Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35
زینہ کیا ہو گیا ۔؟؟ ارشاد صاحب سے پہلے پھپھو بھاگتی کمرے میں آن پہنچیں۔
زینہ کی اشکبار آنکھیں پھپھو کو انہونی کا پتا دے گئیں۔۔ پھپھو نے فوراً آگے بڑھ کر زینہ کو اپنے سینے میں بھر لیا۔ زینہ کی ہچکی بند گئی۔
پھپھو امی چلی گئی ہیں۔۔
ارے نہیں زینہ تمہیں کوئی وہم ہو رہا ہے ، صبح باجی اچھی بھلی تھیں جب فزیو ہو کر گیا ہے۔ اور پھر میں جیمی کو الوداعی ملاقات کے لیے لائی تھی تم شاید اس وقت اوپری منزل پر تھی۔
زینہ باجی نے ڈھیروں دعائیں دے کر جیمی کو رخصت کیا ہے۔۔
زینہ میں خود دیکھتی ہوں۔!
پھپھو نے آگے بڑھ کر شہناز بیگم کی نبض دیکھی اور ہلکا سا ہلایا مگر بےجان وجود لڑھک گیا۔۔۔
یا اللہ ہماری اس بہو کے لئے یہ آزمائش آسان بنا دے آمین۔پھپھو نے تڑپ کر دعا مانگی۔۔۔
زینہ میری بچی جو اللہ کو منظور ہے مگر تمہیں بہت ہمت سے کام لینا ہو گا۔ صبر کرو میری بچی۔۔!
پھپھو نے زینہ کی تسلی تشفی کے بعد دوبارہ شہناز بیگم کی طرف رخ کیا اور تمام اعضاء جسم سیدھے کر کے چہرہ ڈھانپ دیا۔۔۔
ارشاد صاحب نے پہنچتے ساتھ ڈاکٹر کی فوری آمد کی اطلاع دی اور زینہ کو اپنے حصار میں لے لیا۔۔
زینہ تم تو بہت صبر والی ، میری بہت بہادر بیٹی ہو نا ۔!!! بس میں ابھی زید اور عاصم لوگوں کو اطلاع کرتا ہوں۔
تم حوصلہ رکھو۔!
شمیم تم زینہ کو سنبھالو۔! اسے پانی وغیرہ دو۔!!
ڈاکٹر کچھ دیر بعد پہنچ آئے گا۔۔
جی بھائی جان آپ جائیں میں سب سنبھال لیتی ہوں۔۔
بے آواز روتی زینہ پھپھو کے ساتھ لپٹ کر اپنی ماں کے مردہ وجود کا غم ہلکا کرنے لگی۔۔
زینہ کو اس وقت ایک کندھے کی ضرورت تھی اور پھپھو نے فراغ دلی سے زینہ کا سر اپنی آغوش میں لے لیا۔۔۔
تجربہ کار خاندانی ڈاکٹر آیا ، تمام بنیادی طبی معائنے کے بعد پچیس منٹ قبل حرکت قلب بند ہونے پر امی کی اچانک موت کی تصدیق کر گیا۔۔
ارشاد صاحب تو سب کو پہلے سے مطلع کر چکے تھے۔۔کچھ سوچ کر زینہ کی طرف پلٹے ۔ زینہ میری بیٹی تم کیا چاہتی ہو ۔؟ تمہاری امی کو جلد از جلد اسلام آباد میں ہی سپرد خاک کر دیا جائے یا پھر انکی میت میرپور لے چلیں۔؟ جو تم بولو گی ہمیں وہی منظور ہے۔۔
چچا زید آپا آرہے ہیں تو میں امی کو جلد از جلد دفنانے کے حق میں ہوں کیونکہ یہ حکم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔۔
اشکبار آنکھوں اور چھلنی دل کے ساتھ بھی بھرائی آواز میں زینہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اولین ترجیح دی۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹی ۔۔ بس اب زید شہلا پہنچ آئیں تو ظہر کے بعد جنازہ رکھ لیتے ہیں۔
عاصم نے آج کی ٹکٹوں کی پرزور کوشش کی ہے مگر تین دن بعد کی ٹکٹ مل رہی ہیں، تمہیں تو پتا ہے کہ ان مہینوں میں ٹکٹوں کا حصول نہایت کٹھن ہے۔۔
اور روحیل تو چند گھنٹے قبل ترکی کے لیے روانہ ہو چکا ہے ، اس نے جانے سے قبل تمہیں بارہا کال کی ہے مگر تم شاید باورچی خانے میں مصروف تھی اس لیے بات نہیں ہو پائی ہے ۔۔
میں نے بھی اس کے پیغامات کچھ دیر قبل ہی سنے ہیں۔ اصل میں وہ پاکستان جلدی لوٹنا چاہتا ہے تو جس کے لئے آج صبح اچانک ترکی کا ٹکٹ مل رہا تھا تو دبئی ائیرپورٹ سے ترکی نکل کھڑا ہوا ہے ۔۔
ابھی تو وہ شاید جہاز میں ہو گا ، میں نے کال کی بہت کوشش کی ہے مگر نہیں ہو پائی ہے ، اسکا مطلب ہے اسکا طیارہ اڑان بھر چکا ہے ۔۔
روحیل استنبول کے بجائے اناطولیہ گیا ہے جہاں کا ہوائی سفر دبئی سے بھی ساڑھے آٹھ گھنٹوں پر محیط ہے ، روحیل کو باجی کی وفات کی خبر بھی شاید کل ہی ملے گی۔۔ استنبول جاتا تو پانچ ساڑھے پانچ گھنٹوں میں پہنچ جاتا۔۔۔بہرحال تم بالکل بھی پریشان نہ ہو ، میں اور تمہاری پھپھو ہیں نا تمہارے پاس۔!!
مجھے اپنا ابو ہی سمجھو بیٹی۔!
ارشاد صاحب کا دست شفقت ہنوز زینہ کے سر پر تھا اور وہ دھیمے لہجے میں تمام حقائق زینہ کے گوش گزار کر رہے تھے جبکہ زینہ بے آواز قیمتی موتی لٹانے میں محو تھی۔۔ دل رنج و الم کی اذیت ناک کیفیات سے گزر رہا تھا۔۔
زینہ بیٹی عاصم نے بھی یہی بولا ہے کہ جنازہ میں تاخیر نہ کی جائے لہٰذا میں ابھی غسل اور کفن دفن کے انتظامات دیکھ لوں ۔۔۔ اور ہاں زید شہلا گھر سے روانہ ہو چکے ہیں بس ایک گھنٹے تک پہنچ آئیں گے ان شاءاللہ۔
شمیم میری بہو تمہارے حوالے ہے ، اسکا خیال رکھو ۔! ارشاد صاحب نے زبانی تنبیہ کے ساتھ ساتھ آنکھوں کے اشارے سے بھی چھوٹی بہن کو سمجھانا ضروری سمجھا۔۔
جی بھائی جان یہ میری بھی بہو ہے ، آپ بے فکر ہو کر باہر کے کام نپٹائیں ۔۔
ارشاد صاحب نے دست شفقت زینہ کے سر پر سے اٹھایا اور متوازن چال چلتے کمرے سے نکل گئے۔۔
******************************************
ہائے او میرے ربا۔!! میری بہن اچھی بھلی تھی ، کیسے ایک دم موت کے منہ میں چلی گئی۔؟؟! ہائے آخری وقت میں تو اپنی بہن کے ساتھ چند دل کی باتیں بھی نہ کر پائی ، اولاد جب منہ زور ہو جائے تو سگی بہنیں بھی بچھڑ جاتیں ہیں۔۔ بہو رانی مجھے چھوڑ کر اپنے بھائی کے ساتھ دوڑی چلی آئی ہے۔ میں بد نصیب چند گھڑیوں کے لیے بہن کا دیدار کر پائی ہوں اور سب جنازہ اٹھا کر دوڑ گئے باہر۔۔۔
ہائے ہمیں تو اس زینہ نے بکھیر ڈالا۔! پسند کی شادی رچا کر میری بہن کو بھی اپنے ساتھ لے اڑی۔۔
شہلا کی ساس خالہ ٹسووں کے ساتھ ساتھ بین بازی کرنے میں مصروف مہمان خانے کے داخلی دروازے سے داخل ہوئیں۔۔
زینہ برداشت نہ کر پائی تو بول اٹھی ۔۔ دیکھیں خالہ آپ اپنا غم آنسوؤں سے نکال لیں مگر خدارا یہ بین چھوڑ دیں ، اس سے میری امی کو اذیت پہنچ رہی ہے۔!
ہائے کیسے نا بولوں زینہ۔؟؟ میری بہن دنیا چھوڑ کر چلی گئی ہے ، میرے کلیجے میں آگ لگی ہوئی ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ(صحیح البخاری /1294)
یہ بھی نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی پر لعنت فرمائی ہے اور یہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے :
الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ( صحیح البخاری /1292)
اور ایک دوسری حدیث میں بھی آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ (صحیح البخاری /1286 مسلم /927)
(فتاویٰ اسلامیہ ج2 ص93)
اس وقت کہاں تھیں جب بہن بستر مرگ پر تھی۔؟؟ زینہ سوچ کر رہ گئی۔۔
خالہ ایسا کرنا گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ صبر وہی ہے جو مصیبت کے وقت کیا جائے۔! آپ آنسوؤں سے روئیں کوئی منع نہیں کرے گا مگر خدارا زبان سے اللہ کی نافرمانی والے کلمات نہ بولیں۔!!
زینہ نے آگے بڑھ کر خالہ کو تھام کر صوفے پر بٹھایا۔۔
شہلا غم کی تصویر بنی ایک کونے میں خاموش بیٹھی اپنی ماں کے لئے سوگوار تھی۔جبکہ پھپھو زینہ کے ساتھ ساتھ چلتی اسکی کمر سہلا رہیں تھیں۔۔ خالہ کی بناوٹی حرکات و سکنات ان سے بھی پوشیدہ نہ تھی مگر موقع کی مناسبت سے خود کو بولنے سے باز رکھا۔۔
اے زینہ تو اپنی یہ اسلامی کتابی باتیں اپنے پاس رکھ ، جب کسی کے اندر آگ دہک رہی ہو تو انسان بے اختیار ہو جاتا ہے۔
خالہ آپ پانی پیئیں اور آرام سے بیٹھیں ، آپ نے امی کو دیکھ تو لیا ہے نا یہ کم ہے کیا۔؟
اے بارہا ذیشان نے ادھر آنے کے لئے زور دیا ہے مگر تیری ماں اسے مسلسل منع کرتی رہی ہے۔
خالہ امی یہی چاہتی تھیں کہ جلد از جلد صحت یاب ہو کر میرپور لوٹ جائیں اس لیے آپ سب کو لمبے سفر کی تکلیف سے بچاتی رہیں ہیں۔۔
آپ اپنی بہن کے لیے دعا مانگیں۔
زینہ اپنے آنسو رگڑ کر خالہ کی دلجوئی میں لگ گئی۔۔
خالہ میں آپ کے لئے باورچی خانے سے پانی لے آؤں۔
زینہ تم بیٹھو میں لے کر آتی ہوں۔ پھپھو نے رنجیدہ زینہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔
پھپھو شریفاں خالہ کدھر ہیں۔؟ اسے میں نے مہمانوں کے ٹھہرنے کا بندوست کرنے کا بولا ہے۔ تمہارے بہن بھائی ٹھہریں گے نا تمہارے پاس۔؟؟
پتا نہیں پھپھو فی الحال کچھ کہہ نہیں سکتی ہوں ۔۔
چلیں میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں، سوگوار زینہ شہلا کو بھی کھینچ تان کر مہمان خانے سے نکال کر لے گئی۔۔ زینہ جانتی تھی کہ خالہ کی گل افشانیاں مذید شہلا کا جی جلائیں گی۔۔۔
کچھ دیر کے لئے کنارہ کشی میں عافیت جانی۔۔۔
پھپھو کیا میں آپا کو امی کے کمرے میں لے جاؤں۔؟؟ زینہ نے غمگین لہجے میں پھپھو سے اجازت طلب کی۔۔ صبح سے سیلابی ریلے بہا بہا کر آنکھوں کے پپوٹے سوجھ چکے تھے، نشیلی آنکھیں حزن و ملال کی کیفیت سے دوچار تھیں۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں زینہ۔! دونوں بہنیں جا کر بیٹھو اور اپنی خالہ کی فکر نہ کرو ، انہیں بولنے دو جو بولتی ہیں۔۔!
جی پھپھو۔! زینہ دھیمے لہجے میں بول کر شہلا کا ہاتھ تھام کر کوریڈور سے ماں کے کمرے کی طرف چل پڑی ۔۔۔
جنازے سے فراغت کے بعد ذیشان بھائی اپنی زبان کی میل اتارنا نہ بھولے۔۔
امی جان کیوں روتی ہیں۔؟ ان لوگوں کو اپنے خون کی قدر ہے بھلا ؟ میں اپنا خون تھا تو خالہ کی موت کی خبر ملتے ہی دوڑا چلا آیا ہوں ، سب کاروباری معاملات ترک کر کے پہلی ہائی ایس پکڑی ہے مگر یہ نیا داماد تو دیکھو ذرا ،اپنی موج مستی میں مبتلا نجانے کون کون سے گھاٹ کا پانی پی رہا ہے۔اور وہ رضاعی بھائی بھی جنازے میں شرکت نہیں کر پایا ہے ۔
رضاعی بھائی کی حالت بھی دیکھو ذرا۔!!
ہماری خالہ نے اپنی بیٹی کا حصہ اسے پلایا تھا اور آج دیکھو جنازہ تک نصیب نہیں ہوا ہے۔۔۔
زید برداشت نہیں کر پایا تو بول اُٹھا۔۔۔
ذیشان بھائی اول تو یہ وقت اس طرح کی گفتگو کا نہیں ہے اور دوسرا وہ دونوں بھائی دوسرے شہر نہیں بلکہ دوسرے ممالک گئے ہوئے ہیں جہاں سے واپسی کے لیے جہاز کا ٹکٹ درکار ہے۔
ہاں تو لیتے نا ٹکٹ۔!! غریب تھوڑی ہیں۔!
ذیشان بھائی بچوں کی مارچ اپریل کی چھٹیاں چل رہی ہیں اس لیے لوگ اس مہینے میں زیادہ سفر کرتے ہیں ، اچانک ٹکٹوں کا حصول ناممکن ہے۔۔۔
زید نے بمشکل برداشت کیا اور وضاحت دی۔۔۔
تم تو انکی چمچہ گری کرو گے ، تمہیں ماہانہ انکی طرف سے نوٹ جو ملتے ہیں۔!!
بوڑھی ماں کو پرائے در چھوڑ کر خود پیسے کے پیچھے بھاگتے رہے ہو۔۔ ذیشان نے زہر اگلا۔۔۔
بھائی صاحب ابھی آپ اپنی حد پار کر رہے ہیں ، میری ماں جیسے آپکو یہاں پر نہیں آنے دیتی تھی ویسے ہی مجھ پر بھی پابندی عائد تھی ، وہ نہیں چاہتی تھیں کہ بیٹی کے گھر میکوں کا زیادہ آنا جانا ہو۔۔۔ آپ کو ذرا بھی خوف نہیں آتا کہ آدھا گھنٹہ قبل ہم سب اپنے ہاتھوں سے امی کو منوں مٹی تلے دفنا کر آئے ہیں۔؟!
امید ہے آپ کو میری بات سمجھ آ چکی ہو گی۔۔! زید نے سوالیہ نظروں سے ذیشان کو دیکھا۔۔
تو بڑا سمجھ دار ہو چکا ہے لہٰذا تو ادھر پرائے گھر میں بیٹھ کر ماں کا سوگ منا ،ہم تو واپس میرپور جا رہے ہیں۔
اماں شہلا اٹھو۔!!! ذیشان نے مہمان خانے میں دائیں بائیں گردن گھما کر شہلا کو ڈھونڈا۔۔
آپا کہیں بھی نہیں جائے گی بھائی صاحب۔!
یہ چند دن اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ ٹھہرے گی ، اس وقت ان دونوں کو ایک ساتھ وقت گزارنے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔!!
او اچھا ۔!! روحیل کی بیوی ذیشان سے پردہ کرے اور شہلا کیوں اس نئے داماد روحیل سے پردہ نہ کرے۔؟؟
ذیشان بھائی اول تو روحیل بھائی گھر پر نہیں ہیں اور دوسرا وہ واپس آئے بھی تو انہیں تین سے چار دن لگ جائیں گے۔
تین دن بعد میں آپا کو واپس لے آؤں گا۔
واہ رے واہ تیرا یہ برادری کو کھلانے سے بچنے کا نیا نسخہ۔۔۔!!
تو بھی ادھر ہی پڑا رہے گا کیا ۔؟؟
بھائی صاحب میرا وہاں پر ہے کون ؟؟؟ جو میرا درد بانٹے گا ۔؟؟ ننھیال ددھیال سب کو میری غربت چبھتی ہے ، کسی ایک نے میری ماں کو دیکھا یا پوچھا ہے ۔؟؟؟ سبھی خاموش تماشائی بنے رہے ہیں ، اب میں وہی کروں گا جس میں میرا اور میری بہنوں کا سکون و اطمینان شامل ہو گا ۔۔
ٹھیک ہے پھر تیرے میں اتنی جرآت ہے تو سنبھال دونوں بہنوں کو ایک ساتھ پھر۔
چلو اٹھو اماں چلو چلیں۔! میری تو غیرت نہیں گورارا کرتی کہ میں پرائے در میں پڑا بےعزت ہوتا رہوں۔۔
اے بیٹھ جا تھوڑی دیر ذیشان۔! زینہ کے سسر کو آنے دے اور پھپھو ساس سے بھی چند ایک باتیں کر کے جائیں گے۔!
زید اس گھر کے مکینوں کو بلا کر لا۔!! یہ بھی کوئی طریقہ ہے ہمیں یہاں پر اکیلا بٹھا کر خود غائب ہو چکے ہیں۔! خالہ نے منہ مروڑا۔۔
خالہ بہتر ہے آپ لوگ عزت سے رخصت ہو جائیں۔! کس لیے خواہ مخواہ انہیں تکلیف دوں۔
چلیں میں آپ کو اڈے تک چھوڑ آتا ہوں۔!
اے دیکھ ذیشان۔! کتنا ڈرتا ہے زینہ کے سسرال سے اور سگی خالہ بہنوئی کو چلتا کر رہا ہے۔۔
خالہ ایسی بات نہیں ہے۔!
تو ٹھیک ہے پتر پھر ہم نکل رہے ہیں ، کچھ سوچ کر تم بہن بھائیوں سے رابطہ کریں گے۔
******************************************
زینہ بیٹی شہلا اور زید جا چکے ہیں ،پہلے تو تم دونوں بہنیں اس کمرے میں سوتی رہی ہو مگر اب میں تمہیں اس کمرے میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ہوں۔ آج سے تم اوپر روحیل کے کمرے میں سویا کرو گی۔
روحیل کا کچھ پتا نہیں کب اچانک واپس آ جائے ، تمہیں یہاں نیچے اکیلا دیکھے گا تو پریشان ہو گا۔۔۔ میں بھی نیچے سے اوپر جیمی کے کمرے میں سو رہی ہوں ، بھائی جان بھی اوپر ہوتے ہیں اور ویسے بھی تمہارا اصلی مقام روحیل کا کمرہ ہی ہے ، بلکہ یوں کہو کہ تم دونوں کا مشترکہ کمرہ ہے ۔۔
مجھے پتا ہے اس وقت تمہارے ساتھ اس طرح کی باتیں کرنا غیر مناسب ہے مگر زینہ تمہیں ایک مضبوط کندھے ، ایک سہارے کی ضرورت ہے جو صرف روحیل ہی تمہیں دے سکتا ہے ، میں بھی چند دنوں کی مہمان ہوں ، اپنے گھر لوٹ جاؤں گی۔۔
نہیں پھپھو آپ ابھی نہ جائیں ۔!! میں بہت اکیلی ہو جاؤں گی پھپھو ۔!! زینہ نے بولتے ساتھ زارو قطار رونا شروع کر دیا۔۔
ہائے میری بچی خود کو سنبھالو۔!!
روحیل کا اس وقت تمہارے ساتھ ہونا بہت ضروری ہے۔۔ عاصم تو کل آ رہا ہے ان شاءاللہ۔
تمہاری امی کے انتقال کی اطلاع دوسرے دن ملتے ہی روحیل نئے ٹکٹ کے حصول کے لیے سرگرداں ہے ، یہی بول رہا تھا کہ جتنا جلدی ہو سکا لوٹ آؤں گا۔۔۔
زینہ وہ تم سے بات کرنا چاہتا ہے ، وہ تمہارے لیے پردیس میں پریشان ہے ۔۔ آج ہمت کرکے اس سے بات کر لو میری بیٹی۔!
تم جب بھی روحیل سے بات کرتی ہو صرف روتی رہتی ہو ، آج تم نے روحیل کو باور کروانا ہے کہ تم ابھی بالکل ٹھیک ہو۔۔
جی بہتر۔!
پھپھو میں بہت کوشش کرتی ہوں مگر جب بھی ان سے بات کرتی ہوں ، انکی آواز سنتی ہوں تو میرا خود پر قابو نہیں رہتا ہے، میری آواز بھرا جاتی ہے ، میرے منہ سے کوئی بات ہی نہیں نکلتی ہے۔۔ امی اور روحیل کے درمیان ہونے والی آخری باتیں یاد آ جاتی ہیں۔۔
زینہ تم خود ہی تو بولتی ہو کہ سوگ صرف تین دن کا ہوتا ہے اسکے بعد زندگی کو معمول کے مطابق گزارنا چاہئے۔۔
جی پھپھو۔!! جیسے آپ کی خواہش ہے میں ویسے ہی کروں گی۔۔
اچھا چلو شاباش اپنی اور امی کی ساری چیزیں سمیٹو میں شریفاں کو بھیجتی ہوں وہ تمہاری مدد کروا دے گی۔
ارے نہیں پھپھو میں کر لوں گی، آپ بس چچا کو دیکھیں شاید انہیں چائے کی طلب نہ ہو رہی ہو۔
اچھا لمبا چوڑا سامان کل دن میں اوپر لے جانا ، ابھی وہی لے جاؤ جو ضروری ہے۔!
جی بہتر۔ زینہ نے بھیگے گال رگڑ ڈالے اور الماری دراز کی چھانٹی شروع کر دی۔۔
زینہ ابھی عشاء پڑھ کر سو جاؤ۔! یہ لمبا چوڑا کام بالکل بھی نہیں کرنا ہے۔!
بس پھپھو ابھی دو منٹ میں جا رہی ہوں۔
زینہ نے دکھی دل سے ماں کے خالی بستر پر ہاتھ پھیرا ، اپنا فون چارجر اُٹھایا اور دواؤں والے دراز سے ڈائری اٹھائی اور زینے چڑھنے لگی۔۔
خشوع و خضوع سے نماز عشاء ادا کی اور اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلا لئے ، ماں کی بخشش کی دعاؤں سے لے کر روحیل کی جلد اور خیریت سے واپسی پر گڑگڑانے لگی۔۔۔
میرے مالک میرے سر کے تاج ،میرے شوہر گھر خیریت سے لوٹ آئیں آمین ۔۔ ناچاہتے ہوئے بھی گال نمکین پانی سے تر ہونے لگے۔۔
معصوم نورانی چہرہ شدت غم سے کملا گیا۔۔۔
جائے نماز سمیٹ کر بستر پر آن لیٹی تو روحیل کی پسندیدہ مخصوص خوشبو سرہانے سے ناک کے نتھنوں سے ٹکرائی۔۔
مسنون اذکار کی ادائیگی کے بعد نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔ کمرے میں جلتی مدھم روشنی اور مکمل سناٹا چھایا ہوا تھا سوائے دیوار پر آویزاں بڑے گھڑیال کی ٹک ٹک کے۔۔۔
رتجگوں کی ماری زینہ آج ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی۔ تکیے پر سر رکھتے ہی مدہوش ، فون اور چارجر سنگھار میز پر چھوڑ کر حتیٰ کہ الماری میں ڈائری چھپانا بھی بھول گئی۔۔ ڈائری بستر سے ملحق دراز کے اوپر پڑی رہ گئی ، خود بستر پر لیٹتے ہی خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگی۔۔۔
روحیل نے آرام سے بند دروازے کا ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔ کمرے میں مدھم روشنی اور کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ، گھر کے کسی بھی فرد کو مطلع کیے بنا آن دھمکا ، اتفاقا ائیرپورٹ سے ٹکٹ کی دستیابی کسی بھی نعمت سے کم نہ تھی۔۔
اچانک گھر واپسی اور کمرے میں پہنچنے پر اپنے بستر پر مدہوش ہستی دیکھ کر چہرہ کھل اٹھا۔۔۔ منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔ دھیرے دھیرے دبے پاؤں چلتے ہوئے بستر کے قریب پہنچ کر تصدیق کی تو چہرے پر میٹھی مسکراہٹ بکھر گئی۔۔ طویل سفر کی تھکان اڑن چھو ہو گئی ہو۔۔دعائیں ایسے بھی قبول ہوتیں ہیں۔! میں نے زندگی کے کتنے ماہ و سال جہالت اور لا پرواہی میں گزار دیئے ہیں۔۔میری سفری دعائیں اس قدر دلفریب نتائج دیں گی سوچا بھی نہ تھا۔ سبحان اللہ۔
روحیل نے اپنی تصدیق کے بعد کندھے پر لٹکا لیپ ٹاپ بیگ اور فون کمرے میں موجود میز پر رکھا ، کلائی پر بندھی سلور “ہوگو بوس” کی بیش قیمت گھڑی کو سنگھار میز پر احتیاط سے اتار کر رکھا ، ٹائی کی گرہ ڈھیلی کر کے گہرے نیلے رنگ کا بلیزر اتار کر الماری کے ہینگر میں لٹکایا۔۔۔سفید شرٹ کے اوپری دو بٹنوں کو کھول کر سکھ کا سانس لیا ،
پاؤں جوتوں کی قید سے آزاد کیے اور محتاط دبے قدموں سے چلتا بستر کے قریب آن پہنچا۔۔
اس تمام دورانیے میں زینہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔ اللہ جانے اسکی نیند گہری ہے یا پھر شدید تھکن کا شکار ہے۔۔۔ روحیل خاموشی سے زینہ کے پاس فرش پر گھٹنوں کے بل دو زانوں بیٹھ کر اسکا بغور جائزہ لینے لگا
دل میں آئی کہ زینہ کو آواز دے کر اٹھا لے مگر پھر کچھ سوچ کر اپنے نظریے کو عملی جامہ نہ پہنا سکا ، ہاتھ بڑھا کر مدہوش زینہ کے چہرے کو چھونا چاہا مگر پھر اپنا بڑھا ہوا ہاتھ روک لیا۔۔
شب باشی کی دودھیا مدھم بتی کمرے میں پرکیف منظر پیش کر رہی تھی ، روحیل ٹکٹکی باندھے زینہ کے چہرے کے نقوش ایسے حفظ کرنے لگا جیسے دوبارہ زینہ کے دیدار کی مہلت نہیں ملے گی ۔۔
گزشتہ تین مہینوں سے دیدار کی تشنگی وہ اسی ایک رات پوری کرنے کے در پر تھا ، اپنی آنکھوں کی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ عنابی لب ہنوز مسکرا رہے تھے ، جی چاہا اس منظر اور ان لمحات کو اپنی مٹھی میں قید کرلے ، پرکیف پرکشش منظر دل میں ہلچل مچانے لگا۔ بار بار باغی دل گستاخی پر اکسانے لگا ۔۔
دوبارہ سے زینہ کے چہرے کو چھونے کی کوشش میں دایاں ہاتھ بڑھایا مگر زینہ کے رد عمل کا سوچ کر ہاتھ واپس بستر پر ٹکا دیا۔۔۔
اگر خشک مزاج محبوبہ کی آنکھ کھل گئی تو اس نے خوف سے اس بستر پر سونا بھی نہیں ہے لہذٰا بہتر ہے شرافت سے دیدارِ یار سے نینوں کو خیرہ کیا جائے۔۔۔
معصوم قدرتی حسن دیکھ کر دل میں اطمینان اترنے لگا ، ایسے لگ رہا تھا جیسے سالوں سے زینہ روحیل کے دل میں بستی رہی ہے اور اس سے صرف چار دنوں سے بچھڑا روحیل زینہ کے دیدار کو ترس گیا تھا ، اوپر سے اتنی دردناک آزمائش روحیل کی غیر موجودگی میں زینہ کی دنیا ویران کر گئی۔۔
ماسی امی کی موت کا سوچ کر دل میں زینہ کے لئے جذبہ ہمدردی نے سر اٹھایا۔۔۔
زینہ تم سوچ بھی نہیں سکتی میں نے یہ گزشتہ چار دن کس قدر اذیت میں گزارے ہیں۔۔
روحیل نے اپنے جذبات و احساسات کو مضبوط تھپکی دی اور دھیرے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
بنا شور مچائے الماری سے شب باشی کا لباس نکالا اور غسل کے لئے چل دیا ، غسل سے فراغت کے بعد عشاء ادا کی اور پھر بستر پر سوئی عزیز از جان ہستی کی طرف پلٹا۔۔۔ گھڑی رات کے بارہ کا ہندسہ عبور کر کے خراماں خراماں ایک بجے کی طرف رواں دواں تھی۔۔۔
جاری ہے
