Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24
میرے کمرے میں تمہیں بنا دستک داخل ہونے کی اجازت ہے۔۔۔ جب سے تم آئی ہو میں نے کمرے کو کنڈی کرنا چھوڑ دیا ہے۔
کیوں۔؟؟ زینہ حیران ہوئی۔۔
تم حقیقتاً معصوم بھولی بھالی ہو یا مجھے لگتی ہو۔؟؟
میں تو ایسی ہی ہوں بیوقوف ۔! اسی لیے شاید آپ روٹھ گئے تھے۔! زینہ نے غم سے منہ بنایا۔۔۔
آپ بتائیں دروازہ کیوں کھلا چھوڑتے ہیں ۔؟؟
بیوقوف لڑکی کہ اگر رات کو ماسی کی وجہ سے تمہیں مجھے بلانا پڑ جائے تو آسانی سے دوڑ لگا کر میرے سر پر آن دھمکو۔!!!
اس کے لیے تو میں آپ کو فون بھی کر سکتی ہوں۔!
جی بالکل جیسے فون پر میرے ساتھ بڑے گہرے روابط قائم کیے بیٹھی ہو ۔!! فون پر تو میرے ساتھ بڑی دوستی گانٹھ رکھی ہے۔روحیل نے شکوہ کیا۔۔
اسی دوران زینہ نے شب باشی کالباس نکالا اور سوال طلب نظروں سے روحیل کو دیکھنے لگی
میں جاؤں۔؟؟
ہاں جاؤ۔!!!
آپ صبح ناشتے میں کیا کھائیں گے۔؟؟؟
گوبھی کے پراٹھے جو تم نے میرپور مجھے پہلی مرتبہ کھلائے تھے۔
ٹھیک ہے صبح میں آپ کو اٹھانے آؤں گی ان شاءاللہ۔۔
جلدی سے اٹھ جائیے گا۔!! زینہ نے الماری کے پاس کھڑے کھڑے تمام ضروری معلومات دیں اور کمرے سے نکلنے کے لیے پر تولنے لگی۔۔
سارا دودھ پی لیجئے گا ورنہ پھپھو نے میرا حشر بگاڑ دینا ہے۔!
تم فکر نہ کرو اور اب جاؤ اس سے پہلے کہ میرے ارادے بدلنے لگیں اور میں تمہیں نئی سزا سنا دوں۔!!
زینہ نے سنتے ساتھ دروازے کی طرف دوڑ لگا دی۔۔
زینہ کی پھرتیوں پر روحیل کا قہقہہ بلند ہوا۔
******************************************
ہائے بی بی جی آپ اتنی جلدی اٹھ گئیں ہیں۔؟ وہ شریفاں خالہ آپ کے صاحب کے لئے پراٹھے بنانے ہیں تو گوبھی کے سالن کی عدم دستیابی پر مجھے تازہ سالن بنانا پڑ گیا ہے اس لیے فجر کے بعد باورچی خانے میں چلی آئی۔۔
آپ بے فکر رہیں میں نے گوبھی کا سالن تیار کر لیا ہے ،اور ساتھ میں باقی سب کے لئے حلوہ بھی تیار ہے۔ آج سب کو حلوہ پوریاں کھلاتے ہیں۔ روحیل تو گوبھی کا پراٹھا کھانا چاہتے ہیں۔!
زینہ نے تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے تمام معلومات شریفاں کے گوش گزار کیں۔۔
بی بی جی سچی آپ بہت اچھی ہیں۔
ارے شریفاں خالہ آپ کو بولا ہے کہ مجھے بیٹی بولا کریں۔!
اچھا آئندہ یاد رکھوں گی۔! عادت نہیں ہے۔
اور آپ سب کام چھوڑ کر ادھر کرسی پر بیٹھ جائیں ،آج کے بعد کھانا بنانے کی زمہ داری میری ہے۔۔۔
ارے نہیں بیٹی ۔! بڑی بیگم صاحبہ جب بھی آتی ہیں ، ہم سب کو کھینچ کر جاتیں ہیں، ویسے دل کی اچھی ہیں صرف ذرا سخت مزاج ہیں ۔۔آج بھی اگر انہوں نے مجھے بیٹھے دیکھ لیا تو میری خیر نہیں ہے۔۔
خالہ آپ پریشان نہ ہوں، میں انہیں بول دوں گی کہ میں نے منع کیا ہوا ہے بلکہ آپ کٹائی والا کام کر لیا کرنا۔۔ساری پکوائی میرے ذمے ہے۔!!
بیٹی آپکو نہیں پتا بڑی بیگم صاحبہ بڑے نرالے مزاج والی ہیں سال میں ایک بار تو لازمی آتیں ہیں اور اس گھر میں چڑیا کو پر نہیں مارنے دیتی ہیں۔۔شریفاں نے قریب آ کر زینہ کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
زینہ کا نقرئی قہقہہ بلند ہوا۔۔۔
آپ بےفکر ہو جائیں۔!!
یہ باورچی خانے میں صبح نو بجے کونسی کھسر پھسر ہو رہی ہے۔؟؟ پھپھو نے باورچی خانے میں داخل ہوتے ہی کاٹ دار لہجہ اپنایا۔۔۔
السلام علیکم پھپھو۔!!
کیسی ہیں آپ۔؟؟
رات ٹھیک سے نیند ہو گئی۔؟؟ زینہ نے فرمانبرداری اور احترام میں ایک ہی سانس میں سارے سوال پوچھ ڈالے۔
ہاں سب ٹھیک تھا۔!
تم ایسا کرو جلدی سے مجھے گاجر کا جوس بنا دو ۔!
جی بہتر۔!!
کیا بنایا ہے۔؟پھپھو نے پتیلی کا ڈھکن اٹھا کر معائنہ شروع کر دیا۔۔
تازہ پکی گوبھی کے اوپر گرم مصالحے کی مہک پھپھو کو متاثر کر گئی ، پھر حلوے کی طرف بڑھ گئیں۔۔
تازہ حلوے کی لبھاتی شکل دیکھ کر پھپھو دل سے متاثر ہوئیں مگر چہرے پر ناگواری کا خول چڑھائے زینہ کو ہراساں کرنے لگیں۔ زینہ جوکہ جوس کا حکم ملتے ہی گاجروں کو چھیلنا شروع ہو گئی تھی۔
پھپھو کے چہرے پر ناگواری دیکھ کر دل بیٹھنے لگا مگر دل ہی دل میں اذکار مسنونہ کا ورد شروع کر دیا۔۔۔
حلوے کے ساتھ پوریاں بنانی آتی ہیں۔؟؟ جی بنا لیتی ہوں۔!
ہممم۔ چلو کبھی کبھار تو ٹھیک ہے مگر یہ آئے روز نہ بنانا شروع کر دینا ، میں نہیں چاہتی میرے بھتیجے اور بھائی بیماریاں جمع کر لیں۔۔!
جی بہتر ۔!! زینہ کی ہمت جواب دینے لگی۔۔۔
ہر کام ، ہر بات میں نقص پھپھو کی فطرت میں شامل تھا۔۔
زینہ نے گاجروں کو چھیل کر دھونا شروع کر دیا اور شریفاں سے جوسر کے استعمال کا طریقہ پوچھنے لگی۔۔۔
تمہیں جوسر استعمال کرنا نہیں آتا ہے۔؟؟ پھپھو نے باورچی خانے میں پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
نہیں مجھے نہیں آتا ہے۔
کیوں تم لوگوں کے گھر نہیں تھا جوسر۔؟؟
نہیں۔! ہمارے گھر نہیں تھا۔! زینہ نے آنکھوں میں امڈ آنے والے آنسو پیئے۔۔۔
******************************
ناشتے سے فراغت کے بعد زینہ برتن سمیٹنے میں جت گئی جبکہ روحیل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے تنہائی میں بلا کر چند باتیں کر لے۔۔
ڈیڈ مجھے اور عاصم کو اکھٹے دوبئی جانا پڑے گا۔!!
یہ کیا بات ہوئی ۔؟؟ رات بیٹھے بٹھائے کیا سوجھی ہے ۔؟؟
ڈیڈ ترکی والے قالین کے سپلائرز قالین میں کچھ گڑ بڑ کر رہے ہیں لہذا ہمیں خود جانا پڑے گا تاکہ تمام صورتحال کو قابو میں کیا جا سکے۔۔۔ تیار شدہ مکانات میں غیر معیاری قالین کی شکایتیں موصول ہو رہی ہیں ۔۔آپ تو جانتے ہیں جب لوگ کروڑوں میں جائیداد بناتے ہیں تو پھر معیاری اشیاء کا حصول بھی چاہتے ہیں۔۔۔
دبئی سے شاید مجھے ترکی بھی جانا پڑ جائے۔۔۔
میز پر سے پلیٹیں اٹھاتی زینہ کے ہاتھوں میں لرزش کو دیکھ کر روحیل کا دل کچھ دیر کے لئے ڈوبا۔۔۔
محبت بھی نہیں کرتی اور میرے گھر سے چلے جانے پر گھبرا بھی رہی ہے۔۔
عجیب لڑکی ہے۔۔۔
زینہ نے تمام پلیٹیں ٹرے میں رکھیں اور خاموشی سے باورچی خانے میں چلی گئی۔۔
عاصم کے اکیلے چلے جانے سے کام نہیں چلے گا کیا ۔؟ ارشاد صاحب نے بےچینی سے پوچھا۔۔
ڈیڈ عاصم دبئی میں ٹھہر کر حالات کو سازگار بنائے گا اور میں قالین سازوں کی طبیعت صاف کروں گا ، ہم انکے پرانے خریدار ہیں تو وہ کیسے ہمارے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کر سکتے ہیں۔ سننے میں آ رہا کہ انکا بھجوایا گیا قالین بہت پتلا اور غیر معیاری ہے۔۔۔
وہ سب تو ٹھیک ہے مگر زینہ پیچھے اکیلے رہ جائے گی۔۔
ڈیڈ کی بات پر پھپھو نے منہ مروڑا۔۔ بھائی جان زینہ کوئی باہر جھگی میں تو نہیں بیٹھی ہوئی ہے۔؟؟؟ اس عالیشان گھر میں ہر سہولت موجود ہے، اسکے ایک اشارے پر نوکر چاکر ہر چیز اسکے قدموں میں ڈھیر کر دیں گے۔۔۔
مردوں کا کام ہے باہر کے کام نپٹانا، اب روحیل زینہ کے گھٹنے کے ساتھ لگ کر بیٹھنے سے تو رہا۔۔
روحیل کاروباری خاندان سے ہے تو دوسرے ممالک تو سفر کرنا پڑے گا۔۔۔
شمیم یہ بات نہیں ہے اصل میں زینہ کو یہاں آئے ہوئے ابھی چند دن گزرے ہیں تو شوہر ایک دم ملک چھوڑ کر چلا جائے گا تو محسوس کرے گی، اسکی ماں بھی محتاج بیمار ہے ، پھر فزیو کا گھر میں آنا ہے ، یہ دونوں خود موجود ہیں تو تمام حالات کو احسن طریقے سے سنبھال رہے تھے ۔۔ڈیڈ نے حکمت سے سب واضح کیا۔۔۔
ڈیڈ آپ اور پھپھو گھر پر ہی ہیں اور میں صرف دو ہفتوں کے لئے تو جا رہا ہوں۔
ویسے بھی مجھے واپس آ کر زینہ کی یونیورسٹی کا کچھ کرنا ہے۔ میں نے بات تو کی ہوئی ہے ، میرپور سے اسلام آباد ٹرانسفر میں شاید کچھ وقت لگے گا، اسی اثناء میں یہ گھر پر پڑھائی جاری رکھے گی۔۔۔
تو پھر تم ایسا کرو زینہ کو اپنے ساتھ ہی دبئی لے جاؤ۔!
ڈیڈ نا زینہ کے پاس پاسپورٹ ہے اور نا ہی ویزہ ہے۔! میں اسے اتنی مختصر مدت میں ساتھ نہیں لے جا سکتا ہوں۔
یہ تمام کام وقت لیں گے جو کہ ہمارے پاس بالکل بھی نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ ہماری کمپنی کی ساکھ خراب ہو، ہمیں یہ تمام کام نپٹانے ہیں۔۔۔
منیجر نے ہم دونوں کی کل رات کی سیٹیں بک کروا دیں ہیں۔۔
چلو ٹھیک ہے پھر جیسے تم دونوں کو بہتر لگے۔۔ مگر روحیل اگر کام سے جلدی فارغ ہو گئے تو جلدی لوٹ آنا بیٹا ۔۔ !
ڈیڈ عاصم کو بھی تو پاکستان میں رکنے کی ضرورت ہے۔۔بیچارا دو سال سے وہاں پر رل رہا ہے۔۔
خاموش بیٹھے عاصم نے گلا کھنکارا۔
بھیا جی میرے خیال میں ابھی آپ کے اوپر دہری ذمہ داریاں ہیں لہٰذا مجھے دبئی چند ماہ رہنے دیں جب تک زینہ امتحانات سے فارغ نہ ہو جائے پھر آپ اسے اپنے ساتھ لے جایئے گا اور جتنا عرصہ جی چاہے وہاں رک لیجئے گا اور میں پاکستان ڈیڈ کے پاس ٹھہر جاؤں گا۔۔۔اب ڈیڈ دبئی رہنا پسند نہیں کرتے تو پھر ہم میں سے کسی ایک کو تو انکے پاس رکنا پڑے گا۔۔
چلو ٹھیک ہے عاصم ۔!! فی الحال تو جانا مجبوری ہے ۔تم سے ترکوں نے قابو نہیں آنا ہے۔۔!
جی بہتر۔!
عاصم نے روحیل کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔
تم دونوں یہاں سے جا رہے ہو اور میں یہاں پر مکھیاں مارنے آئی ہوں۔؟؟؟
پھپھو آپ بھی ہمارے ساتھ چلی چلیں۔! گھر کا پکا کھانا تو ملتا رہے گا۔! روحیل نے مسکا لگایا۔۔
بھتیجوں کے کھانے کے لیے میں دوسرے ملک رلتی رہوں اور یہاں پر جو نئی بہو صاحبہ آئی ہیں انکو رہن سہن کون سکھائے گا۔؟؟
پھپھو زینہ سمجھدار لڑکی ہے وہ سب سنبھال لے گی ، آپ ویسے ہی اسکی فکر میں ہلکان ہو رہی ہیں۔ عاصم فورا بول پڑا۔۔
ہاں ہاں تم جو اسکے چمچے ہو۔!
بہن ہے میری اور مجھے بہت عزیز بھی ہے ۔! عاصم اترایا۔۔
ہاں ہاں ہم تو سارے اسکے جانی دشمن ہیں اس پر تلواروں اور نیزوں کی برسات کرتے ہیں۔!!
پھپھو جانی آپ ہر بات کو فوراً دل پرلے جاتیں ہیں ، پتا نہیں جیمی بیچارے کا کیا بنتا ہو گا۔؟ عاصم نے افسردہ شکل بنائی۔۔۔اسکی شکل دیکھ کر سب کا مشترکہ قہقہہ بلند ہوا۔۔۔
روحیل نے سب کو خوش گپیوں میں مصروف دیکھا تو موقع غنیمت پاتے ہی باورچی خانے کی طرف چل دیا جہاں پر زینہ نل کھولے برتنوں کو دھونے میں محو تھی۔۔
زینہ۔!! روحیل نے عقب سے آواز دی تو زینہ اچھل کر رہ گئی۔مجھے سمجھ نہیں آتی تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈر کیوں جاتی ہو۔؟
وہ دراصل میں اپنے دھیان میں تھی تو اچانک آپ کی آواز سے چونک گئی۔۔ زینہ نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ کو کھنگال کر رکھا۔۔
یہ سب بند کرو اور میرے ساتھ اوپر آؤ ۔! تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔
اچھا مجھے برتن دھو لینے دیں ورنہ پھپھو کو اچھا نہیں لگے گا ۔۔
زینہ نے ملتجی دھیما لہجہ اپناتے ہوئے گزارش کی ۔
روحیل نے آگے بڑھ کر نل بند کیا اور غصے سے گھورا۔۔
تمہیں میں نے کل رات کیا بولا تھا۔؟؟ بھول گئی ہو۔؟؟
ننننہیں بھولی نہیں ہوں مگر پھپھو نے شریفاں خالہ کو سبزی منڈی بھجوایا ہے اور مجھے برتنوں کی دھلائی ختم کرنی ہے پلیز۔۔ پھپھو نے بولا ہے باورچی خانے میں ایک بھی ان دھلا برتن دکھائی نہ دے لہذا آپ ادھر ہی بات کر لیں، دیکھیں میں جلدی سے سارے برتن دھو لوں گی۔! زینہ نے دوبارہ سے پلیٹ ہاتھ میں تھام لی۔۔
تمہیں سیدھی بات سمجھ نہیں آتی ہے۔ روحیل نے جواب سنے بغیر زینہ کے ہاتھ سے پلیٹ لے کر سینک میں رکھی اور فوراً زینہ کو اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔
ہائے اللہ۔!!! یہ کیا کر رہے ہیں۔؟؟ کسی نے دیکھ لینا ہے۔ پلیز مجھے نیچے اتار دیں۔!! زینہ مچلنے لگی۔۔۔
پھپھو نے دیکھ لیا تو میری گیچی مروڑ دیں گی۔کوئی ملازم بھی تو دیکھ سکتا ہے ۔ وہ سب کیا سوچیں گے۔؟؟؟ زینہ گھٹی گھٹی آواز میں بھرپور احتجاج جاری رکھے ہوئے تھی جبکہ روحیل اپنی دھن میں مگن زینے چڑھنے لگا۔۔۔ آپ ایسے شدت پسند کیوں ہیں ۔؟؟ روحیل نے بنا جواب دیئے ادھ کھلے دروازے کو پاؤں سے دھکیلا اور زینہ کو کمرے کی دہلیز پار کرتے ہی نیچے اتار کر عقب میں دروازے کو کنڈی چڑھا دی۔۔۔
فوراً جیب سے فون نکال کر پھرتی سے پیغام رسانی کرنے لگا۔۔۔
زینہ روحیل کی عجیب و غریب کاروائی پر حیران و پریشان تھی۔۔۔نجانے اب کیا ہو گا۔؟؟
روحیل نے ہاتھ میں تھاما فون پتلون کی جیب میں ڈالا اور زینہ کو دیوار کے ایک کونے میں پڑے گداز صوفے پر بیٹھنے کا حکم نامہ جاری کر دیا۔۔ زینہ بنا چوں چراں کے خاموشی سے صوفے پر ٹک گئی اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے روحیل کی پرسرار چپ پر گھبرانے لگی۔۔۔
روحیل نے کرسی کھینچ کر زینہ کے سامنے لا کر رکھی اور زینہ کے سامنے بیٹھ گیا۔۔
زینہ نے فوراً پلکوں کی باڑ اٹھا کر روحیل کو دیکھا جو اسے گھور رہا تھا۔۔
وووووہ میں آپ سے معافی چاہتی ہوں۔! آپ کو برا لگا ہے تو مجھے معاف کر دیں۔۔ دراصل میں پھپھو کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتی ہوں۔۔
ہمممم ۔ اور مجھے بیشک شکایت کا موقع ملتا رہے۔؟؟ روحیل نے آنکھیں گھمائیں۔۔
میں کوشش کرتی ہوں کہ آپ کو بھی موقع نہ ملے مگر میرے سے غلطیاں سرزد ہو جاتیں ہیں بس ۔! زینہ نے ہتھیلیوں کو مسلتے ہوئے روحیل کی طرف چور نظروں سے دیکھا۔
روحیل نے زینہ کے ہاتھ تھام لیے اور بولا۔۔
تمہیں پتا ہے میں نے تمہیں یہاں پر کیوں بلایا ہے۔؟؟
ننننہیں۔؟!
زینہ۔!!
جی۔؟؟
تمہیں پتا ہے مجھے تم سے کس قدر محبت ہے۔؟؟
جی صحیح طرح سے پتا تو نہیں ہے مگر ابھی کچھ کچھ اندازہ ہو رہا ہے۔۔!!
اس اندازے سے کیا نتیجہ نکالا ہے ۔؟؟
جی ۔؟ زینہ کی ہمت جواب دینے لگی۔۔ میں سمجھی نہیں ہوں۔
یہی نا کہ میں تمہیں دل و جان سے قبول کر چکا ہوں اور تمہیں اپنے اس گھر میں وقت گزاری کے لیے نہیں لایا ہوں بلکہ تمہارے تاعمر ساتھ کا متمنی ہوں۔۔!
جی۔۔!! زینہ نے دھیمے لہجے میں بولا۔۔
روحیل نے لمبی سانس کھینچی۔
زینہ تمہیں پتا ہے کہ میرا اس وقت ملک سے باہر جانا بہت ضروری ہے۔! میں تمہیں ایسے تنہا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا ہوں مگر میری مجبوری ہے۔۔!
جی۔!
مجھے پتا ہے کہ تمہیں میرے جانے پر افسوس تو نہیں مگر گھبراہٹ ضرور ہو رہی ہے ۔؟؟
کیا میرا یہ اندازہ درست ہے۔؟؟
جججی ۔! ویر بھی تو جا رہا ہے ، مجھے بہت اکیلا پن محسوس ہو گا ۔!
شاید مجھے اتنے بڑے گھر میں ڈر لگے گا۔! زینہ نے جھرجھری لی۔
تم بہت پاگل لڑکی ہو ۔! تمہیں پتا ہے۔؟؟؟
نہیں ۔! میں پاگل تو نہیں ہوں۔!
اچھا تو ڈرپوک ضرور ہو پھر ؟؟ روحیل نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
جی شاید۔ زینہ نے بول کر گردن جھکا لی۔۔
زینہ اس سے پہلے تم ماسی امی کے لئے پریشان ہو ، میں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی عاصم کو بتا دیا ہے کہ تم میرے ساتھ ہو ۔!
ہائے اللہ۔!! زینہ نے اپنے دونوں ہاتھ چھڑا کر چہرہ چھپا لیا۔
ویر کیا سوچتا ہوگا ۔؟؟ مجھے بہت شرم آرہی ہے۔!
روحیل کا قہقہہ بلند ہوا۔تم بہت بیوقوف ، پاگل اور شرمیلی لڑکی ہو۔!
اسکا جو جی چاہے سوچے تم اپنے محرم اپنے شوہر سے ہمکلام ہو ۔
پھر بھی پھپھو نے غصہ کرنا ہے ، میں برتنوں کی دھلائی ادھوری چھوڑ کر یہاں چلی آئی ہوں۔
تمہیں باقیوں کی فکریں ہر وقت ستاتی ہیں مگر جس کی فکر سر فہرست ہونی چاہئے ، اسے تم نظر انداز کرتی ہو۔! روحیل کی لو دیتی نظریں زینہ کو جز بز کرنے لگیں۔۔
آپ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں مجھے شرم آتی ہے۔ زینہ نے لال انگارا ہوتا چہرہ چھپا لیا۔۔
روحیل کا جی چاہا اپنا سر دیوار پر دے مارے۔۔
زینہ تم یہ اپنی آنکھ مچولی کھیلنا بند کرو اور میری باتوں کو بغور سنو۔۔
پہلے آپ وعدہ کریں کہ میری طرف ایسے نہیں دیکھیں گے۔
میں کیسے دیکھتا ہوں؟؟
جیسے ابھی کچھ دیر قبل دیکھ رہے تھے۔ زینہ نے ہتھیلیوں سے ڈھکے چہرے کے اندر سے بولا۔۔
زینہ چہرے سے ہاتھ ہٹاؤ ورنہ پھر سزا مل جائے گی۔!
آپ ہر وقت مجھے دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں، زینہ نے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر منہ بسورا۔۔
بے ساختہ روحیل کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
تم میری زندگی کا سب سے مشکل ترین ہدف ہو زینہ۔! میں نے کسی چیز ، کسی شخصیت کے حصول کے لیے اتنی تگ و دو نہیں کی ، جتنا تم مجھے تڑپا رہی ہو۔
دیکھا آپ پھر معنی خیز باتیں کرنے لگے ہیں۔!
کیا میں دیواروں سے ایسی باتیں کیا کروں ؟؟ ظاہر سی بات ہے اپنی حلال بیوی سے ہی کروں گا۔!
آپ بات بتائیں مجھے کیوں اٹھا کر لائے تھے۔؟ زینہ نے دھیمے لہجے میں احتجاجاً پوچھا۔۔
اگر کہوں کہ کوئی خاص بات نہیں تھی تو پھر کیا بولو گی ؟؟
پھر میں واپس جا کر برتنوں کی دھلائی مکمل کروں گی۔! زینہ نے اٹھتے ہوئے بولا۔
خبردار ۔!
جہاں پر بیٹھی ہو ، وہاں پر بیٹھی رہو۔!
آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں۔؟؟ پھپھو چاہتی ہیں کہ میں سارے گھر کا نظام فوراً سنبھال لوں۔
مگر میں یہ نہیں چاہتا ہوں۔!
میں چاہتا ہوں تم صرف مجھے سنبھالو۔!
آپ کیسی عجیب گفتگو کرتے ہیں .؟؟ آپ بچے تھوڑی ہیں جو میں آپکو سنبھالتی پھروں۔ زینہ نے نشیلی آنکھوں کو گول گول گھمایا۔۔۔
زینہ۔! بس بیٹھ جاؤ پلیز اور اپنے اس بھوسی بھرے دماغ پر زیادہ زور نہ ڈالو۔۔
روحیل نے زچ ہو کر گردن جھٹکی۔۔
زینہ نے خوف زدہ ہو کر حکم کی تعمیل فوراً کی۔۔
روحیل نے بستر سے ملحق دراز میں سے نیا فون نکال کر زینہ کے ہاتھ میں تھمایا۔۔
ابھی اپنا پرانا فون استعمال نہیں کرنا، اسکے اندر نئی سم موجود ہے جس میں عاصم ، ڈیڈ ، زید ،پھپھو اور میرا نمبر محفوظ ہے ۔ آج سے تم یہ فون استعمال کرو گی۔!
مجھے ہر روز پیغام صوتی بھیجو گی.!! کبھی کبھار تحریری پیغام رسانی کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے مگر مجھے ہر روز تمہاری آواز سننی ہے۔ !
سمجھ آئی ہے۔؟؟
جی سمجھ آ گئی ہے مگر مجھے نئے فون کی ضرورت نہیں ہے۔۔ !
زینہ جو بولا ہے اس پر عمل کرو ۔! میں اس فون سے ویڈیو کال پر بات کیا کروں گا صبح اور شام روزانہ بلکہ جب میرا جب جی چاہے گا ، میں تمہیں فون کروں گا ان شاءاللہ۔۔
میں نے کوئی بہانا نہیں سننا کہ فلاں پاس اور فلاں دور ہے۔! یہ فون ہر وقت تمہارے پاس موجود ہونا چاہئے اور تمہاری طرف سے جوابی تاخیر بھی برداشت نہیں کروں گا۔!!
اور کبھی میں غسل خانے میں ہوئی تو ۔؟؟ تو غسل خانے میں جانے سے قبل مجھے پیغام بھیج کر جاؤ گی۔!!
ہائے اللہ۔!! زینہ نے حیرت سے منہ کھول کر آنکھیں پھیلائیں۔۔ آپ وہاں پر کام کرنے کے لیے جا رہے ہیں یا میرے ساتھ پیغام رسانی کے لیے جا رہے ہیں۔۔ ؟؟
جو بھی سمجھو۔!!
ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی ہے۔
جی کب ختم کریں گے۔؟ زینہ نے دبے لفظوں میں بولا جسے روحیل نے سن لیا۔ دوبارہ تگڑی گھوری سے نوازا۔۔
زینہ سمٹ کر رہ گئی۔۔۔
دیکھو زینہ زندگی اور موت کا کچھ بھروسہ نہیں ہے پتا نہیں مجھے دوبارہ موقع میسر ہو یا نہ ہو ، میں اپنے دل کی تمام باتیں تمہیں بتا کر جانا چاہتا ہوں تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا تشنگی باقی نہ رہے۔!
کمرے میں فوراً سوگواری چھا گئی۔
آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔؟؟ زینہ کی آنکھیں نمکین پانی سے جھلملانے لگیں، اسے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس جذبے کے تحت وہ روحیل کی اس بات پر غمزدہ ہو گئی ہے۔! شاید جذبہ ہمدردی سر اٹھانے لگا ہے ۔زینہ نے سوچا۔۔
تم پریشان ہو رہی ہو ۔؟
جی ۔!
کیوں۔؟؟ تمہیں میرے ساتھ محبت ہو گئی ہے کیا ۔؟؟
زینہ نے نفی میں گردن جھٹکی۔۔
تمہیں پتا ہے سفر میں دعائیں قبول ہوتیں ہیں اور میں شدت سے دعا کروں گا کہ تمہیں مجھ سے ٹوٹ کر محبت ہو جائے۔
اور اگر کبھی مجھے آپ سے محبت نہ ہوئی تو ۔؟؟ تو کیا آپ مجھے چھوڑ دیں گے۔؟؟ خدشات نے سر اٹھایا۔۔
روحیل کے سانس کی ڈوری ٹوٹ جائے گی مگر زینہ کو نہیں چھوڑے گا۔!
مجھے سمجھ نہیں آتی ہے ، آپ کی باتوں میں اتنی شدت کیوں ہے ۔؟؟
کیوں کہ زینہ حیات تم نے کبھی محبت کی جو نہیں ہے۔ ! جب کوئی آپ کی روح میں تحلیل ہو جائے تو وہ آپ کی سانسوں میں آکسیجن کا طرح دوڑتا ہے۔ بس تمہارا میرے آس پاس رہنا آکسیجن کی فراہمی ہے ۔!!
زینہ کا نقرئی قہقہہ بلند ہوا۔۔
آپ بہت عجیب باتیں کرتے ہیں۔!
میں اس سے بھی عجیب باتیں کر سکتا ہوں تم موقع تو دو۔!
دیکھا ہے نا آپ فوراً پٹڑی سے اتر جاتے ہیں ۔ زینہ نے افسوس سے گردن جھٹکی۔۔
لڑکیاں مرتی ہیں اس قسم کی گفتگو سننے کے لئے ، پتا نہیں تم کس مٹی سے بنی ہوئی ہو ۔؟!
وقت بتائے گا میں کس مٹی سے بنی ہوں ۔زینہ نے روحیل کو چڑایا۔۔۔
خیر وہ وقت دور نہیں ہے ان شاءاللہ۔ روحیل نے پرامید لہجے میں بولا۔۔
آپ جلدی سے ضروری بات بتائیں اس سے پہلے کہ مجھے پھپھو سے ڈانٹ پڑ جائے۔
آج میری خاطر ڈانٹ کھا لو نجانے پھر یہ دن نصیب ہو گا بھی یا نہیں۔۔
جاری ہے
