Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17

کوئی پریشانی نہیں ہے ۔ گاڑی میں سردی نام کی کوئی چیز نہیں ہے ، مجھے تو نشست کے اندر اور پاؤں کے ذریعے بھی گرمائش پہنچ رہی ہے۔۔۔!
ماسی چند دن قبل ان نشستوں کی گرمائش کا نظام درست کروایا ہے۔۔ اور مجھے خوشی ہے کہ آپ آرام دہ طریقے سے منزل مقصود تک پہنچ پائیں گی ۔۔۔
بس بیٹا اللہ تمہیں اپنے غیبی خزانوں سے مالا مال کر دے۔ آمین۔۔
زید شہلا دونوں ہاتھ ہلاتے نظروں سے اوجھل ہونے لگے ، سست روی سے گاڑی ڈھلوان نما شاہراہِ سے اتر کر مرکزی شاہراہ پر برق رفتاری سے چلنے لگی۔۔۔
بیٹا سفر کی دعا پڑھ لیں۔!!!
💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝
(«اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ»صحیح مسلم:1342)
اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے،پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اسے مسخر کیا، جبکہ ہم اسے مطیع کرنے والے نہیں تھے اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور تقوی کا سوال کرتے ہیں۔ اور اس عمل کا جسے توپسند کرتا ہے۔ اے اللہ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کردے اور ہم سے اس کی دوری کو لپیٹ دے۔ اے اللہ سفر میں تو ہی ہمارا ساتھی اور گھروالوں پر نگہبان ہے، اے اللہ میں سفر کی مشقت، تکلیف وہ منظر اور مال اور گھر والوں میں برے لوٹنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لاتے تو یہی کلمات کہتے اور مزید اضافہ کرتے:
(«آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ»)
ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔
💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝
گاڑی میرپور کے احاطے سے نکل کر منگلا ڈیم کے پل پر برق رفتاری سے چلتی چلی جا رہی تھی۔ لاغر شہناز بیگم گاڑی میں رکھے گئے فالتو تکیوں کا سہارا لے کر نیم دراز ہو گئیں جبکہ دوسری طرف زینہ خاموشی سے ماں کی نشست سے لٹکی ٹانگوں کو اپنے گود میں رکھتے ہوئے دبانے لگی۔۔۔
گاڑی میں چھائے سناٹے کو روحیل نے توڑا۔۔
ماسی امی کچھ کھانا پینا ہے تو بتائیں آگے منگلا چھاؤنی آ رہی ہے۔
ارے نہیں بیٹا۔! بھوک نہیں ہے ۔ بس مغرب سے پہلے خیر خیریت سے اسلام آباد پہنچ جائیں یہی کافی ہے۔۔۔
ماسی چائے پی لیں۔!
ارے نہیں بیٹا ۔! اپنے گھر والی بات ہے ۔ ضرورت ہوئی تو ضرور بولوں گی۔۔۔
زینہ تمہیں کچھ چاہئیے۔؟؟؟ روحیل نے یکدم پلٹ کر زینہ کو پکارا۔۔
نننن نہیں مجھے بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
زینہ کی لرزتی آواز روحیل کو اچھی طرح باور کروا چکی تھی کہ وہ کس قدر خوفزدہ ہے۔۔۔
میں ذرا ڈیڈ کی خیریت دریافت کرلوں ، وہ ہم سے دس منٹ قبل میرپور سے نکل آئے تھے۔۔روحیل نے خودکلامی کرتے ہوئے جیب سے فون نکالنے کے لیے ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ فون تھرتھرانے لگا۔۔۔
“ڈیڈ ابھی میں آپ کو ہی فون ملانے والا تھا۔۔
جی ڈیڈ عاصم ہی گاڑی چلا رہا ہے۔۔جی زینہ ماسی بھی خیریت سے ساتھ ہی ہیں، بس ہم جی ٹی روڈ دینہ کے قریب پہنچنے والے ہیں ان شاءاللہ۔”
ڈیڈ سے الوداعی کلمات کے فوراً بعد روحیل کی انگلیاں زینہ کو پیغام رسانی میں برق رفتاری سے چلنے لگیں۔۔
پیغام زینہ کے فون میں منتقل ہو چکا تھا مگر فون کلچ ندارد میں مقید تھا۔۔
روحیل نے پانچ منٹ کے انتظار کے بعد زینہ کو مخاطب کیا۔
زینہ۔!!!
جججججججی۔! زینہ کے گلے سے پھنسی ہوئی آواز نکلی۔۔۔
تمہارے فون کی بیٹری چارج ہے۔؟؟؟
میں دیکھتی ہوں۔زینہ لرزتے ہاتھوں سے کلچ کھول کر فون کی بیٹری دیکھنے لگی تو روحیل کے دو پیغام جھلملا رہے تھے۔۔
زینہ۔!!!
جججججججی۔
بیٹری دیکھی ہے ۔؟ روحیل نے سنجیدگی سے استفسار کیا۔۔
جی اسی فیصد بیٹری باقی ہے۔۔ زینہ نے فوراً جواب دیا۔۔۔
جبکہ فون پر روحیل کے پیغامات کی بھرمار ہوتی چلی جا رہی تھی۔۔۔
چار و ناچار پیغامات کھولے۔۔۔
اگر میرے ساتھ پیغامات پر بات نہیں کرو گی تو میں تمہیں اس گاڑی سے اتروا کر اپنے ساتھ اکیلے اسلام آباد لے کر جاؤں گا۔! سمجھی تم۔!!
موبائل استعمال کے لئے ہوتا ہے ناکہ چھپانے کے لیے رکھا ہوا ہے۔۔۔
یا اللہ۔! یہ شخص تو میرے سر پر سوار ہوتا جا رہا ہے۔ زینہ بے بسی سے گاڑی سے باہر کے مناظر میں خود کو مصروف کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
تکیوں پر نیم دراز امی بھی دواؤں کے زیر اثر غنودگی میں چلی گئیں۔۔
بےکل زینہ کا دل آنے والے دنوں کی وجہ سے خوفزدہ تھا۔۔ کوشش کے باوجود بھی آنکھیں دغابازی کا تحیہ کر چکی تھی۔۔۔
بھابھی۔!! بھابھی۔!!بھابھی۔!! کہاں کھو گئی ہیں۔۔
اپنی سوچوں میں گم زینہ تیسری پکار پر یکدم چونکی۔۔
جی ویرے۔! زینہ کی گھٹی ہوئی آواز نکلی۔۔
بھابھی ابھی تو بھیا کی سنگت ملی نہیں ہے تو ہم مسکینوں سے نظریں موڑ لیں ہیں ۔
ارے نہیں ویرے ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ زینہ کا دھیما لہجہ بمشکل عاصم کی سماعتوں تک پہنچ پایا۔۔بھابھی تمہیں یاد ہے ایک بار جب ہم سب عید پر منگلا قلعہ گئے تھے اور بھیا نے تمہیں دھکا دے کر جھولے سے گرایا تھا۔۔؟؟
ننننہیں مجھے تو یاد نہیں ہے۔۔زینہ نے جان چھڑانی چاہی مگر روحیل زینہ کی نفسیات سے بخوبی واقف تھا اسلئے بولے بنا نہ رہ پایا۔۔
زینہ کا حافظہ بہت تیز ہے عاصم ، تم میری بیوی کو خواہ مخواہ تنگ نہ کرو۔۔۔!
واہ واہ بڑے بھیا، چند گھنٹے قبل نکاح ہوا ہے اور ابھی سے زن مریدی کا سرٹیفیکیٹ بھی لے لیا ہے۔۔۔ یعنی چھوٹا بھائی جو سالوں سے آپ کے ساتھ ہے اسکی خوبیاں نظر نہیں آتیں ہیں ، جو اکیلا پردیس کی خاک چھانتا پھرتا ہے ۔۔جسے ایک عدد شریف زوجہ محترمہ کی بھی ضرورت ہے۔۔۔
زینہ شدید گھبراہٹ کے باوجود بھی عاصم کی شکوہ کنائی پر اپنے نقرئی قہقہے پر قابو نہ رکھ سکی ۔۔۔
زینہ کی کھنکتی آواز گاڑی میں جلترنگ بجا گئی۔۔
روحیل نے زینہ کی ہنسی کی کھنک پہلی بار سنی تو دل نے دوبارہ سننے کی چاہ کر دی۔۔۔
روحیل کی انگلیاں پھرتی سے موبائل پر چلنے لگیں۔۔۔
“زینہ تمہاری کوئل جیسی آواز میرے کانوں میں رس گھول گئی ہے۔۔ میں نے ایسی دلفریب ہنسی پہلے کبھی نہیں سنی ۔۔۔ ماضی میں جب بھی تم سے بات ہوئی تو تم ہمیشہ ہتھے سے اکھڑی ہوئی ملی ۔۔اب اگر مجھے پیغام کا جواب موصول نہ ہوا تو میں نے تمہیں پانچ منٹ کے اندر اندر اس گاڑی سے نیچے اتروا لینا ہے۔ تم بخوبی جانتی ہو میں قول و فعل کا پکا ہوں۔”!
زینہ نے روحیل کا پیغام پڑھا تو جسم سے جان نکلتی محسوس ہونے لگی۔۔۔
یا ربی۔!! اس شخص نے تو ایک بھی شرط پر عمل درآمد نہیں کرنا۔۔۔
زینہ کے دل میں عجیب و غریب وسوسے سر اٹھانے لگے۔۔۔
چند لمحے سوچ کر جوابی پیغام ٹائپ کرنے لگی۔۔۔
“آپ نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے ہراساں نہیں کریں گے مگر آپ نے میرا خون خشک کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔۔آپ کی نکاح والی ضد تو پوری ہو چکی ہے، اب سفر میں نئی ضد کی دھمکی کارگر ثابت نہیں ہو گی۔”!
روحیل نے زینہ کا جوابی پیغام پڑھتے ساتھ مسکرانا شروع کر دیا۔۔۔
“شروط میں پیغام رسانی پر کوئی پابندی نہیں تھی اور اپنی منکوحہ سے پیغام رسانی پر لطف کی نیت رکھنا قابل قبول ہے نا کہ میں کسی غیر نامحرم لڑکی سے گپیں ہانکوں”۔۔
“میں کہیں بھاگی نہیں جا رہی ہوں۔! آپ کے گھر ہی جا رہی ہوں”۔!
“مگر میں اس سفر کو یادگار بنانا چاہتا ہوں۔!
میرا یہ پہلا سفر ہے جو میں اپنی منکوحہ کے ہمراہ طے کر رہا ہوں”۔!
زینہ نا چاہتے ہوئے بھی روحیل کے پیغامات کا جواب دینے پر مجبور ہو گئی۔۔
برائے مہربانی آپ آرام فرمائیں۔!
زینہ کے بغیر آرام کہاں ہے ۔؟؟؟
“آپ پھر پٹڑی سے اترنا شروع ہو گئے ہیں۔!!
بات طے تھی کہ آپ پٹڑی سے نہیں اتریں گے”۔
ہائے کاش۔!! میں صحیح معنوں میں پٹڑی سے اتر سکتا۔💔
آپ لاعلاج ہیں۔!!
“روحیل کا علاج صرف زینہ حیات کے پاس موجود ہے لیکن زینہ حیات اپنی چھوٹی سی دنیا میں اس قدر مگن ہو چکی ہے جسے کھرے کھوٹے کی پہچان نہیں رہی”۔۔
بھیا یہ آپ دونوں کا میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے کہ میں اکیلا ادھر بیٹھا سڑ رہا ہوں ۔ عاصم نے چند لمحے کے لیے گردن موڑ کر روحیل کو گھورا۔۔۔
کوئی بات نہیں چھوٹے ۔!! اپنے غیر شادی شدہ ہونے کا فائدہ اٹھاؤ اور گاڑی دوڑاتے جاؤ۔!!
روحیل نے عاصم کو بولتے ساتھ قہقہہ لگایا۔
یار یہ غیر شادی شدہ تو میرا لقب بنتا جا رہا ہے۔ زینہ بھابھی میری شادی کی ذمّہ داری اب تمہارے ذمے ہیں۔ یہ میرے بھیا تو چاہتے ہیں کہ میرے سر سے بال اڑ جائیں تو تب میں شادی کی خوشی دیکھوں۔۔!
دونوں بھائیوں کی نوک جھونک جاری ہوئی تو زینہ نے شکر ادا کیا کہ روحیل کا دھیان اس سے ہٹ جائے گا مگر روحیل بھی اپنے نام کا ایک تھا۔۔۔
عاصم کے ساتھ ساتھ وہ زینہ کے ساتھ روابط میں ہم آہنگی بڑھانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا تھا۔۔۔
“یہ مت سمجھنا کہ میں تمہیں بھول جاؤں گا اور عاصم کی باتوں میں محو رہوں گا۔مجھے تم دن رات اپنی نظروں کے سامنے چاہئے ہو۔”
ٹھیک پانچ منٹ کے وقفے بعد زینہ کا فون دوبارہ تھرتھرایا۔۔۔
“مجھے لگتا ہے آپ میں صبر کی بہت کمی ہے”۔! زینہ نے زچ ہو کر لکھا۔
“میرے خیال میں بہت صبر ہے بالخصوص تمہارے معاملے میں گزشتہ دو ماہ سے میرپور کی خاک چھانتا رہا ہوں۔! ابھی تو بہت ساری باتیں ، بہت سے حقائق پر تم سے باتیں کرنی ہیں ان شاءاللہ۔”
زینہ نے پیغام پڑھ کر جواب دیئے بغیر فون دوبارہ کلچ میں رکھ دیا۔۔
عاصم یار گاڑی ذرا ایک طرف روکو۔!!
میرے خیال میں زینہ نے کبھی اتنا لمبا سفر پہلے طے نہیں کیا تو یہ بیٹھ بیٹھ کر تھک گئی ہو گی۔۔میں چاہتا ہوں اسے پانچ منٹ کے لیے چہل قدمی کے لیے لے جاؤں۔۔۔
سنتے ساتھ زینہ کے پسینے چھوٹ گئے۔۔۔ جی چاہا بول دے کہ اسے نہیں جانا مگر کسی نئی کٹھن فرمائش سے بچنے کے لیے لب سی لیئے۔۔۔
گاڑی رک گئی۔
بھابھی صاحبہ آپ تشریف لے جائیں میں اکیلی جان یہاں پر بیٹھا آپ کا منتظر ہوں۔۔۔عاصم نے گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے وسیع احاطے میں جا کھڑی کی۔۔
گاڑی رکتے ہی روحیل فوراً اپنی نشست سے اتر کر عقبی نشست کا دروازہ کھولنے کے لیے بنا تاخیر کے آن دھمکا۔۔۔
زینہ باہر نکلو۔!!
زینہ کا جی چاہا رو دے مگر امی کی صحت کو مدِنظر رکھتے ہوئے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔۔۔
آہستگی سے سوئی ہوئی ماں کی ٹانگیں سیٹ پر رکھیں اور خود اپنا حجاب سیدھا کرتے ہوئے گاڑی سے چار و ناچار باہر نکل آئی۔۔۔
ویرے۔۔!!
جی۔! عاصم نشست سے سر ٹکائے بیٹھا تھا فوراً سیدھا ہوا۔
کیا بات ہے زینہ بھابھی۔؟
وہ ویرے امی کا خیال رکھنا۔! زینہ نے عاصم کو تنبیہہ کی اور مجبوراً سامنے کھڑے روحیل کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
چلو۔!!
روحیل نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
زینہ نے احتجاجی نظروں سے انکار کرنا چاہا مگر پھر مجبوراً ہاتھ تھام لیا۔ گاڑی سے چند گز کے فاصلے پر پہنچ کر رہا نہ گیا۔۔
آپ کو پتا ہے مجھے چلنا بھی آتا ہے۔
اچھا۔!! یہ تو بہت خوشی کی بات ہے تم چل پھر لیتی ہو مگر یاد ہے نا جب دن میں تم میری باہوں میں جھول گئی تھی۔۔روحیل نے زینہ کا نرم و نازک ہاتھ دبایا ہے۔۔
وہ میں صرف لمبی ہیل کی وجہ سے لڑکھڑا گئی تھی وگرنہ کبھی بھی نہ گرتی۔ زینہ کا روٹھا لہجہ روحیل کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔
“لمبی ہیل نے لاج رکھ لی ورنہ لڑکھڑانا تو ایک بہانا تھا۔”!
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں جان بوجھ کر لڑکھڑائی تھی۔؟؟
سمجھتا نہیں ہوں بلکہ یقین ہے۔!! روحیل نے زینہ کے ڈھکے چہرے سے ظاہر ان دو نشیلی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔
آپ میرا ہاتھ چھوڑیں۔! زینہ نے بچوں کی طرح ہاتھ چھڑا کر بھاگنا چاہا۔۔۔
زینہ کان کھول کر سن لو۔! یہ ہاتھ اگر تھاما ہے تو کسی میں اتنی جرآت نہیں ہے کہ چھڑوا سکے۔۔۔!
آپ ہر وقت جنونی گفتگو کیوں کرتے ہیں۔؟؟
زینہ نے زچ ہو کر پوچھا۔۔۔
کیونکہ میں سچا ہوں۔! میرے جزبے سچے ہیں۔! میری امنگیں سچی ہیں۔!
اب یہ کپکپانا بند کرو تاکہ میری یہ باتیں تمہارے اس ننھے سے دماغ میں بیٹھ سکیں ۔۔!!
زینہ نے ہری گھاس کی روش پر چلتے ہوئے روحیل سے دوبارہ ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔
زینہ میرے پاس تمام شرعی ، دنیاوی حقوق و واجبات محفوظ ہیں لہٰذا اپنی یہ بچوں والی ضد چھوڑ دو اور اچھی بیوی بن کر رہنا سیکھو۔!!
میں آپ کی بیوی نہیں ہوں۔! ایک اور کمزور احتجاج۔
اچھا بیوی نہیں ہو تو اور کیا ہو .؟؟
میں صرف آپکی منکوحہ ہوں ۔!!
تو چلو ٹھیک ہے منکوحہ سے بیوی بنانے میں کونسا کوہ کاف جانا پڑے گا۔!
دیکھا ہے ۔!!
کیا۔؟؟ روحیل نے زینہ کو سنگی بینچ کی طرف لے جاتے ہوئے چڑانے کے لیے پوچھا۔۔
آپ کو میں نے بولا تھا کہ میرے ساتھ معنی خیز گفتگو سے اجتناب فرمائیں مگر آپ میری کسی بات کو اہمیت ہی نہیں دیتے ہیں۔ زینہ روہانسی سی ہو کر ہاتھ چھڑا کر بینچ کی طرف بڑھ گئی۔۔
اووووووووہ اچھا۔!!! میں واقعی بھول گیا تھا۔۔
ویسے میں تو بالکل سادہ گفتگو کرنے کا عادی ہوں یہ الگ بات ہے کہ سامع میری بات کو کوئی اور رنگ دے۔۔۔
مجھے رنگ دینے کا کوئی شوق نہیں ہے۔!
زینہ نے نروٹھے لہجے میں بولا۔!
دل دکھانے کا تو بہت شوق ہے نا۔! روحیل نے محبت سے چور لہجے میں بولا۔۔۔
میں یہ والا شوق بھی نہیں رکھتی ہوں۔!
میرے خیال میں تو یہ تمہارا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔۔۔!
آپ کو کس نے بتایا ہے۔؟؟
بھئی میں نے خود دیکھا ہے ، خود تجربہ کیا ہے اور ابھی بھی کر رہا ہوں۔۔۔
کیا ۔؟؟
تمہارے اوپر تجربہ۔!!
روحیل جان بوجھ کر بات کو طول دینے لگا ، وہ چاہتا تھا کہ زینہ کے دل و دماغ میں شکوک وشبہات کسی طرح سے نکلیں ، زینہ اس سے پوچھے ، شکوہ کرے اور روٹھے ۔۔۔ اتفاقاً روحیل کی یہ خواہش بھی اپنے منصوبے کے مطابق پوری ہو رہی تھی۔۔۔
باتوں باتوں میں دونوں سنگی بینچ سے اٹھ کر لہلہاتی فصلوں کی طرف چلنے لگے ، گندم کی ہری بالیں اور سرسوں کے پیلے پھول اپنے جلوے بکھیر رہے تھے۔ ہری بھری گھاس کی روش پر چلتے ہوئے زینہ گویا ہوئی۔۔ مجھے واپس جانا ہے۔! امی کیا سوچیں گی۔؟
امی یہی سوچیں گی کہ میری بیٹی اپنے شوہر کے ہمراہ محفوظ ہے ۔۔
نہیں مجھے شرم آتی ہے۔!! آپ بار بار شوہر بیوی والی گردان نہ کیا کریں۔۔۔
تو اور کیا بولوں۔؟؟
تمہارا بھائی تو بولنے سے رہا ۔۔۔
دوستی کرنے کے لیے تم تیار نہیں ہو وگرنہ میں تمہیں اپنی دوست کہہ کر پکار سکتا ہوں۔۔مگر یاد رکھنا دل میں دوست نہیں بیوی ہی رہو گی۔۔ !
دیکھا ہے نا آپ پھر دوغلی معنی خیز بات کر رہے ہیں۔!!
یا اللہ۔!! میں کدھر جاؤں ۔؟؟ کس لڑکی سے پالا پڑ گیا ہے۔؟روحیل نے رک کر سر تھام لیا۔۔۔جبکہ زینہ نے پھسر پھسر رونا شروع کر دیا۔۔۔
زینہ میں تمہیں مطلع کر رہا ہوں اگر ایک منٹ کے اندر اندر رونا بند نہ کیا تو میں نے تمہیں اپنی باہوں میں بھر کر لے جانا ہے ، تم گاڑی تک قدموں پر چل کر نہیں جاؤ گی۔!! پھر نہ کہنا کہ مجھے ویرے اور امی سے شرم آتی ہے۔۔۔۔ اسے صرف دھمکی نہ سمجھنا۔!!
پھسر پھسر رونا تیز تیز بھاں بھاں میں منتقل ہونا شروع ہو گیا۔۔
ٹھیک ہےاگر تم یہی چاہتی ہو تو ایسے ہی سہی۔۔روحیل زینہ کو اٹھانے کے لیے آگے بڑھا مگر زینہ نے دوڑ لگا دی۔۔زینہ تم سمجھتی ہو میرے سے تیز بھاگ سکتی ہو تو یہ تمہاری خام خیالی ہے۔۔ !
روحیل نے پھرتی سے بھاگ کر زینہ کو جا لیا۔ ایک لمحے کی تاخیر کے زینہ روحیل کی باہوں میں مچل رہی تھی۔۔
پلیز مجھے نیچے اتار دو۔! زینہ کی منت سماجت شروع ہو گئی۔
مجھے حقیقتا ویرے اور امی کو دیکھ کر شرم آئے گی ۔۔۔
آئندہ میری بات مانو گی نا ۔؟؟
مانوں گی ۔! پلیز مجھے نیچے اتار دیں۔! روہانسی زینہ کی منتیں اپنے عروج پر تھیں۔۔
زینہ کی اشکبار آنکھوں اور بےبسی کو دیکھتے ہوئے روحیل نے زینہ کو آرام سے نیچے اتارا۔۔
آپکی بات مانوں گی مگر جائز والی۔بولتے ساتھ زینہ نے پانچ منٹ کی مسافت پر کھڑی گاڑی کی طرف بنا پلٹےدوڑ لگا دی۔۔۔ جبکہ روحیل سر جھٹک کر رہ گیا۔۔
زینہ تم واقعی مجھے ناکوں چنے چبوانے کا سوچ کر آئی ہو مگر میرا نام بھی روحیل ہے۔۔ تم اپنی سوچوں سے بڑھ کر مجھے پاؤ گی۔۔
تم میری اور صرف میری ہو۔! تمہاری سوچوں کے تمام راستے میرے سے شروع ہو کر مجھ پر ہی رکیں گے۔۔
******************************************
جب زینہ ہانپتی کانپتی گاڑی تک پہنچی تو عاصم کو اپنی نشست پر اونگھتے ہوئے پایا۔۔۔
ویرے دروازہ کھولو۔!!
زینہ نے عاصم کے شیشے کو تھپتھپایا۔۔۔
عاصم ہڑبڑا کر سیدھا ہوا اور فوراً باہر نکل کر عقبی نشست کا دروازہ کھولا۔۔
زینہ بھابھی ۔! ہانپ کیوں رہی ہو۔؟؟
وہ دراصل اسے ریس لگانے کا شوق ہو رہا تھا ۔ زینہ کے منہ کھولنے سے قبل ہی روحیل اسکے سر پر آن دھمکا اور بات کو اچک لیا۔۔جبکہ زینہ کو روحیل کی جنونی طبیعت سے مزید خوف آنے لگا۔۔۔
“میرے سے بھاگ کر آئی ہو نا گھر پہنچنے پر تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا”۔!!
کلچ میں پڑا فون تھرتھرایا۔۔
ناچاہتے ہوئے بھی زینہ نے پیغام کو بغور پڑھا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے ۔ اللہ جانے اب اور کونسی آزمائشوں کا سامنا کرنا باقی ہے۔
روحیل کاش میری زندگی میں نہ آتے یا پھر میں اپنی ماں کی صحت کی بنا پر اتنی مجبور نہ ہوتی ۔۔ میں کبھی بھی اس رشتے کے لیے حامی نہ بھرتی۔۔۔
ٹپ ٹپ آنسو برسنے لگے۔۔
“میں نے تمہیں پہلے بھی بولا ہے کہ مت رویا کرو مگر تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی ہے۔؟ تمہیں پتا ہے تمہارا رونا مجھے اذیت سے دوچار کرتا ہے”۔۔۔
زینہ نے پیغام پڑھتے ساتھ ہی سامنے روحیل کی نشست کو دیکھا جو بنا پلٹے زینہ کے بارے میں 💯 فیصد درست اندازہ لگا رہا تھا۔۔
اس شخص کو کیسے پتا چلا ہے کہ میں رو رہی ہوں۔۔۔ یہ تو مجھے میرے سے زیادہ جاننے لگا ہے۔۔
“آپ میری فکر نہ کریں اور کچھ دیر سو جائیں تاکہ میری سزا میں کمی واقع ہو جائے”۔۔۔
ہاہاہاہا ہاہاہاہا “کسی پاکیزہ کردار سے محبت کرنا اگر سزا ہے تو میں یہ سزا تمہیں بار بار دونگا”۔!
لاعلاج۔!!! زینہ نے زچ ہو کر لکھا۔۔۔
ابھی معالجہ آگئی ہے تو علاج کا حصول ناممکن نہیں رہا ہے۔۔۔
“میں امی کے فزیوتھیراپیسٹ کی تکمیل تک آپ کے یہاں ٹھہروں گی، پھر مجھے میرپور لوٹنا ہے”۔!!
“زینہ حیات تمہاری تمام کشتیاں میں میرپور جلا کر آیا ہوں، واپسی کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں۔ اچھی طرح سے دماغ میں بیٹھا لو” ۔!!
اسی نوک جھونک میں گاڑی ایک عالیشان تین منزلہ کوٹھی کے سامنے آن رکی۔۔۔
چوکیدارنے لپک کر خارجی دروازے کے بڑے بڑے پٹ واہ کر دیئے۔۔
گاڑی چند لمحوں میں باغیچے کے ساتھ بنی اینٹوں کی کشادہ روش پر آن رکی۔۔۔
یار عاصم۔! ڈیڈ ابھی تک نہیں پہنچے ہیں؟ روحیل نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
اچھا چلو تم ماسی امی کی وہیل چیئر نکالو۔! میں ڈیڈ کو کال کرتا ہوں۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *