Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36

نظر اچانک بستر سے ملحق دراز پر پڑی تو اپنی ڈائری کو دیکھ کر عنابی لب مسکرا اٹھے ، تو گویا روحیل کی جان ڈائری کا مطالعہ فرما چکی ہے یا پھر سونے سے قبل فرماتی رہی ہے ، روحیل نے متجسس ہو کر ڈائری کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۔ ڈائری کے بیچ میں اٹکا قلم کھسک کر نیچے گرنے لگا جسے روحیل نے بروقت اپنے دوسرے ہاتھ سے تھام لیا ۔۔۔
ڈائری کھولی تو نئی تحریر دیکھ کر حیرت کا دوسرا بڑا جھٹکا لگا۔۔۔
مدھم روشنی میں تحریر واضح نہ ہونے پر صوفے کی جانب بڑھ گیا اور میز پر پڑا فون اٹھا کر اسکی ٹورچ آن کر لی۔۔۔
ڈائری میں موجود زینہ کی تحریر نے روحیل کے اندر کھلبلی مچا دی ، جی چاہا زور زور سے چلائے ، اچھل کود کرکے سب کو بتا دے کہ زینہ نے اقرار محبت کر لیا ہے ۔۔ زینہ اب میری اور صرف میری ہے۔۔
زینہ نے روحیل ارشاد کو من و عن قبول کر لیا ہے ۔۔۔ روحیل بار بار زینہ کے تحریر کردہ جملوں کو پڑھتا اور اکیلا مسکراتا جا رہا تھا۔۔۔ دلفریب مسکراہٹ عنابی ہونٹوں پر ڈیرہ جمانے لگی۔ زینہ میں تو کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ میری واپسی پر مجھے اس قدر خوبصورت انعام ملنے والا ہے ۔۔۔
تو گویا زینہ جی تم نے میرے جانے کے فوراً بعد ہی اقرار محبت کر لیا تھا مگر مجھ دل جلے کو آج خبر ہو رہی ہے ، خیر کوئی بات نہیں ہے ، تمہارا بھی کوئی قصور نہیں ہے ،تمہیں تقدیر نے موقع ہی نہیں دیا ہے۔۔ماسی کی اچانک موت نے تمہارے ارمانوں کو سلا دیا ہے۔ روحیل نے فون کی ٹورچ بند کی ، اور ڈائری بند کرکے بستر کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔
زینہ ہنوز گہری نیند میں تھی۔۔
روحیل نے چند لمحے کھڑے ہو کر سوچا پھر بستر کے دوسری جانب بڑھ گیا۔
دھیرے سے کمبل کا ایک کونا کھینچ کر سیدھا کیا اور اپنے اوپر اوڑھ لیا ، کروٹ بدلی اور لیٹے لیٹے اپنی محبوب ہستی کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا ۔۔
بہتر ہے محبوبہ کو نہ چھیڑا جائے وگرنہ نتائج خطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔۔
زینہ نے مدہوشی میں ہی کروٹ بدلی اور چہرہ بستر کی دوسری جانب موڑ لیا ، ریشمی زلفیں پونی کی قید سے آزاد ہو کر بکھرنے لگیں۔
روحیل کامیاب عاشق بن گیا ہے مگر تیرے امتحانات کا سلسلہ شاید طوالت اختیار کر جائے ، لہذا محبوبہ کی زلفیں سنوارنے کے بجائے شرافت سے صبر کا گھونٹ پی اور سو جا۔۔۔ ہائے اس وقت نیند کس ظالم کو آئے گی۔؟؟روحیل نے دل میں سوچا اور بستر کے ایک کونے میں لیٹے لیٹے چار وناچار آنکھیں موند لیں۔۔۔
*****************************************
فجر کی اذان زینہ کو گہری نیند سے بیدار کر گئی ، فوراً بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئی ، بکھرے بالوں کو ہاتھوں سے سنوار کر دوبارہ پونی میں جکڑا اور غسل خانے میں گھس گئی۔سنگ مرمر کے فرش پر گیلے پاؤں کے نشانات حیرت میں مبتلا کر گئے ، لگتا ہے کسی نے میرا غسل خانہ استعمال کیا ہے۔
شاید میرے سوتے ہوئے پھپھو آئی ہوں۔؟ رات کو خاص طور پر تنبیہ کر کے گئیں تھیں کہ کمرے کی کنڈی نہیں چڑھانی ہے۔۔
وہی آئی ہوں گی پر روحیل کی شرٹ ٹوکری میں کیسے آن پہنچی ہے۔؟ جبکہ کل ہی میں نے میلے کپڑوں کی ٹوکری خالی کی ہے ۔۔
وضو سے فراغت کے بعد تمام شبہات کو جھٹک کر کونے میں مصلی بچھا کر خشوع وخضوع سے عبادت میں محو ہو گئی۔۔۔
سلام پھیر کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لیے ، آنسوؤں کی لڑیاں بنا کسی روک ٹوک کے گال بھگونے لگیں۔۔
پرزور کوشش کے باوجود بھی ہچکی بندھ گئی۔۔۔
اسی دوران کمرے کا دروازہ کھلا اور روحیل کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔
زینہ نے فوراً پلٹ کر دیکھا تو دیکھتی رہ گئی۔ سفید کرتا شلوار میں سر پر سفید ٹوپی سجائے دروازے سے متوازن چال چلتا خوبرو روحیل زینہ کی طرف بڑھنے لگا۔۔زینہ کی پانیوں سے لبریز آنکھیں پتھرا گئیں ، آنکھوں کو مسلا اور ایک منٹ کے تاخیر کیے بنا مسکراتے روحیل کی طرف دوڑ لگا دی۔۔
روحیل آپ کب آئے ہیں۔؟؟؟ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔؟؟ روحیل کے ساتھ لپٹی زینہ باتوں کے ساتھ رونے کا شغل بھی پورا کر رہی تھی۔۔۔
زینہ میری جان حوصلہ۔!! میں رات بارہ بجے سے گھر پہنچ چکا تھا ۔روحیل نے بڑی چادر میں لپٹی زینہ کو اپنے حصار میں بھینچا اور سر پر بوسہ دیا ۔۔
زینہ چلو آؤ ادھر آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ روحیل نے زینہ کو اپنے ساتھ لپٹائے صوفے پر بٹھایا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گیا۔۔
زینہ۔!!
جی۔!
میری طرف دیکھو۔!
روتی زینہ نے فوراً آنسوؤں سے لبریز آنکھوں کو اوپر اٹھایا تو روحیل نے اس کے ہاتھ اپنے لبوں سے لگا لیے ۔
زینہ مجھے ماسی امی کے اچانک چلے جانے پر بہت افسوس ہے مگر انہیں اتنی ہی سانسوں کی مہلت ملی تھی۔ مجھے پتا ہے اپنوں کو اچانک کھو دینا بہت مشکل ہے مگر تم صبر کے معنی مجھ سے زیادہ سمجھتی ہو۔!
روحیل مجھے امی کی آپ کے ساتھ الوداعی ملاقات بہت یاد آتی ہے اور امی کی وہ تمام باتیں جو وہ آپ اور ویرے سے کرتیں تھیں۔
روحیل آپ کو پتا ہے امی ہر وقت مجھے نصحیتیں ہی کرتی رہتیں تھیں ، اب مجھے کون سمجھائے گا ۔؟ کون بتائے گا ۔؟؟؟ زینہ نے ہچکیوں میں اپنا دل کھول کر روحیل کے سامنے رکھ دیا۔۔۔
جتنا رونا ہے رو لو۔! اب میں آ گیا ہوں ،خود کو تنہا نہ سمجھنا۔! تمہارے شوہر کا مضبوط کندھا حاضر ہے۔ روحیل نے روتی زینہ کو اپنے مضبوط حصار میں لے کر ہمت بندھائی۔۔۔
زینہ جب خوب رو چکی تو روحیل سے الگ ہو کر فوراً شکوہ کنائی پر اتر آئی۔۔
آپ نے مجھے رات گھر واپسی پر نیند سے اٹھایا کیوں نہیں ہے ۔؟؟ اور آپ کہاں پر سوئے تھے۔؟؟
زینہ مجھے اچھا نہیں لگا کہ تمہارے آرام میں مخل ہوں۔اور میں سویا بھی اسی کمرے اور اسی بستر پر تھا۔۔!!
ہائے اللہ۔! آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا تھا۔؟
تمہیں بتا کر بھگانا نہیں چاہتا تھا ، سوچا شاید تم نیند سے اچانک بیدار ہو کر ڈر نہ جاؤ۔!
تمہیں میرے ساتھ مانوس ہونے میں وقت لگے گا اسی لیے خاموشی سے اپنے کونے میں پڑے پڑے ایک گھنٹہ گھڑیال کی ٹک ٹک سن کر آخرکار نیند میرے اوپر بھی مہربان ہو گئی تھی۔۔۔
تمہارے اٹھنے سے قبل ہی وضو کر کے مسجد کے لیے نکل گیا تھا۔۔
میں اتنی گہری نیند میں تھی کہ میری آنکھ ہی نہیں کھل پائی۔۔۔
خیر چھوڑیں آپ نے کچھ کھانا ہے ۔؟؟ ناشتہ لے آؤں۔؟؟ رات کو بھی ایسے ہی سو گئے تھے۔۔
آپ نے رات کو کچھ کھایا تھا۔؟؟
نہیں کھایا تو نہیں تھا مگر پیا ضرور تھا ۔!
کیا۔؟؟
روحیل نے ڈائری کی طرف اشارہ کیا۔
یا اللہ۔! زینہ نے چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔
گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے زینہ۔! میں نے اپنی بیوی کا اظہار محبت پڑھ کر فوراً پی لیا تھا لہٰذا اب رات گئی بات گئی والی بات سمجھو ، اور شرماؤ نہیں ۔!!
چہرے سے ہاتھ ہٹاؤ۔۔! روحیل نے سنجیدگی سے زینہ کو دھیمے لہجے میں بولا۔۔
معافی چاہتی ہوں روحیل جیسے میں چاہتی تھی ویسے آپکا استقبال نہیں کر پائی ہوں۔۔!
زینہ مجھے رتی برابر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ تمہاری امی انتقال کر گئیں ہیں اور یہ آزمائش معمولی نہیں ہے۔۔
مجھے تو بس اسی بات کی بےانتہا خوشی ہے کہ مجھے میری کھوئی ہوئی محبوبہ مل گئی ہے ۔۔
مجھے تمہارے اقرار کا طریقہ کار بہت بھایا ہے ۔۔
اور میرے خیال میں ہم دونوں کے حق میں بہتر ہوا ہے ۔۔۔
جی ۔! زینہ نے جھکی گردن سے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔۔
ماسی کے بارے میں بتاؤ۔! جس دن انکا انتقال ہوا ہے اس دن انہوں نے کوئی خاص بات کی تھی۔؟؟زینہ کی خجالت مٹانے کے لیے روحیل نے فوراً بات کو بدلا۔
کچھ خاص نہیں بس معمول کے مطابق سب کچھ تھا ، ہاں البتہ آپ دونوں بھائیوں کو فجر کے بعد بہت یاد کر رہیں تھیں اور دعائیں دے رہیں تھیں۔۔۔
تم نے انکا خیال ٹھیک سے رکھتی رہی تھی زینہ۔؟؟
جی۔! میں تو دن میں تقریباً ہر گھنٹے بعد انہیں جاکر دیکھتی تھی ، جب خود مصروف ہوتی تھی تو شریفاں خالہ کو بھیج دیتی تھی۔۔ میں نے انہیں تنہائی محسوس نہیں ہونے دی روحیل۔!!!
روحیل خاموشی اور سنجیدگی سے زینہ کو باتوں کو سن رہا تھا۔۔۔
زینہ کی بات مکمل ہوتے ہی روحیل نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی پھر گویا ہوا ۔
زینہ تمہیں جیمی تنگ کرتا رہا ہے۔؟؟
ججججی۔؟ زینہ نے تڑپ کر چور نظروں سے دیکھا۔۔
آپ کو کس نے بتایا ہے ۔؟؟
اسی کمینے نے بتایا ہے۔؟؟
کیا بتایا ہے۔؟؟ زینہ ہچکچائی۔۔
یہی جو وہ تمہارے ساتھ کر کے گیا ہے۔! اور تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا تھا۔؟ روحیل نے بھنویں اچکا کر پوچھا۔
ووووووووہ روحیل میں نہیں چاہتی تھی کہ آپ کو پردیس میں پریشان کروں۔
اور خود تم اکیلی پریشان ہوتی رہی ہو۔؟
میرا کیا ہے روحیل مجھے تو آپ نے بھی کافی پریشان کیا تھا ۔نا چاہتے ہوئے بھی زینہ کی زبان سے شکوہ پھسل گیا۔۔۔
روحیل نے مسکرا کر اس شکوہ کناں ہستی کو اپنے ساتھ لپٹا لیا۔۔
اب تو نہیں نا کرتا تنگ ۔؟؟ اگر کرتا ہوں تو بتا دو ۔!
نہیں ابھی نہیں تنگ کرتے ہیں ۔! اور اگر کبھی کیا تو میں روٹھ جاؤں گی۔! زینہ روحیل کے حصار سے نکل کر سامنے بستر پر ٹک گئی۔۔۔
زینہ اس کمینے جیمی کی طرف سے معافی قبول کرو ، وہ جان بوجھ کر تمام حرکتیں کر رہا تھا جو کہ اسے زیب نہیں دیتی ہیں ، یا پھر شاید میرے کیے کی سزا میری معصوم سی بیوی کو بھگتنی پڑ گئی تھی۔۔
تمہارے بارے میں پتا ہے کیا بول رہا تھا۔؟؟
کیا ۔؟؟ روحیل بھیا بھابھی دیکھی تو نہیں ہے مگر بھابھی کا انداز بیان بہت ترش ہے۔ بولتی ہے تو مخاطب کا خون خشک کر دیتی ہے۔۔!
ابھی اس نے سنا ہی کیا تھا۔؟ اسے تو میں دو چار تھپڑ لگانے کا سوچ چکی تھی وہ تو خوش قسمتی سے پھپھو نے بروقت اسکی سیوہ کر دی تھی وگرنہ اس دن میرے ہاتھوں پٹ جاتا ۔۔ ! زینہ رونا بھول کر جیمی کے ذکر پر دانت پیس کر رہ گئی۔۔۔
روحیل نے زینہ کے جواب پر مسکراہٹ دبائی۔
اصل میں اسے نئی نئی سرگرمیوں کا شوق ہے تو اتفاقاً تم اس کے سامنے ایک نئے انداز میں آئی تو اس سے ہضم نہ ہو پایا اور وہ متجسس ہونے لگا ۔ خیر اسے معاف کر دو ۔! تمہاری بہت تعریفیں کر رہا تھا ، کہہ رہا تھا کہ بھابھی خالص ہیرا ہے اور سنا ہے ماشاءاللہ ساس بہو میں دوستی بھی بہت گہری ہو چکی ہے۔؟ روحیل نے کن اکھیوں سے زینہ کو دیکھا۔۔
جی آپ نے سب درست سنا ہے ۔
چار دن گھر سے باہر گزار کر آئے ہیں اور ایک ایک بات کی خبر رکھے ہوئے ہیں۔
یار میں کب خبر رکھتا ہوں ، خود ہی ان لوگوں نے مجھے تمام خبریں پہنچائی ہیں۔! انکے پیٹوں میں بات جو نہیں ٹھہرتی ہے۔! روحیل دھیمے سے مسکرا دیا۔۔۔۔
آپ نے دوبارہ سونا ہے تو سو جائیں۔! میں نیچے چلی جاتی ہوں۔
تم کیوں نیچے جاؤ گی۔؟؟
تاکہ آپ کی نیند میں خلل نہ پڑے۔!!
کیوں رات میری موجودگی میں تمہاری نیند میں خلل پڑا تھا کیا ؟؟؟
نہیں بالکل بھی نہیں ۔! زینہ نے چاروں طرف لپیٹی سفید چادر میں معصوم شکل بنا کر نفی میں گردن جھٹکی۔۔۔
تو پھر تمہیں بیٹھے بیٹھے قلقاریاں مارنے کی عادت ہے ۔؟روحیل نے ہنسی دبا کر سنجیدگی سے پوچھا۔
نہیں تو ۔! میری عمر ہے کہ میں اس عمر میں قلقاریاں ماروں گی۔؟ زینہ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔
اچھا چلو آؤ باہر باغیچے میں چلتے ہیں۔!!
ایک تو تازہ ہوا خوری بھی ہو جائے گی اور دوسرا طبیعت بھی ہشاش بشاش ہو جائے گی۔۔
چلیں ٹھیک ہے۔! میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں ، زینہ فوراً کھڑی ہو گئی۔۔۔
رہنے دو زینہ۔!!
جی ۔؟ زینہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
عبایا حجاب اوڑھ لو گھر سے باہر چہل قدمی کے لیے چلتے ہیں بلکہ آج پارک چل کر جائیں گے ، زیادہ دور نہیں ہے ، ہمارے گھر سے قدمی آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہے۔۔
چل لو گی کیا۔؟؟
جی میں چل لوں گی ، بعض اوقات یونیورسٹی سے بھی چل کر لوٹنا پڑ جاتا تھا۔۔ یونیورسٹی کے ذکر پر زینہ کچھ دیر کے لئے خاموش ہو گئی پھر یکدم گویا ہوئی۔۔
پر آپ پھپھو اور چچا سے نہیں ملیں گے کیا ۔؟
ان سے مل چکا ہوں ۔!
کب ۔؟ ابھی مسجد سے واپسی پر۔!
پھپھو اتنی صبح جاگ گئیں تھیں کیا۔؟
پھپھو نے غالبًا تمہاری صحبت کا اثر لے لیا ہے یا پھر تمہاری امی کی اچانک موت کا کہ وہ بھی نماز ادا کرنے لگ گئیں ہیں ماشاءاللہ۔۔
کچھ نیک لوگوں کا ساتھ بھی ساتھ رہنے والوں پر اثر انداز ہوتا ہے شاید۔ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے ، تم نے کبھی بھی انہیں کچھ نہیں بولا ہے مگر تمہارے اعمال ، تمہارے برتاؤ نے انہیں ضرور خیر کی رغبت دلائی ہے۔۔ روحیل نے محبت پاش نظروں سے سامنے بیٹھی زینہ کو دیکھتے ہوئے فخریہ انداز میں بولا۔۔۔
روحیل میں نے کیا کرنا ہے ، یہ تو صرف وہ اوپر والا مالک ہے جو دلوں کو نور توحید وسنت سے منور کرتا ہے۔۔زینہ نے بولا اور اپنے اردگرد لپٹی بڑی چادر اتار کر الماری میں لٹکے حجاب کو اوڑھنے لگی۔۔۔
زینہ۔!!
جی ۔! حجاب اوڑھتی زینہ پلٹی۔۔
تم بہت خوبصورت اور بہت اچھی ہو۔! مجھے اللہ کی طرف سے ایک انعام کے طور پر ملی ہو ، کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ میری کونسی نیکی ہے جس کی بدولت اللہ نے تمہیں میرا بنا دیا ہے۔؟
آپ بھی نا بس۔! زینہ کے چہرے کا رنگ لال ہو گیا، فوراً چہرے کو نقاب میں چھپا لیا۔۔
زینہ ابھی ہم کمرے میں بیٹھے ہیں تو چہرہ کیوں چھپا لیا ہے۔؟؟
مجھے آپ کی باتوں پر شرم آتی ہے۔!
اچھا نقاب ہٹاؤ اب نہیں ایسی باتیں کروں گا۔!
جی اچھا۔زینہ نے چہرہ سے نقاب ہٹا دیا تو گول معصوم سا چہرہ دل میں اتر جانے کی حد پار کر رہا تھا۔تمہیں پتا ہے ان چار دنوں میں تم کس قدر کمزور دکھنے لگی ہو۔؟ تمہارا چہرہ کملا کر رہ گیا ہے۔!
اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں تم نے کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہو گا۔ آج سے میں تمہیں خود اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا کروں گا۔!!
سمجھی ہو۔؟؟
جی سمجھ گئی ہوں ۔معصوم زینہ نے زخمی مسکراہٹ سے ہامی بھری۔۔
روحیل نے اپنے جذبات کو ایک مرتبہ پھر تھپکا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
چلو آ جاؤ میرا ہاتھ تھامو۔! اب یہ نہ کہنا مجھے گھر والے دیکھ لیں گے۔!
جی۔! زینہ چوں چراں کیے بنا روحیل کا ہاتھ تھام لیا اور دبے پاؤں سیڑھیاں اترنے لگی۔۔
روحیل آپ نے رات سے کچھ نہیں کھایا ہے ، ابھی چائے کے ساتھ تھوڑا سا کھا لیں ، پھر ہم چہل قدمی کے لیے چلے جائیں گے۔۔۔۔
زینہ مجھے ابھی ضرورت نہیں ہے ، ابھی خاموشی سے میرے ساتھ باہر چلو۔
جی۔! زینہ روحیل کے ہمراہ چلتی ہوئی خارجی دروازے پر پہنچی تو پاؤں میں چپل دیکھ کر پریشان ہو گئی۔۔
روحیل وہ میں اپنا جوتا تبدیل کرنا بھول گئی ہوں اس چپل میں تو میرا سارا پاؤں ننگا نظر آ رہا ہے۔
زینہ نے رک کر روحیل کی توجہ اپنے پاؤں کی طرف مبذول کروائی۔
تمہارے جوتے اوپر ہیں یا نیچے ماسی کے کمرے میں پڑے ہیں۔؟
وہ سب کچھ آپ کے کمرے میں پڑا ہے۔
کیا مطلب آپ کے کمرے میں ؟؟؟
میرا مطلب ہے ہم دونوں کے کمرے میں۔!!
اچھا چلو رہنے دو باہر نہیں جاتے بلکہ عقبی باغیچے میں چلتے ہیں۔!
جی بہتر ہے۔!
زینہ روحیل کی ہاں میں ہاں ملاتی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔۔۔دونوں اینٹوں سے بنی پکی روش پر چلتے ہوئے کیاریوں میں لگے پھولوں کی طرف چلنے لگے۔۔۔ تازہ دیسی گلاب کی خوشبو باغیچے میں پھیلی ہوئی تھی، پرندوں کی چہچہاہٹ اپنے عروج پر تھی، رات کی تاریکی کو سفید روشنی اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ چاروں طرف خاموشی کا راج تھا۔
زینہ ۔!
جی۔!
تم میرپور جانا چاہتی ہو۔؟؟ میرا مطلب ہے اگر تم اپنے بہن بھائی کے ساتھ چند دن قیام کرنا چاہتی ہوتو میں تمہیں چھوڑ آؤں گا۔!!
پر آپ کیسے اکیلے رہیں گے۔؟؟ یکدم زینہ کی زبان سے پھسل گیا۔۔ مگر بعد میں پچھتائی جب روحیل کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔
میری پرواہ کرتی ہو مجھے بہت اچھا لگتا ہے ، اور یہ بھی سچ ہے کہ میں تمہارے دیدار کے بغیر رہ بھی نہیں پاؤں گا مگر بعض اوقات دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا پڑتی ہیں۔!
میں دوسروں ہوں ۔؟؟؟ زینہ نے فوراً رک کر پوچھا۔
بیوی صاحبہ میں نے چھوٹی سی مثال دی ہے۔۔
آپ دوسروں نہیں ہو بلکہ پہلوں سے بھی بڑھ کر پہلی ہو۔! اب خوش ہو ۔؟
جی بہت خوش ہوں ماشاءاللہ۔۔
میں تو صرف اس لیے بول رہا تھا کہ زید کے لیے اچھا ہوگا اگر تم چند دنوں کے لیے چلی جاؤ گی تو اسے تھوڑی ڈھارس مل جائے گی۔ شہلا آپا بھی اپنے گھر لوٹ گئی ہیں اور تم اپنے گھر میں ہوتو اکیلا تو وہ بیچارہ رہ گیا ہے نا ۔! جسے امید تھی کہ ماں تندرست ہو کر بہت جلد گھر لوٹ آئیں گی جیسے ایک وقت مجھے اور عاصم کو امید تھی ۔
یکدم روحیل کا لہجہ سوگوار ہو گیا۔۔
جی ۔ یہ بات تو ہے یہاں سے جاتے ہوئے زید بہت رو رہا تھا۔ !
زینہ زید کو بھی ادھر ہی نا بلا لیں۔؟؟ ہمارا کتنا بڑا گھر ہے ،کسی بھی کمرے میں ٹھہر جائے گا۔!
نہیں روحیل زید کبھی بھی نہیں مانے گا۔! پہلے ہی آپ سب کے بہت احسانات ہیں۔!
زینہ تم بار بار ماضی کو کیوں کھینچ کر لے آتی ہو ۔؟
روحیل انسان کو حقیقت پسند ہونا چاہئے اور اپنا ماضی نہیں بھولنا چاہئے۔۔!
یار زینہ نیکی کر دریا میں ڈال۔! اللہ نے مجھے مال دیا اور توفیق بھی اللہ نے ہی دی ہے تو میں نے خرچ کیا وگرنہ میری حیثیت تو کچھ بھی نہیں ہے ،میں ایک عام انسان ہوں یار ۔!
آپ میرے سے پوچھیں کہ آپ میرے لیے کیا ہیں ۔؟؟
جی جی ضرور بتائیں میری سماعتیں آپ کے ذکر خیر کے لیے شدت سے منتظر ہیں۔! روحیل نے چلتے ہوئے رک کر اپنا کان زینہ کے سامنے کیا۔۔
آپ بہت اچھے ہیں ماشاءاللہ۔!
بس ۔؟؟
نہیں ٹرک۔!! زینہ نے چھیڑا۔
ہاہاہاہا ہاہاہاہا زینہ تمہاری باتیں بہت یاد آتیں تھیں۔۔ شکر کیا ہے عربوں اور ترکوں سے جان چھوٹی ہے ۔
آپ نے بتایا نہیں ہے کہ جس کام کے لیے گئے تھے کیا وہ ہو گیا ہے ۔؟؟
ہاں جس دن انا طولیہ پہنچا اسی دن ماسی امی کی اطلاع مل گئی تو کچھ کرنے کو جی ہی نہیں چاہا مگر دوسرے دن مجھے اس سارے معاملے کو نپٹانا تھا لہٰذا صبح سویرے ہوٹل سے نکل گیا تھا اور کاریگروں سے ملاقاتیں کیں اور وہ لوگ بہت جلد ہمارا نیا آرڈر شپ کر دیں گے ان شاءاللہ،
باقی روزانہ ٹکٹوں کی تگ و دو میں رہتا تھا کہ کب میں اپنی پیاری سے بیوی کے پاس پہنچوں اور اس کے تمام غم بانٹ لوں۔۔
خیر اب میں آگیا ہوں ،ابھی پریشان نہیں ہونا ہے ،مجھے تم اپنا دوست ،ہمدرد غمگسار ساتھی پاؤ گی ان شاءاللہ۔
جی ۔! روحیل آپ کا بہت شکریہ ، آپ واقعی بہت اچھے ہیں ماشاءاللہ ۔ زینہ نے بھرائی آواز میں بولا اور دوبارہ سے رونا شروع کر دیا۔۔
زینہ یار ۔! ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے اچھے ہیں اسی لئے اللہ نے ہمارا ساتھ لکھ دیا تھا، ابھی میری جان رو تو نہیں ۔ روحیل نے زینہ کو اپنے حصار میں لے کر تسلی دی۔
اچھا چلو اب اندر چلتے ہیں اور مجھے اچھا سا پراٹھا بنا کر کھلاؤ۔! روحیل نے زینہ کی توجہ بٹانے کے لیے نیا حربہ آزمایا۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *