Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13

خیر میں دیکھتا ہوں کہ کب تک میرپور کا چکر لگے گا۔۔۔
ڈیڈ ڈرائیور کو ساتھ لے آئیں یا پھر میں آپ کو لینے آؤں۔۔؟؟ بیٹا جی صبر اور حوصلے سے کام لو۔! میں کوئی نہیں بھاگا جا رہا ہوں۔۔
ایک دو دن میں تمہیں مطلع کر دوں گا۔۔
ڈیڈ آپ کو پتا ہے شہلا آپا کے ہاں مردہ بیٹا پیدا ہوا ہے ؟؟
ہاں یار عاصم مجھے بتا چکا ہے۔۔ اس خاندان پر کڑی آزمائش کا وقت ہے، تم دونوں نے انکا خاص خیال رکھنا ہے ، جیسے تمہاری ماں کی خواہش تھی۔۔ سنا ہے انکے مالی حالات بہت خراب ہیں۔
جی ڈیڈ وہ لوگ مالی لحاظ سے بہت کمزور ہیں ، خستہ حال زندگی گزار رہے ہیں مگر میں نے ایک مرتبہ بھی انکی زبان سے حرف شکایت نہیں سنا ہے۔۔
یار یہ لوگ شروع سے ہی خودار ہیں۔ مرزا حیات اپنے محلے کا رحم دل شخص جانا جاتا تھا۔۔۔ ایک بات ہمیشہ کہا کرتا تھا “اللہ دینے والا بنائے لینے والی محتاجی نہ دکھائے ۔ نہایت خدا ترس انسان تھا مگر وقت نے اسے مہلت نہ دی۔۔۔
اور ہاں آخری بات۔! مجھے بالکل بھی سننے کو نہ ملے کہ تم رات آنکھوں میں گزار دیتے ہو۔۔۔
جو بھی کام کرنا ہو دن کی روشنی میں نپٹا لیا کرو۔
ڈیڈ کوشش تو کرتا ہوں۔۔۔
دونوں بھائی کھانا پینا ٹھیک سے کھا رہے ہو نا۔؟
جی ڈیڈ کل ماسی لوگوں کے گھر سے ہی کھایا تھا مگر کل رات ماسی والا حادثہ رونما ہو گیا تو بس پھر ہسپتال کے اندر باہر ہی ہو رہے ہیں۔ ابھی بھی میں سب کے لیے کھانا لینے جا رہا ہوں۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے ان سب کے کھانے پینے اور باقی ضروریات کا خیال رکھنا۔ میں بہت جلد میرپور آنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔
جی ضرور ڈیڈ۔! روحیل نے جوش سے بولا۔۔۔
پہلے تو میرے آنے پر تم اتنے خوش کبھی بھی نہیں ہوئے، آج تو تمہاری آواز میں میرے آنے پر ایک ولولہ گونج رہا ہے۔
ڈیڈ۔ روحیل نے لاڈ سے بولا اور گاڑی مطلوبہ ہوٹل کے سامنے روک لی۔
ڈیڈ کمزور مریضوں کے لیے یخنی ٹھیک ہے نا ؟؟؟
ہر زدہضم غذا یخنی ، دلیہ اور تازہ جوس بہت مفید ہیں۔۔۔
اپنے ان کمزور مریضوں کو انکے پاؤں پر کھڑا کرو بیٹا ۔ بہت جلد ملیں گے ان شاءاللہ۔۔
جی ضرور ڈیڈ۔! روحیل نے مسکراتے ہوئے الوداعی کلمات ادا کیے۔۔۔۔
******************************************
روحیل کھانا لے کر لوٹا تو انتظار گاہ میں زید اور عاصم کو طبیب سے محو گفتگو پایا۔۔
کھانے پینے کا سامان ایک طرف رکھ کر روحیل کو بھی ان تینوں کی گفتگو میں مخل ہونا پڑا ۔۔۔۔
پیشہ ورانہ انداز اپنائے طبیب عاصم زید کو تسلی دے کر رخصت ہونے لگا تو روحیل سے رہا نہ گیا۔۔ کیا یہ ماسی کے بارے میں بتا رہے تھے۔؟ روحیل نے دانستہ طور پر زینہ کا نام پکارنے سے پرہیز کیا جبکہ وہ جانتا تھا کہ یہ احاطہ شعبہ حادثات کے لئے مختص ہے۔۔
نہیں بھیا۔! زینہ آپا کے بارے میں بتایا ہےکہ وہ جسمانی کمزوری اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں ، باقی انکے خون پیشاب کے نمونوں کے نتائج تسلی بخش ہیں کوئی بیماری نہیں ہے ، زینہ آپا امی اور شہلا آپا کی بات دل پر لے گئیں ہیں۔ زید نے تمام حقائق روحیل کے گوش گزار کئے۔۔
روحیل نے سنجیدگی سے تمام تفصیلات سنیں اور پھر سب کو کھانے کی پیشکش کی۔۔ جبکہ عاصم بغور روحیل کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو جانچ رہا تھا۔۔
زید تم ایسا کرو یہ والا پیکٹ شہلا آپا کو دے آؤ۔ روحیل نے انواع و اقسام کے کھانوں میں سے یخنی ، ابلے چاول ، گاجر اور سنگترے کا تازہ رس زید کو تھمایا۔۔
روحیل بھیا آپ بہت زیادہ کھانا لے آئے ہیں۔ زید نے شرمندگی سے کھانے کا پیکٹ تھاما۔۔
ارے نہیں یار ۔! سب کو اس وقت ٹھیک سے کھانے کی ضرورت ہے۔
اور ذیشان کی کوئی خیر خبر ؟ بچے کی پیدائش کا بتا دیا تھا نا ؟؟؟
جی بھیا میں تو انہیں ایک ایک پل کی خبر دے رہا ہوں مگر انکی طرف سے مکمل سکوت ہے۔۔
تو پھر اب بچے کے دفن کا کیا کرنا ہے۔؟ روحیل نے سنجیدگی سے پوچھا جبکہ عاصم اپنے فون پر کسی کے ساتھ پیغام رسانی میں مشغول ہو گیا۔۔۔
ایک گھنٹہ اور دیکھتے ہیں وگرنہ ہمیں بچے کو باپ کی غیر موجودگی میں دفنانا پڑے گا۔۔۔
زید تم کسی اور رشتے دار کے ذریعے اطلاع پہنچا دو۔۔!
بھیا کسی اور رشتے دار نے ہم سے رابطہ رکھنا گوارا ہی نہیں کیا ۔۔ میرے پاس کسی کا بھی نمبر نہیں ہے ماسوائے خالہ ، ذیشان بھائی کی امی کے۔۔۔
اچھا تم جاؤ شہلا آپا کو خود کھانا کھلا کر آؤ اور ہماری طرف سے بھی تسلی دے دینا ۔۔ ہم کچھ دیر ادھر ہی ہیں۔۔ تم اگر اپنا کھانا ساتھ لے جانا چاہتے ہو تو ساتھ لے جاؤ ورنہ ہم باہر گاڑی میں بیٹھ کر کھا لیتے ہیں۔۔
بھیا مجھے ابھی بالکل بھی بھوک نہیں ہے ، میں کوشش کرتا ہوں کہ شہلا آپا کچھ کھا لیں اور زینہ آپا کو عاصم بھیا کھلا دیں گے۔۔ زید نے بات مکمل کی اور مشکور انداز میں کھانا لے کر متوازن چال چلتا کمرہ ولادت کی طرف چل پڑا۔۔
زید کے جاتے ہی روحیل نے عاصم کے ہاتھ سے فون جھپٹ لیا۔۔۔
یار بھیا کیا ہے ۔؟ میرا فون دیں ۔!
بہت ضروری ای میل ہے جس کا جواب ابھی بہت ضروری ہے۔۔ عاصم نے دہائی دی۔۔۔
پہلے مجھے میری ہونے والی بیوی کے بارے میں تمام معلومات فراہم کرو ، پھر فون ملے گا۔۔۔روحیل نے ڈھیٹ پنے کی حدوں کو چھوا۔۔۔
اچھا فون دیں پلیز۔! پھر الف سے ی تک بتاتا ہوں۔۔۔
یہ لو۔! اور ساتھ ساتھ مجھے بتاؤ۔!
روحیل نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بیتابی سے عاصم کو دیکھا۔ جسکی انگلیاں فون کی سکرین پر پھرتی سے چل رہی تھیں۔۔
دو منٹ کے اذیت ناک انتظار کے بعد عاصم نے روحیل کے ستے چہرے کو دیکھا ، جہاں پر بیقراری اپنے عروج پر تھی۔۔۔
بھیا۔! پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے، زینہ نے کل دن سے کچھ کھایا پیا نہیں تھا اور اوپر سے آپ کا خوف اس پر طاری تھا جسکی بنا پر وہ بیہوش ہو گئی تھی۔ اب بالکل ٹھیک ہے ، کمرہ علالت سے نکل کر ابھی اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ ہے ۔۔۔ اور کچھ ؟؟
عاصم کیا وہ پریشان تھی۔؟؟
نہیں بھیا۔! توانائی بخش ٹیکے لگوا کر قلقاریاں مار رہی تھی۔! عاصم نے روحیل کو چھیڑا۔!
عاصم تو بہت ڈھیٹ انسان ہے۔!
نوازش ہے آپ کی وگرنہ ناچیز اس قابل کہاں تھا۔!
اچھا اور بھی بتا نا ۔!
کیا اس کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا؟؟
بھیا ظاہر سی بات ہے ،ان حالات میں کس کا چہرہ گلاب کی طرح کھلے گا۔؟ ہاں البتہ اسکی نشیلی آنکھیں کثرت بکا (رونا) سے کافی سوجھی ہوئی ہیں۔ اب یہ مت بولیے گا کہ عاصم مجھے اسکی آنکھوں کی تصویر لا دو ۔!
اور اگر میں کہوں تو ۔؟؟؟
میں پھر بھی نہیں لاؤں گا۔!
تو بہت ڈھیٹ انسان ہے ۔!
آپ کا چھوٹا بھائی ہوں تو خون کا اثر تو ہو گا نا ۔! عاصم نے دوبدو جواب دیا۔۔
ویسے آپ نے اپنا چہرہ دیکھا ہے کیا ؟؟
میرا خوبرو جوان بھائی محبت کا روگ لگا کر سرسوں کے پھول جیسا ہو رہا ہے۔! عاصم نے اپنی ہنسی دبائی جبکہ روحیل نے اسے کڑی نظروں سے گھورا۔۔
اچھا چل جا یہ میری اس پاکباز شہزادی کو کھانا دے کر آ ۔! بلکہ ایسا کر تو اسے خود کھلا کر آ۔ اسے بول ابھی پریشان نہ ہو کیونکہ ماسی کو ہوش آ گیا ہے ۔ اور میں نے تہیہ کر لیا ہے میں ابھی اسکے سامنے نہیں جاؤں گا۔۔
بس اسے دور سے ہی دیکھ لیا کروں گا ۔مجھے صرف اسکی صحت عزیز ہے ۔۔ روحیل نے شرافت سے بولا۔۔
جی ہاں اسے دور سے دیکھنے پر کیا آپ کو اجر عظیم ملنا ہے۔؟؟
تو پھر کیا کروں۔؟؟؟ روحیل نے رونی شکل بنائی۔۔
صبر اور انتظار۔!! عاصم نے پیکٹ کھنگالنا شروع کر دیا۔۔ زینہ کا کھانا کونسا ہے ۔؟؟
لائیں میں اسے دے آؤں۔۔۔!
عاصم میری زینہ نے اگر کھانا نہ کھایا تو پھر میں نے تیری طبیعت صاف کرنی ہے۔۔
آپ میری طبیعت کو کس لیے صاف کریں گے ، خود ہی جاکر کھلا آئیں۔!
تاکہ وہ مجھے دوبارہ دیکھ کر باآسانی بیہوش ہو سکے۔! روحیل نے زچ ہو کر عاصم کو بولا۔۔
تو آپ بیہوش کرنے والی حرکتیں کرتے ہی کیوں ہیں ؟؟؟ عاصم نے بولا اور لمبے ڈگ بھرتا روحیل کا جواب سنے بغیر اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔۔ روحیل اپنی بےبسی پر پہلو بدل کر رہ گیا۔۔
******************************************
آپا اللہ کو ایسے ہی منظور تھا۔آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔ پریشان کیوں نا ہوں زینہ۔؟ ذیشان اس قدر بیوفا نکلے گا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔ ذیشان کو خوش رکھنے کے لیے میں نے ہمیشہ تمہارا دل دکھایا ہے۔امی زید سے بحث مباحثہ کرتی رہی ہوں۔مگر اسکا اپنا خون ، اپنا پہلا بچہ اس دنیا میں آ رہا تھا اور وہ مجھے ایسے بے یارو مددگار چھوڑ گیا اور پلٹ کر خبر بھی نہ لی۔۔ اور خالہ کو تو دیکھو اپنی بہن کا ہی سن کر عیادت کے لیے آ جاتیں۔۔
زار و قطار روتی شہلا کو قابو کرنا زینہ کے لیے بہت کٹھن مرحلہ تھا۔ شہلا بار بار اپنے سرکردہ گناہوں پر پچھتا رہی تھی۔۔۔ زینہ میں تمہارے پردے سے نفرت کرتی تھی ، تیرے دین پر عمل پیرا ہونے پر خار کھاتی تھی ،مجھے اس سب کی سزا ملی ہے۔ میں اسی قابل ہوں۔ میں نے اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے منہ موڑا تو پھر منہ کی کھائی ہے۔۔۔
ہائے میرا بچہ میں اسے چند گھنٹے بھی اپنے پاس نہ رکھ پائی اور وہ مٹی کی نظر ہو گیا۔۔۔
آپا مصیبت پر صبر کرنے میں ہی اجر ہے ورنہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کے زخم مندمل ہو ہی جاتے ہیں۔ آپا اللہ کی رضا کی خاطر صبر کر لو۔!
******************************************
اللہ سبحانہ وتعالی كا فرمان ہے:
“اور ہم كسی نہ كسی طرح تمہاري آزمائش ضرور كرينگے، دشمن كےڈر سے، بھوک وپياس سے، مال وجان اور پھلوں كی كمی سے، اور ان صبر كرنے والوں كو خوشخبري دے ديجئے، جنہيں جب كبھی كوئی مصيبت آتی ہے تو وہ كہہ ديا كرتےہيں كہ ہم تو خود اللہ تعالى كی ملكيت ہيں اور ہم اسی كی طرف لوٹنے والے ہيں، ان پر ان كے رب كي نوازشيں اور رحمتيں ہيں اور يہي لوگ ہدايت يافتہ ہيں۔” (سورة البقرۃ : 155- 157 ) .
ايک مقام پر اللہ تعالى نےارشاد فرمايا:
“اور اللہ تعالى صبر كرنےوالوں سےمحبت كرتا ہے.” (سورة آل عمران :146 )
ایک اور مقام پر اللہ جل شانہ نےفرمايا:
“اللہ تعالي يقينا صبر كرنےوالوں كوبغير حساب كےاجروثواب دے گا۔” (سورةالزمر : 10 )
امام ترمذي رحمہ اللہ تعالي نے ابوسنان رحمہ اللہ تعالي سے بيان كيا ہے وہ كہتے ہيں ميں نے اپنے بيٹے سنان كو دفنايا اور قبر كےكنارے ابو طلحہ خولاني رحمہ اللہ تعالي بيٹھے ہوئے تھے جب ميں نے نكلنا چاہا تو انہوں نےميرا ہاتھ پكڑا اور كہنے لگے ابوسنان كيا ميں تمہيں خوشخبري نہ دوں؟ ميں نےجواب ديا كيوں نہيں، تو انہوں نےكہا:
مجھےضحاك بن عبدالرحمن بن عرزب رحمہ اللہ نے ابو موسى اشعرى رضي اللہ تعالى عنہ سےحديث بيان كي كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” جب كسي بندے كا بيٹا فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالى اپنے فرشتوں سے كہتا ہے تم نے ميرے بندے كے بيٹے كي روح قبض كرلي تو وہ كہتےہيں جي ہاں تو اللہ تعالى كہتا ہے تم نے اس كے دل كا پھل اور ٹكڑا قبض كر ليا تو وہ كہتے ہيں جي ہاں، تواللہ تعالى كہتا ہے ميرے بندے نے كيا كہا؟ تو فرشتے جواب ديتے ہيں اس نے تيري حمد و تعريف اور” انا للہ وانا اليہ راجعون” پڑھا، تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ميرے بندے كے لئے جنت ميں ايک گھر تيار كردو اور اس كا نام بيت الحمد ركھو “۔۔ (جامع الترمذي حديث نمبر :942 ). علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نےاس حديث كو السلسلۃ الصحيحۃ :1408 )ميں حسن قرار ديا ہے۔۔
******************************************
زینہ اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بڑی بہن کے ساتھ ہمکلام ہونے کے ساتھ ساتھ اسکا سر بھی سہلا رہی تھی۔۔
آپا پریشان نہ ہوں دو دن بعد امی کو بھی ہسپتال سے گھر بھیج دیا جائے گا ان شاءاللہ۔۔
دروازے پر دستک نے دونوں کو اپنی طرف راغب کیا۔ آپا آپ ادھر ہی لیٹو میں دیکھتی ہوں۔ زینہ نے اپنے دوپٹے کو چاروں اطراف لپٹ کر دروازہ کھولنے سے قبل پوچھا۔۔
کون ہے ۔؟؟؟
روحیل کی دلی مراد بھر آئی۔۔ دل بلیوں اچھلنے لگا۔
وہ میں روحیل ہوں ۔۔!! سنتے ساتھ زینہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔دل کی حالت ابتر ہونے لگی۔ یہ اچانک اس وقت کیوں آ گیا ہے؟ جبکہ اسے پتا ہے زید اس وقت گھر پر نہیں ہے۔۔۔۔ زینہ کی طرف سے جواب نہ پاکر روحیل گویا ہوا ، وہ عاصم کو اچانک اسلام آباد جانا پڑ گیا ہے جسکی بنا پر وہ نہیں آ سکا ہے۔عاصم نے بارہا آپ کو فون کیا ہے مگر آپ کا فون بند ہے ، میں آپ کا سامان آپ تک پہنچانے آیا ہوں۔۔
زید کو فون کیا ہے مگر اس نے اٹھایا نہیں ہے۔!
روحیل نے اپنی صفائی میں تمام تفصیلات ایک ہی سانس میں دروازے کے دوسری طرف پہنچا دیں۔۔۔
زینہ نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولی ۔ آپ یہاں کچھ دیر انتظار کریں۔۔
زینہ نے بمشکل گلے میں پھنسی آواز نکالی۔۔۔
ہائے کیا کروں۔؟؟ دروازہ کھول دوں۔؟ یاپھر بولوں واپس چلا جائے۔؟ اب تو ان لوگوں کے احسانات کا بوجھ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ میں تو اس سے کوئی بات بھی نہیں کر پاؤں گی۔۔۔ جی میں آیا شہلا آپا کو بلا لے پھر آپا کی صحت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ارادہ بدل دیا۔۔۔
پانچ منٹ تو سوچ و بچار میں خاموشی کی نظر ہو گئے۔۔
وووووہ آپ سامان دروازے کے باہر چھوڑ جائیں ، میں اٹھا لیتی ہوں۔۔۔ زینہ نے دقت سے گلے میں پھنسی آواز نکالی۔۔
سامان تو میں باہر رکھ جاؤں گا مگر کوئی بھی چرا کر لے جا سکتا ہے۔۔
اے زینہ ۔! باہر کون آیا ہے؟ وہ آپا ویرے کے بڑے بھائی آئے ہیں۔زینہ نے لکڑی کے بند دروازے کے پاس کھڑے کھڑے ہانک لگائی۔۔۔ زینہ ہزار جتن کے باوجود بھی روحیل کا نام اپنی زبان پر نہ لا سکی۔۔۔ میرا سر درد سے پھٹا جا رہا ہے، سامان لو اور واپس آؤ۔!
جی آپا ۔! دروازے کے باہر کھڑا روحیل زینہ کی آواز میں لرزش باآسانی محسوس کر سکتا تھا۔۔۔ آپ دروازہ کھول کر اوٹ میں ہو جائیں ، میں سامان دہلیز کے قریب چھوڑ جاتا ہوں ، اٹھا لیجئے گا ۔!!
روحیل نے متفکر زینہ کی مشکل آسان بنا دی ۔۔۔
جججججججی ۔زینہ دروازہ واہ کر کے خود اوٹ میں چھپ گئی، دل تو گویا پسلیاں توڑ کر باہر آنے کے لئے تیار تھا۔۔۔
روحیل سے شدید نفرت کے ساتھ ساتھ اب شدید خوف بھی بڑھتا جا رہا تھا۔۔ ایک تو اس خاندان کی طرف سے کئے گئے بےپناہ احسانوں کا بوجھ زینہ کے اوسان خطا کرتا رہتا۔۔۔ اب تو چاہتے ہوئے بھی زینہ روحیل کو کھری کھری نہیں سنا سکتی تھی۔۔
دروازہ کھلتے ہی روحیل کا سر اور آدھا دھڑ دروازے کی دہلیز پر نظر آنے لگا۔۔
وجیہہ روحیل بےشکن بیش قیمت لباس میں ملبوس اور خوشبوؤں میں نہایا وجود کسی بھی نوجوان دوشیزہ کی دھڑکنیں اتھل پتھل کرنے کے لیے کافی تھا۔۔ مگر زینہ دوپٹے میں چہرہ چھپائے مضبوطی سے دروازہ تھامے ، اوٹ میں چھپی تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔
روحیل نے تین سے چار بڑے بڑے تھیلے دہلیز سے ذرا آگے ہو کر احتیاط سے رکھ دیئے اور دائیں بائیں دیکھے بنا دروازہ بند کرتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔
آپ کی مطلوبہ چیزیں سب موجود ہیں ، اگر مزید اشیاء درکار ہوئیں تو اپنا موبائل آن کرکے مجھے پیغام بھجوا دیجیئے گا۔۔
ایک اور گزارش ہے کہ اس پانچویں نمبر کو بلاک کیا تو میرے پاس ایک ہی نمبر بچے گا ۔ اب آپ خود سمجھدار ہیں۔ اگر کبھی ضرورتاً رابطہ کرنا پڑ گیا تو کیسے ہو گا۔
اور کسی پاکیزہ شخصیت سےمحبت کرنا کوئی جرم تو نہیں ہے۔۔
اور اگر آپ اسے جرم سمجھتی ہیں تو میرے سے یہ جرم سرزد ہو چکا ہے، اب میرے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔۔۔عاصم سے میں نے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو اب نہیں دیکھوں گا اور نہ آپ کے سامنے آؤں گا مگر آپ کے ساتھ بات چیت نا کرنے کا وعدہ نہیں تھا۔۔ آپ جانتی ہیں کہ گزشتہ کئی دنوں سے میں آپ کے سامنے کبھی بھی نہیں آیا ہوں ، جس شاہراہ پر آپ ہوتی ہو میں وہ راستہ ہی بدل لیتا ہوں۔۔
مجھے کوئی اشارہ دے دیں تاکہ مجھے یقین ہو جائے کہ آپ بیہوش ہوکر نہیں گری ہیں وگرنہ مجھے ہی آپکو ہسپتال بھی اٹھا کر لے جانا پڑے گا۔۔ جب تک آپ کا جواب سنائی نہیں دیتا میں آپ کے دروازے کے باہر ہی کھڑا ہوں۔۔روحیل کا محبت سے چور شیرینی لہجہ زینہ کو بے حال کرنے لگا ۔۔۔
جنوری کی شدید سردی میں ہتھیلیاں عرق آلود ہونے لگیں۔۔ زینہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا مگر ہمت کر ڈالی۔
آ آ آآپ پلیز یہاں سے چلے جائیں ۔زینہ نے بمشکل گلے میں پھنسی آواز نکالی۔۔۔
جا رہا ہوں مگر بہت جلد آپ کی والدہ کی صحت یابی کے بعد آپ کو اپنے ساتھ اسلام آباد لے جانے کے لئے تیاریوں میں مصروف ہوں۔۔۔۔
اب دوبارہ اپنے فون کا گلا نہ گھونٹنا ۔۔۔ یاد رکھنا زینہ صرف روحیل کی ہے ۔۔۔!!
چند ثانیوں بعد زینہ نے گاڑی کے چلنے کی آواز سنی تو گھٹی سانس بحال ہوئی۔۔
لرزتے وجود کے ساتھ تمام سامان گھسیٹ کر باورچی خانے میں لے آئی۔ تازہ پھل۔، مرغی ، گوشت، انڈے اور دال سبزیوں سے اٹے تھیلے زینہ کی خوددار طبیعت کو کچوکے لگانے لگے۔۔۔
بھل بھل آنسو گرنے لگے۔۔۔
اب میں اس شخص کی پیش رفت اور وقت گزاری پر اسے کچھ بھی کہہ نہیں پاؤں گی۔۔۔ اس نے ہمیں خرید لیا ہے۔۔میں جو اسے دو ٹوک سنا کر اس کے کرتوت اسکے منہ پر دے مارتی تھی ،میرے موجودہ حالات کی بنا پر اب تو اس شخص نے وہ حق بھی میرے سے چھین لینا ہے ۔۔۔
آنسو صاف کرکے تمام اشیاء خوردونوش ترتیب سے مطلوبہ مقامات پر رکھیں۔۔۔
کمرے میں آئی تو شہلا کو سوتے پایا۔۔۔ آپا کھانا لے آؤں .؟؟جھنجھوڑا مگر شہلا دوا کے زیر اثر گہری نیند سو چکی تھی۔۔۔
زینہ نے کچھ سوچ کر الماری کھولی اور ڈیڈھ ہفتہ قبل چھپائے گئے فون کی گھٹی سانسیں بحال کر دیں۔۔۔
روحیل کے پانچویں نمبر سے مختلف اوقات میں مختلف دھمکی آمیز پیغامات کی بھرمار تھی۔۔۔
تمام پیغامات کو ایک نظر موٹا موٹا دیکھا مگر آخری پیغام کو پڑھ کر دل مٹھی میں آ گیا۔۔
“پتا ہے اس دن جب تم مجھے دیکھ کر بیہوش ہوئی تھی تو تم نے میری جان جوکھوں میں ڈال دی تھی۔۔۔بارہا سوچا کہ تمہیں ہاتھ نہ لگاؤں مگر میرے سے برداشت نہیں ہو پایا کہ تمہیں میرے علاوہ کوئی اور چھوئے۔۔ جب تمہیں میں اپنی باہوں میں بھر کر شعبہ حادثات کی طرف بڑھ رہا تھا تو تم مجھے پھول سے بھی ہلکی محسوس ہوئی۔زیادہ نہیں صرف اتنا بتا دو۔!! مجھ سے اس قدر ڈرتی کیوں ہو ؟ جبکہ میں تو تمہیں اس کرہ ارض پر سب سے زیادہ چاہتا ہوں۔۔چاہنے والوں سے ڈرا نہیں جاتا بلکہ انکی قدر کی جاتی ہے”۔۔
کپکپاتے ہاتھوں میں تھاما فون دھڑام سے بستر پر جا گرا۔۔ اس آوارہ کی اتنی جرآت ۔بات میرے چہرے تک تو پھر بھی سمجھ آتی ہے کہ آوارہ لفنگا دیکھ چکا ہے لیکن اب میرے جسم کو بھی اپنی ملکیت سمجھنے لگا ہے۔۔ زینہ اپنی بےبسی پر آنسو لٹانے لگی۔۔
فورا آنسو پونچھے ، بستر سے فون اٹھا کر سامعہ کو ملایا ۔۔۔ ابتدائی سلام دعا کے بعد سامعہ نے داستان غم سننے کے بعد ہمیشہ کی طرح زینہ کو ادھیڑنا شروع کر دیا۔۔۔
سامعہ یار میں نے اس آوارہ لفنگے کی وجہ سے فون بند کرکے الماری میں چھپا دیا تھا ، تمہیں تو گھر میں بیماروں کے بارے میں زید کے ذریعے باخبر رکھے رکھا ہے لیکن ہمارے حالات اس نہج پر آ گئے ہیں کہ ہم اس شخص اور اسکے خاندان کے مقروض ہو کر رہ گئے ہیں ، سامعہ تمام اخراجات ویرے عاصم اور اس شخص نے برداشت کئے ہیں، بات ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں روپوں تک جا پہنچی ہے۔۔۔
زینہ تم نالائق لڑکی کو بارہا بولا ہے کہ جب بھی کسی چیز کی ضرورت پڑے ، سب سے پہلے مجھے بتایا کرو مگر تمہاری یہ خودداریاں تمہیں لے ڈوبیں گی۔۔اس وقت جب بابا نے زید کو پیسوں کا بولا تھا کہ لے لو جب ہوئے لوٹا دینا مگر وہ انکاری تھا کہ جب ضرورت محسوس ہوئی تو ضرور بتاؤں گا اور اب وہی ہوا ہے جس کا مجھے ڈر تھا ۔۔۔ ڈرائیور چاچا گھر پر نہیں ہیں وگرنہ میں نے ابھی آ جانا تھا ۔ ایک تو عبد السمیع رکشے پر بھی سفر نہیں کرنے دیتے ہیں۔
سامعہ تمہیں بتانے کی مہلت ہی نہیں ملی ہے ،اس دن جب تم ہسپتال امی اور آپا کو دیکھنے آئی تھی تو ڈھنگ سے بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔۔۔ ایک کے بعد ایک پریشانی نے گھیرے رکھا ہے ۔۔۔ اس کھلاڑی روحیل نے زید کو ایسا اپنے قابو میں کیا ہوا ہے کہ وہ تو دن رات اس کے گن گاتا ہے ۔۔۔زینہ نے بھرائی آواز میں ساری تفصیلات سامعہ کے گوش گزار کر دیں۔۔۔
سامعہ میں کیسے اس شخص کو اپنا لوں ؟ جبکہ میرے دل میں اس شخص کے لئے کوئی عزت نہیں ہے ، خود کو بارہا سمجھایا ہے کہ اب یہ خود کو بدل چکا ہے۔مگر پھر بھی ایک کسک ، ایک گرہ ہے میرے دل میں کہ یہ شخص میرا مان توڑنا چاہتا ہے ، اپنی توہین کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔۔
زینہ تمہارے ویرے عاصم نے اس حوالے سے تم سے کوئی بات کی ہے ؟
نہیں سامعہ ۔! میں نے بارہا چاہا ہے میں خود ویرے کو تمام باتوں سے آگاہ کر دوں مگر موقع ہی نہیں ملا ہے اور پھر میں یہ سوچ کر خاموش ہو جاتی ہوں کہ جو بھی ہے وہ ویرے کا سگا اور بڑا بھائی ہے ۔ اور سنا ہے دونوں کی آپس میں دوستی بھی بہت ہے۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *