Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26
روحیل نے پورے جذب کے ساتھ بولتے ہوئے زینہ کی نشیلی آنکھوں میں جھانکا۔۔
زینہ۔!! تمہیں پتا ہے تم کتنی خوبصورت ہو۔؟؟ روحیل نے زینہ کے ہاتھ دوبارہ تھامتے ہوئے محبت پاش نظروں سے پوچھا۔۔
نہیں مجھے نہیں پتا ہے۔! میں صرف اس بات پر شاکر ہوں کہ اللہ نے مجھے صحیح سالم جسم سے نوازا ہے، میری سماعتیں خیر کو سننے، میری بصارتیں خیر کو پڑھنے اور میرا بدن مجھے اللہ کے سامنے سجدہ ریز کرنے کے لیے کافی ہے۔۔میرے لیے یہ تمام نعمتیں بہت معنی رکھتی ہیں۔ میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں ، اتنا ہی کم ہے ۔۔ اب آپ میرے ہاتھ چھوڑیں ،میں نے برتن دھونے ہیں۔!!
زینہ کو گھنٹہ بھر پہلے والا کام یاد آ گیا۔۔
چاہے برتن ہوں یا فرنیچر تم یہاں سے نہیں ہل سکتی جب تک میں نا چاہوں۔!!
روحیل نے زینہ کی نشیلی آنکھوں میں جھانک کر دھمکایا۔۔
زینہ تمہاری آنکھیں بہت روشن ہیں اور تمہارے چہرے کا نور بنا کسی بناوٹی پن سے میرے دل میں گھر کر گیا ہے۔۔
کون کونسی دعائیں مانگتی رہی ہو۔؟؟ روحیل نے زینہ کو چھیڑا۔۔
ایک دعا تو شدت سے مانگتی تھی۔!
کونسی ؟؟
یہی کہ مجھے ایسا شخص ملے جو مجھے میرے کردار سے پہچانے ، وہ ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ میری باطنی خوبصورتی کا دیوانہ ہو۔۔۔
دعا قبول ہوئی۔؟؟ روحیل نے زینہ کے مخروطی ہاتھوں کو نرمی سے دبایا۔۔
جی۔!! قبول ہوئی ہے اور بہت دھڑلے سے ہوئی ہے۔!! زینہ کا نقرئی قہقہہ بلند ہوا۔ !!
سوگوار فضا میں دوستی کے جلترنگ بجنے لگے۔۔۔
آج سے دوستی پکی پھر۔؟؟؟
سوچا جا سکتا ہے۔؟؟ زینہ نے پرسوچ انداز میں جواب دیا۔۔ میرے خیال میں پکی والی دوستی کو آپ کی واپسی تک التوا میں رہنے دیتے ہیں۔!!
تم مجھے تنگ کرنے کے لیے بول رہی ہونا ؟؟
نہیں ۔!! سوچ سمجھ کر کیے جانے والے فیصلے دیرپا ہوتے ہیں اور بقول آپ کے عورتیں جذباتی ہوتی ہیں لہٰذا میں جذبات میں آکر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی ہوں۔۔ زینہ نے نشیلی آنکھیں گھماتے ہوئے روحیل کا مقولہ دہرایا۔۔۔
شرارتی ہوتی جا رہی ہو۔؟؟
نہیں ۔! حقیقت پسند بولیں۔! زینہ نے جان بوجھ کر روحیل کو چھیڑا ۔۔
زینہ تمہیں پتا ہے جب میں کل چلا جاؤں گا نا تو تم نے مجھے بہت یاد کرنا ہے ۔!
آپ کو کیسے پتا ؟؟ میں تمہیں لکھ کر دے سکتا ہوں۔!
آپ کیسے لکھ کر دے سکتا ہوں۔؟؟ آج میرا جی چاہ رہا ہے تمہیں محبت بھرا خط لکھوں۔!!
زینہ کا بلند وبالا نقرئی قہقہہ روحیل کے نفیس کمرے میں جلترنگ بجانے لگا۔۔۔
تمہیں پتا ہے تمہاری آواز اور ہنسی کتنی دلفریب ہے۔؟؟
نہیں کبھی غور نہیں کیا ہے پر سامعہ کہا کرتی تھی۔!
اور آپ کا وہ مدفون ماموں زاد بھی شاید آواز کا دیوانہ بنا تھا حالانکہ میں نے کبھی اسے مخاطب ہی نہیں تھا کیا مگر یونیورسٹی کے عقبی میدان میں جب اس سے ٹکرائی تھی تو مجبوراً اسکی باتوں کے جواب میں بولنا پڑا تھا وگرنہ میں تو کبھی بھی کسی غیر مرد کو لوچ دار آواز میں مخاطب نہیں کرتی تھی الا یہ کہ کسی کے دل میں مرض ہو تو الگ بات ہے ۔ واللہ اعلم۔۔
ابھی میں جاؤں۔؟؟
نہیں ۔!!
پتا ہے آپ بہت ڈھیٹ ہیں۔!!
بعض باتوں اور کاموں میں ڈھیٹ ہونا اچھی بات ہے۔ اب یہ قیمتی لمحات اگر میں ٹی وی دیکھنے میں یا کسی اور سوشل میڈیا پر ضائع کرتا تو سوائے گناہوں کے کچھ حاصل نہ تھا۔۔
ابھی میں یہ لمحات اپنی بہت پیاری بیوی کے ساتھ گزار کر انکو یادگار بنا رہا ہوں۔۔ پتا ہے جب بچے ہونگے تو ہمیں کہاں اس طرح بیٹھنے کی فرصت ملے گی ؟ انکی چییں چییں اور بھاں بھاں لگی رہے گی۔۔ روحیل نے پورے جذب سے بولا۔۔ جبکہ مخاطب کا چہرہ شرم سے لال انگارا ہوئے جا رہا تھا۔۔
زینہ نے فوراً ہاتھ چھڑا کر بھاگ جانے کی ٹھانی۔۔
زینہ روحیل سے بھاگے گی ۔؟؟ناممکن ہے میری جان۔!! روحیل نے جھپٹ کر زینہ کو اپنے حصار میں جکڑ لیا۔۔
چلو اب شرمانا بند کر کے اچھی بچی بن کر بیٹھو ، جہاں پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
مجھے شرم آتی ہے۔!! زینہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے روحیل کے صبر کو آزمانے لگی۔۔
زینہ اس میں شرمانے والی کونسی بات ہے جب شادی کی ہے تو بچے بھی تو ہونگے ان شاءاللہ۔
آپ پھر وہی باتیں کر رہے ہیں۔!
میں تو حلال اور ثواب کمانے والی باتیں بہت پسند کرتا ہوں چہ جائیکہ مخاطب اناڑی ہی ہے۔!!
“بس دیر آئے درست آئے”۔!!
آپ بہت وہ ہیں ۔؟؟
کون۔؟؟؟
بےشرم ۔!!
چلو بیوی کے ساتھ ایسی بےشرمی منظور ہے۔!
اب آگے بولو۔!! میں ہمہ تن گوش ہوں۔!!
آپ ڈھیٹ بھی ہیں۔!!
یہ بھی منظور ہے ۔!!
زینہ ہنوز چہرہ چھپائے روحیل کو مسکرانے پر مجبور کر رہی تھی۔۔
آپ کو سب کچھ منظور ہے تو مجھے بھی برتن دھونا منظور ہے، اور میں جا رہی ہوں۔!! “سوہنے رب کے حوالے”۔ زینہ چہرے سے ہاتھ ہٹا کر دوبارہ دروازے کی طرف بھاگی مگر پشواز کا گیرا فتے سمیت پاؤں میں آن پھنسا ، دھڑام سے زمین بوس ہوتے ہوتے بچی۔۔ روحیل کی بروقت پھرتی زینہ کو بچا گئی۔۔۔
بیوقوف لڑکی کس لیے بھاگتی ہو۔؟؟ میری نازک اندام سی ، شرمیلی سی بیوی جو چھوٹی چھوٹی معمولی باتوں پر شرما کر اپنے مریخ کے پڑاؤ کی یقین دہانی کرواتی رہتی ہے۔۔
زینہ صاحبہ تمہارا بسیرا زمین پر ہے لہذٰا حرکتیں بھی زمین پر رہنے والوں جیسی کیا کرو۔!!
روحیل نے زینہ کو دونوں شانوں سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا دیا۔۔۔
بات اور عمل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔!! روحیل نے زینہ کی نشیلی آنکھوں میں معنی خیز نظروں سے جھانکا۔۔۔
مجھے آپ سے ایسی باتیں نہیں کرنی ہیں ، مجھے بہت شرم آتی ہے۔!! زینہ نے شرمانے کی ساری حدیں پار کر دیں۔۔
کوئی بات نہیں ہے ، دبئی سے واپسی پر خوب جی بھر کر ایسی باتیں کر لیں گے۔۔!!
کیا خیال ہے۔؟؟ روحیل نے ہنسی کو دباتے ہوئے زینہ کو چھیڑا۔۔۔
آپ کی سوئی ہمیشہ ایسی باتوں پر کیوں اٹکتی ہے۔؟؟
روحیل ارشاد تیری شادی زینہ حیات سے ہوئی ہے لہذا صبر کے بڑے بڑے گھونٹ پی اور دعاؤں کا ذخیرہ کر۔۔!! روحیل نے معنی خیزی سے بولا۔۔۔
زینہ حیات روحیل ارشاد کو اپنے اس قیمتی خیال پر ڈھیر ساری مبارکباد پیش کرتی ہے ۔۔۔۔
برائے مہربانی اپنے اور میرے بیچ کچھ فاصلہ قائم فرمائیں تاکہ میں آپ کی پھپھو کے درشن کر سکوں۔
کنیز شریفانہ اجازت کی طلبگار ہے ، اسے خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے۔!
ہاہاہاہا روحیل کے قہقہے بلند ہوئے۔۔
تمہاری یہ معصوم ، سادہ سی گفتگو مجھے بہت عزیز ہے ، تم بناوٹی پن سے کتنی دور ہو ، تمہارا چہرہ تمہارے دل کا ترجمان ہے ، ہنستی ہوتو آسودگی بخشتی ہو ، روتی ہوتو دل چاک کرتی ہو اور جب روٹھتی ہوتو گویا میرا سکھ چین روٹھ جاتا ہے ۔۔تمہارے نام کا اثر تمہاری شخصیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔!! زینہ مجھے تم سے بہت محبت ہے۔!!!
جی آپ کی نوازش ہے !! میں یہ کلمات دن میں کئی بار سماعت کر چکی ہوں۔ اللہ آپکو ان عظیم خیالات پر اجر عظیم عطا فرمائے آمین۔۔ زینہ نے مسکراتے ہوئے آمین پر زور دیا۔۔۔
“ثم آمین” روحیل نے مزید لمبا اور اونچا بولا۔۔
ٹھک ٹھک دستک نے دونوں کی توجہ دروازے کی طرف مبذول کرائی۔۔۔
اوہ اب کون ظالم سماج کباب میں ہڈی بننے آ گیا ہے۔؟؟
مشکل سے تو زوجہ محترمہ کے ساتھ چند قیمتی لمحات گزارنے کا موقع میسر ہوا تھا۔۔ روحیل بڑبڑاتا ہوا زینہ کو ایک طرف کر کے بند دروازے کو کھولنے لگا جبکہ زینہ کی کھی کھی ہنسی اس سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔۔
تمہیں تو میں دیکھ لوں گا زینہ۔! روحیل نے زینہ کو دھمکاتے ہوئے کنڈی پر ہاتھ رکھا۔۔
ارے پھپھو آپ۔؟! آئیے تشریف لایئے۔!!
