Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16
عاصم ہوں شہلا آپا۔!
شہلا نے دھیرے سے تھوڑا سا دروازہ کھولا۔۔۔
جی ویر صاحب فرمائیں۔!
مجھے میری بھابھی دیکھنی ہے۔!
اور آپ ابھی تک یہاں پر تشریف فرما ہیں۔؟؟
پیچھے ہٹیں اور مجھے میری بھابھی کا دیدار کروائیں۔!!
اے عاصم۔!! بےصبرے ویر ادھر ہی ہے تمہاری بھابھی کوئی نہیں بھاگی جا رہی ہے۔
کمرے میں تو تم آ نہیں سکتے کیونکہ سامعہ موجود ہے ، ہاں ایک حل ہے اپنی بھابی کو ادھ کھلے دروازے سے دیکھ سکتے ہو۔!
زینہ سامنے آؤ ذرا۔۔!
زینہ شرماتی لڑکھڑاتی لمبی ہیل میں عاصم کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔۔۔
ماشاءاللہ۔!!! چشمِ بددور ۔!!! دل ناشاد۔!! میری بھابھی بالکل مومی گڑیا لگ رہی ہے۔۔ !!!
بھئی مان گئے ہیں ان ماہر ہاتھوں کو جنہوں نے میری بھابھی کو سجایا سنوارا ہے۔۔۔
عاصم نےایک ہی سانس میں تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔۔۔ جبکہ زینہ اور شہلا اسکے اس والہانہ استقبال پر مسکرا رہی تھیں۔۔۔
زینہ میری دلی تمنا ہے کہ میری دلہنیا کی سج دھج بھی تم کرواؤ۔!!
زینہ نے شرماتے ہوئے مسکرا کر دیکھا۔۔۔
اے لڑکی شرمانا بس کر دو اب ۔!! تمہارا ہم عمر بھائی ہوں۔۔۔
یہ شرمانا روحیل بھائی کے لیے محفوظ رکھو۔۔۔!!!
ویرے۔!!!
زینہ شرمانا بھول کر عاصم کو گھورنے لگی۔۔۔
اچھا بھئی اب گولہ باری ختم کرو ۔۔!!! تمہارے دلہا صاحب نکاح کے انتظار میں سوکھ کر کانٹا بنتے جا رہے ہیں۔ ایک تو دیدار یار کی تڑپ اور دوسرا محبوب کی بے رخی انکے پلیٹیسلیٹس نہ گھٹا دے۔۔۔
عاصم تمہاری زبان کب رکے گی۔؟ شہلا نے ہنستے ہوئے ٹوکا۔۔ ویسے اس وقت دروازے پر کون تھا جب مجھے کمرے میں بھیج کر خود باہر نکل گئے تھے۔؟؟؟ شہلا سے رہا نہ گیا اور پوچھ بیٹھی۔۔۔
آپا اس وقت دروازے پر دستک کی بات نہیں ہو گی بلکہ روحیل بھائی کے دل پر دستک دینے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔۔۔ عاصم نے نہایت خوبصورتی سے اصل بات کو ٹالا۔۔۔
جبکہ زینہ کا دل روحیل کا نام سن کر عجیب انداز میں دھڑکنے لگا۔۔۔
زینہ گھبرانا نہیں ہے ،میں گاڑی میں تمہارے ساتھ ہی بیٹھوں گا۔بلکہ ماسی امی بھی ساتھ ہی ہونگی۔۔۔ دلہا راجہ کو گاڑی چلانے پر لگاؤں گا تاکہ اسکا دھیان میری بہن کو ہراساں کرنے کی طرف نہ جا سکے ۔۔۔
ویرے۔۔۔!!!
جی ویرے کی بہن۔!! تم بہت شرارتی ہو۔! زینہ نے بول کر منہ بسورا۔۔۔
اچھا پھر میرے جیسی کوئی اور شرارتی سی جلدی سے ڈھونڈو نا۔۔!!
عاصم ۔!!! جی ڈیڈ۔!! بیٹا ادھر آؤ ماسی کے پاس بیٹھو ،میں ذرا اپنی بہو سے مل لوں۔۔۔ ارشاد صاحب نے ساتھ والے کمرے سے عاصم کو پکارا۔۔۔
******************************************
نکاح جیسا پاکیزہ فریضہ نہایت کٹھن مراحل طے کر کے تکمیل کو پہنچا۔۔سب نے سکھ کا سانس لیا جبکہ روحیل اپنے چھٹے نمبر سے زینہ کے ساتھ پیغام رسانی میں مشغول ہو گیا۔۔۔
زینہ بنت حیات اب زینہ زوجہ روحیل کے درجے پر فائز ہو چکی تھی۔۔۔
زینہ میری محبت کی منزل ، میری محبت کی تکمیل تمہیں نکاح کی بہت بہت مبارک ہو۔۔۔
اب تو میرا نمبر بلاک نہیں کرو گی نا۔؟؟بلکہ ایسا کرو باقی پانچوں نمبر بھی انبلاک کر دو۔!
اجازت دو تو تمہیں دیکھنے کے لیے گھر کے اندر آ سکتا ہوں۔۔۔
ویسے تو تمہیں اسلام آباد پہنچنے پر دیکھ لوں گا مگر میرے لیے اس قدر لمبا انتظار مشکل ہو جائے گا۔۔۔
کچھ بھی نہیں کہوں گا۔! صرف ایک جھلک دیکھ کر لوٹ آؤں گا۔۔۔! دوبارہ سے وضاحت دے دوں میں آدم خور نہیں ہوں۔۔
دعا بھیج رہا ہوں اُمید ہے جواب میں مجھے بھی اسی مسنون دعا سے نوازا جائے گا۔!

بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وبَارَكَ عَلَيْكَ، وجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ
(اللہ تجھے برکت عطا فرمائے اور تجھ پر برکت کا نزول فرمائے اور تم دونوں کو بھلائی پر جمع کرے۔)
([1]) أخرجه أصحاب السنن إلا النسائي [أبو داود برقم (2130)، والترمذي برقم (1091)، وابن ماجة برقم (1905)]، وانظر: ((صحيح ابن ماجة)) (1/324). (ق).

زینہ کے بجائے سامعہ نے زینہ کا فون جھپٹا۔۔۔
انہیں کا پیغام موصول ہوا ہے جنکا تھا انتظار۔!!
زینہ صاحبہ پیغام پڑھ کر سناؤں یا خود ہی پڑھ لیں گی۔۔۔
سامعہ آج سب کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟ زینہ نے شرماتے ہوئے گردن جھکا لی۔۔ بنو شرماؤ نہیں تمہارا ہیرو تمہارے جواب کا منتظر ہے۔! دیدار یار کا متمنی ہے۔۔۔
ہائے اللہ ۔!! میں تو نہیں سامنا کر پاؤں گی سامعہ۔! پلیز منع کر دو۔!
پاگل لڑکی پہلے مکمل پیغام تو پڑھ لو۔!! پھر آپے سے باہر ہونا۔۔۔
زینہ نے ہاتھ میں فون پکڑا ہی تھا کہ دروازے پر دستک نے دل کی حالت ابتر کر دی۔۔
سامعہ پوچھو کون ہے ؟ اگر وہ ہوئے تو میری طرف سے نہ بول دینا پلیز۔۔
تمہارا تو دماغ کام نہیں کرتا البتہ میرا بہت اچھی طرح سے کرتا ہے۔۔۔
جی کون۔؟؟
روحیل۔!!
سامعہ نے بند دروازے کے قریب آ کر ہانک لگائی۔۔
بھائی مجھے دو منٹ دیں ،میں اپنا حجاب پہن لوں۔ پھر آپکی بیگم آپ کے حوالے کر کے مجھے بھی گھر کے لئے نکلنا ہے۔۔۔
سامعہ اللہ کا واسطہ ہے نا جاؤ پلیز۔۔ زینہ دبے لہجے میں سامعہ کی منتوں پر اتر آئی۔۔یا پھر آپا کو باورچی خانے سے بلوا دو ۔! اوہ میرا ویر عاصم کدھر چلا گیا ہے۔؟
زینہ گھبراہٹ میں جو منہ میں آ رہا تھا بولے چلے جا رہی تھی۔۔۔
زینہ تم چاہے جو مرضی بولو ۔وہ شخص پورے حق کے ساتھ تمہیں ملنے آیا ہے لہٰذا فضول حرکتوں سے باز رہنا۔۔! سامعہ نے دوٹوک لہجے میں بول کر اپنا نقاب اوڑھا اور لکڑی کےدروازہ کے دونوں پٹ واہ کر دئیے۔۔۔
آئیے بھیا ۔! آپ کی دلہن آپ کی منتظر ہے۔۔۔!
روحیل نے جھکی گردن سے شکریہ ادا کیا اور کمرے کی دہلیز پر قدم رکھ دیا۔۔۔
خوبرو روحیل کالی شیروانی کے ساتھ ہم رنگ کھسہ پہنے غضب ڈھا رہا تھا۔۔ کشادہ جبیں، اٹھتی ناک ، عنابی مسکراتے ہونٹ ، گھنی سیاہ تراشیدہ داڑھی اور گھنے گھنگھریالے بالوں میں جیل لگائے تروتازگی کا سماں باندھ رہا تھا۔۔۔
متوازن قدم اُٹھاتے ہوئے کمرے میں موجود ہستی سے چند قدم کے فاصلے پر جا کھڑا ہوا ۔۔
وہ زینہ مجھے دو پچاس پچاس کے نوٹ درکار ہیں ،ذرا اپنے پرس میں دیکھو شاید پڑے ہوں ، مجھے اچانک ضرورت آن پڑی ہے۔ روحیل نے مصروف لہجے میں جیبیں ٹٹولنی شروع کر دیں۔۔ جبکہ زینہ حیرت سے نشیلی آنکھیں پھاڑے اس انوکھے مطالبے پر ساکت ہو کر رہ گئی۔۔۔
ارے زینہ جلدی کرو یار۔!! ہمیں کچھ دیر بعد اسلام آباد کے لئے نکلنا ہے ۔۔۔روحیل اپنے جلوے بکھیرتا زینہ کو عجیب و غریب مطالبات پر حیران کر رہا تھا۔۔۔
زینہ بیہوش ہونا بھول کر بستر پر پڑے کلچ کو کھول کر دو پچاس پچاس کے نوٹ ڈھونڈنے لگ گئی۔۔۔ ہاتھوں میں ہنوز لرزش تھی مگر اس بات پر مطمئن تھی کہ روحیل نے کوئی اوچھی چھچھروی حرکت نہیں کی۔۔۔ روحیل اپنی ذہانت پر خود کو داد دیئے بنا نہ رہ سکا۔۔ زینہ روحیل کی طرف پشت کیے کلچ کے ساتھ الجھی ہوئی تھی جبکہ روحیل کے پاس زینہ کی سج دھج کو آرام سے دیکھنے کا سنہری موقع ہاتھ آ چکا تھا۔۔
سفید میکسی سلور اور سفید کام سے مزین تھی ، پنوں کی مدد سے سر پر جما کامدار دوپٹہ اسکے نازک سراپے کو چار چاند لگا رہا تھا۔۔ دبلی پتلی سی زینہ ساری پریشانیاں بھول کر نوٹوں کی تلاش میں سرگرداں تھی۔۔۔
زینہ۔!!!
جی ۔۔!!! زینہ ہڑبڑا کر پلٹی۔۔
اگر کلچ میں پیسے نہیں ہیں تو ادھر الماری میں دیکھ لو ، شاید کہیں رکھ کر بھول گئی ہو۔!!!روحیل اپنی ہنسی دبائے سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
جی میں دیکھتی ہوں۔! زینہ نے فرمانبرداری کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے کلچ کو بستر پر رکھ چھوڑا اور لکڑی کی پرانی الماری کے پٹ کھول کر مرتب لباس کو الٹ پلٹ کرنے لگی۔۔۔
کپڑے الٹ پلٹ کرنے کے باوجود بھی کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔۔۔
رنجیدہ چہرہ لیے روحیل کی طرف پلٹی۔۔۔
وہ دو پچاس پچاس کے نوٹ نہیں ملے مگر میرے پاس سو کے دو نوٹ ہیں ، شاید آپ کے کام آ جائیں۔! زینہ نے جواب طلب نظروں سے روحیل کو دیکھا۔۔
اضطرابی کیفیت اپنے عروج پر تھی مگر اپنے حواس کو قابو کرنے کی کوشش میں دوبارہ کلچ کی طرف بڑھی۔۔۔پلٹتے ہی لمبی ہیل مڑی اور لڑکھڑا گئی ۔۔ اس سے پہلے کہ گرتی روحیل نے آگے بڑھ کر تھام لیا۔۔۔
چند لمحے تو آنکھوں کے سامنے تارے ٹمٹمانے لگے، اس اچانک افتاد پر دماغ پوری طرح سے سمجھ نہ پایا مگر ہوش میں آتے ہی فوراً خود کو روحیل کی باہوں کے حصار سے چھڑا کر بستر کی جانب بڑھ گئی۔۔منتشر دھڑکنوں کا شور بڑھتا چلا جا رہا تھا۔۔
وہ میں معذرت چاہتی ہوں ،میرے جوتے کی ہیل بہت لمبی ہے۔۔۔زینہ نے مجرموں کی طرح جھکی گردن سے صفائی پیش کی۔۔
کوئی بات نہیں ہو جاتا ہے۔۔! روحیل ہاتھ باندھے شرافت کا پیکر بنا کمرے کے ایک کونے میں کھڑا دوبارہ گویا ہوا۔۔
اگر نوٹ نہیں ملے تو کم از کم مجھے “تبت سنو” ہی ڈھونڈ کر دے دو ۔!!!
جی۔!! دوسرے مطالبے پر زینہ کو ایک اور جھٹکا لگا۔۔۔
آپ تبت سنو کریم کو کیا کریں گے۔؟؟؟ زینہ روحیل کے عجیب و غریب مطالبات پر الجھ کر رہ گئی۔۔۔
مجھے اسکی خوشبو سونگھنی ہے کیونکہ بچپن میں ہماری امی استعمال کرتی تھیں تو تبت کی خوشبو محسوس کر کے ایسے لگتا ہے جیسے امی کہیں آس پاس ہی ہیں۔۔۔
روحیل نے سنجیدگی سے بولا جبکہ اپنے اندر ہنسی کا طوفان دبائے کھڑا تھا۔۔۔
وہ میں نے خود تو کبھی تبت استعمال نہیں کی ہے مگر امی زید کبھی کبھار کر لیتے ہیں ۔ میں ادھر امی کے پرانے سنگھار میز کے دراز میں ڈھونڈتی ہوں۔۔۔
چلو کوئی نہیں میں ادھر بیٹھا تمہارا منتظر ہوں جب تک تم ڈھونڈ نہیں لیتی ہو۔۔! روحیل اطمینان سے زینہ کے کمرے کے کونے سے سرک کر بستر پر آن بیٹھا۔۔۔
ووووووووہ آپ باہر چلے جائیں ،باقی سب کیا سوچیں گے ۔؟؟؟ زینہ نے لرزتی آواز میں بمشکل بولا، اور پھدک کر روحیل سے دور ہٹی۔۔۔
زینہ تم باقیوں کی فکریں چھوڑ دو بس اپنی فکر کرو۔۔۔ تم میری بیوی ہو اور میں تمہارا شوہر ہوں۔۔!!
زینہ کے دل کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگیں۔۔۔بےقابو دھڑکنوں کا شور عروج پکڑنے لگا۔۔
اب کھڑی کیوں ہو ؟ جلدی سے ڈھونڈو۔!
روحیل نے نرم دھیمے لہجے میں بولا۔۔۔
جی ۔! بت بنی زینہ الماری کے پاس پڑے زمانہ قدیم کے سنگھار میز کو کھنگالنے لگ گئی۔۔۔
تمام چیزیں الٹ پلٹ کر دیں مگر تبت کا حصول ناممکن رہا۔۔۔
مایوس ہو کر روحیل کی طرف پلٹی۔۔۔
تبت بھی نہیں مل رہی ہے۔۔۔ زینہ نے اپنی اندرونی کیفیت کو چھپانے کے لیے مخروطی انگلیاں مروڑنا شروع کر دیا۔۔۔
اچھا کوئی بات نہیں ہے۔! مجھے تم مل گئی ہونا یہی کافی ہے۔۔ روحیل کی محبت پاش نظروں کی تپش زینہ کے چہرے کو جھلسانے لگی۔۔۔
آپ میری طرف ایسے نہیں دیکھیں۔!! زینہ نے مجبور ہو کر بولا۔۔
تو پھر کیسے دیکھوں۔؟؟؟ روحیل نے سنجیدگی سے استفسار کیا۔۔۔
بس اب آپ یہاں سے چلے جائیں، آپ نے بولا تھا کہ ایک جھلک دیکھ کر چلا جاؤں گا مگر آپ گزشتہ دس منٹ سے یہاں پر تشریف فرما ہیں۔۔۔
روحیل کا قہقہہ بلند ہوا۔۔
زینہ کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا۔۔
اچھا اب پریشان نہ ہو، تمہیں جی بھر کر دیکھنا مقصود تھا سو دیکھ لیا ۔
تو آپ نے وہ پچاس پچاس کے نوٹ اور تبت کا بہانا گھڑا تھا کیا۔؟؟؟
ہاں تمہیں بیہوش ہونے سے بچانے کے لیے یہی حل سوجھا وگرنہ اس وقت تم بیہوش ہو کر میری باہوں میں جھول رہی ہوتی۔۔۔میرا بنیادی مقصد تمہارے ذہن کو کسی خاص مقصد کی طرف مبذول کروانا تھا۔۔ روحیل نے زینہ کے دماغ میں الجھی گتھی کو فوراً سلجھا دیا۔۔۔
ویسے بہت خوب صورت لگ رہی ہو۔ ماشاءاللہ۔!!روحیل کا مخمور لہجہ اور محبت پاش نظریں زینہ کی بچی کھچی ہمت بھی ہوا ہونے لگی۔
آپ یہاں سے جائیں مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے۔۔۔
زینہ نے لاچارگی سے لرزتی آواز میں بولا۔۔
آپ نے بولا تھا کہ صرف نکاح ہوگا اور بس۔۔!! زینہ نے شکوہ کناں لہجے میں بولا۔۔
تو ابھی صرف نکاح ہی ہوا ہے۔!!
کیوں کچھ اور ہونا باقی ہے کیا ۔؟؟ روحیل کو زینہ کو چھیڑتے ہوئے لطف آ رہا تھا۔۔
آپ اس طرح کی معنی خیز باتیں کریں گے تو پھر میں اسلام آباد نہیں جاؤں گی۔!
اسلام آباد تو تمہیں ہر حال میں جانا پڑے گا ،بہرحال معنی خیز باتوں پر سوچا جا سکتا ہے۔گھبراو نہیں ۔!!
ابھی بس اپنا حجاب پہنو۔! ہمیں کچھ دیر بعد نکلنا ہے۔! روحیل نے کھڑے ہوتے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ بولا۔۔ جبکہ زینہ ہنوز نظریں فرش پر گاڑھے لرز رہی تھی۔۔
زینہ ۔!!
جی۔!
میری طرف دیکھو۔!! روحیل نے نیا حکم نامہ جاری کر دیا۔۔
گھنیری پلکوں کی باڑ پر لرزا طاری تھا البتہ مخاطب کو دیکھنے کی خواہش قطعاً نہ تھی۔۔
زینہ۔!!
چار و ناچار زینہ کو جھکی پلکوں کی باڑ اُٹھانی پڑی ۔ نشیلی آنکھیں ناظر کی آنکھوں سے جا ٹکرائیں۔ بنا ایک لمحے کی تاخیر کیے فورا نظریں جھکا لیں۔۔
آپ مجھے ہراساں کر رہے ہیں۔زینہ نے ایک اور گل افشانی کی۔۔
اچھاااااااااا۔!
شوہر کا بیوی کو محبت بھری نظروں سے دیکھنا ہراسگی میں آتا ہے کیا۔؟؟
بولو جواب دو۔!! روحیل بضد ہونے لگا۔۔
آپ تک میں نے تمام شروط پہنچا دیں تھیں لہذا ان پر عمل بھی کریں۔! زینہ نے گھبراہٹ چھپاتے ہوئے منہ بسورا۔۔
تو تمہیں مجھ سے ابھی تک محبت نہیں ہوئی ہے ۔؟؟
نہیں بالکل بھی نہیں۔!! زینہ کا کورا جواب پاکر روحیل کچھ دیر کے لئے خاموش ہو گیا۔۔
نہیں ہوئی مگر بہت جلد ہو جائے گی “محبت”.! روحیل نے لفظ محبت پر زور دے کر بولا۔۔
ابھی جلدی سے تیار ہو جاؤ تمہارے استعمال کی تمام چیزیں اسلام آباد تمہیں تمہارے کمرے میں موجود ملیں گی۔۔۔ روحیل نے بولا اور تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔۔۔
زینہ نے سینے میں رکی سانس کو خارج کیا ۔۔ ایسے لگ رہا تھا کہ کسی نے کندھوں پر بھاری پتھر باندھ رکھے تھے۔۔۔
روحیل کے بیٹھک میں پلٹتے ہی صحن میں تمام اہل خانہ کی چہل پہل شروع ہو گئی۔۔
زید عاصم ڈرائیور کے ہمراہ گاڑیوں میں مطلوبہ سامان کی منتقلی میں جت گئے۔۔۔ شہلا امی کی ادویات اور باقی ساز و سامان کو کمرے سے نکال کر باہر صحن میں لانے لگی۔۔۔
زینہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ عروسی لباس تبدیل کر لے یاپھر ایسے ہی حجاب پہن لے۔۔
کچھ دیر کی سوچ بچار کے بعد سامعہ کو پیغام بھیجا۔۔۔
“سامعہ تم جیسی چالاک لومڑی آج دن تک نہیں دیکھی ہے۔! آج مجھے تم تنہا چھوڑ کر دم دبا کر گھر چلی گئی اور وہ جو رومانویت کا بخار میرے پلے پڑا ہے، نجانے کتنا ضبط کر کے اس سے جان چھڑائی ہے۔ تمہیں پتا بھی ہے مجھے اس شخص سے بہت خوف آتا ہے۔””
زینہ نے نم آلود آنکھوں سے سامعہ کو پیغام بھیجا اور خود بستر پر بیٹھ کر اپنا پسندیدہ شغل پورا کرنے لگی۔۔۔
اے زینہ۔! تم ابھی تک بیٹھی ہوئی ہو پھوہڑ بھابھی۔! عاصم نے کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے اندر جھانکا۔۔۔
زینہ ہڑبڑا کر فوراً کھڑی ہو گئی۔ نہیں بس میں تیار ہونے لگی ہوں بس امی کو اپنی مکمل تیاری دوبارہ سے دکھا لوں۔۔۔ !
اچھا جلدی کرو۔!! ماسی کو تو ہم گاڑی میں بٹھانے والے ہیں۔۔۔وہ تمہیں اسلام آباد پہنچ کر دوبارہ دیکھ لیں گی۔۔
اور ہاں فی الحال تم اور
ماسی آ رہے ہو ۔!
کیوں ویرے۔؟؟؟
زید نے کچھ ضروری کام نپٹانے ہیں اور شہلا آپا بھی کہہ رہی ہیں کہ زید کو اکیلے نہیں چھوڑا جا سکتا ہے لہذا دونوں یہاں سے فارغ ہو کر اسلام آباد آ جائیں گے۔۔
اچھا۔! زینہ کا دل گھبرانے لگا۔۔۔
یا اللہ اس شخص سے میرا آمنا سامنا بہت کم ہو۔ پتا نہیں اپنے گھر لے جا کر کیا کرے گا۔۔؟؟
اگر اس بندے نے کسی بات پر وعدہ خلافی کی تو میرے پاس بھی تمام شروط کے سکرین شاٹس موجود ہیں۔۔۔
اس وقت تو بڑے جوش کے ساتھ میری ہاں میں ہاں ملائی جا رہی تھی۔۔
زینہ نے بجھے دل کے ساتھ خود کو حجاب میں لپیٹا اور اپنے اس کمرے کو الوداعی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔ زندگی کی بہت ساری یادیں اس کمرے سے جڑی تھیں۔۔۔ امی کی ہمراہی میں سونا جاگنا، دکھ درد بانٹنا، اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے پورے ہو جانے پر خوشی سے پھولے نہ سمانا، سبھی کچھ تو چھوٹ رہا تھا۔۔۔ نیا ہمسفر ،نئی جگہ، نئے لوگ اور نیا رہن سہن زینہ کو رلائے جا رہا تھا۔۔۔
یکدم گلا گھٹا فون تھر تھرایا۔۔
“زینہ اگر تم نے اس طرح کی باتیں آئندہ کیں تو میں تمہارا حشر نشر کر دوں گی۔۔ وہ تمہارا محرم ، تمہارا شوہر ہے ، عزت سے رشتہ مانگ کر اپنے گھر کی چار دیواری میں لے جا رہا ہے۔۔ اپنی محفوظ چھت تمہیں سونپ رہا ہے۔اگر مجھے پتا چلا کہ تم نے ڈر کے مارے اس سے ٹھیک طریقے سے بات نہیں کی تو میں نے عبد السمیع کو لے کر تمہاری درگت بنانے اسلام آباد پہنچ آنا ہے۔اس کا گھر اب تمہارا گھر ہے۔۔۔ مجھے دوبارہ شکایت کا موقع نہ ملے۔! سسرال پہنچ کر مجھے اپنی خیریت کا پیغام بھیج دینا”۔۔!!
زینہ پیغام پڑھ کر دل مسوس کر رہ گئی۔ سامعہ بھی آنکھیں پھیر چکی ہے ، سبھی کو روحیل ہی نظر آتا ہے۔ میرے جذبات احساسات کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔۔
نشیلی آنکھیں شکوہ کنائی پر اتر آئیں۔۔ ٹپ ٹپ کرتے چند قطرے بےمول ہو گئے۔۔۔۔
فون اٹھا کر کلچ میں رکھنے لگی تو سکرین پر روحیل کا پیغام جھلملانے لگا۔۔۔
“زینہ کچھ دیر بعد ہمیں نکلنا ہے لہٰذا بنا روئے دھوئے گھر سے نکلنے کےلئے تیار ہو جاؤ.!
مجھے کائنات میں اگر کسی سے محبت ہے تو وہ صرف تم ہو۔! تمہارا رونا مجھے نڈھال کرتا ہے خدارا بہادر بنو۔! تم باڈر پر نہیں بلکہ اپنے سسرال جا رہی ہو ، اپنی ماں کی صحت کی بحالی کی خاطر تمہیں بہادر بننا ہو گا۔ایک اور درخواست اللہ کا واسطہ ہے۔! برائے مہربانی مجھے دیکھ کر ڈرنا چھوڑ دو۔۔
نا ہی تو میرے سینگ نکلے ہیں اور نا ہی میرے پیچھے دم لگی ہے۔
مجھے روتی بسورتی زینہ دکھائی نہ دے ، باہر گاڑی میں تمہارا منتظر ہوں”””۔
صرف تمہارا روحیل۔!!!
ہائے اللہ۔! اس شخص کی اس والہانہ محبت کی سمجھ نہیں آتی ہے۔۔ زینہ نے لرزتے ہاتھوں سے فون کلچ میں قید کیا اور اپنا شرعی لباس درست کرنے لگی۔۔۔
**********************************
رخصتی کا وقت آن پہنچا ۔ امی کو بہت آرام کے ساتھ روحیل کی مرسیڈیز بینز میں بٹھایا گیا۔۔ جبکہ دوسری گاڑی ہونڈا سیویک میں ڈیڈ ڈرائیور کے ہمراہ اگلی نشست پر براجمان ہو گئے۔۔۔
عاصم زید اور شہلا کے ہمراہ زینہ کو خارجی دروازے تک لایا گیا۔۔۔
روحیل نے زینہ کو خارجی دروازے سے نکلتے دیکھا تو فوراً گاڑی سے نکل کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔
زینہ جو کہ پہلے ہی حزن و ملال کی کیفیت سے دوچار تھی، روحیل کا بڑھا ہاتھ دیکھ کر گھبرا گئی۔۔
فوراً پلٹ کر عاصم کو دیکھا۔۔۔
بھابھی صاحبہ اپنے شوہر نامدار کا ہاتھ تھام لیں اور گاڑی میں براجمان ہو جائیں اس سے پہلے کہ یہ آسمانی بدلیاں ہم سب کو بھگو ڈالیں۔۔۔
چار و ناچار زینہ نے روحیل کی طرف دایاں ہاتھ بڑھا دیا جسے تھامتے ہی روحیل نے نرمی سے دبانا واجب سمجھا۔۔۔
یار جنوری میں کس قدر ٹھنڈ بڑھ جاتی ہے۔۔۔عاصم ٹھٹھرتے ہوئے زید سے بغل گیر ہوا ۔۔
اچھا آپا بہت جلد آپ سب دونوں سے ملاقات ہو گی ان شاءاللہ۔۔۔
روحیل نے زینہ کو ماسی امی کے پہلو میں بٹھا کر عقبی دروازہ بند کیا اور زید شہلا کے ساتھ الوداعی سلام دعا کے بعد گاڑی کی اگلی مسافر نشست پر جا بیٹھا۔۔۔
بھیا گاڑی کون چلائے گا ۔؟؟
باہر کھڑے عاصم نے واویلا مچایا۔۔
عاصم شرافت سے گاڑی کے اندر آؤ اور گاڑی تم چلاؤ گے۔!!
بھیا۔!!!!
جی چھوٹے۔!!!
روحیل نے عاصم کی نقل اتاری۔۔
جبکہ عقب میں بیٹھی زینہ امی کے ساتھ لگ کر ہنوز اشکبار تھی۔۔۔
روحیل نے پلٹ کر عقب میں دیکھا۔۔
ماسی آپ نے پریشان بالکل بھی نہیں ہونا ، ہم میرپور سے اسلام آباد تقریباً اڑھائی گھنٹے میں پہنچ جائیں گے ان شاءاللہ۔۔۔
اللہ تم دونوں کو سکھی رکھے بیٹا۔۔ !
جاری ہے
