Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03

Zeena E Hayat by Umm e Umair Episode03

کاش! تم نے شور مچایا ہوتا تو آج یہ لفنگا منیب پٹیوں میں جکڑا ہوتا۔۔۔ دوبارہ کسی لڑکی کے ساتھ چھیڑ خانی کی جراءت نہ کرتا۔۔۔
سامعہ وہ بہت ڈھیٹ ہے ، یاد نہیں گزشتہ ماہ زید نے اسکو کس قدر پیٹا تھا مگر یہ باز نہیں آیا اور موقع ملتے ہی وار کر گیا ۔۔۔۔۔
زینہ اب کی بار یہ شخص جب ایک سے زائد لوگوں سے پٹتا تو ہڈی پسلی ضرور ٹوٹتی۔۔۔
خیر “اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت”۔۔۔
ہائے سامعہ.! وہ دیکھ ہماری طرف ہی آ رہا ہے۔!!! وہ دیکھ ۔!!! زینہ نے لرزتے ہاتھوں سے سامعہ کا کندھا جکڑ لیا۔۔۔
زینہ کچھ بھی نہیں ہوتا ۔! تم بس اپنے آپ پر قابو رکھو۔! یہ یونیورسٹی ہے اسکے باپ کا محل نہیں جہاں پر یہ اپنی دھونس جما سکے۔۔۔
سامعہ چلو یہاں سے چلتے ہیں.! رہنے دو۔! ہمیں کیا ضرورت ہے اس لفنگے کے منہ لگنے کی .! زینہ نے منتیں شروع کر دی۔۔
زینہ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔۔۔
تو آنے دے اسے۔
اس پر تو میں ہراسگی کا پرچہ کٹواؤں گی۔۔۔
سامعہ چھوڑ نا.!!! اس میں بھی ہماری ہی جگ ہنسائی ہونی ہے۔۔۔
زینہ میں اس شخص کو نہیں چھوڑنے والی۔۔! سامعہ پوری تیاری کے ساتھ منیب کی منتظر تھی۔۔ جبکہ زینہ کو ٹھنڈے پسینے آنا شروع ہو گئے۔۔۔۔
زینہ فون نکال ۔! میرا فون ووئس ریکارڈنگ پر رہے گا اور تو اسکی ویڈیو بنائے گی۔۔۔
سامعہ میں کیسے بنا سکتی ہوں یار .؟؟؟!
زینہ عبایا کے ایک کونے میں چھپا کر ریکارڈنگ کرتی رہنا ۔۔۔۔۔
سامعہ میرے ہاتھ کانپیں گے ۔! میرے سے ریکارڈنگ نہیں ہو پائے گی۔ اور ویسے بھی ہم نے اسکی ریکارڈنگ کا کیا کرنا ہے؟!
زینہ تیری عقل میں بھوسی بھری ہوئی ہے۔۔۔
کل کو اگر اس نے تمہیں یا کسی اور لڑکی کو ہراساں کرنے کی کوشش کی تو ہمارے پاس تمام ثبوت ہوں گے ان شاءاللہ۔۔۔
اسکو اس یونیورسٹی سے ہی نکلوا دیں گے جس کے لئے ثبوت ہونا بہت ضروری ہیں۔۔ تاکہ آئندہ کوئی بھی شریف لڑکی اسکی ہوس کا نشانہ نہ بن سکے۔۔۔!!!
اپنے ڈیپارٹمنٹ کی لڑکیوں کے ساتھ چولیں مارنے کا عادی ہے تو سمجھتا ہے باقی سب لڑکیاں بھی ایسی ہیں۔۔
یہ جو اسکے باپ کے لمبے نوٹ ہے نا وہی اسکا دماغ خراب کیے ہوئے ہیں ۔۔۔
میں چاہتی ہوں صرف ایک مرتبہ یہ میرے ہتھے چڑھے میں اسکی گھٹیا حرکتیں سر تک پہنچاؤں گی۔۔۔ سامعہ کھولتے خون کے ساتھ منصوبہ بندی میں مصروف عمل ہو گئی۔۔۔
ایکسکیوزمی ۔!!! منیب نے شرافت کا خول چڑھاتے ہوئے بولا۔۔
جی فرمائے .!!! زینہ کے بجائے سامعہ نے جواب دیا۔
کیا میں ادھر بیٹھ سکتا ہوں؟؟؟
نہیں .!!!
کیوں.؟؟؟ منیب نے ابرو اچکائے۔
کیونکہ یہاں پر ہم بیٹھے ہیں ۔!! سامعہ کا کورا جواب سن کر منیب کھول کر رہ گیا مگر وہ تو اپنی نئی چال چلنے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتا تھا ۔۔۔
دیکھیں مس آپ غلط سمجھ رہی ہیں وہ دراصل میں ان سے معافی مانگنے آیا تھا ۔؟
کن سے معافی؟ سامعہ نے بینچ پر بیٹھے بیٹھے اپنے نقاب کو درست کرتے ہوئے کھردرے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
یہ جو آپ کے ساتھ کالے برقعے میں بیٹھی ہیں۔ !!
کیوں آپ ان سے معافی کیوں مانگنا چاہتے ہیں؟؟؟
وہ دراصل گزشتہ ہفتے میرے سے ایک غلطی سرزد ہو گئی تھی بس اسی سلسلے میں حاضر ہوا تھا ۔
کونسی
غلطی سرزد ہوئی ہے آپ سے ؟؟؟ ذرا تفصیلی روشنی ڈالیں تاکہ اس پر سوچا جا سکے۔۔۔۔
وہ جی انکو پتا ہے ؟؟؟
کن کو پتا ہے ؟؟ سامعہ نے ذرا سخت لہجے میں پوچھا۔۔۔
یہ جو آپکی سہیلی پاس بیٹھی ہیں۔
آپ میری سہیلی کو چھوڑیں ، آپ میرے ساتھ مخاطب ہیں لہذا میرے سوالوں کے جوابات دیں۔۔۔۔
جی تو آپ کسی غلطی کا ذکر فرما رہے تھے۔ ہم ہمہ تن گوش ہیں اب اپنا منہ مبارک کھولیں۔۔۔
منیب سامعہ کے تحقیقی انداز پر کھول کر رہ گیا۔
کیا ہم کہیں پر بیٹھ کر نہیں بات کر سکتے ہیں۔؟؟؟ منیب نے سعادت مندی سے دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ہم بیٹھ کر ہی بات کر رہے ہیں۔!!
میرے خیال میں یہ معافی نامہ سرکاری سطح پر نہیں ہو رہا ہے ، اس لیے اتنے تردد کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔!
آپ بولنا شروع کریں ۔!! سامعہ نے اپنا نقطہ نظر رکھا۔
وہ دراصل میں اپنے گزشتہ ایک سال کے رویے سے لے کر ایک ہفتہ قبل والے رویے پر بہت شرمندہ ہوں۔!!!
اپنی دوست سے بولیے مجھے معاف کر دیں۔۔۔
جی وہ تو میں بول دوں گی آپ صرف ایک سال قبل والی وجوہات بتا دیں۔ سامعہ نے دانت پیستے ہوئے پوچھا۔۔۔
بس جی نادانی میں جو منہ میں آتا تھا ، بولتا رہا ہوں۔!
مثلاً۔؟؟؟
وہ مجھے بہت افسوس ہورہا ہے ان تمام کلمات کو دہراتے ہوئے۔ میں نہیں چاہتا آپکی سہیلی کے زخم تازہ ہوں ۔منیب نے سادگی اور شرافت کی حدوں کو چھوتے ہوئے نرم لہجے میں بولا۔۔۔
زخم تو خیر آپ کو دیکھ کر ہی تازہ ہو جاتے ہیں۔۔۔ سامعہ نے دانت پیسے۔۔۔
وہ زینہ جی میرے ان جڑے ہاتھوں کی طرف دیکھیں اور مجھے معاف فرما دیں۔۔۔!
یہ تو ادھر دیکھ ہی نہیں رہی ہیں۔!
آپ ان پر غور و فکر کرنے کے بجائے اپنے الفاظ پر کریں تاکہ آپ کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو اور نہ ہمارا۔!!!
امید ہے آپ کی بات مکمل ہو چکی ہے۔؟؟
ارے نہیں۔! وہ دراصل میں اپنے دوست کی طرف سے بھی معافی مانگنے آیا تھا ۔۔۔منیب نے بات کو طول دیا۔۔۔
آپ نے معافی مانگ لی ہے ۔ اور ہم نے آپ کو معاف کر دیا ہے۔ بات ختم ۔! سامعہ نے چہرے کے سامنے منڈلاتی مکھی کو اڑایا جبکہ زینہ جھکے سر کے ساتھ تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔۔
یہ تو آپ بول رہی ہیں جی ، آپ کی دوست نے تو ابھی تک کچھ بھی نہیں بولا ہے ۔۔ منیب نے اداس چہرے سے بولا۔
زینہ۔!! بولو میں نے معاف کیا۔!
سامعہ انکو بول دو میں نے معاف کیا ۔
چلیں آپ تشریف لے جائیں ۔اب آپ کی یہ خواہش بھی پوری ہو گئی ہے۔۔۔
آپ کا یہ احسان میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا ہوں۔ آج رات تو کم از کم میں سکون کی نیند سو سکوں گا۔۔
منیب کا عاجزانہ لہجہ زینہ کی سمجھ سے باہر تھا جبکہ سامعہ بات کی گہرائی تک پہنچ چکی تھی۔۔۔۔
امید ہے آئندہ آپ ہمارے راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے ۔؟؟ سامعہ نے تصدیق چاہی۔
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جی ۔ آپ کا ڈیپارٹمنٹ ادھر اور میرا دس منٹ کے فاصلے پر ہے ۔۔۔
جی بالکل ۔! اسکے باوجود آپ یونیورسٹی کی ہر لڑکی سے واقف ہیں۔۔۔ سامعہ غصے سے بڑبڑائی ۔
آپ نے کچھ بولا ہے ؟
جی نہیں ۔! ہمیں اپنی کلاس میں جانا ہے ۔ ہمیں راستہ دیجیے۔! سامعہ نے سنگی بینچ پر پڑی کتابیں سمیٹنا شروع کر دیں۔۔۔
جی ضرور ۔ آپ جائیے۔۔۔ منیب ادب سے ایک طرف کھڑا ہو گیا۔۔۔
پہلے آپ یہاں سے تشریف لے جایئے پھر ہم جائیں گے۔۔۔
جی ضرور۔!!
منیب نے مجبور ہو کر پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور متوازن چال چلتے ہوئے کینٹین کا رخ کر گیا۔۔۔
سامعہ شکر ہے یہ گیا ہے۔۔۔
زینہ نے فون کو ریکارڈنگ سے ہٹایا اور عرق آلود ہتھیلیوں کو رمال سے رگڑ ڈالا ۔۔۔۔
یار سامعہ یہ شخص اس قدر بدل گیا ہے یا ڈرامے بازیاں کر رہا ہے۔۔۔ یاد نہیں گزشتہ سال اسکی زبان کس قدر خراب تھی ، اس نے ہمارا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ اور گزشتہ ماہ جب اس نے لاعلمی میں میرا پیچھا کرتے ہوئے زبان درازی کی تو زید سے خوب ٹھکائی کروائی تھی۔۔۔
زینہ دلوں کے حال تو اللہ جانتا ہے مگر اسکے کرتوتوں کے بارے میں جلد ہی پتا چل جائے گا کہ یہ ہمیں کسی نئی سازش کا حصہ بنانا چاہتا ہے یا حقیقتاً توبہ کر چکا ہے۔۔۔
******************************************
کبھی اپنے نفس کی بغاوت پر پورا اتر کر تو دیکھو۔! تمہیں ہر چیز شفاف نظر آئے گی۔ ضمیر کی عدالت میں پیش رفت سے قبل اپنے ان گناہوں اور نافرمانیوں کو گن لینا ،مقدمے میں وکیل صفائی بعض اوقات اپنی چرب زبانی سے حقائق کو پس پشت ڈالنے میں ماہر ہوتا ہے۔
اب دیکھتے ہیں تمہارا وکیل صفائی ابلیس جیتتا ہے یا پھر جیت ایک مومن کی ہوتی ہے۔؟!
خواہش نفس کے پجاری بنے تو ٹھکانا “النار” ہے۔۔۔
______
زینہ نے تڑپ کر بولا مگر اگلے ہی لمحے کسی نے اسکی نازک کلائی مضبوطی سے تھام لی ۔۔۔
مجھے نفس کی جنگ جیتنی ہے زینہ میری مدد کرو۔! مخاطب کی آنکھوں میں امید کے دیئے ٹمٹما رہے تھے۔
نہیں۔!! میں آپکو نہیں جانتی چھوڑیں مجھے جانے دیں۔۔۔۔
زینہ مجھے مت چھوڑو۔!!! سائل کا منت طلب لب ولہجہ زینہ کو نڈھال کرنے لگا ۔۔۔
نہیں۔۔!!! نہیں۔!!! نہیں۔۔!!!
مجھے کسی اجنبی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔۔۔ خدارا میرے راستے میں رکاوٹیں نہ بنو مجھے میری منزل پر پہنچنا ہے ۔۔۔
منت سماجت کرتی زینہ تڑپ کر رہ گئی مگر اجنبی تو گویا ہاتھ تھام کر بھول چکا تھا ۔۔۔۔
میں بول رہی ہوں میری کلائی چھوڑو۔۔۔!!!
اذیت میں مبتلا زینہ نے بےبسی میں جھک کر اسکے ہاتھ پر کاٹنا چاہا مگر اجنبی اسے اپنی مضبوط گرفت میں لے چکا تھا۔۔۔
مجھے چھوڑ دو۔!!! اللہ کا واسطہ ہے مجھے چھوڑ دو ۔۔!!!
تم میری ہو۔! صرف اور صرف میری ہو۔!!!
میں تمہارے لیے نامحرم ہوں۔!!!
تم میری بن جاؤ۔!!
پسینے میں شرابور چلاتی زینہ کی یکدم آنکھ کھل گئی۔۔۔ دائیں بائیں دیکھا تو کمرے میں زیرو کا بلب ٹمٹما رہا تھا۔
“حی علی الصلاۃ”۔۔! (نماز کی طرف آؤ)
“حی علی الفلاح”۔!(فلاح کی طرف آؤ)
صلاة الفجر کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں
زینہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔ شکر ہے یہ خواب تھا۔۔
پاس پڑے دوپٹے سے چہرہ صاف کیا۔۔۔
کتنے دنوں سے زینہ اس ایک شخص کو التجا کرتے ہوئے اپنے خواب میں دیکھ رہی تھی۔
یہ کون شخص ہے؟؟ یہ وہی شخص ہے جو میرے اوپر پستول تانے کھڑا تھا۔۔۔۔ میں شاید اس حادثے کے بارے میں بہت زیادہ سوچ رہی ہوں اس لیے میں ایسے خواب دیکھ رہی ہوں شاید۔؟
سوچ سوچ کر دماغ ماؤف ہونے لگا۔۔۔
اسے میں برا خواب کہوں یا اچھا ؟؟ ایک طرف تو وہ شخص اصلاح کے لیے ساتھ چاہتا ہے تو دوسری طرف وہ نامحرم کا ہاتھ تھامتا ہے۔۔۔؟؟؟
یا اللہ مجھے کسی بھی نئی آزمائش سے محفوظ فرما۔!!
دل خزاں کے سوکھے پتے کی طرح لرزنے لگا۔۔۔
ساتھ والی چارپائی پر لیٹی امی بھی کروٹیں بدلتی نظر آئیں۔۔
اے زینہ۔! اٹھ گئی ہے میری بچی۔! ماں کی شیریں پکار پر زینہ کی آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں۔۔۔
فوراً آنکھیں رگڑ کر جواب دیا ۔۔۔
جی امی بس ابھی وضو کے لیے جا رہی ہوں۔۔۔
تو لیٹی رہ۔! میں وضو کے لئے پانی گرم کرتی ہوں۔۔
نہیں امی آپ لیٹی رہیں۔ میں خود کر لیتی ہوں ، آپ دوسرے کمرے سے زید کو جا کر جگائیں۔۔۔ اسے اٹھانے کے لیے بھی آدھے گھنٹے کے ترلے درکار ہیں۔۔ اس ڈھیٹ نے میرے پکارنے پر نہیں اٹھنا ہے۔۔۔
اے زینہ۔!! سارا دن اتنا سخت کام کرتا ہے ، مالک کی جھڑکیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بھی نجانے کتنی باتیں سنتا ہوگا ، اتنی کم عمری سے کام میں جتا ہوا ہے ۔ہمارا روٹی پانی اسی میرے معصوم بچے کی وجہ سے چل رہا ہے۔ اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔۔۔
یہ تو ہے امی۔! زینہ نے کرسی پر پڑی جرسی کو پہنتے ہوئے ماں کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔
صلاة الفجر کی ادائیگی کے بعد زینہ مسنون اذکار میں مشغول ہو گئی جبکہ امی دوسرے کمرے میں تلاوت قرآن کرنے لگیں۔۔۔۔
ناشتے اور برتنوں کی دھلائی سے فراغت کے بعد زینہ نے کپڑوں کی دھلائی کی ٹھان لی۔۔
زید پتر آج بھی کام پر جا رہا ہے آج کا دن آرام کر لے میرا بچہ۔!!
موٹر سائیکل کو صاف کرتے زید کے ہاتھ تھم گئے۔ امی اللہ نے صحت دی ، ہمت دی ہے تو سات آٹھ سو روپے کو کس لیے لات ماروں۔؟؟
گھر بیٹھ کر کیا کروں گا۔؟ بہتر ہے چار پیسے لے آؤں۔۔!
پتر ہر وقت تیرے گریس اور تیل سے اٹے ہاتھ دیکھ کر دل جلتا ہے میرا۔!
امی رزق حلال کمانا آسان تو نہیں ہوتا ہے۔۔
امی جی میں تو روزانہ اپنے گھر لوٹ آتا ہوں ، گھر کے بنے صاف ستھرے تازہ کھانے کھاتا ہوں اور مجھے دھلے دھلائے استری شدہ کپڑے بھی ملتے ہیں تو مجھے اور کیا چاہئے۔۔۔؟
امی پردیسوں سے پوچھیں جو بیچارے دیار غیر کی خاک چھانتے ہیں اور گھر لوٹ کر کھانا بھی خود بناتے ہیں۔۔۔زید نے تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے غمزدہ ماں کو تسلی دی۔۔۔
وہ بات تو ٹھیک ہے پتر پر پھر بھی کم عمری سے تیرے ہاتھوں میں بنتے چھالے دیکھ رہی ہوں۔۔ بیٹے کی تڑپ میں ماں کی آنکھیں چھلکنے لگیں۔۔
امی۔!! زید موٹر سائیکل چھوڑ کر ماں کو دلاسا دینے لگا۔۔۔
زینہ آپا امی کو کچھ سمجھاؤ ۔! زینہ جو ایک کونے میں بنے تھڑے پر بیٹھی کپڑوں کی رگڑائی میں مصروف تھی۔۔۔ فورا ہاتھ تھم گئے۔۔۔
کیوں کیا ہوا ہے ؟؟
آپا آپ کن خیالوں میں گم ہیں ۔؟؟ میں دیکھ رہا ہوں کافی دنوں سے آپ کچھ پریشان دکھائی دے رہی ہیں۔۔
ارے نہیں میرے ننھے منے بھائی میں ٹھیک ہوں وہ بس تمہاری قمیضوں پر بنے داغ منہ زور ہو چکے ہیں ، مجھے کہتے ہیں اور رگڑو۔۔!! اور زور سے رگڑو۔!!! پورا زور لگا کر رگڑو۔!!!!
زینہ نے ایک ادا سے زید کی قمیض کو رگڑتے ہوئے بولا۔۔۔
زید سمیت امی کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
آپا کپڑے جلدی دھو لیں۔ یہ نا ہو شام کو پھر چھما چھم بارش شروع ہو جائے اور آپکے دھلے کپڑے تار پر پڑے پڑے کوسنے دینے لگیں۔۔۔
ہمیں اتارو۔!! ہمیں تار کے اوپر سے اتارو۔۔۔!!! اللہ کا واسطہ ہے ہمیں اتار کر اندر کمرے میں لے جاؤ۔۔!!!!
زید نے بہن کی نقل اتارتے ہوئے گھر میں پھیلی افسردگی کو زائل کر دیا۔۔۔
امی میں تو چلا اب پریشان نہیں ہونا شام کو جلدی گھر لوٹ آؤں گا ان شاءاللہ۔۔۔
اللہ کے حوالے میرا بچہ۔!! اللہ تجھے اپنے حفظ و امان میں رکھے! اللہ تیرے رزق میں برکت ڈالے۔ آمین۔
زید کے گھر سے نکلنے تک ماں کی زبان ذکر سے تر رہی۔۔۔
زید کے نکلتے ہی زینہ ماں کے نرغے میں دوبارہ آ گئی۔۔۔
اے زینہ جس طرح تو کپڑوں کو رگڑتی ہے کسی دن اتنی محنت اپنے بھولے بھالے چہرے پر بھی کر لے۔۔۔!!
دیکھ اللہ نے کتنے پیارے نقوشِ سے نوازا ہے ماشاءاللہ۔ انہیں نکھار۔!! انہیں سنوار۔۔!!
میری بچی۔!!! دیکھ باہر لڑکیاں کس قدر فیشن کرتی ہیں۔۔ تم تو میرے سے زیادہ لڑکیاں دیکھتی ہو۔ دور کس لیے جانا ، تمہاری یونیورسٹی میں بھی اس طرح کی کتنی لڑکیاں ہونگی۔۔۔!!
جی امی۔! نناوے فیصد لڑکیاں ایسی ہی ہیں۔!!
تو پھر میری بچی! میری شہزادی! زینہ پردوں میں لپٹے وجود ڈولی میں بیٹھنے کی چاہ میں ہی اپنے بالوں میں چاندی اتار لیتے ہیں اور وہ نیم عریاں چہکتی بلبلیں اپنی اداؤں سے کتنے منچلے پھانس لیتی ہیں۔۔
امی میں بوڑھی ہوتی ہوں ، ہو جاؤں مگر میں اس دو ٹکے کی سوچ پر اپنے ایمان کا سودا نہیں کروں گی۔۔۔
میرے نصیب کا لکھا مجھے ان سات پردوں میں بھی مل کر رہے گا ۔۔۔
بلبلیں پھانسنے والے ویسے بھی میرے معیار پر پورا نہیں اتر سکتے ہیں۔۔ مجھے تو غیرت مند چاہئے جس کی مردانگی صرف گالم گلوچ اور عورت پر ہاتھ اٹھانے تک کی نہ ہو بلکہ وہ مؤدب ہو ، وہ متقی ہو اور وہ ہر قدم پر اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ زینہ نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے اور بالٹی میں پڑے کپڑے نچوڑنے لگی۔۔۔
زینہ تو کیوں نہیں سمجھتی بیوقوف لڑکی۔! یہ سب کتابی باتیں ہیں حقیقت کا سامنا کر لڑکی ۔!!!
تجھے کون بیاہ کر لے جائے گا؟؟ بارہا بولا ہے چہرے پر کوئی کریم ، کوئی بلیچ لگایا کر مگر تو اس لفاظی دنیا سے باہر نکلے تو ہے نا۔! امی لاچارگی سے چارپائی پر نڈھال ہو کر بیٹھ گئیں۔۔
زینہ میری رات تو اسی سوچ میں کروٹیں بدلتے گزر جاتی ہے کہ جوان بیٹی اپنے گھر بار والی کب ہو گی؟۔۔۔
زینہ دوبارہ کھوئے ہوئے لہجے میں گویا ہوئی۔
امی مجھے بیاہ کر وہی لے جائے گا جس کی آنکھوں میں حسن ہو گا ۔ جسکو باحیا ، پاک دامن کی تمنا ہو گی، جو میرے باطن کا دیوانہ ہو گا ۔
اے کم عقل لڑکی.! تیرے باطن کو کون دیکھے گا؟؟
کیوں میرا لہو جلاتی ہے؟؟ امی سرد آہ بھر کر رہ گئیں۔
امی پتا ہے اسے میرا باطن کیسے دکھے گا ؟ زینہ نے کپڑوں کو زور زور سے جھاڑتے ہوئے پوچھا۔
نہیں مجھے نہیں پتا تیری اس فضول قسم کی ضد کو تو اکیلی ہی سمجھ۔
وہ شخص مجھے میرے اعمال سے پہچانے گا، میرے کردار کی کشش اسے میرا دیوانہ بنا دے گی۔
زینہ نے خوابناک لہجے میں خالی بالٹی کو کھنگالا اور صحن کے ایک کونے میں رکھ چھوڑی۔۔
دیکھتی رہ دیوانوں والے خواب ۔!
امی وہ جو عرش پر مستوی ہے نا وہ ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندے کو پیار کرنے والا ہے ، وہ کبھی بھی میری دعاؤں کو رد نہیں کرے گا۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں۔۔ آپ کے حکم ، آپ کی خواہش کے مطابق کریم بھی لگاؤں گی اور ابٹن بھی لگاؤں گی۔ بس مجھے امتحانات سے فارغ ہونے دیں ان شاءاللہ۔ کسی دن سامعہ کو ساتھ لے جاؤں گی یاپھر اسی سے منگوا لوں گی مگر ابھی نہیں امی ۔۔۔
یا اللہ تو میری بچی کی اس خواہش کو پورا کر ۔!! کوئی اس کی سوچ کے مطابق اس جیسا بندہ، مخلص،متقی اور محترم میرے در پر بھیج دے ۔آمین ثم آمین۔۔۔
امی چارپائی پر بیٹھی بیٹھی جھولی پھیلا چکیں تھیں جبکہ زینہ کو ماں کی مجبوریوں پر ترس آنے لگا۔۔۔
******************************************
ہاں بھئی تیرا نیا مشن کہاں تک پہنچا ہے؟؟؟ کونسا مشن ؟؟ منیب نے تصدیق چاہی۔
یار وہی حجابی ،گلابی، شرابی ، نشیلی، سی۔!!! روحیل نے بےباک لہجے میں پوچھ کر زور سے قہقہہ لگایا۔۔۔۔
کہاں یار ۔ ابھی تک تو کچھ بھی نہیں کر پایا ہوں۔ تیرے کہنے کے مطابق معافی تو مانگ آیا ہوں۔۔ویڈیو بھی بنا اپلوڈ کیلئے تجھ کمینے کو بھجوا دیا ہے۔۔۔
دو ٹکے کی لڑکی میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے مگر اسکا جاسوس بھائی مجال ہے دو منٹ بھی لیٹ ہو جائے، وہ وقت سے پہلے یونیورسٹی کے گیٹ پر پایا جاتا ہے۔۔۔
لگتا ہے اسے دنیا میں اور کوئی کام نہیں ہے۔۔۔منیب نے دکھی دل کے پھپھولے نکالے۔۔۔
یار منیب کوئی اور حجابی اٹھا لے اور براہ راست چلا جا۔!!
نہیں یار میں اس لڑکی کو تڑپتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔
ایک سال سے اوپر گزر گیا ہے اس پر محنت کرتے ہوئے مگر قابو ہی نہیں آ رہی ہے۔ نجانے کیا چیز ہے ہمیشہ ہی میرے ہاتھوں سے پھسل جاتی ہے۔
اس بار تو تجھ کمینے کی وجہ سے بچ گئی تھی ورنہ چاروں دوستوں کے ۔۔۔۔۔۔۔۔تو سمجھ تو رہا ہے نا ۔؟؟؟ منیب نے اپنی غلیظ تفکیر پر قہقہہ لگایا۔۔۔
ویڈیو کا کیا بنا ہے ؟؟؟ تو نے نیا نقلی اکاؤنٹ بنایا ہے یا نہیں۔؟ میری تو کتنی نئی آئی ڈیز بند ہو چکی ہیں۔۔۔ تجھ کمینے کو ویڈیو اس لیے بھیجا تھا کہ تو ان چیزوں میں ماسٹر ہے تو میرے سے بہتر طریقے سے سب سنبھال لے گا۔۔۔ شکر ہے ویڈیو تجھے بھجوا دیا تھا وگرنہ اس نایاب چیز سے بھی جاتے رہتے۔۔۔روحیل تجھے پتا ہے؟ جیسے ہی ویڈیو تجھے بھیجا اسی وقت میرا فون گر کر چورا چورا ہو گیا ۔ منیب نے دکھ سے بتایا ۔۔۔
تو کمینہ اور کچھ دن ادھر رک جاتا تو دوسرا موقع آزما لیتے ۔۔۔
نہیں یار ڈیڈ نے بلوا لیا تھا ۔ تو جانتا تو ہے تنہائی اور بیماری دونوں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔
آئے ہائے تو کب سے اتنا فرمانبردار بنا پھرتا ہے۔ شادی کر لے اور دور کر اپنے ابا کی تنہائی کو ۔۔۔ منیب نے دانت پیسے۔۔۔۔
عاصم آ تو رہا ہے دبئی سے ، پہلے اسکی شادی ہوگی پھر میری ۔۔۔ میں ابھی اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں۔۔روحیل نے لاپرواہی سے بولا۔۔۔
تیرے ڈیڈ نے بولنا ہے کہ پہلے بڑے بیٹے روحیل کی شادی پھر چھوٹے بیٹے عاصم کی شادی ہو گی۔
نہیں یار ڈیڈ میرے اوپر اندھا اعتبار کرتے ہیں ، وہ میری اس بات کو بھی مان جائیں گے۔۔۔روحیل نے خود اعتمادی سے بولا۔۔
تو سنا ابھی کیا ہو رہا ہے ؟؟
کوئی نیا شکار ہاتھ آیا ہے ۔؟؟؟ روحیل نے منیب کو مزید کریدا۔۔۔
ہر طرف شکار ہی شکار ہیں۔۔۔ مانی عامر شکار کو لے کر پہنچ رہے ہونگے، مجھے ادھر کیمروں کی سیٹینگ کے لیے چھوڑ گئے ہیں۔۔۔
ایک نئی کلی آ رہی ہے۔۔ لے تصویر دیکھ لے۔! ابھی بھیجی ہے۔۔۔ کاش تو ادھر ہوتا تو تیرے بھی وارے نیارے کرواتے۔۔۔
یہ کونسی والی ہے۔؟؟؟
ارے ایک ہو تو بتاؤں نا پیارے۔!
منیب نے فخریہ انداز میں بتایا۔۔۔
منیب پریشان نہ ہو۔! بس ایک مرتبہ دبئی سے عاصم لوٹ آئے اس سے اگلی صبح میں اسلام آباد سے میرپور آزاد کشمیر تیرے پاس ہوں گا۔ پھر جی بھر کر کلیوں سے کھیلیں گے۔۔۔ شیطانی گفتگو میں فرعونی قہقہے گونجے۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *