Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23

عاصم نے غم سے پہلو بدل کر پوچھا۔ پھپھو جان آپ ویسے تو مغرب کے طور طریقوں پر چلنے کی قائل ہیں مگر بہو کے معاملے میں آپ کی سوچ بھی ثقافتی رنگ لئے ہوئے ہے۔۔۔؟؟
عاصم تم اپنے کام سے کام رکھو۔!! بڑے دادا ابو نہ بنو ۔!!
پھپھو میری تو بہن ہے ،میں تو اسکی طرف داری کروں گا۔
بھائی جان آپ نے حقیقتاً ان دونوں کو سر چڑھا رکھا ہے۔۔
پھپھو میں تو دہرے معیار کا قائل نہیں ہوں۔۔!
تجھے تو میں سیدھا کر کے جاؤں گی۔! جو پہلے سے ہی سیدھا سادھا ہو اس پر وقت لگانا وقت کا ضیاع ہے۔۔۔
تمہاری چونچ نہیں بند ہونے والی ہے ۔! پھپھو نے گردن جھٹکی۔۔
ویسے پھپھو زینہ کو کمرے میں کیوں بلوا رہی ہیں۔؟؟
کیوں تمہیں کیوں اتنی بےچینی ہو رہی ہے؟؟
مجھے زیادہ تو نہیں بس اس بات کی پریشانی ہے کہ کہیں آپ روایتی ساس والا انداز نہ اپنا لیں۔۔!
دیکھ رہے ہیں بھائی جان۔!!
عاصم یار عورتوں کے کرنے کی سو باتیں ہوتی ہیں ، تم پھپھو کو اپنا شوق بھی پورا کرنے دو۔!!
ٹھیک ہے پھپھو جان میری عزیز ترین بھابھی آپ کی ہوئی۔،!! وہ دیکھیں زینہ میرا مطلب بھابھی صاحبہ لوٹ آئی ہیں۔۔
زینہ سیاہ لباس میں ملبوس کھلے لمبے بل دار بالوں میں چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی۔۔
زینہ نیپکن سے ہاتھ صاف کر لیتی ، اب اتنی دور ہاتھ دھونے گئی ہو ۔۔
وہ پھپھو دراصل مجھے عادت ہے کھانے سے قبل اور بعد میں ہاتھ دھونے کی تو اسی لیے۔
زینہ نے مؤدب لہجے میں فوراً اپنی صفائی پیش کی۔۔۔
اچھا چلو میرے ساتھ آؤ۔!!
جاؤ زینہ بیٹی۔ارشاد صاحب نے بھی کرسی چھوڑتے ہوئے پھپھو کے ہمراہ جانے کا عندیہ سنایا جبکہ عاصم انگلیوں کے اشارے سے زینہ کو فتح کے اشارے دے رہا تھا۔
زینہ مسکرا کی پھپھو کی پیروی میں چلنے لگی۔۔۔
متوازن چال چلتی پھپھو نے شاندار سجے سنورے کمرے میں پہنچ کر زینہ کو کرسی پر بیٹھے کا اشارہ کیا اور خود سنگھار میز کے سامنے اپنے قیمتی زیورات اتار کر رکھنے لگیں۔۔
پانچ منٹ خاموشی کی نظر ہو گئے زینہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ پھپھو کو خود مخاطب کرے یا پھر ان کا اپنے کام سے فارغ ہونے کا انتظار کرے۔۔
اضطرابی بڑھنے لگی۔۔۔
زینہ کپکپاتی انگلیوں کو مسلنے لگی۔۔۔
زینہ۔!!
جی .!!!
تمہارا روحیل کے ساتھ کوئی چکر وکر تھا۔؟؟
زینہ اس عجیب و غریب سوال پر چکرا کر رہ گئی۔۔۔شرمندگی سے چہرہ لال انگارے کی طرح دہکنے لگا ۔۔۔ خود پر فوراً قابو پایا۔۔
ننننہیں پھپھو۔!!! ایسی تو کوئی بات نہ تھی۔!
تو پھر وہ کیوں تمہارے لیے مرا جا رہا تھا ؟؟ پھپھو کی پیشانی پر سلوٹیں بڑھنے لگیں۔۔ میرے بتائے گئے تمام رشتوں سے انکاری اور پھر بھائی جان نے بھی دوست احباب کی لڑکیاں دکھائیں ، اسکا گزشتہ دو ماہ سے میرپور کے مسلسل چکر کاٹنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔۔
ٹھیک ہے اسکے ننھیال والوں کے ساتھ سانحہ پیش آیا تھا مگر پھر بھی میری عقل تسلیم ہی نہیں کرتی ہے کہ اسکا تمہارے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھپھو نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔ پھر چند لمحے خاموش رہ کر دوبارہ سلسلہ کلام جوڑا۔۔۔ روحیل کا تمہارے لیے مرے جانا غیرمعمولی ہے جبکہ تمہارا اور روحیل کا کوئی خاص جوڑ بھی نہیں بنتا ہے ۔۔۔!!
اب اسکی چال ڈھال دیکھو اور اپنا حلیہ دیکھو ، اسکے ساتھ چلتے ہوئے تم بہت دقیانوسی لگتی ہو۔۔!!
ایسے لگتا ہے میرا خوبرو روحیل گھر کی ملازمہ کو ساتھ لے کر چل رہا ہے۔۔!!
دیکھو میرا بھتیجا کس قدر وجیہہ ہے۔۔!! پھپھو کی مسلسل توہین سے زینہ کا دل ڈوبنے لگا۔۔ آنسوؤں سے لبریز آنکھیں کسی بھی لمحے دغا بازی کے لیے تیار تھیں۔
جی چاہا پھپھو کو کھری کھری سنا کر یہاں سے بھاگ جائے مگر زبان دانتوں تلے دبائے خاموشی سے کاری وار سہنے لگی۔۔
زینہ ہنوز گردن جھکائے فرش پر نظریں گاڑھے نئے نفرت آمیز القابات سننے کی منتظر تھی۔۔
پھپھو اپنے باطن کا زہر زینہ پر انڈیل کر سفری تھیلے میں سے کریم نکال کر چہرے پر لگا میک اپ صاف کرنے لگیں۔۔۔
کریم کو ایک طرف رکھا اور گردن اکڑا کر دوبارہ سے زینہ کا بغور جائزہ لینے لگیں۔
کھڑی ہو جاؤ۔!!!
زینہ ایک لمحہ ضائع کیے بنا فوراً کھڑی ہو گئی۔
اوپر دیکھو۔!!
زینہ نے سوگوار چہرہ اٹھا کر اوپر دیکھا۔۔۔
روتی رہی ہو ۔؟؟
جی تھوڑا سا روئی تھی۔۔۔ گلے میں پھنسی آواز بمشکل پھپھو کی سماعتوں تک پہنچ پائی۔۔
اتنا اچھا پیارا شوہر بیٹھے بٹھائے ملا ہے ، بہترین گھر مل گیا ہے تو اور کیا چاہتی ہو ۔؟؟؟ روتی کاہے کو ہو ۔؟؟؟
وہ مجھے امی کی صحت کو دیکھ کر رونا آ گیا تھا۔۔ زینہ بھرائی آواز میں گویا ہوئی اور روحیل والی بات کو مکمل طور پر گول کر گئی۔۔
ہونہہ۔!!!
تمہاری امی عمر رسیدہ ہیں ، انکی یہ عمر بیماریوں میں مبتلا ہونے والی ہے جبکہ تم ابھی بیاہ کر اپنے سسرال آئی ہو ۔ تمہارے سامنے پوری زندگی پڑی ہے۔!
یوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر روؤ گی تو اتنا عالیشان گھر کیسے سنبھال پاؤ گی ۔؟؟
پھپھو نے زینہ کے قریب آتے ہوئے اسکے کھلے بالوں کو چھو کر دیکھا۔۔
تمہیں میک اپ پسند نہیں ہے کیا ؟؟؟
جی کچھ خاص نہیں ہے۔!!!
میرا بھتیجا ہزاروں روپے خرچ کر کے تمہارا میک اپ کروا کے لایا تھا اور تم نے گھر پہنچتے ہی چہرہ دھو ڈالا ۔؟!
وہ پھپھو مجھے وضو کرنا تھا تو اس لیے میک اپ کو دھونا پڑا تھا۔۔۔ !
زینہ نے فوراً صفائی پیش کی ۔۔۔
بہرحال جو بھی ہے ابھی باورچی خانے میں جا کر روحیل کے لیے شکر اور الائچی والا دودھ ابال کر اسے اسکے کمرے میں پہنچا کر آؤ۔! میں آج اسے دیکھ کر دہل گئی ہوں نجانے تم نے اسے کیا کر دیا ہے۔؟ میرے معصوم بھتیجے کا چھوٹا سا چہرہ نکل آیا ہے۔۔۔!
تم دونوں کے درمیان کوئی مسئلہ چل رہا ہے کیا۔؟؟؟
ننننہیں پھپھو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
چلو کہتی ہوتو مان لیتی ہوں ورنہ میں اڑتی چڑیا کے پر گھن لیتی ہوں۔۔
وہ میرا بھتیجا ہے ، میں اسکی ایک ایک رگ سے واقف ہوں۔ اسکے اندر کی اداسی اسکے چہرے پر ظاہر ہو جاتی ہے جو آج میں نے دیکھی ہے۔۔
وہ چاہے لاکھ چھپائے مگر میرے سے چھپ نہیں سکتا ہے، میں نے ماں بن کر اسے پروان چڑھایا ہے۔۔۔
میرے روحیل کو تمہاری طرف سے رتی بھر تکلیف نہیں پہنچنی چاہیئے۔!!!
جی نہیں پہنچے گی۔!!
زینہ نے نفی میں گردن جھٹکتے ہوئے پھپھو کو یقین دہائی کروائی۔۔
اچھا اب جاؤ اور جو بولا ہے وہ ٹھیک سے کرنا ہے ۔۔
جی بہتر۔! زینہ کمرے سے باہر نکلنے کے لیے پر تولنے لگی۔۔
اور ہاں آج سے روحیل کے تمام کام تمہارے ذمے ہیں، اسے کے کھانے سے لے کر اسکے کپڑوں جوتوں کا خیال رکھنا تمہاری ذمہ داری ہے۔۔
جی۔!!!
ابھی جاؤ۔! زینہ دروازے کی طرف جیسے ہی پلٹی پھپھو نے دوبارہ آواز دے کر روک لیا۔۔
روحیل ایک شیشے کے گلاس میں ایک چھوٹی چائے کی چمچ چینی لیتا ہے اور دو الائچیاں ڈال کر اچھی طرح دودھ ابال لینا اور پھر اسے لازمی چھان لینا کیونکہ اسے الائچیوں کے دانوں کا منہ میں آنا پسند نہیں ہے ، وہ صرف الائچی کی خوشبو پسند کرتا ہے۔۔
گلاس شیشے کا اور اسے ڈھک کر لے کر جانا ہے۔جب تک وہ دودھ پی نہ لے تم نے کمرے سے لوٹنا نہیں ہے۔!!!
صبح میں نے گلاس چیک کرنا ہے۔!
جی بہتر ۔!! زینہ نے اثبات میں گردن ہلائی ۔۔۔
آپ کے لئے بھی چائے بنا لوں۔؟؟؟
نہیں میرا ابھی موڈ نہیں ہو رہا ہے ۔اگر ضرورت ہوئی تو میں ملازمہ سے بنوا لوں گی۔۔۔
اور ہاں تمہیں کھانا بنانا آتا ہے ۔؟؟؟
جی سارا کھانا بنا لیتی ہوں۔! ۔تو پھر کل سے کھانا بنانے کی ذمّہ داری بھی تمہاری ہو گی ، کل میں تمہیں بتا دوں گی کہ کیا پکانا ہے ۔!!
جی ٹھیک۔!!
اب جاؤ۔!
زینہ نے کمرے سے نکل کر سینے میں پھنسی سانس خارج کی ، اور آنسوؤں سے لبریز آنکھیں رگڑ ڈالیں۔۔۔ عاصم ڈیڈ سبھی اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔
باورچی خانے میں پہنچنے پر ملازمہ کو برتنوں کی دھلائی میں مصروف پایا۔۔
بی بی آپکو کچھ چاہئیے تھا۔؟؟
ارے نہیں ۔! میں نے بس آپ کے صاحب کے لئے دودھ گرم کرنا ہے۔۔
بی بی لایئے میں کر دیتی ہوں۔!
ارے نہیں میں خود کر لوں گی آپ بس مجھے پتیلی کھنگال دیں ۔۔
اور مجھے بی بی کے بجائے بیٹی بولا کریں۔ !! زینہ نے پتیلی تھامتے ہوئے مسکرا کر بولا۔۔۔
جو آپ کا حکم بیٹی۔!
حکم نہیں بلکہ ایک گزارش ہے کیونکہ مجھے اچھا لگے گا۔
اچھا بیٹی۔!!
زینہ نے پھپھو کے بتائے گئے طریقے پر عمل کرتے ہوئے دودھ تیار کر لیا مگر روحیل کے کمرے تک پہنچنے کے لئے ایک فیصد ہمت نہ تھی۔۔۔
جی چاہا عاصم کو بلا کر دودھ بھیج دے یا ملازمہ کو بھیج دے۔۔ مگر پھپھو کے خوف سے خود ہی ہمت جمع کی اور دھیرے دھیرے زینے چڑھنے لگی۔۔
بند دروازے کو دیکھ کر دل ڈوبنے لگا ۔ ہائے اگر وہ سو رہے ہوئے تو میرے جگانے پر غصہ نہ کر جائیں۔۔
یا اللہ۔! زینہ کا جی چاہا دھاڑیں مار مار کر روئے۔۔
اوپری منزل میں خاموشی کا راج تھا۔ ڈیڈ عاصم سبھی اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے جبکہ پھپھو نیچے مہمان خانے میں ٹھہری ہوئیں تھیں۔۔
بارہا سوچنے پر زینہ نے ہمت کر ہی ڈالی۔۔
ٹک ٹک ہلکے سے دروازہ بجایا۔ کوئی جواب نہ پا کر دل دھڑکنے لگا ۔ دوسری بار ذرا زور سے بجایا۔
ہنوز خاموشی برقرار تھی۔
تیسری مرتبہ اپنا سارا زور لگا کر دروازے کو بجانے کا تحیہ کر لیا۔۔
ابھی دروازے پر ہاتھ ہی رکھا تھا کہ دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔۔
زینہ کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس چھوٹتے چھوٹتے بچا ، زینہ کی آنکھوں میں خوف تیرنے لگا۔۔
روحیل نے خشمگیں نظروں سے گھورا۔۔۔شب باشی کے لباس میں ملبوس تھکا ہارا سا روحیل چہرے پر صحرائی مسافر کی سی تھکن لیے زینہ کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔۔
کیوں آئی ہو ۔؟؟
وہ میں آپ کو دودھ دینے آئی تھی۔!
مجھے دودھ نہیں پینا ۔!!کاٹ دار لہجہ۔
پلیز آپ پی لیں پھپھو نے بولا ہے وہ صبح آپ کا گلاس چیک کریں گی۔!
زینہ کا ملتجی لب و لہجہ روحیل کو مزید گھورنے پر مجبور کرنے لگا۔۔۔
ادھ کھلا دروازہ مکمل طور پر واہ کر دیا۔
اندر آؤ۔!!!
ججججی۔؟؟
جی۔! فوراً۔! روحیل نے ڈپٹا۔
زینہ کی بچی کھچی ہمت بھی جواب دینے لگی۔
زینہ نے چار و ناچار دروازے کی دہلیز پار کی اور دودھ کا گلاس میز پر رکھ کر پلٹنے لگی۔۔۔
کدھر جا رہی ہو .؟؟
جججی نیچے امی کے پاس۔! زینہ نے روحیل کا چہرہ دیکھے بنا فوراً جواب دیا۔۔!
خود کو کیا سمجھتی ہو۔؟؟
کچھ بھی نہیں۔! بلکہ کچھ بھی نہیں سمجھتی ہوں۔
رات انہیں کپڑوں میں ملبوس سو گی۔؟؟روحیل کا روٹھا اور سخت لہجہ زینہ کی بچی کھچی ہمت بھی خیر باد کہنے لگی ، اسکی خشمگیں نگاہوں کا تعاقب زینہ کی حالت ابتر کرنے لگا۔۔۔
کیا میں الماری سے کپڑے نکال سکتی ہوں۔؟؟زینہ کی شکل شکار سے بچنے والی سہمی ہرنی والی ہو رہی تھی۔۔۔
نہیں۔!! کورا جواب پا کر زینہ کا دماغ ماؤف ہونے لگا۔۔
تو پھر میں کیا پہنوں گی۔؟ میرے تمام لباس آپ کے کمرے میں موجود ہیں۔کمرے کے بیچ و بیچ کھڑی زینہ نے تمام حقائق روحیل کے گوش گزار کیے جو چہرے پر سختی سجائے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔
دیکھیں آپ پلیز مجھے معاف کر دیں۔! غصّے میں میرے منہ میں جو آیا بولتی چلی گئی حالانکہ وہ سب جھوٹ تو نہیں تھا۔!
تم نے معافی مانگنے کا یہ طریقہ بھی عجیب نکالا ہے۔!
معافی بھی مانگتی ہو اور ساتھ میں آئینہ بھی دکھاتی ہو۔!!
ننننہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا جو آپ سمجھے ہیں۔زینہ نے تھوک نگلا۔۔
وہ میرا مطلب ہے کہ میرا شکوہ جائز تھا۔۔!! زینہ نے بولتے ساتھ آنکھیں میچ لیں۔۔۔
کلہاڑی کے وار بھی کرتی ہو اور چاہتی ہو ڈال بھی نہ ٹوٹے۔!
ڈال تو تم نے توڑ دی ہے زینہ۔! کبھی فرصت ملے نا تو ضرور سوچنا کہ تم کس سمت جا رہی ہو۔!!
اپنے کپڑے نکالو اور یہاں سے نو دو گیارہ ہو جاؤ۔!
روحیل کا ٹوٹا لب و لہجہ زینہ کو کچوکے لگانے لگا۔۔
دیکھیں آپ میرے ساتھ نہ روٹھیں پلیز۔!!
کیوں نہ روٹھوں۔؟؟ روحیل کا غصہ ہنوز برقرار تھا۔۔۔
کیونکہ جن سے محبت کی جاتی ہے ان سے روٹھا نہیں جاتا ہے ، انہیں انکی کوتاہیوں سمیت قبول کیا جاتا ہے ، انکی پردہ پوشی کی جاتی ہے ، اور آپ تو میرے ساتھ محبت کے دعوے دار تھے تو پھر اچانک میرے چند کلمات پر مجھے بے سائباں کیوں کر رہے ہیں۔؟؟ زینہ نے ہمت جمع کر کے پہلے سے سوچے گئے جملے دہرا دیئے۔۔۔
تمہیں چند گھنٹوں میں بہت باتیں کرنا آ گئیں ہیں۔؟ روحیل کی غصیلی نگاہیں اور سخت لہجہ زینہ کا کچومر نکالنے لگا۔۔۔
وہ دراصل پھپھو کو پتا چل گیا ہے کہ میرے اور آپ کے بیچ کچھ مسئلہ چل رہا ہے۔! زینہ نے صفائی پیش کرنے کے لیے روحیل کی آنکھوں میں دیکھا جہاں پر غصہ ہنوز اپنے عروج پر تھا۔۔۔
زینہ اب شیر کی گچھاڑ میں ہاتھ ڈال ہی دیا ہے تو مرنے کے لیے تیار ہو جا۔! دل سوکھے پتے کی طرح لرزنے لگا۔۔
کمرے میں لگے گھڑیال کی سوئیوں کی ٹک ٹک کے علاوہ خاموشی کا راج تھا۔۔۔
زینہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کمرے سے نکل جائے یا پھر روحیل سے بات کرے یا پھر مزید وضاحت دے ، شش و پنج میں مبتلا زینہ نے چند لمحوں بعد جھکا چہرہ اوپر اٹھایا۔۔
ماضی پر تو ہمارا اختیار نہیں ہے مگر حال اور مستقبل کو تو سنوارا جا سکتا ہے۔!!! میرا مطلب ہے جو ہو چکا ہے اسے بھول جائیں ۔! ہم دونوں سے خطائیں سر زد ہوئیں ہیں۔۔۔غلطی سرزد ہو جانا انسانی فطرت ہے اور بقول آپ کے کہ عورتیں جذباتی ہوتی ہیں۔ مجھے بھی بیوقوف جذباتی سمجھ کر معاف کر دیں۔!!
روحیل کی کھا جانے والی نظریں زینہ کو گھائل کرنے لگیں۔
یا اللہ۔! میری مدد فرما۔! معافی تلافی کے باوجود بھی اس شخص پر رتی برابر فرق نہیں پڑ رہا ہے ۔۔پھپھو نے کونسا دیکھنا تھا دودھ دینے میں آئی ہوں یا ملازمہ ۔؟ زینہ دل ہی دل میں خود کلامی کیے جا رہی تھی ۔۔کاش نہ آتی۔۔۔لفظ کاش کو تو لغت سے نکال پھینکنا پڑے گا ، مجھے خواہ مخواہ پچھتاووں میں دھکیلتا ہے ۔۔۔ پچھتاوے تو شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔۔ میں بھی بعض اوقات ناشکری کرنے بیٹھ جاتی ہوں۔۔۔
زینہ دل ہی دل میں دوبارہ گردن جھکا کر استغفار کرنے لگی۔۔۔
میرے خیال میں تمہیں مزید وقت کی ضرورت ہے تاکہ تمہاری اس کھوپڑی میں جو بھوسی بھری ہوئی وہ نکل سکے۔ روحیل نے اچھی طرح سے گھورنے کا عمل سر انجام دیا پھر غصیلے لہجے میں زینہ کی طبیعت صاف کرنے لگا۔۔
آپ نے نکاح روٹھنے کے لیے کیا تھا کیا .؟؟؟ زینہ جذبات میں آکر دوبارہ غلط بول گئی۔۔
تمہیں جب میں نے بتایا نا کہ نکاح کیوں کیا تھا تو تمہاری یہ زبان قینچی کی طرح نہیں چلے گی۔۔! کشادہ پیشانی کی تنی رگیں اور غصیلا چہرہ زینہ کو رونے پر مجبور کرنے لگا۔۔
میرا مطلب وہ نہیں تھا جو آپ سمجھ رہے ہیں۔! میں کہنا کچھ اور چاہ رہی ہوں مگر زبان سے الفاظ دوسرے والے ادا ہو رہے ہیں۔۔زینہ نے بھرائی آواز میں بولا۔۔
دراصل میں نے پہلے کسی روٹھے شوہر کو کبھی منایا بھی تو نہیں ہے۔۔۔ زینہ نے سڑ سڑ رونا شروع کر دیا۔۔جبکہ روحیل نے اس کی بات پر بمشکل ہنسی دبائی۔۔۔
مجھے بیویاں رکھنے کا تجربہ ہے تھا کیا ۔؟؟؟
ننننہیں ۔!!! زینہ نے فوراً جواب دیا۔۔
تو پھر میں اپنے دماغ کو استعمال کر کے تمہیں ساتھ لے کر چل رہا ہوں تو تم دماغ کیوں نہیں استعمال کر سکتی ہو۔؟؟ دماغ میرپور گروی رکھوا کر آئی ہو۔؟؟
نہیں.!! بالکل بھی نہیں۔!! زینہ نے نفی میں گردن جھٹکی۔۔
اگر گروی نہیں رکھوایا ہوا تو اسے میرے گھر میں رہتے ہوئے استعمال میں لاؤ ۔!!
ابھی لاؤں گی۔۔! میرا مطلب ہے دماغ کو استعمال میں لاؤں گی۔
کمرے کے بیچ و بیچ میں کھڑے دونوں کے درمیان عجیب قسم کی تکرار جاری تھی۔۔
روحیل کے جوابات سن کر زینہ کو کچھ ہمت ہوئی۔ وہ میں الماری سے اپنا مطلوبہ سامان لے جاؤں۔؟؟
نہیں ۔!! روحیل کی طرف سے کورا جواب پا کر زینہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔
پھر میں کیا کروں۔؟؟
آپ کی ناراضگی کو کیسے دور کروں۔؟؟ اگر کہتے ہیں تو پاؤں پکڑ لیتی ہوں۔! زینہ دوبارہ رو دینے کو تھی۔۔
مجھے پاؤں پکڑوانے کا کوئی شوق نہیں ہے ۔! سمجھی ہو تم۔! دانت پیس کر جواب دیا گیا۔۔
آپ مجھے سر پھری ، بیوقوف سمجھ کر معاف کر دیں پلیز ورنہ میں رو دوں گی جو کہ آپ کے لئے اذیت کا باعث بنے گا ۔!
اب نہیں اذیت کا باعث بنے گا ۔! رو لو جی بھر کر۔! روحیل نے بے نیازی سے بولا۔۔۔
زینہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔
پھر میں کیا کروں۔؟؟ آپ کو کیسے مناؤں۔؟؟ مجھے خود ہی حل بتا دیں ۔!! زینہ نے لاچار ہو کر پوچھا۔۔
وہ جو دودھ لائی ہو وہ گلاس اپنے ہاتھوں میں تھام کر مجھے پلاؤں گی۔
بولو منظور ہے۔؟؟! روحیل نے اپنی ہنسی دبا کر دھمکی آمیز لہجے میں بولا۔۔۔
مجھے منظور ہے ، آپ بس ناراضگی ترک کر دیں۔
سنتے ساتھ زینہ نے دوڑ لگا کر میز پر پڑے ڈھکے گلاس کو مضبوطی سے ہاتھوں میں تھام لیا۔۔۔
میں کھڑے کھڑے تو پلانے سے رہی ، آپ کہیں پر بیٹھ جائیں پلیز۔۔
زینہ نے سرعت سے التجائیہ انداز اپنایا۔۔۔
تمہاری ریل چھوٹ رہی ہے کیا ۔؟؟؟
نہیں تو ۔!
تو پھر جلد بازی کاہے کو ہے ۔؟؟ روحیل کا کاٹ دار لب و لہجہ زینہ کی ہمت کو ڈانواں ڈول کرنے لگا۔ نشیلی آنکھیں شدت غم سے جھلملانے لگی۔۔
آپ پلیز راضی ہو جائیں۔!!
زینہ کی لاچارگی اپنے عروج پر تھی۔۔
روحیل کا جی چاہا سارا کھیل ابھی ختم کر دے اور اس جذباتی،بیوقوف سی لڑکی کو اپنے سینے میں سمو لے۔۔
آئندہ مجھے شکایت کا موقع نہ ملے اور جو میں بولوں اس پر عملدرآمد ہونا چاہئے ۔!! اگر تم کسی اور کی باتیں سن کر میری طرف سے بدظن ہوئی تو پھر میں نے تمہارا حشر بگاڑ دینا ہے۔!!
جو بھی بات ہو گی سیدھا میرے پاس آؤ گی اور مجھ سے تحقیق کرو گی۔!!!
ابھی دودھ ادھر لے آؤ۔!! روحیل نے بستر کی طرف اشارہ کیا اور خود سنجیدگی کا خول چڑھائے بستر کی پائنتی پر جا بیٹھا۔۔۔
مجبور زینہ بھی دھیرے دھیرے اسکی پیروی کرنے لگی اور روحیل سے کچھ فاصلے پر ٹک گئی۔۔۔
روحیل نے گردن موڑ کر زینہ کو گھورا ۔۔
اب یہاں پر بیٹھی سوگ مناتی رہو گی یا عملی مظاہرہ بھی کرو گی۔؟؟
جی۔!! زینہ نے دودھ کا گلاس روحیل کی طرف بڑھاتے ہوئے اپنی آنکھیں میچ لیں۔۔
روحیل کے بائیں جانب بیٹھی یہ معصوم سی ہستی اس کے دل میں پہلے سے زیادہ گھر کرنے لگی۔ وہ لڑکیاں بھی تھیں جو روحیل کے ایک اشارے پر اپنا سب کچھ وار دینے کےلئے تیار رہتیں تھیں ، بنا کسی تردد اور ہچکچاہٹ کے اسکے بستر کی زینت بن جاتیں اور ایک یہ لڑکی ہے جو اپنے محرم کے پاس موجود ہوتے ہوئے بھی شرم سے لال ہوئے جا رہی ہے۔۔۔ زینہ تمہاری ہر ادا ہی جان لیوا ہے۔۔ روحیل نے زینہ کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس تھام کر لبوں سے لگا لیا۔۔۔
زینہ آنکھیں کھول لو۔! خطرہ ٹل چکا ہے ۔!! تم بارودی سرنگ سے نکل کر ہموار راستے پر چل پڑی ہو۔!! روحیل نے دودھ کے چند گھونٹ لے کر زینہ کو مخاطب کیا جو روحیل کے پکارنے پر فوراً ہوش میں آ گئی۔۔۔
ابھی آپ راضی ہیں۔؟؟ زینہ نے بیقراری سے پوچھا۔۔
ہاں۔!! مگر تمہیں یہ زمہ داری روزانہ رات کو نبھانا ہو گی۔ ٹھیک اسی وقت ایک سیکنڈ نہ آگے اور نہ پیچھے ہونا چاہئے ، اور اگر وقت میں رد و بدل ہوا تو تمہیں سزا ملے گی۔!!
کونسی سزا ملے گی۔؟؟ ابھی سے بتا دیں تاکہ میں ذہنی طور پر تیار ہو جاؤں ۔! زینہ نے پریشانی میں فوراً پوچھ ڈالا۔۔۔
روحیل جو کہ خود پر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے بیٹھا تھا نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا اٹھا۔۔۔
شکر ہے آپ راضی ہو گئے ہیں۔ زینہ بچوں کی طرح کھلکھلائی۔۔۔
ابھی میں چیزیں لے کر جاؤں.؟؟؟
میرا جی تو نہیں چاہ رہا مگر مجبوراََ بھیجنا پڑے گا۔۔۔
اور ہاں سنو زینہ۔! روحیل نے الماری کی طرف بڑھتی زینہ کو پکارا۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *