Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10

زید ایک رات میں تمہاری زبان بہت چلنے لگی ہے ۔ لگتا ہے رضاعی بھائی کے لمبے نوٹوں نے تمہیں بھی اپنا اسیر بنا لیا ہے۔! ذیشان کی زبان درازی اور روحیل کی برداشت جواب دے گئی۔۔
روحیل نے فورا جھپٹ کر ذیشان کو گریبان سے پکڑ لیا۔۔۔
تمہیں ذرا سی بھی شرم نہیں آتی ہے۔! تمہاری سگی خالہ بستر مرگ پر ہے اور تم ادھر آ کر اپنی بیوی کو بھڑکا کر سیاست چمکا رہے ہو۔!
اس اچانک افتاد پر سب ہقا بقا رہ گئے ، عاصم نے ہوش میں آتے ہی بھاگ کر روحیل کو پیچھے ہٹانا چاہا مگر ایک مضبوط دراز قد کاٹھ والا طاقتور مرد اتنی آسانی سے کہاں پیچھے ہٹنے والا تھا۔۔
بھیا۔۔!! عاصم دھاڑا۔۔۔
میں نے بولا ہے چھوڑ دیں انہیں۔!
نازک صورتحال پر زید نے بھی کھینچا تانی شروع کر دی۔۔۔
شور سن کر فوراً نرس آن دھمکی ۔ یہ ہسپتال ہے اکھاڑا گاہ نہیں ہے جہاں پر آپ اس طرح زور آزمائی کر رہے ہیں ۔۔آپ لوگ خاموشی سے بیٹھیں وگرنہ میں سیکیورٹی گارڈ کو بلوا لوں گی۔۔۔آپ کو لڑنے کا شوق ہے تو یہ شغل باہر جا کر پورا کریں۔۔۔ نرس نے کاٹ دار لہجے میں سب کو آئینہ دیکھایا۔۔۔
روحیل نے نرس کی تنبیہ کو سنا اور پھر غصہ دباتے ہوئے ذیشان کا گریبان چھوڑ دیا مگر ذیشان کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھنا نا بھولا۔۔۔
حالات کا ستایا یہ مفلس خاندان اس وقت غم کی تصویر بنا کھڑا تھا ، ایک طرف ماں بیہوش پڑی تھی تو دوسری طرف بہنوئی کے کاری گھاؤ ۔
زینہ بےبسی میں جھکی گردن کے ساتھ آنسو بہانے میں مصروف جبکہ شہلا کا بھی تقریباً یہی حال تھا۔۔۔
ذیشان نے اپنی قمیض درست کی اور دھاڑا۔۔! شہلا بیگم میں جا رہا ہوں تم یہاں پر اپنے رضاعی بھائی اور اصلی بھائی کی ذمہ داری ہو۔ منڈی جا کر ابھی مجھے جو اپنی زبان کی صفائی میں بولنا ہے وہ میں بول لوں گا مگر یاد رکھنا زینہ کی شادی اسی شخص سے ہو گی جسکو میں نے زبان دی ہے۔۔
ذیشان آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔؟؟ شہلا نے لاچارگی کا مظاہرہ کیا ۔۔
شہلا بیگم میرے گھر اس وقت تک لوٹ کر نہ آنا جب تک زینہ کی رخصتی کا بندوست نہ ہو جائے ۔۔
آخر کو میری بھی زبان ہے ۔! مرد ہوں۔! کوئی ٹٹ پنجیا نہیں ہوں۔۔
عاصم روحیل انتظام گاہ کے ایک کونے میں کھڑے اس نازک صورتحال پر کھول رہے تھے۔۔۔جبکہ زید اور زینہ شہلا کے ساتھ اشکبار تھے۔۔۔
ذیشان خدارا ابھی تو ایسا نہ بولیں ۔! امی کس قدر بیمار ہیں ۔! یہ باتیں امی کے ہوش میں آنے کے بعد بھی ہو سکتی ہیں۔! شہلا نے ملتجی لہجے میں شوہر کو قائل کرنا چاہا مگر وہ شہلا کا ہاتھ جھٹک کر پھرتی سے چل پڑا ۔۔۔
شہلا نے تڑپ کر اسکے پیچھے لپکنا چاہا مگر اسکی موجودہ حالت نے اسے موقع نہ دیا ۔۔۔
شہلا کراہ کر رہ گئی۔۔۔
پیٹ تھامتے ہوئے فرش پر ڈھیر ہوگئی۔۔
زینہ بھاگ کر بہن کے پاس فرش پر آن بیٹھی۔۔۔
آپا کیا ہوا ہے .؟؟
زینہ مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے ۔شہلا کے چہرے کا رنگ بدلنا شروع ہو گیا۔ پیشانی پسینے سے تر ہو گئی ۔۔۔
زینہ مجھے لگتا ہے ولادت کا وقت قریب آن پہنچا ہے۔۔۔ درد زہ میں تڑپتی شہلا نے سرگوشی سے بہن کے کان میں بولا۔۔۔
زینہ زید اور عاصم کی طرف مدد طلب نظروں سے مڑ کر دیکھنے لگی۔۔۔
ناتجربہ کار زینہ نے اس طرح کی حالت نہ کبھی دیکھی اور نہ سنی۔
فرش پر بیٹھے بیٹھے بہن کی ہتھیلیوں کو مسلنے کے سوا کچھ نہ سوجھا۔۔۔
آپا آپ ٹھیک ہو جاؤ گی۔! حوصلہ کرو۔!
میں ابھی چائے منگواتی ہوں۔۔!
زینہ میری تکلیف بڑھ رہی ہے۔! شہلا نے کراہتے ہوئے بولا۔۔۔
عاصم اور زید نے آگے بڑھ کر شہلا کو فرش سے اٹھانا چاہا مگر درد کی شدت سے وہ ادھر ہی ڈھے گئی۔۔۔
نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے روحیل نے بولا۔ آپ سب فکر نہ کریں ، میں بس ابھی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔۔۔۔
روحیل نے انتظار گاہ سے نکل کر لیڈی ڈاکٹر کے حصول کے لئے دوڑ لگا دی۔
زید تم ذیشان بھائی کو فون کرو شاید ہسپتال کے احاطے میں ہی ہوں۔
عاصم بھائی فون بند ہے ۔! زید نے کانوں سے فون ہٹاتے ہوئے تھکے لہجے میں بولا ۔۔
اچھا چلو پھر میں انہیں بھاگ کر باہر دیکھتا ہوں شاید باہر سائیکل سٹینڈ تک ہی پہنچے ہوں۔ زینہ تم آپا کو ادھر بینچ پر بٹھاؤ۔۔ درد کی شدت کو برداشت کرتی شہلا دانت بھینچے ہوئے فرش پر دو زانوں بیٹھی اپنے نصیب پر اشکبار تھی۔۔۔
آپا سب ٹھیک ہو جائے گا۔! میں بس ابھی ذیشان بھائی کو بلا کر لاتا ہوں۔عاصم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر شہلا کو سہارا دے کر اٹھانے کی کوشش کی مگر عاصم کا ہاتھ شہلا نے درد کی شدت سے مروڑا۔۔۔
عاصم ویرے مجھے بہت تکلیف ہے تم بس مجھے کسی طبیبہ کے حوالے کرو جلد ازجلد۔!
زینہ عقب میں بیٹھ کر شہلا کی کمر سہلانے لگی۔۔ زید نے آگے بڑھ کر سہارا دیا۔
عاصم بھائی آپا کو ہم دونوں مل کر سہارا دیتے ہیں ۔۔۔ ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔
اس اثناء میں روحیل طبیبہ کے ہمراہ آن دھمکا۔۔۔
طبیبہ نے پہنچتے ساتھ پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ بنیادی سوال و جواب کا سلسلہ شروع کر دیا ۔۔۔
جن میں کچھ ذاتی نوعیت کے سوالات بھی شامل تھے۔۔۔
ذاتی نوعیت کے سوالات کی شروعات سے قبل زید، عاصم اور روحیل برآمدے کے دوسرے کونے میں کھسک گئے۔۔۔
بینچ پر بیٹھی شہلا درد کی شدت پر دبی آواز میں کراہ کر رہ گئی۔۔۔جبکہ زینہ بھی پہلو بدلنے پر مجبور ہو گئی۔۔۔
****************************-*************
((“ایک انسانی جسم صرف 45” ڈیل “(یونٹ) تک تکلیف برداشت کرسکتا ہے۔ “ایک ماں کو جنم دیتے وقت 57 ڈیل تک درد محسوس ہوتا ہے جو 20 ہڈیوں کے ٹوٹنے کے برابر ہے۔”))
اپنی ماؤں کی قدر کریں جس اذیت سے وہ آپکو اس دنیا میں لاتی ہیں ناقابل برداشت عمل ہے ۔بیوی کی غلامی میں ماں کی نافرمانی نہیں ہونی چاہئے۔ 💦💦💦 اللہ المستعان
*****************************************
دیکھیں آپ حوصلہ کریں۔ آپ کے ہاں پہلے بچے کی ولادت ہے اس لیے آپ کو اندازہ نہیں ہے ، آپکو میرے کہنے کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔۔۔ جب بھی درد کی شدت کو محسوس کریں ، درد کو اپنے اندر سے کھینچ کر گہرے سانس کے ذریعے باہر نکالیں۔۔گہرے گہرے سانس لینے سے آپ کی قوت برداشت میں اضافہ ہوگا۔۔ آپکا دماغ سانس کو خارج کرنے کی طرف مصروف عمل رہے گا اور آپ کو اپنی قوت شور شرابے میں ضائع کرنے کا موقع نہیں میسر ہو گا۔۔۔!
طبیبہ کا پرشفیق لب و لہجہ شہلا کی ڈھارس بندھانے لگا۔۔دھیرے سے سر کو اثبات میں جھٹکنے لگی۔۔۔ طبیبہ نے اس عمل کو بار بار دہرانا شروع کر دیا تاکہ شہلا کو اس طریقہ کار کی سمجھ آ جائے۔۔
پاس بیٹھی مجبور زینہ ان تمام نئی معلومات پر ہراساں ہو رہی تھی۔۔اپنا دھیان بٹانے کے لیے دائیں بائیں دیکھنے لگی تو روحیل کو اپنی طرف متوجہ پاکر فوراً نظر پھیر لی۔۔
“اللہ جانے یہ بھوت کب میرے سر سے اترے گا ؟؟پتا نہیں اسے حجاب میں لپٹے وجود کو دیکھ کر کونسا ثواب ملتا ہے ۔؟ جتنا بھی اس سے دور بھاگتی ہوں یہ نمونہ کسی اور ذریعے سے میرے سامنے آن دھمکتا ہے۔۔۔ اسکی چول اداؤں پر اسکا سر پھاڑنے کو جی چاہتا ہے۔ عاصم بھی تو اسکا سگا چھوٹا بھائی ہے مگر یہ تاڑو پتا نہیں کس پر چلا گیا ہے”۔۔زینہ اندر ہی اندر کھول کر رہ گئی۔۔۔
شہلا کی پریشانی میں امی کا غم کچھ دیر کےلئے ذہن سے نکل گیا مگر یکدم دھیان جاتے ہی دل میں ٹھیس اٹھی ۔۔۔
کاش امی اس وقت موجود ہوتیں تو آپا کو کس قدر مدد کرتیں۔ چند آنسو لڑھک کر چہرے پر لپٹی چادر کو بھگونے لگے۔۔۔
آپ انکی کیا لگتی ہیں ؟ طبیبہ کے سوال پر زینہ فورا سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور جوابی تعارف کروایا۔۔۔
جو بھی ہدایت میں نے انکو سمجھائی ہیں ، آپ نے انکی مدد کرنی ہے۔۔ یہ اس وقت شدید تکلیف میں ہیں ، انہیں کسی مضبوط سہارے کی ضرورت ہے۔
مجھے ان صاحب نے بلاتے وقت آپکی والدہ کا بتایا ہے سن کر کافی افسوس ہوا ہے۔۔آپ کے رشتہ داروں میں کوئی تجربہ کار عورت موجود ہیں تو انہیں بلوا لیں۔۔ ولادت میں ابھی وقت لگے گا۔۔۔
کتنی دیر لگے گی؟ بے ساختہ زینہ کے منہ سے نکل گیا۔۔۔طبیبہ زینہ کے معصوم سے سوال پر مسکرا کر اٹھی۔۔۔
ان کے مکمل معائنے کے بعد ہی بتایا جا سکتا ہے مگر وہ بھی حتمی نہیں ہو گا ۔ یہ سب اللہ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ ۔جس روح نے جب اور جس وقت اس دنیا میں آنا ہے تبھی وگرنہ ہم اطباء کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔۔۔
ابھی آپ نے انکو خوب چلانا ہے ۔ انکو بیٹھنے نہیں دینا۔۔
دو لوگ انکو کندھوں سے تھام کر برآمدے میں خوب چلائیں جتنی دیر میں ہم انکے لئے باقی انتظامات کا بندوست نہیں کر لیتے ہیں آپ انکو مسلسل چلنے پر اکساتے رہیں ۔۔۔
شہلا ابھی آپ بیٹھیں نہیں بلکہ اپنے قریبی لوگوں کے کندھے توڑتے ہوئے چلتی جائیں۔۔
طبیبہ نے مسکراتے ہوئے ہمت بندھائی اور چلنے کے لیے کھڑا کر دیا ۔۔۔
شہلا ٹھیک آدھے گھنٹے بعد ہم سب اپنی تیاری مکمل کرکے آپکو ولادت والے کمرے میں بھیج دیں گے ۔ آپ نے گھبرانا بالکل بھی نہیں ہے۔۔
پسینے میں شرابور شہلا ہلکے سے سر جھٹک پائی۔۔۔
زینہ نے شہلا کو سہارا دے کر دھیرے دھیرے چلنا شروع کر دیا۔۔۔
زینہ کا اپنی بیہوش ماں کی طرف دھیان جاتا تو آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر چہرے کی چادر کو بھگونے لگتے۔۔۔
زینہ نے بہن کو تھامے ہوئے چلنا شروع کر دیا۔ برآمدے کے ایک کونے سے دوسرے تک پہنچنے سے قبل زید عاصم بہنوں کی طرف بڑھنے لگے۔۔
دونوں نے سوالیہ نظروں سے پوچھا۔۔
ویرے طبیبہ بول رہی ہے آپا کو خوب چلانا ہے اور آدھے گھنٹے بعد وہ لوگ انہیں اندر بلا لیں گے۔ زینہ نے ہمت جمع کر کے بنیادی معلومات گوش گزار کیں ۔ جبکہ چند گز کے فاصلے پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا روحیل بیتابی سے زینہ کے قریب آنے کا منتظر تھا مگر زینہ اسکی ذہنیت سے واقف ہو چکی تھی اسی لیے شہلا کو برآمدے کے دوسرے کونے پر پہنچنے سے قبل ہی رخ موڑ لیا۔۔
روحیل اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔۔
“کوئی بات نہیں زینہ حیات، تڑپا لو جتنا تڑپانا ہے ۔! میرے سے دور بھاگ لو جتنا بھاگنا ہے مگر ایک دن اس زمین کی کوئی ہستی تمہیں میرے سے دور نہ کر پائے گی کیونکہ تم میری اور صرف میری ہو۔”روحیل اپنے اندر چھڑی جنگ سے نبردآزما ہونے کے لیے ہر دم تیار رہتا ۔۔۔
بھیا ۔!! اپنے خیالوں میں گم روحیل نے چونک کر عاصم کو دیکھا۔۔
بھیا ذیشان بھائی کا کوئی اتا پتا نہیں ہے ۔ آپا کو بھی کچھ دیر بعد کمرہ ولادت میں لے جائیں گے۔ میں سوچ رہا تھا آپ اور زید منڈی جا کر انکی کوئی خیر خبر لے کر آئیں۔۔ اور اگر آپ گھر جا کر سونا چاہتے ہیں تو زید کو منڈی تک چھوڑ دیں۔ واپسی پر یہ رکشہ میں ہسپتال آ جائے گا۔۔۔
اور تم عاصم ۔؟؟
بھیا میں زینہ اور شہلا آپا کے پاس ٹھہرتا ہوں ، انہیں اکیلا تو نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔۔ ویسے بھی ابھی تک ماسی امی کو ہوش بھی نہیں آیا ہے۔
“عاصم میرا بس نہیں چلتا، میں زینہ کے پاس خود رک جاتا۔۔میں اسکی قربت میں سکون محسوس کرتا ہوں”۔۔۔ روحیل صرف سوچ کر رہ گیا۔۔۔
بھیا آپ مجھے بہت تھکے لگ رہے ہیں گھر جا کر آرام کریں۔۔۔
نہیں یار ۔! میں ٹھیک ہوں۔۔! مرد ہوں ، کوئی عورت تھوڑی ہوں جو اتنا نازک مزاج ہوں گا۔۔
اسی گفتگو کے دوران شہلا نام کی صدا گونجی۔ نرس نے انتظار گاہ میں داخل ہوتے ہوئے متلاشی نظروں سے شہلا کا نام پکارا۔۔۔
جی ۔! عاصم آگے بڑھا۔
شہلا بی بی کا بلاوا آگیا ہے ۔آپ انہیں چلا کر کمرہ ولادت تک لے آئیں ۔ ساتھ میں نومولود کے کپڑے اور باقی ضروری چیزیں بھی ساتھ لانی ہیں ۔۔
جی ۔!! تینوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔۔۔
جی ہمارے پاس تو یہ سب کچھ نہیں ہے۔۔
صاحب بچے کی پیدائش پر ہمیں ان تمام اشیاء کی ضرورت ہے۔ آپ ان تمام اشیاء کو لکھ لیں اور قریبی بازار سے لے آئیں۔!
جججججججی روحیل نے خود کو سمجھدار ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔۔ آپ ایسا کریں وہاں برقعہ پوش لڑکی جو مریضہ کے ساتھ چل رہیں ہیں ، جو اشیاء بھی درکار ہیں آپ انہیں لکھوا دیں ، میں آپ کی بتائی گئی تمام اشیاء آدھے گھنٹے میں لا دیتا ہوں۔۔۔
صاحب اس طرح کے کاموں میں آپریشن کی نوبت بھی آ سکتی ہے لہٰذا خطیر رقم درکار ہو گی۔۔۔
جی جی آپ رقم کے بارے میں پریشان نہ ہوں ، ہم سب بندوست کر لیں گے ۔ خطیر رقم کا سن کر زید کے پسینے چھوٹ گئے۔ آٹھ سو ہزار کی دہاڑی لگانے والا مزدور کہاں سے خطیر رقم کا بندوست کرتا۔۔۔
وہ روحیل بھائی میں اپنی موٹر سائیکل بیچ دیتا ہوں ، امید ہے آپا کے لیے خرچا نکل آئے گا ان شاءاللہ۔۔ زید نے خشک گلے سے بمشکل آواز نکالی۔۔۔
زید تم پاگل ہوگئے ہو یار ۔! میرے ہوتے ہوئے تمہیں پیسوں کی فکر کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔۔شہلا جیسے تمہاری بہن ہے ویسے میری بھی ہے۔۔۔ اور پھر تم کام اور زینہ کو یونیورسٹی کیسے چھوڑو لاؤ گے۔؟؟مجھے اگر اپنی بہنوں اور ماں کے لیے کچھ کرنے کاموقع مل رہا ہے تو مجھے روکنا مت۔!! عاصم نے دو ٹوک بول کر بات ختم کر دی۔۔
وہ بات تو ٹھیک ہے عاصم بھائی مگر آپ دونوں بھائی کل رات سے اپنے سب ضروری کام چھوڑ کر ہمارے ساتھ خوار ہو رہے ہیں۔
ہم تو پھر کچھ دیر کے لئے اونگھتے رہے ہیں مگر روحیل بھیا نے رات آنکھوں میں کاٹی ہے۔ انہیں دیکھیں کس قدر چہرہ اتر گیا ہے۔۔ زید نے مامتا بھری نظروں سے روحیل کو دیکھا۔۔۔
زید یار میں بالکل ٹھیک ہوں تم اور عاصم ویسے ہی صبح سے مامتا نچھاور کرنے میں لگے ہوئے ہو۔ روحیل نے مسکرا کر بات ٹالی۔۔۔
روحیل کی وجیہہ شخصیت حقیقتاً قابل رحم ہوتی جا رہی تھی۔۔
ہر وقت بےشکن لباس میں ملبوس رہنے والا شخص کل رات سے عام سے حلیے میں تھا۔ سادہ گرم سلیٹی رنگ کے کرتا شلوار کے ساتھ ایک لیدر جیکٹ زیب تن کیا ہوا تھا۔۔
اچھا اب کوئی ضد نہ کرے ۔! میں بس کچھ دیر میں تمام اشیاء لے کر آتا ہوں۔۔! روحیل نے ہاتھ آٹھا کر اشارہ کیا۔۔
زید تم لسٹ لے آؤ اور ساتھ میں بچے کے گمشدہ باپ کو ڈھونڈ کر لانا ہے یار۔۔ روحیل نے ملتجی لہجے میں گزارش کی ۔۔
زید زینہ اور شہلا کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
عاصم یار پلیز زینہ کو میرے پاس ساتھ بھجوا دے۔!
کیا ۔؟؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپکی۔؟؟ عاصم کو جھٹکا لگا۔۔
یار چھوٹا بھائی نہیں ہے ۔؟؟
چھوٹا تو ہوں مگر لوٹا نہیں ہوں۔! عاصم نے شرافت سے جواب دے دیا۔۔
عاصم تو میرا بھائی ہے بھی ہے یا نہیں۔؟؟؟ روحیل نے دانت پیسے۔۔۔
ڈی این اے کروا لیتے ہیں۔! عاصم نے جلتی پر تیل چھڑکا۔۔۔
میں زید کو بولتا ہوں کہ مجھے خریداری نہیں آتی لہذا زینہ کو ساتھ لے کر آئے۔!
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے، زینہ میری بہن ہے اور میری غیرت گوارا نہیں کرے گی کہ وہ کسی نامحرم کے ہمراہ خریداری کے لیے جائے۔اور ویسے بھی آپ کی موجودگی اس کے لیے باعث اذیت ہے ، میں یہ خطرہ نہیں مول سکتا ہوں۔۔ میری بہن پہلے ہی حالات کی ستائی ہوئی ہے۔۔۔ ماسی اور اب اپنی بہن کے غم میں گھلی جا رہی ہے۔۔!
عاصم ادھر ہسپتال ہے اور میں تیرا لحاظ رکھے ہوئے ہوں وگرنہ میں تیری گیچی (گردن) مروڑ دیتا۔۔۔اسکا محرم سگا بھائی زید بھی تو ساتھ ہو گا نا۔؟ روحیل نے اپنی بے بسی پر دانت پیسے۔۔۔
“یار بھیا آپ کو اسے ساتھ لے جا کر کونسا فائدہ ملنا ہے .؟ ایسے ہی خواہ مخواہ بچوں والی ضد کرتے ہیں۔ سر سے لے کر پاؤں تک تو وہ ڈھکی ہوتی ہے۔۔ نہ دیکھ سکیں گے اور نہ سن سکیں گے۔! عاصم نے لاچار ہو کر سمجھانا چاہا”۔۔
“اسکی موجودگی میرے لیے باعث رحمت ہے ، وہ میرے آس پاس ہوتو میرے دل کو اطمینان رہتا ہے ، اسکا چند لمحوں کا ساتھ میری روح کو سرشار کر دیتا ہے عاصم”۔! روحیل نے کھوئے ہوئے لہجے میں بولا۔۔
یہ سب شیطان کے بہکاوے ہیں ، نامحرم رشتوں میں کوئی سکون اطمینان نہیں ہے۔!
نہ میں نے ایسی محبت کی ہے اور نہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، ابھی آیا ہوں تو شرافت سے دعا نکاح کروں گا اور اپنی دلہنیا کو اپنے ساتھ لے اڑوں گا ! اور ویسے بھی نامحرم میں اطمینان ڈھونڈنے سے بہتر ہے کہ بندہ اپنی نیند پوری کر لے جو میں روز کرتا ہوں۔ آپ بھی اس پر عمل کیجئے۔۔۔!
خیر آپ ادھر بیٹھ کر آہیں بھریں۔! میرے میں تو اتنا حوصلہ نہیں ہے ۔! عاصم انتظار گاہ کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں زینہ کی طرف جاتے ہوئے روحیل کو باور کروا گیا۔
عاصم تو واپس آ پھر میں تیری شوخیاں نکالتا ہوں۔ شوخا نا ہو تو ۔!! سوچا تھا چھوٹا بھائی ہے تو میرے لیے راستہ ہموار کرے گا مگر یہ تو خود میرے راستے میں دیواریں چننے ہر تلا ہوا ہے۔ چنگیز خان بنا پھرتا ہے۔۔روحیل زچ ہو کر بڑبڑایا۔۔۔
ہاں بھئی زید تم اور بھیا پہلے ذیشان بھائی کو ڈھونڈو پھر جو چیزیں درکار ہیں فوراً خرید کر لے آؤ یار ۔! زینہ نے لسٹ بنا لی ہے ۔؟؟
زینہ کدھر گئی ہے نظر نہیں آ رہی ہے۔؟؟
وہ شہلا آپا اور نرس کے ساتھ اندر گئی ہے ابھی آتی ہی ہو گی۔۔۔
یار نرس نے ماسی کے بارے میں کوئی خیر خبر دی ہے۔؟؟ میں نے اندر جا کر دوبارہ پوچھا ہے مگر بس دعا کا بول رہے ہیں عاصم بھائی ۔! زید کی آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں۔۔
پریشان نہ ہو یار ۔! اللہ بہترین کارساز ہے۔!
بس عاصم بھائی ایک کے بعد دوسری آزمائش آ رہی ہے۔ زید نے بھرائی آواز میں بولا اور ساتھ ہی آنسوؤں کی لڑیاں چہرے پر لڑھکنے لگیں۔۔
زید تم پیسوں کی وجہ سے پریشان ہو ۔؟؟ یار میں تمہیں بارہا یقین دہائی کروا چکا ہوں کہ تمہیں رتی برابر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ نے اگر ماسی اور شہلا کو اس حالت میں رکھا ہے تو ساتھ اسباب بھی تو نکال دئیے ہیں۔۔ عاصم نے زید کی کمر تھپتھپائی۔۔ جاؤ جلدی سے زینہ کو ڈھونڈ کر لاؤ۔!
نجانے نرس اسے کس طرف لے کر چلی گئی ہے۔ ذیشان نے پھر شور شرابہ کرنا ہے کہ مجھے کیوں بےخبر رکھا گیا ہے ۔۔۔۔؟
زینہ جوکہ نرس کی مطلوبہ اشیاء کو قلمبند کرنے میں غلطاں تھی اچانک ذہن میں جھماکا ہوا یہ سب چیزیں لکھ کر میں اس آوارہ لفنگے کو دوں گی ۔؟ سوچ کر ہی زینہ نے جھرجھری لی۔۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔۔۔
ایک تو وہ آوارہ جانتا بھی ہے کہ میں ہی یہ سب سپردِ قرطاس کر رہی ہوں۔۔۔ زینہ کا جی چاہا اپنی بےبسی پر دھاڑیں مار کر رو دے۔۔۔
زینہ شہلا کو تسلی دے کر باہر انتظار گاہ کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
عاصم کو دیکھتے ساتھ ہی الفاظ کے چناؤ کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔ وہ ویرے میں نے نرس کی ہدایت پر تمام چیزیں قلمبند کر لیں ہیں مگر آپ آسانی سے یہ سب خرید لیں گے کیا؟؟؟
زینہ میں نہیں جا رہا ہوں روحیل بھائی اور زید جا رہے ہیں، تمہیں پتا ہے ذیشان بھائی کو بھی منڈی سے منا کر لانا ، جان جوکھوں کا کام ہے۔۔۔
ویر وہ میں سوچ رہی تھی کہ میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں اور زید کو ادھر چھوڑ جاتے ہیں۔
ارے پگلی شہلا آپا کو تمہاری ضرورت پڑی تو پھر زید تو کچھ نہیں کر پائے گا۔! وہ ایسے اکیلی گھبرا جائیں گی۔۔!
چلیں جیسے آپ سب کو مناسب لگتا ہے۔زینہ نے ہتھیار ڈال دیئے اور اپنے ہاتھوں سے قلمبند صفحہ(ورقہ) عاصم کو تھما دیا۔۔۔زینہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکا تحریر کردہ ایک حرف بھی اس آوارہ روحیل تک پہنچے ۔۔۔ کڑوا گھونٹ پی کر کونے میں پڑی کرسی پر بیٹھ گئی مگر سامنے سے قریب آتی نرس نے زینہ کا نام پکارا۔
زینہ چوکنا ہو کر نرس کی طرف قدم بڑھانے لگی۔۔۔ آپ کا نام زینہ ہے ؟
جججججججی ۔! زینہ کسی انہونی کے ڈر سے ہکلائی ۔۔
آپ کی والدہ کو ہوش آ گیا ہے۔وہ بار بار اس نام کو پکار رہی ہیں۔۔
وہ شدید نقاہت کا شکار ہیں لہذٰا انکے سامنے کسی قسم کی پریشان کن بات نہ کی جائے، انکو اس وقت ہمت اور حوصلے کی اشد ضرورت ہے۔۔
بت بنی زینہ کے آنسو نقاب کو بھگونے لگے۔۔۔
غم و خوشی کی ملی جلی کیفیات میں بھاگ کر دوسرے کونے میں کھڑے عاصم کی طرف لپکی۔۔
ویرے امی کو ہوش آ گیا ہے ۔۔۔
واقعی ۔؟
ہاں ویرے۔!
زینہ بہت مبارک ہو اللہ نے تمہاری گریہ زاری قبول کر لی ہے ۔ ہاں ویرے ابھی میں امی کو دیکھنے جا رہی ہوں تم ادھر ہی رکو۔! اگر شہلا آپا کی طرف سے نرس آئی تو مجھے مطلع کر دینا۔۔ !
ہاں تم آرام سے جاؤ ۔! اور ہاں ماسی کے سامنے رونا مت۔! میں ادھر ہی بیٹھا ہوں ، تم اطمینان کے ساتھ ماسی کے پاس وقت گزارو!۔ ٹھیک ہے ویرے ۔۔!
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *