Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40

زینہ اس اچانک نکاح کے منصوبے پر گھن چکر بن کر رہ گئی تھی ۔۔۔ ضروری کپڑوں جوتوں کی خریداری سے لے کر زیورات کی پسند ناپسند گھر کی بڑی بہو کے ذمے تھی ، آدھا دن عاصم اور پھپھو کے ساتھ بازار کے چکر کاٹتی رہتی۔
روحیل کی بیتابیوں کو چکما دے کر پھپھو کے ساتھ خریداری اور باقی تمام معاملات سنبھال چکی تھی۔۔
آدھی رات نیچے پھپھو کے ساتھ گزار کر بستر پر لیٹتے ہی نیند کی وادیوں میں اتر جاتی، بیچارہ روحیل دل مسوس کر دیکھتا رہ جاتا۔ دن میں بھی دور دور سے مسکرا کر روحیل کو چڑاتی اور اسکے قریب پہنچنے پر پھپھو کی آڑ میں چھپ جاتی ۔۔
زینہ میں فی الحال یہ سب اس نکاح کی تیاری کی بدولت برداشت کر رہا ہوں ، تمہاری طبیعت تو میں بعد میں درست کروں گا۔۔ روحیل نا چاہتے ہوئے بھی مدہوش زینہ کو دیکھ کر بڑبڑایا۔۔۔
آپ نے خود بولا تھا کہ زینہ تمہارا میرے آس پاس ہونا ہی کافی ہے تو پھر اب کس لئے غمناک ہوئے جا رہے ہیں۔۔؟؟زینہ نے لیٹے لیٹے خمار آلود آواز میں بولا پھر جھٹ سے نیم خوابیدہ آنکھوں کو مسل کر روحیل کو دیکھا اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔
“خوابوں کی طرح تھا نہ خیالوں کی طرح تھا
وہ علم ریاضی کے ——سوالوں کی طرح تھا
الجھا ہوا ایسا کہ ———–کبھی کھل نہ پایا
سلجھا ہوا ایسا کہ —–مثالوں کی طرح تھا”
(ماخوذ)
میرے وجیہہ سے صابر سے شوہر نامدار روحیل ارشاد آج کے لئے اس شعر پر اکتفا کریں۔ آپ کے جذبات و احساسات کی قدر دان آپکو مایوس نہیں کرے گی ان شاءاللہ۔۔۔ آپ کی خواہش کے مطابق نکاح کی تاریخ رکھی گئی ہے۔ بھلا کون تین دن کی مہلت لیتا ہے۔؟ اپنا نکاح بھی ایسے ہی ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر کیا اور اب ویرے کو بھی اسی چھڑی سے ہانک رہے ہیں۔!
آپ بھی ویر کے مقولے پر عمل کریں۔! اب آپ سے تفصیلی ملاقات اور بات چیت اپنے ولیمہ والے دن ہی ہو گی ، ابھی تو اپنے ولیمے کا جوڑا بھی تیار نہیں ہوا ہے۔ تھکن سے چور جمائیاں لیتی زینہ نے بولا اور روحیل کا جواب سنے بغیر کروٹ بدل کر نیند کی وادیوں میں دوبارہ اتر گئی۔۔جبکہ روحیل کا جی چاہا اپنا سر پیٹ لے۔۔ اسی روزانہ کی دوڑ بھاگ اور کشمکش میں تین دن پلک جھپکتے گزر گئے۔
ذیشان اپنی عادت سے مجبور اکڑ میں نکاح کی چھوٹی سی تقریب میں شامل ہونے سے انکاری رہا ۔شہلا اپنی بد نصیبی پر بجھے دل کے ساتھ تقریب میں شامل رہی جسے زینہ گاہے بگاہے تسلی تشفی دیتی رہی۔۔
زید کی دلہن میرپور رخصت کروا کر زینہ اپنے سسرال اسلام آباد سدھار آئی اور شہلا ایک دن کے قیام کے لیے زید کے گھر ٹھہر گئی۔۔۔
اس خوشی کے موقع پر ماں کی یاد نے تینوں بھائی بہنوں کو بہت رنجیدہ کیا۔۔
زید نے اپنے نکاح کا خرچہ خود اٹھانے کی ضد کی جسے سب نے خوش دلی سے قبول کیا۔
تمام معاملات نہایت سادگی اور خوش اسلوبی سے انجام پا گئے ، زید اور عاصم نکاح کے بندھن میں بندھ گئے۔۔ زید کی دلہن رخصت ہو کر اسکے گھر میرپور سدھار گئی جبکہ عاصم نے اپنی دلہنیا کی رخصتی اس وقت تک ملتوی کر دی جب تک وہ سویرا کو اپنے ساتھ دبئی نہیں لے جاتا۔۔سب نے اس اتاولے کے اس نئے مطالبے پر شدید حیرت کا اظہار کیا مگر بقول اس کے کہ “صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے” بول کر سب کو قہقے لگانے پر مجبور کر دیا۔۔۔
عاصم اس وقت تمہارا صبر گھاس چرنے گیا ہوا تھا جب دن رات شادی شادی کی رٹ لگائی ہوئی تھی۔۔؟؟
یار بھیا آپ کیا جانو دل کی گہری باتیں۔؟؟ میں صبح سویرا سے رخصتی سے قبل ہی دوستی گانٹھ لوں گا اور پھر ویزہ ملتے ہی یکدم لے اڑوں گا ان شاءاللہ۔!!
اور ولیمہ کب ہو گا۔؟؟
ولیمہ کا کیا ہے۔؟ رخصتی سے ایک ہفتہ قبل پاکستان آجاؤں گا اور سارے انتظامات سنبھال لوں گا۔۔
ہاں ہاں تمہارے یہ انتظامات سنبھالنا میں اچھی طرح جانتا ہوں ،مجھے پتا ہے میری بیوی کو تو ہلکان کر دے گا۔!!
آپ کی بیوی بعد میں بنی ہے ، پہلے وہ میری بہن ہے ۔!! وقت سے پہلے ہی دل نہ جلائیں بھیا جی۔۔
پھپھو ڈیڈ بھیا میرے منصوبے میں روڑے اٹکا رہے ہیں ، انہیں سمجھا لیں۔!! سب کے قہقہے بلند ہوئے۔۔
تمام اہل خانہ رات کے کھانے سے فراغت کے بعد گوش گپیوں میں مصروف تھے کہ زینہ نے چائے کا پوچھ کر اٹھنا چاہا تو روحیل نے میز کے نیچے سے سب سے آنکھ بچا کر اس کا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں جکڑ لیا۔۔۔
کیا کر رہے ہیں؟ کسی نے دیکھ لینا ہے۔؟؟ بھری محفل میں اس طرح کی حرکتیں کون کرتا ہے بھلا۔؟؟
تم محفل کے علاوہ کونسا میرے ہتھے چڑھتی ہو۔!
دیکھیں اس وقت سب باتوں میں مصروف ہیں اگر کسی کا دھیان ہماری طرف آیا تو میں نے آپ کو نہیں چھوڑنا ۔ زینہ دانت پیس کر منمنائی۔
یہی تو میں چاہتا ہوں کہ مجھے بالکل نہ چھوڑو۔!
آپ حقیقتاً ڈھیٹوں کے سردار ہیں۔!
اور تم حقیقتاً اول درجے کی خشک مزاج ہو۔!
یہ خشک مزاجی کا طعنہ تو میں نے ایسا دور کرنا ہے کہ آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔!!
اوئے ہوئے بڑی بڑکیں ماری جا رہی ہیں۔!
میں کہہ رہی ہوں ہاتھ چھوڑیں۔!! زینہ نے اپنے دوسرے ہاتھ سے روحیل کے ورزشی بازو پر چٹکی کاٹی۔
روحیل ٹس سے مس نہ ہوا۔۔۔
زینہ یہ چٹکی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، کوئی اور حربہ آزماؤ۔!
روحیل میں بتا رہی ہوں میں رو دوں گی ، چھوڑیں میرا ہاتھ۔!!
رو کر دکھاؤ ذرا۔!
پھپھو۔!! زینہ نے قدرے اونچی آواز میں پھپھو کو پکارا۔۔۔
عاصم کے ساتھ محو گفتگو پھپھو نے فوراً زینہ کی طرف دیکھا۔
کیا بات ہے زینہ۔؟؟
پھپھو آپ ہمارے ولیمہ کے چند دن بعد اٹلی لوٹ جائیں گی ، ولیمہ سے قبل کیا میں آپ کے ساتھ ٹھہر سکتی ہوں۔؟؟ آج مجھے امی بہت یاد آ رہی ہیں۔۔
سنتے ساتھ روحیل کے چھکے چھوٹ گئے۔
ہاں ہاں کیوں نہیں بیٹی۔! اچھا ہے ولیمے کی تیاری میں آسانی رہے گی ،تمہیں بھی اوپر نیچے کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے۔۔۔
جی پھپھو۔!! زینہ کی آنکھیں چھلکنے لگیں۔
ارے میری بچی کیوں روتی ہو۔؟ دیکھو نا تم نے کتنی خوش اسلوبی سے دونوں گھروں کو سنبھالے رکھا ہے۔۔ تم تو بہت بڑے انعام کی حقدار ہو۔۔ اور میں کل خود تمہیں بازار لے کر جاؤں گی اور تمہارے لیے کوئی بہت خوب صورت سا تحفہ خریدوں گی۔۔۔
روحیل نے فوراً تڑپ کر دیکھا وہ بیوقوف لڑکی حقیقتاً اشکبار تھی۔۔
ولیمہ کے بعد سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے پھر تم ، میں ڈیڈ رہ جائیں گے ، ابھی بھاگ لو جتنا بھاگنا ہے۔۔روحیل نے دھیمے لہجے میں باور کروا دیا۔۔۔
سڑ سڑ کرتی زینہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ پھپھو میں اوپر سے اپنا ضروری سامان لے آؤں۔!
ہاں ہاں جاؤ میری بچی۔!
پھپھو ڈیڈ میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ،وہ رو رہی ہے تو اسے تسلی کی ضرورت ہے شاید ۔!
جی جی ہم خوب سمجھتے ہیں آپ کی یہ بہانے بازیاں۔! عاصم کی زبان میں کھجلی ہوئی۔۔
روحیل نے پلٹ کر عاصم کو کڑی نظروں سے گھورا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔۔
عاصم تم باز نہیں آؤ گے شرارتی نہ ہو تو۔!
پھپھو اگلے سال جیمی کو بھی لے آئیں اور ادھر ہی بیاہ دیں۔
ہائے میں تو یہی چاہتی ہوں کوئی زینہ جیسی بااخلاق اور باکردار بچی مل جائے تو کتنا اچھا ہو مگر یہ یورپ کی ہوا بعض اوقات انسان کو خود غرض بنا دیتی ہے۔۔ پھپھو نے دکھ بھرے لہجے میں بولا۔۔۔
پھپھو میرے خیال میں جیمی شاید مان جائے ، آپ اسے سمجھانے کی کوشش ضرور کیجئے گا۔
شمیم بچوں کی رضا مندی بہت ضروری ہے مگر بعض اوقات انہیں اچھے برے کی تمیز بتانی سمجھانی پڑتی ہے۔۔۔
جی بھائی جان۔! میں اپنی پوری کوشش کروں گی ان شاءاللہ۔۔
بھائی جان میں حقیقتاً روحیل کے لیے بہت خوش ہوں ماشاءاللہ ۔ اللہ کرے میرے عاصم کی دلہن بھی زینہ جیسی ہمدرد غمگسار ہو ۔آمین ۔
پھپھو ایسی ہی ہو گی میری صبح سویرا۔! اگر نا بھی ہوئی تو اسے میری خاطر ہونا پڑے گا ۔!! بولتے ساتھ عاصم نے دانتوں کی نمائش کروائی۔۔۔
ابھی وہ ادھر پہنچی نہیں ہے اور تم نے اس کا خوبصورت نام بگاڑ دیا ہے۔۔
ارے پھپھو یہ تو میں نے اسے پیار سے لقب دے رکھا ہے۔۔!
ابھی اس سے تفصیلی بات چیت کرنا باقی ہے۔!
بھائی جان اسکا حال دیکھ رہے ہیں ، بےشرم ہوا جا رہا ہے۔۔۔
پیاری پھپھو جان بعض اوقات مجھے ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ یورپ میں نہیں بلکہ افریقہ میں رہتی ہیں۔؟؟
عاصم تم واقعی کسی دن میرے ہاتھوں پٹ جاؤ گے۔۔
ارے پھپھو غلام حاضر ہے مگر فی الحال منکوحہ محترمہ کو نکاح کی مبارک باد دینا مقصود ہے لہٰذا مجھے محفل سے برخاست ہونے کی اجازت دے دی جائے۔۔۔!
اب میرے جیسا صابر کوئی اور شخص ہو سکتا ہے بھلا ہے جو کتنے گھنٹے بیت چکے ہیں مگر ایک مرتبہ بھی منکوحہ سے رابطہ نہیں کر پایا ہے ۔۔
یہ جو تم نے کتنے گھنٹوں کو لمبا کھینچا ہے نا یہ صرف چار گھنٹے بنتے ہیں ، ڈھائی سفر میں اور ڈیڈھ گھنٹہ گھر میں ۔! بس ۔!!
پھپھو آپ نے تو ایک ایک لمحے کا حساب رکھا ہوا ہے۔ خیر یہ بتائیں میرے والی کیسی لگی ہے ؟؟
عاصم نے پھپھو کو مذید چھیڑا۔۔۔
بہت پیاری بچی ہے مگر مجھے زینہ سے بہت انسیت سی ہو گئی ہے ، وہ سویرا بھی شاید اکھٹے وقت گزارے گی تو ہم میں گھل مل جائے گی مگر زینہ کا کردار ہمیشہ یادگار رہے گا ان شاءاللہ۔ پھپھو نے صاف گوئی سے زینہ کی طرف داری کی ۔۔۔
پھپھو آپ فکر ہی نہ کریں میں بھی اپنی صبح سویرا کو پہلے سے سارے گر سکھا دوں گا۔!
مگر زینہ نے بنا سیکھے ہی سب سنبھال لیا ہے ماشاءاللہ۔۔ پھپھو کے لہجے میں مامتا جھلکنے لگی۔۔
پھپھو آپ کی زینہ کے ساتھ محبت بھی مثالی ہے ویسے۔۔۔
ہاں ہاں کیوں نہ ہو بھئی وہ اس قابل ہے کہ اسے چاہا جائے ، پیار کیا جائے ، عزت دی جائے۔۔۔
بس اب پھر اللہ ہی ہے میری صبح سویرا بھی اس پارٹی کا حصہ بن جائے ، یہ نا ہو وہ اکیلی شیخ رشید بنی بیٹھی رہے ۔!
اور میں پردیسی جہانگیر ترین دبئی میں سڑتا رہوں۔
ارشاد صاحب اور پھپھو عاصم کی گل افشانیوں پر قہقہے لگا کر ہنس پڑے۔۔۔
******************************************
زینہ میری جان کیوں رو رہی ہو یار ۔؟؟
کیا تمہیں میرا تمہارے ہاتھ کو تھامنا برا لگا ہے ۔؟؟
روحیل کے مضبوط حصار میں جکڑی زینہ نے نفی میں گردن جھٹکی۔۔
بس مجھے امی بہت یاد آ رہی ہیں۔
اُدھر میر پور نکاح پر بھی میں نے بمشکل رونا روکے رکھا تھا مگر اب ہزار کوشش کے باوجود بھی قابو نہیں رکھ پائی ۔۔
مجھے معاف کر دیں۔! آپ میری وجہ سے پریشان ہوئے ہیں۔زارو قطار روتی زینہ نے روحیل کا کرتا گیلا کر دیا۔۔
اور یہ پھپھو کے ساتھ سونے والا نیا شوشہ کیوں چھوڑا ہے۔؟؟
پتا نہیں کیوں پر میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کی پھپھو کے ساتھ کچھ وقت گزاروں ، مجھے انکے ساتھ رہ کر اپنی ماں والا احساس جاگتا ہے۔۔۔
آپ پلیز انہیں بولیں وہ ابھی نہ جائیں۔!
زینہ نے روحیل سے الگ ہوتے ہوئے ضدی بچی کی طرح بولا۔۔
یار زینہ تم واحد لڑکی ہو جو ساس نما پھپھو سے اس قدر مانوس ہو چکی ہو مگر جو مسکین شوہر ہے وہ چاہے کھجل ہوتا رہے۔!
ہیں۔؟؟ آپ کب کھجل ہوئے ہیں۔؟؟
زینہ رونا بھول کر روایتی بیوی بن کر کھڑی ہو گئی۔۔
بس بس اِتنا ہی کافی ہے ملکہ عالیہ۔!!
اب رو کر دل کی بھڑاس نکال لی ہے نا تو کافی ہے ، اب پھپھو کے کمرے میں جانے کی کوئی تک نہیں بنتی ہے۔۔۔اگر دوبارہ رونا آیا تو میرا سینہ ، میرے کندھے حاضر ہیں۔!
تم چلی گئی تو جو چند گھنٹوں کی نیند لیتا ہوں وہ بھی اڑ جائے گی۔۔۔
روحیل آپ بھی نا سرکاری سکول کے استاد کی طرح باتیں کرتے ہیں۔!!
ہیں وہ کیسے۔؟؟
جیسے سرکاری سکول کا استاد ڈی-او کی آمد پر چوکنا ہو کر بچوں کو پڑھاتا ہے بالکل آپ کا بھی وہی حساب ہے ۔۔۔
مجھے سرکاری سکول کا استاد بننا ہی منظور ہے مگر تم نہیں جاؤ گی ۔!!
اے لے لو ۔! ہو گئی ہے میرے ارمانوں کے قاتلوں کو خبر ، پہنچ آئے ہیں میری تنہائیوں کے دشمن ۔!
یہ یقیناً عاصم بے صبرا ہو گا۔! بڑبڑاتے ہوئے روحیل نے دروازہ کھولا مگر سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر بولتی بند ہو گئی۔۔۔
اوہ ڈیڈ آپ۔! آئیں کمرے میں تشریف لائیں ڈیڈ۔ روحیل نے مؤدب انداز میں ایک طرف ہو کر ڈیڈ کو اندر بلایا۔
وہ دراصل میں زینہ کو دیکھنے آیا ہوں ، میری بیٹی کافی رنجیدہ تھی۔
ارشادِ صاحب کے کمرے میں داخل ہوتے ساتھ ہی پیچھے سے پھپھو بھی داخل ہوئیں اور ٹھیک دس سیکنڈ بعد عاصم بھی معنی خیز نظروں سے روحیل کو گھورتا آن دھمکا۔۔۔
پھپھو ڈیڈ زینہ کی دلجوئی میں لگ گئے جبکہ عاصم روحیل کے سر ہو گیا۔۔
بھیا میں اپنی منکوحہ کو نظر انداز کرکے اپنی بہن کے لئے آیا ہوں اور آپ ہیں کہ بیٹھنے کا بھی نہیں پوچھ رہے ہیں۔۔
عاصم تم کھڑے ہی سجتے ہو۔!
زینہ بھابھی دیکھا ہے میرے بھیا کے میزبانی نبھانے کے انداز میں کس قدر بے اعتنائی پائی جاتی ہے، بھئ اب دیکھو میں اس وقت اصولاً اپنی منکوحہ کے ساتھ محو گفتگو ہونا چاہئے تھا مگر بہن کی محبت آڑے آ گئی۔ عاصم نے آواز قدرے اونچی میں جتایا اور ساتھ ہی بستر کی پائنتی پر ٹک گیا جہاں پر باقی اہل خانہ سامنے بچھے تین نشستوں والے صوفے پر براجمان تھے۔۔ سبھی بے اختیار ہنس پڑے اور چند لمحے قبل چھائی ہوئی افسردگی میں خلوص اور توجہ غالب آ گئی۔۔۔
دس منٹ کے قیام کے بعد ارشاد صاحب نے زینہ کے سر پر دست شفقت رکھا اور سب کو اپنے اپنے کمروں میں جانے کا حکم نامہ جاری کیا۔۔۔
ڈیڈ میرا تو جی چاہ رہا ہے آج میں اپنی بہن کے ساتھ چند گھنٹے گزاروں ، کچھ اس کو اپنے دکھڑے سناؤں اور کچھ اسکے سنوں۔! عاصم بلند آواز میں بول کر روحیل کے تاثرات سے لطف اندوز ہونے لگا۔۔
عاصم تم میری بیوی کی ہمدردی میں نہ گھلو ، جاؤ اور جاکر اپنی منکوحہ کی خبر گیری لو۔!! روحیل نے زچ ہو کر تقریباً دھکا دینے والے انداز میں عاصم کو بستر سے اٹھانا چاہا۔۔
ڈیڈ پھپھو دیکھ رہے ہیں۔؟؟ اسے بولتے ہیں خون کا سفید ہو جانا ۔! جبکہ زینہ سمیت سبھی عاصم کی شکوہ کنائی پر محفوظ ہونے لگے۔۔
اب اٹھ بھی جاؤ ڈھیٹ انسان ۔!
بھیا بھابھی تو پھپھو کے ساتھ جا رہی ہیں۔! آپ نے شاید ٹھیک سے سنا نہیں تھا۔؟ عاصم نے اٹھتے ہوئے ایک اور شگوفہ چھوڑا۔۔!
جی نہیں زینہ کہیں نہیں جا رہی ہے۔! اور تم ابھی اسی وقت میرے کمرے سے غائب ہو جاؤ۔!
پھپھو بچاؤ۔! عاصم نے روحیل کے زور سے دھپ لگانے پر مصنوعی واویلا شروع کر دیا۔۔
ارشاد صاحب مسکراتے کمرے سے نکل گئے جبکہ پھپھو بھی سازگار حالات کو دیکھتے ہوئے نکلنے کےلئے پر تولنے لگیں۔۔۔
زینہ روحیل کی باتوں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ اس نے تمہیں میرے پاس ٹھہرنے نہیں دینا ہے لہٰذا میری بچی جب جی چاہے تم آ سکتی ہو۔!
پھپھو آپ ابھی اٹلی واپس نہ جائیں۔! میں بہت اکیلی ہو جاؤں گی۔!
ارے میری شہزادی۔! واپس جانا میری مجبوری ہے۔!
روحیل ہے نا تمہارا خیال رکھنے کے لئے اور ویسے بھی میں چھ ماہ بعد دوبارہ لوٹ آؤں گی۔!
پھر بھی پھپھو ۔! دو ہفتے اور رک جائیں نا ۔!
اچھا چلو میں دیکھتی ہوں اگر اس مسئلے کا کوئی حل نکل سکتا ہے یا نہیں ۔ خیر یہ عاصم بےصبرا اگر رخصتی کروا لیتا تو تمہارے لیے کتنا اچھا ہو جاتا۔۔۔
پھپھو جان میں بیوی اپنے لیے لے کر آؤں گا یا دوسروں کی تنہائی دور کرنے کے لیے۔؟؟؟
میری بیوی صرف میری تنہائی ہی دور کرے گی۔!! میں جو پردیس میں اکیلی جان کسب حلال کے لئے تن تنہا رہتا ہوں۔۔
زینہ کی تنہائی کو بھیا دور کریں۔!!
کیوں بڑے بھیا۔؟؟؟!!!
عاصم نے زچ روحیل کو مزید چڑایا۔۔!
چھوٹے تو میرے سے کسی دن بری طرح پٹ جائے گا۔!
آپ پیٹ ہی نہیں سکتے کیونکہ میری ہمشیرہ آڑے آ جائے گی، اس گھر میں میرے خاندانی ذرائع بہت مضبوط ہیں۔! اپنی فکر کریں یہ نا ہو زینہ بھابھی پھپھو کی محبت میں اٹلی کے لیے زاد سفر باندھ لے۔!!
ناچاہتے ہوئے بھی روحیل کا قہقہہ بلند ہوا ۔
عاصم آخری مہلت دے رہا ہوں۔!! نو دو گیارہ ہو جا۔!!
جا رہا ہوں اب زیادہ نہ پھیلیں۔! زینہ میری شہزادی سی بھابھی اگر بھیا نے کسی قسم کی کوئی زیادتی کی تو مجھے دور نہیں پاؤ گی، میرا کمرہ دس قدم کے فاصلے پر ہے ۔! ابھی میں تمہاری آنکھ میں ایک آنسو نہیں برداشت کر پاؤں گا۔عاصم کا دست شفقت زینہ کے سر پر اور زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی۔۔۔
ویرے روحیل ایسے نہیں ہیں۔! وہ میرا بہت خیال رکھتے ہیں ۔۔۔زینہ نے عاصم کی بات پر ہنسی دبا کر یقین دہانی کروائی۔۔۔
جیتی رہو میری بہن۔! خوب پھولو پھلو۔!!!
اب میں ذرا اپنی منکوحہ کی خیر خبر لے لوں ،یہ نا ہو وہ میری بے توجہی پر داغ مفارقت دے جائے۔!
ہاہاہاہا زینہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔ ویرے اللہ جانے سویرا تم سے کیسے بات کرے گی۔؟
کیوں سویرا گونگی ہے کیا۔؟ دیدار یار کے دن اچھی بھلی تو تھی۔ویسے بھابھی تم فکر نہ کرو صبح سویرا کے تو اچھے اچھے بات کریں گے۔! بلکہ وہ تمہارے ویر کی محبت میں شہر میرپور میں الٹی کلابازیاں لگائے گی۔
پھپھو زینہ کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا۔
ہاں ہاں کیوں نہیں جاؤ جاؤ شاباش۔!! اپنی منکوحہ کو بولو ابھی کلابازیاں لگانا سیکھ جائے۔۔روحیل نے ہنسی دبا کر زینہ کے بولنے سے قبل عاصم کو ہاتھ کا اشارہ دیا ۔۔۔
اچھا زینہ میری شہزادی بہو۔! میں بھی چلتی ہوں ، اب عاصم والی دعاؤں پر ہم سب آمین بولتے ہیں۔! پھپھو بھی مسکراتی کمرے سے نکل گئیں۔۔۔
سوگوار سی زینہ اس وقت خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین ہستی محسوس کر رہی تھی۔۔
روحیل دروازہ کنڈی کر کے پلٹا تو زینہ کی آنکھیں دوبارہ نم ہونے لگیں۔
زینہ جان روحیل۔!! تم پھر رونے لگی ہو ۔؟
ارے نہیں ۔! ایسے ہی سب کی محبت پاکر خوشی کے آنسو امڈ آئے ہیں ، آپ پریشان نہ ہوں۔
میں پریشان نہیں ہونگا تو اور کون ہو گا۔؟؟
مگر میں آپکو پریشان نہیں کرنا چاہتی ہوں۔!
تو پھر کیوں روتی ہو۔؟ روحیل کا ہمدرد غمگسار دوست والا لب و لہجہ زینہ کو پگھلا گیا۔۔
روحیل نے زینہ کو شانوں سے تھام کر صوفے پر بٹھایا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گیا۔۔زینہ جو بات بھی تمہیں پریشان کرتی ہے ، وہ تم بلا جھجک میرے ان دو کانوں میں انڈیل دیا کرو۔روحیل نے اپنے دونوں کان کھینچ کر زینہ کو دکھایا۔
زینہ اسکی حرکت پر بے دھڑک کھلکھلائی پھر کچھ توقف کے بعد گویا ہوئی ۔۔
روحیل پتا ہے۔؟
کیا ۔؟
آج امی اتنی شدت سے یاد آئیں ہیں کہ میں بمشکل خود کو روک پائی ہوں۔میں سب کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی اور نہ ہی میں قصداً سب کو پریشان کر کے انکی اضافی توجہ کی طلبگار تھی ۔بس بہت سارے دنوں کی روک تھام آج منہ زور ہو گئی اور میں خود پر قابو نہ رکھ پائی۔۔۔
آپ میری وجہ سے پریشان ہوئے ہیں ،میں معافی چاہتی ہوں۔!
زینہ تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر معافی تلافی کیوں کرتی ہو یار ۔؟؟
روحیل چھوٹے چھوٹے گناہ ہی تو جمع ہو کر پہاڑ بن جاتے ہیں۔! میں نہیں چاہتی میری بدولت کسی کی بھی دل آزاری ہو ، نجانے کب موت کا فرشتہ سر پر آن پہنچے۔
روحیل آپ نے میری ماں کا علاج معالجہ اپنی ماں سمجھ کر کروایا ، میری ماں کے ساتھ بہترین اخلاق سے پیش آتے رہے ہیں ، مجھے ذہنی سکون بخشنے کی بھرپور کوشش کرتے رہتے ہیں اور پھر پورے خلوص اور ہمدردی سے میرے بھائی کا رشتہ کروایا ہے جس کے لئے میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں وگرنہ کوئی بھی خاندان زید کی مفلسی کی بنا پر اسے رشتہ دینے کےلئے تیار نہ تھا۔!
آج میری امی زندہ ہوتیں تو کس قدر خوش ہوتیں اور آپکو لاتعداد دعاوں سے نوازتیں ۔ بات کرتے کرتے زینہ کی نشیلی آنکھیں دوبارہ دغابازی کرنے لگیں ، آواز بھرا گئی۔۔
روحیل پتا ہے جس روز امی کا انتقال ہوا تھا ،اس روز بھی وہ آپ دونوں بھائیوں کو ڈھیروں دعائیں دے کر گئیں ہیں۔
آپ کا بہت بہت شکریہ روحیل۔! آپ کا میرے ساتھ اور میرے خاندان کے ساتھ حسنِ سلوک پر لفظ “شکریہ” بہت چھوٹا لفظ ہے ، آپ تو بڑے سے “جزاک اللہ خیرا” کے حقدار ہیں ۔۔۔زینہ نے روحیل کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنی آنکھوں سے لگا لیے۔۔۔ جبکہ روحیل اس دھوپ چھاؤں سی لڑکی کے ہر لمحے بدلتے روپ کر دیکھ کر نہال ہو رہا تھا۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *