Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12

عاصم نے جیب میں پڑا فون نکال کر زید اور روحیل کو کال ملائی۔۔۔
یار زید بہت بہت مبارک ہو ماسی امی ہوش میں آ گئی ہیں۔۔
زید سنتے ہی فرحت جذبات میں آنسو لٹانے لگا۔۔
عاصم بھائی یہ سب آپ اور روحیل بھائی کی مدد کے ثمرات ہیں ۔۔ اگر بروقت امی ہسپتال نہ پہنچ پاتیں تو شاید حالات مختلف ہوتے۔
اللہ کے بعد میں آپ دونوں کا بہت شکر گزار ہوں۔!
ارے زید۔! اللہ نے سبب بنا دیا اور ہم آ گئے۔روحیل نے لقمہ دیا۔۔۔
دونوں خوشی خوشی سبزی منڈی پہنچے ، مطلوبہ دکان کا رخ کیا مگر پوچھنے پر پتا چلا کہ ذیشان صاحب تو صبح اپنی والدہ کے گاؤں روانہ ہوگئے ہیں اور چند دن بعد لوٹیں گے۔۔ زید اور روحیل ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔۔
زید تم اپنی خالہ کے گاؤں فون کرو نا۔! اور جب ذیشان ادھر پہنچے تو اسے پیغام مل جائے گا۔۔ روحیل نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے عجلت میں بولا ۔۔
میں کوشش کرتا ہوں بھیا۔!
بارہا کوشش کے باوجود پی ٹی سی ایل فون کو کسی نے اٹھانے کی زحمت گوارا نہ کی ۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ خالہ کے سرہانے فون پڑا ہوتا ہے ،پھر خالہ اچانک کہاں چلی گئیں ہیں۔۔۔ زید اس تشویشناک صورتحال پر پریشان ہو کر رہ گیا۔۔۔
اچھا زید تم ذیشان کے ووٹس ایپ پر پیغام صوتی بھجوا دو۔
جی بھیا۔! یہی کرنا پڑے گا۔
روحیل اور زید منڈی سے مایوس ہو کر پلازہ میں مطلوبہ چیزوں کی خریداری میں محو ہو گئے۔۔
روحیل نے مسکراتے ہوئے ورقہ (صفحہ) جیب سے نکالا اور زینہ کی تحریر کردہ اشیاء کو پڑھنے لگا ، زینہ کا خوبصورت انداز خطاطی روحیل کو بھا گیا۔۔۔
زید کو دکان کے اندر بھیج کر خود فوراً زینہ کی تحریر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا۔۔۔
زینہ میں نے تمہاری طرف سے پہلا محبت نامہ سمجھ کر قبول کیا ۔۔۔۔۔
روحیل میٹھی مسکان سجھائے دکان کے اندر گھس گیا۔۔۔
******************************************
زینہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے انتہائی نگہداشت کے کمرے میں داخل ہوئی تو ماں کو انواع و اقسام کی نالیوں میں جکڑے پائے۔۔
فشار الخون اور حرکت قلب والی مشین کی سبز ، لال ، نیلی بتیاں اعداد و شمار کو سکرین پر چلا رہی تھیں۔۔
زینہ ماں کی یہ حالت دیکھ کر خود پر قابو نہ رکھ پائی تو نشیلی آنکھیں دغا پر اتر آئیں۔۔روشن بڑی جھیل جیسی آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں۔۔۔
نرس کی بات کو ذہن میں دہراتے ہوئے دھیمی رفتار سے ماں کے قریب جا کر کھڑی ہوگئی۔۔
امی ۔! میں زینہ ہوں۔ زینہ نے دھیمے لہجے میں ماں کو پکارا۔۔
لاغر ماں نے چند لمحوں کے لئے آنکھیں وا کیں مگر شدید نقاہت سے آنکھیں دوبارہ بند ہو گئیں۔
زینہ بنا پلکیں جھپکے ماں کا کمزور ہاتھ تھامے کھڑی رہی۔۔
چند ثانیوں بعد زینہ کو ماں کے ہونٹ ہلتے دکھائی دیئے۔۔
امی آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں ۔؟؟
امی آپ مکمل صحت یاب ہو جائیں گی ، آپ کو اس وقت آرام کی اشد ضرورت ہے۔۔
دواؤں کے زیر اثر امی کبھی آنکھیں کھولتی تو کبھی بند کرتیں۔۔
زینہ نے ماں کا ہاتھ تھامے ہوئے رقیہ شرعیہ( قرآن کا دم) مسنون اذکار کا ورد شروع کر دیا۔۔
سورہ فاتحہ ،آیت الکرسی، معوذتین اور باقی دعائیہ کلمات سے زینہ کی زبان تر ہونے لگی۔
******************************************
اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے :
“یہ قرآن جو ہم نازل کررہے ہیں مومنوں کے لۓ سراسر شفا اور رحمت ہے”۔ (سورةالاسراء :82 )
٭شیخ الاسلام ابن القیم لکھتے ہیں: ایک وقت میں مکہ میں بیمار تھا ، میں ڈاکٹر اور دوا سے محروم تھا تو میں سورہ فاتحہ سے علاج کرتا تھا، اس کا طریقہ یہ تھا کہ زمزم کا پانی لیتا اور اس میں برابر سورہ فاتحہ پڑھتا اور پھر اسے پیتا، تو مجھے اس سے مکمل شفا مل گئی۔ (زاد المعاد ج3 ص 188)
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص تین بار :
“بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”۔۔
(اللہ کے نام سے کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے)، کہے تو اسے صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، اور جو شخص تین مرتبہ صبح کے وقت اسے کہے تو اسے شام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، راوی حدیث ابومودود کہتے ہیں: پھر راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہوا تو وہ شخص جس نے ان سے یہ حدیث سنی تھی انہیں دیکھنے لگا، تو ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو، قسم اللہ کی! نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے اور نہ ہی عثمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، لیکن (بات یہ ہے کہ) جس دن مجھے یہ بیماری لاحق ہوئی اس دن مجھ پر غصہ سوار تھا (اور غصے میں) اس دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔
سنن ابی داؤد : 5088
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 13 (3388)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3869)، (تحفة الأشراف: 9778)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/62، 72) (صحیح)»
******************************************
دغا دیتی نشیلی آنکھیں زبان پر حاوی نہ ہو پائیں۔۔
چند موتی ٹوٹ کر بےمول ہوگئے مگر زینہ نے ماں کا ہاتھ تھامے ہوئے ذکر الہٰی سے ماں کے لاغر جسم کو خوب سیراب کیا۔۔
ذکر الہٰی میں محو زینہ اس وقت چونکی جب نرس نے باہر جانے کا عندیہ سنایا۔۔
بھاری دل کے ساتھ زینہ کمرے سے باہر نکل آئی اور اپنے تھمے ہوئے موتیوں کو لٹانے بیٹھ گئی۔۔
انتہائی نگہداشت کے احاطے میں اداسی ، خاموشی اور عجیب قسم کا سناٹا تھا۔۔ برقی مشینوں کی بیپ بیپ یا پھر ٹوں ٹوں ٹوں کے علاوہ کچھ سننے کو نہ ملتا ۔ تمام پیشہ ور نرسیں نہایت دھیمی آواز میں مخاطب کرتیں۔۔۔
پانچ منٹ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد زینہ نیچے عاصم کے پاس انتظار گاہ میں پہنچی تو سامنے سے روحیل کو رنگ برنگے بڑے شاپر تھامے ہوئے اپنی طرف آتا دیکھا ، تو سانس خشک ہونے لگا ۔۔۔
اللہ جانے زید اور عاصم ویر کہاں چلے گئے۔۔۔
اب ویران انتظار گاہ میں سوائے روحیل کے اور کوئی نہیں تھا جوکہ چند قدموں کے فاصلے پر قریب سے قریب تر ہونے لگا ۔
روحیل نے گلا کھنکارتے ہوئی کپکپاتی زینہ کو مخاطب کیا جوکہ روحیل کو دیکھتے ہی واپس پلٹنے کے لیے زینے چڑھنے لگی۔۔۔
روحیل نے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے زینہ کو تقریباً گھیر لیا۔۔۔
السلام علیکم زینہ ۔!!
وعلیکم السلام۔! زینہ کی آواز اتنی کم تھی کہ روحیل نے سننے کےلئے کان آگے کیا ۔۔
زینہ آواز نہیں آئی۔۔
زینہ جان چھڑانے والے انداز میں زینے پھلانگنے لگی۔۔۔
زینہ رکو۔!!
زینہ کا دھک دھک کرتا دل سہم گیا۔۔ کپکپاتا وجود خزاں کے سوکھے پتے کی مانند لڑکھڑانے لگا ۔زینہ لڑکھڑا کر فوراً آخری سیڑھی پر بیٹھ گئی۔۔۔
زینہ۔!!
تم کیوں میرے سے دور بھاگتی ہو ۔؟؟ میں تمہیں کھانے یا پھر کوئی نقصان تو نہیں پہنچانے آیا ہوں۔۔۔ زینہ میں آدم خور نہیں ہوں۔۔!!!روحیل نے تھکے لہجے میں بولا اور ہاتھوں میں تھامے شاپر سامنے کر دیئے۔۔
روحیل کا اترا چہرہ اور آنکھوں میں پڑے گہرے گڑھے اسکی کربناک حالت کو چیخ چیخ کر بیان کر رہے تھے۔۔
میں تو تمہیں صرف یہ سامان پکڑانے کے لیے آیا تھا۔۔ دیکھ لو سب ٹھیک ہے اور اگر مزید کچھ چاہئیے تو مجھے لکھ کر دے دو ۔۔!
روحیل زینہ سے تین زینوں کا فاصلہ رکھتے ہوئے بیٹھ گیا۔۔۔ جبکہ زینہ کی روح پرواز ہونے کی قریب تھی۔۔۔ سر چکرانے لگا۔۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔۔۔
روحیل نے لمبا سانس خارج کرکے دو منٹ کے سکوت کو توڑتے ہوئے دھیمے لہجے میں زینہ کو دوبارہ مخاطب کیا ۔زینہ میں ہوں نا۔۔۔! تم خود کو اکیلا نہیں سمجھنا پلیز۔۔۔! تمہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہوتو مجھے بتا دینا۔۔۔
روحیل نے مزید بولنے کے لیے لب واہ کیے تو زینہ ایک طرف لڑھک گئی۔۔
روحیل نے سیڑھیوں پر پڑے شاپر ایک طرف رکھے اور لپک کر زینہ کو پکارنے لگا۔۔
زینہ کیا ہوا ہے۔! زینہ میری جان ہوش میں آؤ۔!
یقین کرو میں تمہارے ساتھ کچھ برا کرنے کے لیے نہیں آیا تھا۔میں تو صرف اس سامان کی تصدیق چاہتا تھا۔۔۔
زینہ اٹھ جاؤ پلیز ورنہ اگلے لمحے تم میری باہوں میں ہو گی۔! روحیل نے زینہ کو دھمکانا چاہا مگر
زینہ ہنوز فرش پر بےسدھ پڑی تھی۔۔۔
روحیل کا جی چاہا اسے اپنی باہوں میں بھر لے مگر عاصم کی یاد دہانیوں اور زینہ کے شرم و حیا کو سوچ کر خود کو باز رکھا۔۔۔
عاصم کو فون ملایا۔
اللہ جانے یہ لڑکا کدھر چلا گیا۔؟؟؟
گھنٹی پر گھنٹی جا رہی تھی مگر عاصم کی طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ جہاں پر عاصم ہے وہاں پر شاید سگنل نہیں ہیں ۔۔۔
چلو زید کو پوچھتا ہوں ۔ مگر وہ کیسے اتنی پھرتی سے ہسپتال واپس پہنچ پائے گا۔۔؟
کسی اور کو بلا لوں یا پھر اسے اٹھا کر خود ہی لے جاؤں۔۔؟ نہیں کسی اور کو کیوں بلاؤں۔؟ روحیل نے چند لمحے اور سوچا ، پہلے سیڑھیوں پر پڑے شاپروں کو سیدھا کر کے رکھا اور پھر ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا زینہ کو اس ویران احاطے سے اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔۔
نازک دھان پان سی زینہ کا تہوں میں لپٹا وجود روحیل کو کسی طرح بھی وزنی محسوس نہ ہوا۔۔۔
ایک بازو میں تمام شاپر لٹکا کر زینہ کو اٹھائے نیچے شعبہ ہنگامی حادثات کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
نجی ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے فورا کمرہ اور بستر مل گیا۔۔
زینہ ہنوز بیہوش روحیل کی باہوں میں جھول رہی تھی۔۔۔
روحیل نے احتیاط اور نرمی سے زینہ کو بستر پر لٹایا اور پاس کھڑی نرس کو تمام تفصیلات بتانے لگا۔۔۔
کیا آپ انکے شوہر ہیں۔؟؟
اس اچانک سوال پر روحیل کی دھڑکنیں بپھریں ۔۔
جججی نہیں ہوں مگر ہونے والا ہوں ۔ ہم پرانے خاندانی دوست ہیں۔۔
نرس نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ سے روحیل کو دیکھا اور زینہ کے فشار الخون کا معائنہ کرنے لگی۔۔
یہ شرعی پردہ کرتی ہیں وہ بھی اس دور میں۔؟؟ بہت بڑی بات ہے۔! نرس نے دوران معائنہ سلسلہ کلام جاری رکھا ۔۔
ویسے آپ کو پتا ہے آجکل زیادہ تر لڑکیاں اپنے جرم کو چھپانے کے لیے بھی پردے کا سہارا لیتی ہیں۔۔
جی۔؟؟؟ آپ کا کیا مطلب ہے محترمہ؟؟ روحیل کا لہجہ ترش ہوا۔۔۔
میں انہیں نہیں بول رہی ہوں میں تو آجکل لڑکیوں کے حالات بتا رہی ہوں۔۔۔ ہم سارا دن اس طرح کے بہت سارے کیس بھگتاتے ہیں۔۔۔
نرس نے اپنا کام جاری رکھتے ہوئے روحیل کو تمام تفصیلات سے آگاہ کرنا واجب سمجھا۔۔۔
یہ آپ انکے چہرے سے فوراً نقاب ہٹائیں تاکہ انکے آکسیجن کی مقدار کو چیک کیا جا سکے ۔ نرس نے زینہ کے خون کے نمونے لینے کے لیے تمام ضروری سامان پیکجنگ سے نکالتے ہوئے بولا۔۔۔
میں نقاب نہیں اتار سکتا ، یہ مجھ سے بھی پردہ کرتی ہیں۔۔
اوہ۔!! مگر ابھی آپ جس انداز میں انہیں اپنی باہوں میں بھر کر لائے ہیں کسی بھی ہیرو سے کم نہیں لگ رہے تھے۔ مجھے تو ایسے لگا جیسے آپ انکے شوہر نامدار ہیں۔۔
نرس نے روحیل کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔۔ جبکہ روحیل جواب دیئے بنا پہلو بدل گیا۔۔۔
وہ مجھے کال آ رہی ہے ،میں باہر کھڑا ہوں آپ انکا نقاب اتار لیں۔۔۔روحیل فوراً کمرے سے نکل گیا۔۔۔
ہیلو۔! یار عاصم تو کدھر چلا گیا تھا ؟ کب سے کال کر رہا ہوں۔
بھیا مجھے کمرہ ولادت کی طرف سے بلاوہ آ گیا تھا ، زینہ ماسی کے پاس تھی ،اس لیے مجھے جانا پڑا۔۔
ہممم۔ اچھا وہاں سب خیریت ہے۔؟؟ میرا مطلب ہے شہلا آپا کے بارے میں کوئی اچھی خبر ملی ہے ۔۔۔؟؟
نہیں بھیا۔!!
عاصم نے رنجیدگی سے بولا ۔۔
کیا مطلب۔؟؟
بھیا یار شہلا آپا نے مردہ بیٹے کو جنم دیا ہے ۔!
کیا ۔؟؟؟
“انا للہِ وانا الیہ راجعون۔”یار یہ تو بہت افسوس ناک خبر سنائی ہے ۔۔
زید کدھر ہے بھیا ۔۔؟؟
یار وہ گھر سے زینہ کی کچھ ضروری چیزیں لینے گیا ہے اور اس نے مجھے زچہ بچہ کا سامان پہنچانے کےلئے ہسپتال بھیج دیا تھا کہ یہ سامان جلد ازجلد پہنچانا زیادہ اہم ہے۔۔۔
میں یہاں پر آیا تو زینہ ۔!!
کیا ہوا زینہ کو بھیا.؟؟؟ عاصم نے روحیل کی بات کاٹی۔۔
بیہوش ہو گئی ہے ۔!! روحیل نے گویا ایک اور دھماکہ کر دیا۔۔
کیسے بھیا ۔؟؟
تم شعبہ حادثات میں آؤ پھر ساری تفصیل بتاتا ہوں۔! میں بس ابھی پانچ منٹ میں پہنچتا ہوں۔۔
یا اللہ اس خاندان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔؟ عاصم نا چاہتے ہوئے بھی ہمت ہارنے لگا۔۔۔
ہف پف کرتا عاصم شعبہ حادثات کے برآمدے میں منتظر روحیل سے جا ملا۔۔۔
تمام حقائق جاننے کے بعد عاصم نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔
یار بھائی آپ اسے شاپر نہ پکڑاتے ،ہو سکتا ہے وہ ڈر گئی ہو کہ ابھی آپ اس پر ہمارے کئے گئے احسانوں کا بدلہ مانگیں گے یا پھر وہ تنہائی میں آپ کی قربت برداشت نہیں کر پائی ہے۔۔
عاصم یقین مانو میں صرف اسے اٹھا کر شعبہ حادثات تک لایا ہوں ، میں نے تو اسکی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی ہے۔۔ نرس کے کہنے کے باوجود بھی میں باہر نکل آیا ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے زینہ کو اپنا حجاب کس قدر عزیز ہے۔۔
آپ نے اپنا تعارف کیا کروایا ہے ۔؟؟ عاصم نے پوچھا۔۔
ہونے والا شوہر۔!
روحیل نے عام سے لہجے میں بولا۔۔۔
اچھا چلیں میں زینہ کی خیر خبر لیتا ہوں ابھی آپ گھر جائیں اور آرام کر لیں۔!
اور تم ؟؟ کیا تمہیں آرام کی ضرورت نہیں ہے۔؟؟
بھیا جب تک یہ خاندان اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو جاتا ہے ، میں ان کے ساتھ ہوں۔
میری صبح ڈیڈ سے بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے انہوں نے بھی اجازت دے دی ہے۔۔۔
عاصم جب تک میرا نکاح زینہ سے نہیں ہو جاتا ، میں بھی یہاں سے نہیں ہلنے والا۔۔ آج اگر اسکا اور میرا نکاح ہوا ہوتا تو میں اسکے ساتھ اسکے دکھ بانٹ رہا ہوتا، آج وہ یوں مجھے دیکھ کر بیہوش تو نہ ہوتی۔۔۔
بھیا تقدیر پر شاکر ہو جائیں یار۔!
بھیا ہتھیلی پر سرسوں نہ جمائیں یار۔!
نکاح بھی ہو جائے گا۔ ماسی بستر مرگ پر پڑی ہیں، زینہ بیہوش ہے ، اور دوسری بہن مردہ بچے کو جنم دے کر نڈھال ہے۔ شوہر اسکا لاپتہ ہے۔۔
ابھی میں نے ان سب کو انکے پیروں پر کھڑا کرنا ہے ان شاءاللہ۔۔ عاصم نے دکھی لہجے میں اپنی پیشانی مسلی۔۔
عاصم میں خود یہی چاہتا ہوں مگر جتنا جلدی ہو سکے ماسی کی طبیعت سنبھلتے ہی ان سے بات کرو یار۔۔۔
بھیا مجھے پتا ہے ، میں خود مناسب وقت کے انتظار میں ہوں۔۔۔ میں خود یہی چاہتا ہوں کہ زینہ کو آپ سے بہتر چاہنے والا کوئی اور شخص نہیں ملے گا ۔۔۔
اور آپ کو زینہ سے بہترین عورت نہیں ملے گی۔!
مگر میں نہیں چاہتا یہ خوددار خاندان سمجھے کہ ہم انہیں اپنے احسانوں تلے دبا کر اپنا مطلب نکالنا چاہتے ہیں۔۔ یہ مفلس ضرور ہیں مگر طمع پرست نہیں ہیں۔۔۔
عاصم مجھے سب پتا ہے یار۔! اس خاندان کی خبر گیری میں گزشتہ ایک مہینے سے رکھے ہوئے ہوں یار۔۔ میرے سے بہتر اور کون انکو جان سکتا ہے۔؟ اور خاص کر وہ جو میری عزت اور میرا وقار بننے والی ہستی ہے ، جو مجھے دیکھتے ہی بیہوش ہو گئی ہے ، وہ تو انمول جوہر ہے ،جہاں سے بھی گزرے گی اپنی خوب سیرتی سے چراغاں کر دے گی۔۔!
خیر۔! عاصم تم نے زید کو شہلا آپا کا بتا دیا ہے ؟؟
نہیں بھیا آپ اسے بتا دیں میں ذرا زینہ کو دیکھ آؤں۔ کمرہ کونسا ہے بھیا .؟؟؟
اُدھر سے دائیں مڑ جاؤ۔ !
عاصم ۔!
روحیل نے عاصم کو پکار کر دوبارہ روک لیا۔۔
جی بھیا۔! اسے نہ بتانا کہ میں اسے اٹھا کر یہاں پر لایا ہوں۔ورنہ وہ بہت غم کھائے گی اور مجھے اس کا غم کھانا بہت اذیت دے گا ۔۔
بھیا آپ کتنے بھولے ہیں ۔! عاصم مسکرایا ۔۔ اس محبت نے آپکی مت مار دی ہے۔ !
وہ کیسے ؟ روحیل اپنی خجالت مٹانے کے لئے سر کھجانے لگا۔۔
یار بھیا میں چاہے نہ بھی بتاؤں نرس نے ہوش آنے پر بتا دیا ہوگا کہ آپ کے ہونے والے شوہر چھوڑ کر گئے ہیں اور وہ بھی بڑے ڈرامائی انداز میں۔!
روحیل نے پھیکی مسکراہٹ سے چھوٹے بھائی کو دیکھ کر بولا ، یار مجھے خوف آتا ہے اگر وہ میرے ساتھ نکاح کے لئے راضی نہ ہوئی تو میرا کیا بنے گا۔؟؟ بننا کیا ہے ؟؟ بھیا آپ کی شادی کسی اور لڑکی سے کروا دیں گے۔۔! عاصم نے روحیل کو چھیڑا۔۔
یہ بات آج بولی ہے آئندہ نہ بولنا عاصم۔! روحیل کی آنکھیں لال ہو گئیں۔۔
اچھا نہیں بولتا بھیا یار ۔۔! عاصم روحیل کی اس شدت پسندی پر خائف ہو گیا۔۔۔
اچھا سن میں آپ سب لوگوں کےلئے باہر سے کھانا لینے جا رہا ہوں۔اور میری ہونے والی بیوی کا بہت سارا خیال رکھنا۔ زید ابھی آتا ہوگا تو وہ ماسی اور شہلا آپا کو دیکھ لے گا۔۔۔ ! اور ہاں وہ سامان شہلا آپا کو پہنچا آنا ،زینہ کے پاس میز پر سارے شاپر پڑے ہوئے ہیں۔۔ ٹھیک ہے بھیا میں پہنچا دوں گا ، آپ جاؤ سب کے لیے کھانا لے آؤ۔!
عاصم مجھے میری ہونے والی بیوی آج اس کمرہ علالت سے باہر چلتی پھرتی نظر آنی چاہئے۔۔۔!! عاصم یہ بات ذہن نشین کر لو۔!! روحیل نے عاصم کو دھمکایا۔۔۔
یا اللہ تیرا شکر مجھے کسی سے اندھی تقلید والی محبت نہیں ہوئی۔۔! وگرنہ آج میں بھی محبوب کے دیدار کے لئے ترس رہا ہوتا ۔۔۔
عاصم روحیل کو باور کروا کر مسکراتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔۔۔
جبکہ روحیل کی سوئی زینہ پر اٹکی ہوئی تھی۔۔۔
“زینہ کب تمہارا دل میری طرف سے صاف ہو گا ۔؟ زینہ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔پلیز میری زندگی میں شامل ہو جاؤ۔روحیل نے زینہ کا تحریر کردہ صبح والا ورقہ نکال کر چوم ڈالا۔۔
زینہ مجھے تم سے منسلک ہر چیز سے محبت ہے چاہے وہ تمہارے ہاتھ سے لکھا ایک لفظ ہی کیوں نا ہو۔ میری تنہائیوں کو اپنی خوب سیرتی بخش دو ، میری زندگی میں حسنِ اخلاق کے رنگ بھر دو زینہ حیات”۔۔ روحیل دل ہی دل میں خودکلامی کرتا
زینہ مجھے تم سے منسلک ہر چیز سے محبت ہے چاہے وہ تمہارے ہاتھ سے لکھا ایک لفظ ہی کیوں نا ہو۔ میری تنہائیوں کو اپنی خوب سیرتی بخش دو ، میری زندگی میں حسنِ اخلاق کے رنگ بھر دو زینہ حیات”۔۔ روحیل دل ہی دل میں خودکلامی کرتا
ہسپتال کے خارجی دروازے پر پہنچا اور جیب سے فون نکال کر مطلوبہ نمبر ملانے لگا۔۔
السلام علیکم ڈیڈ۔!
کیسے ہیں آپ؟؟؟
میں بالکل خیریت سے ہوں برخوردار ۔!
تم سناؤ ؟ کل سے غائب ہو ۔!
جی ڈیڈ بس وہ ماسی لوگوں کے ساتھ مصروفیت رہی ہے، آپکو عاصم نے بتایا تو ہو گا۔
ہاں ہاں وہ تمام تفصیلات بتا چکا ہے۔۔۔
تم بتاؤ آجکل کیا چل رہا ہے۔؟؟ تمہارا دل بنسبت اسلام آباد کے میرپور میں کچھ زیادہ نہیں لگنے لگا ہے۔۔۔؟؟
روحیل ڈیڈ کے اس سوال پر جزبز ہوا ، دماغ میں جھماکا ہوا شاید عاصم نے زینہ کے متعلق آگاہ کر دیا ہو۔
ارے نہیں ڈیڈ۔! ایسی کوئی بات نہیں ہے، آپ تو جانتے ہیں کہ ماموں کے پلازے اور کوٹھی کا سودا چل رہا ہے، لہٰذا انہیں بھی تو فارغ کرنا ہے ۔۔۔ ایک خریدار سے بات چل رہی ہے ، کچھ دنوں میں وہ تمام جائیداد دیکھنے آ رہا ہے۔۔۔
ڈیڈ آپ بھی آ جائیں نا .! آپ میرے سے بہتر طریقے سے سب سنبھال لیں گے۔
روحیل بچے تمام جائیداد تم دونوں کو نام ہے اور تم دونوں میرپور میں ہی موجود ہو تو میرا آنا بنتا نہیں ہے۔۔خواہمخواہ ڈھائی تین گھنٹوں کی تھکن لینے کی اب عمر نہیں رہی ہے ۔۔
ڈییییییییڈ ۔ آ جائیں نا۔روحیل التجا پر اتر آیا۔۔۔
برخوردار مجھے دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے۔ورنہ تم اتنے بے چین کبھی بھی دکھائی نہیں دیئے۔۔۔
ڈیڈ آپ میرپور آئیں پھر آپ کو ساری تفصیلات بتاؤں گا۔۔
اس کا مطلب ہے کہ میرا شک یقین کا روپ دھار چکا ہے۔۔۔
ڈیڈ۔۔! آپ بس آ جائیں نا۔۔۔
مجھے مسکے نہ لگاؤ روحیل دو ٹوک بات کرو ۔! باپ ہوں تمہارا ، میں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں بیٹا جی۔۔
ڈیڈ آپ ماسی کی عیادت کا ارادہ نہیں رکھتے کیا ۔؟؟؟
برخوردار لگتا ہے یہ معاملہ عیادت کے ساتھ ہی یہیں کہیں منسلک ہے۔۔
روحیل نے قہقہہ لگایا۔۔۔
ڈیڈ آپ کی پرانی عادت نہیں گئی ہے۔۔!
بیٹا جی جائے گی بھی نہیں۔ !!
روحیل نے گاڑی کے اندر سوار ہوتے ہی فون گاڑی کے سپیکر کے ساتھ کنیکٹ کیا اور اپنے مطلوبہ ہوٹل کی طرف گامزن ہو گیا۔۔۔
ڈیڈ بس آپ نے آنا ہے ۔ میں اور عاصم آپ کے منتظر رہیں گے، سرمایہ کاری کے حوالے سے چند ایک نئے منصوبے میرے ذہن میں ہیں ، آپ آئیں گے تو مل بیٹھ کر طے کروں گا۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *