Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37
روحیل اور زینہ عقبی باغیچے سے نکل کر پکی روش پر چلنے لگے تو خارجی دروازہ کھلا اور ایک گاڑی اندر داخل ہونے لگی۔۔۔
زینہ تم اندر جاؤ ،میں دیکھتا ہے کون آیا ہے۔!
جی بہتر۔!
زینہ خاموشی سے پکی روش عبور کر کے اندرونی دروازے سے مہمان خانے سے ہوتی ہوئی باورچی خانے میں جا پہنچی۔۔۔
اللہ جانے صبح صبح کون آ گیا ہے۔؟ شکر ہے روحیل گھر پر ہی ہیں ، ورنہ میرے لیے کس قدر مشکلات پیدا ہو جاتیں ، شوہر کی گھر میں موجودگی بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی ہے۔ یا اللہ میرے روحیل کو لمبی زندگی عطا فرمائے آمین۔۔
زینہ نے فریج کھول کر ناشتے کی تیاری کے لیے سامان نکالتے ہوئے ذکر خیر سے اپنی زبان کو تر رکھا۔۔۔
چند لمحوں کے بعد جانی پہچانی آواز کانوں سے ٹکرائی ، پلٹ کر دیکھا تو عاصم باورچی خانے میں داخل ہوا۔۔۔
زینہ ایک پل ضائع کیے بنا عاصم سے لپٹ گئی۔ ویرے تم۔!!! زینہ کی نشیلی آنکھیں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہونے لگیں۔۔۔
ویرے شکر ہے تم آ گئے ہو۔!! زینہ کی چھم چھم کرتی آنکھیں عاصم کو بھی رلا گئیں۔۔۔
زینہ صبر کرو۔! اللہ کو یہی منظور تھا۔ عاصم نے آنکھوں کو رگڑ کر زینہ کو تسلی دی۔۔
عاصم کے عقب میں کھڑا روحیل آگے بڑھا اور زینہ کو کندھوں سے تھام کر مہمان خانے کی طرف لے گیا ، ساتھ میں عاصم کو بھی ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
تم دونوں بیٹھو میں پانی لاتا ہوں۔ روحیل نے بول کر فوراً باورچی خانے کا رخ کیا۔۔۔جانتا تھا کہ زینہ نے رو رو کر خود کو ہلکان کر لینا ہے۔۔
اور وہی ہوا ، اسکی واپسی تک زینہ ہنوز قیمتی موتی لٹا رہی تھی جبکہ عاصم پاس بیٹھا اسکی دلجوئی میں مصروف تھا۔۔۔
عاصم یار اسے پانی پلاؤ۔! روحیل نے پانی کا گلاس عاصم کو تھما دیا اور خود ساتھ صوفے پر ٹک گیا۔۔
عاصم نے زینہ کی حالت کو مدِنظر رکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں اسے مخاطب کیا۔۔
زینہ تم تو بہت بہادر ہونا ، اللہ کے قدر پر پختہ ایمان رکھنے والی ہونا ۔؟؟
زینہ نےجھکی گردن کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا۔
تو پھر اچھی بہنوں کی طرح میری بات مانو اور یہ پانی پیو۔!
زینہ نے فوراً گول گال رگڑ ڈالے اور عاصم کے ہاتھ سے گلاس تھام لیا۔۔ چند گھونٹ لے کر گلاس سامنے شیشے کے کوفی میز پر رکھ دیا۔۔۔
روحیل ہنوز ٹکٹکی باندھے زینہ کی حالت زار پر دل جلا رہا تھا ، اشارے سے عاصم کو متوجہ کیا۔۔
یار اسکا دھیان بٹاؤ ، اس نے رو رو کر خود کو فنا کر لینا ہے ۔ اس وقت روحیل کی حالت بھی قابل رحم تھی۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح وہ زینہ کو ان تمام دکھوں سے دور لے جائے ، اسکے تمام غم اپنے دامن میں بھر لے ۔۔
عاصم روحیل کی حالت زار پر اثبات میں گردن جھٹک کر رہ گیا۔۔۔جانتا تھا کہ بھائی اس وقت کس طرح کی نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔۔
فورا موضوع بدلا ۔۔بھیا زینہ کی یونیورسٹی کا کیا بنا ہے ۔؟ ٹرانسفر ہو گیا ہے کیا ۔؟
ارے نہیں یار۔! آج میں سوچ رہا ہوں کہ خود یونیورسٹی جاؤں اور ان سے بات کروں ۔۔
زینہ چلو آج اکھٹے ناشتہ بناتے ہیں پھر یونیورسٹی کے لیے چلیں گے ۔۔۔
روحیل نے زینہ کو مخاطب کیا تو زینہ نے فوراً سوگوار چہرہ اٹھا کر اوپر دیکھا۔۔۔
جی بہتر ہے۔!
ویرے تم اوپر اپنے کمرے میں جا کر تازہ دم ہو جاؤ ، میں نے تمہارے جاتے ہی سارے کپڑے ترتیب سے الماری میں استری کرکے لٹکا دیئے تھے۔ زینہ نے آنسو رگڑ کر فوراً عاصم کو مخاطب کیا۔۔
تم جاؤ۔! میں تمہارے لیے ناشتہ بناتی ہوں۔!
نہیں زینہ مجھے بھوک نہیں ہے ، میں فی الحال چند گھنٹوں کے لیے سونا چاہوں گا، پھر بعد میں باقی سب سے ملاقات ہو گی ان شاءاللہ۔
آپ لوگ ناشتہ بناؤ اور کھاؤ۔!
اور ہاں بھیا۔! زینہ اگر نہ کھائے تو آپ نے اپنے ہاتھوں سے کھلانا ہے ۔!
جی جناب۔! سرکار کا حکم غلام کی سر آنکھوں پر ہے۔۔!
اتنی غلامی نہیں درکار صرف ناشتے تک کی درخواست گزاری ہے ۔عاصم نے بڑے بھائی کو آنکھ دبا کر بولا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔
جی بیوی صاحبہ باورچی خانے میں جانے کے لئے سواری درکار ہے یا پھر اپنے مبارک قدموں سے چلنا پسند فرمائیں گی۔؟
روحیل نے مسکراتے ہوئے زینہ کے سامنے اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔
خاوند پر واجب ہے کہ وہ اپنی بیوی سے اچھے اخلاق اور نرمی کا برتاؤ کرے ، اور اپنی وسعت کے مطابق اسے وہ اشیاء پیش کرے جو اس کےلیے محبت والفت کا باعث ہوں ۔
اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
“اور ان کے ساتھ حسن معاشرت اوراچھے انداز میں بود و باش اختیار کرو”۔ (النساء: 19 ) ۔
اور ایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمايا :
“اورعورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے حق ہیں”۔ (البقرۃ: 228 ) ۔
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے کہ :
ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
“عورتوں کے بارہ میں میری نصیحت قبول کرو اوران سے حسن معاشرت کا مظاہرہ کرو۔”(صحیح بخاری:3153 ؛ صحیح مسلم:1468 ) ۔
(
ہمارے وطن عزیز میں بھی عجیب رواج قائم ہو چکا ہے جو شوہر اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے اسے زن مریدی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے ۔ طرح طرح کے جملے سننے کو ملتے ہیں :
“بیوی کے نیچے لگ گیا ہے”۔
“بیوی کو سر چڑھا رکھا ہے”۔
“اسکا رعب ساری عمر قائم نہیں ہو پائے گا”۔
“یہ تو بیوی کے اشاروں پر ناچتا ہے”۔ وغیرہ وغیرہ۔)
سوگوار سی زینہ روحیل کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی ۔ روحیل سواری درکار ہو گی جب بیہوش ہو جاؤں گی۔!!
اللہ کی پناہ۔!! زینہ اب بیہوش ہونے کا سوچنا بھی مت یار ۔! روحیل نے ہاتھ تھاما اور باورچی خانے کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔
آپ میرے بیہوش ہونے سے ڈرتے ہیں کیا ؟؟
ڈر تو معمولی لفظ ہے پیاری۔! میری جان سولی پر لٹک جاتی ہے۔!
اسی لیے اس لٹکی جان کو بچانے کےلئے آپ نے مجھے داغدار کر دیا تھا۔! زینہ کو شرارت سوجھی۔۔
کیا مطلب ۔؟ روحیل کو دھچکا لگا تو فوراً رک کر زینہ کے سامنے آ گیا۔۔
وہی جو مجھے ہوش میں لانے کے لئے پہلوانوں کی طرح نس دبائی تھی تو اس کا درد اور نشان کئی دن آپ کے گھریلو ٹوٹکے کی یاد دہانی کرواتا رہا تھا۔۔
باتیں کرتے کرتے دونوں باورچی خانے میں پہنچ آئے۔ زینہ نے اپنا عبایا،حجاب اتار کر کرسی پر رکھا اور بکھرے بالوں کو ڈھیلی پونی سے آزاد کرکے دوبارہ پونی میں کس کر جکڑ دیا۔۔۔
روحیل کرسی پر بیٹھے بیٹھے اس کی ہر حرکت کو ازبر کرنے لگا۔۔
زینہ کو نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو چونک کر دیکھا۔۔
روحیل۔!
جی جان روحیل۔!!
آپ مجھے دیکھنے کے بجائے یہ انڈے پھینٹ لیں۔!
کیوں تمہیں دیکھنے پر جرمانہ عائد ہوتا ہے کیا۔؟ روحیل کی معنی خیزی اپنے عروج پر تھی۔۔
جی جرمانہ اس صورت میں عائد ہو گا جب میرے ہاتھ سے چیزیں پھسلیں گی ، اور باورچی خانے میں کچرا پھیل جائے گا۔!
بس اتنی سی بات پر گھبرا رہی ہو۔؟؟
پھپھو نے دیکھ لیا تو دونوں کا کچومر نکال دیں گی۔۔!
ابھی کچومر نہیں نکالیں گی ، تم بےفکر ہو کر اپنے کام میں جتی رہو اور مجھے اپنا کام کرنے دو۔!
روحیل۔! زینہ نے آنکھیں پھاڑ کر دوبارہ گرکا مگر روحیل کے سامنے سب بیکار۔۔۔
ہلکے زرد رنگ کا ٹراؤزر اور سفید قمیض زینہ کے نازک سراپے کو چار چاند لگا رہا تھا ، روئی روئی نکھری سی زینہ روحیل کے دل و دماغ پر مکمل طور پر قابض ہو چکی تھی۔ سفید قمیض کے گلے اور آستینوں پر جڑے سفید نگینوں کے ساتھ مختلف رنگوں کی کڑھائی کا امتزاج قمیض کو پرکشش بنا رہا تھا۔۔۔
زینہ نے آستینوں کو موڑا اور اپنے کام میں مگن ہو گئی۔۔ دبلی پتلی سی زینہ کی چست قمیض اس کے وجود کے خطوط نمایاں کر رہی تھی۔ یکدم لال چہرے کے ساتھ پلٹ کر روحیل کو گھورا۔
آپ دیکھنا بند کریں گے یا میں آپ کو سزا دوں۔؟؟
دونوں منظور ہیں۔!
کیا۔؟ زینہ نے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا۔
سزا بھی اور تمہیں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا بھی۔!!
روحیل آپ حقیقتاً لاعلاج ہیں۔! زینہ دوبارہ آٹے کی طرف پلٹی اور پانی ڈال کر گوندھنے لگی۔۔
اوپر کمرے میں میرا دوپٹہ پڑا ہوا ہے جاکر لا دیں پلیز۔!
نہیں لاؤں گا ۔!! روحیل نے ہٹ دھرمی سے جواب دیا ۔۔
ٹھیک ہے میں خود لے آتی ہوں۔!
تم بھی نہیں جاؤ گی۔!!
ٹھیک ہے پھر میں برقعہ پہن لیتی ہوں۔!
برقعے کو ہاتھ لگا کر تو دکھاؤ ذرا ۔!!
روحیل۔!!!
جی جان روحیل۔!!
آپ بہت ڈھیٹ ہیں۔! زینہ نے زچ ہو کر بولا۔!
بہت شکریہ۔!
مجھے گھورنا چھوڑیں ابھی کچھ دیر بعد شریفاں خالہ نے آجانا ہے ۔۔ !
آنے دو ۔! میں انہیں کہیں اور بھجوا دوں گا۔!!
روحیل آپ بھی نا۔!!
آپ بھی نا کیا ۔؟؟ آگے جملا پورا کرو ۔!! روحیل کرسی سے اٹھ کر زینہ کے کان کے قریب سرگوشی والے انداز میں پوچھنے لگا۔۔
زینہ کے دل کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگیں۔۔
روحیل۔!! زینہ نے لال ٹماٹر ہوتے چہرے سے گھور کر بولا۔۔ ایسے تو نہ دیکھیں۔!
تو پھر کیسے دیکھوں ۔؟ پاس نہیں ہوتا تو کہتی ہو کہ روحیل آپ بہت یاد آئے تھے ، خیالی دنیا میں پکارتی بھی رہی ہوں اور جب قریب آتا ہوں تو دور بھاگتی ہو ۔! روحیل نے اپنی آواز بدل کر زینہ کی نقل اتاری۔۔
ہاہاہاہا تمام غم بھلا کر یکدم زینہ کا نقرئی قہقہہ بلند ہوا ۔
روحیل آپ بھی نا بہت وہ ہیں ۔؟؟
وہ کیا ۔؟
شرارتی۔! زینہ خجالت مٹانے کے لئے فریج کھنگالنے لگی۔
روحیل نے سکھ کا سانس لیا کہ زینہ کا دماغ بہلنے لگا ہے۔۔۔
اب میرے ساتھ چپک کر کھڑے ہونے سے آپ کو انعام نہیں ملنے والا ہے لہٰذا فاصلے پر کھڑے ہو جائیں اور مجھے میرا کام نپٹانے دیں۔!!
ہائے میری قسمت۔! دعائیں مانگ مانگ کر جو سانولی سلونی سی فاصلے مٹانے کو ملی ہے ، وہی ہر وقت فاصلے بڑھانے کی بات کرتی ہے۔۔ روحیل نے سرد آہ بھری۔
خیر انڈے دو۔!
آج تمہیں انڈے پھینٹ کر دکھاتا ہوں۔!
انڈے بھی میں خود پھینٹ لوں گی ،آپ صرف پیاز کاٹیں۔!
پیاز۔!!!! حیرت سےروحیل کا منہ کھل گیا۔
جی۔! آپ نے کبھی پیاز نہیں دیکھا کیا ۔؟؟
دیکھا ہے مگر پیاز نے جو میرا حشر نشر کر دینا ہے وہ مجھے پتا ہے۔!
اچھا ہے آپ مجھے ٹکٹکی باندھ کر نہیں گھور پائیں گے۔!
زینہ تم چاہے جو مرضی حربہ آزما لو ، میں نے تمہیں جی بھر کر دیکھنا ہے بلکہ رات کو بھی تو یہی مشغلہ پورا کرتا رہا ہوں۔۔۔
ہائے اللہ ۔!! رات نجانے میں کس حال میں مدہوش پڑی تھی ۔؟ یکدم زینہ کو شرمندگی نے آن گھیرا۔۔ روحیل کی بات کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے خاموشی سے گردن جھکائے اپنے کام میں جتی رہی۔۔۔
زینہ ویسے بھی اپنی بیوی کو جی بھر کر دیکھنے پر ثواب ہی کماؤں گا ناکہ گناہ ملے گا۔!
یہ ثواب آپ کسی اور وقت بھی کما سکتے ہیں۔! زینہ نے مسکراہٹ دبا کر بولا۔
مجھے ثواب کمانے کا موقع تو دو۔!! روحیل نے جان بوجھ کر زینہ کا دھیان بٹانے کی خاطر مزید چھیڑنا شروع کر دیا۔۔
روحیل۔!! زینہ نے لفظ روحیل چبا کر بولا۔
جی جان روحیل۔! تو گویا تم چاہتی ہو کہ میں نامحرموں کو دیکھوں۔؟؟ روحیل نے زینہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔۔
آپ سوچ کر تو دیکھیں۔! میں نے آپ کو ہلاک کر دینا ہے!!
ہاہاہاہا روحیل کے قہقہے بلند ہوئے۔۔ تم تو پوری کی پوری ہٹلر بیوی بن چکی ہو۔!
ابھی آپ نے میرا ہٹلر پنا دیکھا ہی کہاں ہے۔!!
دکھاؤ نا۔!! روحیل زینہ کے سامنے ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑا ہو گیا۔۔
میں آپ کو بتا رہی ہوں آپ کی پٹائی ہو جانی ہے۔!
کون مائی کا لعل ہے جو میری پٹائی کرے گا۔؟
لاؤ اسے میرے سامنے ذرا ۔!!
شوہر نامدار آپ کی پھپھو جان۔!!!
پھپھو کی پیار بھری پٹائی منظور ہے۔! مگر ہٹلر بیوی کی دوری نامنظور ہے ، نامنظور ہے ، نامنظور ہے۔!
ناچاہتے ہوئے بھی زینہ کی ہنسی چھوٹ گئی ۔
اچھا چلیں نا۔۔!! آپ پیاز کو تھامے کھڑے نا رہیں ،بلکہ اسے چھیلیں اور کاٹیں۔!
زینہ۔!
جی۔! زینہ کے چلتے ہاتھ رک گئے۔
“تمہیں پتا ہے جب تم میرے آس پاس ہوتی ہو تو مجھے ہر چیز خوبصورت اور خوش نما لگنے لگتی ہے”۔
اچھا جی۔!!
ابھی یقیناً آپ کو پیاز بھی خوبصورت لگ رہا ہو گا لہٰذا یہ خوبصورت چھری پکڑیں اور اپنے خوبصورت ہاتھوں سے اسے خوبصورت سا کاٹیں۔۔
اعلیٰ سرکار کا ہر حکم غلام کی سر آنکھوں پر ہے۔۔
جی نہیں مجھے شوہر کو غلام بنانا بالکل بھی پسند نہیں ہے۔!
شوہر تو سر کا تاج ہوتا ہے۔!
اچھا۔!!
زینہ نے پلٹ کر دیکھا تو روحیل کی آنکھیں پیاز کی کڑواہٹ سے لال اور پانی پانی ہو رہیں تھیں۔
روحیل آپ چھوڑ دیں ، یہ کام آپ کے بس سے باہر ہے۔! زینہ نے روحیل کے ہاتھ سے چھری لے کر ایک طرف رکھی۔۔
خود فورا کونے میں پڑے ٹشو کے ڈبے کی طرف لپک کر چند ٹشو نکال کر چھ فٹ لمبے روحیل کی آنکھوں تک پہنچنے کےلئے ایڑیاں اٹھانے لگی۔ میرے باکے سجیلے اور خوبرو شوہر صاحب آنکھیں صاف کر کے ادھر کرسی پر تشریف رکھیں اور ناشتے کا انتظار فرمائیں۔۔!!
روحیل نے زینہ کا ہاتھ ٹشوز سمیت تھام لیا اور اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔۔
دیکھ لو آنکھیں پیاز کی کڑواہٹ سے چور ہیں پھر بھی تمہیں دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔!
اچھا جناب۔! آپ میں بہت ساری صلاحتیں موجود ہیں ماشاءاللہ جن کا ادراک میرے اوپر گاہے بگاہے ہوتا جا رہا ہے۔۔ میں ہاری آپ جیتے روحیل۔!
زینہ نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دل کی بات کہہ ڈالی۔۔
اب برائے مہربانی ہاتھ چھوڑیں تاکہ آملیٹ اور پراٹھے پایا تکمیل تک پہنچا سکوں۔!
اگر نہ چھوڑوں تو ۔؟؟ روحیل نے دائیں آنکھ دبا کر پوچھا ۔۔
پھر پھپھو آکر ہاتھ چھڑوانے کی اچھی خاصی صلاحیت رکھتی ہیں۔۔ زینہ نے چڑانے والے انداز میں بولا۔۔۔
مجھے ہر وقت پھپھو سے نہ ڈرایا کرو ۔! روحیل نے زینہ کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔
آپ کے لئے پھپھو کے علاوہ کسی اور کی دھمکی کام ہی نہیں کرتی ہے۔۔
خیر اب بس دس منٹ اور لگیں گے اور گرما گرم پراٹھا تیار ہو گا۔۔۔
چائے تو آپ کڑک پسند کرتے ہیں نا ۔
تمہارے ہاتھوں سے تو زہر بھی منظور ہے زینہ۔! روحیل نے جذب میں آ کر بولا۔۔۔
خبردار آپ نے ایسی بات دوبارہ بولی تو۔!! زینہ تڑپ اٹھی۔
کیوں۔؟؟ محبت کرنے لگی ہو ۔؟؟
مجھے ایسی منفی باتیں بالکل بھی پسند نہیں ہیں۔! اور ہاں محبت بھی ہو گئی ہے ۔!! زینہ نے فوراً بول کر زبان دانتوں تلے دبا لی۔۔۔
ہائے آخری جملے پر میں صدقے میں واری جاؤں زینہ۔!! جی چاہتا ہے بار بار سنوں اور ہر بار سنوں۔!
نجانے زندگی اس جملے کو سننے کی اور کتنی مہلت دیتی ہے۔؟
روحیل آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں۔؟مجھے اچھا نہیں لگتا ہے۔! زینہ نے غم سے منہ بسورا۔۔
اچھا چلو اب نہیں بولوں گا۔! ابھی خوش ؟
جی بہت خوش۔!
زینہ برق رفتاری سے بیلن سے پراٹھے کی گولائی میں غلطاں ہوگئی۔ دوسرے چولہے پر رکھی پتیلی میں چائے ابلنے کے قریب تھی جسے روحیل نے بروقت آگے لپک کر بند کر دیا۔۔
شکریہ روحیل میرا دھیان ادھر پراٹھے کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔
کوئی بات نہیں روحیل کی جان۔!
ابھی حقیقت میں بھوک ستا رہی ہے۔ دو کے بجائے تین پراٹھے بناؤ۔!
تین۔؟ زینہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔
میں کوئی نازک دوشیزہ تو نہیں ہوں جو آدھا پراٹھا کھا کر سیر ہو جاؤں گا۔
قد کاٹھ والا سجیلا کڑیل مرد ہوں یار۔!
یاد سے چوتھا پراٹھا اپنے لیے بھی بنا لو۔!
روحیل آپ کی خوش خوراکی پر ماشاءاللہ ہی بولوں گی۔۔
زینہ نے پراٹھوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ آملیٹ کا آمیزہ تیار کر کے فرائی پین میں ڈال دیا۔۔
دو پراٹھوں کے بعد آملیٹ بھی تیار ہو چکا تھا، کپ میں چائے چھان کر انڈیلنے لگی تو ڈیڈھ ہفتہ قبل کا واقعہ یاد آگیا تو آنکھیں نم ہو گئیں۔۔
روحیل آپ ناشتے کے لیے میز پر جانا پسند کریں گے یا ادھر ہی باورچی خانے میں کھائیں گے۔؟ زینہ نے تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے پوچھا۔۔
سارا ناشتہ تیار کرو ، ہم دونوں اپنے کمرے میں جا کر کھائیں گے۔
ابھی کچھ دیر قبل تو آپ کو شدید بھوک لگ رہی تھی۔؟
ہاں بھوک تو ابھی بھی ہے مگر جب تک میں اپنی بیوی کو نہ کھلا لوں ، میرا ایک نوالہ بھی حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔۔۔
اتنی محبت اور توجہ پا کر زینہ کی آنکھیں نمکین پانیوں سے چھلکنے لگیں۔۔
روحیل میں اتنی بھی معتبر نہیں ہوں جتنا آپ نے مجھے بنا دیا ہے۔۔
تمہیں کیا خبر زینہ تم کون ہو۔؟؟؟
یہ مجھ سے پوچھو میری ہٹلر سی بیوی۔!!
لفظ ہٹلر پر زینہ کی ہنسی چھوٹ گئی جبکہ روحیل زینہ کے اندر رونما ہونے پر تبدیلیوں پر شکر گزار تھا۔۔۔
ماں کا اچانک چلے جانا معمولی بات نہیں ہے مگر یہ لڑکی اپنے فرائض سے غافل نہیں ہے۔ میرے سمیت عاصم کے کھانے پینے کی فکر بھی ستائے جا رہی ہے۔۔ خود غرضی تو گویا اسے چھو کر نہیں گزری ہے۔۔
یا اللہ اس مخلص ، پاکیزہ پارسا بیوی کا ساتھ دینے پر میں تیرا شکر گزار ہوں۔۔۔
باورچی خانے میں پانچ منٹ کے لئے مکمل خاموشی چھا گئی تو زینہ نے پلٹ کر روحیل کو دیکھا۔۔
آپ کہاں کھو گئے ہیں۔؟
ناشتہ تیار ہو چکا ہے۔!
ہاں ہاں چلو ٹرے میں سب کچھ رکھو اوپر چلتے ہیں۔! روحیل نے چونک کر جواب دیا۔۔
******************************************
روحیل یار زینہ جب سے رخصت ہو کر اسلام آباد آئی ہے گھر میں بند ہے ۔ اسے باہر لے جاؤ۔! اسے گھماؤ پھراؤ یار۔! ارشاد صاحب نے رات کے کھانے سے فراغت کے بعد بولا۔۔
ہاں روحیل بھائی جان ٹھیک بول رہے ہیں۔ نئی نئی شادی ہے تو لڑکیوں کے سو چاؤ ہوتے ہیں۔۔
جی ڈیڈ جی پھپھو میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔ آج بس سارا دن گھر پر ہی جہاز کے چکر اتارنے میں گزر گیا ہے ۔۔
کل صبح ہم سب مری چلتے ہیں ۔! کیا خیال ہے۔؟؟
بھئی ہم کس لیے کباب میں ہڈی بنیں ، تم اپنی بیوی کو لے کر جاؤ اور قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہو۔۔بلکہ یوں کرو کہ چند دن ادھر ہی کسی ہوٹل میں گزارو۔۔! ارشاد صاحب کے بولنے سے قبل ہی پھپھو نے روحیل کو قیمتی مشوروں سے نواز دیا ۔۔
روحیل کے ساتھ والی کرسی پر براجمان زینہ کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا تو سر فورا جھکا لیا۔۔
جاری ہے
