اللہ کے حکم کے سامنے لوگوں کے احکام کی پابند نہیں ہوں۔
میری چلتی سانسوں اور میرے جسم پر اختیار صرف اس رب العالمین کا ہے ، جس نے مجھے صحیح سالم جسم بخشا ہے ، عقل بخشی جس سے میں اچھے برے کی پہچان کر سکوں۔
امی میں پہلے بھی کبھی نہیں ڈگمگائی ہوں تو اب تو میرے ساتھ ایک مضبوط مرد کا ساتھ ہے جو مجھے سرد وگرم سے بچانے کےلئے میرے ساتھ کھڑا ہے۔
امی جان روحیل میرے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، وہ میرے حجاب پر خوش ہیں۔
روحیل کے تذکرہ پر چند لمحوں کے لئے زینہ کے دل کی دھڑکن اتھل پتھل ہوئی۔۔۔
روحیل تو میرے ہیں نا امی ۔۔! اڑیل دل نے سرگوشی کی اور روحیل کے ذکر پر مچلنے لگا ۔۔ لبوں پر پھیلنے والی مسکراہٹ کو امی سے چھپانے لگی۔۔قیدی جذبوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔۔
پھر بھی بیٹی انکی پھپھو کا دل تمہاری وجہ سے نہ دکھنے پائے۔۔ !!!
امی آپ مجھے جانتی ہیں ،میں دل دکھانا تو دور کی بات ہے ، میں تو انکے سامنے اونچی آواز میں بات نہیں کرتی ہوں، روحیل کی پھپھو جیسے چاہتی ہیں ، میں ہوبہو ویسے ہی کرتی ہوں۔۔
شاباش میری بچی۔! ایسے ہی کرتی رہو۔! وہ کون سا ساری عمر یہاں پر قیام پزیر رہے گی۔! یہ گھر تو تمہارا ہی ہے۔
گھر آئے مہمان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔!
جی امی مگر میں دین اور حجاب کے معاملے میں انکی بات نہیں مانوں گی۔!
بے شک نا ماننا مگر روحیل کی پھپھو کی دل آزاری بھی نہیں کرنی ہے۔۔!
آپ بس تسلی رکھیں میں کسی کا بھی دل نہیں دکھاؤں گی ان شاءاللہ۔۔
زینہ کب سے میرے پاس بیٹھی ہو ، جاؤ دوپہر کے کھانے کا بندوست کرو۔! ویسے بھی کچھ دیر میں فزیو آ جائے گا۔۔۔
جی امی چچا ارشاد بول رہے تھے کہ آج فزیو شاید آدھے گھنٹے کی تاخیر سے آئے۔ روحیل فزیو کو چچا کا نمبر دے کر گئے ہیں تاکہ رابطے میں سہولت رہے۔۔
زینہ کا جی چاہا روحیل کی ڈائری دوبارہ کھول لے اور اس کے جذبات و احساسات کو پڑھتی چلی جائے۔
زینہ روحیل عاصم کے بخیریت پہنچنے کی کوئی اطلاع آئی ہے ۔؟؟
نہیں امی فی الحال تو کچھ پتا نہیں ہے ، شاید گھر پہنچ کر سو گئے ہوں۔ زینہ نے اندازہ لگایا۔۔ انہوں نے اطلاع نہیں دی تو تم پیغام بھیج کر پوچھ لو۔
امی میں نے فجر کے بعد ہی انہیں پیغام بھجوا دیا تھا مگر جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
اچھا فون تو دیکھو۔!! سارا دن اس فون کو دراز میں چھپائے رکھتی ہو۔!!
جی امی دیکھتی ہوں۔!
شہلا کو فون ملاؤ میں ذرا اسکی خیریت دریافت کر لوں۔
زینہ نے فون ملا کر ماں کو پکڑایا اور خود حجاب پہن کر باورچی خانے کا رخ کرنے لگی۔
امی شہلا کے ساتھ محو گفتگو ہو گئیں جبکہ زینہ خاموشی سے کمرے سے نکل کر کوریڈور میں آگئی ، ابھی چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ عقب سے مردانہ آواز نے قدم روک دیئے۔۔
اے ۔! تمہارا نام زینہ ہے ۔؟ موم نے بتایا ہے۔!
جیمی بےتکلفی سے زینہ کے نہایت قریب آن کھڑا ہوا۔
زینہ یکدم ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔
اووووووووہ واؤ۔!
تم تو بہت محتاط رہتی ہو۔ جیمی کی نظروں کی بھوک زینہ بخوبی سمجھ سکتی تھی۔۔
جیمی بھائی میں معذرت خواہ ہوں ،مجھے ابھی باورچی خانے میں جانا ہے ، آپ کو کچھ چاہیئے تو میں خالہ کے ہاتھ بھجوا دیتی ہوں۔!!
ارے نہیں مجھے تو کچھ بھی نہیں چاہئے۔
ویسے تمہارے نام کا مطلب کیا ہے؟ کافی نادر سا نام ہے ۔!! جیمی کی نظروں کی کمینگی بڑھنے لگی۔۔
زینہ نے مذید دو قدم پیچھے ہٹ کر جواب دیا۔۔
بھائی میرے نام کا مطلب “جمال” ہے ۔۔۔
اووووووووہ جیسے نام کا معنی ہے ویسے دکھتی بھی ہو گی ۔؟؟ جیمی کی کمینگی اپنے عروج پر تھی۔!
زینہ نے وہاں پر ٹھہرنے کے بجائے باورچی خانے میں دوڑ لگا دی۔ زینہ باآسانی اپنے عقب میں اس تاڑو شخص کے قہقہے سن سکتی تھی۔۔
باورچی خانے میں پہنچنے پر شریفاں خالہ کو دیکھ کر جان میں جان آئی۔۔
بی بی جی سب خیریت ہے۔؟؟ آپ کی سانس پھولی ہوئی ہے۔
ہاں خالہ۔! پھپھو اور چچا کدھر ہیں۔؟؟
بی بی جی دونوں ناشتے کے بعد عقبی باغیچے میں چلے گئے ہیں ، جیسے روزانہ انکا معمول ہے۔۔
خالہ پھپھو نے آپ کو دوپہر کے کھانے کا کچھ بتایا ہے۔؟؟
فی الحال تو نہیں بی بی جی۔!
اچھا خالہ پھر ان سے پوچھ لیتے ہیں۔ چلو اکھٹے باہر باغیچے میں چلتے ہیں۔۔! آپ ادھر ہی رکیں میں پوچھ آتی ہوں۔!
ارے نہیں خالہ میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں ،ہوا خوری بھی ہو جائے گی۔
چلیں بی بی جی جیسے آپ کو مناسب لگے۔۔
شریفاں نے خشک پلیٹیں دراز میں رکھیں اور دوپٹہ درست کرنے لگی۔۔
بی بی جی آپ کیسے اتنے سارے دن گھر کے اندر رہتے ہوئے برقعے میں گزاریں گی۔؟؟
آپ کا دم نہیں گھٹتا ہے ۔؟؟ پکی روش پر چلتی شریفاں زینہ سے باز پرس کرنے لگی۔۔
خالہ دنیا میں دم گھٹنا بہتر ہے بنسبت قبر میں میرا دم گھوٹا جائے۔
خالہ میں پردے کو عبادت سمجھ کر کرتی ہوں کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے ۔ !
وہ بات تو ٹھیک ہے بی بی جی مگر آج کل پردہ پوشی معیوب سمجھی جاتی ہے۔۔
زینہ شریفاں کی بات پر مسکرائی۔۔
خالہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دین پر عملدرآمد کرنے والوں کو خوشخبری دی ہے ۔۔
تو میں کیوں نا اس خوشخبری سے فائدہ اٹھاؤں۔
کونسی خوش خبری بی بی جی ۔؟؟ جو ہمیں آج دن تک پتا نہیں چلی ہے۔؟ سادہ لو شریفاں متجسس دکھائی دینے لگی۔۔
خالہ میں غریب ہوں۔! میرے تمام اعمال عام لوگوں کے لئے غریب ہیں۔۔عربی میں غریب کا معنی اجنبی ہے ۔۔
“اسلام جب آیا تو اس کے ماننے والوں کی زندگی جس اجنبیت کے عالم میں گزر رہی تھی یہاں تک کہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے، اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کو اپنے لیے حقارت سمجھتے تھے انہیں تکلیفیں پہنچاتے تھے، ٹھیک اسی اجنبیت کے عالم میں اسلام کے آخری دور میں اس کے پیروکار ہوں گے، لیکن خوشخبری اور مبارک بادی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس اجنبی حالت میں اسلام کو گلے سے لگایا اور جو اس کے آخری دور میں اسے گلے سے لگائیں گے، اور دشمنوں کی تکالیف برداشت کر کے جان و مال سے اس کی خدمت و اشاعت کرتے رہیں گے۔”
زینہ اور شریفاں پکی روش سے گزر کر ہریالی گھاس پر چلنے لگیں ، جہاں سے وہ چند گز کے فاصلے پر براجمان اہل خانہ کو دیکھ سکتیں تھیں۔۔
السلام علیکم ۔! زینہ نے اجتماعی سلام جھاڑا۔۔
وعلیکم السلام۔! آؤ بیٹی بیٹھو۔!
نہیں چچا جان میں پھپھو سے دوپہر کے کھانے کا پوچھنے آئی ہوں کہ کیا پکایا جائے۔؟
کرسی پر براجمان پھپھو نے بھنویں اچکا کر منہ مروڑا۔۔
پھپھو جان آپ بتائیں کیا پکاؤں۔؟ زینہ کا شیرینی مؤدب لب ولہجہ بھی پھپھو کی پیشانی کی سلوٹیں نہ ہٹا پایا۔۔
جواب کے بجائے زہر اگلنے لگیں۔۔
مجھے تمہارا اس حلیے میں باورچی خانے میں آنا جانا پسند نہیں ہے ۔!
یا اپنا حلیہ بدلو یا پھر کھانا بنانا چھوڑ دو۔! زینہ کا دل ایک دم سے بجھ گیا ، فوراً مدد طلب نظروں سے سسر کو دیکھا۔۔
شمیم تم کیوں پریشان ہوتی ہو۔!
یہ زینہ اور روحیل کی زندگی ہے جیسے چاہیں گزاریں۔!
زینہ تمہارا جو چاہے وہ کھانا بنا لو ۔!
ارشاد صاحب نے نرمی سے ساری بات کو سمیٹا۔۔
جی بہتر چچا جان۔!
کیا میں آپ کے لئے پھل کاٹ دوں۔؟؟
ارے نہیں بیٹی۔!
سسر بہو کی گفتگو کے دوران پھپھو منہ کے زاویے بدلنے میں مصروف رہیں جبکہ ذرا سے فاصلے پر کھڑی شریفاں دل ہی دل میں زینہ کی ہمت کی داد دیئے بنا نہ رہ سکی۔۔
اسی دوران ارشاد صاحب کا فون چلایا۔۔۔
اوہ شکر ہے روحیل کا فون ہے ۔
سلام دعا کے تبادلہ کے بعد روحیل نے اپنے بخیریت پہنچنے کی اطلاع دی اور زینہ کے بارے میں پوچھنے لگا ۔۔۔
زینہ تو میرے پاس کھڑی ہے ۔یہ لو بات کرو ۔!
یہ لو زینہ روحیل سے بات کرو۔!!
چچا جان پہلے پھپھو سے بات کروائیں پھر میں بات کر لوں گی۔۔! زینہ نے تابعداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سسر کو جواب دیا۔۔
یہ لو شمیم بھتیجے سے بات کرو ۔
ہاں بھتیجے پھپھو کی یاد آگئی ہے۔؟
جی پھپھو جان آپ کی یاد نے ستایا تو میں نے فون ملایا ہے نا ۔!!
اچھا اچھا اب زیادہ باتیں نہ بگھارو۔! جیمی کل رات سے اچانک آیا بیٹھا ہے، تم لوگوں کے بنا شدید اکتاہٹ کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔۔!
پھپھو اسے بولیں جم شروع کر لے ۔! آرام سے دو گھنٹے گزر جائیں گے۔!!
روحیل تم یہ مشورہ اپنے پاس رکھو۔! پہلے ہی وہ طرح طرح کی مشینوں کے پرزے ہلاتا رہتا ہے۔
خیر چھوڑو جلدی کام نپٹاو اور واپسی کی راہ لو۔۔!
اور اپنی بیگم سے بات کرو ، جو نجانے اپنے ساتھ ہمارا بھی دم گھوٹنے پر تلی ہوئی ہے۔!
پھپھو میری بیگم کو اسکے حال پر چھوڑ دیں، وہ جو بھی کر رہی میری رضامندی سے کر رہی ہے میں اسکے ہر قدم پر خوش ہوں۔
ہاں ہاں تم نے تو زن مریدی کا خاندانی ریکارڈ جو توڑنا ہے ۔!
پھپھو یہ کام میں عاصم کے لئے چھوڑ دوں گا۔!
پھپھو نے کان سے فون ہٹا کر زینہ کو پکڑا دیا۔۔
زینہ کا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا۔۔شرم سے ہتھیلیاں بھیگنے لگیں۔۔
ارشاد صاحب نے زینہ کو یہاں سے دور چلے جانا کا اشارہ کیا۔
زینہ دھیرے دھیرے چلتی باغیچے کے دوسرے کونے میں چلی گئی۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ روحیل کی جان کیسی ہے۔؟
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔! میں ٹھیک ہوں ، آپ کیسے ہیں۔؟
اور صبح سے میرے پیغام کا جواب کیوں نہیں دیا ہے ۔؟؟
ہاہاہاہا ہاہاہاہا کل سے دوسرا روایتی شکایتی انداز بہت پسند آیا ہے۔
بیوی صاحبہ عرف خشک مزاج محبوبہ۔!! پہلے تمہارے فون پر ہی جوابی پیغام بھیجا ہے مگر ہمیشہ کی طرح فون سے بے نیاز رہنے والی کا مجھے پتا ہے اس لیے ڈیڈ کو کال کی ہے۔!
فون تو اندر کمرے میں امی کے پاس ہی تھا اور میں باہر چچا پھپھو کے پاس چلی آئی۔
اچھا اور سناؤ میں یاد آ رہا ہوں۔؟؟؟
فی الحال تو نہیں کیونکہ آپ میرے ساتھ بات کر رہے ہیں۔! زینہ کھنکتی آواز میں کھلکھلائی۔
شریر ہوتی جا رہی ہو۔!
جناب کی مبارک صحبت کا اثر ہے۔!
یا اللہ۔! میری واپسی تک میری صحبت کا اثر بڑھ کر دس گنا ہو جائے۔
میرا ویر کیسا ہے ۔؟؟
ساتھ والے کمرے میں خراٹے لے رہا ہے۔!
تو آپ بھی خراٹے لے لیں۔!
میرے خراٹوں پر زینہ کا پہرہ جو رہتا ہے تو ان دنوں خراٹے بھی ہڑتال پر ہیں۔!
آپ بھی نا۔! زینہ شرمائی۔
ابھی شرافت سے نیند لیں تاکہ طبیعت خراب نہ ہو۔!
جی نیم حکیم صاحبہ۔!
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *