Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25
آپ بار بار ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔؟؟
زینہ میں نے اچانک موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ یہ باتیں آج تک میں کسی سے نہیں کر پایا ہوں ،تم میری بیوی ہو لہٰذا مجھے اپنے سینے کا بوجھ اتارنے دو پلیز۔۔
میں نے منیب اور اپنے دو قریبی دوستوں کو موت کے شدید نرغے میں دیکھا ہے ، میں نے انکو سکرات الموت میں تڑپتے دیکھا ہے ، میں انکے ساتھ ویڈیو کال پر تھا جب زلزلہ اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا۔
میرے وہ دوست نجانے برزخی زندگی میں کس حال میں ہوں گے۔۔؟ زینہ منیب کے بہت غلط ناجائز قسم کے ذرائع ابلاغ کے ساتھ رابطے تھے جو ابھی تک اسکے نام پر فحش مواد اسکے اکاؤنٹ سے منسلک لوگوں کو ای میل کرتے ہیں، وہ فحش مواد والی ویب سائٹس کے ساتھ رجسٹرڈ تھا ، میں نے بہت کوشش کی ہے کہ اسکا اکاؤنٹ بند کروا سکوں مگر میں نہیں کر پایا ہوں۔ میں ابھی تک کوشاں ہوں مگر وہ کانٹریکٹ پر کام کرتے ہیں۔ میں نے بارہا کوشش کی ہے مگر ناکام رہا ہوں۔۔ زینہ میں نے انکے بھیانک چہرے دیکھے ہیں جن پر اللہ کا قہر برس رہا تھا۔۔ میں غیب نہیں جانتا ہوں مگر انکی ظاہری حالت بہت خوفناک تھی۔۔ جیسے عمل الصالح صدقہ جاریہ بنتے ہیں ویسے انکے سرکردہ گناہ جاریہ بن رہے ہیں۔۔ میں نے جان توڑ کوشش کی ہے کسی طریقے سے میں منیب کے روابط والی ویب سائٹس سے منیب کا اکاؤنٹ منجمد کر سکوں مگر نہیں کر پایا ہوں ۔۔زینہ میں نے اس قیامت خیز واقعہ سے عبرت پکڑی ہے ۔۔میں بھی اسی غلاظت کا حصہ تھا، میں نے بھی منیب کی شہ پر آنکھوں کا زنا شروع کر دیا تھا ، حالانکہ میرے لیے نکاح کی سہولت موجود تھی۔۔مگر بری صحبت انسان کو لے ڈوبتی ہے۔۔ میں آج اپنا دل کھول رہا ہوں، مجھے مایوس نہ کرنا زینہ۔!!!
میں اللہ کا بار بار شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے توبہ کا موقع فراہم کیا ہے۔۔مجھے آج صرف تمہیں یقین دہانی کروانے کے لیے منیب اور باقی دوستوں کی موت کے بارے میں بتانا پڑ رہا ہے وگرنہ میں کبھی بھی کسی کو نہ بتاتا۔۔ صرف عاصم کو تمہارے بارے میں بتایا تھا مگر باقی تفصیلات چھپا گیا تھا کہ مرنے والوں کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہئے ، مرنے والوں کی پردہ پوشی کرنی چاہئے اور عبرت پکڑنی چاہیئے مگر تمہارے ساتھ بات کرنا میری مجبوری سمجھو یاپھر اشد ضرورت سمجھو ۔۔ زینہ مجھے تمہارا ساتھ چاہئیے، میں چاہتا ہوں تم میری وہ تمام سیاہ کاریاں میرے دماغ سے کھرچ ڈالو جو مجھے آئے دن بےچین رکھتی ہیں۔
مجھے صرف تم جیسی صالحہ عورت کا ساتھ درکار ہے زینہ۔۔!!! میں جب بھی تمہیں اللہ کے احکامات کی پاسداری کرتے دیکھتا ہوں تو میرے دل میں اطمینان اترتا ہے۔ زینہ مجھے بری صحبت لے ڈوبی ہے ، میرا بھی قصور ہے میں کیوں ان لوگوں کی باتوں سے متاثر ہوا اور اپنی جنسی تسکین پوری کرنے لگا۔؟ زینہ بت بنی بیٹھی تھی ، اس کے لیے روحیل کی باتوں کو ہضم کرنا نہایت کٹھن مرحلہ تھا۔
نیکو کاروں کی صحبت اختیار کرنے میں بے شمار فوائد ہیں۔ان کے پاس بیٹھنے سے علمی اور اخلاقی فوائد ملتے ہیں۔اور یہ نیک لوگوں کی دوستی کل قیامت کو بھی قائم رہے گی جبکہ باقی سب دوستیاں ختم ہوجائیں گی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اسی طرح جہنمی جہنم میں ندامت کا اظہار کریں گے کہ کاش ہم اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت نہ کرتے جنہوں نے ہمیں گمراہ کر دیااور صراط مستقیم سے ہٹا دیا، کاش کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کا دامن تھام لیتے اور آج اس ذلت آمیز عذاب سے بچ جاتے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
زینہ میں تمہیں یہ سب ایک خاص مقصد کے لیے بتا رہا ہوں تاکہ تم مجھے آسانی سے سمجھ سکو ۔میں نہیں چاہتا ہوں کہ تم میری زندگی میں یا پھر میری موت کے بعد یہ باتیں سن کر بدگمان ہو جاؤ اور سمجھو میں نے تمہارے ساتھ دھوکا کیا ہے۔۔!!
زینہ میری محبت کا آغاز تمہارے اس ویڈیو اور تم سے یونیورسٹی ملاقات پر ہوا تھا ، میرے پاس تمہاری تمام ریکارڈنگز موجود ہیں جنہیں میں بلا ناغہ سنتا اور دیکھتا رہا ہوں اور تمہارا ایک ویڈیو تو میں اسی رات فیس بک پر اپلوڈ کرنے والا تھا جس دن منیب کی موت واقع ہوئی تھی۔
کونسا ویڈیو۔؟؟؟ زینہ کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔۔
روحیل نے جیب سے فون نکال کر چند ماہ قبل کا ریکارڈڈ ویڈیو چلا دیا۔۔
یہ آپ کے پاس کیسے آیا ہے ۔۔؟؟ زینہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ اگلے ہی لمحے بیہوش کر گر پڑے گی ، کمرے کی چھت گھومتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ آنسو بلا روک ٹوک لڑیوں کی صورت میں نکلنے لگے۔۔۔
سسکتی بلکتی زینہ ویڈیو میں واضح طور پر نظر آ رہی تھی۔۔
زینہ کی حالت غیر ہونے لگی ۔ روحیل نے فوراً لپک کر اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔۔
زینہ پلیز ہوش کرو۔! کچھ نہیں ہوا ہے ، میں تمہارے پاس ہوں ۔ روحیل نے فوراً کمرے میں پڑے جگ سے پانی انڈیل کر چہرے پر چھینٹے مارنے شروع کر دیئے، زینہ کو شانوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔۔
یا ربی۔! یہ لڑکی کب سدھرے گی۔؟؟ اتنے کٹھن حالات سے گزر کر بھی کس قدر نازک دل رکھتی ہے۔۔
زینہ میری جان۔! ہوش میں آؤ۔!
روحیل نے تنگ آکر زینہ کے کندھوں کے درمیان ، شانے کے پیچھے سے ایک نس زور سے دبائی تو زینہ نے دھیرے سے آنکھیں کھول دیں۔۔
یا اللہ تیرا شکر ہے۔
پانی پیو زینہ۔! روحیل نے زینہ کو اپنے حصار میں لے کر پانی زینہ کے لبوں سے لگایا۔۔
تم کیوں اتنی کمزور دل ہو یار۔؟؟
ویڈیو دیکھ کر تمہیں اتنا بڑا جھٹکا لگا ہے اور اگر فیس بک پر چلا جاتا تو تم ادھر ہی فوت ہو جاتی۔۔!
میری آغوش میں آنے کا زیادہ شوق ہے اس لیے بار بار بیہوش ہو جاتی ہو۔؟؟؟
اب یاد رکھنا جس طریقے سے میں تمہیں ہوش میں لایا ہوں اس کا درد تمہیں چند دن محسوس ہوگا بلکہ ورم رہے گا ۔۔ اور پتا ہے یہ طریقہ بھی تمہارے ہسپتال میں بیہوش ہونے کی وجہ سے واپس اسلام آباد آکر سیکھا ہے تاکہ زوجہ محترمہ کو بروقت طبی امداد پہنچا سکوں۔۔۔
سنتے ساتھ ہی زینہ اچھل کر اٹھ بیٹھی۔۔
زینہ کے آنسوؤں کی لڑیاں روحیل کو پچھتاووں کی دلدل میں دوبارہ دھکیلنے لگیں۔۔۔
دائیں بائیں نفی میں سر جھٹکتی زینہ کرب و الم کی کیفیات سے دوچار تھی۔
روحیل ندامت اور شکستگی سے زینہ کا ہاتھ تھامنے لگا ۔۔۔
زینہ مجھے معاف کر دو پلیز ۔! مجھے نہیں تھا پتا کہ تمہیں یہ سب حقائق اذیت سے دوچار کریں گے، میں تو تمہیں اپنی ان مدفون خواہشات کے کھوکھلے پن سے آگاہ کرنا چاہتا تھا، میں نے اس جرم کی دنیا میں رہتے ہوئے سوائے ذلت و گمراہی کے اور کچھ حاصل نہیں کیا ہے ، زینہ اس موج مستی نے مجھے خالی ہاتھ کر دیا ہے، میں اپنی تمام دولت لٹا کر بھی وہ وقت واپس نہیں لا سکتا ہوں۔۔۔
میری اس بھٹکی روح کو تمہاری متقی پناہوں کی اشد ضرورت ہے۔! مجھے کبھی بھی خالی ہاتھ نہ لوٹانا..!
میری محبت کے اس پاکیزہ جذبے کو ریاکاری نہ سمجھنا۔۔
میرا ہاتھ تھام لو زینہ۔!!
محبت نہیں کر سکتی ہو ، لیکن ساتھ تو نبھاہ سکتی ہو یار۔!!
زینہ غم زدہ سوگوار آنکھوں سے روحیل کے چہرے پر ٹکٹکی باندھے بے حس وحرکت بیٹھی تھی۔۔۔
روحیل نے ہمت کر کے زینہ کا ہاتھ تھام لیا۔
بولو میرا ساتھ دو گی نا ۔؟؟ مجھے اس تاریک ماضی سے نکال کر صراطِ مستقیم پر چلنے میں ساتھ دو گی نا ۔؟؟؟
لمبی گفتگو کے بعد کمرے میں سکوت چھا گیا۔
زینہ کی نظریں روحیل کے چہرے کا طواف کرنے لگیں۔۔خوبرو روحیل کے چہرے پر بیقراری ، بےکلی اپنے عروج پر تھی۔۔۔
زینہ جواب دو ۔!!!
زینہ کی زبان گویا تالوں کے ساتھ چپک گئی، بالآخر خالی خالی نظروں سے اثبات میں گردن جھٹک کر رہ گئی۔
روحیل۔!!!!
نکاح کے بعد آج کتنے دنوں بعد زینہ کی زبان سے روحیل اپنا نام سن کر خوشی سے پھولا نہ سما رہا تھا۔۔
زینہ تم نے آج مجھے میرے نام سے پکارا ہے۔؟؟
آج مجھے میرے نام سے انسیت ہو گئی ہے۔!!
زینہ مجھے میرے نام سے دوبارہ پکارو پلیز۔!! تمہاری زبان سے ادا ہوتا میرا نام کس قدر بھلا لگتا ہے۔!! روحیل جو نجانے کتنے دنوں سے کانٹوں پر لوٹ رہا تھا ، آج زینہ کے پکارنے پر خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا۔۔
روحیل ۔!!
جی روحیل کی جان۔!!
چند لمحوں میں روحیل کی بیقراری اطمینان میں بدل گئی۔۔
روحیل میرا ویڈیو اور کس کس نے دیکھا تھا۔؟؟
منیب نے اپنے فون سے ریکارڈ کیا تھا جو کہ غالباً اس وقت تم گھبراہٹ اور بے چینی میں بےخبر تھی۔۔
منیب کے علاوہ اور کس نے دیکھا تھا۔؟؟ زینہ تھکے ماندے لہجے میں پوچھنے لگی۔۔
ہمارے دو دوستوں نے۔!! روحیل نے شرمندگی سے حقیقت بتائی۔۔۔
روحیل آپ کو پتا ہے مجھے اس ویڈیو نے کس قدر اذیت پہنچائی ہے۔؟
نجانے منیب اور آپ کے ان دو دوستوں کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہوگا جب انہوں نے مجھے دیکھا ہو گا۔؟؟
روحیل مجھے اپنا چہرہ جلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔
نجانے ان تمام لڑکوں نے مجھے کتنی شہوت سے دیکھا ہوگا۔؟ نجانے انکے دل میں کس قسم کے غلیظ خیالات نے جنم لیا ہو گا۔؟ اور نجانے فیس بک پر کتنے مرد مجھے دیکھ کر اپنے دل کے مرض پر قابو نہ رکھ پاتے۔؟ نجانے میں کتنوں کے لیے باعث فتنہ بن جاتی اور نجانے میں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا کتنا عرصہ کاٹتی۔؟
زینہ کچھ دیر کے لئے رکی اور سانس بحال کی ۔۔
ہمارا رب غفور الرحیم ہے وہ اپنے مومن موحدین بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا ، وہ اپنی رحمت سے انہیں ڈھانپ لیتا ہے۔۔!!
میں کہیں کی نا رہ جاتی روحیل۔!! زینہ دھیمے ٹوٹے سوگوار لہجے میں روحیل کو اپنا حال دل سنا رہی تھی۔۔
روحیل آپ نے تو مجھے سر راہ بد صورتی کا فتویٰ دے دیا تھا مگر وہ رب تو خوبصورت دلوں کو دیکھتا ہے اور ویسے بھی حسن تو دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے۔۔!!
آپ نے کبھی سنا ہے یا پڑھا ہے کہ پردہ صرف گوری چٹی لڑکیوں پر فرض ہے یا پردہ صرف دل کا ہوتا ہے۔؟؟؟
نہیں نا ۔؟؟
میں اپنے دل کے پردے کی ذمّہ دار ہو سکتی ہوں مگر راہگیر مرد کے دل کی کون گارنٹی اٹھا سکتا ہے ۔؟؟ وہ مرد جو ہر گلی کے نکڑ پر کھڑا ملے گا، کوئی ہے جو اسکے دل کی پاکیزگی کا ثبوت دے سکے ۔؟؟؟
روحیل.!
جی روحیل کی جان۔! روحیل مکمل محویت سے زینہ کے ایک ایک لفظ کو اپنی ترکیز کا مان دے رہا تھا۔۔روحیل زینہ کی زبان سے نکلے ایک ایک لفظ کو ازبر کر رہا تھا۔۔
روحیل کیا ہمارا دل صحابیات مطہرات رضوان اللہ علیہن اجمعین سے زیادہ پاکیزہ ہو سکتا ہے۔؟؟(معاذ اللہ)
آپ کو پتا ہے کائنات کی پاکیزہ ترین عورتوں نے پاکیزہ ترین مردوں سے پردہ کیا تھا۔ پھر ہم کیوں پردے سے اتنی نفرت کرنے لگے ہیں۔؟ ہم کیوں اپنے برملا ، کھلے دشمن “ابلیس” کے نقش قدم پر چلنے کی چاہ میں اپنے آپ کو عریاں کر کے جدت پسندی کی ڈگریاں لینے لگ گئے ہیں۔؟؟
قبر کا چند گز کا ٹکڑا سبھی کا ایک جیسا ہو گا، سبھی کو ایک جیسی مٹی میں جانا ہے، امیر غریب سبھی ایک سفید کفن میں جائیں گے ۔
روحیل مجھے عذاب قبر سے بہت خوف آتا ہے۔پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی روشنی کو چھوڑ کر ہم کیوں تاریکیوں کو اپنا محور ومرتبہ بنانے لگ گئے ہیں۔؟؟
تڑپتی زینہ کے آنسوؤں کی لڑیاں دوبارہ بےمہار ہونے لگیں
” انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا گزر بنو نجار کے ایک کھجور کے باغ سے ہوا ، وہاں آپ نے ایک آواز سنی ، تو صحابہ سے سوال کیا : یہ کیا ہے ؟ صحابہ نے جواب دیا کہ یہ ایک شخص کی قبر ہے جسے عہد جاہلیت میں دفن کیا گیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ تم لوگ مردے دفن کرنا ترک کردو گے تو میں اللہ تعالی سے دعا کرتا کہ تمہیں بھی وہ عذاب قبر سنا دے جو مجھے سنایا ہے” ۔
(صحیح ابن حبان:2883، مسند احمد3/201)
تشریح : عذاب قبر برحق اور اہل سنت و جماعت کے عقیدے کا ایک جزء ہے ، اس سلسلے میں وارد حدیثیں متواتر اور شک و شبہ سے بالاتر ہیں، بلکہ قرآن مجید کی بعض آیتوں سے بھی عذاب قبر کا ثبوت ہوتا ہے ، چنانچہ فرعون سے متعلق ارشاد باری تعالی ہے کہ :
“اور فرعونیوں پر برا عذاب الٹ پڑا ، آگ ہے جس کے سامنےیہ صبح و شام لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی حکم ہوگا کہ فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو” ۔(سورہ المؤمن:45٫46)
یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کو عذاب قبر سے بکثرت متنبہ کیا کرتے تھے ،ایک بار آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے ہی ایک موقعہ پر جو زیر بحث حدیث میں وارد ہے فرمایا : یہ امت اپنی قبروں میں آزمائی جائے گی ، اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ تم لوگ اپنے مردے دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالی سے دعا کرتا کہ جو عذاب قبر میں سنتا ہوں وہ تمہیں بھی سنا دے ، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا : عذاب قبر سے اللہ کی پناہ چاہو ، صحابہ نے کہا : ہم عذاب قبر سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں ، آپ نے فرمایا : عذاب قبر سے اللہ تعالی کی پناہ چاہو ، صحابہ نے کہا : ہم عذاب قبر سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں ، آپ نے پھر فرمایا : عذاب قبر سے اللہ تعالی کی پناہ چاہو ، صحابہ نے عرض کیا : ہم عذاب قبر سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ظاہری و پوشیدہ ہر فتنے سے اللہ تعالی کی پناہ چاہو ، صحابہ نے کہا : ہم ظاہر وپوشیدہ ہر فتنے سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں ، آپ نےفرمایا : دجال کے فتنے سے اللہ تعالی کی پناہ چاہو ، صحابہ نے کہا : ہم دجال کے فتنے سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں ۔
۔
اس حدیث سے عذاب قبر کی شناعت اور اس سے بچنے کی فکر کا اندازہ ہوتا ہے ،چنانچہ ہر قسم کے فتنے من جملہ دجال کے فتنے سے بچنے کیلئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایک بار پناہ مانگنے کے لئے فرمایا جبکہ عذاب قبر سے تین بار فرمایا ۔
اہل سنت و جماعت کے عقیدے کے مطابق عذاب قبر اسی دنیاوی قبر میں موجود جسم کو بھی ہوتا ہے صرف روح ہی کے ساتھ عذاب خاص نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، کیونکہ روح قبر میں نہیں ہوگی بلکہ وہ علیین و سجین میں ہوتی ہے ، البتہ جسم خاکی کے ساتھ اس کا ایک گونہ تعلق جوڑ دیا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قبر کے عذاب کی آواز سنی ، نیز عذاب قبر کی جو شکلیں حدیثوں میں وارد ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ برزخ میں عذاب صرف روح کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ اس جسم خاکی کو بھی اس کا حصہ ملتا ہے ، جیسے” کافر و منافق مرد کے کندھے پر لوہے کے گرز اتنی زور سے مارا جاتا ہے کہ جب وہ چیختا ہے تو اس کے چیخنے کی آواز جن و انس کے علاوہ سبھی چیزیں سنتی ہیں “۔
۔
“پھر زمین اس قدر تنگ ہوجاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے کے آر پار ہو جاتی ہیں” ۔
۔
“پھر آسمان سے ایک ندا دینے والا ندا دیتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے ، اس کے لئے آگ کا بستر بچھا دو ، اسے آگ کا لباس پہنا دو ، اس کی طرف آگ کا دروازہ کھول دو جس سے جہنم کے آگ کی گرمی اور لو اس کی طرف آتی ہے اور قبر اس قدر تنگ کردی جاتی ہے کہ اس کی ہڈیاں ایک دوسرے میں داخل ہوجاتی ہیں ، پھر اس پر ایک اندھا اور بہرا فرشتہ مسلط کردیا جاتا ہے جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے کہ اگر اس گرز کو کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائے ، اس ضرب سےمردہ اتنی زور کی چیخ مارتا ہے کہ جن و انس کے علاوہ مشرق ومغرب کی ساری چیزیں سنتی ہیں ، اس مار کے اثر سے وہ مٹی ہوجاتا ہے ، پھر اس کے جسم میں روح دوبارہ واپس کی جاتی ہے “۔( #ماخوذ)
۔
زینہ کی دل سوز گفتگو روحیل کے رقت آمیز دل پر کاری وار تھے۔۔ ایک مضبوط مرد روحیل اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا تو ندامت کے آنسو لڑھکنے لگے۔۔
زینہ تمہیں پتا ہے میں امی کی وفات کے بعد سے لے کر کبھی بھی نہیں رویا تھا مگر جب سے اللہ کا خوف دل میں جاگزیں ہوا ہے ، میں ندامت کے مارے اپنے رب کے حضور بارہا رو چکا ہوں۔۔
اور پتا ہے اب اکثر تمہاری محبت رلاتی ہے۔! روحیل نے آنکھوں کو رگڑتے ہوئے ٹوٹے لہجے میں بولا۔۔
پتا ہے تمہارا یہ ویڈیو میں بلا ناغہ روزانہ بارہا دیکھتا تھا اور ہوں۔۔
ابھی بھی دیکھتے ہیں؟
ہاں۔!!
ابھی تو دیکھنے کے لئے میں آپ کے سامنے پائی جاتی ہوں تو پھر ویڈیو کی کیا ضرورت ہے۔؟
تم ابھی نہیں سمجھو گی زینہ۔!
روحیل۔! آپ کو ایک نامحرم کو روزانہ دیکھتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں تھا آتا کیا۔؟؟
خوف کے لئے ہی تو دیکھتا تھا کہ ایک اس نازک سی لڑکی کو اپنی عزت ، اپنی غیرت کس قدر عزیز ہے ، اتنی مفلسی کے باوجود بھی یہ لڑکی ایمان کی دولت سے مالا مال ہے۔۔
ہم نے یہی سوچا تھا کہ یا تم یونیورسٹی چھوڑ دو گی یا پھر پردہ کبھی بھی نہیں کرو گی۔۔
مگر تم نے ہم سب دوستوں کے اندازوں کو مٹی میں ملا دیا۔۔
نا تم نے پڑھائی ترک کی اور نا تم اپنے پروردگار کے حکم کے سامنے لڑکھڑائی۔
مجھے جب تم نے یونیورسٹی کی ملاقات پر کھری کھری سنائیں تھی ، وہ بھی ایک ایک لفظ ازبر ہے اور میرے فون میں ریکارڈ ہے۔۔ زینہ کوئی دن ایسا نہیں گزرا تھا کہ جس دن میں نے تمہارے ان ریکاڈڈ ووئس نوٹس کو نا سنا ہو۔! یہ لو ابھی تم بھی سنو۔! روحیل کے موبائل میں محفوظ زینہ کی کھنکتی غصیلی آواز کمرے میں چند ماہ قبل کی اذیت تازہ کرنے لگی۔۔
خیال رکھیئے گا کہیں اس عاشقی کی پھسلن میں آپ کی اپنی ہڈیوں کا سرمہ نہ بن جائے۔!
سفید چمڑی والے سیاہ اور داغ دار سوچ کے حامل ہیرو کی کبھی بھی تمنا نہیں رہی ہے۔
اپنی اس اجڑی اور بوسیدہ گفتگو کو کسی اور دوشیزہ پر وار دیجئے۔! میں ایسی تکرار کی دلدادہ نہیں ہوں ۔! دل پھینک لوگ مجھے زہر سے بھی کڑوے لگتے ہیں۔!
میرا نام زینہ حیات ہے۔! غیر ذمہ دار اور مردہ دلوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں ہے۔!
زینہ منہ کھولے روحیل کو حیرت سے دیکھنے لگی۔ آپ کتنے گھنے تھے۔ زینہ نے منہ بسورا۔۔ بھلا میری آواز کو ریکارڈ کر کے آپ کو کیا ملا۔؟ نامحرم کی گفتگو کو بار بار سننا کوئی ثواب کا کام تھا بھلا ۔؟
بس مجھے تم سے محبت ہوگئی تھی ناچاہتے ہوئے بھی میرے سے رہا نہ گیا۔ تم نہ ملتی تو کم از کم تمہاری چند باتیں ، چند یادیں میرے مردہ ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھیں۔۔
زینہ عورت کا زیور اسکی حیا ہے۔!! اور تم اس نعمت سے مالامال تھی جو مرد کی ہر میلی آنکھ پر نا جھکتی ہے اور نا بکتی ہے۔!!
بکاؤ مال تو میں تھا یا میری صحبت تھی جو شیطان کے نرغے میں اپنے آپ کو گروی رکھوا کر نفس کے پجاری بن چکے تھے۔!! ہمارے ہاتھ کیا آیا۔؟؟؟ وقتی لذت اور ہمیشہ کے پچھتاوے۔!!
زینہ صاف کردار کا سودا مہنگا ضرور ہے مگر گھاٹے کا نہیں ہے۔!
مجھے تمہارے مضبوط کردار نے تم سے محبت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔
بیشک پاکیزہ عورتوں کے لئے پاکیزہ مرد ہوتے ہیں، اسی لیے میں نے سچی توبہ سے اپنی سیاہ کاریوں کو دھونا شروع کر دیا۔ سچی توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ پسند ہے زینہ۔!!
جاری ہے
