Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34
زینہ نے اشکبار آنکھوں سے ڈائری میں مقید حقائق جوکہ مع تاریخ اور مع وقت درج تھے ، سب کچھ دلجمعی سے پڑھا مگر ساتھ اس ظالم سماج کی یاد ستانے لگی۔۔ دل مچلا۔۔۔
ابھی پیغام بھیجتی ہوں شاید جواب دے دیں۔
زینہ نے ڈائری کو ایک طرف رکھا اور سرعت سے پیغام لکھنے لگی۔۔
“روحیل آپ کو پتا ہے میں آپ سے بہت ناراض ہوں۔! میں نے بارہا آپ سے رابطہ کیا ہے مگر آپ نے پلٹ کر جواب دینا بھی گوارہ نہیں کیا، میں نے آپ کی شکایت چچا اور ویر سے کر دینی ہے ۔!! پھر نہ کہنا مجھے پیشگی اطلاع نہیں کی ہے ۔”
پیغام ارسال کرتے ہی روحیل کا منہ پھاڑ جوابی ایموجی موصول ہوا۔۔
آپ ہنس رہے ہیں۔؟؟
تمہاری شکایت پر ہنسی آ رہی ہے۔!
کیسی ہو ؟؟ بہت یاد آ رہی ہو۔!
جھوٹ ۔! میں نہیں مانتی ہوں۔!
عاصم سے پوچھ لو .!
کیوں ویر آپ کے دل میں رہتا ہے ۔؟
آپ اتنے سارے گھنٹے کہاں پر گزار کر آئے ہیں اور ابھی کدھر ہیں۔؟؟
فی الحال اپنے کمرے میں موجود ہوں اور اس وقت اپنے اور عاصم کے لیے کھانا لینے باہر نکلا تھا یار۔
گھر واپسی پر کچھ دوست مل گئے تو پھر باتوں میں پتا ہی نہیں چلا اور پھر عاصم کو بھی ادھر ہے بلوانا پڑ گیا ۔۔۔
میں نہیں مانتی۔!!
تو پھر اب میں کیسے یقین دہانی کرواؤں۔؟؟
سکائپ پر آؤ کمرہ دکھاتا ہوں۔!
امی سو رہی ہیں۔!
اور تم کیوں جاگ رہی ہو۔؟
میں یاد آ رہا ہوں۔؟
شاید ۔؟ زینہ نے مان لیا۔
اچھا پوچھ سکتا ہوں کہ اتنی رات گئے مجھے یاد کرنے کی کیا تک بنتی ہے۔؟؟
اور یہی سوال میں آپ سے بھی کروں گی کہ اتنی رات گئے آپ کے جاگنے کی کیا تک بنتی ہے۔؟؟
میں تو بیوی کی محبت میں جاگ کر سزا کاٹ رہا ہوں۔!!
اور میں شوہر کی ضد میں سزا کاٹ رہی ہوں۔!
ہائے سامنے ہوتی تو تمہیں بتاتا۔!!
زیادہ ہیرو نہ بنیں اور سو جائیں۔!
اب کس ظالم کو نیند آنی ہے ۔؟
اچھے بنیں آ جائے گی۔!
کیسے بنوں اچھا ؟ کوئی نسخہ بتا دو۔!
میں اس وقت شدید تھکن کا شکار ہوں اور سونے جا رہی ہوں۔
آپ مسنون اذکار پڑھیں تو نیند آ جائے گی۔
تم پڑھو نا ۔ اپنی آواز ریکارڈ کرکے فورا بھجواوء ۔!
آپ بھی نا بہت ضدی ہیں۔!
ابھی تم نے میری ضد دیکھی ہی کہاں ہے زینہ عرف خشک مزاج محبوبہ۔!!
ہاہاہاہا ہاہاہاہا آپ کا علاج ہے۔!!
میرے پاس بھی بہت سارے علاج موجود ہیں مگر میں مجبوری کا مارا ہوا ہوں۔۔
روحیل ۔!
جی روحیل کی جان۔!!
وہ دروازے پر اس وقت دستک ہو رہی ہے۔
تو پوچھو کون ہے۔! مگر دروازہ کھولے بنا پوچھو۔!
جی میں ابھی دیکھتی ہوں۔!
مجھے فوراً بتاؤ کون ہے ۔!
جی بہتر۔!
کککون ہے ؟؟ زینہ نے گھبرا کر دھیمی آواز میں دروازے کے پاس جا کر پوچھا۔
جواب نا پاکر زینہ نے دروازے کے ساتھ کان لگا کر سائل کو سننے کی کوشش کی شاید کوئی آہٹ محسوس ہو سکے۔
آدھی رات کو کون ہو سکتا ہے بھلا۔؟؟ چچا کی طبیعت ٹھیک ہو ، اللہ خیر کرے ۔۔ پریشانی نے آن گھیرا ۔ دھک دھک کرتا دل سینے میں پھڑپھڑانے لگا۔
دروازہ کھولنے کی ہمت بھی مفقود ہوتی جا رہی تھی۔۔
کون ہے باہر۔؟؟ زینہ نے آخری بار تصدیق چاہی مگر جواب نا پاکر خاموشی سے ہاتھ میں تھاما فون لے کر بستر پر آن بیٹھی۔۔
شاید جیمی ہو ، رات کے اس پہر میرے سے تھپڑ کا بدلہ لینے کے لئے نا آیا ہو۔؟ دل میں خوف جڑ پکڑنے لگا ۔۔ فورا بستر سے اتر کر کھڑکی کے کھلے پٹ بند کیے۔۔
ہو سکتا ہے شاید میرا کوئی وہم ہو ۔۔
خیر جو بھی ہے میں دروازہ قطعاً نہیں کھولوں گی۔۔
واپس بستر کی طرف پلٹی اور روحیل کے پیغامات کو پڑھ کر برق رفتاری سے جوابات ٹائپ کرنے لگی۔۔
روحیل کی پریشانی اپنے عروج پر تھی۔۔۔
روحیل آپ پریشان نہ ہوں۔ مجھے شاید وہم ہوا تھا ، کھلی کھڑکی سے شاید کمرے میں آہٹ ہوئی تھی ، میرے دو تین بار پوچھنے پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے ۔
اچھا چلو شکر ہے۔! مجھے یکدم ڈیڈ اور پھپھو کی فکر نے آن گھیرا ہے زینہ ۔۔۔
سب خیریت ہے روحیل آپ پریشان نہ ہوں اب آپ آرام سے سو جائیں ۔روحیل کے ساتھ صرف پیغام رسانی پر ہی زینہ کے وسوسے ہرن ہو گئے۔۔میں اس شخص کے ساتھ خود کو کتنا محفوظ تصور کرنے لگی ہوں حالانکہ یہ شخص میلوں دور بیٹھا ہوا ہے۔۔مگر شاید اس شخص کا جڑا نام میرے نام کی رکھوالی کا ضامن ہے۔۔
روحیل آپ آرام سے سو جائیں۔ زینہ نے دوبارہ بولا۔۔
زینہ نیند آئے گی تو سو جاؤں گا ، جب سے میری زندگی میں آئی ہو میری نیند کا گراف نو گھنٹے سے گر کر تین سے چار گھنٹوں پر چلا گیا ہے۔
روحیل۔! میں آپ کو منع تھوڑی کرتی ہوں کہ نا سوئیں ۔!
تم منع نہیں کرتی ہو مگر میرے دل و دماغ پر کاری وار ضرور کرتی رہتی ہو ۔!!
آپ کو چرب زبانی میں ایوارڈ ملنا چاہئے۔!!
نیکی اور پوچھ پوچھ۔!
مجھے ایوارڈ میں صرف زینہ درکار ہے۔۔
ہاہاہاہا ہاہاہاہا چھوٹی سی بات پر آپ کا دماغ کس طرف چلا جاتا ہے۔۔؟؟
میرے اوپر ہنس رہی ہو ۔؟؟؟
جی !!! زینہ نے روحیل کو چڑایا۔۔۔
تم بہت ظالم ہو زینہ ۔!!
عزت افزائی کا بہت شکریہ۔!
پاس ہوتی تو تمہیں بتاتا کہ کیسے چڑاتے ہیں۔؟
اسی بات کا تو فائدہ اٹھا رہی ہوں۔ہاہاہاہا۔
کوئی بات نہیں زینہ تیرہ دن کی بات ہے پھر میں نے رخصتی کروا لینی ہے ۔ دھمکی نہیں ہے حقیقت میں بول رہا ہوں۔!
روحیل کا دھمکی آمیز پیغام پڑھ کر زینہ کی دل کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگیں ۔ جی نہیں۔ !!
آپ نے وعدہ کیا تھا کہ امی کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے تک رخصتی نہیں ہوگی۔۔!
جی یہی بولا تھا۔! مگر بیوی صاحبہ ماسی امی تیرہ دنوں میں بہت بہتر ہو جائیں گی فزیو سے میری بات ہوئی ہے اس نے آدھے گھنٹے کی ورزش کے بعد مجھے تمام تفصیلات ووٹس ایپ کر دیں تھیں ، میں دیار غیر میں ہوتے ہوئے بھی بےخبر نہیں بیٹھا ہوں۔! ابھی کوئی اور اعتراض ہے تو بتا دو ۔؟؟
ننننہیں اعتراض تو کوئی نہیں مگر میں پہلے ویرے کی دلہن ڈھونڈوں گی ان شاءاللہ۔
چلو جی ابھی میری جان کے لیے نیا سیاپا۔!!
روحیل توبہ ہے ۔! آپ کتنے خود پرست اور خود غرض ہیں۔؟ اپنی شادی رچا لی ہے اور اپنے چھوٹے بھائی کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔۔ چچچچچچچچچچ
بیوی صاحبہ عرف خشک مزاج چھوٹے بھائی کی پرواہ کرتے ہوئے دبئی میں کھجل ہونے آیا ہوں ورنہ مجھے کیا پڑی تھی اپنی خشک مزاج بیوی کو چھوڑ کر آتا ۔
میں خشک مزاج نہیں ہوں۔!!
زینہ تمہارا یہ کہنا کہ “میں خشک مزاج نہیں ہوں” اس صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہے ۔!
آپ مجھے تنگ کر رہے ہیں تو میں چلی جاؤں گی۔!
جا کر دکھاؤ تو ذرا.!!!
اگر چلی گئی تو کیا کر لیں گے ۔؟؟
تمہیں نہیں اندازہ میں کیا کچھ کر سکتا ہوں۔!!
مثلاً۔؟؟
سب چھوڑ چھاڑ کر لوٹ آؤں گا مجھے چیلنج نہ کرو تو تمہارے ہی حق میں بہتر ہے۔!
اچھا جناب میں ہی ہار مان لیتی ہوں، آپ جناب میں بہت ساری صلاحتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں مگر اس وقت نیند سے میری آنکھیں بوجھل ہو رہی ہیں ، بہت دقت سے آپ سے بات کر رہی ہوں۔!
مجھے اجازت دیں ۔! میں ابھی سونا چاہتی ہوں۔!
تم تو سو جاؤ گی مگر مجھے نیند نہیں آئے گی زینہ۔!
ایک مرتبہ بولو تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے ۔!
محبت تو نہیں ہوئی مگر آپ کی کمی شدت سے ضرور محسوس ہو رہی ہے ۔!
خشک مزاج میرا دل رکھنے کے لیے بول دیتی۔!
میں کسی کو بھی خوش فہمیوں میں رکھنا پسند نہیں کرتی ہوں۔
میں کسی بھی نہیں ہوں ، شوہر ہوں تمہارا زینہ۔! روحیل نے تڑپ کر لکھا۔۔۔
جی جناب شوہر نامدار روحیل ارشاد صاحب آج ساراااااااااااا دن آپ کی کمی محسوس ہوتی رہی ہے، بلکہ کئی مرتبہ تو آپ کو خیالی دنیا میں پکارا بھی ہے ۔!
ابھی خوش ہیں۔؟؟؟
میں اس وقت تک خوش نہیں ہوں گا جب تک تم مجھے محبت نہیں کرو گی !
روحیل محبت بھی ہو جائے گی ان شاءاللہ ، شاید وقت لگے گا یا پھر شاید ہو چکی ہو ۔!
تم کتنی ڈھیٹ ہو .!
آپ سے کم ہوں روحیل۔!
جتنے ڈھیٹ آپ ہیں ، میں نے زندگی میں کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا ہے ۔۔!!
ہاہاہاہا ہاہاہاہا روحیل نے منہ پھاڑ ایموجی بھیجی۔۔
روحیل پلیز سونے دیں قسم سے شدید تھکن کا شکار ہوں۔!
اچھا جاؤ سو جاؤ مگر محبت والی بات ذہن میں بٹھا لو۔
میری واپسی تک اپنا ذہن بنا لو ۔!
ماسی امی نے تو بالکل بھی منع نہیں کرنا ہے ،بلکہ اگر میں انہیں ابھی بولوں کہ زینہ کو رخصت کروا رہا ہوں تو وہ بخوشی اجازت دیں گی۔! ایک صرف تم اڑیل ہو جس کے سینے میں پتھر کا دل فٹ ہے ۔!
ہاہاہاہا ہاہاہاہا روحیل آپ کا حال قابل رحم ہے۔!
میں جا رہی ہوں السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔!
زینہ فورا آف لائن ہو گئی۔ فون کو بستر سے منسلک چھوٹے کیبنٹ پر رکھا ، ناچاہتے ہوئے بھی بستر سے اتر کر میز کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔
دبئی میں حالات کا ستایا روحیل اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔۔
زینہ تمہیں تو میں واپس آکر سیدھا کرتا ہوں۔! روحیل نے چڑ کر دانت پیسے اور جوابی سلام بھیجا۔۔
زینہ اپنی کارستانیوں پر مسکراتی دوبارہ روحیل کی ڈائری کی طرف لپکی۔۔۔مطلوبہ صفحہ پر پہنچ کر مطالعہ شروع کر دیا۔۔۔
“کل اس کے تمام جملہِ حقوق میرے نام محفوظ ہو جائیں گے ان شاءاللہ۔ اسے خبر نہیں ہے کہ اس کی ایک “ہاں” نے میرے اندر کی تشنگی میں تروتازگی اور توازن بھر دیا ہے ، میری بکھری ٹوٹی شخصیت کو جیسے ایک سایہ دار درخت میسر ہونے والا ہے۔
اسے بتاؤں گا کہ میں اسے وقت گزاری کے لیے نہیں اپنا رہا ہوں ، میں اسے دل سے چاہتا ہوں ، دسمبر کی سہہ پہر میں بولے گئے وہ میرے تمام الفاظ جھوٹ پر مبنی تھے ، میں تو اپنے آپ سے بھی ڈر گیا تھا کہ کہیں تمہاری اس ایک جھلک کا اسیر ، میں منیب کے سامنے اپنی کمزوری نہ ظاہر کر بیٹھوں۔۔شاید میں اپنے آپ سے بھی چھپانے لگا تھا۔۔
اسکی ایک جھلک اس کی پاکیزگی اور پارسائی کا ثبوت تھی۔۔ وہ معصوم سی پری پیکر میرے دل کی ملکہ بن بیٹھی۔ اپنے سکول کالج بلکہ یونیورسٹی کے دور میں ، میں نے کبھی بھی کوئی ایسی لڑکی نہیں دیکھی تھی جسے اپنے بےپردگی پر اس قدر غم ہو ۔۔
زینہ نے اگلا صفحہ پلٹا:
باقی تو سب ٹھیک ہے مگر میں اس کے بیہوش ہونے پر خائف ہوں کہیں وہ دوبارہ نکاح کے بعد مجھے دیکھ کر بیہوش نہ ہو جائے۔؟ اور میں نکاح کے بعد ہسپتال کے چکر کاٹنے کا قطعاً خواہش مند نہیں ہوں۔۔۔
ہوش میں لانے والی “نس” کے بارے میں سیکھ تو چکا ہوں ، لگتا ہے یہ پہلا حربہ اسی پر آزمانا پڑے گا۔۔میرے خیال میں اسے بیہوش ہونے کی مہلت ہی نہیں دوں گا ، اسے اپنی باتوں میں الجھا لوں گا۔۔
روحیل کے اس آخری جملے کو پڑھتے ہوئے زینہ نے اپنے قہقہے کو بمشکل دبایا۔۔ روحیل کے کمرے میں داخل ہوتے ہی دو پچاس پچاس کے نوٹوں کی فرمائش اور پھر تبت کریم کا مانگنا کس قدر عجیب تھا مگر ذہین ترین سوچ تھی ، روحیل کو میرا کتنا خیال تھا۔زینہ نے مسکراتے ہوئے ڈائری کے صفحات پر مکتوب روحیل کی تحریر پر ہاتھ پھیرا۔۔
روحیل کی آپ بیتی کا آخری صفحہ صبح پانچ بجے تحریر ہوا تھا ۔۔
ان شاءاللہ آج وہ میری ہو جائے گی۔!
بس یہی دعا ہے کہ اس کا دل بھی میرا ہو جائے آمین۔ اسکے تلخ روپے اور تلخ باتوں سے لگتا ہے مجھے خاصا رگڑائے گی ، مجھے ناکوں چنے چبوائے گی یا تو میں “زن مریدی” کا شکار ہو کر اسکے اشاروں پہ ناچوں گا یا پھر وہ میرے کہے بولے کا مان رکھے گی یعنی میرے ماضی کو بھلا کر مجھے معاف کر دے گی اور میری فرمانبرداری کرے گی۔۔۔
میری پیاری ڈائری آج کے بعد تمہیں بھی خدا حافظ کیونکہ میرے دکھوں کا مداوا کرنے والی آ رہی ہے، آج کے بعد تمہیں وہی کھولے گی۔! بھلا کون .؟
ان شاءاللہ میرے ہونے والی زینہ حیات۔!!
روحیل کی تحریر اپنے اختتام کو پہنچی تو زینہ کے مسکراتے پنکھڑی لب اور پانیوں سے لبریز آنکھیں اس حقیقت شناسی پر شکر گزار تھیں۔۔۔
آخری صفحے کو دوبارہ پڑھنا شروع کر دیا، نیند تو غائب ہو چکی تھی۔۔۔کچھ دیر سوچ کر قلم اٹھا لیا۔۔۔
“میں ہوں زینہ حیات اور اب زوجہ روحیل ارشاد ۔!! اس وقت رات کے دو بج رہے ہیں۔
آج میں کھلے دل سے اقرا کرتی ہوں کہ مجھے روحیل ارشاد سے محبت ہو چکی ہے۔ میں اس شخص کی فرمانبرداری کے لیے خود کو پیش کرتی ہوں۔! میری دنیا و آخرت کی کامیابی اس شخص کے ساتھ جڑی ہے ، یہ شخص میری دعاؤں کا صلہ ہے جو مجھے میرے کردار سمیت چاہتا ہے ، یہ شخص اللہ کے قوانین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کا تابع بننا چاہتا ہے تو مجھے یہ عظیم انسان روحیل ارشاد من و عن قبول ہے ۔۔بیشک اللہ کے ہاں سچی توبہ کا حامل شخص اللہ کے ہاں عظیم مقام و مرتبہ رکھتا ہے”۔۔۔
زینہ کی سرعت سے چلتی انگلیاں روحیل کی ڈائری میں اپنے خلوص کے موتی بکھیرنے لگیں۔۔۔
“روحیل ارشاد آپ کو آپ کی بیوی زینہ ٹوٹ کر چاہنے لگی ہے۔ زینہ آپ کو مزید انتظار کی سولی پر نہیں لٹکائے گی ۔۔۔ آپ تو زینہ سے بہتر انسان نکلے ہیں جو اس کی نالائقیوں پر بھی اسے خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے ہیں۔۔
روحیل صبر کرنا بہت کٹھن مرحلہ ہے مگر آپ اس مرحلے پر کامیاب و کامران ہو چکے ہیں۔۔
آپ نے مجھے عزت سے اپنا نام دیا ، مجھے عزت سے اپنے گھر کی چار دیواری میں ایک مقام دیا ، میری خواہشات کی قدر کی اور میرا ساتھ دیا جس کے لئے میں جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے ۔
روحیل آپ کی بیوی تاعمر آپ کی قدر دان رہے گی ان شاءاللہ”۔۔
“میرے سر کے تاج ، میری خوشیوں کے ساتھی ، میرے ہمسفر روحیل ارشاد مجھے آپ سے ایسی محبت ہو چکی ہے جیسے پیاسے کو پانی کی طلب ہو ۔مجھے لگتا ہے یہ آپ کی دن رات کی دعاؤں کا ثمر ہے کہ مجھ جیسی لڑکی اس ڈیڈھ ہفتے میں آپ کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہے۔! اب خوش ہو جائیں روحیل ارشاد آپ کی من چاہی مراد بھر آئی ہے۔”!!
“مجھے لگتا ہے آپ کی دعاؤں میں میری دعاؤں سے زیادہ شدت ہے۔ میری سوچوں کے محور آپ کے گھر خیریت سے لوٹنے کی شدت سے دعاگو ہوں اور بےچینی سے منتظر ہوں ، آپ جب خیریت سے گھر لوٹ آئیں گے تو آپ کا استقبال اظہار سمیت کروں گی ان شاءاللہ مگر فی الحال آپ اپنے ضروری کام پوری دلجمعی سے نپٹائیں۔۔
صرف اور صرف آپ کی زینہ”۔!
زینہ نے مسکراتے ہوئے ڈائری بند کر کے دوبارہ ماں کے دواؤں والے دراز میں چھپا دی اور سونے کے لیے پر تولنے لگی۔۔
******************************************
ناشتے سے فراغت کے بعد شریفاں خالہ کے ساتھ باورچی خانے کی صفائی میں جت گئی۔۔
خالہ پھپھو نے آج کے کھانے کے بارے میں کچھ بتایا ہے کیا۔؟؟
نہیں بی بی جی ابھی تک تو کچھ نہیں بتایا ہے۔
چلیں میں ان سے پوچھ آتی ہوں وہ یقیناً ابھی چچا کے ہمراہ باغیچے میں ہوں گی ۔
نہیں بی بی جی آپ کو نہیں پتا وہ جیمی بابو کو ایئر پورٹ چھوڑنے گئی ہیں۔۔؟؟
اچھا مجھے تو نہیں خبر ہے۔!
بی بی جی آپ اس وقت اپنی امی کے پاس ناشتہ کھلا رہی تھیں۔
اوہ اچھا۔ میں سمجھ گئی۔ زینہ نے جیمی کے گھر سے چلے جانے پر سکھ کا سانس لیا۔۔۔اب گھر میں عبایا اور حجاب نہیں اوڑھنا پڑے گا ۔ الحمدللہ۔
بس اللہ میری مشقتوں کو قبول فرما لے آمین۔ زینہ نے دل ہی دل میں دعا مانگی۔۔
خالہ میں ذرا امی کو دیکھ آؤں ، جیسے ہی پھپھو لوٹیں مجھے اسی وقت آگاہ کر دیجیۓ گا۔
جی بی بی جی آپ بےفکر ہو کر جائیں۔۔
کس قدر سلجھی ہوئی بچی ہے ماشاءاللہ ۔شریفاں بھی دل میں تعریف کیے بنا نہ رہ سکی۔۔
السلام علیکم امی جی۔! فزیو آیا تھا کیا ۔؟ زینہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہی پوچھا جبکہ بستر پر لیٹی امی کی گردن دائیں جانب لڑھک رہی تھی ۔
امی جان ۔!! زینہ تڑپ کر ماں کی طرف لپکی۔۔
امی جی کیا ہو گیا ہے۔؟؟ آنکھیں کھولیں امی جی ۔!!
زینہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں ماں کا چہرہ لے کر دھیرے دھیرے تھپتھپانے لگی۔۔
آنسوؤں کی لڑیاں نازک صورتحال پر بےقابو ہو گئیں، دوڑ کر کوریڈور سے خالہ شریفاں کو آواز دی۔۔
بی بی جی سب خیریت ہے۔؟؟
خالہ پتا نہیں امی کو کیا ہو گیا ہے، آپ جلدی سے چچا کو باغیچے سے بلا کر لائیں۔۔روتی بلکتی زینہ بھاگ کر ماں کی طرف پلٹی۔۔۔
خود پر قابو پانے کی پرزور کوشش کرتے ہوئے ماں کی کلائی کی نبض تھام لی۔۔۔
ایک ہاتھ گردن کی نس پر اور دوسرا ہاتھ کلائی پر رکھ کر زینہ ماں کی حالت کو بھانپنے لگی۔۔۔
ماں کی آنکھوں کو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی مدد سے پورا کھول کر دیکھا تو آنکھوں کی پتلیاں ایک جگہ پر ٹھہر چکی تھیں۔۔زندگی کی ایک بھی رمق باقی نہ تھی۔
شاید مجھے ٹھیک سے پتا نہیں چل رہا ہے ، ابھی ڈاکٹر کو بلوا کر چیک کرواتے ہیں۔
امی جی آنکھیں کھولیں ، مجھے دیکھیں ۔!! آپ کو اچانک کیا ہو گیا ہے ۔؟؟ دیکھیں آپ کی بیٹی اکیلی رہ جائے گی۔۔زینہ تڑپ کر ماں کو جھنجھوڑنے لگی۔۔
زینہ کے مسلسل جھنجھوڑنے پر بےجان وجود ایک طرف ڈھلک گیا ۔۔
یکدم زینہ کی زبان سے دعائیہ کلمات ادا ہونے لگے۔۔
“انا للہِ وانا الیہ راجعون”
زینہ کی اشکبار آنکھیں اور فریادی دل اللہ کے فیصلے پر صبر و تحمل کے لیے کوشاں تھا۔
دایاں ہاتھ بڑھا کر ماں کی نیم وا آنکھوں کو بند کر دیا۔۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
“بیشک ہم اللہ کیلئے ہیں، اور اسی کی طرف لوٹیں گے ، یا اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما، اور مجھے اس سے اچھا بدلہ نصیب فرما تو اللہ تعالی اسے اِس سے اچھا بدلہ ضرور عطا فرماتا ہے۔”(مسلم: 918)
میت کی روح پرواز کر جانے پر لوگوں کا دعا کرنا:
ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، [آپ فوت ہوچکے تھے] اور آپکی آنکھیں پتھرا گئی تھیں، آپ نے انکی آنکھیں بند فرمائیں، اور ارشاد فرمایا:
ایسے ناشکرے پن سے پرہیز کرنا چاہیئے۔اللہ کی رضا میں صابر و شاکر ہونے کے ساتھ ساتھ مرنے والے کی بخشش اور زندوں کے لیے خیر مانگنی چاہئے”۔۔
وفات کے فورا بعد میت کی آنکھیں بند کردینا چاہئے اور وہاں صرف خیر کی باتیں کرنی چاہئے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے :
جاری ہے
