Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20

آپ کو پتا ہے کہ مفلس اور یتیم کی زندگی کتنی بےمول اور بےمعنی ہوتی ہے۔؟؟
نہیں۔!! مجھے تم سے سننا ہے۔۔روحیل زینہ کی آنکھوں میں سوگواریت دیکھ کر دہل گیا۔۔
ابو کے چلے جانے سے سر سے چھت چھننے لگی، رشتہ دار منہ موڑ گئے، ابو کی لاڈلیاں دو وقت کی روٹی کے لیے ترسنے لگیں، امی کا زیور بکا پھر بات وہاں پر نہیں رکی بات تو گھر کے سامان کی گنتی پر رکنے لگی کہ کونسی چیز بیچ کر ایک ہفتے کا راشن گھر لایا جا سکتا ہے۔۔۔ گھر کے کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان نے گھر چھوڑنے کا عندیہ تھما دیا۔۔ محفوظ پناہ گاہ چھوٹنے کا خوف ، پھر نئے آشیانے کی تلاش میں سارا سارا دن چلتی میری ماں کے پاؤں میں چھالے پڑ جاتے ، آپا سارا دن سلائی مشین چلا کر نڈھال ہو جاتی بمشکل ایک دو جوڑے تیار کر پاتی ، مگر لوگ بازار سے کم قیمت دے کر ہماری مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے۔۔۔
مڈل پاس چھوٹا بھائی کبھی کسی ہوٹل والے کی منت کرتا تو دیہاڑی لگ جاتی تو کبھی کسی منڈی میں پھلوں سبزیوں کی چھانٹی میں سے گلے سڑے پھل چن لاتا۔۔۔
امی جواں سال آپا کی فکر میں گھلتیں۔۔۔ بات جب سلائی مشین بیچنے پر آئی تو آپا بیچ میں آ گئی۔۔۔ امی کو اپنے جہیز کے تیار شدہ چند جوڑے پیش کر دیئے کہ گلی گلی گھوم کر بیچ آؤ ، شاید سستے داموں بک جائیں اور ہمارے چند دن کا راشن پورا ہو جائے۔۔۔
جہیز کے جوڑے بھی بک گئے مگر گھر کے حالات نہ بدلے۔۔۔
میرا سکول گھسے پٹھے پیوند شدہ کپڑوں میں جانا اور کھانے کے وقفے میں ایک کونے میں بیٹھ کر باقی بچوں کو کھانے کے ڈبے کھولتے دیکھنا روز کا معمول تھا۔ اکثر راتیں تو خالی پیٹ پانی پی کر گزر جاتیں، صبح بھی خالی پتیلیاں منہ چڑاتیں۔۔۔
پتا ہے جب محلے میں کوئی بیمار ہوتا تھا تو ہمیں بھی صدقے کا کھانا مل جایا کرتا تھا۔۔
روحیل زینہ کے انکشافات پر بت بن چکا تھا، الفاظ تو گویا ساتھ چھوڑ گئے۔۔زبان سلب ہو چکی تھی، تسلی کے لیے لفظوں کا ذخیرہ ختم ہو گیا۔۔
زینہ کی آنسوؤں سے جھل تھل نشیلی آنکھیں اس وقت سوگواریت کی حدوں کو چھو رہیں تھیں مگر اپنی بات کو جاری رکھے ہوئے تھی۔۔۔
تمام کٹھن حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے عبادت کی خوراک بڑھا لی۔۔ رات جب بھوک سے نیند نہ آتی تو استغفار کا ورد شروع کر لیتے۔ “استغفر اللہ و اتوب الیہ”۔۔۔ درود ابراہیمی تو جیسے زخموں پر پاہوں کا سا کام کرتا۔۔ درود ابراہیمی کے بار بار پڑھنے سے رب کی رحمت جوش مارتی اور دل میں اطمینان سا اتر آتا۔۔
محلہ بدلا ، گھر بدلا تو گھر کے حالات میں انیس بیس کا فرق پڑا۔۔ خالہ کو ترس آ گیا یا پھر ذیشان بھائی کی کم تعلیم نے ہماری آپا کے نصیب کھول دیئے۔۔۔ دو سال کی انتھک کوششوں اور مشقت کر کے دونوں ماں بیٹی نے جہیز کے نام پر چند چیزیں جمع کر لیں جوکہ بقول خالہ کے ناکافی تھیں ، لوگوں کی بہوئیں تو ٹرک بھر بھر کر سامان لاتی ہیں۔۔۔
چھوٹا بھائی میٹرک کے امتحان کے بعد موٹر مکینک کا منت ترلا کرکے اسکی ورکشاپ پر جانے لگا ۔ آپا کے ساتھ ساتھ میں بھی سلائی کرنے لگی۔۔
مجھے اعلیٰ تعلیم کا بہت شوق تھا مگر مالی حالات اجازت نہ دیتے تھے، میں اپنے کالج کی کینٹین میں خدا ترس ماسی کے پاس چلی گئی اور اسے کچھ کام کرنے کی درخواست کی کہ اگر گھر میں بیٹھ کر مجھے کچھ کام مل سکتا ہے تو میں کرنے کے لیے تیار ہوں تاکہ میں اپنے کالج کے اخراجات اٹھا سکوں۔۔۔
شاید نصیب میں تعلیم ہے تھی تو سبب بن گیا ۔۔
ماسی ادھر کالج کی کینٹین میں ہی میرے سے کٹائی کا کام کروانے لگی جس کے لئے کبھی کبھی مجھے دو سبق (کلاسیں) چھوڑنا پڑتے ۔۔۔
اکثر میں صبح کالج میں پڑھائی شروع ہونے سے قبل پہنچ جاتی اور پیاز آلوؤں کی کٹائی کر لیتی۔۔۔
پتا ہے مجھے روز کے پچاس روپے ملنے لگے یعنی میں پانچ دنوں کے اڑھائی سو کمانے لگی۔۔۔
میرا گھسا پھٹا سفید یونیفارم ،اور پٹھے پرانےجوتے اکثر لڑکیوں کے لیے وجہ مذاق بنے رہتے۔۔۔
امیروں کی بیٹیاں مجھے حقیر سمجھ کر مجھ سے بات کرنا بھی گوارہ نہ کرتیں ۔۔ آپ پوچھتے ہیں نا کہ میں دبو بزدل کیوں ہوں ۔؟ امیروں مالداروں کے کاری وار سہہ سہہ کر کمر جھکتی چلی گئی، بولنے کی صلاحیتیں مفقود ہو گئیں ۔ اپنی غربت ، بے بسی ان بے نام بادشاہوں کے سامنے دم توڑنے لگیں، طنزیہ فقروں کی بھرمار تو گویا ہمارے تعلیمی اداروں کی شان ہے ۔۔ وقت کا پہیہ چلتا چلا گیا اور میرا حجاب میرے اندرونی لباس کی لاج رکھنے لگا۔۔۔آپ یہ مت سمجھئے گا کہ میں نے کم عمری یعنی میٹرک سے میں نے اپنے سستے لباس کو چھپانے کے لیے حجاب لیا تھا۔۔ حجاب لینا تو اللہ کی طرف سے انعام تھا ، نامحرموں کی گندی نظروں سے بچنے کی محفوظ پناہ گاہ تھا ۔حجاب میں ملبوس گھر سے نکلتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میرے چاروں طرف مضبوط قلعہ ہے جسکی دیواریں میرے رب کی رحمت کے زیر سایہ ہیں۔۔۔
یہ مت سمجھئے گا کہ حجاب کے بارے میں آزمائش نہیں آئی۔۔۔!!! بہت چھیڑا گیا ۔ بہت ہراساں کیا گیا۔۔۔
اکثر تو بدکار عورتوں سے جوڑا جاتا کہ میں اپنی بولی لگوانے جا رہی ہوں تاکہ دلال تک پہنچتے پہنچتے مجھے کوئی اپنا نہ پہچان لے ۔۔۔۔
دل پھینک لڑکے سیٹیاں بجاتے کالج تک پیچھا کرنے سے باز نہ آتے۔۔ مگر مجھے تو پڑھنا تھا ، آگے بڑھنا تھا۔۔۔ان اوباش لڑکوں کو گلی کے آوارہ کتوں سے تشبیہ دے دیتی اور نظر انداز کر کے اپنا دامن بچا لیتی تھی۔۔۔
پھر زید اس قابل ہونے لگا کہ ایک پرانی موٹر سائیکل خرید ڈالی۔۔۔
میرے سےچھوٹا ہونے کے باوجود بھی میرے اوپر اپنی غیرت کے پر پھیلائے رکھتا۔۔
کالج کے پہلے سال سے ہی مطالعہ اسلامیات میں دلچسپی میرے باطن کو نکھرنے کا موقع دینے لگی ، کردار سازی کی تگ و دو میں جت گئی ۔۔۔
سکول اور پھر کالج کے چار سال کوئی سہیلی نہ بن پائی ۔۔۔ میری غربت ،میری مجبوریاں ، میرے ادھورے خواب میری سہیلی تھے۔۔۔
کالج سے واپس آ کر میں ماں کی جھکی کمر کو۔مذید جھکنے سے بچانے کے لیے سلائی کا کام کرتی۔۔۔
زینہ کی باتیں سن کر روحیل کو اپنا آپ بہت چھوٹا لگنے لگا۔۔۔
ادھر اُدھر چھوٹا موٹا کام کر کے فیس نکل آتی۔۔۔
بی اے کے بعد گرمیوں کی چھٹیوں میں جان مار کر سلائی مشین چلائی تو یونیورسٹی میں داخلے کےلئے فیس جمع کر لی۔۔۔ بھلا ہو محلے کے درزی کا جو میری ماں کے توسط ہم سے آدھی قیمت پر کپڑے سلوا لیتا۔۔
یونیورسٹی جا کر سامعہ میری پہلی سہیلی بنی جوکہ مالدار ہونے کے ساتھ ساتھ حیا دار بھی ہے۔۔ جس سے آپ بھی یونیورسٹی میں مل چکے ہیں۔۔۔
زینہ نے آنکھوں سے نکلنے والی برسات کو آستینوں سے رگڑ ڈالا۔۔۔ بس یہی ہیں میرے بزدلانہ کارنامے اور انکے نتائج۔۔۔۔!!!
آپ نے مزید کچھ پوچھنا ہے تو بتائیں۔؟
منیب کی تم سے کیسے ملاقات ہوئی۔۔۔؟؟
زینہ نے آہ بھری۔۔۔
یہ درد بھری داستان کسی اور وقت سناؤں گی اگر آپ اجازت دے دیں تو ۔۔؟؟ زینہ نے سوال طلب نظروں سے روحیل کی لال انگارا آنکھوں میں دیکھا جو اس داستان غم سے پہلے بالکل ٹھیک تھیں۔۔
روحیل نے جواب دیئے بنا کمرے میں پڑی پانی کی بوتل سے پانی انڈیلا اور زینہ کو تھما دیا۔۔۔
یہ پیو ۔!! زینہ غٹا غٹ سارا گلاس دو سانسوں میں چڑھا گئی۔۔۔ کیا میں اور پی سکتی ہوں۔؟؟
ہاں ضرور پیو کیوں کہ تم نے آنکھوں کے ذریعے ہی تو اسے باہر نکالنا ہے ۔! روحیل نے بات کو مزاح کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی جبکہ اسکی اپنی قلبی کیفیت کچھ ٹھیک نہ تھی۔۔
اپنی غلطیوں پر دل و دماغ ملامت کرنے لگا ۔۔۔مگر خود کو زینہ کے سامنے مضبوط ظاہر کرنے میں کوشاں رہا۔۔۔
وہ آپ مجھے کچھ دکھانے کے لیے لائے تھے۔۔
ہاں وہ تمہارے لئے نیا فون لایا تھا مگر کل تم دستیاب ہی نہیں تھی۔ بات “نیا فون” دینے سے “کھلی زپ” پر چلی گئی تو ۔۔۔۔ روحیل نے زینہ کو معنی خیز نظروں سے گھورا۔۔۔
زینہ جھینپ گئی۔ چہرے کا رنگ یکدم لال ہو گیا۔۔۔
وہ میں کل جذبات میں آکر جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی اس کے لئے میں آپ سے معافی چاہتی ہوں۔۔۔ زینہ مضطرب انداز میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑنے لگی۔۔۔
کیا انگلیاں کسی سے مانگ کر لائی ہو جو روزانہ ان پر ظلم ڈھاتی ہو۔؟؟
ننننہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔
زینہ بات جیسی بھی ہے ابھی تم میری بیوی ہو ، میرے گھر کی ملکہ ہو۔! میں تمہیں یوں مضطرب نہیں دیکھ پاؤں گا۔۔ تم میری ذمہ داری ہو ۔ مجھے تم اپنا دوست بنا لو۔!!
اب اچھے بچوں کی طرح مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھاؤ۔!!
زینہ نے سوگوار نظروں سے دیکھتے ہوئے روحیل کی طرف اپنا دایاں ہاتھ بڑھا دیا۔۔۔
روحیل نے ہاتھ تھام کر اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔۔۔ یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔؟ زینہ خجل ہوئی۔۔
میں ان ہاتھوں کی عزت افزائی کر رہا ہوں جو نجانے کتنی راتیں اللہ کی بارگاہ میں اٹھتے رہے ہیں۔ بولتے ساتھ روحیل نے زینہ کے دونوں ہاتھ اپنے لبوں سے لگا لیے۔۔۔
زینہ کی آنکھیں نہ چاہتے ہوئے بھی چھلکنے لگیں۔۔
زبان گنگ ہو گئی۔۔۔
میں اس قابل نہیں ہوں، جتنا آپ مجھے معتبر بنا رہے ہیں۔! زینہ ہچکیوں میں رونے لگی۔۔۔
پاگل لڑکی رونے دھونے کی ماہرہ ۔
روحیل نے ہاتھ چھوڑ کر زینہ کو اپنے مضبوط حصار میں لے لیا۔۔۔
آج جتنا رونا ہے رو لو مگر میرے بچوں کے سامنے نہ رونا پلیز ۔۔!!!
روحیل کی زبان پھسلی۔۔۔
زینہ مچل کر پیچھے ہٹی ۔!!
آپ نے ابھی ٹھیک بات نہیں کی ہے۔!
کیوں جی ؟؟ کیا میری بات کو ملیریا ہوا ہے ۔؟؟؟
آپ بات کو دوسرا رنگ دے رہے ہیں۔! زینہ نے منہ بسورا۔
ہائے ابھی جو رنگ چڑھا ہے وہ تو دسترس میں آ جائے باقی رنگوں کو مارو گولی۔۔۔!
میں نیچے امی اور ویر کے پاس جا رہی ہوں ۔! آپ فوراً رنگ بدل لیتے ہیں۔۔
زینہ نے بستر کے پاس پڑی چپل پاؤں میں اڑسنے کی کوشش کی جسے روحیل نے چند ثانیوں میں ناکام بنا دیا۔۔۔
تم ابھی کہیں بھی نہیں جا رہی ہو۔
ادھر الماری سے میری پسند کے کپڑے نکالو ۔!! میں کچھ دیر بعد تمہیں پالر لے کر جا رہا ہوں۔۔۔!! پھپھو پہلی مرتبہ تمہیں دیکھیں گی تو میں چاہتا ہوں تم بہت پیاری لگو۔۔۔!!
مجھے تو ہر حال ، ہر حلیے میں پیاری لگتی ہو مگر پھپھو بھتیجے کی محبت میں کچھ بھی بول جائیں ، میں یہ نہیں سہہ پاؤں گا۔۔!!
اب کھڑی میرے اوپر محبت کے پھول برساؤ گی یا الماری کو تمہارے پاس بلا لوں۔۔ ؟؟؟
زینہ روئی روئی سوگوار شکل کے ساتھ مسکرا دی۔۔۔
آپ کے خیال میں کونسا رنگ پہنوں۔؟؟ زینہ الماری کے دونوں پٹ کھولے روحیل سے پوچھنے لگی۔۔۔
پہلے تو اپنے یہ بال کھولو ، روحیل نے عقب سے آ کر زینہ کے ریشمی بال پونی کی قید سے آزاد کر دیئے۔۔۔
یہ اپنے بالوں کی کھاد کا نام تو بتاؤ۔۔؟؟
زینہ کی کھنکتی آواز کمرے میں جلترنگ بجانے لگی۔۔بالوں کو نامحرم سے چھپانے کے فضائل ہیں۔۔ زینہ دوبارہ کھلکھلائی۔۔۔
یقین مانو میں تمہاری اس ہنسی کے لیے ترس گیا تھا۔۔ ابھی جی چاہ رہا ہے شکرانے کے دو نفل ادا کروں کہ زینہ صاحبہ نے اپنے شوہر نامدار کو ہنسی کا تحفہ بخشا ہے۔۔۔
آپ بھی نا۔!!!
کیا ۔۔؟؟؟
میں کیا بھی نا ۔؟؟؟
آپ بہت شرارتی ہیں۔!!! بولتے ساتھ زینہ خجلت مٹانے کے لیے ہینگروں میں لٹکے کپڑے دکھانے لگ گئی۔۔۔
بتائیں کونسا سوٹ پہنوں۔؟؟؟
آج تم روحیل برانڈ کا سوٹ پہنو گی۔!!
یہ دیکھو جو میں نے ڈیزائنر کے سر پر کھڑے ہو کر بنوایا ہے ۔۔۔
کیا مطلب ؟؟؟
مطلب یہ کہ خود ڈیزائن کروایا ہے۔۔۔
تو آپ کے پاس میرے کپڑے کا ماپ کیسے پہنچا۔۔؟؟
یاد ہے نا جب ہسپتال میں بیہوش ہوئی تھی تو اس وقت میری باہوں میں ہی تھی۔۔!!!
پر میں تو حجاب میں تھی۔؟
جی مگر وزن میرے کاندھوں بازوؤں پر ہی تھا۔۔!!
مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ چالیس پینتالیس کلو سے وزن ایک رتی اوپر نہیں ہے۔۔!!
کیوں۔؟؟؟ آپ میرے سے پہلے اور کتنی لڑکیوں کو اٹھانے کا تجربہ کر چکے ہیں۔؟؟؟
آج تو بڑی شیرنی بنی ہوئی ہو ۔ماشاءاللہ۔۔ روحیل نے بائیں آنکھ دباتے ہوئے بولا۔۔ آج تو روحیل ارشاد سے ٹیڑھے سوالات پوچھے جا رہے ہیں اور کٹہرے میں کھڑا کرنے کے خطرناک ارادے ہیں۔۔۔
یہ باتیں میں اس وقت کے لئے چھوڑ دیتا ہوں جب تک تم رخصت ہو کر میرے کمرے تک نہیں آ جاتی ہو۔۔!
ویسے پوچھنا تھا اگر لڑکیاں اٹھائی بھی ہوں تو کیا تمہیں جلن ہو گی ۔؟؟؟
اگر سچی مچی اٹھائی ہیں تو پھر مجھے بہت افسوس ہو گا کیونکہ یہ گناہ کا کام ہے۔! زینہ نے افسردہ شکل بنائی۔۔۔
روحیل نے بات بدلی۔اپنا چہرہ درست کرو اور جاکر شاور لو۔
عصر کے بعد کا وقت لیا ہے۔
کس سے ؟؟؟
بھئی پالر والی سے ۔!
اوہ اچھا میں بھول گئی تھی۔!
مگر میں صبح امی والے غسل خانے میں نہا چکی ہوں۔ ابھی دوبارہ کس لیے نہاؤں.؟؟؟
جو بولا ہے اس پر عمل کرو۔۔۔
ادھر غسل خانے میں تمہارے شیمو کنڈیشنر رکھے پڑے ہیں ۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے۔مگر پلیز مجھے اجازت دیں میں ایک نظر امی کو دیکھ آؤں۔۔!! شاید ایک گھنٹہ بیت چکا ہے ، باتوں میں پتا ہی نہیں چلا۔۔۔
اس بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔!
اس میں کیا سوچنا ؟؟ زینہ گھبرا گئی۔۔
اس کے لیے ایک شرط ہے۔۔!
وہ کیا۔؟؟
زینہ کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔۔۔
اپنا حلیہ دیکھو ذرا ۔!!!
ایسے لگ رہا ہے جیسے کسی نے پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا ہے۔! روحیل کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔
نہیں نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ زینہ نے مغموم لب و لہجے میں صفائی دینے کی بھرپور کوشش کی۔۔۔
تمہیں یا تو جھوٹ بولنا نہیں آتا یا بولنے کی عادت نہیں ہے۔!
یہی بات ہے نا ۔؟؟
جی مجھے دونوں کام کرنے نہیں آتے ہیں۔۔۔
ساری عمر امی کے ساتھ گزاری ہے تو جھوٹ کیسے بول سکتی تھی۔۔زینہ نے دوپٹے کے پہلو سے پیشانی رگڑی۔۔۔
اور اگر تم امی سے چوری چوری مجھ سے دوستی کر لیتی تو پھر کیا ہوتا۔؟؟؟
“دوستی کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا ، آپ چاہے جتنا مرضی ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے مگر میں امی سے نہیں اللہ سے ڈرنے والی تھی اور رہوں گی ان شاءاللہ۔۔۔ جب دل میں نفس کے جہاد کا مصمم تہیہ کر لیا تو پھر دائیں بائیں ،آگے پیچھے کی تمام رعنائیاں بے معنی لگنے لگتی ہیں۔۔ میری زندگی میں آپکے حادثاتی طور پر آ جانے سے ایک اور دعا کا اضافہ ہو گیا تھا ۔۔!
وہ کونسی دعا تھی ۔؟؟ روحیل نے بیقراری سے پوچھا۔۔
❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️
اللہم(يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ))
“اے اللہ اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔”(سنن الترمذی کتاب الدعوات:3522صحیح)
❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️⁩⁦❣️
اور اکثر ایک اور دوسری مسنون دعا کا سہارا بھی لیتی رہتی تھی۔۔آپ کا یونیورسٹی آنا اور مجھے یوں بےباکی سے مخاطب کرنا میرے لئے بہت کٹھن مرحلہ تھا۔ مجھے دین کا بنیادی فہم نہ ہوتا تو شاید میں بھی شیطان کے بہکاوے میں آکر بہک جاتی۔۔۔
💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (شداد بن اوس! جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ سونا چاندی جمع کر رہے ہیں تو تم ان کلمات کو ذخیرہ کرنا:
(” اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ “)
یا اللہ! میں تجھ سے دین پر ثابت قدمی اور بھلائی پر پختگی کا سوال کرتا ہوں، اور تجھ سے تیری رحمت اور تیری مغفرت کا موجب اور یقینی سبب بننے والے اعمال کا سوال کرتا ہوں”۔
(اس حدیث کو البانی نے سلسلہ احادیث صحیحہ : 3228 میں صحیح کہا ہے۔ طبرانی معجم الکبیر:7135)
💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮💮
ویسے بھی مجھے میری حیثیت کا اندازہ تھا۔۔۔ ٹاٹ میں رہنے والوں کو محلوں کے خواب زیب نہیں دیتے۔۔۔میں خواب بھی اپنی استطاعت کے مطابق دیکھتی تھی۔۔۔
بس تقدیر میں آپ لکھے تھے سو آج آپ میرے سامنے کھڑے ہیں وگرنہ آپکی سرگرمیوں سے تنگ آکر میں نے سامعہ سے عبد السمیع بھائی کی توسط سے کسی دین دار ریڑی والے کا رشتہ ملنے کی درخواست بھی کی تھی۔۔
اچھا ۔!!!
روحیل کی رگیں تن گئیں۔۔تو تم مجھ سے دور بھاگنے کے لیے ریڑھی والے کے خواب سجائے بیٹھی تھی۔؟؟ ہیں۔؟؟؟
جججججججی۔! زینہ روحیل کے تیور دیکھ کر دوبارہ سے ہکلائی۔
زینہ تم صرف میری تھی اور میری رہو گی۔! یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لو۔!!
اب آگے بولو اور میں تفصیل کے ساتھ سننا چاہتا ہوں۔۔۔
زینہ نے لمبی سانس کھینچی اور گویا ہوئی ۔۔ظاہر سی بات ہے کہ جیسے آپ ملے اور پھر جن رستوں سے آپ میری طرف بڑھ رہے تھے وہ کسی بھی شریف لڑکی کے لیے سازگار نہ تھے۔۔ غریب کے پاس صرف ایک عزت ہی تو ہوتی ہے ، وہ بھی چلی جائے تو پھر غریب غربت سے نہیں بےغیرتی اور بےعزتی سے غارت ہو جاتا ہے۔۔۔زینہ کا دھیما لہجہ روحیل کے دل میں گھر کر رہا تھا ۔۔
اگر آپ زید کے ذریعے رشتہ نہ لاتے اور مسلسل نمبر بدل بدل کر مجھے رابطہ کرتے رہتے ، پھر بھی میں کبھی بھی آپ کی باتوں میں نہ آتی کیونکہ میرے دل میں خوف صرف اس وحدہُ لا شریک کا تھا جو مجھے شیطان کے رستے پر چلنے سے محفوظ رکھے ہوئے تھا۔۔
ایک انسان ہونے کی حیثیت سے میں بھی شاید کسی ایک کمزور لمحے کی گرفت میں آکر پھسل سکتی تھی ، بہک سکتی تھی مگر اللہ کی مدد سے میں محفوظ رہی الحمدللہ ثم الحمدللہ۔۔
اللہ کی مقرر کردہ حدوں کو توڑنا میرا شیوہ کبھی بھی نہیں رہا۔۔۔ زینہ کا مغموم لہجہ اور نمکین پانیوں سے لبریز آنکھیں روحیل کے دل پر تیر برسانے لگیں۔۔۔
زینہ تمہیں پتا ہے جب تم ہنستی ہو تو ایسے لگتا ہے کہ میرے دل میں اطمینان اتر آیا ہے اور جب تم روتی ہوتو میں تمہاری آنکھوں میں ایک آنسو برداشت نہیں کر پاتا ہوں۔۔۔روحیل نے آگے بڑھ کر زینہ کی آنکھوں سے لڑھکنے والے موتی چن لیے۔۔
اب میں جاؤں۔؟؟ زینہ کا ملتجی لہجہ اور روحیل کا بھنویں اچکانا۔۔
بھول گئی ہو ۔؟
کککککیا ۔؟؟
یہی کہ تمہیں میری ایک شرط ماننا پڑے گی۔۔
جی بولیں۔ زینہ کی ہمت جواب دینے لگی۔۔
ہاتھ دو ۔!
زینہ نے گھبراتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔۔۔
روحیل مضبوطی سے زینہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے گویا ہوا۔۔
تم نے ہر روز رات کو میرے ساتھ فون پر لازماً ایک گھنٹہ بات کرنی ہے۔
وہ کیسے۔؟؟ میرا مطلب ہے امی پاس ہوں گی اور انکے سامنے آپ سے لمبی چوڑی بات کرتے ہوئے مجھے شرم آئے گی۔۔
زینہ تم کیا مریخ سے آئی ہو جو تمہیں دنیا کا نہیں پتا ہے ۔۔۔؟؟ اللہ کی بندی میں پیغام رسانی کی بات کر رہا ہوں۔۔ تمہیں پیغام ٹائپ کرنا تو آتا ہے نا .؟؟؟ جی وہ تو آتا ہے مگر شاید سرعت سے آپ کو جواب نہ دے سکوں گی۔۔۔!
پر ہمیں فون پر پیغام رسانی کی کیا ضرورت ہے جبکہ ہم دن میں ایک دوسرے کے سامنے ہی ہونگے۔۔ ؟؟ ایک گھر میں رہتے ہیں۔؟؟
زینہ کی دلیلوں پر روحیل کا جی چاہ رہا تھا اپنا سر پیٹ لے۔۔۔
زینہ تم واقعی اتنی سادہ لوح ہو یا میرے صبر کا۔امتحان لینے پر تلی ہو ۔ ؟؟
میں تو ایسی ہی ہوں جیسی آپکو نظر آ رہی ہوں اور ویسے بھی آپ رات کو اپنی کمپنی کا کام کریں گے یا میرے ساتھ پیغام رسانی میں مشغول رہیں گے۔۔۔؟ !!
زینہ نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے روحیل کو ایک اور مثال دے کر سمجھانا چاہا۔۔۔
زینہ تمہارا ایک ہی حل ہے کہ میں تمہیں ماسی کے کمرے سے اٹھا کر یہاں لے آؤں ۔۔۔! تمہارے اس دماغ میں یہ باتیں کیوں نہیں بیٹھتی کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ آرام سے بات کروں۔ جو جی میں آئے پوچھوں بولوں۔۔۔!!
ہاں تو آپ دن میں پوچھ لیا کریں نا ۔!!
ٹھیک ہے ماسی کے سامنے میرا جو جی چاہے گا پوچھوں گا پھر نہ رونا مجھے امی سے یا پھر ویرے سے شرم آتی ہے۔۔۔روحیل نے زچ ہو کر بولا۔۔۔
اچھا چلیں میں پوری کوشش کروں گی آپ سے پیغامات کے ذریعے ایک گھنٹہ بات کر لوں مگر مسلسل ٹائپنگ سے شاید میری انگلیاں تھ ۔۔۔۔ روحیل کے تیور دیکھ کر لفظ “تھک” زینہ کے منہ میں ہی رہ گیا۔۔۔
بولو اب کیوں چپ ہو گئی ہو ۔!!
بولو میری انگلیاں تھک جائیں گی۔!
ننننہیں تھکیں گی میں جلدی سیکھ جاؤں گی ان شاءاللہ۔۔۔ زینہ نے فوراً بات کو سمیٹنے کی کوشش کی۔۔ میں نے پہلے کبھی مسلسل ایک گھنٹہ پیغام رسانی کی جو نہیں ہے ۔ زینہ نے ڈرتے ڈرتے جلدی میں بول دیا جبکہ روحیل گردن جھٹک کر رہ گیا۔۔۔
اب جاؤں۔؟؟؟ زینہ کی بچوں والی ضد پر روحیل کا مسکرانا زینہ کے لیے عذاب بنا ہوا تھا۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر روحیل چاہتا کیا ہے ۔۔؟؟
میں جاؤں۔؟؟
ہاں جاؤ۔! مگر پانچ منٹ میں واپس لوٹ کر یہاں آنا ہے۔۔۔!
جی بہتر۔! زینہ نے سکھ کا سانس لیا اور چپل اڑس کر کمرے سے فوراً رفو چکر ہونے لگی مگر روحیل کی پکار پر دوبارہ جان مٹھی میں آ گئی۔۔۔
میں تمہارے ساتھ ہی جاؤں گا اور پھر تمہیں ٹھیک پانچ منٹ بعد واپس لاؤں گا تاکہ نماز کی ادائیگی کے بعد ہم مقررہ وقت پر گھر سے نکل سکیں۔۔
روحیل مضبوطی سے زینہ کا ہاتھ تھامے کمرے سے نکل آیا۔…
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *