Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28
جی پھپھو ۔! مگر روحیل ایسا چاہتے تھے اس لیے میرا سارا سامان ادھر ہی ہے۔۔
شریفاں اوپر جاؤ اور روحیل کو بولو زینہ کے لیے ایک کلپ نکال کر دے۔
جی بیگم صاحبہ۔! میں ابھی جاتی ہوں۔
زینہ تم فورا اس دھنیے اور پودینے کی باریک بینی سے چھانٹی کر کے اسے پانچ سات مرتبہ ثابت دھو لو اور پھر کٹائی کے بعد دوبارہ دھونا ہے ۔!
جی بہتر۔!!
زینہ کپکپاتے ہاتھوں سے نئے حکم نامے پر عملدرآمد کرنے کے لئے جت گئی جبکہ مکئی کی روٹی کی پریشانی الگ ستائے جا رہی تھی۔۔
ریشمی زلفیں پھپھو کے تیور بگاڑنے کے لیے کافی تھیں۔۔
دروازے پر دستک نے روحیل کے باچھیں کھلا دیں۔
صوفے پر بیٹھے بیٹھے اندر بلانے کی ہانک لگائی۔
شریفاں کو دروازے سے نمودار ہوتے دیکھ کر دل کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔
وہ صاحب جی زینہ بی بی کے بال باندھنے کے لیے کلپ درکار ہے ، آپ ذرا وہ نکال دیں۔!
زینہ کو بولو خود آکر لے جائے، مجھے نہیں پتا اسکے کلپ کہاں پر رکھے پڑے ہیں۔ روحیل نے سکرین پر نظریں جمائے کورا جواب دے کر شریفاں کو پریشان کر دیا۔۔
صاحب اگر آپ اجازت دیں تو میں خود دیکھ لیتی ہوں۔؟
نہیں ۔! کوئی ضرورت نہیں ہے۔!
زینہ کو بھیجو اوپر۔!
صاحب بڑی بیگم صاحبہ پہلے ہی بہت غصے میں ہیں۔
خالہ آپ زینہ کو بولو کہ صاحب نے بولا ہے خود آکر لے جاؤ۔!
جی بہتر۔ شریفاں کو چار و ناچار خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔۔۔
باورچی خانے میں پہنچتے ہی پھپھو کی سوالیہ نظریں شریفاں کو ہراساں کرنے لگیں۔۔
وہ بیگم صاحبہ روحیل صاحب بول رہے ہیں کہ زینہ بی بی خود اوپر آئیں اور اپنی ضرورت کی تمام چیزیں لے جائیں۔۔
ٹھیک ہے تم لہسن چھیلو۔!
زینہ تم نے کونسا منتر میرے بھتیجے کے اوپر پڑھ کر پھونک دیا ہے جو وہ تمہارے ارد گرد منڈلاتا رہتا ہے۔ ہر وقت زینہ زینہ کرتا رہتا ہے۔
اب دیکھو ذرا نیا بہانا۔! شرم و حیا بھی کسی چڑیا کا نام ہے لڑکی۔!
نجانے کتنے عرصے سے میرے بھتیجے کو پھانسے بیٹھی تھی ، اسے ہزار مرتبہ بولا تھا کہ اپنی کلاس کی لڑکی ڈھونڈ مگر مجال ہے جو اس کے کان پر جوں بھی رینگ گئی ہو ۔۔
مڈل کلاس کی لڑکیوں کو صرف مال کی ہوس ہوتی ہے ، اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ اس طرح کی بدھو لڑکیاں کیا جانیں۔!
اے زینہ میں تیری کوئی چال اس گھر میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔۔!!
ٹھیک ہے تمہاری امی نے عاصم کو تمہارے ساتھ دودھ پلا کر بہت بڑی نیکی کی تھی مگر اسکا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ وہ نیکی ساری زندگی گلے کا ڈھول بنا کر لٹکائے پھرو۔۔! پھپھو کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ چکا تھا ، جو منہ میں آ رہا تھا بولے چلی جا رہیں تھیں۔۔
سینک پر کھڑی زینہ کا دل خوف سے لرزنے لگا ، آنکھیں توہین آمیز القابات پر نمکین پانیوں سے بھرنے لگیں ، چند بےقابو قطرے باغی ہو کر گول گالوں کو بھگو گئے۔۔ کپکپاتے ہاتھوں سے دھنیا پودینہ دھوتی زینہ
دل ہی دل میں دعائیہ کلمات پڑھنے لگی۔۔
(عمل الیوم واللیلہ لابن السنی:351؛ ابن حبان:974و سندہ حسن)
“اے اللہ کوئی کام آسان نہیں ہے مگر جسے تو آسان بنا دے اور تو جب چاہتا ہے مشکل کو آسان بنا دیتا ہے”۔
زینہ کی طرف سے جواب نہ پا کر پھپھو تلخ کلامی کے بعد خود ہی خاموش ہو گئیں۔۔
شریفاں میرے کمرے میں سنگھار میز پر پونی پڑی ہے اسے لا کر دو۔!
جی بیگم صاحبہ بس ابھی لائی۔۔
زینہ شدت غم میں بھول چکی تھی کہ کتنی مرتبہ وہ دھنیا پودینہ دھو چکی ہے نل کھولے بس دھوتی چلی جا رہی تھی۔۔
تم دھنیا دھو رہی ہو یا سینک پر کھڑی دھنیا اگا رہی ہو۔؟؟
ججججی ۔! زینہ نے چونک کر اپنے آنسو صاف کیے۔۔
شریفاں اسکے بال باندھو ۔! زینہ تم نے بالوں کو ہاتھ نہیں لگانا ہے۔
ججججی۔!
زینہ چھلنی دل کے ساتھ پھپھو کی طرف سے ملنے والے تمام کچوکے خاموشی سے سہنے لگی۔۔
*****************************************
ماشاءاللہ آج تو کھانا بہت ہی لذیذ بنا ہے ،ہماری بہو رانی نے تو کمال کر دیا ہے۔
ارے زینہ کو بھی بلاؤ۔! کتنے گھنٹوں سے باورچی خانے میں گھسی پڑی ہے۔۔
بھائی جان اسے میں نے تازہ روٹیاں ڈالنے کا بولا ہے ،اسے نان بنانے جو نہیں آتے ہیں۔پھپھو نے ایک اور نقص نکالا۔۔
شمیم نان کس لیے بھئی جب بریانی موجود ہے ۔
بھائی جان قورمے کے ساتھ نان ہی ہونے چاہئیں۔۔!!
ویسے پھپھو اگر آپ کی کلاس کی لڑکی ہوتی تو کیا وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرتی۔؟؟ جیسے آپ زینہ کو اپنے اشاروں پر نچوا رہی ہیں ، اس کلاس کی لڑکی آپکو ایک سانس میں دس باتیں سنا ڈالتی۔
عاصم سے رہا نہ گیا اور زینہ کی ہمدردی میں بول پڑا۔۔
اے عاصم ہو گئیں ہیں تیری طرف داریاں شروع۔۔!!
چھوٹے گھرانوں کی لڑکیوں کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے ورنہ اپنی اوقات بھول جاتی ہیں۔۔
پھپھو اوقات تو ہم بڑے گھرانوں والے بھول چکے ہیں۔
ہمارے دل بڑے گھروں میں رہتے رہتے بہت تنگ ہو چکے ہیں، اور پتا ہے ہم سب بڑے گھروں کے مکین تنگ نظری میں اپنی مثال آپ ہیں۔!
بس اب عاصم کا فلسفہ شروع ہو گیا ہے۔!!
پھپھو یہ فلسفہ نہیں ہے ، یہ تلخ حقیقت ہے جسے ہم جیسے امراء ماننے سے انکاری ہیں۔!!
تم چپ کر کے کھانا کھاؤ۔!
روحیل خاموشی سے سب کی گفتگو سن رہا تھا جبکہ دل زینہ کی ہمدردی میں جل رہا تھا مگر حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔۔ بیتاب دل بار بار زینہ کے لیے ہمک رہا تھا ، کتنے گھنٹے بیت چکے تھے اس معصوم لڑکی کا دیدار کیے ہوئے۔۔۔
پھپھو نے تمام کھانا میز پر سجوا کر سب کو کھانے کے لیے بلایا لیا اور زینہ کو روٹیاں پکانے کا بول کر خود کھانا شروع کر دیا۔۔
ٹھیک دومنٹ بعد شریفاں چنگیر میں تازہ روٹیاں ڈھانکے آن پہنچی۔۔
شریفاں زینہ کدھر ہے بھئی ۔؟؟ اسے بلاؤ۔!
وہ بڑے صاحب جی بی بی اپنی امی کو کھانا کھلانے چلی گئی ہیں۔۔
آپ سب کو اور روٹی چاہئے تو میں لا دیتی ہوں۔؟؟
نہیں نہیں کافی ہے۔! تم جاؤ۔! ارشاد صاحب نے شریفاں کو نرمی سے پوچھ کر واپس بھیج دیا۔۔۔
روحیل پہلو بدل کر رہ گیا۔ عاصم سے رہا نہ گیا تو بولا۔۔
میں ماسی امی کو کھانا کھلاتا ہوں اور زینہ کو ابھی بھیجتا ہوں۔ عاصم نے فوراً کرسی چھوڑ دی۔۔
ارے آپا کھانا تو خود سے کھا لیتں ہیں ایسے ہی خواہ مخواہ یہ لوگ پریشان ہوتے ہیں۔ پھپھو کی زبان میں کھجلی ہوئی۔ جبکہ روحیل کا سارا دھیان زینہ کی طرف تھا۔ جی چاہا بھاگ کر اسے اپنی باہوں میں بھر کر اپنے پاس بٹھا کر خود اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلائے۔۔
************#Zaynah_Hayyat*************
زینہ آپا ذیشان بھائی شہلا آپا کو اپنے ساتھ گھر لے گئے ہیں۔ تم نے آپا کو سمجھایا نہیں تھا کیا ۔؟؟
آپا میں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر ذیشان بھائی بڑی عاجزی سے منت ترلا ڈال رہے تھے تو آپا مجبور ہو گئیں۔۔۔ اور پھر آپا کے انکار پر دوسری شادی کی دھمکی بھی دینے لگ گئے۔۔۔
زید اللہ ذیشان بھائی کو ہدایت دے آمین۔۔۔
آپا اب وہ لوگ آپ کے گھر آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔!
زید شہلا آپا کو منع کر دو ۔! یہاں پر روحیل کی پھپھو بھی موجود ہیں انہیں شاید اچھا نہ لگے۔۔
زید دیکھو امی بھی ادھر ہیں اور مجھے ان سب پر بوجھ بننا اچھا نہیں لگتا۔۔ تم سمجھ رہے ہو نا میری بات زید۔؟؟ میرے سسرال کی بات ہے زید۔!
آپا میں تو ہر بات اچھی طرح سے سمجھتا ہوں مگر ذیشان بھائی کو کون سمجھائے۔! اب میں بھی بڑی آپا کی وجہ سے مجبور ہو گیا ہوں ، ساری زندگی بہن کو گھر میں بھی نہیں بٹھایا جا سکتا ہے اور ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنا بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔۔
زینہ کا چھلنی دل زید کی باتوں پر مزید کڑھنے لگا۔۔
تم بتاؤ پاسپورٹ وغیرہ کا کیا بنا ہے۔؟؟
آپا پاسپورٹ تو تیار ہے مگر روحیل بھائی نے بولا ہے کہ دبئی نا جاؤ۔!!
وہ کیوں۔؟؟
وہ چاہتے ہیں کہ میں انکی میرپور والی تمام جائیداد کی دیکھ بھال کروں اور کرایوں کی وصولی کروں تو وہ ماہانہ مجھے معقول تنخواہ دیں گے ، جتنا میں دبئی جا کر کماؤں گا اتنا ہی وہ مجھے یہاں پر دیں گے۔ پھر میں نے بھی سوچا ہے کہ امی کو آپ کے گھر لمبا عرصہ تو نہیں رکھا جا سکتا ہے ، لہذا انکی صحت بحال ہوتے ہی میں انہیں اپنے ساتھ میرپور واپس لے آؤں گا ان شاءاللہ۔
مگر زید وہ تمام جائیداد تو بیچ رہے تھے۔؟؟
جی وہ تو بیچنا چاہتے ہیں مگر خریدار انکی منشا کے مطابق رقم دینے سے انکاری ہے اس لیے انہوں نے تمام جائیداد کرائے پہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔۔
اچھا۔! پر زید تم کتنا سارا کما لو گے۔؟
آپا ستر ہزار ماہانہ روحیل بھائی دیں گے اور انہوں نے بولا ہے کہ میں اپنا ورکشاپ والا کام بھی جاری رکھوں۔۔
تم ایسا کرو چھ مہینے ان کے لئے بنا تنخواہ کے کام کرو اور انہیں بولو کہ یہ امی اور آپا کے علاج کا خرچہ ہے جو انہوں نے تمہیں قرض حسنہ کے طور پر دیا تھا۔۔ تم اب اکیلے ہو تمہارا خرچہ بآسانی پورا ہو جائے گا۔۔! بلکہ ایسا کرو پانچ مرلے کے بجائے کوئی تین مرلے والا مکان دیکھو ۔!!
آپا میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ جلد از جلد قرضے کا بوجھ سر سے اتار دوں اور کسی چھوٹے مکان کا بھی بندوبست کرتا ہوں ان شاءاللہ۔۔
وہ دونوں بھائی تو کل دبئی جا رہے ہیں تو پھر تم ان سے کب ساری بات طے کرو گے۔؟؟؟
زید ٹھہرو۔!!! یہ عاصم ویر آ گیا ہے تم خود ہی بات کر لو۔!
ویر عاصم زید سے بات کر لیں۔!
زید تم فون بند کرو ، میں تمہیں اپنے فون سے کال کرتا ہوں۔!
زینہ تم جاؤ کھانا کھاؤ ۔! ڈیڈ بار بار تمہارا پوچھ رہے ہیں۔ میں ادھر ماسی امی کے پاس ہی ہوں اور زید سے بھی بات کر لیتا ہوں۔۔
تم اپنا فون ساتھ لے جاؤ ۔! میں زید کو اپنے فون سے کال کرتا ہوں۔۔!!
ٹھیک ہے ویرے پر امی نے صرف چند چورا لقمے ہی لئے ہیں اور اب مزید کھانے سے انکاری ہیں تو بیچ میں ہی زید کی کال بھی آ گئی۔
ویرے اب دیکھو امی پھر سے غنودگی میں چلی گئی ہیں۔ فورا تھک جاتی ہیں۔!
ہاں فالج کے مریض کی قوت بحال ہونے میں وقت درکار ہے ۔!
تم فکر نہ کرو ، میں انہیں دیکھتا ہوں۔!
اور تم نے کھانا ٹھیک سے کھانا ہے ، تم نے کھانا بہت مزے کا بنایا ہے ویسے ۔۔
عاصم نے لاڈ سے زینہ کو ساتھ لگا کر شاباشی دی۔۔
ویرے تم کتنے کم عرصے میں ہمارے اتنے قریب آ گئے ہو ، ویرے تم بہت یاد آؤ گے۔! زینہ کی آنکھیں جھلملانے لگیں۔
پگلی نہ ہو تو، میں سارے کام نپٹا کر فوراً لوٹ آؤں گا۔! اور یہ رونا میرے لیے ہے یا پھر کسی خاص ہستی کی جدائی کا رونا ہے ۔؟؟
ویرے۔!!! تم بھی نا ۔! زینہ کا چہرہ لال ہونے لگا۔۔۔
ویسے وہ خاص ہستی بھی تمہارے دیدار کے لئے بیتاب ہے ذرا جا کر اپنا مکھڑا دکھا آؤ۔!
ویرےےےےے ۔!! تم بہت شرارتی ہو گئے ہو۔!
کیونکہ میں اپنے بڑے بھائی کی رگ رگ سے واقف ہوں ، بھائی بعد میں دوست پہلے ہے۔ جاؤ اس سے پہلے کہ وہ ادھر انتظار میں سوکھ کر کانٹا بن جائے۔۔
ویرے سچی پوچھو تو مجھے ذرا بھی بھوک نہیں ہے بلکہ ابھی مجھے انکی کل کی تیاری مکمل کرنی ہے۔۔
تم بتاؤ تمہارا سامان کون کون سا ہے ۔؟ میں سب اکھٹا کر کے ابھی رکھ دیتی ہوں۔
تم میری فکر نہ کرو ۔! صرف میرے اس بھائی کو سنبھالو جس کا علاج صرف تمہارے پاس ہے ۔۔!!
زینہ میری ساری تیاری مکمل ہے ۔! مجھے اکثر سفر کرنا ہوتا ہے تو اب عادت سی ہو گئی ہے ، میں ہر چیز بآسانی کر لیتا ہوں۔۔!
تم صرف میرے اس مجنوں بھائی کا خیال رکھو۔!!
ویرےےےےے۔! زینہ نے زچ ہو کر دانت پیسے۔۔
اب بس کرو زینہ ۔! اندر سے لڈو پھوٹ رہے ہیں۔!
میں جا رہی ہوں اوپر انکا سارا سامان تیار کروں ۔ تم امی کا دھیان رکھنا۔! زینہ نے لال بھبھوکا چہرے کے ساتھ بولا اور کمرے سے فوراً نکل گئی۔۔
اوپر روحیل کے کمرے میں پہنچنے پر روحیل کو نا پاکر سکھ کا سانس لیا۔۔
سب سے پہلے بستر کی چادر درست کی ، پھر کھلی بوتل کا ڈھکن بند کر کے میز پر رکھا۔ روحیل کے موزوں کو سیدھا کرکے کونے میں پڑی کپڑوں کی ٹوکری میں ڈالنے کے لیے پلٹی تو روحیل ہاتھوں میں کھانے کی ٹرے تھامے کمرے میں داخل ہوا۔۔
زینہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
وہ میں آپ سے معافی چاہتی ہوں پھپھو مکئی کی روٹی کے لئے رضامند نہ تھیں ، میں نے کوشش تو کی تھی۔۔
زینہ نے سہمے لہجے میں روحیل کو صفائی پیش کی۔۔
تم سے کسی نے مکئی کی روٹی کا پوچھا ہے کیا۔؟؟ آپ نے بولا تھا کہ آپ نے مکئی کی روٹی کھانی ہے۔
وہ تو تمہاری صلاحیتوں کو چیلنج کر رہا تھا۔۔
خیر ابھی خاموشی سے آؤ میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاؤں گا۔۔روحیل نے ٹرے کو میز پر رکھا۔۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔!
تمہیں بھوک کیوں نہیں ہے۔؟؟
بس کھانا بناتے ہوئے اسکی خوشبو سے بھوک اڑ گئی۔۔ زینہ الماری کے پٹ کھولے کپڑوں کو الٹ پلٹ کرنے لگی۔۔
مجھے کوئی بہانا نہیں سننا ہے ۔فورا سے پہلے آ جاؤ ورنہ مجھے زبردستی کرنا بھی آتا ہے ۔۔
روحیل سچی مجھے بالکل بھی بھوک نہیں ہے۔
روحیل کی جان کو بھوک ہو یا نہ ہو ، کھانا تو کھانا پڑے گا۔۔!!
روحیل نے جھپٹ کر زینہ کو اپنے حصار میں لے کر دیوار کے ساتھ پڑے صوفے پر لا بٹھایا۔۔
ضد کیوں کرتی ہو۔؟؟ مچلتی ہو اور پھر مجبوراً تمہیں میری بات ماننا پڑتی ہے۔! روحیل کی محبت پاش نظریں زینہ کے دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل کرنے لگیں۔۔
اب مجھ خوبرو جوان کو گھورنا چھوڑ دو اور منہ کھولو۔!! روحیل نے چاولوں کی چمچ بھر کر زینہ کی طرف بڑھائی۔۔
کیا تم نہیں چاہتی کہ میں اللہ کے حضور اجر کما سکوں؟ زینہ میں بھی چاہتا ہوں کہ نیکیوں کا ذخیرہ کر لوں۔!
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوند کواپنی بیوی کے بارہ میں احسان اوراس کی عزت کرنے کی وصیت فرمائی ہے ، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو لوگوں میں سب سے بہتر ہی اس شخص کوقرار دیا جو اپنی اہل عیال کے ساتھ احسان کرتا ہے ۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
“تم میں سے سب سے بہتر اوراچھا وہ ہے جواپنے گھروالوں کے لیے اچھا ہے ، اورمیں اپنے گھروالوں کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں”۔۔ (سنن ترمذی حدیث نمبر :3895 ؛ سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 1977 ؛ علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کو صحیح سنن ترمذي میں صحیح قرار دیا ہے ۔
اور بیوی کے ساتھ احسان اور اچھے سلوک کے بارہ میں جو سب سے بہتر اورخوبصورت ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ خاوند کا اپنی بیوی کوکھلانا اور اس کے منہ میں لقمہ ڈالنا یہ اس کے لیے صدقہ کا درجہ رکھتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
“آپ جوبھی نفقہ کرتےہیں اس کا اجر ملتا ہے حتی کہ وہ لقمہ جو آپ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہیں وہ بھی”۔۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر:6352 ) (صحیح مسلم حدیث نمبر: 1628 ) ۔
چمچ منہ میں لیتے ہی زینہ کی آنکھیں چھلکنے لگیں۔۔
چاولوں نے چٹکی کاٹی ہے جو رو رہی ہو ؟؟ آج پہلی بار کسی کو کھانا کھاتے ہوئے روتے دیکھا ہے۔۔!
روحیل آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں یہاں پر ہوں۔؟؟ میرا ہمدرد غمگسار بھائی جو میرے درد میں برابر کا شریک ہے ، اس نے فورا
مجھے پیغام رسانی کر دی تھی۔۔!!
اب خوش۔؟؟!
آپ میرا اتنا خیال کیوں کرتے ہیں۔؟؟
جو لوگ دل کے قریب ہوتے ہیں ، دل میں بسیرا کیے بیٹھے رہتے ہیں ، بےپناہ کوشش کے باوجود بھی انکا خیال دل سے نہیں نکالا جا سکتا ہے۔۔
ان تمام گھنٹوں کے دوران میرا تمام دھیان تمہاری طرف لگا رہا ہے حالانکہ میں کام کر رہا تھا، پھر بھی تم میرے حواس پر سوار تھی ۔!!
کوشش تو بہت کرتا ہوں مگر پھر بھی تمہاری یہ من موہنی صورت آنکھوں کی پتلیوں پر قابض ہے۔۔!!
اب مجھے باتوں میں نہیں لگاؤ بلکہ سارا کھانا کھاؤ۔!!
روحیل مجھے بالکل بھی بھوک نہیں ہے۔!
اچھا صرف مزید پانچ چمچے کھا لو پھر زبردستی نہیں کروں گا۔۔!!
کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں۔؟؟
میں تم سے ناراض ہونا بھی چاہوں تو بھی ناراض نہیں رہ پاتا ہوں۔!
میں خود سے کھا لوں۔؟ نہیں تم صرف میرے ہاتھوں سے کھاؤ گی۔!!
مگر آپ چمچ کو لاد لاد کر میرے منہ میں ڈال رہے ہیں۔! اتنے بڑے نوالے میں نہیں کھا پاؤں گی۔!!
اوہ میں تو اپنے کھانے والا انداز اپنائے ہوئے ہوں۔! روحیل ہنسا تو اسکے موتیوں کی طرح سفید دانت زینہ نے بہت قریب سے پہلی مرتبہ دیکھے۔۔۔
تمہیں پتا ہے میں نے پہلے کبھی بیوی کو کھانا کھلایا جو نہیں ہے۔!! مگر اب بہت جلد سیکھ جاؤں گا ان شاءاللہ۔
روحیل۔!!
جی روحیل کی جان۔!!
وہ مجھے آپ سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں ، مگر آپ یہ کھانا روکیں پلیز۔۔
یہ آخری چمچ حلق سے نیچے اتارو پھر جی بھر کر باتیں کرو۔!
یہ پانی بھی پی لو۔! روحیل نے ٹرے میں رکھا گلاس سامنے بیٹھی زینہ کی طرف بڑھایا۔۔
چند سپ لینے کے بعد زینہ نے گلاس ٹرے میں واپس رکھ دیا۔
اب بولو ۔! کیا کہنا چاہتی ہو۔؟؟
روحیل وہ بات دراصل یہ ہے کہ آپ میرے سے ناراض نہ ہوا کریں پلیز۔ زینہ نے دھیمے لہجے میں التجا کی۔۔
روحیل نے آگے بڑھ کر زینہ کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا۔
تم بیوقوف لڑکی سے میں ناراض نہیں رہ سکتا ہوں۔!!
تو وہ جو پہلے ناراضگی اور غصہ دکھا رہے تھے۔؟؟
وہ تو تمہیں بہادر بنانے کی ایک تدبیر تھی جو کارگر ثابت ہوئی ہے ، میری زینہ میرے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کر رہی تھی۔
روحیل نے بولتے ساتھ زینہ کی پیشانی چوم ڈالی۔۔
زینہ کا چہرہ یکدم شرم سے لال ہوگیا۔۔
پتا ہے جب ایسے شرماتی ہوتو پہلے سے بھی زیادہ حیا کے رنگ تمہارے چہرے پر نمایاں ہو جاتے ہیں۔۔
مجھے پتا ہے تم جو کہنا چاہتی ہو مگر تم میں ہمت نہیں ہے کے کہہ سکو۔!! یہی بات ہے نا۔؟؟؟
زینہ نے فوراً نظر اٹھا کر اوپر دیکھا۔۔
زینہ مجھے پتا ہے اس نئے رشتے کے کچھ حلال پاکیزہ تقاضے ہیں جنہیں پورا کرنا تمہارے بس کی بات نہیں ہے، اسکی سب سے بڑی وجہ تمہاری پارسائی ہے، تمہاری حیا ہے اور پھر تم ذہنی طور پر خود کو تیار نہیں کر پا رہی ہو اور ویسے بھی تم اس نئے رشتے میں اچانک سے باندھ دی گئی ہو۔!!
زینہ مجھے تم سے محبت ہے مگر تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے۔!!
تمہیں اس رشتے کو قبول کرنے میں وقت لگے گا۔ اور میں تمہیں وقت دینے کے لیے تیار ہوں ۔!!
اس رشتے میں حلال تقاضوں کے لئے جتنا وقت لینا چاہو لو میں کبھی بھی تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کروں گا۔۔
مگر خدارا مجھ سے ڈرنا چھوڑ دو۔!!
زینہ پھٹی پھٹی نظروں سے روحیل کی اس حقیقت شناسی پر حیران تھی۔۔
آپ کو کیسے پتا چلا میں یہ سب سوچتی ہوں۔؟؟
زینہ میں ایک باشعور مرد ہوں اور شاید چہرہ شناس بھی ہوں ۔!!
زیادہ نہ سہی اپنی معصوم بھولی بھالی زینہ کی نفسیات کو بخوبی سمجھ سکتا ہوں۔۔!!
اب وعدہ کرو۔!!
کیا ؟؟
مجھ سے ڈرو گی نہیں ۔!!
کوشش کروں گی۔!!
کوشش نہیں بلکہ عمل بھی کرنا ہے۔ روحیل نے آنکھیں پھیلائیں۔۔
روحیل کی باتیں سن کر گویا زینہ کے سینے پر پڑا بھاری پتھر سرک گیا۔۔۔ زینہ نے لمبی سانس خارج کی۔
روحیل آپ کا بہت شکریہ۔!! زینہ نے دایاں ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
“آج سے میں آپ کی پکی والی دوست ہوں”۔!!
نئی اور پکی والی سہیلی صاحبہ تمہارا بہت بہت شکریہ۔!!
روحیل نے زینہ کا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگا لیا۔۔
اب بس اتنا ہی کافی ہے۔! زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے۔! سمجھے ہیں۔؟؟!!
ہاہاہاہا ہاہاہاہا روحیل کا فلک گیر قہقہہ بلند ہوا۔۔
سہیلی صاحبہ کی زبان بھی چلنے لگی ہے۔۔!!
سہیلی صاحبہ اپنی ہتھیلی دو ۔!!
کیوں۔؟؟
ہتھیلی تو دو یار .!!!
زینہ نے روحیل کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلا دی۔
روحیل نے جیب میں پڑا بٹوہ نکال کر زینہ کے ہاتھ پر رکھا اور اسکی ہتھیلی بند کر دی۔۔
یہ کیا ہے روحیل۔؟؟
یہ میری سہیلی بیوی کا جیب خرچ ہے۔!!
میں نے اتنے سارے پیسوں کا کیا کرنا ہے؟؟ روحیل مجھے ضرورت نہیں ہے۔!! آپ یہ پاس رکھ لیں۔!!
فزیو کے پیسے آپ پہلے سے ادا کر چکے ہیں ، میرے کھانے پینے ، اوڑھنے پہننے کی ہر چیز دستیاب ہے تو مجھے ان پیسوں سے کیا کرنا ہے۔؟؟ میں کونسا آپ کی غیر موجودگی میں گھر سے باہر نکلوں گی۔!!
سہیلی بھی ہو اور بات بھی نہیں مانتی ہو۔؟ روحیل نے منہ لٹکا کر دہائی دی۔۔
زینہ کا نقرئی قہقہہ بلند ہوا۔۔
کھکھلا کر ہنسنے سے چہرے کی لالی کے ساتھ چہرہ دمکنے لگا۔۔
اب بس بھی کر دو یار۔!!
جاری ہے
