Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09
زینہ کی زبان گنگ ہو کر رہ گئی۔۔۔ مگر پھر ہمت جمع کر کے پلٹے بنا کلبلا اٹھی۔۔۔
“آپ کو شرم کیوں نہیں آتی ہے؟؟ آپ ایسی واہیات باتیں ایک نامحرم لڑکی سے کیسے کر سکتے ہیں۔؟؟مجھے اس طرح کی حرکات و سکنات میں بالکل بھی دلچسپی نہیں ہے ۔۔۔ میں نا ہی آپ کی باندی ہوں اور نا ہی آپکی غلام ہوں۔! میرے حالات اور میری مفلسی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔!!!
آپ کیوں مجھے بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟؟۔میرے بہنوئی نے دیکھ لیا تو نجانے کتنی الزام تراشیاں کرے گا””۔۔۔
تمہیں بدنام نہیں بلکہ عزت دینا چاہتا ہوں لہذا میرے ساتھ ضد نہ کرو۔!!!
میں یہ سب ویر عاصم کو بتا دوں گی ۔! زینہ نے بھرائی آواز میں بولا۔۔۔
چلو اچھا ہے میرے لئے آسانی ہو جائے گی۔۔
اسے یاد سے آج رات ہی بتا دینا ۔!! اور مجھے بلاک کرنے کا سوچنا بھی مت۔! ورنہ نکاح ہوتے ہی رخصتی بھی ساتھ ہی کروا لوں گا۔۔۔ !!!
اور ہاں یاد رکھنا مجھے تمہاری عزت اپنی عزت سے زیادہ عزیز ہے۔! میری زندگی میں شامل ہو کر میری محرومیوں اور کوتاہیوں کو دور کر دو زینہ حیات ۔!! میں نے زندگی میں کبھی کسی کو اس قدر ٹوٹ کر نہیں چاہا ہے جتنا میں تمہیں چاہنے لگا ہوں اور گھبراو نہیں تمہارا بہنوئی چائے پی کر جا چکا ہے۔!!
تم سے اس قسم کی گفتگو کرنا میری مجبوری بن چکا ہے وگرنہ میں کبھی بھی یہ نوبت نا آنے دیتا۔!
تم بخوبی جانتی ہو کہ میں تمہیں یقین دہانی کروانے کے لیے ایسی باتیں کرنے پر مجبور ہوں۔۔!
روحیل نے زینہ کو بنا دیکھے دومنٹ سے کم وقت میں باورچی خانے کے باہر کھڑے ہو کر دل کی بات پہنچائی اور بنا جواب سنے لمبے ڈگ بھرتا بیٹھک کی طرف چل دیا۔۔۔
جبکہ زینہ اپنی بے بسی پر رو دی۔۔۔
******************************************
عاصم ماسی امی اتنا اصرار کر رہی ہیں تو تم آج رات ادھر ہی ٹھہر جاؤ مگر فی الحال گاڑی میں آکر سب کے تحائف تو لے آؤ۔!! آدھا دن گزار دیا ہے اور تم بس خوش گپیوں میں ہی مصروف رہے ہو۔۔!!
میں ساتھ چلتا ہوں روحیل بھائی ۔! زید نے فرمانبرداری سے بولا۔۔۔
نہیں یار تم ادھر ہی بیٹھو ۔!
اسے پتا ہے کونسی چیز کونسے شاپر میں پڑی ہے۔۔۔
چلیں بھیا .! عاصم اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
زید تم یہ برتن باورچی خانے میں چھوڑ آؤ۔!
ماسی تو شاید بستر تیار کرنے چلی گئیں ہیں ۔! روحیل نے زینہ کا خیال آتے ہی فورا زید کو بولا۔
جی بھیا میں ذرا پیٹی سے لحاف نکالنے میں مدد کرتا ہوں۔۔۔
گاڑی میں پہنچتے ساتھ ہی عاصم نے روحیل کو معنی خیز نظروں سے دیکھا اور بولا
بھیا مجھے آپ کے حالات کچھ مشکوک نظر آ رہے ہیں۔
کیا مطلب ؟
مطلب تو آپ اچھی طرح سمجھتے ہیں یار ۔!
تو اگر تم سمجھتے ہو تو پھر باچھیں کیوں کھولے دیکھ رہے ہو۔؟؟ قائل کرو اسے۔!!!
کس کو قائل کروں۔؟؟
زید کو قائل کرو تاکہ وہ تمہارے ساتھ دبئی چلا جائے۔۔ روحیل نے چبا کر بولا۔۔
بھیا وہ تو نہیں جائے گا۔!
روحیل کی بیتابی اپنے عروج پر تھی۔۔
یار تم سمجھتے کیوں نہیں ہو۔؟
بھائی کچھ بتاؤ گے تو سمجھوں گا نا ۔!
اب تم زیادہ بھولے نہ بنو۔!
عاصم کو بڑے بھائی کو چھیڑتے ہوئے مزا آ رہا تھا۔۔۔
مگر ہنسی دبائے سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے بیٹھا تھا۔۔۔
یار تم اپنی بہن کو بولو میرے ساتھ شادی کر لے۔۔!!
آپ میری بہن کو کیسے جانتے ہیں ؟؟؟ عاصم نے رعب دار لہجے میں بولا۔۔
عاصم اب زیادہ نہ بنو یار .!
مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ آپکو میری بہن سے کیوں اتنی دلچسپی ہو رہی ہے ؟ جبکہ وہ تو کسی اجنبی کے سامنے جاتی ہی نہیں ہے دفعتاً روحیل نے عاصم کی کمر پر ایک مکا جڑا۔۔۔
تو اب میرے صبر کا امتحان لے رہا ہے ۔ گھر جاتے ہی میں تیری کمپنی کے نئے آرڈرز کینسل کرواتا ہوں۔۔
عاصم روحیل کی بیتابی پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔۔
عاصم تو ایک نمبر کا مطلبی کمینہ انسان ہے۔!!
بھائی جان روحیل۔! یہاں میری عزت اور غیرت کا مسئلہ ہے کوئی میری بہن کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھے میں یہ برداشت نہیں کرسکتا ہوں۔۔۔
عاصم نے دوٹوک بول کر ہاتھ اٹھا لیے۔
عاصم یار بھائی نہیں ہے ۔! کمینے تو میری بات نہیں سمجھ رہا ہے۔۔۔
تو سمجھائیں میں ہمہ تن گوش ہوں۔! عاصم نے ہنسی دبائی۔
یار صرف ایک مرتبہ تو میرا نکاح زینہ سے کروا دے ، میں بعد میں تجھے ساری بات بتا دوں گا۔۔
پہلے بات پھر نکاح بھائی جی۔!! میں اصول پسند بندہ ہوں کل کلاں کو میری بہن کسی مصیبت کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔۔
عاصم تو میرے سے پورے دو سال چھوٹا ہے ۔میرا باپ بننے کی کوشش نہ کر ۔! روحیل نے تپ کر بولا۔۔۔
محترم مکرم بھائی جان روحیل جنہوں نے نکاح کرنا ہوتا ہے وہ چھوٹوں سے نہیں بلکہ بڑوں سے بات کرتے ہیں۔
آپ میں ہمت ہے تو اندر جا کر ماسی امی سے بات کر لیں۔وگرنہ گھر واپس جا کر ڈیڈ سے بات کریں۔۔۔
میں آپکی سفارش کی کوشش کر سکتا ہوں مگر کسی بات کی گارنٹی نہیں اٹھاؤں گا۔۔۔ ویسے بھی میری بہن کا رشتہ آیا ہوا ہے ، ہو سکتا ہے میں کل اس شخص سے ملاقات کے لیے زید کے ساتھ جاؤں۔۔
تو کمینے میرا بھائی ہے یا زینہ کا ؟؟ عاصم اپنے بھائی کی بیتابی پر محفوظ ہو رہا تھا۔۔
تو کمینے میرا بھائی ہے یا زینہ کا ؟؟ عاصم اپنے بھائی کی بیتابی پر محفوظ ہو رہا تھا۔۔
اس وقت مجھے زینہ زیادہ عزیز ہے۔! مجھے میری سالوں سے بچھڑی بہن ملی ہے تو میں اسے ناراض نہیں کروں گا ۔ باقی آپ سوچ لیں کہ مجھے حقیقت بتانی ہے یا نہیں۔۔۔
یار عاصم تو مجھے مجبور نہ کر ۔!!
بھیا ایسی کونسی وجہ ہے جسے آپ بتانے سے اس قدر پہلو تہی برت رہے ہیں ۔ شادی کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔یہ تو ثواب کا کام ہے اور اس بار تو میں بھی شادی کر کے ہی جاؤں گا ۔۔۔ میں تو زینہ کو ہی بولوں گا میرے لیے اپنے جیسی کوئی لڑکی ڈھونڈے جو حیا والی متقی سی ہو ۔۔۔ عاصم نے پورے جذب کے ساتھ بول کر ساتھ والی نشست پر براجمان بڑے بھائی کو دیکھا جو لب ںھینچے مسلسل اسے گھور رہا تھا۔۔
میں ادھر اپنی بات کر رہا ہوں اور تجھے اپنی پڑی ہوئی ہے۔۔۔روحیل تلملا اٹھا۔۔۔
بھیا آپ سے بنیادی معلومات پوچھی ہیں مگر آپ اس سے جان چھڑا رہے ہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔ ؟ روحیل نے دو ماہ قبل ریکارڈڈ ویڈیو کھول کر عاصم کے ہاتھ میں دے دیا ۔۔۔
زینہ کے آنسو ،گھبراہٹ اور بےبسی دیکھ کر عاصم تڑپ اٹھا ۔۔۔
بھائی یہ سب کیا ہے ؟؟؟
یہی حقیقت ہے جو میں نے بہت بار چاہا کہ کسی پر عیاں نہ کروں مگر یار وہ مانتی ہی نہیں ہے۔۔۔ میں نے اپنے اور منیب کے گناہوں کی پردہ پوشی کرنے کی بہت کوشش کی ہے مگر اب میں تم سے مزید نہیں چھپا سکتا۔۔۔
میں مانتا ہوں میرے سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے ۔۔۔
روحیل نے شروع سے لے کر آخر تک تمام تفصیلات عاصم کے گوش گزار کر دیں۔۔
تمام حقائق سننے کے بعد عاصم کی زبان گنگ ہو کر رہ گئی۔۔۔ سرد آہ بھر کر گویا ہوا۔
یار بھیا کیا کر دیا ہے ؟؟؟
عاصم کا جی چاہ رہا تھا کہ دھاڑیں مار کر روئے۔۔۔
یار بھائی امی کا پندرہ سالہ پرانا خط بھول گئے تھے کیا ؟؟؟
وہ خط جو ہماری ماں نے موت سے قبل ہمارے لئے چھوڑا تھا کہ جب ہم سمجھ بوجھ والے ہو جائیں تو ہمیں بار بار پڑھایا جائے۔۔۔
عاصم نہ چاہتے ہوئے بھی رو دیا۔۔۔
یار بھیا آپ نے زینہ کے ساتھ بہت زیادتی کر دی ہے۔۔۔
روحیل پچھتاووں کی دلدل میں دھنس چکا تھا۔۔۔
عاصم یار میں مانتا ہوں میرے سے بہت بڑی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔۔۔ یار تم تو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔ ڈیڈ تو یہ بات کبھی بھی برداشت نہیں کر پائیں گے۔ اسی لیے میں آج انہیں اپنے ساتھ بھی نہیں لے کر آیا۔۔ میں چاہتا تھا کہ پہلے خود سارے حالات کو سازگار بناؤں پھر انہیں رشتے کے لیے میرپور لاؤں گا۔۔۔
عاصم نے گالوں پر لڑھکتے آنسو صاف کئے۔۔۔
بھیا یاد ہے ماسی امی نے میری سکڑی انتڑیوں کو زندگی بخشی تھی ۔۔۔ مجھے زینہ کا حق بانٹ کر پلایا۔۔
میرے لاغر جسم کو تندرست و توانا بنانے کے لیے اپنی بیٹی کا حصہ ہمسائے کے بیٹے کے لیے وقف کر دیا۔۔۔ بنا کسی اجرت ، بنا کسی دنیاوی لالچ کے اس ہمسائے خاندان نے ایک دوسرے خاندان کے چشم و چراغ کو زندگی بخشی۔۔۔ وہ بچہ جو زندگی اور موت کی جنگ لڑتی ماں کی مامتا سے محروم تھا ، جو کسی دوسرے دودھ کو پینے سے انکاری تھا ، جو دن رات رو رو کر ہلکان ہو جاتا تھا اسے ہمدرد ہمسایوں نے اپنی مامتا کی چھاؤں بخشی ، اپنی نومولود بیٹی کی طرح اپنے پروں میں چھپا لیا۔۔۔
یار بھیا یاد نہیں ہے ہم سارا سارا دن انکے گھر کھیلتے رہتے تھے۔۔۔
بھیا ہم تو انکا یہ احسان ساری زندگی نہیں بھلا سکتے ہیں۔۔۔
عاصم یار تمہاری ایک ایک بات درست ہے یار مگر مجھے علم نہیں تھا کہ یہ وہ والی زینہ ہے ۔۔۔
مجھے علم ہوتا تو میں کبھی بھی ایسا نہ کرتا۔۔
اور تو خود جانتا ہے کہ زینہ کے والد کو ہم مرزا صاحب کے نام سے ہی جانتے تھے۔ یار کم عمر بچے کہاں ناموں پر اتنی توجہ دیتے ہیں۔۔ سارا محلہ انہیں مرزا صاحب کے نام سے پکارتا تھا۔۔۔ اور پھر ہمارا امی کے علاج کے لیے اسلام آباد چلے جانا اور ان لوگوں کا اچانک پرانا گھر چھوڑ کر کسی اور گھر میں چلے جانا ، یہ سب حادثاتی طور پر تھا۔۔۔ہمارا رابطہ انکے ساتھ منقطع ہوگیا تھا یار۔۔۔
“زینہ حیات” تو اب میری زندگی میں آئی ہے۔۔روحیل نے ٹوٹے لہجے میں بولا۔۔۔
یار بھیا امی نے ہمیں اس خط میں کتنی تنبیہہ کی تھی کہ ہم سب نے اس خاندان کا احسان ساری زندگی نہیں بھلانا اور انکا خاص خیال رکھنا ہے۔۔۔مگر آج دیکھو ہم ان سے ایک طویل مدت بعد ملے ہیں اور کن حالات میں کہ یہ لوگ اتنی کمپلسری کی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔
ان کے گھر کے چپے چپے سے مفلسی ٹپکتی ہے۔۔۔
ہم نے انکا خیال تو دور کی بات ، ہم نے تو انہیں کی عزت پر ہاتھ ڈال دیا ۔۔۔ عاصم ہنوز آبدیدہ تھا ۔۔ جبکہ روحیل سٹیرنگ ویل پر سر ٹکائے دکھی دل کے ساتھ چھوٹے بھائی کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔
یار عاصم میں نے دو مرتبہ زینہ سے معافی مانگی ہے اور اس نے بولا تھا کہ اس نے مجھے معاف کیا مگر نکاح سے انکاری ہے۔۔۔
یار اگر میں نے اسکی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا تو اب انہیں ہاتھوں سے اسکے سر کو عزت کی چادر سے ڈھانپ لینا چاہتا ہوں۔۔۔
پلیز میری مدد کرو یار۔! اسکی تمام غلط فہمیاں دور کر دو۔! عاصم مجھے لگتا ہے میں اس کے بغیر ادھورا ہوں۔۔۔
منیب تو چلا گیا ہے مگر مجھے اپنے کیے پر بے انتہا ندامت ہے ۔۔۔کاش میں منیب کے کہنے میں نہ آتا۔۔! روحیل نے سرد آہ بھری۔۔
اوہ زید کال کر رہا ہے۔! عاصم نے جیب سے فون نکال کر دیکھا۔۔
ہاں تو اٹھاؤ نا ۔!
ہاں زید یار میں کچھ دیر میں آتا ہوں بھیا کے ساتھ کچھ ضروری کام پڑ گیا ہے ، میں آدھے گھنٹے میں آتا ہوں۔! تم اور زینہ مونگ پھلی تیار رکھو۔۔۔! عاصم نے محبت اور لگاوٹ سے بات کر کے فون جیب میں ڈال دیا۔۔۔
یار عاصم تو میرا چھوٹا بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ میرا قریبی دوست بھی ہے ۔۔۔
عاصم جب سے زلزلہ اور پھر منیب کی موت ہوئی ہے تب سے میں ایک رات سکون سے نہیں سو پایا ہوں۔۔اگر سوتا بھی ہوں تو میرے خواب میں زینہ شکوہ کناں ہوتی ہے۔۔۔عاصم تو میری آنکھوں میں دیکھ۔! میں کس قدر بے چین ہوں۔۔
یار میرے دل میں اس قدر تشنگی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا ہوں۔۔ ایسے لگتا ہے مجھے زینہ کی آہ لگ گئی ہے۔۔۔ عاصم میں اپنے گناہوں کی تلافی کرنا چاہتا ہوں اسے بولو مجھے اپنا لے پلیز۔۔۔
میرا اس کے بغیر گزارا نہیں ہے۔۔۔
یار یہ لڑکی بہت پاکیزہ اور پاک دامن ہے ۔۔۔
گزشتہ ایک ماہ سے میں میرپور آ رہا ہوں اور بارہا اسکی یونیورسٹی بھی جا چکا ہوں مگر یہ لڑکی اپنے قول کے مطابق اعمال میں بھی خالص ہے ۔۔
مجھے یہ خالص ہی چاہیے۔!۔
میری ذات کے کھوٹ میری سچی توبہ سے دھل جائیں گے ان شاءاللہ۔۔۔ عاصم میں نے زینہ کے ڈیپارٹمنٹ سے بہت معلومات اکھٹی کی ہوئیں جن سے وہ مکمل طور پر بےخبر ہے۔۔۔ یونیورسٹی کے ماہنامے میں زینہ کے بہت سارے کالم پڑھ چکا ہوں جن میں سر فہرست: “مقصد حیات “شخصیت سازی”، “کردار سازی” آج کا نوجوان” حجاب”؛ تزکیہ نفس وغیرہ وغیرہ۔۔
بھیا ابھی اس کے ساتھ کچھ برا نہ ہو۔۔۔!!
نہیں یار میں اسکے ساتھ برا کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہوں۔۔۔ اسکی شخصیت میں پنہاں خیر و تقویٰ میری زندگی کا سرمایہ ہے ۔۔۔
یار مجھے خبر بھی نہیں ہوئی کیسے میں اس لڑکی کی مسحور کن شخصیت میں جکڑا گیا ہوں۔۔۔ حالانکہ میں تو اسے ملتا بھی نہیں تھا مگر حجاب میں لپٹی یہ شفاف افکار کی پاکیزہ لڑکی میری روح کی ملکہ بن گئی ہے۔۔۔
عاصم میں بہک گیا تھا مگر اب میں سچی توبہ کر چکا ہوں اسے یقین دہانی کرواو یار۔۔!
بھیا مجھے خود سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ میں کیسے اس کا سامنا کروں گا ، بات تو دور کی بات ہے۔۔۔
آپ یہاں آنے سے قبل مجھے بتا دیتے تو شاید صورت حال مختلف ہوتی مگر اب سوچ کر ہی میرا دل دہل گیا ہے اور اس بیچاری کا کیا حال ہوتا ہوگا۔۔؟؟
عاصم مجھے نہیں پتا تم بس اسے قائل کرو۔!
اور اگر وہ قائل نہ ہوئی تو۔؟؟؟
تو پھر مجھے زبردستی کرنا پڑے گی۔!!
بھیا ۔!! گزشتہ آدھے گھنٹے سے میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں اور آپکی سوئی ادھر ہی اٹکی ہوئی ہے۔۔۔
عاصم “وہ میری ہے اور صرف میری ہے”۔ اسے بتا دینا۔!!
عاصم نے سن کر سر تھام لیا۔۔۔
بھیا میں جا ریا ہوں ، وہ لوگ انتظار کر رہے ہوں گے۔! کوشش ضرور کروں گا مگر “ہاں” کہلوانے کا وعدہ نہیں کر سکتا ہوں۔۔۔
اچھا یار کوشش تو کرو۔۔! اور سن یہ کچھ چیزیں میں نے کچھ لباس اس کے لیے خریدیے تھے ، تم اپنی طرف سے اسے دے دینا۔! اسے میرا پتا چلا تو کبھی بھی نہیں لے گی۔۔! اور ہاں اس کے جوتے کا سائز بھی پوچھ لینا۔! یہ امی کی بالیاں بھی ہیں ، میں چاہتا ہوں نکاح والے دن وہ یہ بالیاں پہنے۔۔۔! روحیل نے چھوٹی سی ڈبیہ نکال کر عاصم کو دی۔۔۔
اسے خبر نہیں ہونی چاہئے کہ یہ سب میں دے رہا ہوں۔!!
بھیا اتنی تو عقل رکھتا ہوں یار۔!!
ویسے آپ کی داستان عشق سن کر دلی افسوس ہوا ہے۔۔! عاصم نے گاڑی سے اترتے ہوئے روحیل کو چھیڑا۔۔۔
عاصم بات سن ۔!!
صبح تو کسی طریقے سے اسے گاڑی میں یونیورسٹی چھوڑ آنا۔۔! یار جنوری کی ٹھٹھرتی سردی میں بائیک پر جاتی ہے ۔۔۔
ہائے ہائے ۔! “اب آیا ہے اونٹ پہاڑ کے نیچے”۔!
بھیا ایک دن گاڑی میں چھوڑنے سے کیا ہو گا؟؟ جبکہ وہ تو روز ایسے ہی ٹھٹھرتی یونیورسٹی جاتی ہے۔۔۔
یار وہ نکاح کرلے تو میں اسے روزانہ چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔۔!
بھیا جی ۔!”بلی کے خواب میں چھیچھڑے وہ بھی باسی۔”عاصم نے روحیل کو مزید چڑایا۔۔۔
تو باز آ جا عاصم۔!!
ابھی تو میرے بغیر آپ ایک قدم بھی نہیں چل سکتے ہیں لہذا میرے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت شفاف رکھیں۔
روحیل نے فلک شگاف قہقہہ لگایا۔۔۔
اچھا سن ۔! میں صبح آٹھ بجے آ جاؤں گا۔! تو اسے تیار کروا کے ساتھ لے آئیں پھر باقی میں جانو اور میرا کام۔۔!
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بھیا ۔!!
میں کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتا ہوں لیکن آپ کو ایک نسخہ بتا سکتا ہوں۔
اب آپکو صبر اور دعا سے کام لینا ہو گا۔۔!
نیند نہیں آتی تو تہجد پڑھیں۔ ۔!!
اسے اپنی دعاؤں میں مانگیں۔۔! دعاؤں میں مانگی گئی شخصیات تو ویسے بھی بہت انمول ہوتی ہیں۔۔!!
عاصم نے بولا اور گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے سامان اٹھا کر زینہ کے گھر کی طرف چل دیا۔۔۔
******************************************
شہلا میں تجھے بول رہی ہوں کہ رونا دھونا چھوڑ دے .! کیوں اپنے ساتھ میرا جی بھی جلاتی ہے۔؟؟
امی ذیشان جب سے آپ کے گھر سے لوٹے ہیں تڑپ رہے ہیں۔ امی مرد کی زبان کی بھی کوئی وقعت ہے یا نہیں۔
شہلا تو سگی بہن ہو کر زینہ کی دشمن بنی ہوئی ہے۔! میں کیسے اپنی نیک بچی کو کسی گلی کے غنڈے کے حوالے کر سکتی ہوں۔؟
امی آپ کو کیسے پتا ہے وہ شخص غنڈہ ہے۔؟؟
تو ذیشان کا اٹھنا بیٹھنا کونسے نمازی پرہیزگاروں میں ہوتا ہے۔؟؟
امی اب ایسی بھی بات نہیں ہے ۔۔۔
بہرحال میں بتائے دیتی ہوں کہ زینہ کا رشتہ پکا ہو چکا ہے اب اسکی شادی ادھر ہی ہو گی۔۔۔!
شہلا جب تک میں زندہ ہوں ، میرے جیتے جی ذیشان کو زینہ کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔۔۔
سپیکر پر لگے فون کو ذیشان نے اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔۔۔۔
ٹھیک ہے خالہ تو پھر کل صبح شہلا آپ کے گھر آ رہی ہے۔ بچے کی پیدائش کا سارا خرچہ اور باقی اخراجات آپ کے ذمے ہیں۔۔۔
جب میری آپ کے خاندان میں کوئی عزت قدر ہی نہیں ہے تو میں کس لئے بےفیض رشتوں کا بوجھ اٹھاتا پھروں۔؟؟
آپ کی بیٹی صرف زینہ ہی ہے ۔! شہلا تو آپ نے باہر ڈھیر سے اٹھائی تھی۔!!
خیر یہ تو شہلا کو عقل ہونی چاہئے کہ کیسے اپنی عزت کرواتے ہیں۔۔۔!!!
خالہ ایک رات کا وقت دے رہا ہوں، صبح منڈی جانے سے قبل جواب لینے آؤں گا۔۔۔۔جواب “نہ” میں ملا تو شہلا آپ کے گھر ہو گی۔۔۔۔!!
ذیشان نے دھمکی دے کر فون بند کر دیا جبکہ شہناز بیگم لڑکھڑا گئیں۔۔۔
عاصم زید نے فوراً بھاگ کر تھام لیا۔۔
ماسی کیا ہوگیا۔؟ خود کو سنبھالیں۔!!
زید پانی لاؤ یار۔۔۔
ماسی آنکھیں کھولیں۔!! عاصم چہرہ تھپتھپانے کے ساتھ ساتھ ہتھیلیاں رگڑنے لگا۔۔۔
زینہ کا رو رو کر برا حال ہو رہا تھا۔۔۔
یار زید ماسی کو ہسپتال لے جانا پڑے گا۔! اُدھر میز پر میرا فون پڑا ہے لا دو .! بھیا کو فون کروں۔۔۔
تیسری گھنٹی پر روحیل نے فون اٹھا لیا۔۔ عاصم سب خیریت ہے ؟؟
نہیں بھیا ۔! ماسی اچانک بیہوش ہو گئیں ہیں انہیں ہسپتال لے جانا ہے ، آپ فوراً آ جائیں۔۔۔
میں بس ابھی آ رہا ہوں۔۔ تم انکو اچھی طرح لپیٹو۔۔! اور ہاں سنو زینہ کو گھر اکیلا نہیں چھوڑنا ۔! اسے ساتھ لے کر آنا۔ اسے بولو حجاب پہن لے۔ !
جی بھیا۔۔!
دس منٹ کے اندر روحیل لوٹ آیا اور عاصم سمیت سب اہلِ خانہ کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر برق رفتاری سے ہسپتال پہنچا کر خود باہر انتظار گاہ میں بیٹھ گیا۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ زینہ کو اسکی بےبسی اور محتاجی کا احساس دلائے۔۔۔
زینہ کا رو رو کر برا حال ہو رہا تھا۔۔ زید اور عاصم کی تسلی تشفی کے باوجود زینہ کے آنسو تو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔
زینہ میری بہن میں ہوں نا .! کیوں پریشان ہوتی ہو ۔؟ ماسی کا علاج اگر میرپور سے نہ ہو سکا تو میں انہیں اسلام آباد لے جاؤں گا۔۔! تم بس پریشان نہ ہو۔۔! عاصم نے زینہ کو ساتھ لگا کر ڈھارس بندھائی۔۔۔
عاصم ویرے امی کو کیا ہوا ہے۔؟ وہ پہلے تو کبھی بھی ایسے بیہوش نہیں ہوئیں ہیں۔۔۔
بس مجھے لگتا ہے ذیشان بھائی نے کچھ تلخ بات بول دی ہے اس لیے دل پر لے گئیں ہیں۔!
ویرے آپ ذیشان بھائی کو بولو انہوں نے جہاں پر بھی میرا رشتہ پکا کیا ہے مجھے منظور ہے مگر خدارا امی کو پریشان نہ کریں۔۔۔
سن کر عاصم کا دل مٹھی میں آ گیا۔۔ ایک طرف بھائی تو دوسری طرف اس مفلس خاندان کے مسائل۔۔۔
زینہ پتا نہیں وہ شخص کون ہے ؟ کیسا ہے ؟ ہم کیسے تمہاری شادی ادھر کر سکتے ہیں ۔؟؟
اب چپ ہو جاؤ ڈاکٹر صاحب ہماری طرف ہی آ رہے ہیں۔عاصم نے زینہ کو تسلی دے کر کرسی پر بٹھایا اور خود زید کے ہمراہ ڈاکٹر کے بلاوے پر الگ کمرے میں چلا گیا۔۔۔
جاری ہے
