Zeena E Hayat by Umm e Umair NovelR50793 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14
Rate this Novel
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode01 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode02 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode04 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode05 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode06 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode07 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode08 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode09 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode10 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode11 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode12 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode13 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14 (Watching)Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode15 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode16 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode17 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode18 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode19 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode20 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode21 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode22 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode23 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode24 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode25 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode26 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode27 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode28 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode29 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode30 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode31 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode32 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode33 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode34 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode35 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode36 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode37 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode38 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode39 Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode40 Zeena E Hayat by Umm e Umair Last Episode
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14
Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode14
زینہ تمہارا ویرہ کیسا ہے ؟؟ وہ بھی اس جیسا آوارہ مزاج ہے ۔؟؟
نہیں سامعہ ویر تو بہت مختلف سلجھا ہوا انسان ہے ۔۔ اسے مل کر تو بالکل سگے بھائی والی حس جاگ جاتی ہے۔۔وہ بہت پرشفیق انسان ہے۔۔ پتا نہیں یہ لفنگا کس پر چلا گیا ہے اور پھر پڑا ہوا بھی میرے پیچھے ہی ہے۔۔۔
سامعہ یہی شخص تھا جس نے مجھے سر راہ کالی کلوٹی ،کلو جیسے القابات دیئے تھے اب اچانک کونسی خلائی بوٹی کھا لی ہے جو میرے عشق میں گوڈے گوڈے گرفتار ہو چکا ہے۔۔۔
زینہ ابھی وہ چاہتا کیا ہے ۔؟؟
ہر وقت یہی کہتا ہے کہ میرے ساتھ نکاح کر لو۔!
کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا سامعہ ۔۔!! میرے گھر سب کی موجودگی میں سب سے آنکھ بچا کر باورچی خانے کے باہر میرے ساتھ محو گفتگو تھا۔
سامعہ میں کیا کروں ؟
ایک طرف کھائی ہے اور دوسری طرف کنواں ہے ۔۔۔
اب میں کنواں کسے سمجھوں ؟ سامعہ نے تصدیق چاہی۔
کنواں وہی جو ذیشان بھائی رشتہ لائے تھے۔
اور کھائی۔؟؟
کھائی اسی لفنگے کو ہی بولوں گی بلکہ یہ کنواں بھی ہے اور کھائی بھی ہے ۔۔۔
زینہ میں سمجھتی ہوں اسے بار بار بلاک کرنے کے بجائے ایک مرتبہ اسکے پیغامات کا جواب دے دو اور اس سے التجا کرو کہ وہ تم سے دوبارہ رابطہ نہ کرے ۔۔
سامعہ یہ شخص ڈھیٹوں کا سردار ہے ، اس پر کوئی بات ، کوئی دھمکی اثر انداز نہیں ہوتی ہے۔۔۔
سامعہ تم عبد السمیع بھائی کو بولو میرے لئے کسی دین دار شخص کا رشتہ ڈھونڈیں پلیز۔۔۔ وہ چاہے کوئی مفلس بندہ ہو گلی کے نکڑ پر ریڑھی لگاتا ہو ، مگر ہو غیرت مند ، شریف انسان پلیز۔۔
سامعہ میری امی کی صحت بحال ہو جائے تو وہ شخص چاہے مجھے رخصت کروا کر لے جائے مگر فی الحال مجھ سے نکاح کر لے۔۔۔ میں اس روحیل کے عذاب سے نکلنا چاہتی ہوں یار۔۔
اس شخص نے میرا ذہنی سکون چھین رکھا ہے۔۔ میں ہر وقت خوف کی کیفیت میں مبتلا رہتی ہوں نجانے کب یہ کوئی نیا کھیل نہ کھیل جائے۔۔
سامعہ یہ شخص میرے لیے نہیں ہے۔۔کہتا ہے مجھ سے گوارا نہیں ہوا کہ تمہیں میرے سوا کوئی اور چھوئے۔ میں اسکی باندی ہوں نا جیسے۔! زینہ نے دانت پیسے ۔۔
زینہ خون نہ جلاؤ ۔! میں عبد السمیع سے بات کرتی ہوں، ان کا حلقہ احباب بھی بہت وسیع ہے ماشاءاللہ۔۔۔ سامعہ ایک بات اور سنو ۔!
ہاں بولو۔!
سامعہ جو بھی مجھ سے شادی کرنے کا خواہش مند ہوا ،اسے واضح کر دینا کہ میں خالی ہاتھ آؤں گی۔ جہیز کے نام پر صرف میرے تن کے کپڑے اور میرا حجاب ہو گا ۔۔۔
زینہ تم پریشان نہ ہو ، میں کچھ نہ کچھ کرتی ہوں اور ویسے بھی تمہاری امی کی ہسپتال سے واپسی پر انکی عیادت کے لیے بھی تو آنا ہے ، پھر ادھر ہی ان سے ساری بات بھی کر لوں گی ان شاءاللہ۔۔
زینہ میرے خیال میں تمہیں روحیل کو بلاک کرنے کے بجائے دوبارہ سے بات واضح کر دینی چاہیئے۔۔۔
سامعہ میں بارہا واضح کر چکی ہوں۔۔ وہ ایک نمبر کا ڈھیٹ شخص ہے ، جب تک میرا کسی کے ساتھ رشتہ نہیں بن جاتا تب تک وہ میری جان نہیں چھوڑنے والا۔۔۔
پھر بھی زینہ آخری کوشش کرکے دیکھ لو۔! بلکہ اسے بولو میں تمہارا رشتہ ڈھونڈ رہی ہوں لہٰذا اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
سامعہ اس نے رٹا لگایا ہوا ہے “زینہ میری اور صرف میری ہے ۔”
سامعہ میں بہت پریشان ہوں ۔
سامعہ مجھے لگتا ہے شہلا آپا بلا رہی ہیں۔ میں چلتی ہوں۔۔
ہاں ٹھیک ہے جاؤ مگر اس روحیل کا قصہ ویر عاصم کو بتا کر تمام کردو۔!
الوداعی کلمات کے بعد زینہ نے اپنے کمرے سے ہانک لگائی ۔آپا میں پانچ منٹ میں آ رہی ہوں۔!
زینہ نے کچھ دیر سوچا اور جوابی پیغام لکھنے لگی۔۔
میری آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ میرے ساتھ اپنے قیمتی وقت کا ضیاع نہ کریں، میں سبز باغ دیکھ کر پھسلنے والی لڑکی نہیں ہوں، مجھے میری اوقات پتا ہے اور آپ نے بھی سر راہ مجھے میری اوقات باور کروائی ہوئی ہے ۔
مانا کہ آپ کے ہم پر بہت زیادہ احسان ہیں مگر میں ان احسانوں کا بدلہ آپکی تفریح کا سامان بن کے نہیں چکا سکتی ہوں، میں آپ سے معافی چاہتی ہوں۔
روحیل صاحب میری تنہائی میرا آئینہ ہے اور میں اپنی اس شفاف تنہائی کو داغدار نہیں ہونے دونگی ، مجھے اللہ کی حدود سے تجاوز کرنے پر مت اکسائیں۔! میں آپ کے ساتھ گپ شپ کرنے پر کبھی بھی رضامند نہیں ہوں گی، میں اس بدبودار فعل سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں ، میں آپ کے لئے شیطان کو خوش کرکے اور پھر نکاح جیسے پاکیزہ بندھن میں نہیں بندھ سکتی ہوں۔! آپ کے لئے آپکے معیار کی لڑکی ڈھونڈنا کوئی مشکل مرحلہ نہیں ہے اور بقول آپ کے آپ لڑکیاں پھانسنے میں کھلاڑی ہیں۔ جایئے یہ کھیل کہیں اور جا کر کھیلیں۔ ! زینہ نا پہلے آپ کی تھی اور نہ اب ہو گی۔۔
زینہ نے دل پر پتھر رکھ کر روحیل کو پیغام بھیجا اور اس کا پانچواں نمبر بھی بلاک کر دیا۔
******************************************
آپا کل تک امی گھر آ جائیں گی مگر انکی فزیو تھیرپی بہت ضروری ہے۔۔۔ ہسپتال میں تو انکا فزیوتھراپسٹ اپنا ہے مگر گھر سے روزانہ امی کو لے جانا نہایت کٹھن مرحلہ ہوگا۔ موٹر سائیکل پر ایک تو کڑاکے کی سردی اور دوسرا امی کا جسم ایک طرف سے لاغر اور ایک قسم کا مفلوج ہی سمجھو۔
زید نے بھاری دل کے ساتھ ڈبڈبائی آواز میں زینہ کو بتایا۔۔
گھر پر فزیوتھراپسٹ کو بلانا روزانہ کا ہزار دو ہزار کا خرچہ ہے ۔۔ آپا یہ سب کدھر سے آئے گا ۔۔ زید لاچار لہجے میں بولتا کچھ دیر کے لئے خاموش ہو گیا۔۔۔
زید بولو نا کیا کہنا چاہتے ہو۔
شہلا آپا کدھر ہیں ؟؟
وہ تو ناساز طبیعت کی وجہ سے آج جلدی سو گئی ہیں۔ پر زید تم کھل کر بات کرو نا۔ اتنا گھبرا کیوں رہے ہو۔ ؟؟
آپا آپکو تو پتا ہے امی اور آپا کے علاج پر دو لاکھ کا خرچہ آیا ہے، اور اس مکینک کی دکان پر یہ دو لاکھ کما کر عاصم اور روحیل بھائی کا قرض نہیں لوٹا پاؤں گا ، چاہے دس سال لگاتار کام بھی کر لوں تو بھی یہ ناممکن ہے۔۔ جو تھوڑا بہت کماتا ہوں اس سے بمشکل گھر کی دال روٹی چلتی ہے۔۔
ہاں یہ بات تو ہے زید۔۔ پر میں نے نوکری کے لیے سرکاری غیر سرکاری سکولوں میں درخواستیں دے رکھی ہیں ، اب دعا کرو مجھے بھی جلد نوکری مل جائے۔۔۔
آپا ۔!!
زید تم کھل کر بات کرو ۔! پہلے تو تم کبھی بھی ایسے نہیں گھبرائے ہو ۔۔
آپا بات ہی کچھ ایسی ہے ۔۔ زینہ کا دل عجیب طریقے سے دھڑکنے لگا۔۔۔
ہاتھوں میں لرزش عود آئی۔۔
زید تم بس مجھے بتا دو جو بھی بتانا ہے یوں پہیلیاں بھجوا کر پریشان مت کرو۔۔
آپا وعدہ کرو چھوٹے بھائی کا مان رکھو گی، اس وقت آپ کے سوا میری کوئی مدد نہیں کر سکتا ہے۔۔۔
زید میرے لئے تو تمہاری جان بھی حاضر ہے میرے بھائی، تم کام بولو۔۔
آپا کام نہیں ہے صرف ایک گزارش ہے ۔!
زید نے اپنی پیشانی مسلی۔۔۔ جبکہ زینہ ہنوز اسکے چہرے پر لکھے کرب کو پڑھ رہی تھی۔۔۔
گھر میں سب سے چھوٹا بھائی آج کتنی بڑی آزمائش کا شکار تھا۔ زینہ نے دل میں سوچ لیا کہ بھائی کو مایوس نہیں کرے گی۔۔ مگر شک کے ناگ پھن اٹھائے بغاوت پر اکسانے لگے۔۔۔
آپا میں سوچ رہا ہوں دبئی چلا جاؤں اور وہاں سال دو سال کما کر سارا قرض اتار دوں ۔!
زید تم کیسے دبئی جا سکتے ہو ؟ امی گھر میں بیمار ہیں۔۔
آپا میری عاصم اور روحیل بھائی سے بات طے ہو گئی ہے کہ ویر عاصم مجھے اپنے ساتھ دبئی لے جائیں گے اور اپنی کمپنی میں نوکری بھی دیں گے۔۔ زید ہمارا کیا بنے گا ۔؟؟
آپا شہلا ، آپ اور امی اسلام آباد جا رہے ہیں۔!
ایک تو فزیوتھراپسٹ عاصم بھائی کے گھر آیا کرے گا اور دوسرا آپ کا نکاح روحیل بھائی سے ہو جائے گا۔ پھر پردے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔۔
زید نے التجائیہ انداز میں بہن کی طرف دیکھا۔۔
آپا میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں یہ تمام باتیں ویر عاصم اور روحیل بھیا کے سامنے انکے ڈیڈ نے گزشتہ ہفتے ہسپتال کے انتظار گاہ میں بیٹھ کر مجھے بولیں تھیں۔۔۔ بلکہ یوں سمجھیں انہوں نے باقاعدہ آپ کا رشتہ مانگا ہے ، اندر کمرے میں جاکر باقاعدہ طور پر امی کو بھی تسلی دی ہے
ارشاد چچا کا بھی یہی کہنا تھا کہ میں آپ کے فرض سے سبکدوش ہو کر آسانی سے دوبئی جاکر کام کر سکتا ہوں۔۔
یہ سب سن کر زینہ کا رنگ فق ہو گیا۔۔
زید نے زینہ کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھے تو گھبرا اٹھا۔۔
آپا کیا آپ چاہیں گی کہ ہماری ماں ابھی سے بستر پر پڑی رہیں اور محتاجی والی زندگی گزاریں۔۔؟
نہیں نا ۔؟
زینہ نے بےکلی میں دائیں بائیں گردن جھٹکی۔۔۔
آپا تو پھر ہاں بول دو ۔اس میں ہم سب کی بہتری ہے، آپا ویر عاصم بھی آپ سے بات کرنے چاہتے تھے مگر اچانک اسلام آباد کسی ضروری کام سے انہیں جانا پڑ گیا اور ویسے بھی بقول انکے کہ آپکو وقت دیا جائے، امی کی حالت سنبھلنے کے ساتھ ساتھ آپ کی حالت کو بھی مدنظر رکھا جائے۔۔۔
آپا آپ روحیل بھائی کے ساتھ بہت خوش رہو گی۔۔! وہ لوگ مالدار ہونے کے ساتھ ساتھ دلدار بھی ہیں، لوگ تو مال سے لدے پھندے ہوتے ہیں مگر اسے ہوا بھی نہیں لگنے دیتے ہیں۔ ان لوگوں نے بےدریغ اور بلا جھجک ہماری ماں پر پیسہ خرچا ہے ۔ جبکہ انہیں علم ہے کہ ہمارے پاس اتنی بڑی رقم لوٹانے کا ذریعہ بھی موجود نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی ہماری خودداری کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس رقم کو قرض حسنہ کا نام دے دیا ہے ۔۔۔
آپا آجکل لوگوں کی اکثریت بےحسی کا شکار ہے، اپنا خون چھوڑ جاتا ہے ۔دودھ شریک تو بہت دور کی بات ہے ، خود دیکھ لو سگی خالہ نے ابھی تک ہمارے گھر کی دہلیز پار نہیں کی اور نا ہی ہماری ماں کا پوچھا ہے۔۔
آپا پتا ہے خالہ اور ذیشان بھائی ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟؟
زینہ نے ویران سوالیہ نظروں سے چھوٹے بھائی کو دیکھا۔۔۔
زید نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولا۔ آپا وہ اس لیے کہ کہیں ہم ان سے رقم کا مطالبہ نہ کر بیٹھیں، ان سے ادھار نہ مانگیں۔۔! وہ اپنے مال کی بچت کے لیے ہم سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
زید نے بھرائی آواز میں بولا ۔۔۔
آپا میں ویر عاصم اور روحیل بھیا کا یہ احسان ساری زندگی نہیں بھول پاؤں گا۔۔۔
ہماری ماں سرکاری ہسپتال میں نجانے کتنے دن کی اذیت کاٹتی رہتیں مگر ان لوگوں نے ہماری ماں کی صحت کو مدِنظر رکھتے ہوئے نجی ہسپتال کا انتخاب کیا، جہاں پر معمولی کھانسی کو بھی سنجیدگی سے جانچا جاتا رہا ہے۔۔
آپا وہ لوگ اس قدر مدد نہ بھی کرتے تو ان پر کوئی گلہ نہیں بنتا تھا مگر انہوں نے جذبہ ہمدردی یا پھر جذبہ ایثار و قربانی کے تحت یہ سب کیا ہے۔۔۔
آپا میں نے روحیل بھیا کو بہت قریب سے دیکھا ہے، انکا اٹھنا بیٹھنا، بات چیت ، رکھ رکھاؤ اور سب سے بڑی اور اہم بات شکل وصورت والے خوبرو نوجوان ہیں۔۔
زید ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بہن کو قائل کرنے میں کوشاں تھا جبکہ زینہ ایک ہی نقطہ پر اٹکی تھی ، بے چینی اور اضطرابی اپنے عروج پر تھی۔ زینہ کے پاس اسکا حل انگلیاں مروڑنے کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔۔۔
زینہ کی زندگی کی یہ تاریک ترین رات کسی فیصلے کی منتظر تھی ۔۔۔ جنوری کی ٹھٹھرتی رات میں بادل کی گڑگڑاہٹ اور شاں شاں کرتی ہواؤں کے تھپیڑے لکڑی کے بند دروازے میں بےدریغ داخلے کی جستجو میں تھے۔۔۔
آپا میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔۔۔! زید نے خاموش بیٹھی زینہ کو یاددہانی کروائی۔۔۔
آپا یہ لوگ صاحب مال ہیں ،آپ انکے گھر جا کر اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لیے نہیں ترسو گی۔۔!!
زید بات ضرورتوں کی نہیں ہے ۔! اصل بات تو کردار کی ہے جو کہ اس ہر ڈال بیٹھنے والے بھنورے کے پاس نہیں ہے ۔۔۔ سوچوں میں غلطاں زینہ یہ سب زبان پر نہ لا سکی۔۔۔
آپا مجھے لگتا ہے آج رات بہت زور سے بارش برسنے کے امکانات ہیں۔ صحن میں سے تمام چیزیں اٹھا لی ہیں اب بس یہی زعم ہے کہیں بیٹھک کی چھت نہ ٹپک پڑے۔ زید کا دھیان یکدم پلٹا اور پریشان لہجے میں بولا۔۔
آپا یہ والی اضافی پریشانیاں آپکو اس گھر میں سننے کو نہیں ملیں گی۔۔۔!
زید مثبت جواب کے انتظار میں زینہ کے چہرے کے بدلتے رنگ کو دیکھ کر حیران تھا۔۔
آپا آپ میرے اوپر بوجھ نہیں ہو ، اور نہ یہ سمجھنا کہ میں آپ کو استعمال کر کے اپنے لئے آسانیاں پیدا کر رہا ہوں۔۔! باخدا میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔
زید تم نے ایسا کیوں سوچا۔؟؟ زینہ نے تڑپ کر بھائی کو گرکا۔۔۔
زید مجھے صلاتہ الاستخارہ ادا کر لینے دو ،میں صبح تک تمہیں جواب دے دوں گی ان شاءاللہ۔۔۔
زینہ نے خود پر صبر کا خول چڑھا کر بھائی کو مطمئن کرنے کی بھرپور کوشش کی۔۔
ٹھیک ہے آپا پر جواب “ہاں” میں ہونا چاہئے۔!
زید تم پریشان نہ ہو ، مجھے ماں کی صحت اور اپنے چھوٹے بھائی کی پریشانیوں کا بخوبی اندازہ ہے۔۔۔ اور اگر میری ہاں میں سب کی بھلائی پوشیدہ ہے تو میں اس دریغ نہیں برتوں گی ، میرے میں صرف اس سنت کو پورا کرنے کی جستجو ہے ۔
زینہ نے زید کا کندھا تھپتھپایا اور اسکے سامنے پڑے برتن سمیٹنے لگی۔۔
اور ہاں مجھے تمہارا اترا ہوا چہرہ دکھائی نہ دے ۔! اپنی عمر دیکھو اور اپنی حالت دیکھو کیا بنا رکھی ہے۔۔؟؟ اور تم نے یہ ایک روٹی بھی نہیں کھائی ہے ؟ میں برتن نہیں لے جا رہی ہوں ، فٹا فٹ اسے کھاؤ۔!
زینہ نے برتن واپس تپائی پر رکھتے ہوئے زید کو آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔
آپا بھوک نہیں ہے ۔!
مجھے نہیں پرواہ بھوک ہے یا نہیں تم نے اس روٹی کو کھانا ہے۔۔ سوکھ کر تنکا بنتے جا رہے ہو۔!
زینہ مصنوعی غصے سے زید کو سمجھانے لگی۔۔۔
آپا میں بھیا لوگوں کے احسانوں تلے دبتا چلا جا رہا ہوں بس یہی کوشش ہے کہ جلد از جلد کما کر انہیں قرض لٹا دوں۔
کیوں نہیں زید۔؟! میں بھی یہی چاہتی ہوں، میرا بھائی سر اٹھا کر خودداری کی زندگی گزارے ان شاءاللہ۔۔
میں عشاء ادا کر لوں اور تم بھی مسجد نہیں جا پاؤ گے کیونکہ موسلادھار بارش برس رہی ہے۔۔۔
****************************
اس قدر خوش ہوں۔مجھے میری منزل مل رہی ہے۔میرے جزبات و احساسات کو یرغمال بنا کر رکھنے والی ہستی بہت جلد میری زندگی کا حصہ بننے جا رہی ہے۔۔۔
مجھے اُمید ہے تم بھی ایک دن میری محبت میں گرفتار ہو جاؤ گی ، ابھی جو بھی بدگمانیاں یا پریشانیاں تمہارے اس ننھے ذہن کو جکڑے ہوئے ہیں یہ سب میرے پاس آنے پر زائل ہو جائیں گی۔۔
اپنی “ہاں” سونپ کر مجھے معتبر بنانے والی ہستی زینہ حیات میرے خیالوں کی ملکہ ، مجھے محبت میں اپنا غلام پاؤ گی۔! روحیل ارشاد کو محبت کی یہ سوداگری قبول ہے۔
رخصتی نہ کرنے والی بات تو سمجھ میں آتی ہے مگر مجھے بلاک نہیں کرنا ، ابھی چند دن بعد تو میں تمہارا محرم ، تمہارا شوہر ہوں گا ان شاءاللہ۔
میرا آخری نمبر ہے لہٰذا محتاط رہنا۔! وگرنہ زید کے ذریعے تمہارے فون کا حصول میرے لیے ناممکن نہیں ہے۔۔
اچھا یہ بتاؤ نکاح والے دن کیا پہننا پسند کرو گی۔؟ اور میں کیا پہن کر آؤں۔؟؟؟ مجھے جواب ملنا چاہئے اور میں منتظر ہوں۔! صرف تمہاری وجہ سے کال نہیں کرتا کہ تم نے بیہوش ہو جانا ہے وگرنہ دوٹوک بات کرتا ہوں۔۔
صرف اور صرف تمہارا ہونے والا روحیل ارشاد۔!
روحیل کے چھٹے نمبر سے موصول ہونے والے پیغام کو پڑھ کر زینہ کی حالت غیر ہونے لگی۔۔ اللہ جانے اس شخص کو شرم کیوں نہیں آتی ہے۔؟ اتنی بےباک گفتگو دھڑلے سے کرتا ہے جیسے میں اسکی بیوی صدیوں سے ہوں۔۔۔ابھی یہ حال ہے نجانے نکاح کے بعد کیا کرے گا۔؟! زینہ نے پیشانی پر آئی پسینے کی بوندوں کو دوپٹے سے رگڑ ڈالا۔۔۔
پروقار شرمیلی سی زینہ اس وقت سخت مضطرب دکھائی دے رہی تھی۔۔سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ جواب دے یا پھر خاموش ہو جائے۔ بلاک کیا تو اس شخص نے گھر پہنچ آنا ہے۔
سوچ و بچار میں گم زینہ شہلا کی بات پر چونکی۔۔۔
زینہ تم اندر کیوں گھسی بیٹھی ہو۔؟؟ دو دن بعد تمہارا نکاح ہے کچھ تو بناؤ سنگھار کی تیاری کرو۔ شہلا نے زرد تھکے چہرے کے ساتھ زینہ کو ڈانٹا۔۔۔
آپا آپ نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے ؟ لائیں میں آپ کے بالوں میں کنگھی کروں۔ زینہ نے توپوں کا رُخ پھیر دیا۔۔۔
میرے بناؤ سنگھار کے لیے سامعہ آج شام کو آ جائے گی۔۔
اور ویسے بھی جب تک امی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو جاتیں مجھے ان چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔
اے پاگل ہو گئی ہے زینہ؟! روحیل کو دیکھ کس قدر خوبرو جوان ہے ، لڑکیاں تو اسے دیکھ کر آہیں بھرتی ہوں گی اور تمہیں گھر میں بیٹھے بٹھائے مل رہا ہے ،بغیر کسی تگ و دو کے اتنا پیارا شہزادہ تجھے اپنا نام دے رہا ہے۔۔۔
آپا تگ و دو کا تو پوچھو کچھ نا جتنا اس شخص نے مجھے ہراساں کیا ہے شاید ہی کائنات میں کوئی ایسا پیدا ہوا ہو ۔آوارہ لفنگا، دل پھینک شرافت کا چولا پہن کر میرے گھر والوں کو بیوقوف بنا رہا ہے۔زینہ دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گئی مگر زبان پر نہ لا سکی۔۔۔
زینہ چپ کیوں ہو گئی ہو ؟؟ لگتا ہے شرما گئی ہو۔؟ شہلا چارپائی پر بیٹھی کھڑی زینہ کے جذبات کو ٹٹول رہی تھی جو اسکے الجھے بالوں کو سلجھانے میں کوشاں تھی۔۔
نہیں آپا بس ایسے ہی۔ زینہ نے جان چھڑانی چاہی۔۔۔
ہائے اس وقت صبح کے دس بجے کون آن ٹپکا ہے ؟ زید تو کام پر ہے ۔ زینہ جا دیکھ کون آیا ہے۔؟؟
زینہ کے ذہن میں جھماکا ہوا۔۔ یقیناً روحیل ہو گا ۔ جواب جو نہیں دیا۔۔ہائے اللہ اگر آپا کو پتا چل گیا کہ روحیل میرے ساتھ فون پر رابطے میں ہے تو میری بنی بنائی عزت کا جنازہ نکل جائے گا۔
زینہ کی حالت ابتر ہونے لگی۔۔۔۔
زینہ دیکھ نا جا کر ۔تیسری دفعہ کوئی بے صبرا ہوا جا رہا ہے۔۔
جی آپا ۔! زینہ نے گرم شال کو چاروں اطراف لپٹا اور کانپتی ٹانگوں کے ساتھ دروازے پر جا پہنچی۔۔۔
کون .؟؟؟
تمہارا ہونے والا روحیل۔!
بےباک جواب سن کر زینہ کی بچی کھچی ہمت بھی جواب دینے لگی۔۔۔
آپ کو شرم کیوں نہیں آتی۔؟؟
کس بات پر شرم آئے۔؟؟
یہی جو آپ نے ابھی مجھے بولا ہے۔! زینہ نے لرزتی آواز میں پوچھا۔۔
جھوٹ تو نہیں بولا ہے۔؟
آپ کو ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئے ہیں۔۔!
میں تو کروں گا کیونکہ میرا پورا حق ہے۔!
میں نے آپ کو یہ حق ابھی نہیں دیا ہے۔!
تو بتا دیں کب یہ حق مجھے دیں گی تو پھر اسی وقت آپ سے تمام تفصیلی باتیں کر لوں گا۔۔!
آپ یہاں پر کیوں آئے ہیں؟ زید گھر پر نہیں ہے۔
مجھے شرافت سے فون پر جواب مل جاتا تو کبھی بھی نہیں آتا۔
زینہ دروازے پر کون ہے۔؟؟ شہلا نے کمرے سے ہانک لگائی۔۔
آپ یہاں سے شرافت سے چلے جائیں پلیز۔ کیوں میری عزت خاک میں ملانے کے لیے چلے آئے ہیں۔؟؟ زینہ شدید کوفت میں مبتلا تھی۔۔
یاد رکھنا مجھے تمہاری عزت اپنی عزت سے زیادہ عزیز ہے مگر تم سیدھے طریقے سے بات نہیں سنتی اس لیے مجھے طریقہ کار بدلنا پڑتا ہے۔ لکڑی کے بند دروازے کے آر پار نوک جھونک کا سلسلہ جاری و ساری تھا۔۔
پلیز چلے جائیں۔
نہیں جاؤں گا جب تک مطلوبہ سوال کا جواب نہیں ملتا۔۔
کونسا سوال ۔؟ شدید پریشانی میں زینہ کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا۔۔
وہی پیغام جسے آدھا گھنٹہ قبل تم پڑھ چکی ہو اور جواب دینا گوارہ نہیں سمجھا۔۔۔
زینہ میرے بال کھول کر خود کہاں رہ گئی ہے ۔؟
آپا میں بس آ رہی ہوں ، شاید کوئی راستہ بھٹک گیا ہے تو میں اسے راستہ سمجھا رہی ہوں۔
زینہ نے جلدبازی میں جو منہ میں بول دیا ۔۔۔
دروازے کے باہر کسی کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔
آپ کس قدر ڈھیٹ ہیں۔! زینہ زچ ہو چکی تھی۔۔
میں راستہ بھٹکا نہیں ہوں بلکہ صحیح راستے کا تعین کر کے آیا ہوں۔۔
اپنے لباس کے بارے میں بتاؤ ،میں فوراً چلا جاؤں گا۔۔
جو جی میں آئے خرید لیں مگر خدارا یہاں دوبارہ نہ آنا۔ زینہ تھر تھر کانپتی ٹانگوں کے ساتھ اگلے لمحے زمین بوس ہونے کے لئے پر تولنے لگی۔۔
آپکو میری حالت پر ترس کیوں نہیں آتا ہے۔؟ میری جان پر بنی ہوئی ہے اور آپ یہاں پر اپنی چلا رہے ہیں۔ نا چاہتے ہوئے بھی زینہ شکوہ کر گئی۔۔
اپنی ہونے والی بیوی کا پہلا شکوہ مجھے عزیز تر ہے۔ جا رہا ہوں مگر نکاح کے بعد مجھے دیکھ کر بیہوش مت ہونا۔۔
نامحرم نہیں رہوں گا ۔!
تمہاری ساری چیزیں اپنی پسند سے خریدوں گا ۔! اچھا ہوتا اگر تم اپنی پسند سے آگاہ کر دیتی پر چلو خیر وہ وقت بھی جلد آنے والا ہے ۔۔ ایک ایک منٹ گن رہا ہوں۔۔
میں جا رہی ہوں اور اب دوبارہ یہاں پر نہیں آنا پلیز۔!
میرے پیغامات کا جواب دیتی رہو گی تو نہیں آؤں گا ۔!
مجھے نہیں پتا میں جا رہی ہوں۔زینہ اپنی دھڑکنوں کو سنبھالتے ہوئے لرزتی ٹانگوں کے ساتھ کمرے میں لوٹی جہاں شہلا کو اپنا منتظر پایا۔۔
زینہ اتنی دیر لگا دی ۔؟
جی آپا ناچاہتے ہوئے بھی پانچ منٹ ضائع ہو گئے۔۔
بنا دروازے کھولے ہی سارا راستہ سمجھا آئی ہو۔؟؟
جی آپا ۔اب کسی اجنبی کے لئے تو دروازہ نہیں کھولا جا سکتا ہے۔۔
ہاں یہ بات تو ہے۔۔
جاری ہے