روحیل نے سنجیدگی اور احترام سے پھپھو کا استقبال کیا۔۔
اے کدھر گئی ہے تمہاری بیوی۔؟؟
کیوں خیریت ہے پھپھو۔؟؟ روحیل سینک برتنوں سے اٹا پڑا ہے اور یہ لڑکی اپنی من مانیاں کرتی پھر رہی ہے، سارا گھر چھان مارا ہے ، مجبوراً تمہارے دروازے پر آنا پڑا ہے۔ پھپھو نے ساڑھی کا پلو سنبھالتے ہوئے بولا۔۔
ہائے ہمارے وقتوں میں نئے شادی شدہ جوڑے اہل خانہ کے سامنے اکھٹے بیٹھتے ہوئے شرماتے تھے مگر اب تو دن دھاڑے سب کی آنکھوں میں دھول جھونکتے پھرتے ہیں۔!
روحیل سر کھجاتے ہوئے سٹپٹایا تبھی دروازے کے عقب میں چھپی زینہ دیوار کے ساتھ لگی مسکرانے پر مجبور ہو گئی۔۔۔
پھپھو میرے خیال میں اٹلی میں بھی یہی حالات ہوں گے۔؟؟!
اے بھتیجے چھوڑ اٹلی کو ۔!! ہم تو پاکستان کے باسی ہیں ذرا اپنی تہذیب کو دیکھنا چاہیئے۔!!
جی پھپھو آپ اندر تشریف لے آئیں۔! روحیل نے سعادت مندی سے بولا۔۔
اے روحیل ۔! میں کس لیے تم دونوں کی تنہائی میں مخل ہوں ، میں جا رہی ہوں ، اپنی بیوی کو نیچے بھیجو تاکہ میں اسے اس مختصر عرصے میں سب کچھ سکھا جاؤں۔۔
جی پھپھو ۔! بہتر ہے ، میں ابھی اسے اٹھا کر لاتا ہوں۔!
اے کیا بولے جا رہا ہے روحیل۔؟؟؟ باؤلا ہو گیا ہے کیا۔؟
پھپھو اٹھانے کی بات کی ہے۔؟ روحیل نے جان بوجھ کر پھپھو کو چھیڑا۔۔
اے بیوقوف لڑکے ابھی سے بیوی کا غلام بن گیا ہے؟
نہیں پھپھو غلام تو نہیں البتہ۔۔۔۔۔
روحیل نے لفظ پھپھو کو لمبا کیا۔۔
ابھی آگے بھی بول ۔!! تمہاری تو میں خوب خبر لوں گی۔
جی ضرور پھپھو دبئی سے واپسی کے بعد ان شاءاللہ۔۔
ابھی دو منٹ کے اندر تیری بیوی باورچی خانے میں موجود ہونی چاہیئے۔!
جی پھپھو بس ابھی بھیج رہا ہوں۔۔ روحیل نے فوراً پلٹ کر دروازہ ایک جھٹکے سے بند کر کے سانس بحال کی۔۔
وہ سنیں۔!
جی سنائیں۔!
مجھے جانے دیں پھپھو کو اچھا نہیں لگے گا، وہ سمجھیں گی میں بد اخلاق ہوں ، بڑوں کی باتوں کا اثر نہیں لیتی ہوں اور نافرمان بھی ہوں۔۔!!
یہ ساری خوبیاں تو تم میں بدرجہ کمال پائی جاتی ہیں ویسے۔!!
ہائے اللہ۔!!
وہ کیسے۔؟؟زینہ کی آنکھیں غم سے پھیل گئیں۔۔
اب دیکھو میں بھی تم سے پورے دو سال بڑا ہوں مگر تم میری بات تو نہیں مانتی ہو۔۔!! روحیل نے ہنسی دباتے ہوئے زینہ کو ڈرایا۔۔
میں تو آپ کی ہر بات مان رہی ہوں جو بھی بولتے ہیں ، گزشتہ ڈیڑھ گھنٹے سے آپ کی بات مان کر بیٹھی ہوں ، ادھر پھپھو ناراض ہیں اور یہاں آپ ناراض ہیں ! زینہ کی آنکھیں فکرمندی سے جھلملانے لگی۔
زینہ تم نے رونے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کیا ؟؟
ننننہیں تو ۔!! میں رو تو نہیں رہی ہوں۔ زینہ نے خود پر قابو پاتے ہوئے صفائی دینے کی ناکام کوشش کی ۔۔ دیوار کے ساتھ لگی زینہ راہ فرار کا ایک ایک لمحہ گن رہی تھی۔۔
تم کچھ پریشان لگ رہی ہو۔! روحیل نے زینہ کا دھیان بٹانے کے لیے بات لمبی کی۔۔۔
مجھے جانے دیں۔! ایک آنسو لڑھک کر نازک گال پر آوارگی کرنے لگا۔۔۔
زینہ تمہارا دل اتنا کمزور کیوں ہے یار ؟؟ معمولی بات پر بن موسم برسات شروع ہو جاتی ہے۔!
وہ پھپھو ناراض ہو جائیں گی ، آپ کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں۔؟؟ زینہ نے لاچارگی سے دہائی دی۔۔
میری ناراضگی کی سمجھ تمہیں کیوں نہیں آتی ہے؟؟
روحیل نے زینہ کےکان کے قریب جا کر سرگوشی کی۔۔ زینہ کے دل کی دھڑکنوں کا شور بڑھنے لگا۔۔
آ آآآآآپ مجھے جانے دیں بس۔!
زینہ نے سہمے لہجے میں دہائی دی۔۔
ڈرتی ہو مجھ سے ؟؟؟
جی ۔!! زینہ نے جھکی گردن کے ساتھ کورا جواب دیا۔۔
ہاہاہاہا ہاہاہاہا پاگل لڑکی۔روحیل کا جاندار قہقہہ اور پھر زینہ کی بچی کھچی ہمت بھی جواب دینے لگی۔۔
تم نے آج ادھر ہی کھڑے کھڑے فوت ہو جانا ہے کیا ؟؟
روحیل نے زینہ کو شانوں سے تھام کر پوچھا۔۔
چہرہ اوپر اٹھاؤ۔!!!
زینہ نے جھکا سوگوار چہرہ اوپر اٹھایا تو روحیل کو اسکی حالت پر ترس آنے لگا۔۔۔ زینہ حقیقتاً تم اول درجے کی بیوقوف اور ڈرپوک لڑکی ہو یار۔۔۔
تم اپنے شوہر کے پاس ہو ۔ باقیوں کی فکریں ترک کر دو یار۔!!
زینہ کا ضبط جواب دینے لگا تو نشیلی آنکھیں دغابازی کرنے پہ اتر آئیں۔
یا اللہ۔! یہ لڑکی تو کسی دن میرے سے پٹ جائے گی۔ روحیل نے زچ ہو کر زینہ کو گرکا۔۔۔
بند کرو رونا ورنہ پھر میں نے وہ کرنا ہے جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا۔۔۔
کککککیا کریں گے۔؟؟ زینہ رونا بھول کر فکرمندی سے پوچھنے لگی۔۔۔
تمہیں کمرے کی کھڑکی سے دھکا دینے کو جی چاہتا ہے زینہ۔۔روحیل نے نفی میں گردن دائیں بائیں جھٹکتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔۔
ایک تو پھپھو اور اوپر سے تم اتنی خشک مزاج ہو ۔۔
چلو رونا دھونا بند کرو اور نیچے جاؤ۔! سارے موڈ کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔
روحیل نے مصنوعی خفگی سے بولا جس پر مخاطب زینہ فکرمندی سے چونکی۔۔
آپ پھر ناراض ہو گئے ہیں؟؟؟
تو اور کیا کروں ۔؟ تمہیں میرے جذبات احساسات کی قدر ہی نہیں ہے۔! روحیل جان بوجھ کر زینہ کو پریشان کرنے لگا۔۔۔
میں اور کیا کروں۔؟؟ جو باتیں نکاح سے پہلے طے کیں تھیں ان میں سے کتنی باتوں پر عمل درآمد ہو رہا ہے؟؟ زینہ نے رنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
کونسی باتیں۔؟؟ روحیل نے جان بوجھ کر لاعلمی ظاہر کی ۔۔
میرے پاس فون نہیں ہے وگرنہ آپ کو دکھاتی بلکہ آپ میرے فون کو رہنے دیں ، اپنا فون دیکھیں۔۔
مجھے تو صرف ایک رخصتی والی بات یاد ہے جب تک ماسی امی اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو جاتیں تب تک رخصتی نہیں ہو گی اور تم ان کے ساتھ انکے کمرے میں قیام پذیر رہو گی۔!!
تو اب بتائیں میں آپ کے کمرے میں کتنا قیام کر رہی ہوں۔؟؟ ہوئی نا وعدہ خلافی۔؟؟ زینہ رونا بھول کر روحیل کے ساتھ مقابلے بازی پر اتر آئی۔۔۔
اچھا تو تمہیں یہ غم ستا رہا ہے۔؟؟؟ روحیل نے منہ سکیڑا۔ یہ تو واقعی بہت افسوس ناک بات ہے۔۔!!
ہاں تو ہے نا ۔!! زینہ نے ناراضگی کا اظہار کیا۔۔۔
روحیل نے قہقہہ لگاتے ساتھ زینہ کو اپنے مضبوط حصار میں جکڑ لیا۔۔۔
تم اس صدی کی بیوقوف ترین لڑکی کا ایوارڈ جیت سکتی ہو۔!
زینہ مچل کر آپے سے باہر ہونے لگی۔۔
میں آپ سے ناراض ہوں، آپ کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔۔۔زینہ کی شکوہ کنائی بڑھنے لگی۔۔۔
ہائے زینہ۔! تم تو واقعی بہت مظلوم لڑکی ہو یار۔!!
روحیل نے زینہ کی پیشانی پر مہر محبت ثبت کی اور اسے اپنے حصار سے آزاد کر دیا۔۔۔ جبکہ زینہ کی آنکھیں اس اچانک حملے پر پھیل گئیں۔۔
بس ۔!! اب ہوش کی دنیا میں آ جاؤ زینہ۔!! ہنسی دبا کر روحیل نے زینہ کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرا کر چڑایا۔۔۔
آپ بہت بےشرم ہیں۔! زینہ چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا کر لپک کر دروازے کی طرف بڑھ گئی۔۔ روحیل کے قہقہے رہی سہی کسر بھی نکالنے لگے۔۔۔
زینہ تم میرے لئے مشکل ترین ہدف ہو۔!!! جی چاہ رہا ہے تمہیں اپنی باہوں میں اٹھا کر نیچے لے جاؤں۔!
جی نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں اللہ کے فضل سے چلنے پھرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔۔!
ویسے لڑائی میں تو اچھا مقابلہ کر سکتی ہو.! زینہ عرف خشک مزاج۔!!! روحیل نے دروازے کو دھیرے سے کھولتے ہوئے دل کے پھپھولے نکالے۔۔۔
آپ کا علاج ہے۔!! زینہ نے بولتے ساتھ پشواز کے گیرے کو دونوں ہاتھوں میں لے کر دوڑ لگا دی۔۔
روحیل اس دھوپ چھاؤں سی لڑکی کے انوکھے انداز بیان پر ششدر رہ گیا۔ زینہ مجھے پتا ہے تم جان بوجھ کر میرے سے دور بھاگتی ہو۔! میرا نام بھی روحیل ارشاد ہے ،تمہیں اپنا بنا کر رہوں گا ان شاءاللہ۔۔
******************************
ہانپتی کانپتی زینہ باورچی خانے میں پہنچی تو صد شکر پھپھو موجود نہ تھیں۔۔ شریفاں خالہ برتن دھو کر خشک کرنے میں مصروف ملیں۔۔۔۔
ارے بی بی جی کیا ہو گیا ہے۔؟کیوں اتنی گھبرا رہی ہیں۔؟؟
کچھ نہیں خالہ بس سیڑھیاں پھلانگ کر آئی ہوں تو سانس پھول گئی ہے۔!
باقی باتیں چھوڑیں ، مجھے یہ بتائیں
پھپھو غصے میں تو نہیں تھیں۔؟؟
کچھ دیر قبل آئیں تھیں اور مجھے برتن دھوتا دیکھ کر بنا بولے باورچی خانے سے نکل گئیں۔۔۔
دوپہر کے کھانے کا کچھ بتا کر گئیں ہیں کیا ؟؟
سبزیاں تو منگوا لیں ہیں مگر ابھی تک کچھ بتایا نہیں ہے۔۔!
اچھا چلیں میں ان سے پوچھتی ہوں وہ شاید باغیچے میں ہوں گی۔۔زینہ باورچی خانے سے نکل کر باہر باغیچے کا رُخ کرنے لگی تو عقب سے عاصم کی آواز کانوں میں پڑی۔۔
زینہ جلدی آؤ۔! کہاں ویرے۔؟؟؟
ادھر ماسی امی کے کمرے میں آؤ۔! دیکھو ماسی ابھی اپنا بایاں پاؤں ہلا سکتی ہیں ، فزیو نے جدید طریقے سے ورزش کروائی ہے تو اسکے ثمرات بہت اچھے نکلے ہیں ۔عاصم خوشی سے نہال ہو رہا تھا۔۔۔
ویرے میں بہت خوش ہوں ۔ زینہ خوشی سے بھاگ کر عاصم کے ساتھ لپٹ گئی۔۔۔
اچھا زینہ اب جلدی جلدی آ جاؤ ، ماسی کی خوشی بھی دیدنی ہے ۔۔عاصم نے زینہ کے ساتھ بات جاری رکھتے ہوئے تیز تیز قدموں سے اسے مہمان خانے سے کھینچا۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے۔؟؟ روحیل نے زینے اترتے ہوئے پکارا۔۔
بھیا آپ بھی آئیں نا ۔! ماسی کا بایاں پاؤں حرکت کرنے لگا ہے ،ابھی کچھ دیر قبل ہی فزیو ورزش کروا کر گھر سے نکلا ہے ۔۔
اوہ یہ تو بڑی اچھی خبر ہے یار۔۔ روحیل متوازن چال چلتا عاصم زینہ کے قریب آن پہنچا۔۔ چلو بھئی اب اندر چلو۔! روحیل نے پاس پہنچتے ہی زینہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں زبردستی تھام لیا۔ روحیل پر زینہ کی مذاحمت کا رتی بھر اثر نہ پڑا ۔۔
ماسی بہت بہت مبارک ہو ۔! آپ تو ہمارے گھر سے نکلنے کی منتظر تھیں کہ ہم لوگ گھر سے نکلیں اور آپ باغیچے میں دوڑیں لگائیں۔۔! زینہ کے بولنے سے قبل ہی روحیل پرجوش انداز میں بول پڑا۔۔
روحیل بیٹا اللہ تمہاری زبان مبارک کرے اور میں دوڑیں لگا کر تم لوگوں کی واپسی پر استقبال کروں ۔۔۔روحیل زینہ کا ہاتھ تھامے ہوئے ماسی کے بستر کی پائنتی پر جا بیٹھا۔۔
زینہ تم بھی ادھر بیٹھ جاؤ۔کتنا بڑا بستر ہے۔
نہیں میں ادھر کھڑی ہی ٹھیک ہوں۔۔! زینہ نے دھیمے مگر زچ لہجے میں بولا۔۔۔
ہاتھ چھوڑیں میرا۔! ویر اور امی پاس ہیں۔ زینہ منت طلب سرگوشی والے انداز میں امی سے آنکھ چرا کر روحیل سے ہمکلام ہوئی۔۔ تمہارا دماغ ٹھکانے پر نہیں رہتا اس لیے تم نے دیکھا نہیں ہے کہ عاصم ہمارے ساتھ کمرے میں داخل ہی نہیں ہوا ہے ۔ وہ باہر دروازے سے پلٹ گیا تھا کیونکہ وہ اس رشتے کی نزاکت کو سمجھ کر ہمیں ساتھ وقت گزارنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔
آپ میرا ہاتھ چھوڑ رہے ہیں یا نہیں۔؟؟
نہیں ۔!! کر لو جو کرنا ہے۔!! روحیل نے ڈھیٹ پنے کی حد پار کی۔۔
امی آپ کے کھانے کے لیے پھل کاٹ دوں؟؟زینہ کو روحیل سے رہائی کا ایک اور بہانہ مل گیا۔۔
ارے نہیں بیٹی۔ ! تم روحیل کے ساتھ جا کر اس کا سامان وغیرہ تیار کرو ، عاصم سے پوچھو اسے شاید کسی مدد کی ضرورت ہو۔زینہ تم سب کا دھیان رکھا کرو بیٹی، آخر کو گھر کی بڑی بہو ہو ۔! بستر پر نیم دراز ماں نے ہمیشہ کی طرح دوبارہ یاددہانی کروائی۔۔۔
جی امی۔! مگر میں جب بھی آپ کے پاس آتی ہوں ، آپ ہمیشہ یہی باتیں لے کر بیٹھ جاتی ہیں۔۔ زینہ نے لاڈ سے منہ بسورا۔۔پاس بیٹھے روحیل نے مسکراہٹ دبا کر زینہ کا مخروطی ہاتھ دبایا۔۔
زینہ ماں کا کام ہوتا ہے اپنی اولاد کی تربیت کرنا اور انہیں اچھے برے کی تمیز سکھانا۔۔ بیٹی میں نہ رہی تو تمہیں ایسی باتیں کون سمجھائے گا۔؟؟؟ ابھی جتنا عرصہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوں ،فائدہ اٹھا لو۔!
ماسی امی آپ کیسی باتیں کرتی ہیں۔؟؟ اللہ آپکو صحت مند لمبی زندگی دے۔۔آمین ۔ دیکھنا آپ ہماری واپسی تک بالکل ٹھیک ہو چکی ہوں گی ان شاءاللہ، فزیو بہت پر امید ہے کہ آپ بہت جلد فریم اور چھڑی کے سہارے چل پھر لیں گی۔۔
بس بیٹا اللہ مجھے اپنے پاؤں پر کھڑا کر دے ، میں نے کونسا اس عمر میں کبڈی کھیلنی ہے۔۔
ہاہاہاہا ماسی یہ بزرگ لوگ بہت مزے کی باتیں کرتے ہیں ویسے۔ میری پھپھو بھی کچھ اس طرح کی گفتگو اکثر کر جاتی ہوتی ہیں۔۔
ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش میں زینہ کو بھی روحیل کے پہلو میں بیٹھنا پڑ گیا۔۔۔
امی مجھے تھوڑا سا دیکھنے تو دیں آپ کے پاؤں میں کیا تبدیلی آئی ہے ۔؟؟
زینہ ظاہری تبدیلی کا تو پتا نہیں ہے مگر اب بائیں حصے میں ہلکی پھلکی حرکت شروع ہو چکی ہے۔
زینہ نے ماں کے پاؤں کو ایک ہاتھ سے ہلکا پھلکا ملنا شروع کر دیا جبکہ دوسرا ہاتھ ابھی بھی روحیل کے ہاتھ میں تھا۔۔
جاری ہے
