Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15
سامعہ وہ تو میری جان کو آیا ہوا ہے۔ اس قدر بےباک گفتگو کرتا ہے میرا جی چاہتا ہوں کہ اسے پکڑ کر خوب پھینٹی لگاؤں۔۔۔
ہاہاہاہا سامعہ کا نقرئی قہقہہ بلند ہوا ۔
سامعہ تم بھی مجھ پر ہنس رہی ہو ۔؟؟ زینہ نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں۔۔
پاگل لڑکی۔! مجھے تو تمہاری اس پھینٹی والی بات پر ہنسی آ رہی ہے کہ جسے دیکھ کر تم بیہوش ہو جاتی ہو اسے تم پکڑ کر پھینٹی بھی لگا لو گی۔! سامعہ نے دوبارہ ہنسنا شروع کر دیا۔۔۔
سامعہ تم بھی غیر بنتی جا رہی ہو ۔! زینہ نے منہ بسورا۔۔
اب ہماری بنو ہم سے دور جا رہی ہے تو ہمارا غیر بننا تو بنتا ہے۔ !
مطلب ۔؟؟
بھئی ہماری بنو ہمارے ہونے والے دلہا بھائی کی محبت میں کھو کر ہمیں تو بھول جائے گی نا۔!!
دلہا شلہا کچھ بھی نہیں ہے ۔! صرف سادگی سے نکاح ہو رہا ہے اور بس میں نے اپنی تمام شرائط زید کو بتا دیں ہیں ۔۔ مجھے اپنی ماں کی صحت اور بھائی کی مجبوریوں کا زعم نہ ہوتا تو کبھی بھی اس لفنگے سے نکاح نہ کرتی۔!
ہائے توبہ توبہ زینہ۔! استغفار پڑھو ۔! تمہیں کیا خبر وہ تم سے کس قدر مخلص ہو۔؟؟
ہو سکتا ہے جیسے تمہیں نظر آرہا ہے وہ ویسے نہ ہو ۔؟
سامعہ اگر وہ مخلص ہوتا تو میرے ساتھ ایسی بے باک گفتگو نہ کرتا۔
زینہ تم پاگل ہو بس۔!
ہو سکتا ہے وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا ہو اور جو جی میں آتا ہے بول دیتا ہو۔
سامعہ کوئی کیسے کسی نامحرم سے اس قدر بےشرمی والی باتیں کر سکتا ہے ۔؟
زینہ میری بہن تم اپنی اس سادہ سی دنیا میں اتنی مگن ہو کہ تمہیں اپنے اردگرد ہونے والے حالات کی خبر بھی نہیں ہے۔
عبد السمیع کے مطابق فیس بک کی دوستیوں میں بےباک گفتگو تو کچھ بھی نہیں ہے عملی مظاہروں سے بھی اجتناب نہیں برتا جاتا ہے۔۔
عبد السمیع بھائی کیا خود اس طرح کے مظاہرے فرما چکے ہیں سامعہ۔؟؟؟
سامعہ کا قہقہہ دوبارہ بلند ہوا۔۔!
عبد السمیع ایک میچور مرد ہیں جنکا آئے دن ایسے حادثات سے واسطہ پڑتا ہے۔۔ اور وہ ہر بات میرے گوش گزار کرتے رہتے ہیں۔ جوکہ گاہے گاہے میں تمہیں بھی بتاتی رہی ہوں زینہ ہونے والی زوجہ روحیل ارشاد۔!!!
سامعہ۔!! زینہ نے دانت پیسے۔۔
جی سہیلی زینہ۔؟
سامعہ تم بھی اس روحیل جیسی بےباک ہوتی جا رہی ہو۔! زینہ نے منہ بسورا۔
اچھا چلو مجھے ایسا بےباک ہونا منظور ہے ۔!
ایک بات بتاؤں زینہ۔؟
کیا ؟؟
روحیل نے ابھی تمہاری یہ گھنیری ریشمی زلفیں نہیں دیکھی ہیں ، جب اس نے دیکھ لینی ہیں تو اسکا تو حال قابل دید ہو گا۔۔
وہ جو پہلے سے بنا بنایا دیوانہ ہے پتا نہیں زلفوں پر کونسا رد عمل ظاہر کرے گا۔؟ سامعہ نے زینہ کو چھیڑا۔۔۔
میں اسے زلفیں دکھاؤں گی تو دیکھے گا نا ؟
کیوں تم اس سے پردہ کرو گی پاگل لڑکی ۔؟؟
نہیں پردہ تو نہیں کروں گی مگر وہ فی الحال صرف میرا چہرہ دیکھ سکے گا۔۔۔ ۔تو گویا تم اس کے گھر ہر وقت حجاب میں رہو گی۔؟؟
شریعت کے ساتھ یہ کچھ زیادہ شدت پسندی نہیں ہے ۔؟؟
سامعہ مجھے پتا ہے شریعت کی حدود و قیود کیا ہیں ۔بس مجھے اس شخص سے خوف آتا ہے اس لیے میں محتاط رہوں گی ان شاءاللہ۔۔
تمہیں تو جوتے مارنے کو جی چاہتا ہے زینہ خشک مزاج لڑکی۔!
پتا نہیں اس بیچارے کا کیا بنے گا جو ہر وقت دیوانہ بنا پھرتا ہے ؟؟
میں تمہیں کل سے سمجھا رہی ہوں اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کر لو ، غلطیاں سرزد ہوجانا فطری عمل ہے ،مگر ان غلطیوں کو ہتھیار بنا لینا جہالت ہے۔۔
اس شخص سے غلطی ہوئی اس نے تم سے معافی مانگ لی ہے ۔ “دیر آئے درست آئے۔”
پھر تم کیوں اسے ایسے فضول قسم کے القابات دیتی رہتی ہو۔؟
کونسے القابات ؟؟
یہی آوارہ ،لفنگا ، دل پھینک اور بےباک وغیرہ۔۔ !!!
تم نے اسے معاف کیا بس بات ختم ۔! سامعہ نے زینہ کے چہرے کو بیسن ہلدی سے رگڑتے ہوئے ساری بات سمجھانے کی کوشش کی ۔۔
سامعہ میں نے اسے معاف تو اسی دن ہی کر دیا تھا مگر میرے دل میں خوف ہے کہ وہ کہیں مجھے اپنی ضد کی بھینٹ نہ چڑھا دے۔۔مجھے استعمال کر کے چھوڑ نہ دے ۔! سامعہ تم نے دیکھا نہیں ہے وہ کس قدر وجیہہ اور خوبرو ہے ، اسے مجھ سے محبت کیوں کر ہو گی۔؟ جبکہ خوبصورت سے خوبصورت لڑکی اپنا پر اس پر وارنے کے لیے تیار ہو جائے۔۔۔
زینہ یہ بات تو وہ تمہیں ہی سمجھا سکتا ہے بلکہ وہ بارہا بتا بھی چکا ہے کہ اسے تمہارے کردار سے محبت ہے۔۔ اب پتا نہیں وہ کیسے سمجھائے بیچارا۔؟؟
دیکھا ہے سہیلی میری ہو اور ہمدردی اس سے ہو رہی ہے۔ زینہ نے مصنوعی غصہ دکھایا۔۔۔
بھئی میری تو ہمدردی بنتی ہے کیونکہ وہ درست راستے کا راہی ہے ۔۔ شرافت سے رشتہ مانگ کر تمہارے ساتھ کا متمنی ہے۔۔۔
آج سے میری نظروں میں اس کے لیے عزت چار گنا بڑھ گئی ہے۔۔۔ سامعہ نے جذب سے بولا۔۔ اور پاس رکھے نیم گرم پانی سے زینہ کا چہرہ تر کرنے لگی۔۔۔
سامعہ اگر وہ شرافت سے رشتہ نہ مانگتا اور مجھے ہراساں کر کے فون پر دوستی کرنے پر مجبور کرتا تو تم کیا کہتی ۔؟؟؟
پھر وہ شخص میرے جوتے کی نوک پر ہوتا۔! اسکی عزت ، اسکا مقام صحیح راستے کے تعین کی وجہ سے ہی بڑھا ہے وگرنہ تم جانتی ہو ہم دونوں اس طرح کی وقت گزاری کے سخت خلاف ہیں۔۔۔
ایک اور بات کان کھول کر سن لو ۔!
وہ کیا۔؟؟
اللہ کا واسطہ ہے اب اسے دیکھ کر بیہوش نہ ہو جانا۔!!
میں جان بوجھ کر بیہوش تھوڑی ہوتی ہوں ، مجھے اس سے شدید خوف محسوس ہوتا ہے اور میرا دل و دماغ ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔! میرا بھی جی چاہتا ہے کہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کروں کہ میں تم سے نہیں ڈرتی ہوں مگر پھر ڈر جاتی ہوں۔
سامعہ کا ایک اور قہقہہ بلند ہوا۔۔
زینہ تم اس قدر بیوقوف اور دبو لڑکی ہو جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔
روحیل ارشاد نے ابھی بہت ساری اذیتیں برداشت کرنی ہیں، مجھے تو ابھی سے اس پر ترس آنے لگا ہے۔۔۔سامعہ اپنی چھیڑ خانیوں سے زینہ کو ذہنی طور پر تیار کرنے میں کوشاں تھی جبکہ اسے یقین تھا کہ زینہ جیسی شرمیلی لڑکی اس نئے رشتے کو احسن طریقے سے نبھانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔۔۔ مگر ایک اچھی دوست ہونے کے ناطے سے وہ اپنے فرائض میں کوتاہی برداشت نہیں کر پائی۔۔۔
******************************************
امی آپ خوش ہیں نا ؟؟
بہت خوش میرے بیٹے۔! شہناز بیگم نے لڑکھڑاتی آواز میں جواب دیا۔ لحاف اور کمبل میں لپٹا دائیں طرف سے ناکارہ وجود اپنی معذوری پر اشکبار تھا۔۔
امی آپ کیوں رو رہی ہیں۔؟
بس بیٹا اللہ کی غیبی مدد پر دل بھر آیا ہے۔ یہ شکر اور خوشی کے آنسو ہیں۔
اللہ میری بیٹی کے نصیب بہت اچھے کرے ، یہ پھولے پھلے آمین۔۔
پاس بیٹھی شہلا جو ماں کےمفلوج دائیں بازو اور ٹانگ کو ہلکے پھلکے انداز میں مالش کر رہی تھی ، وہ بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائی۔
آپا آپ بھی امی کو ہمت حوصلہ دیں۔۔
زید میں اپنی بہن کے لیے بہت خوش ہوں۔ میری وجہ سے اس گھر نے بہت دکھ جھیلے ہیں۔
میرے شوہر کی وجہ سے میری ماں موت کے منہ سے باہر نکلی ہے، میرا شوہر میری بہن کی سودے بازی کرنا چاہتا تھا اور میں آنکھیں بند کر کے اسکا ساتھ دیئے چلے جا رہی تھی۔۔
بس آپا ہمارا رب ، ہمارا مالک جو بھی کرتا ہے اس میں کوئی نہ بہتری ہوتی ہے۔۔
آپ جا کر دیکھو زینہ آپا کو سامعہ آپا نے تیار کر دیا ہے ، وہ لوگ بس پہنچنے والے ہونگے ان شاءاللہ۔
ان لوگوں نے کھانا نہ کھانے سے انکار کر دیا ہے مگر میں ان پانچ لوگوں کے کھانے کا بندوست کر چکا ہوں۔۔
آپا امی کا تمام سامان باندھ لیا ہے نا ۔؟؟
ہاں ہاں زید تم بےفکر رہو۔! سب
انتظامات مکمل ہیں الحمدللہ۔
مجھے لگتا ہے وہ لوگ پہنچ آئے ہیں۔!
آپا آپ امی کو سردی میں بیٹھک میں نہ لانا۔! امی آپکی اجازت سے کچھ دیر بعد مولوی صاحب نکاح شروع کر دیں گے۔
عبد السمیع بھائی نکاح خواں کو لے کر پہنچنے والے ہونگے۔ بیٹا میری طرف سے اجازت ہے۔
میری دعائیں تم سب کے ساتھ ہیں۔ آبدیدہ ماں اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ پائی۔ زید نے آگے بڑھ کر ماں کا ماتھا چوم کر ڈھارس بندھائی۔۔۔
امی ہماری محتاجی کے دن جلد اختتام پذیر ہو جائیں گے ان شاءاللہ۔۔
زید ماں بہن کی ڈھارس بندھا کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ جبکہ شہلا بہن کی زیب و زینت دیکھنے کے لیے چل دی۔۔
سامعہ زینہ تیار ہے ؟؟
شہلا نے ادھ کھلے دروازے میں جھانکا۔۔
جی آپا دیکھیں نا ہماری شہزادی پر یہ بیش قیمت میکسی کس قدر جچ رہی ہے۔ سامعہ چہکی۔
زندگی میں پہلی مرتبہ مکمل میک اپ کا استعمال زینہ کے قدرتی حسن کو چار چاند لگا گیا۔ خوبصورت تیکھے نقوش والی زینہ اپنی سانولی رنگت کے باوجود بھی ناظر کو اپنا بنانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔۔۔زینہ کا پرکشش گول معصوم سا چہرہ اس وقت میک اپ کی سج دھج سے دھمک رہا تھا۔۔ نشیلی جھیل آنکھیں ، گھنیری پلکوں کی لرزتی باڑ سامعہ کے چٹکلوں سے جھکتی چلی جا رہی تھی۔ دل تو گویا دو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا تھا۔۔ دھڑکنوں کا انتشار زینہ کی ہتھیلیاں عرق آلود کرنے لگا۔۔۔
ماشاءاللہ میری بہن بہت خوب صورت لگ رہی ہے۔۔
شہلا نے محبت سے زینہ کی بلائیں لے ڈالیں۔۔
دلہا بھائی اور انکے اہل خانہ پہنچ چکے ہیں بس اب نکاح خواں کا انتظار باقی ہے۔۔۔۔
شہلا ادھ کھلے دروازے پر محو گفتگو تھی کہ عقب سے عاصم آن ٹپکا۔۔۔
جوش میں سلام جھاڑا اور پھر گویا ہوا ۔۔ میری بھابھی کو کہاں پر چھپا کر رکھا جا رہا ہے۔؟؟
بےپناہ خوشی سے عاصم کا چہرہ دھمک رہا تھا۔۔
جناب آپکی بھابھی ادھر ہی اپنی سہیلی کے ہمراہ ہیں اور انکا دیدار آپ نکاح کے بعد ہی کر سکتے ہیں۔ شہلا نے ادھ کھلے دروازے کو بند کر دیا۔۔
ہائے آپا ۔! کتنی ظالم بنی پھر رہی ہو۔ زینہ بھابھی بعد میں اور بہن پہلے ہے۔۔
مجھے تو ابھی دیکھنا ہے اپنی بہن کو ۔!
عاصم ضد پر اتر آیا۔۔
ویرے تم آج کچھ زیادہ شوخے نہیں ہو رہے ہو ۔؟ پہلے امی سے ملو پھر اپنی ہونے والی بھابھی سے ملنا۔!!
جناب آپ میری بھابھی کے ساتھ محو گفتگو تھیں میں اسی دوران امی سے مل چکا ہوں۔۔۔
اب جلدی سے میری بھابھی کا دیدار کروائیں۔۔!
عاصم ویرے دیدار بعد میں پہلے جاکر دستک کا جواب دو ، ہو سکتا ہے نکاح خواں آیا ہو ۔
دروازے کھولتے ہی عاصم کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔۔
دہلیز کے دوسری طرف ذیشان اپنی ماں کے ہمراہ خونخوار نظروں سے عاصم کو گھور رہا تھا۔۔۔
عاصم نے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سلام جھاڑا۔۔ ذیشان بھائی اندر آئیں نا۔۔۔
خالہ آپ کیسی ہیں۔؟؟
عاصم نے اخلاق حسنہ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔۔ جبکہ ذیشان اور خالہ نے سلام کا جواب نخوت سے “ہوں” بول کر دیا۔۔ جب دیکھو ادھر ہی ملتے ہو ، تمہارا اور کوئی کام کاج نہیں ہے۔۔۔؟؟
ذیشان بھائی اتفاقاً میری آپ سے ملاقات دوسری مرتبہ ہو رہی ہے۔۔
عاصم دروازے سے ہٹ کر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔۔آپ اندر تشریف لے آئیں۔!
ہمیں تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے، میں اس گھر کا بڑا داماد ہوں۔۔۔ذیشان حسد سے بڑبڑاتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
چونکہ عاصم ذیشان کی طبیعت سے بخوبی واقف تھا اسلئے برق رفتاری سے اسکے ساتھ ہو لیا۔۔ ذیشان بھائی بیٹھک میں تشریف لے آئیں۔۔۔! عاصم نے آگے بڑھ کر بیٹھک کا دروازہ کھولا جہاں پر ارشاد صاحب ، عبد السمیع ، زید اور روحیل خوبصورت عروسی شیروانی زیب تن کیے بیٹھا تھا۔۔۔ ذیشان کی اچانک آمد پر تمام حاضرین نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔زید ذیشان کی چول (گھٹیا) فطرت کو دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ذیشان بھائی تشریف لائیں آپ نے آنے میں بہت دیر کر دی ہے۔۔ میں نے بارہا آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے مگر آپ کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔۔۔
ذیشان اور خالہ کے بیٹھک میں داخل ہوتے ساتھ عاصم نے داخلی دروازے کے دونوں پٹ مع کنڈی بند کر دیئے۔۔
بس بس۔۔!! سالے اپنی صفائیاں دینا بند کرو ۔! میں سب جانتا ہوں۔۔۔ذیشان نے ہاتھ کے اشارے سے زید کا منہ بند کروا دیا۔۔۔
امی آپ بھی ذرا ملاحظہ فرمائیں۔۔! ذرا اپنی بہن کے گھرانے والوں کے اسلوب جمیلہ تو دیکھیں نا۔۔ ذیشان کا تیکھا لب و لہجہ حاضرین کو کھولنے لگا۔۔۔بالخصوص روحیل کی رگیں تن گئیں۔۔۔
یہ ماں کی بیماری اور مردہ بھانجے کی پیدائش کے بعد کیا میلا لگا رکھا ہے ؟
ذیشان بھائی کوئی میلا نہیں ہے ۔! آج زینہ کا روحیل بھائی سے نکاح ہو رہا ہے اور وہ بھی مکمل سادگی کے ساتھ۔!
دیکھ لیا امی ۔! کتنی عزت ہے آپ کی اور آپکے بیٹے کی اس گھر میں۔؟؟
یعنی اس بےفیض گھرانے کو ذرا احساس نہیں تھا کہ گھر کا بڑا ، گھر کا داماد زبان دے چکا ہے ۔! سالی کا گھر بسانے کی انتھک کوششیں کرتا رہا ہے۔ ذیشان کف اڑانے لگا۔۔
ارشاد صاحب بات کی طے میں پہنچ چکے تھے۔
بیٹا آپ آرام سے تشریف رکھو اور آرام سے بات کرو ۔ بہن آپ بھی تشریف رکھیں ۔!!
بڑے میاں ہماری تشریف کو چھوڑیں، آپ ہمیں اس خاندان سے بات کرنے دیں ۔ میری تو ان لوگوں نے بھری محفل میں ناک کٹوا دی۔۔
ذیشان بھائی اس وقت آپکی ناک کہاں تھی جب آپکی بیوی ہسپتال کے فرش پر تڑپتی رہ گئی اور آپ اسکا ہاتھ جھٹک کر چھوڑ گئے تھے۔۔؟؟آپ کا مردہ بچہ دفنا دیا گیا مگر آپکو توفیق نہ ہوئی کہ ہسپتال تشریف لے آئیں۔! نجانے زید کے اندر اتنی جرآت کہاں سے آ گئی۔
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ذیشان کو آئینہ دکھایا مگر ڈھیٹوں کا سردار ذیشان کہاں پیچھے رہنے والوں میں سے تھا۔۔
تم میری پریشانی نہ کرو چھوٹے سالے۔!
پہلے اپنی بہن کے کرتوتوں پر نظر رکھو جو حجاب کی آڑ میں مال دار مرغا پھانس چکی ہے۔۔۔ امی میں تو اس دن ہی سمجھ چکا تھا کہ رضاعی بھائی کی طرف سے اتنی عنایتیں کیوں کی جا رہی ہیں۔۔۔!
یہ پردہ وردہ سب ڈرامے ہیں ۔!
اس زمانے میں کون اتنا پاک دامن ہو سکتا ہے۔؟؟ یونیورسٹی میں لڑکوں کے ساتھ پڑھتی ہے۔ میں سب جانتا ہوں۔
ذیشان بھائی ابھی آپ حد سے بڑھ رہے ہیں۔زید کی برداشت جواب دے گئی۔ اب اگر آپ نے میری بہن کے بارے میں ایک لفظ بھی بولا تو نتائج کے ذمّے دار آپ خود ہوں گے۔!
میاں سچ کڑوا ہے جو تم سے ہضم نہیں ہو پا رہا ہے۔۔۔! خالہ آپ ذیشان بھائی کو سمجھا لیں۔!
بیٹھک میں موجود تمام حاضرین موجودہ صورت حال پر اپنی نشستوں پر بیٹھے کھول رہے تھے جبکہ روحیل کا معاملہ باقیوں سے الگ تھا۔۔
اے زید۔! ذیشان کو میں کیا سمجھاؤں.؟! مرد ذات ہے اندر باہر کے حالات بخوبی سمجھتا ہے ، اس نے کچھ دیکھا ہے تو بول رہا ہے نا۔۔۔ زید خالہ کے جواب پر ہقا بقا رہ گیا۔۔۔
ٹھیک ہے خالہ آپ اگر امی سے ملنے آئی ہیں تو مل لیں مگر میں مزید فالتو باتیں برداشت نہیں کروں گا کیونکہ میری ماں آپ کے اس عظیم بیٹے کی گل افشانیوں کی بدولت موت کے منہ سے نکلی ہیں۔۔
زیادہ ٹر ٹر نہ کر زید۔! تجھے بھی ان مالداروں کو دیکھ کر پر لگ گئے ہیں۔!!!
مانتا کیوں نہیں ہے تیری بہن نے اس مالدار کو پھانس لیا ہے۔
روحیل ایک لمحہ ضائع کیے بنا ذیشان کا گریبان پکڑ چکا تھا۔ لگاتار چار پانچ گھونسوں کی برسات کر دی ، مزید کے لیے عاصم اور زید کی باہوں میں تڑپنے لگا۔۔۔
گھٹیا ترین انسان زینہ کے بارے میں ایک لفظ بھی بولا تو میں تمہاری زبان گدی سے کھینچ کر باہر نکال دوں گا۔۔! زینہ کی پاکدامنی کا میں گواہ ہوں۔۔
روحیل عاصم کے حصار میں دوبارہ حملے کے لیے مچلنے لگا ۔۔ خالہ نے الگ سینہ کوبی شروع کر دی۔ یہ دن دیکھنے کےلئے رہ گئے تھے۔۔ ہائے اس زینہ کلموئی کی وجہ سے میرا بیٹا پٹ گیا ہے ۔۔۔
ارشاد صاحب نے روحیل کو زبردستی پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا۔۔ جبکہ زید خالہ کے ملغظات پر قابو پانے میں کوشاں ہو گیا۔
عبد السمیع آنکھیں پھاڑے اس گھمبیر صورت حال پر پریشان نظر آ رہا تھا۔۔۔
روحیل تمہیں یہ ہاتھا پائی بہت مہنگی پڑے گی۔! ذیشان نے انگلی سے اشارہ دے کر دانت پیسے۔۔۔
اپنی یہ گیدڑ بھبھکیاں کسی اور کو دکھاؤ۔!
جو اپنے خون کا ہمدرد نہیں ہے اسے ہماری کیا قدر ہونی ہے۔روحیل نے ٹکا سا جواب دیا۔۔۔
بچے تو جس زینہ کے خواب دیکھ رہا ہے نا وہ لڑکوں کے ساتھ پڑھتی رہی ہے۔ذیشان نے خون آلود ناک کو آستین سے رگڑا اور دوبارہ بدظنی پر اتر آیا۔۔۔
ساری دُنیا بھی زینہ کے خلاف بولے نا ،میں پھر بھی اسکے کردار کی گواہی دوں گا ۔! تم جیسے گھٹیا خالہ زاد سے اللہ بچائے۔۔ روحیل نے اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے ذیشان کو کھری کھری سنائی۔۔۔ ارشاد صاحب نے روحیل کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور ذیشان سے مخاطب ہوئے۔
ذیشان صاحب میرے خیال میں آپ کا وقت پورا ہو چکا ہے لہٰذا آپ تشریف لے جائیں ۔۔۔
کیوں بزرگو۔؟؟؟ آپ کو بھی سچ چبھتا ہے ۔؟؟
مجھے سچ نہیں جھوٹ سخت چھبتا ہے ۔!! میں نے یہ بال باہر دھوپ میں بیٹھ کر سفید نہیں کیے ہیں۔ ، تم جیسے تو میں نے اپنے ہاتھوں میں کھلائے ہیں۔۔ابھی اگر تم نے میری ہونے والی بہو کے بارے میں ایک لفظ بھی بولا تو روحیل کی طرف سے جو کمی رہ گئی ہے وہ میں نے پوری کر دینی ہے۔تمہیں شاید کوئی دانت دکھانے والا نہیں ملا ہے۔۔
اس شریف مفلس خاندان کو دبانے کے تمہارے دن رخصت ہو چکے ہیں۔۔۔
ہونہہ شریف۔!! ذیشان نے نفرت بھرے لہجے میں ہنکارا بھرا۔
چلو امی۔! ان بیغیرتوں سے ہم دور ہی اچھے ہیں۔۔
جی آیاں نوں۔! ارشاد صاحب نے معنی خیز لہجے میں بولا۔۔ عاصم نے فوراً باپ کی طرف دیکھا جسے انہیں نے آنکھ کے اشارے سے خاموش کروا دیا۔۔۔
زید مہمانوں کو بیٹھک کے خارجی دروازے سے رخصت کرو یا پھر یہ غمگسار ماں بیٹا تمہاری والدہ کو ملنا پسند فرمائیں گے۔؟؟ ارشاد صاحب نے زید سے تصدیق چاہی۔۔۔
چچا جان بہتر ہے یہ فی الحال یہاں سے تشریف لے جائیں۔ انکی زبانوں کی شیرینی میری ماں کو مزید جلائے گی، میری ماں کی بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم نہیں ہے کہ انکی زبان کی کڑواہٹ کو مزید سہہ سکیں ۔۔
زید نے بات جاری رکھتے ہوئے بیٹھک کا خارجی دروازہ کھولا اور ذیشان کو نکلنے کا اشارہ کیا۔۔۔
ذیشان بھائی جلدی کریں ۔! جنوری کی سردی ہے کمرہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔۔
اور ہاں خالہ اپنے بیٹے کی تربیت پر ضرور سوچئے گا۔!
او چل بڑا آیا تربیتی پیغام رسان۔! پتر تیری زبان صرف اس مالدار مرغے کی وجہ سے چل رہی ہے وگرنہ تو میرے دو جھانپڑوں کی مار ہے۔!!!
ذیشان نے نکلتے نکلتے دوبارہ زہر اگلا۔۔۔
ذیشان بھائی ہر شخص کا وقت بدلتا ہے ، ہر شخص کو اسکے صبر کا پھل ضرور ملتا ہے۔۔۔
اپنی بیوی سے تو ملتے جائیں۔! زید نے ہنکارا بھرا۔۔۔
تو فکر نہ کر زید .!! وہ زیادہ عرصہ میری بیوی نہیں رہے گی۔! اسے طلاق بھجوا دوں گا۔ ذیشان گلی میں نکل کر دھاڑا۔۔۔
آپ طلاق بھیجیں یا نہ بھیجیں میری بہن خلع کا مطالبہ کرے گی۔۔۔ کیوں کہ جو مرد اپنی بیوی کو عزت نہیں دے سکتا ہے اور جسے اپنی اولاد کی فکر یا پرواہ نہیں ہے ایسے بےحس سے کنارہ کشی بہتر ہے۔۔۔
زید نے غم سے بول کر خارجی دروازہ بند کر دیا۔۔۔
میں آپ سب سے بہت معزرت خواہ ہوں۔ نجانے ان لوگوں کو کہاں سے خبر مل گئی ہے اور ادھر میری بہن کی خوشیوں کو برباد کرنے چلے آئے ہیں۔۔۔
زید بیٹا تم پریشان نہ ہو ۔! اس شخص کی نفسیات کو میں بخوبی سمجھ چکا ہوں۔
بس تم نکاح کی تیاری پکڑو ۔! ہمیں اسلام آباد واپسی کے لیے بھی نکلنا ہے۔۔۔
جی چچا جان بس ابھی نکاح خواں آتے ہی ہوں گے۔۔ عبد السمیع بھائی ذرا انہیں فون ملا کر پوچھیں۔!
زید پریشان نہ ہو یار ۔! اس سارے ہنگامے کے دوران مجھے پیغام موصول ہوا ہے کہ انہیں کوئی ضروری کام پڑ گیا ہے بس وہ نپٹا کر بیس منٹ تک پہنچتے ہیں۔۔۔
اچھا چلیں پھر آپ لوگ کھانا تناول فرمائیں۔۔۔
میں بس ابھی لایا۔۔! زید تمہیں ہم نے منع بھی کیا تھا پھر بھی تم باز نہیں آئے ہو ۔!
آپ سب میرے معزز مہمان ہیں تو میں کیسے آپ سب کو بنا مہمان نوازی کے رخصت کر سکتا ہوں۔۔۔
عاصم بھائی آپ آپا سے تیاری کے بارے میں تصدیق کر لیں۔۔!
ہاں یار۔!! میں تو بس بیٹھک کے داخلی دروازے کو بند کرنے کے چکروں میں تھا کہیں زینہ یہ سب ہنگامہ سن کر بیہوش نہ ہو جائے۔۔اور پھر ماسی امی کے لئے بھی کوئی صحت افزاء منظر نہیں تھا۔۔۔
عاصم بھائی آپ تو اصلی والے شہزادے ہو ماشاءاللہ۔ آپ کا دھیان چاروں طرف رہتا ہے۔۔۔
نہیں یار بس کبھی اپنی خوبیوں پر غرور نہیں کیا ہے۔۔ عاصم نے مسکرا کر کالر جھاڑے جبکہ چند لمحے قبل میدان جنگ بننے والی محفل دوبارہ سے زعفران بن گئی۔۔۔
روحیل کے چہرے کی مسکراہٹ لوٹ آئی اور ارشاد صاحب بھی ماسی امی کو سلام کرنے کی غرض سے عاصم کے ساتھ ہو لیئے۔۔۔
ڈیڈ آپ ماسی امی کے پاس بیٹھیں ،میں ذرا زینہ کی خبر لیتا ہوں۔۔۔
عاصم میری بہو کو تنگ نہیں کرنا۔۔۔
ارے ڈیڈ میں تنگ کرنے والا نوجوان ہوں بھلا۔؟؟؟ میں تو خوشیوں کو دوبالا کرنے کی آرزو میں رہتا ہوں۔!
عاصم مسکراتے ہوئے ساتھ والے کمرے کے بند دروازے پر دستک دینے لگا۔۔۔
کون۔؟؟
جاری ہے
