Zeena E Hayat by Umm Umair

روحیل کھانا لے کر لوٹا تو انتظار گاہ میں زید اور عاصم کو طبیب سے محو گفتگو پایا۔۔
کھانے پینے کا سامان ایک طرف رکھ کر روحیل کو بھی ان تینوں کی گفتگو میں مخل ہونا پڑا ۔۔۔۔
پیشہ ورانہ انداز اپنائے طبیب عاصم زید کو تسلی دے کر رخصت ہونے لگا تو روحیل سے رہا نہ گیا۔۔ کیا یہ ماسی کے بارے میں بتا رہے تھے۔؟ روحیل نے دانستہ طور پر زینہ کا نام پکارنے سے پرہیز کیا جبکہ وہ جانتا تھا کہ یہ احاطہ شعبہ حادثات کے لئے مختص ہے۔۔
نہیں بھیا۔! زینہ آپا کے بارے میں بتایا ہےکہ وہ جسمانی کمزوری اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں ، باقی انکے خون پیشاب کے نمونوں کے نتائج تسلی بخش ہیں کوئی بیماری نہیں ہے ، زینہ آپا امی اور شہلا آپا کی بات دل پر لے گئیں ہیں۔ زید نے تمام حقائق روحیل کے گوش گزار کئے۔۔
روحیل نے سنجیدگی سے تمام تفصیلات سنیں اور پھر سب کو کھانے کی پیشکش کی۔۔ جبکہ عاصم بغور روحیل کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو جانچ رہا تھا۔۔
زید تم ایسا کرو یہ والا پیکٹ شہلا آپا کو دے آؤ۔ روحیل نے انواع و اقسام کے کھانوں میں سے یخنی ، ابلے چاول ، گاجر اور سنگترے کا تازہ رس زید کو تھمایا۔۔
روحیل بھیا آپ بہت زیادہ کھانا لے آئے ہیں۔ زید نے شرمندگی سے کھانے کا پیکٹ تھاما۔۔
ارے نہیں یار ۔! سب کو اس وقت ٹھیک سے کھانے کی ضرورت ہے۔
اور ذیشان کی کوئی خیر خبر ؟ بچے کی پیدائش کا بتا دیا تھا نا ؟؟؟
جی بھیا میں تو انہیں ایک ایک پل کی خبر دے رہا ہوں مگر انکی طرف سے مکمل سکوت ہے۔۔
تو پھر اب بچے کے دفن کا کیا کرنا ہے۔؟ روحیل نے سنجیدگی سے پوچھا جبکہ عاصم اپنے فون پر کسی کے ساتھ پیغام رسانی میں مشغول ہو گیا۔۔۔
ایک گھنٹہ اور دیکھتے ہیں وگرنہ ہمیں بچے کو باپ کی غیر موجودگی میں دفنانا پڑے گا۔۔۔
زید تم کسی اور رشتے دار کے ذریعے اطلاع پہنچا دو۔۔!
بھیا کسی اور رشتے دار نے ہم سے رابطہ رکھنا گوارا ہی نہیں کیا ۔۔ میرے پاس کسی کا بھی نمبر نہیں ہے ماسوائے خالہ ، ذیشان بھائی کی امی کے۔۔۔
اچھا تم جاؤ شہلا آپا کو خود کھانا کھلا کر آؤ اور ہماری طرف سے بھی تسلی دے دینا ۔۔ ہم کچھ دیر ادھر ہی ہیں۔۔ تم اگر اپنا کھانا ساتھ لے جانا چاہتے ہو تو ساتھ لے جاؤ ورنہ ہم باہر گاڑی میں بیٹھ کر کھا لیتے ہیں۔۔
بھیا مجھے ابھی بالکل بھی بھوک نہیں ہے ، میں کوشش کرتا ہوں کہ شہلا آپا کچھ کھا لیں اور زینہ آپا کو عاصم بھیا کھلا دیں گے۔۔ زید نے بات مکمل کی اور مشکور انداز میں کھانا لے کر متوازن چال چلتا کمرہ ولادت کی طرف چل پڑا۔۔
زید کے جاتے ہی روحیل نے عاصم کے ہاتھ سے فون جھپٹ لیا۔۔۔
یار بھیا کیا ہے ۔؟ میرا فون دیں ۔!
بہت ضروری ای میل ہے جس کا جواب ابھی بہت ضروری ہے۔۔ عاصم نے دہائی دی۔۔۔
پہلے مجھے میری ہونے والی بیوی کے بارے میں تمام معلومات فراہم کرو ، پھر فون ملے گا۔۔۔روحیل نے ڈھیٹ پنے کی حدوں کو چھوا۔۔۔
اچھا فون دیں پلیز۔! پھر الف سے ی تک بتاتا ہوں۔۔۔
یہ لو۔! اور ساتھ ساتھ مجھے بتاؤ۔!
روحیل نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بیتابی سے عاصم کو دیکھا۔ جسکی انگلیاں فون کی سکرین پر پھرتی سے چل رہی تھیں۔۔
دو منٹ کے اذیت ناک انتظار کے بعد عاصم نے روحیل کے ستے چہرے کو دیکھا ، جہاں پر بیقراری اپنے عروج پر تھی۔۔۔
بھیا۔! پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے، زینہ نے کل دن سے کچھ کھایا پیا نہیں تھا اور اوپر سے آپ کا خوف اس پر طاری تھا جسکی بنا پر وہ بیہوش ہو گئی تھی۔ اب بالکل ٹھیک ہے ، کمرہ علالت سے نکل کر ابھی اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ ہے ۔۔۔ اور کچھ ؟؟
عاصم کیا وہ پریشان تھی۔؟؟

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *