Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27
امی میں آپ کی ٹانگ کو مالش کروں۔؟؟
ارے نہیں زینہ۔! میں تو فزیوتھراپیسٹ کے ساتھ اس ایک گھنٹے کی ورزش سے تھک چکی ہوں اب کچھ دیر آرام کروں گی۔۔
تم روحیل کے ساتھ جاؤ اور اسکی ضرورت کی ہر چیز تیار کرو، دوپہر کے کھانے کی تیاری کرو بیٹی ۔
تمہیں بولا ہے دن میں میری فکر نہ کیا کرو ،مجھے عاصم روحیل دن میں بارہا آکر دیکھتے پوچھتے رہتے ہیں تم صرف اپنے گھر کی طرف توجہ دو میری پیاری سی بچی۔۔۔ !
جی امی۔!
ساتھ بیٹھے روحیل نے زینہ کی کمر پر ہلکی سی چٹکی کاٹ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔۔
بدلے میں زینہ نے پلٹے بنا اسکی ران پر ناخن گاڑھ دیئے۔۔۔
یا اللہ۔! ماسی امی آپ لڑاکا قسم کی لڑکیوں کو قابو کرنے کا کوئی نسخہ بتا دیں ۔!!
کس قسم کی لڑاکا لڑکیاں بیٹا۔؟؟
ماسی یہی میسنی سی ، ضدی اور بیوقوف قسم کی لڑکیاں۔!!
اس زینہ نے تو نہیں اس قسم کی کوئی حرکت کی ہے بیٹا ؟؟
ارے نہیں ماسی۔! زینہ تو اس قدر فرمانبردار ہے کہ اگر میں اسے بولوں کہ ایک ٹانگ پر کھڑی ہو جاؤ تو کھڑی رہے گی۔۔ میں تو بس اضافی معلومات کے لیے پوچھ رہا تھا۔۔۔
زینہ روحیل کے اس انوکھے سوال پر کھول کر رہ گئی اور دوبارہ سے کھسے میں قید نازک پاؤں کو روحیل کے دودھیا پاؤں جو کہ کالی چپل میں قید تھے اپنا پاؤں رکھ کر زور سے دبایا۔۔
وقتی شیرنی بن لو پھر تم نے کچھ دیر بعد بھیگی بلی بن جانا ہے۔! روحیل نے سرگوشی کی۔۔
زینہ مجھے کبھی بھی تمہاری طرف سے شکایت کا موقع نہ ملے۔! روحیل کی ہر بات سر آنکھوں پر رکھنی ہے۔! اب جاؤ اور اسکے کل کے سفر کی تمام تیاری مکمل کرو۔۔۔! ماسی امی اپنی دھن میں مگن بولے جا رہی تھیں جبکہ یہ دونوں اپنی تمام تر قوت ایک دوسرے کو چڑانے میں ضائع کر رہے تھے۔۔
زینہ میری باتیں سن رہی ہو نا۔؟؟
جی امی۔!! زینہ چاہتے ہوئے بھی انکار نہیں کر پائی۔۔
روحیل بیٹا اسے لے جاؤ اور جو ضرورت کا سامان ساتھ لے جانا ہے زینہ سے بولو تیار کرے ۔! آخر کو بیوی ہے تمہاری ۔!!
جی ماسی امی آپ آرام کریں ۔! میں اسے اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں اور اگر آپ کو کوئی ضرورت پیش آئی تو میں شریفاں خالہ کو بول جاتا ہوں تاکہ وہ آپ کا دھیان رکھ سکے ، ویسے عاصم بھی تو گھر پر ہی ہے۔۔
روحیل اللہ تمہارا دامن خوشیوں سے بھر دے ، تم دونوں پھولو پھلو بیٹا آمین۔۔
روحیل کی آمین ماسی کی آمین سے بلند نکلی۔۔جبکہ زینہ کو آنے والے لمحات کا سوچ کر جھر جھری آنے لگی۔۔
اچھا ماسی میں زینہ کو ساتھ لے جا رہا ہوں۔! روحیل نے کھڑے ہوتے ہوئے زینہ کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
جاؤ بیٹا۔! زینہ بیٹھی کیوں ہو بیٹی جاؤ تمہارے شوہر کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔!
چار و ناچار زینہ کو اٹھنا پڑ گیا۔۔۔
روحیل نے ماسی کے کمرے کا دروازہ آرام سے بند کرتے ہوئے زینہ کو معنی خیز نظروں سے گھورتے ہوئے بولا۔ زینہ میرے ساتھ اور لو پنگے ۔!
“تم سیر ہو تو میں سوا سیر ہوں”۔!
زینہ بنا جواب دینے گردن جھٹک کر رہ گئی۔
چلیں چھوڑیں میرا ہاتھ۔! میں خود چل کر جاؤں گی اور کمرے میں بھی آپ آرام سے فاصلے پر بیٹھ کر مجھ سے بات کریں گے۔!
منظور ہے تو ٹھیک ورنہ میں باورچی خانے میں جا رہی ہوں۔ زینہ کا روٹھا لہجہ روحیل کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔
میری نخریلی سی بیوی صاحبہ اس وقت کمرے میں نہیں بلکہ باغیچے میں میرے ساتھ چلو ۔!
روحیل نے زینہ کو کلائی سے پکڑ کر اپنے قریب کیا اور شانوں سے تھام کر عقبی باغیچے کی طرف چل دیا۔۔
میں نے آپ کو بارہا بولا ہے اس طرح کی چھچھوری حرکتیں سب کے سامنے نہ کیا کریں ۔!!!
آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتی۔؟؟ زینہ رو دینے کو تھی۔۔۔ تنہائی میں بھی نہیں کرنے دیتی ہو تو پھر میں کیا کروں۔؟؟؟
ویسے بھی میری حرکتیں ، میری مرضی۔!! تم کیوں خون جلاتی ہو۔؟؟ روحیل کے ڈھیٹ پنے کی انتہا پر زینہ کھول کر رہ گئی۔۔۔
ٹھیک ہے پھر دس سال بعد بھی ایسے ہی کریں گے کیا ۔؟؟؟
فی الحال دس دن نہیں گزرے ہیں اور تم دس سال کے بارے میں پوچھ رہی ہو۔؟
تم خشک مزاج کو رنگین مزاج بنانے کے لیے دس سال کا عرصہ درکار ہے کیا ؟؟
جی نہیں ۔! میں نے اس لیے نہیں پوچھا۔۔۔! دونوں باتیں کرتے کرتے باغیچے میں جا پہنچے۔۔
السلام علیکم ڈیڈ اور پیاری پھپھو جان۔!!!
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔!
روحیل تم اپنی بیوی کو کبھی اکیلا بھی چھوڑ دیا کرو۔، ہر وقت اسکے اردگرد منڈلاتے رہتے ہو۔!!!
پھپھو روحیل زینہ کو دیکھ کر سیخ پا ہو گئیں۔
پھپھو میں بیچارہ کل دو ہفتوں کےلئے جا رہا ہوں تو صرف آج کا دن باقی بچا ہے ، مجھ پروانے کو اپنی شمع کے آگے پیچھے منڈلانے دیں۔۔۔
توبہ توبہ ۔! یہ لڑکا تو بہت واہیات ہوتا جا رہا ہے بھائی جان۔!!
ارشاد صاحب بھی مسکرائے بنا نہ رہ پائے۔۔
روحیل پھپھو کو کیوں تنگ کرتے ہو یار۔!
ارے ڈیڈ میں کب تنگ کرتا ہوں وہ تو بس پھپھو باتیں ہی ایسی کرتی ہیں کہ میرے اس شریف منہ سے ایسے جوابات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
روحیل نے زینہ کو کرسی پر بٹھایا اور خود پاس پڑی کرسی پر جا بیٹھا۔۔
پھپھو پتا ہے ابھی میں آپکی خدمت میں کیوں حاضر ہوا ہوں۔؟؟
نہیں مجھے نہیں معلوم ہے ۔! پھپھو نے زینہ کو گھورتے ہوئے جواب دیا۔۔
پھپھو میں آپ سے گناہ صغیرہ سرزد کرنے کی اجازت لینے آیا ہوں۔؟؟؟
پھپھو اچھل کر رہ گئیں۔ زینہ اور ارشاد صاحب بھی حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہونے لگے۔۔
بھائی جان دیکھا ہے اس لڑکے کا حال۔؟!
جو منہ میں آتا ہے بولتا چلا جاتا ہے۔ پھپھو نے شکوہ کناں نظروں سے روحیل کو گھورا۔۔۔
پھپھو آپ کی ڈکشنری میں بات ہی کچھ ایسی ہے کہ مجھے اسے گناہ صغیرہ کا نام دینا پڑ گیا ہے۔۔
اے لڑکے بتاتا کیوں نہیں ہے ۔؟؟مجھے کیوں پریشان کئے جا رہا ہے۔؟؟
پھپھو میں زینہ کو اپنے ساتھ باہر لے جانا چاہتا ہوں، اگر آپ کی اجازت ہوتو کیا یہ گناہ میں اپنے سر لے سکتا ہوں۔؟روحیل نے اپنے وجیہہ چہرے کو لٹکاتے ہوئے معصومیت سے پوچھا۔۔۔
آئے ہائے باؤلا ہو گیا ہے کیا ۔؟؟
آدھا آدھا دن تو یہ لڑکی کمرے میں گھسی رہتی ہے، گھر داری اس گھر کے قواعد و ضوابط کب سیکھے گی۔۔ ؟؟
پھپھو جان میں دو ہفتوں کے لئے جا رہا ہوں ،میری غیر موجودگی میں جی بھر کر گھرداری سکھایئے گا ، میری طرف سے پوری اجازت ہے ! روحیل کا ملتجی لہجہ اور پھپھو کی گھوریاں اپنے عروج پر تھیں۔۔۔
پھپھو گھوریں نہیں مجھے جواب دیں پلیز بلکہ ایسا کرنا آپ زینہ کو دیگوں کی پکوائی کا کام بھی سکھا دینا۔۔!!
روحیل نے جوش میں نیا مشورہ دے ڈالا۔۔۔
بھتیجے میرے ہاتھوں میں پلے بڑھے ہو ،مجھے طور طریقے سکھاؤ گے کیا ۔؟؟
ڈیڈ ۔!!! اب پھپھو کیدو اور کھیڑوں والا کردار انجام دے رہی ہیں۔۔!
ارشاد صاحب نے مسکراتے ہوئے اخبار سامنے پڑی میز پر رکھا اور بولے۔۔
شمیم جانے دو ۔! ایک دن ہی رہ گیا ہے پھر دو ہفتے بعد لوٹے گا۔
بھائی جان آپ کے انہیں لاڈوں نے بگاڑ رکھا ہے۔۔۔۔
پھپھو جیمی کی بیوی دنیا کی بدنصیب ترین بہو ہو گی۔!!!
روحیل نے جان بوجھ کر پھپھو کو چھیڑا۔۔
روحیل تم صرف باہر جانے کےلئے کتنے پاپڑ بیل رہے ہو۔ ایسا کرو تم عاصم کو اپنے ساتھ لے جاؤ ۔۔!!
پھپھو میرا نکاح عاصم سے نہیں زینہ سے ہوا ہے۔!! آپ غالباً بھول چکی ہیں۔۔ روحیل نے دہائی دی جبکہ زینہ پھپھو بھتیجے کی نوک جھونک پر محفوظ ہو رہی تھی۔۔ زینہ کا جی چاہ رہا تھا کہ روحیل کو پھپھو سے کبھی بھی اجازت نہ ملے ۔۔۔
اسی دوران عاصم آن ٹپکا۔۔
او شکر ہے میرا چھوٹا ہمدرد بھائی آ گیا ہے ورنہ پھپھو کی پابندیاں میری جان لے لیں گی۔۔
روحیل جو منہ میں آتا ہے بولتے چلے جاتے ہو۔! پھپھو تڑپ اٹھیں۔۔
کیا ہو گیا ہے بھیا۔؟؟
یار عاصم تم ہی ان تھانیدار مزاجوں کو سمجھاؤ مجھے اپنی نئی نویلی منکوحہ کے ہمراہ باہر جانے کی اجازت دے دیں۔۔
بھیا اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے۔؟؟ یہ لیں گاڑی کی چابی اور عیش کریں۔!
عاصم نے جیب سے چابی نکال کر روحیل کے سامنے رکھی۔۔۔
یہ دیکھو نا بھیا کا چمچہ۔! دونوں کو سیدھا کر دوں گی۔! پھپھو میں سیدھا ہونے کےلئے حاضر ہوں لیکن اس نوبیاہتا کو کچھ نہ بولیں۔۔
زینہ عاصم کی باتوں پر شرم سے لال ہونے لگی اور گردن جھکا گئی۔۔
روحیل میں صبر کیوں نہیں ہے ۔؟؟ سب کیا سوچیں گے۔؟؟ زینہ سوچ کر ہی گھبرا گئی۔۔۔
روحیل میں تمہاری بیوی سے پوچھتی ہوں وہ جانا بھی چاہتی ہے یا نہیں ۔؟
ہاں بھئی زینہ۔! روحیل کے ساتھ باہر جانا چاہتی ہو یا پھر باورچی خانے میں جا کر شوہر کے لئے اپنے ہاتھ سے کھانا بنانا پسند کرو گی۔۔؟؟؟
زینہ نے فوراً چہرہ اٹھا کر اوپر دیکھا۔
روحیل کو دیکھے بنا بولی۔۔
پھپھو میں ان کے لئے کھانا بنانا زیادہ پسند کروں گی۔! آپ بتائیں کیا بناؤں۔؟؟
زینہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
یہ ہوئی نا مشرقی لڑکیوں والی بات۔!
آج میرے بھتیجوں کی پسند کے تمام کھانے بنیں گے۔!
روحیل بل کھا کر رہ گیا۔ عاصم نے آنکھیں ٹیڑھی کر کے غمگین روحیل کے اترے چہرے کو دیکھا۔۔
زینہ اس سے پہلے کہ تم کھانا بنانا شروع کرو ،میرے ساتھ آؤ پلیز۔!
روحیل پھولے چہرے کے ساتھ فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔۔
زینہ نے سب کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا۔۔
زینہ جاؤ۔!! پندرہ منٹ ہیں تمہارے پاس ،پھر آکر کھانے کی تیاری شروع کرو۔پھپھو نے وقت کی پابندی بھی عائد کر دی۔۔
جی پھپھو۔! دھیمے لہجے میں جواب دے کر زینہ روحیل کے ہمراہ چلنے لگی۔۔۔
روحیل کا تنا چہرہ زینہ کو خوفزدہ کرنے لگا ۔ بنا ہاتھ تھامے روحیل نے خاموشی سے باغیچے سے داخلی مہمان خانے سے گزر کر اوپر اپنے کمرے میں پہنچ کر پہلی فرصت میں دروازہ کنڈی کیا ۔۔۔ کمرے کے بیچ و بیچ کھڑی زینہ کے کانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔۔
روحیل نے سر سے پاؤں تک زینہ کو گھورا جو خاموشی سے سر جھکائے کپکپا رہی تھی۔۔
تمہیں کھانا پکانے کا کتنا شوق ہے نا۔!!
شوہر کی بات جوتے کی نوک پر۔! روحیل نے خفگی دکھائی۔
ابھی یہاں پر مجسمہ بنی کھڑی نہ رہو جاکر میرے کپڑے نکالو۔!
یہ سب تیاری میں خود بھی کر سکتا ہوں مگر ماسی امی کی محبت میں تم سے کروا رہا ہوں۔!! پندرہ سال سے مجھے اپنے سارے کام کرنے کی عادت ہے۔
نوکر چاکر ہونے کے باوجود بھی ڈیڈ نے ہمیں سب کچھ خود سے کرنا بھی سکھایا ہوا ہے۔۔ !
سمجھ آ گئی ہے۔؟؟
جججی۔!
ابھی الماری کھولو۔!
زینہ نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جھکے سر کے ساتھ چلنا شروع کر دیا۔۔
ہوش کے ناخن لو زینہ۔! الماری اس طرف ہے اور تم باہر کی طرف چل رہی ہو۔!
زینہ نے آنکھوں میں آئے ہوئے آنسوؤں پر بند باندھے۔۔
یہ جو سامنے لال رنگ کا ڈبہ پڑا ہے اسے میرے پاس لے کر آؤ۔! روحیل نے صوفے پر بیٹھے بیٹھے نیا حکم نامہ جاری کیا۔۔
آپ نے تو کپڑوں کا بولا تھا ۔؟ زینہ نے پلٹ کر دہائی دی۔۔
جو بولا ہے وہ کرو ۔! سوال جواب میں وقت کا ضیاع مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔!!
اللہ جانے اب اس ڈبے میں کونسا قارون کا خزانہ پڑا ہے ۔؟ زینہ نے بھاری دل کے ساتھ لالی مخملی ڈبہ روحیل کے سامنے پیش کیا۔۔۔
اسے میز پر رکھو اور الماری کے دوسرے پٹ کھولو وہاں پر ایک کالے رنگ کا بٹوہ پڑا ہے وہ لے کر آؤ۔!
جی ۔!!
عجیب شخص ہے۔!
زینہ حکم بجا لاتے ہوئے بنا چوں چراں کیے بٹوہ بھی لے آئی۔۔
اب میرے ساتھ بیٹھ جاؤ۔!
زینہ فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند ہاتھ کے فاصلے پر روحیل کے ساتھ ٹک گئی۔۔۔
بال ہٹاؤ۔!
جی۔؟؟زینہ کو جھٹکا لگا۔
بولا ہے بال ہٹاؤ۔!
بالوں کو کہاں پر لے کر جاؤں۔؟ کبھی کہتے ہیں کھلا چھوڑ دو تو کبھی کہتے ہیں بال ہٹاؤ۔ زینہ دل ہی دل میں شکوہ کنائی کرنے لگی۔۔
زینہ اُردو سمجھتی ہو یا پھر پہاڑی میں مخاطب کروں۔؟؟
“اپنڑے سوہنڑے جے بال پراں کر سو”۔؟؟ ( اپنے خوبصورت سے بال پیچھے ہٹاؤ گی)؟..
زینہ نے فوراً اپنے ریشمی بالوں کو سمیٹ کر پشست سے آگے سینے کی طرف ڈال دیا۔۔
اب میرے قریب آؤ۔!
اس بار زینہ کی ہمت جواب دے گئی۔دل کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگیں، جی چاہا کمرے سے بھاگ جائے۔۔
اور کتنے قریب آؤں۔؟؟ زینہ نے لاچارگی سے پوچھا۔
ڈبہ کھولو۔!
زینہ نے ڈبہ کھولا تو اس کے اندر سونے کی زنجیر “روحیل” کے نام سے جھلملا رہی تھی۔۔
اسے نکال کر مجھے دو ۔!
جججی۔! زینہ نے لرزتے ہاتھوں سے زنجیر روحیل کی طرف بڑھا دی۔
بولا ہے قریب آؤ۔!
زینہ چار و ناچار کھسک کر روحیل کے مزید قریب ہوئی۔۔
یہ ہوئی نا مشرقی منکوحہ والی بات۔! روحیل زینہ کو چھیڑنے سے خود کو باز نہ رکھ سکا۔۔
یہ زنجیر تمہارے جسم سے الگ نہیں ہونی چاہیئے۔! دن رات مجھے یہ زنجیر تمہاری اس صراحی گردن میں نظر آنی چاہیے۔۔۔
روحیل نے زنجیر پہناتے ہوئے بولنا واجب سمجھا۔۔
ابھی چہرہ میری طرف گھماؤ۔!
میرا مطلب ہے پلٹو۔!!
زینہ چہرہ پلٹنے کے بجائے اٹھ کھڑی ہوئی۔
اسے پلٹنا بولتے ہیں۔؟ روحیل کا
غصہ ہنوز برقرار تھا۔۔
ننننہیں ۔! زینہ فوراً بیٹھ گئی۔۔
میری آنکھوں میں دیکھو بنا پلکیں جھپکائے۔
عجیب شخص ہے۔؟ زینہ کی شرم آڑے آنے لگی۔۔
پلکوں کی جھالر کبھی اٹھتی اور کبھی لرزتی، نشیلی روشن آنکھیں ناظر کی آنکھوں میں دیکھنے سے قاصر تھیں۔۔ناظر کی گہری جھیل سی آنکھوں میں زینہ خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کرنے لگی۔۔
میں نہیں یہ کر سکتی ہوں۔ زینہ نے جھلا کر بولا اور منہ بسور کر روحیل سے ہٹ کر بیٹھ گئی۔۔
تمہیں کرنا کیا آتا ہے۔؟؟ شکریہ بولنا بھی نہیں آتا کیا۔؟؟
آپ کا شکریہ۔!
شکریہ تو ایسے بول رہی ہو جیسے دوڑ میں حصہ لینے جا رہی ہو۔۔!!
بھئی محبت سے بولو۔! روحیل نے زینہ کو چھیڑا۔۔
آپ کا بہت بہت شکریہ ۔!! زینہ نے فوراً جواب دیا۔۔
بھئی آواز میں شیرینی لاؤ۔!
روحیل آپ کا بہت بہت شکریہ ، آپ نے مجھے اس خوبصورت تحفے سے نوازا ہے۔
زینہ نے بولتے ساتھ نظریں جھکا لیں۔۔
ابھی میرے پاس آکر بیٹھو۔!!
روحیل پھپھو نے پندرہ منٹ کا وقت دیا تھا اور اب دس منٹ گزر چکے ہیں۔ زینہ نے ڈرتے ڈرتے یاددہانی کروائی۔۔
ایک تو تم اور تمہاری پھپھو دونوں میری جان کو آ گئی ہیں ۔!
__
روحیل وہ آپ غصہ نہ کھائیں۔! میں دو تین گھنٹوں میں کھانا بنا لوں گی ، پھر واپس آ کر آپ کا مطلوبہ سامان اکٹھا کر لوں گی۔
ابھی جانے دیں پلیز۔!!
زینہ کی لاچارگی اپنے عروج پر تھی جبکہ
روحیل زینہ کو کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھا۔
تم پتا ہے کیا کرو۔؟؟ روحیل نے خونخوار نظروں سے زینہ کو گھورتے ہوئے بولا۔
ککککیا کروں۔؟؟؟
محلے والوں سے بھی پتا کروا لو شاید کسی نے تم سے کریلے اور چونگیں پکوانی ہوں یا پھر ہو سکتا ہے کسی کے گھر کپڑوں کی دھلائی نہ ہوئی ہو تو تم جا کر انکا بھی ہاتھ بٹا آؤ۔۔!!!
جی۔؟؟؟ زینہ روحیل کے سنجیدہ انداز بیان پر ششدر رہ گئی۔۔
ہاں نا۔!! روحیل نے ہنسی دبائی۔
بھئ اب تمہیں خدمت خلق کا اس قدر شوق ہے تو کیوں نہ اہلِ محلہ بھی تمہاری صلاحیتوں سے فیض یاب ہوں۔!!!
آپ مذاق کر رہے ہیں نا ۔؟ زینہ مجبوراً پوچھ بیٹھی۔۔
تمہارا کیا خیال ہے۔؟؟
مجھے تو لگتا ہے آپ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔۔! زینہ نے معصومیت سے بولا۔
چلو جیسے تمہیں سمجھ آئے ویسا ہی سمجھ لو۔!!
اب جاؤں۔؟؟؟ زینہ کا ملتجی لہجہ اور سوالیہ نظریں دیکھ کر روحیل کو ترس آنے لگا۔۔
ہاں جاؤ۔!!! روحیل نے دھیمے لہجے میں شرافت سے بولا۔۔۔
اور سنو ۔!
جی ۔!!
کیا پکاؤ گی۔؟؟ پتا نہیں جو پھپھو بولیں گی۔!
آپ کیا کھائیں گے۔؟؟ وہی بنا لیتی ہوں۔! زینہ نے دروازے کے قریب پہنچتے ہوئے پوچھا۔۔۔
تم کیا کیا بنا لیتی ہو۔؟؟؟
میں سارے سادہ دیسی کھانے بنا لیتی ہوں مثلاً دال سبزی، پلاؤ اور بریانی وغیرہ۔
مکئی کی روٹی بنا لیتی ہو۔؟؟؟
ننننہیں میں نے کبھی بنائی نہیں ہے۔زینہ یکدم گھبرا گئی۔۔
مجھے تو مکئی کی روٹی کھانی ہے۔!!!
مگر پتا نہیں مکئی کا آٹا گھر میں ہو گا بھی یا نہیں۔!
آپ نے پہلے کبھی کھائی ہے مکئی کی روٹی۔؟؟
نہیں ۔!!
تو پھر آج کیوں کھانا چاہتے ہیں۔؟؟
کیوں کہ آج تم بنا کر دو گی نا !! روحیل چلتا ہوا زینہ کے قریب آن کھڑا ہوا۔۔ روحیل کی لو دیتی نگاہیں زینہ کو جز بز کرنے لگیں۔
چلیں ٹھیک ہے میں پھپھو سے پوچھ کر آپ کو بنا دوں گی۔۔
زینہ خود کو سنبھالتے ہوئے فوراً دروازے کی طرف لپکی۔۔
سنو جلدی کھانا بنا لینا ،میں تمہارا منتظر ہوں۔!!!
جی اچھا۔۔!
زینہ چند لمحوں میں برق رفتاری سے کمرے سے نکل کر زینے اترنے لگی ۔۔۔
روحیل اسکی پھرتیوں پر مسکرا کر رہ گیا۔۔
انتہا درجے کی بیوقوف اور معصوم سی لڑکی ہے۔
اسے کیسے بتاؤں ؟ کیسے سمجھاؤں کہ ہر چھوٹی بات پر گھبرایا نہ کرے۔۔
چھوئی موئی کے جیسے لڑکی ہے۔۔
روحیل نے زینہ کو سوچتے ہوئے اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا اور کام سے منسلک ای میلز کھنگالنے لگا۔ اب زینہ کے انتظار میں وقت پاس کرنے کا ایک ہی حل بچا تھا ۔جی میں آیا باورچی خانے میں چلا جائے مگر پھپھو کو سوچ کر اپنا کام جاری رکھا۔۔
******************************************
السلام علیکم پھپھو۔!!
اچھا تم آ گئی ہو ، میں ابھی شریفاں کو بھیجنے والی تھی ، سلام کے جواب کے بجائے پھپھو نے کڑی نظر سے زینہ کو گھورا۔
پھپھو میں نے دیر کر دی ہے کیا ۔؟؟ ہاں پانچ منٹ اوپر لگا کر ہی آئی ہو۔
معذرت خواہ ہوں پھپھو۔ زینہ نے شرمندگی سے بولا۔۔
پھپھو ابھی کیا کیا بنانا ہے۔؟؟؟
میں سوچ رہی ہوں گوشت کا قورمہ اور روغنی نان بنا لیتے ہیں۔ وہ پھپھو مجھے نان بنانے نہیں آتے ہیں مگر میں روٹی بہت گول اور اچھی بنا لیتی ہوں۔۔ زینہ نے پرجوش ہو کر تفصیلات دیں۔۔
ہممم۔! سب سیکھ جاؤں گی اگر کمرے کے بجائے وقت باورچی کو دو گی تو۔!!
اس وقت نان رہنے دو ایسا کرو مرغی والی بریانی کے ساتھ رائتہ بنا لو۔
شامی کباب بنا لیتی ہو۔؟؟
ججججی ایک آدھ بار بنائے ہیں۔زینہ نے گھبراہٹ کو چھپاتے ہوئے بولا۔۔۔
اچھا ابھی پودینے کی چٹنی اور رائتہ تیار کر لو اور باقی شریفاں ساتھ ساتھ مصالحہ جات تیار کرتی جائے گی۔!
جی بہتر۔!!
وہ پھپھو وہ روحیل کہہ رہے تھے کہ انہیں مکئی کی روٹی کھانی ہے۔! زینہ نے ڈرتے ڈرتے بولا۔۔۔
اس روحیل کو تو میں ابھی سیدھا کرتی ہوں ،کب اس نے مکئی کی روٹی کھائی ہے پہلے جو ابھی عجیب و غریب فرمائشیں کر رہا ہے۔۔؟؟
پھر میں بنا لوں مکئی کی روٹی۔؟؟؟
ارے کوئی ضرورت نہیں ہے۔! ایسے ہی خواہ مخواہ تمہیں تنگ کر رہا ہے۔!
پھپھو نے میز پر پڑی دھنیے کی گٹھی کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے بولا۔۔
مجھے ڈر ہے وہ کہیں ناراض ہی نا ہو جائیں ، ابھی مجھے خاص طور پر بولا ہے ۔۔!
میرے ہوتے ہوئےنہیں ہوتا ناراض۔!!
جی ۔۔! زینہ خاموشی سے پھپھو کی مطالبات پر عملدرآمد کرنے لگی جبکہ اندر ہی اندر روحیل کی فرمائش کی فکر کھائے جا رہی تھی۔۔۔
اور تم میکے میں ایسے کھلے بالوں سے باورچی خانے میں جاتی رہی ہو۔؟؟
ننننہیں پھپھو میں کبھی بھی بال
کھول کر باورچی خانے میں نہیں گئی ہوں۔زینہ نے تھوک نگلا۔
وہ پھپھو روحیل نے بولا تھا کہ بالوں کو کھلا رہنے دو۔! زینہ نے جھٹ سے صفائی پیش کی۔۔
زینہ اپنے بالوں کو فوراً باندھو۔! پھپھو کی کڑک دار آواز زینہ کو حواس باختہ کرنے لگی۔۔
جی بہتر۔!! زینہ نے خاموشی سے آنسوؤں کو پیا ۔۔
وہ پھپھو میرے تمام کلپ اور پونیاں اوپر روحیل کے کمرے میں پڑے ہیں۔زینہ نے ڈرتے ڈرتے پھپھو کو آگاہ کیا۔۔
تم اپنی امی کے ساتھ نیچے قیام پذیر ہو تو تمہارا سامان بھی نیچے ہی ہونا چاہئے۔!
جاری ہے
