Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08

اور زبانی ہراسگی مجھے کتنے عرصے سے اندر ہی اندر چاٹ رہی ہے سامعہ۔؟! زینہ نے تڑپ کر بولا۔۔۔
زینہ سوچو تمہاری امی ہر وقت تمہاری شادی کو لے کر پریشان رہتیں ہیں۔ اور اب اگر یہ شخص تمہیں تمہارے حجاب سمیت قبول کرنا چاہتا ہے تو میرے خیال میں حق بات ہے۔۔ زینہ اگر وہ اپنے تقوی و ایمان کی پختگی کے لیے تمہارا ساتھ چاہتا ہے تو اُسے خالی ہاتھ نہ لوٹاو ۔!! مجھے تو لگتا ہے روحیل پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہے۔!
زینہ مجھے اس کی باتوں سے خطرے کی بو آ رہی ہے۔!
کونسا خطرہ سامعہ۔؟؟؟
زینہ نے سہمے ہوئے لہجے میں پوچھا۔۔
سامعہ نے فلک گیر قہقہہ لگایا۔۔۔ تم پاگل بیوقوف، اناڑی اور ڈرپوک لڑکی ہو۔۔میں تو بس مذاق کر رہی تھی اور تم سنجیدہ ہو گئی ہو۔۔۔
زینہ پریشان نہ ہو ۔! بس دعائیں مانگتی رہو۔!سب ٹھیک ہو جائے گا ان شاءاللہ۔۔۔
سامعہ تم کتنی خوش قسمت ہو ۔!
وہ کیسے ؟؟
تمہارا نکاح ایک صالح شخص سے ہو چکا ہے، کوئی بھی مسئلہ ، کوئی پریشانی ہو تم عبد السمیع بھائی سے ہر بات کر سکتی ہو مگر ادھر میری طرف جو بھی رشتہ آتا ہے انہیں میرے حجاب سے مسئلہ ہے یا پھر روحیل جیسا ایک آوارہ ملا ہے ۔۔۔
زینہ اسے بار بار آوارہ نہ بولو ۔! ہو سکتا ہے اس نے حقیقتا سچی توبہ کر لی ہو ۔!
سامعہ کون شریف شخص اس طرح کسی کی غیرت کو للکارتا ہے ؟ کون شریف اس طرح لڑکی کا پیچھا کرتا ہے اور فون چھین لیتا ہے۔۔؟
شریفوں کی شادیاں ایسے نہیں ہوتی ہیں۔!
نیک اور صالح لوگ اپنی اور دوسروں کی عزتوں کا پاس رکھنے والے ہوتے ہیں۔۔۔وہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔۔!
پر زینہ اس نے جو بھی کیا ہے وہ توبہ سے قبل کیا ہے۔!
اور جو آج یونیورسٹی میں کر کے آیا ہے ؟ وہ کس کھاتے میں جائے گا۔؟؟
میرا فون چھین لیا تھا نجانے کیا کچھ فون میں کھول کر دیکھتا رہا ہے
اور جو مجھے بار بار مختلف نمبروں سے ہراساں کر رہا ہے وہ بھی تو شریفوں کا کام نہیں ہے یار۔!!
تین نمبر تو میں اسکے بلاک کر چکی ہوں۔ پتا نہیں اس کے پاس کتنے موبائل اور کتنے نمبر ہیں۔۔؟؟۔
اچھا چلو اب غصہ تھوک دو اور اسے دل سے معاف کر دو زینہ۔۔۔ آخر کو وہ تمہارے رضاعی بھائی کا بڑا بھائی ہے۔۔۔
سامعہ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں عاصم ویر کو ساری بات بتا دوں گی اور انہیں بولوں گی کہ مجھے روحیل جیسے شخص کی چاہ نہیں ہے۔ مجھے تقوی والا، بندے کا پتر بندہ چاہیے بس۔۔!
زینہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر کے شیرنی بننے لگی۔۔۔
اپنا سارا غبار نکال کر اب شیرنی بن رہی ہو زینہ۔!! دونوں سہیلیاں کھلکھلائیں۔۔
دروازے پر ہوتی دستک نے زینہ کو چوکنا کر دیا۔۔۔
کون ؟؟
آپا امی بول رہی ہیں چائے اور پکوڑے بنا لیں ۔! زید نے دروازہ کھلتے ہی نئی فرمائش کر ڈالی۔۔
اچھا ۔! مجھے یہ بتاؤ سب بیٹھک میں ہی ہیں نا۔؟؟ جی آپا۔!
باورچی خانے کی طرف کوئی بھی نہ پھٹکنے پائے۔!
آپا میں تو عاصم ویر اور روحیل بھیا کے ساتھ مسجد جا رہا ہوں اور ذیشان بھائی فون لے کر باہر نکل گئے ہیں۔۔۔
امی کدھر ہیں؟؟ وہ بس روحیل بھائی کے ساتھ محو گفتگو ہیں۔ یہ سن کر زینہ کا منہ کڑوا ہو گیا۔۔
آپا۔! زینہ دوپٹہ لپٹتے ہوئے کمرے سے نکلنے لگی تو عقب سے زید کی آواز آئی۔۔۔
ہاں کیا بات ہے زید ؟
آپا روحیل بھائی کے ارادے بڑے نیک ہیں۔!
وہ کیسے ؟ زینہ نے بھنویں اچکائیں۔۔
آپا امی کو وہ بہت پسند آئے ہیں۔ وہ تو ہمیں اپنے ساتھ اسلام آباد لے جانا چاہتے ہیں ۔۔۔
زینہ نے باورچی خانے میں داخل ہوتے ہوئے زخمی نظروں سے زید کو دیکھا۔۔۔
زید ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے پرائے گھروں میں جانے کی ۔۔۔!
آپا ہمیشہ کےلئے تھوڑی کہہ رہے ہیں وہ تو صرف کچھ ہفتوں کے لئے بول رہے ہیں۔۔
میں تو کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔
عاصم ویر کیا کہتا ہے ؟؟
آپا ویر عاصم نے ہی تو بات شروع کی ہے اور پھر روحیل بھیا نے امی کو قائل کرنے کی ٹھان لی ہے بس ۔۔۔
اور وہ ذیشان بھائی کیا فرما رہے تھے۔۔۔
آپا آپ کے لئے رشتہ لائے ہیں ، کہہ رہے تھے بڑے اچھے لوگ ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔
آپا میں تو چلا۔!
ہاں ٹھیک ہے تم جاؤ ۔! میں یہ سب کاٹ لوں اور پھر نماز کے بعد پکوڑے تل لوں گی۔۔۔
آپا مجھے لگتا ہے امی روحیل بھیا سے بہت متاثر ہیں وہ شاید مان جائیں گی۔۔۔
زید نے ٹوکری سے آلو نکال کر زینہ کو تھمائے۔۔۔
زینہ کے دل کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگیں۔۔۔ اللہ جانے یہ شخص کونسا نیا منصوبہ بنا رہا ہے ۔؟ میں تو نہیں جاؤں گی۔۔۔
ویر عاصم اکیلے کا گھر ہو تو ٹھیک ہے مگر اسکی موجودگی میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔۔۔
زینہ نے آلو پیاز کاٹ کر تیار کیے اور نماز کے لیے اپنے کمرے میں جانے لگی تو امی بھی باورچی خانے میں میٹھی مسکراہٹ سجائے آن پہنچی۔
امی خیریت ہے آج بہت مسکرایا جا رہا ہے۔۔۔
بس اللہ کی حکمتیں وہی اکیلا جانتا ہے۔
دونوں بچے بہت نیک ، ادب و آداب والے ہیں ماشاءاللہ۔۔۔
ویر عاصم کو تو نیک بولنے میں کوئی قباحت نہیں ہے مگر دوسرے نیک پرویز سے اللہ بچائے۔زینہ بڑبڑائی۔۔
اے کیا بولے جا رہی ہے زینہ۔ بات مخاطب کی سمجھ کے مطابق کیا کر ۔!
امی کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی سوچ رہی تھی کہ یہ لوگ آج رکنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا واپس لوٹ جائیں گے۔؟
میرے بس میں ہو تو روک لوں مگر تنگ گھر کا مسئلہ ہے۔ اور پھر تو پردہ بھی تو کرتی ہے ، تیرے اندر باہر جانے میں دشواری ہو گی وگرنہ میں دونوں بچوں کو کبھی بھی نہ جانے دیتی۔۔۔
اللہ بخشے انکی ماں کو ، روحیل کو دیکھ کر اسکی ماں بہت یاد آئی ہے۔ زینہ خاموشی سے سب سن رہی تھی۔۔
میں وضو کرنے آئی تھی اور ادھر باتوں میں لگ گئی ہوں۔۔۔زینہ تو بھی جا نماز پڑھ وہ لوگ تو خارجی دروازے سے مسجد کے لئے نکل چکے ہیں۔۔۔
جی امی۔۔!!
نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا لیے، آنسوؤں کی لڑیاں لڑھکنے لگیں۔۔۔ ہلکی سی آہٹ ہوئی تو دل مٹھی میں آ گیا۔۔
بستر پر پڑا فون تھر تھرایا۔
“ہم مسجد سے وآپس آ رہے ہیں کڑک چائے اور گرما گرم پکوڑوں کے لیے دل مچل رہا ہے، باحیا زینہ کے ہاتھ کا دل موہ لینے والا ذائقہ روحیل کو گرویدہ بنا چکا ہے ۔ جی چاہتا ہے روزانہ ایسے ہی کھانا ملے اور میری میزبانی کے فرائض زینہ حیات نبھائے۔! زینہ کا ہونے والا روحیل۔”
یا اللہ یہ شخص ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گیا ہے۔ دل کی دھڑکن بےقابو ہونے لگی ، ایسے لگ رہا تھا دل پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔۔۔ پیشانی پر پسینے آنے لگے۔۔۔
پیغام پڑھتے ہی چوتھا نمبر بھی بلاک کر دیا۔۔۔
اب تم چاہے جتنا مرضی زور لگا لو۔ میری طرف سے کوئی پیش رفت نہیں پاؤ گے ان شاءاللہ۔۔۔
“میری غیرت میرا حسن ہے روحیل ارشاد”۔۔
کڑک چائے کے ساتھ کر کرے پکوڑے تیار ہو چکے تھے۔ پکوڑوں کی مہک گھر کے اندر داخل ہوتے ہی روحیل کے نتھنوں سے ٹکرائی تو عنابی ہونٹوں پر میٹھی مسکراہٹ در آئی۔۔۔
اس لڑکی کو اپنانا میرے لیے کے-ٹو سر کرنے سے زیادہ مشکل ہے ۔۔۔روحیل نے سوچا۔۔۔
بھیا اکیلے اکیلے مسکرایا جا رہا ہے ۔ خیریت ہے ؟ عاصم نے معنی خیز نظروں سے روحیل کو دیکھا۔۔۔
چھوٹے۔! چھوٹے ہوتو چھوٹے ہی رہو۔! دادا ابو نہ بنو۔!
بھئی ہم نے بھی صحرا کی خاک چھانی ہے ، ہم بھی مسکراہٹیں بکھیرنے کا مطلب خوب سمجھتے ہیں۔۔۔ تین تین فون اور پھر ہر بار نئے نمبر سے کسی کو پیغام رسانی کرنا اور اکیلے مسکرانا ۔۔۔
روحیل کے ساتھ والی کرسی پر براجمان عاصم سرگوشیوں سے روحیل کو ستا رہا تھا۔۔۔
عاصم تمہاری شادی کا وقت آن پہنچا ہے۔۔ !!
زید ماسی کدھر ہیں ؟؟ یار جا انکو بلا مجھے ان سے ضروری بات کرنی ہے۔!
جی بھیا ابھی بلا کر لاتا ہوں۔!
یہ لیں امی بلانے سے قبل ہی آن پہنچی ہیں۔۔
خیریت ہے بیٹا۔؟
جی ماسی وہ میں چاہ رہا تھا کہ آپ عاصم کے لیے کوئی لڑکی تجویز کریں۔ ماسی میں نہیں چاہتا یہ ادھر صحرا میں کسی عربی کے چنگل میں پھنس جائے۔۔۔۔
ارے بیٹا وہ بات تو ہے ۔ شہناز بیگم نے سنجیدگی سے کہا جبکہ زید عاصم قہقہے لگانے لگے۔۔۔
ماسی آپ بھی بہت سادہ ہیں۔
ہائے بیٹا کوئی غلط بات بول دی ہے کیا۔۔؟؟
ارے نہیں ماسی آپ بس اسکا رشتہ دیکھیں۔ !!
کس کے رشتے کی بات چل رہی ہے ادھر؟؟
ذیشان نے فون کان سے ہٹایا اور خارجی دروازے سے بیٹھک میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔۔
ارے ذیشان بچے آپس میں ایک دوسرے کو چھیڑ رہے ہیں تم بیٹھو چائے تیار ہے، تم۔نے کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا تھا۔۔
خالہ بس زینہ کی بات پکی کرنے کی تگ و دو میں روٹی کی بھوک کس کو ہے۔۔ ابھی انہیں لوگوں کے ساتھ تمام معاملات طے کر دیئے ہیں۔
اگلے ہفتے وہ لوگ آئیں گے اور نکاح کی تاریخ طے کر جائیں گے۔۔۔
یکدم کمرے میں سناٹا چھا گیا۔روحیل کے چہرے کا رنگ غصے سے لال اور رگیں تن گئیں۔ بہت مشکل سے اپنا غصہ دبایا۔۔۔
پر پتر زینہ سے پوچھا بھی نہیں ہے اور نہ ہم نے خاندان کے بارے میں چھان بین کی ہے ۔ ایسے کیسے نکاح کی تاریخ پکی کر دوں؟؟
کیا وہ لوگ زینہ کا پردہ کرنا قبول کر لیں گے؟؟
خالہ زینہ کا پردہ صرف میری ذات تک ہی ہے۔ سارے دن سے یہ چھورے آئے بیٹھے ہیں ان پر تو کسی کو اعتراض نہیں ہے۔۔
روحیل کی برداشت جواب دینے لگی۔۔
ذیشان پتر عاصم زینہ کا محرم ہے ، دودھ شریک بھائی ہے اور زینہ تو روحیل کے سامنے بالکل بھی نہیں آئی ہے۔۔۔
وہ سب نامحرم مردوں سے ایک جیسا پردہ کرتی ہے۔ خالہ نے لجاجت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔
خالہ ایک مرتبہ اسکی شادی ہو جائے سارے کا سارا پردہ “حجاب” ناک کے رستے باہر آ جائے گا۔ یہ چونچلے صرف ماں کے گھر تک ہی ہیں۔۔۔
کمرے میں مکمل سکوت طاری ہو چکا تھا۔ عاصم زید دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جبکہ روحیل کے ہاتھ فون کے کیبورڈ پر تیزی سے حرکت کر رہے تھے۔۔۔
“اگلے ہفتے ہمارا سادگی سے نکاح ہے ، رخصتی کا بعد میں سوچ لیں گے۔!!! کسی قسم کی چوں چراں نہ سننے کو ملے ،کل میں اپنے ڈیڈ کو لا رہا ہوں۔۔
تم زینہ حیات صرف اور صرف میری ہو۔
یہ میری پانچویں سم ہے اس کے بعد ایک بچتی ہے ۔۔ اب اگر تم نے میرا یہ نمبر بلاک کیا تو دو نمبر میں نے تمہارے نام پر لے لینے ہیں۔۔ تمہارے شناختی کارڈ تک میری رسائی بھی ناممکن نہیں ہے۔۔۔جب تک مجھے جواب ہاں میں نہیں ملتا میں تم سے رابطے میں رہوں گا”۔!
روحیل صاحب۔! لگا لو ایڑھی چوٹی کا زور.! میری طرف سے ایک جواب بھی نہیں ملے گا۔زینہ نے پیغام پڑھتے ساتھ ہی نمبر بلاک کر دیا۔۔۔
جو اذیت مجھے پہنچائی ہے اسکا ازالہ مختلف نمبروں کی کہانی سنا کر نہیں کیا جا سکتا۔ میں اتنی گئی گزری ہوں جب جی چاہا سر راہ ذلیل کر دیا اور جب جی چاہا یونیورسٹی آکر محبت کی پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔۔۔ آوارہ مزاج، لفنگا میرے گھر میں بیٹھ کر مجھے ہی دھمکیاں دے رہا ہے۔۔۔
زینہ کا خون کھول کر رہ گیا۔۔ ہاتھ میں پکڑے فون کا گلا گھونٹتے ہوئے کپڑوں کی الماری میں چھپا دیا۔۔۔بھیجتے رہو پیغامات میں نے فون ہی نہیں استعمال کرنا ۔۔۔
********************************
ماسی امی ہمیں اجازت دیں۔ نازک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عاصم اٹھ کھڑا ہوا جبکہ روحیل ہنوز کمرے میں پھیلی تلخی پر کھول رہا تھا ۔۔۔
ارے نہیں بیٹا بیٹھو۔! چلے جانا۔! تم آج کی رات اسلام آباد واپس جا رہے ہو کیا.؟ نہیں ماسی ادھر ماموں کے گھر ہی قیام ہے،ماموں تو نہیں رہے مگر در و دیوار باقی ہیں جنہیں بھیا گاہے بگاہے آ کر آباد کرتے رہتے ہیں ۔
ہاں بیٹا ہمیں تو خبر بھی نہ تھی یہ تو تم لوگوں نے آ کر بتایا ہے کہ انکا تو سارا کنبہ ہی چل بسا ہے ۔۔اور ہم تو اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ تمہارے ماموں امریکہ سے واپس آ چکے تھے اور میرپور آکر کتنے سال آباد رہے ہیں۔۔
بیٹا بہت افسوس ہوا ہے انکے بارے میں سن کر پہلے بیٹا چلا گیا اور پھر والدین اسکا غم برداشت نہ کر پائے اور اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔۔۔
شہناز بیگم نے صدمہ سے چور لہجے میں بولا۔۔۔
روحیل بیٹا بیٹھو عشاء کے بعد چلے جانا۔۔۔ کونسا کہیں دور جانا ہے ، ایک ہی شہر تو ہے۔۔۔
روحیل کی دلی تمنا پوری ہو گئی اور وہ مسکرا کر رہ گیا۔۔۔
ذیشان کڑی نظروں سے روحیل کو گھور رہا تھا جو دوبارہ گردن جھکائے اپنے فون میں مصروف ہو گیا۔۔۔
ماسی آپ لوگوں کو ہمارے ساتھ چلنا ہے بس ۔! زیادہ نہ سہی چند دن کے لئے ہی چلے چلیں۔!
ماں صدقے کرے۔! ابھی زینہ کی یونیورسٹی بھی ہے اور ویسے بھی وہ شاید رضامند نہ ہو۔۔
ذیشان اپنی عادت سے مجبور زیادہ دیر خاموش نہ بیٹھ سکا۔۔ہاں ہاں خالہ زینہ کو تو اپنی سگی بہن کے گھر آکر ٹھہرنا بھی پسند نہیں ہے۔ اسکا سگے خالہ زاد بہنوئی سے سخت پردہ ہے ۔۔ پوچھ لیں شاید اسے اسلام آباد کی فضا پسند آ جائے۔۔ ذیشان نے زہر ٹپکایا۔۔۔
ذیشان میں زینہ کی طبیعت سے واقف ہوں وہ کبھی بھی نہیں جائے گی۔۔۔ ساس نے وضاحت دی۔
چلیں اگر کہتی ہیں تو مان لیتا ہوں۔۔۔
عاصم میاں تم تو بیٹھ جاؤ .! آخر کو زینہ کے دودھ شریک بھائی ہو ۔! ہو سکتا ہے خالہ داماد پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے رضاعی بیٹے پر کر لیں ۔۔۔
عاصم ہقا بقا سب کے چہرے دیکھنے لگا ۔۔۔
ذیشان بھائی آپ عاصم اور زینہ کی فکر میں کیوں گھلے جا رہے ہیں۔؟؟ زینہ کی زندگی کے فیصلے کرنے کےلئے اسکا سگا بھائی موجود ہے ۔ روحیل نے دھیمے مگر کاٹ دار لہجے میں ذیشان کو باور کروا دیا ہے ۔۔۔
روحیل صاحب آپ اسلام آباد بڑے شہر کے باسی ہیں اور ہم اس چھوٹے شہر کے رہنے والے ہیں ہمیں یہاں کی روایات کا بخوبی اندازہ ہے۔۔۔
ہم اپنی عورتوں کی رکھوالی کرنا خوب جانتے ہیں۔۔۔
عاصم نے فوراً روحیل کے ہاتھ پر دباؤ ڈالا اور مزید بحث سے روک دیا ۔
آپ ذیشان بھائی بالکل درست فرما رہے ہیں۔! عاصم نے بات سمیٹنے کی بہترین کوشش کی۔۔۔
عاصم میاں تم اپنی ماسی امی کو سمجھاؤ کہ اس طرح کے رشتے بار بار ملنے محال ہیں۔۔ ذیشان نے گفتگو کے ساتھ ساتھ پلیٹ میں پڑے پکوڑے کترنا شروع کر دیئے۔۔
شہناز بیگم غم کی تصویر بنی خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھیں۔۔۔
زید تم جاؤ زینہ کو بولو میرے لئے کڑک سی چائے بنائے اور اسے بولنا الائچی کے ساتھ دارچینی ضرور ڈالے۔۔
جی بھائی۔! زید فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹھک سے نکل کر زینہ کے کمرے پر دستک دینے لگا ۔
تو پھر خالہ اگلا جمعہ کیسے رہے گا۔؟؟ ذیشان نے سوالیہ نظروں سے خالہ کو دیکھا۔۔
ذیشان بیٹا زینہ کی رضامندی بہت ضروری ہے۔ اور پھر شہلا کے آرام کے دن ہیں ، کیا خبر کب ہسپتال کی طرف دوڑیں لگ جائیں۔ تم ان لوگوں کو بولو دوماہ صبر کر لیں۔ شہلا کا چھلہ ہوتے ہی ہم لڑکے کا گھر بار اور خاندان دیکھ آئیں گے اور پھر زینہ امتحانات سے بھی فارغ ہو جائے گی۔۔
دیکھیں خالہ اچھے رشتے ملنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے ۔۔۔اب مرد کی بھی کوئی زبان ہوتی ہے ۔ میں انہیں زبان دے آیا ہوں۔!
پر بیٹا ہمارے علم میں لائے بغیر تمہیں یہ سب نہیں کرنا چاہئے تھا۔۔ شہناز بیگم نے لاچارگی سے کہا۔۔
خالہ یہ رشتہ جو میں لایا ہوں ،کیا بات ہے جی .! ذیشان نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے جوش میں بتاتے ہوئے دوسرا پکوڑا منہ میں ڈالا۔۔۔
روحیل اپنی نشست پر بیٹھا کھول رہا تھا۔۔
ذیشان بھائی اگر آپ اجازت دیں تو ابھی چلتے ہیں لڑکے والوں کے گھر اور لڑکا دیکھ آتے ہیں۔۔ عاصم نے ایک حل نکالا۔۔
روحیل کو تو گویا سانپ سونگھ گیا۔۔۔
فورا خود کو سنبھالتے ہوئے عاصم کے فون پر پیغام بھیج کر فون دیکھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
“تمہیں کس نے دادا بنایا ہے؟ منہ بند رکھو۔! کوئی بھی لڑکا دیکھنے نہیں جائے گا۔”!
پیغام پڑھتے ساتھ عاصم نے سوالیہ نظروں سے روحیل کو دیکھا مگر اس کے اشارے پر خاموش رہنا مناسب لگا۔۔
عاصم میرا نہیں خیال زینہ اتنی جلدی اس سب کے لئے تیار ہو گی۔ امی نے عذر تراشا۔۔۔
خالہ ساری زندگی اس زینہ کی سنتی آئی ہیں اس لیے تیئس سال کی ہو گئی اور کسی ایک شخص نے آپکے گھر کی دہلیز پار نہیں کی ہے۔۔۔
بارہا بولا ہے اسے بولیں یہ منہ سر چھپانا چھوڑ دے۔! آج کل کون اس طرح کے تکلفات میں پڑتا ہے !
تمہارا کیا خیال ہے عاصم؟؟ تم تو دبئی کی رنگین دنیا سے واقف ہو۔۔!!
“جججججججی بھائی میرے خیال میں زینہ بہت اچھا کام کر رہی ہے۔۔۔ گھر کی چار دیواری کے باہر غیر مردوں کی غلیظ نظروں سے محفوظ رہتی ہے۔”۔
روحیل نے مشکل سے اپنی ہنسی دبائی۔جبکہ ذیشان کا منہ لٹک گیا۔۔۔
یہ لو جی زینہ کا ایک اور حمایتی کھڑا ہو گیا ہے۔ اوہ بھائی تم تو چند ہفتوں کے لئے آئے ہو ،اس مجبور خاندان کو طفل تسلیاں دے کر اپنی رنگین دنیا میں واپس چلے جاؤ گے۔! پیچھے بچا میں جسے اپنے گھر کے ساتھ ساتھ سسرال کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے ۔
اپنی عادت سے مجبور ہوں بس ! میرے سے رہا نہیں جاتا ہے اور سگی خالہ کی ایک پکار پر دوڑا چلا آتا ہوں۔۔۔ خالہ میں اس رشتے سے انکار نہیں کر سکتا ہوں۔! بتائے دے رہا ہوں۔!!
خالہ کے بجائے عاصم نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے ذیشان کی بات کی تائید کی۔۔۔
ویسے تم وہاں پر کیا کرتے ہو ۔؟
میری کنسٹرکشن کمپنی ہے ۔!
اچھا پھر تو تم لمبی لمبی عمارتوں کے نقشے کھینچ لیتے ہو گے ۔!
نہیں ۔! یہ کام تو نقشہ نویس کرتا ہے ، میری کمپنی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ تعمیراتی کام سر انجام دیتی ہے۔۔۔
اچھا اسکا مطلب ہے کہ مستری مزدوروں والا کام ہے ۔!
جی بالکل آپ صحیح سمجھے ہیں۔!
تو تم اتنی کم عمری میں کمپنی کیسے چلا رہے ہو۔؟! جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تم زینہ سے چند دن ہی بڑے ہو ۔!!
ذیشان بھائی میں ڈیڈ کی کمپنی کے لیے کام کرتا ہوں۔۔!
اچھا چلو جہاں پر لگے ہو لگے رہو۔۔!
زید.!! دیکھو زینہ پائے گلا رہی ہے یا چائے بنا رہی ہے۔؟ ذیشان نے کلائی میں بندھی گھڑی کو گھما کر وقت دیکھا۔۔۔
جی بھائی۔! میں ابھی دیکھتا ہوں۔۔۔
ترش گفتگو کے بعد بیٹھک میں خاموشی کا راج تھا جبکہ روحیل اپنی نئی منصوبہ بندی کر چکا تھا۔۔
زید تم بیٹھو ۔! میں خود زینہ کو دیکھتا ہوں ویسے بھی زینہ کو الوداع بھی تو بولنا ہے۔۔۔عاصم نے نرمی سے زید کو بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا ۔
دیکھو جی دودھ شریک بھائی بھی اندر باہر ہو رہا ہے ساری پابندیاں صرف داماد کے لیے ہیں۔۔
شہناز بیگم سر جھٹک کر رہ گئیں۔۔۔
******************************************ویرے تم ابھی اتنا جلدی واپس کیوں جا رہے ہو۔؟؟ اپنے بڑے بھائی کو بھیج دو اور تم ہمارے ساتھ ٹھہرو نا ۔! رات کو لحافوں میں بیٹھ کر باتیں کریں گے اور ریڑھی کی بھنی تازہ مونگ پھلی بھی کھائیں گے کتنا مزا آئے گا۔!!! زینہ نے عاصم کو بچوں کی طرح لالچ دے کر روکنا چاہا۔ جبکہ عاصم کھڑا مسکرا رہا تھا۔ یہ میں بہنوئی صاحب کو دے آؤں پھر بیٹھ کر تفصیلی بات کرتے ہیں۔۔ عاصم نے کڑک چائے کی پیالی اٹھائی اور بیٹھک کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
زینہ نے فوراً باورچی خانے میں پھیلاؤ کو سمیٹا اور برتن اکھٹےکر کے دھونا شروع کر دیئے ۔۔
نلکا کھولے برتنوں میں اس قدر محو تھی کہ دائیں بائیں سے بالکل غافل ہوگئی۔۔۔
اچانک کسی کے گلا کھنکارنے کی آواز کانوں میں پڑی۔
ویرے اندر آ جاؤ ۔! تمہیں اجازت کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔!! زینہ نے بنا پلٹے ادھ کھلے دروازے سے بولا۔۔۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ میں تمہارا ویر نہیں ہوں اور دوسری بات یہ ہے کہ میں اندر نہیں آؤں گا۔! بیت الخلاء کے بہانے سب سے آنکھ بچا کر آیا ہوں۔! اور تمہاری طرف پشت کیے کھڑا ہوں ۔! میں نے تمہیں بالکل بھی نہیں دیکھا ہے ۔!
دل سے عہد ہے کہ تمہیں صرف نکاح کے بعد ہی دیکھوں گا۔!!
زینہ کا رنگ یکدم فق ہو گیا گویا کسی نے سارے جسم کا خون نچوڑ لیا ہو ۔۔۔ دھک دھک کرتا دل جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آنے لگا۔۔۔ لرزتے ہاتھوں سے پلیٹ چھوٹتے چھوٹتے بچی۔۔۔
تو پھر بولو میرے ساتھ نکاح کے لئے تیار ہو ؟؟ یا عاصم کو رات ادھر ہی چھوڑ جاؤں تاکہ وہ تمہیں قائل کر سکے۔کہتی ہو تو میں بھی رک جاتا ہوں۔۔!! تمہارے پردے میں کبھی بھی حائل نہیں ہوں گا اسی احساس میں رات بتا لوں گا کہ میری زینہ میرے آس پاس ہی ہے چاہے رات تمہاری بیٹھک میں ہی گزارنی پڑ جائے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *