Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

قدرے محتاط انداز میں مطلوبہ چابی گھمانے پر لاک۔۔۔۔کلک کی قابلِ سماعت آواز پر کھلا۔۔۔تو سیاہی مائل لبوں پر دھیرے سے زہرخند مسکراہٹ اترتی چلی گئی۔
اس الگ تھلگ سے فلیٹ کے۔۔حقیقی مالک کے پاس کنجیوں کا موجود ہونا کوئی غیرمعمولی بات تو ہرگز نہ تھی۔
جبھی آہستگی سے درواز کھول کر وہ بنا چاپ پیدا کیے اندر داخل ہوئے۔۔پھر اپنے پیچھے دروازہ واپس لاک کرتے ہوئے بےاختیار اطراف میں سرد نگاہیں دوڑائیں۔
ایک عرصے بعد انہوں نے اپنی اس ملکیت میں قدم جمائے تھے۔۔۔جہاں وقت گزر جانے کے باوجود بھی کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوپائی تھی۔
پورے فلیٹ میں اس پل وحشت زدہ خاموشی رقصاں تھی۔
بلاشبہ۔۔مل چکی ٹھوس اطلاع کے مطابق شاہ کی غیر موجودگی اس سمے یقینی تھی۔۔۔
مگر وہ۔۔۔؟؟
وہ بھی تو ابھی تک کہیں دکھائی نہیں دی تھی انھیں۔۔۔جس کے لیے بذاتِ خود چل کر وہ یہاں تک آچکے تھے۔
معاً بے سکونی سے آگے بڑھتے ہوئے ان کا رخ بے اختیار شاہ میر کے بند کمرے کی جانب ہوا۔
اس دوران سینے میں شدت سے پنپتے سنگین ارادے ہنوز تھے۔
دھڑکتے دل کے ساتھ ہینڈل کو آہستگی سے نیچے کرتے ہوئے جہاں حسن صاحب اگلے ہی پل دروازہ کھول کر اس تہس نہس ہوچکے کمرے میں داخل ہوئے تھے وہیں۔۔۔ گھٹنوں پر پیشانی ٹکا کر پائنتی کے ساتھ لگی آبرو نے سکوت میں برپا ہونے والے اس شور پر چونک کر سر اٹھایا۔
مگر اگلے ہی لمحے وہاں موجود شخصیت کو دیکھتے ہوئے۔۔بھیگی نگاہوں میں اترتی شناسائی۔۔۔۔حقیقتاً اسکی سانسیں روکتی چلی گئی تھی۔
دونوں نفوس کا براہ راست ایک دوسرے کو تکتے ہوئے ساکت ہونا اس پل قابلِ دید ہی تو تھا۔۔۔۔
معاً حسن صاحب نے اپنا سکتہ توڑنے کو سر جھٹکا۔
پھر قدموں میں آتی بےکار ہوچکی چیزوں کو ٹھوکر سے پرے کرتے ہوئے قدم قدم اسکی جانب بڑھے۔۔۔
تو آبرو پھٹی پھٹی ساکت نگاہوں۔۔۔سے انھیں اپنے مقابل رکتا دیکھ۔۔بڑی مشکلوں سے پائنتی کا سہارا لیتی اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی۔
آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسلے تھے۔
وہی نقوش۔۔۔وہی سفاکیت۔۔۔
بس فرق آیا تھا تو وجود پر پھوٹتے ہوئے اس ایک بڑھتے بڑھاپے کا۔۔۔۔۔
”ح۔۔حسن خاور۔۔۔۔۔؟؟؟“ لب دھیرے سے پھڑپھڑائے تو شدتوں سے دھڑکتا دل مزید خائف ہوا۔
اس قاتل کی۔۔اپنے مقابل موجودگی کا بھلا اس پل گمان بھی کہاں کیا تھا اس نے۔۔۔جبکہ۔۔۔
اسکی حیرت سے ٹھیک ٹھاک لطف لیتے حسن صاحب۔۔ہاتھ آہستگی سے پشت پر باندھتے ہوئے اپنا سینہ تان گئے۔۔۔
پھر بےترتیب سے دوپٹے میں۔۔بےساختہ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
”سندر۔۔۔بے حد سندر۔۔۔۔خدا قسم۔۔سر تا پیر اپنی ماں کی پرچھائی ہو تم۔۔۔۔“ قدرے بےلحاظ نگاہوں سے اسے بغور تکتے ہوئے۔۔۔ان کا پل بھرکو مسکاتا لہجہ صاف خباثت سمیٹے ہوئے تھا۔۔۔جبکہ اس بےہودہ تعریف پر آبرو کے ساکت وجود میں بےاختیار سرد لہر دوڑ گئی۔۔۔
مگرشدتِ ضبط سے لرزتے لب بے یقینی کے بوجھ تلے ہنوز خاموش تھے۔
”جانتی ہو؟؟سالوں پہلے کوٹھے پر بیٹھ کر میں نے تمھارے بارے میں ایک رائے قائم کی تھی۔۔۔ کہ تم۔۔۔اپنے اس دلفریب حسن سے مردوں کے جذبات بھڑکا کے رکھ دو گی۔۔۔مگر یہ بات گمان میں بھی نہیں سوچی تھی کہ فریب کے اس دلدل میں تم میرے قابل بیٹے کو بھی بری طرح پھانس لوگی۔۔۔اس قدر برے طریقے سے کہ رکھیل بنانے کی بجائے اب وہ تمھیں سیدھا سیدھا اپنی بیوی ہی بنا بیٹھا ہے۔۔۔۔“ الفاظ تو بدترین تھے ہی۔۔۔لہجہ بھی مٹھیاں بھینچتے یک لخت سفاک ہوا تھا۔
اس حد تک سفاک کہ لانبی پلکیں جھپکاتے ہی آنسو ٹوٹ کر اسکے تپتے گالوں پر پھسلے۔
بےاختیار گہرا سانس اندر کھینچتے ہوئے۔۔ان گزرتے پلوں میں کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا اسے۔۔۔
مقابل کی درندگی۔۔۔
لٹتی آبرو۔۔۔۔
ماں باپ کے اجڑتے وجود۔۔۔
خود کا تباہ ہوتا بچپن۔۔۔
سلگتی یادوں کے حصار میں جلتا ہوا اپنا بدترین ماضی۔۔۔
اففففف۔۔۔۔۔!!!
ان کی جانب دیکھتی آبرو نے بےاختیار اپنی نازک مٹھیوں کو قدرے سختی سے بھینچا۔۔
”اپنی اس گندی فطرت کے تحت تم نے میرےحُسن کو تو بخوبی پرکھ لیا ہے حسن خاور۔۔۔مگر افسوس کہ میرے ضبط کی حد کو پرکھنا بھول گئے تم۔۔۔بےدردی سے میرے اپنوں کا قتل کرنے کے باوجود بھی تم اب تک میرے سامنے زندہ کھڑے سانسیں لے رہے ہو۔۔۔اسے کہتے ہے ضبط کی آخری حد۔۔میرے ضبط کی بدترین حد۔۔۔۔“
پریشانی سے فلیٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے شاہ سے قدرے انجان۔۔لرزتی آواز میں چیختی وہ بکھررہی تھی۔
جواباً قدم قدم پیچھے ہٹتے حسن صاحب کے تیور بدلے۔
”غلطی ہوگئی مجھ سے۔۔۔۔“ اچانک پشیمان ہوتے وہ آبرو کو شدت سے چونکنے پر مجبور کرگئے۔
”بہت بڑی۔۔۔سنگین غلطی۔۔۔۔“ کہتے ہوئے جہاں انھوں نے قدرے پریشانی سے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا۔۔۔وہیں دبے قدموں تیزی سے اپنے کمرے کی جانب لپکتا شاہ۔۔بمشکل سنائی دیتی مدھم مردانہ آواز پر ٹھٹھک کر رکا۔
”تمھیں اُس سمے فقط بدنامی کی دلدل میں نہیں دھکیلنا چاہیے تھا مجھے۔۔۔ بلکہ تمھارے بھگوڑے باپ اور سندر ماں کی طرح جان سے ماردینا چاہیے تھا۔۔۔“ بآواز بلند۔۔باور کرواتے ہوئے بےاختیار ان کی سفاک مدھم ہنسی پھوٹتی چلی گئی۔۔۔تو آبرو سسکی۔۔
اذیت سے پھٹتا دل بےتابانہ اسے تباہ کردینے کو چاہا۔
جبکہ۔۔۔
مزید قریب ہونے کے سبب۔۔۔ادھ کھلے دروازے سے صاف باہر آتی اپنے باپ کی آواز کو پل میں پہچانتا شاہ۔۔۔اپنی جگہ شدتوں سے ساکت ہوا تھا۔
”لیکن تم بالکل بھی فکر نہیں کرو۔۔۔ماضی میں کی گئی اس غلطی کی درستگی میں اب کروں گا۔۔۔۔۔اور یہ درستگی تمھاری سانسیں چھین کے ہی ممکن ہے آبرو سکندر۔۔۔۔۔۔“ قطیت بھرے لہجے میں مزید کہتے ہوئے حسن صاحب۔۔اگلے ہی پل ساتھ لائی ریوالور کو قدرے پھرتی سے جیب سے نکالتے ہوئے آبرو کو نشانے پر رکھ گئے۔۔۔۔
اس دوران گال رگڑ کر صاف کرتی۔۔وہ جو ان کو جانی اذیت دینے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کا سوچ رہی تھی۔۔نتیجتاً ان کی اس غیرمتوقع طراری پر شدت سے بےچین ہوئی۔
تو گویا اس جانلیوا ارادے کے تحت وہ یہاں آیا تھا۔۔۔
ان کی نگاہوں سے ہنوز اوجھل۔۔۔شاہ میر کا دل اس بھاری حقیقت کے بوجھ تلے پھٹنے سا لگا۔
غیرمتوقع اعتراف جانلیوا ہی تو تھا۔
”تم جاننا چاہتے تھے ناں۔۔؟؟جاننا چاہتے تھے ناں کہ م۔۔میری ماں۔۔۔میرے باپ کا قاتل کون تھا۔۔۔۔؟؟؟“ سسکتا ہوا لہجہ۔۔۔
”میں بتاتی ہوں تمھیں۔۔۔۔تمھارا باپ۔۔حسن خاور تھا وہ قاتل۔۔۔۔۔
زانی۔۔۔۔۔
سفاک۔۔۔۔
آزاد مجرم۔۔۔۔۔“ درد کرتے سینے کو مسلتے ہوئے شاہ کی نگاہوں میں پھیلتی اذیت شدت سے بھیگتی چلی گئی۔
”افسوس کہ تم جیسا درندہ صفت انسان آج بھی اپنے گناہوں پر نادم ہونے کی بجائے اکڑ رہا ہے۔۔۔۔۔لعنت ہے تمھاری اس شیطانیت پر۔۔تھو ہے تم پر۔۔۔۔“ موت کی پرواہ کیے بنا نفرت سے چلاتی وہ صاف بدلحاظی پر اتری تھی۔۔۔جب حسن صاحب ہنوز ریوالور کا جانلیوا رخ اس کی جانب کیے سختی سے اسے ٹوک گئے۔
”اپنی یہ فضول بکواس بند کرو تم بدذات لڑکی۔۔۔ میری شیطانیت تو بدلے کی آگ میں جل کے اسی رات سوا ہوچکی تھی۔۔۔لیکن ایک عرصے بعد اسے چنگاری دے کر دوبارہ بھڑکانے والی کمتر ذات تمھاری خود کی ہے۔۔۔
بس اتنا جان لو کہ تم جیسی بدبخت کا قتل کرنا تو مجھے منظور ہوسکتاہے۔۔پرتمھیں اپنی بہو تسلیم کرنا میری شان کے سراسر خلاف ہے۔۔۔۔“ تڑخ کر زہر اگلتے ہوئے وہ آبروکو زہرترین لگے تھے۔
شاہ میر حسن کو اپنے باپ کا یہ روپ اب ناقابل برداشت ہونے لگا تھا۔۔۔
معاً اپنا مکمل ضبط کھوتے ہوئے۔۔۔اگلے ہی پل درشتگی سے مکمل دروازہ وا کرتا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
تو جہاں اسے دیکھ کر حسن صاحب شدت سے دنگ ہوتے بوکھلائے تھے۔۔۔وہیں اسکا سرخ چہرہ دیکھ کر آبرو کا دل شدتوں سے دھڑکا۔
”شام۔۔۔؟؟تم۔۔۔۔؟؟؟“ اسے انگارہ ہورہی نم۔۔۔تاسف نگاہوں سے اپنی جانب تکتا پاکر دھیرے سے ریوالور نیچے کرتے ان کا رنگ پل میں متغیر ہوا تھا۔
”ا۔۔ا طمینان رکھو میں تمھیں اس کی صفائی دے سکتا ہوں۔۔۔۔“ ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کرتے ہوئے ان کے لب اپنے حق میں جھوٹ بولنے کو پھڑپھڑائے تھے۔۔۔جب وہ جھٹکے سے شہادت کی انگلی اٹھاتا سر نفی میں ہلاگیا۔
”آپ کیا تھے۔۔۔؟؟ کیا ہیں۔۔۔؟؟
سب سن چکا ہوں میں ڈیڈ۔۔۔۔سب کچھ۔۔۔اب مزید کسی بھی جھوٹی صفائی کی گنجائش باقی نہیں ہے۔۔۔۔۔“ شدت سے ٹوٹ رہے لہجے پر بمشکل قابو پائے وہ قدرے تلخی سے ٹھہر ٹھہر کر بولا۔۔۔تو انھوں نے شکست زدہ ہوتے ہوئے۔۔اپنی سرخ ہورہی آنکھیں میچ کر کھولیں۔
شرمندگی۔۔۔ملال۔۔۔ہنوز ندارد تھا۔
ایسے میں تواتر سے گرتے آنسوؤں کے دوران۔۔آبرو کے سینے میں صاف ٹھنڈ اتری تھی۔
شاہ کی موجودگی جو گزشتہ شب اس کے لیے زہر تھی۔۔۔اب وہی اسے فی الوقت کسی آب حیات کی مانند محسوس ہورہی تھی۔
”اففف۔۔۔۔ تکلیف ہورہی ہے اپنے گناہوں کی سزا میں سگی اولاد کو یوں رلتا دیکھ کر۔۔۔۔؟؟“ اس کا بھرایا ہوا۔۔لطیف سا طنز حسن صاحب کے اندر تک آگ لگاگیا تھا۔۔۔
اس قدر آگ کہ۔۔۔جھٹکے سے ریوالور لوڈ کرتے ہوئے دو جستوں میں اس تک آتے۔۔۔وہ اگلے ہی پل اسکی نازک گردن کے گرد اپنا بازو مضبوطی سے لپیٹ گئے۔
”سالی طائف۔۔۔۔تجھے تو آج میں کسی بھی صورت زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔“ بری طرح پھنکارتے وہ۔۔ریوالور کی ٹھنڈی نال سختی سے اسکی کنپٹی پر ٹکاتے آبرو کو سانسیں روکنے پر مجبور کرگئے تھے۔
پلوں کے اس خطرناک کھیل نے بھلا کسی کو سمجھنے۔۔سنبھلنے کا موقع ہی کب دیا تھا۔۔۔
”رک جائیں ڈیڈ۔۔۔۔میں کہہ رہا ہوں رک جائیں وہیں۔۔۔بیوی ہے وہ میری۔۔طائف نہیں۔۔۔۔“ ہوش میں آتا شاہ ضبط کی حدوں کو چھوتا چیخا۔
مگر مقابل کی سفاکی قابل دید تھی۔
”بیوی نہیں رکھیل ہے یہ رکھیل۔۔۔۔فقط بدنامی کی ایک پوٹلی۔۔۔گند۔۔۔اس سے ذیادہ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔“ اپنی گرفت مزید سخت کرتے وہ اس سے دوگنی آواز میں چلائے تو جہاں مزاحمت سے محروم۔۔آبرو خائف سی نم پلکیں میچ گئی۔۔۔وہیں شاہ میر نے اپنے باپ کی ضد پر دانت پیستے ہوئے مٹھیوں میں بال دبوچے۔
لیسن ڈیڈ۔۔۔۔۔یہ ریوالور فوراً سے پہلے پھینک دیجیے۔۔۔۔میں بتارہا ہوں اگر آبرو کو ذرا سی بھی کھڑوچ آئی ناں۔۔۔ تو خدا قسم مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔“ معاً ضبط سے سرخ چہرے پر ہاتھ پھیرتا وہ پل پل اپنا تحمل کھورہا تھا۔
ان سنگین حالات میں بھی آبرو کے دل کی دھڑکنیں اسے اپنے لیے یوں تڑپتا دیکھ بڑھی تھیں۔
اس کے برعکس حسن صاحب کی بھنویں تن سی گئیں۔
”تم سے برا کوئی ہے بھی نہیں۔۔۔مجھے ان نتائج پر پہنچانے والے بھی تمہی ہو شاہ میرحسن۔۔۔۔جب ساری زندگی اپنے باپ کی نافرمانیاں کرتے آئے تو اب کس لحاظ سے مجھ سے فرمانبرداری کی امید رکھتے ہو۔۔۔ہوں۔۔۔؟؟“ اس کا خود پر ایک رقاصہ کو ترجیح دینا حددرجہ زہر لگ رہا تھا۔۔۔
”مکافات عمل اٹل ہے۔۔۔میں نہ سہی۔۔۔ت۔۔تو میری جگہ کوئی دوسرا۔۔۔ تمھیں تمھارے برے انجام سے آشناکروادے گا۔۔۔۔۔“ مدھم گھوٹن پر۔۔آبرو ہنوز حسن صاحب کے بازو پر دونوں ہاتھ جمائے اٹکتے لہجے میں بولی۔۔۔
مگر انداز مضبوط ترین تھا۔۔۔پریقین تھا۔
بے اختیار حسن صاحب نے بنا مقابل کی پرواہ کیے۔۔مشتعل ہو کر اسے اذیت دینے کو سخت جھٹکا دیا تھا۔۔۔جو موت کے سایوں میں ٹھہرنے کے باوجود بھی نڈر سی ان کے خلاف بکے چلی جارہی تھی۔
آبرو کے لبوں سے سسکی نکلی تو ان کے جانلیوا تیور شدت سے بھانپتا شاہ
معاً سامنے الماری کی جانب تیزی سے بھاگ کر لپکا۔
”کیا تمھیں اس ناگن کا زہر اگلنا دیکھائی نہیں دے رہا جو یوں کھلم کھلا اپنے باپ کی سخت مخالفت پر اتر آئے ہو تم بدذات۔۔۔۔۔۔۔۔“ آبرو کا لرزتا وجود ہنوز پوری قوت سے اپنے چنگل میں دبوچے وہ اسکی جانب دیکھتے غرائے تھے۔۔۔جب پلوں میں خود کا ذاتی ریوالور نکال کر مجبوراً۔۔۔ ان کے مقابل کچھ فاصلے پر رکتا وہ انھیں ساکت کرگیا۔
دنگ تو اسکی جرات پر وہ خودبھی ہوئی تھی۔
”جسٹ اسٹاپ دیس نان سینس ڈیڈ۔۔۔۔آئی سیڈ اسٹااااپ اٹ۔۔۔۔“ اپنی گھبراہٹ کی پرواہ کیے بنا وہ انھیں صاف نشانے پر رکھ چکا تھا۔
ضبط کے باوجود بھی آنسو ٹوٹ کر رخساروں پر لڑھکے۔
”تم ایک رقاصہ کے لیے۔۔۔مجھے۔۔؟؟یعنی کہ اپنے سگے باپ کو جان سے مارو گے برخوردار۔۔۔؟؟؟واقعی میں۔۔۔۔؟؟؟ہے اتنی ہمت تم میں۔۔۔۔؟؟“ کچھ حیرت سے پوچھتے ہوئے وہ اگلے ہی پل تمسخر اڑاتے انداز میں دھیرے سے ہنسے۔
محض ایک پل میں وہ اپنی جانلیوا کاروائی پوری کردیتے اگر جو ان کا خود کا سپوت اپنی بےتکی ضد پر نہ اڑتا تو۔۔۔۔
”ہ۔۔ہرگز ایسا نہیں چاہتا۔۔۔۔نہیں چاہتا کہ آپ ایک بار پھر سے جانتے بوجھتے قاتل بنیں۔۔۔بس آپ۔۔۔آپ یہ ریوالور پھینک دیں۔۔۔اور میری بیوی کو میرے پاس آنے دیں۔۔۔پلیز ڈیڈ۔۔۔۔ورنہ خدا قسم میں لحاظ نہیں برتوں گا۔۔۔۔“ شدتِ بےبسی سے کہتا وہ شدتوں سے بکھر رہا تھا۔
وارنگ سے ہٹ کر شاہ میرحسن تو شاید۔۔محض زخمی کرنے کا بھی روادار نہ ٹھہرتا۔۔۔۔کجا کہ مارنا۔۔۔۔افففف۔۔۔
مگر اس کے بکھرنے کی رتی بھر بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ صاف نفی میں سر ہلاگئے۔
وقت کی مزید بربادی انھیں چڑانے سی لگی تھی۔
اس دوران سرخ کنپٹی میں گھستی نال پر آبرو کی سانسیں پل پل تھمنے لگیں۔
”اب یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔۔تمھیں اس ناقابل برداشت نہج پر لا چکی ہے۔۔۔مزید زندہ رہی تو ساری دنیا کو میرے خلاف کردے گی۔۔۔۔جو میں کسی بھی صورت نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔بس۔۔۔۔“ قطیت بھرے لہجے میں کہتے جہاں حسن صاحب کی شہادت کی انگلی بے اختیار ٹریگر پر آئی تھی۔۔۔
وہیں آبرو کو موت کے گہرے سائے تلے خائف سا بھیگی نگاہیں میچتا دیکھ شاہ کا دماغ بھک سے اڑا۔
اسے کھو دینے کا محض خیال ہی سوہانِ روح تھا۔
”میں گولی چلادوں گا ڈیڈ۔۔۔سچ بتارہا ہوں۔۔۔۔ریوالور ہٹا لیجیے۔۔۔پیچھے کریں۔۔۔۔“ چیخ کر دھمکی دیتے ہوئے ارادہ تو نہیں تھا۔۔۔مگر حالات کی سنگینی کے سبب۔۔۔وہ پل میں ریوالور لوڈ کرتا ان کے کندھے کا نشانہ لے چکا تھا۔
مقصد محض انھیں ان کے بدترین مقصد سے ہٹانے کا تھا۔۔۔
جواباً حسن صاحب تاسف سے اسکی جانب دیکھتے مسکرائے۔
آبرو کا وجود سرد سا پڑنے لگا۔۔۔
گولی کبھی بھی۔۔۔کسی بھی لمحے نسوں کو پھاڑ دینے کے لیے دماغ میں گھس سکتی تھی۔
”مجھے یقین ہے تم یہ قدم لاکھ چاہنے کے باوجود بھی نہیں ۔۔۔۔“ ایک مان سے کہتے انھوں نے ٹریگر پر اپنی انگلی کا کچھ دباؤ بڑھایا۔۔۔۔تو جہاں یک دم آنکھیں کھول کر جرات کرتی آبرو نے حسن صاحب کو خود سے پیچھے دھکیلنے کے لیے پوری قوت لگائی تھی۔۔۔
وہیں ”ٹھاااااا۔۔۔۔۔۔۔“ کی تیز آواز پر شاہ میرحسن کے ریوالور سے۔۔۔شدید جھٹکے کے ساتھ نکلتی گولی۔۔۔مقابل کے لڑکھڑانے کے سبب کندھے کی بجائے سیدھا دل میں پیوست ہوتی چلی گئی۔۔۔
معاً ایک قیامت خیز کراہ سیاہی مائل لبوں سے پھوٹی تھی۔
مدھم چیخ کے ساتھ۔۔۔تیزی سے پیچھے ہٹتی آبرو نے بہتے آنسوؤں میں حسن صاحب کا ایک تڑپ کے ساتھ پل پل۔۔۔بےدم ہوتا وجود اگلے ہی پل پائنتی سے ٹکرا کر زمین بوس ہوتے دیکھا۔جبکہ۔۔۔پھٹی پھٹی ساکت نگاہوں سے اپنے باپ کے لہو لہان ہوتے سینے کو دیکھ کر۔۔۔شاہ میر حسن کے ڈھیلے۔۔۔لرزتے ہاتھوں سے ریوالور نیچے گرا۔
دل کی دھڑکنیں بے ساختہ بند ہوئی تھیں۔۔۔۔


خراب گاڑی بمشکل ٹھیک کروانے کے بعد وہ اس پل فلیٹ کے سامنے کھڑا تھا۔
خلافِ توقع آدھے سے کم کھلا دروازہ۔۔ لاپرواہی سمیت شاہ میرحسن کی عجلت کو اس لمحے شدت سے باور کروارہا تھا۔
ہاں۔۔۔وہ ناچاہتے ہوئے بھی بنا بتائے یہاں تک چلا آیا تھا۔۔۔
لیکن۔۔۔
ایک عرصے بعد یوں اسکے روبرو ہونے کا سوچ کر دل کی حالت بےسکون سی ہورہی تھی۔۔۔
گہرا سانس بھرتے عائل حسن نے بےاختیار پیشانی پر چڑھی تیوری کو سمیٹا۔
پھر کچھ جھجک کر پورا دروازہ وا کرتا فلیٹ میں داخل ہوا۔۔۔تو یک دم محتاط سماعتوں سے ٹکراتی۔۔ گولی چلنے کی گہری آواز اسے بری طرح چونکنے پر مجبور کرگئی۔۔۔
کچھ الجھ کر۔۔پریشان ہوتا وہ تیزی سے سامنے کمروں کی جانب تقریباً بھاگ کر لپکا تھا۔
پلوں کے سرکنے پر۔۔کمرے میں داخل ہوتے ہی جہاں عائل حسن کی ٹھٹھکتی نگاہیں سامنے کا عذاب منظر دیکھ کر ساکت ہوئی تھیں۔۔۔وہیں اس کی وہاں غیرمتوقع موجودگی آبرو سے کہیں ذیادہ شاہ میر حسن کی ذات پر بھاری پڑی۔
”ڈ۔۔ڈیڈ۔۔۔۔؟؟؟ڈیڈ یہ آپکو۔۔۔؟؟“ بوکھلا کر آگے بڑھتا وہ اپنے باپ کے دم توڑ چکے وجود پر شدت سے جھکا۔۔
لزرتے ہاتھوں سے لہو ہوچکے سینے کو بمشکل چھو کر۔۔۔کھلی ساکت نگاہوں میں بےیقینی سے جھانکتے ہوئے اس کی خود کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔
حسن صاحب کے قریب تر پڑا ان کا ریوالور وہ نظرانداز کرگیا تھا۔
اس دوران سکون تلے اپنا آپ ہلکا محسوس کرتی آبرو نے بےاختیار نم آنکھیں موند کر کھولیں
انصاف اس انداز میں ملے گا۔۔۔؟؟اسے توقع نہ تھی۔۔۔
”ڈیڈ۔۔۔؟؟؟ہ۔۔ہوش میں آئیے پلیز۔۔۔۔اٹھیے ناں۔۔۔۔ڈیڈڈڈڈ۔۔۔۔؟؟“ تلخ حقیقتوں سے قدرے انجان۔۔۔۔جھنجوڑنے پر بھی حسن صاحب کو اٹھتا نہ دیکھ وہ روتا شدت سے چیخا۔۔۔
تو شاہ نم آنکھوں سے اسکی دھندلا چکی پشت دیکھتا بےاختیار وحشت سے ایک قدم پیچھے ہٹا۔
تواتر سے بہتا وحشت زدہ کرتا خون۔۔روکنے پر بھی نہیں رک رہا تھا۔
ہاں۔۔۔ہاں گولی لگنے کے سبب وہ۔۔۔وہ حقیقتاً مرہی تو چکے تھے۔۔۔۔
ایک پل لگا تھا عائل حسن کو ایسا جانلیوا یقین آنے میں۔۔۔
اففف۔۔۔
لرزتا ہاتھ آگے بڑھا کر ان کی کھلی آنکھیں آہستگی سے بند کرتے ہوئے کس قدر بھاری۔۔۔جانلیوا انکشاف تھا ناں یہ۔۔۔
مگر یہ گولی چلائی کس نے تھی۔۔۔؟؟؟
معاً ضبط سے سرخ ہوتی نگاہیں اٹھا کر عائل نے ایک طرف کھڑی اس لڑکی کو دیکھا۔۔۔
مگر لاکھ ڈھونڈنے پر بھی اسے۔۔۔ناقابل فہم اطمینان کے سوا۔۔اس کے چہرے پر ایک قاتلانہ ہونے کا کوئی خوف۔۔کوئی ملال دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
”ک۔۔کس نے کیا یہ سب۔۔۔؟؟“ قدرے اذیت سے بھیگتی آواز میں پوچھتے ہوئے۔۔وہ اگلے ہی پل اٹھ کر پیچھے پلٹا۔۔
پھر بےاختیار مقابل کے پیروں میں پڑا ریوالور حیرت سے دیکھتے ہوئے اگلے ہی پل اس کی وحشت زدہ بھیگی آنکھوں میں بےیقینی سے جھانکا۔
تو کیا وہ۔۔۔۔۔؟؟؟
”م۔۔مارنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔خدا کی قسم کھا کر بول رہا ہوں بھائی۔۔۔اپنے۔۔ب۔۔باپ کو بالکل بھی مارنا نہیں۔۔۔۔۔“ سسک کر کہتا وہ بمشکل اعتراف کررہا تھا۔
جبکہ اس کی بھیگتی ہکلاہٹ پر عائل حسن کا سینہ پھٹنے کو تھا۔
ہاں وہ گر سکتا تھا۔۔۔مگر اس حد تک۔۔۔۔؟؟؟
ان دونوں کی جانب دیکھتی آبرو نے اپنے تپتے گال رگڑ کر صاف کیے۔
”میں بتاتا ہوں آپکو۔۔۔و۔۔وہ یہاں میری بیوی۔۔آبرو کو جان سے مارنے آئے تھے۔۔۔میں کہتا رہا۔۔سمجھاتا رہا کہ مت کریں ایسا۔۔۔اپنا۔۔۔ر۔۔ریوالور پھینک دیں۔۔۔پ۔۔پر وہ میری نہیں مان رہے تھے۔۔۔ یقین کریں بھائی۔۔۔ میں نے باز رکھنے کے لیے انھیں بس ذرا سا زخمی کرنا چاہا تھا۔۔ا۔۔۔صرف کندھا۔۔۔ل۔۔لیکن۔۔۔۔“ صفائی دینے کو وہ تیزی سے بولتا چلا جا رہا تھا۔۔۔جب برداشت کھوتے ہی عائل حسن کا ہاتھ اٹھا۔۔۔اور اسکے سرخ چہرے پر پے در پے تھپڑوں کی مار مارتا چلا گیا۔
”جانور ہو تم۔۔۔۔
قاتل۔۔۔۔
درندے۔۔۔۔
ہمارے باپ کو مار ڈالا تم نے۔۔۔۔
لعنت ہے تم پر۔۔۔۔
یہ کیا کیا تم نے۔۔۔؟؟؟
آج میں تمھیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔“ شدت ِغم سے اس کی بتائی گئی حقیقت کو فی الوفت پس پشت ڈالتا وہ اسے بےدردی سے کبھی چہرے۔۔۔کبھی کندھے تو کبھی سینے پر ضربیں لگا رہا تھا۔۔۔چیخ رہا تھا۔۔۔
اور وہ۔۔۔
دیوار سے لگتا خود کے لیے بے حس بنا۔۔۔بغیر کوئی مزاحمت کیے ضربیں کھائے چلا جارہا تھا۔
کوٹ تلے گرے شرٹ کا گریبان الگ سے پھٹ چکا تھا۔
اس صاف دست درازی پر۔۔آبرو دل کی یک دم بےچین ہوتی دھڑکنوں پر ضبط کرتی ہوئی۔۔ان دونوں کے بیچ حائل ہونے سے خود کو روک گئی۔
گہرے ہوچکے تنفس کے ساتھ۔۔۔ معاً تھوک کر اس سے دور ہوتا عائل اگلے ہی پل اپنے باپ کے پیروں کی طرف گرنے کے سے انداز میں بیٹھا۔۔۔تو شاہ نے جلتے چہرے کے ساتھ ایک اذیت بھری نگاہ حسن صاحب کے وجود پر ڈال کر اسکی جانب دیکھا۔
”جب اولاد کی حوانیت ماں باپ پر غالب آجائے تو وہ جیتے جی مر جاتے ہیں۔۔۔۔مگر تم جیسے بدبخت نے تو بذاتِ خود اپنے ہاتھوں سے ان کی جان لے لی۔۔۔قاتل ہو تم۔۔۔سفاک ترین۔۔۔۔۔“ غم سے اپنے باپ کے قدموں کو چھوتا وہ ٹھہر ٹھہر کر پھنکار رہا تھا۔۔۔
پھر ضبط کھونےپر اگلے ہی پل ایمبولینس سمیت۔۔پولیس بلانے کو اس نے درشتگی سے اپنا موبائل فون باہر نکالا۔
شاہ میر نے بےبسی سے آبرو کی جانب دیکھتے بے اختیار اپنے بال مٹھیوں میں دبوچے۔
اس سے پہلے کہ عائل نمبر ملا کے کوئی رابطہ کرتا۔۔۔معاً آتی کال کے سبب جلتی اسکرین کو دیکھتا وہ پل بھر کو چونک سا گیا۔
”موم کالنگ۔۔۔۔“ ناچاہتے ہوئے بھی وہ کال ریسیو کرتا فون اسپیکر پر ڈال گیا۔
دل مزید جل اٹھا تھا۔
”عائل۔۔۔۔؟؟چندا کہاں ہو تم۔۔۔۔؟؟“ یک دم سماعتوں سے ٹکراتی خوشگوار آواز قدرے بےتاب سی تھی۔۔۔
اپنی ماں کی آواز سنتے ہوئے جہاں عائل نے نفرت سے شاہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔وہیں وہ نفی میں سر ہلاتا وحشت سے اپنے بھیگے چہرے پر ہاتھ پھیرگیا۔
”مبارک ہو بہت ذیادہ۔۔۔۔تمھاری بیوی امید سے ہے۔۔۔۔تم باپ بننے والے ہو عائل۔۔اور میں دادی جان۔۔۔۔“ عائل حسن جو بدترین انکشاف کرنے کے درپے تھا۔۔۔معاً نفیسہ بیگم کے لبوں سے پھوٹتے غیرمتوقع الفاظ اسے شدت سے ساکت کرتے چلے گئے۔
اپنے باپ کی موت کا غم اس پل۔۔اس خوشی پر حقیقتاً قہر بن کے ہی تو ٹوٹا تھا۔۔۔۔


”تمام گواہوں۔۔اور بیانات کے بعد یہ عدالت اس فیصلے پر پہنچی ہے کہ۔۔۔“
عدالت میں برپا سکوت کو توڑتی ہوئی۔۔جج صاحب کی بھاری مضبوط آواز اس پل۔۔۔وہاں موجود سب افراد سمیت۔۔اس کی سماعتوں سے بھی صاف ٹکرا رہی تھی۔
”شاہ میرحسن نے اپنی بیوی آبرو سکندر کی جان بچانے کے لیے اپنے باپ کو پہلے سادگی سے وارن کیا۔۔۔
دھمکی دی۔۔۔
پھر اپنی بات نہ مانے جانے کی صورت میں انھیں ایک محدود فاصلے پر رہتے ہوئے اپنی گن سے فقط زخمی کرنا چاہا۔۔۔“ مزید گویا ہوتے وہ کٹہرے میں ساکت کھڑے شاہ میرحسن کا سر ملامت تلے مزید جھکا گئے۔
بھلا کہاں چاہا تھا اس نے یہ سب۔۔۔۔؟؟؟
”مگر غلط نشانہ لگنے کے سبب گولی سیدھا دل میں جا پیوست ہوئی۔۔۔اورنتیجتاً حسن خاور کا قتل ہوگیا۔۔۔“ بدترین حقیقت۔۔لفظوں کی صورت ہنوز اس بھری عدالت میں بآواز بلند گونج رہی تھی۔۔۔
تو جہاں پہلی قطار کی نشست سنبھال کر بیٹھی عائمہ بیگم نے لبوں سے پھوٹتی سسکیوں کو بے اختیار سفید چادر تلے گھونٹا تھا۔۔۔وہیں سرکاری وردی میں ایک طرف کھڑے عائل حسن نے شدتِ بےبسی سے لب بھینچ کر اپنی بھیگتی۔۔۔انگارہ آنکھوں کو رگڑ کر صاف کیا۔
بیمار ہونے کے باوجود بھی نفیسہ بیگم حاویہ کے شدید اصرار پر بڑی مشکلوں سے وہاں چلی آئی تھیں۔
اپنے باپ کی پلوں میں اکھڑتی سانسیں۔۔۔
لہو لہو ہوتا بدن۔۔۔
بے یقین نگاہوں کا یک دم ساکت ہوجانا۔۔۔
شاہ میرحسن کی یاداشت میں بار بار تازہ ہوتا اسے اندر سے مار ہی تو رہا تھا۔
مرا تو اس کے سبب شاید کوئی اور بھی تھا ناں۔۔۔۔؟؟؟
مگر کون۔۔۔؟؟؟
زور دینے کے باوجود بھی سنسناتا دماغ اس پل کام کرنے سے صاف انکاری ہوا تھا۔
”گواہیوں کے علاوہ اپنے اس سنگین جرم کا اعتراف ملزم نے بذاتِ خود کیا ہے۔۔۔۔“ کہتے ہوئے جج صاحب نے ایک تلخ نگاہ ہنوز سر جھکائے کھڑے شاہ کی جانب ڈالی۔۔۔جس کی سرخ نگاہوں سے بہتا سیال اس کے بھینچے لبوں کو بآسانی بھگو رہا تھا۔
قدرے مضبوطی سے نفیسہ بیگم کا ہاتھ تھام کر بیٹھی حاویہ نم۔۔غلافی نگاہوں سے بنا پلکیں جھپکائے بغور شاہ میر حسن کی یہ ٹوٹی بکھری حالت دیکھ رہی تھی۔
وہ حالت۔۔۔جسے دیکھنے کی جانے اس نے کتنی ہی بار۔۔۔
کتنی ہی شدت سے۔۔۔چاہ کی تھی۔
”چونکہ عدالت نے ان اعتراف کی ہر لحاظ تصدیق کی ہے۔۔۔لہذا اعترافی بیان اور تصدیق شدہ واقعات کی رو سے یہ عدالت ملزم شاہ میرحسن کو مجرم قرار دیتے ہوئے قانونی دفعات کے تحت۔۔۔۔۔۔“ شاہ نے دھیرے سے سر اٹھا کر۔۔۔سزا متعین کرتے جج صاحب کے شدت سے پھڑپھڑاتے لبوں کی جانب دیکھا۔۔۔
وہ اور بھی بہت کچھ کہہ رہے تھے
لیکن شدت سے سن ہوتا ذہن۔۔۔بند ہوتی سماعتیں۔۔۔سزا کے حق میں مزید کی جانے والی لب کشائی سننے۔۔سمجھنے سے بالکل محروم ہوچکی تھیں۔
بےاختیار اس نے بھیگے سرخ چہرے پر ہاتھ پھیر کر سر جھٹکتے ہوئے خود کو محتاط کرنا چاہا۔۔۔
مگر وہ ہتھوڑا مارتے ہی اس کیس کو ڈس پوزڈ کرچکے تھے۔
جہاں عائمہ بیگم کا دل شاہ کی جانب دیکھتے ہوئے شدت سے کٹنے لگا تھا۔۔۔وہیں اس نے بھیگی پلکیں جھپکا کر حیرت سے۔۔اگلے ہی پل سب افراد کو نشستوں سے کھڑے ہوتے دیکھا۔
ان کی نگاہوں میں واضح تاسف تھا۔
اس کا دل بےاختیار گھبرایا۔۔۔۔
معاً شاہ میرحسن کی نم۔۔جلتی نگاہیں عائمہ بیگم سے ہوتے ہوئے۔۔۔خود کی جانب تکتی حاویہ پر جا ٹھہری تھیں۔
اگلے ہی لمحے نفیسہ بیگم کی بھیگتی تاسف زدہ نگاہیں دیکھتے اس کا خوف مزید بڑھا۔
”حرمین زہرا اب مزید اس دنیا میں نہیں رہی۔۔۔۔شی از نو مور۔۔۔۔“ محض ایک پل لگا تھا اسے اپنے بیت چکےستم یاد آنے میں۔۔۔
”ت۔۔۔تم نے اپنی نام نہاد جیت کی خاطر جس طرح مجھ یتیم لڑکی کی زندگی تباہ کی ہے ناں شام۔۔میری دعا ہے۔۔۔دعا ہے کہ تم بھی اسی طرح برباد ہوجاؤ۔۔پل پل سسکو۔۔۔تڑپو پر تمھیں زندگی میں کبھی سکون نہ آئے۔۔۔“
ہاااائے سماعتوں میں چیختی ہوئی حرمین زہرا کی وہ بددعا۔۔۔۔۔
وہ روتا لہجہ۔۔۔
وہ سسکتے الفاظ۔۔۔
وہ بھیگی سیاہ آنکھوں میں مچلتی اذیت ایک عرصے بعد آج۔۔۔۔آج اسے شدت سے یاد آئی تھی۔۔۔۔
یاد آئی تو۔۔۔۔پھٹتے دل پر خود کی بھوری نگاہیں پل میں دھندلا گئیں۔۔۔
لوگ ایک ایک کرکے داخلی دروازے سے نکلتے جارہے تھے۔
مقابل کھڑی حاویہ میں اسے محض ایک پل کو حرمین زہرا کا عکس صاف دکھائی دیا تھا۔۔۔جبھی ہاتھ بے اختیار معافی کی صورت اٹھتے چلے گئے۔
انداز میں تکلیف ہی تکلیف تھی۔۔۔۔
ہاں۔۔۔برباد ہی تو ہوچکا تھا وہ۔۔
”شاہ میرحسن۔۔۔۔۔“ اس مغرور۔۔سنگدل انسان کا پہلی بار ایسا عاجزنہ روپ۔۔ کچھ حیرت سے دیکھتی حاویہ کے گالوں پر آنسو جہاں ٹوٹ کر لڑھکے تھے۔۔۔وہیں عائل سمیت عائمہ بیگم کا تڑپتا دل ڈوب کر ابھرا۔
اپنی بیٹی کے مجرم کی یہ غیرمتوقع۔۔ واضح ملامت نفیسہ کے سینے میں ٹھنڈ بن کر اترتی۔۔۔انھیں سکون سے بھیگی آنکھیں پل بھر کو موندنے پر مجبور کرچکی تھی۔
ایسے میں مخصوص اشارے کے سبب اطراف میں کھڑی پولیس کٹہرے میں کھڑے شاہ میرحسن کی جانب لپکی۔
ان سے بمشکل لاپرواہ بنتے ہوئے۔۔۔اس نے ہنوز جڑے ہاتھوں سمیت۔۔لرزتے لبوں سے مداوا کرنے کی نحیف سی کوشش کرنی چاہی تھی۔۔۔مگر وائے افسوس کہ۔۔۔ایک سلگتی سسکی کے سوا کچھ بھی نہ نکل سکا۔
اس دوران۔۔حقیقت کے حق میں گواہی دے چکی آبرو سکندر جو۔۔۔بہت سوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہنوز کھلے داخلی دروازے کے قریب تر کھڑی تھی۔۔۔
آگے ہوکر ایک آخری طویل۔۔بھیگی نگاہ شاہ میر حسن پر ڈالتی اگلے ہی پل۔۔سنگدل بنے۔۔وہاں سے پلٹ گئی۔
مقابل کی بےبسی اس پل قابلِ دید ہی تو تھی۔۔۔
ندامت قابل ستائش ہی تو تھی۔۔۔
جڑے ہاتھوں کی معافی قابلِ غور ہی تو تھی۔۔۔
سینے پر ہاتھ رکھتی عائمہ بیگم نے شدتِ بےبسی سے حاویہ کی جانب دیکھا۔۔۔جس کے آنسو ٹوٹ کر گالوں کو بھگوتے چلے جا رہے تھے۔
”آج تمھارے سامنے وہ مغرور سی عائمہ حسن خاور نہیں۔۔۔۔بلکہ خود کی اولاد کے لیے ایک بےبس ماں۔۔۔شوہر سے محروم ہوچکی ایک بیوہ تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہے۔۔۔۔
تمھاری کوکھ میں پل رہے اس بچے کا واسطہ ہے تمھیں بہو۔۔۔۔میرے شام کا جرم پورے دل سے معاف کردو۔۔۔۔
میں تمھیں دی گئی ساری بددعائیں۔۔۔تمام ترنفرتیں واپس لیتی ہوں۔۔۔۔“ بے اختیار اپنی نرم پڑ چکی ساس کے آج صبح کہے گئے۔۔۔سسکتے الفاظ حاویہ کی سماعتوں میں شدت سے گھلتے۔۔۔ اسے قطعیت بھرا فیصلہ کروانے پر مجبور کرگئے۔
شوہرکے بعد بیٹے کا غم۔۔۔تمام تر اکڑ توڑتا انھیں حقیقتاً نڈھال کرچکا تھا۔
معاً نفیسہ بیگم کے مصلحتاً اسکے کندھے پر نرمی سے ہاتھ جماتے ہی حاویہ کے لرزتے لب شدت سے پھڑپھڑائے۔
”میں حاویہ عائل حسن۔۔۔اپنی کوکھ میں پل رہی اس جان کے صدقے میں۔۔۔آج آپکی اولاد کو اپنی بہن۔۔۔حرمین زہرا کا جرم پورے دل سے معاف کرتی ہوں۔۔۔۔“ بڑی مشکلوں سے کہتے ہوئے اس نے ضبط سے سلگتے سینے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
ایسے میں پولیس شاہ کو بازو سے پکڑ کر کٹہرے سے باہر نکال چکی تھی۔
عائل ہنوز وہیں ساکت کھڑا قدرے اذیت سے اسے پولیس کی گرفت میں دیکھ رہا تھا۔۔۔جس کے ہاتھ زبردستی ان سب کی جانب بڑھتے ہوئے۔۔۔ایک بار پھر سے معافی کے لیے اٹھ چکے تھے۔۔۔
”م۔۔معافی مانگتا ہوں۔۔۔۔سب سے۔۔۔م۔۔معافی۔۔۔۔“ کہتے ہوئے وہ شدتوں سے سسک ہی تو پڑا تھا۔
جواباً تڑپ کر اسکی جانب لپکتی عائمہ بیگم نے اس کے نم چہرے کو چھوا تھا۔۔۔
جب پولیس والے مزید دیری کے متحمل نہ ہوتے ہوئے اسے بازوؤں سے پکڑ کر۔۔اگلے ہی پل وہاں سے لے کر نکلتے چلے گئے۔
”نن۔۔نہیں۔۔۔رکو۔۔کچھ دیر تو مزید روک لو اسے۔۔۔میں ذرا جی بھر کر دیکھ لوں اپنے چاند کو۔۔۔۔۔خدارا چھوڑدو میرے بچے کو۔۔۔۔“ رو کر ملتجی ہوتیں وہ بے ساختہ عائل کی جانب لپکی تھیں۔۔
”ع۔۔عائل تم کچھ کرو ناں۔۔۔۔اس طرح منہ مت پھیرو۔۔۔شااام۔۔۔شااام رک جاؤ اپنی ماں کو یوں چھوڑ کر مت جاؤ۔۔۔۔شااااام۔۔۔۔؟؟؟“ عائل جو نم سرخ چہرے پر ہاتھ پھیرتا تلخی سے رخ موڑ چکا تھا۔۔اس سے کچھ حیرت سے شکوہ کرتی وہ اگلے ہی پل شام کے پیچھے بھاگی تھیں۔
اس دوران حاویہ بھی متفکر سی۔۔گہرے سانس لیتی نفیسہ بیگم کو لے کر باہر کی طرف لپکی۔
”قاتل ہو تم۔۔۔۔“
”درندے ہو تم۔۔۔۔“
”زانی ہو تم۔۔۔۔“
”وحشی ہو تم۔۔۔۔“
”ظالم ہو تم۔۔۔۔“
دھوکے باز ہو تم۔۔۔“ مضبوط آڑ کے سبب جہاں نفیسہ بیگم چاہ کر اپنے شام تک پہنچ نہیں پارہی تھیں۔۔۔وہیں پولیس موبائل کے قریب ہتھکڑیاں پہنائے جانے پر کتنی ہی طرح طرح کی آوازیں سنساتے دماغ پر حاوی ہوتی۔۔شاہ میر حسن کو شدت سے خائف ہونے پر مجبور کرتی چلی گئیں۔۔۔


لمحات سرکتے ہوئے۔۔دنوں سے مہینوں۔۔۔اور گزرتے مہینوں سے محض ڈیڑھ سال سے بھی کچھ کم کی قابلِ برداشت دھول بنتے ہوئے۔۔شدت سے اپنا آپ منواتے چلے جا رہے تھے۔
بلاشبہ منانے منوانے کے اس فطری کھیل میں بہت سوں کی۔۔زندگیاں جینے کا انداز۔۔رنگ ڈھنگ بدل چکا تھا۔
حالاتوں کے سبب سے بدل تو وہ خود بھی گیا تھا۔۔۔ورنہ اس سمے کاروباری معاملات چھوڑچھاڑ کے محض اپنی بیوی کی یک دم مچلتی ضد پر۔۔اسے اپنے یار کے باغیچے کی جانب نہ لے جارہا ہوتا۔۔۔۔جہاں موجود کھٹی۔۔کچی کیریاں شاید شدت سے اسی کی منتظر تھیں۔
پل پل بدلتے موڈ کی وجہ سے حلیمہ خانزادی کو یک دم کھٹا کھانے کا شوق شدت سے کیوں چڑھ آیا تھا۔۔۔وجہ سوچ کر اسکے لب دلکشی سے مسکرائے۔
بےاختیار سالار خان نے گردن موڑ کر قدرے دلچسپی سے اسکی جانب دیکھا۔۔۔جس کا چہرہ بمشکل امید سے ہونے کے سبب اب مزید کھلا کھلا سا رہتا تھا۔
ایسے میں دونوں کے مابین بیت چکی تلخیوں کو دوبارہ ازبرکرنے کی قطعی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی۔
”خان۔۔۔؟؟؟آپ جان بوجھ کر آہستہ سے گاڑی چلا رہے ہیں ناں۔۔۔؟؟تاکہ مجھ سے مزید ترلے منتیں کروا سکیں۔۔۔۔“ مناسب رفتار پر چوٹ کرتی حلیمہ نے کچھ برہمی سے اسکی جانب دیکھا۔۔۔جو دل پر ضبط کرتا اس پر سے نگاہیں ہٹا چکا تھا۔
طویل۔۔۔سرمئی سڑک پر دوڑتی گاڑی اب کہ پرانے آشنا راہوں کی طرف رخ موڑ چکی تھی۔
”ترلے منتوں سے کہیں ذیادہ مجھے تم سے خود کے لیے اظہارِ محبت سننا پسند ہے حلیمہ سالار خان۔۔اور میری اس عادت سے تم خوب واقف بھی ہو۔۔۔۔“ کہتا وہ اس کے دل کی دھڑکنوں کو چھیڑ گیا۔۔۔
اس پر مستزاد اس کا بنا دیکھے ہی۔۔نرمی سے ہاتھ تھام کر پشت پر لمس چھوڑجانا۔۔۔
اففف۔۔۔۔
حلیمہ کی برہمی۔۔پلکیں جھکاتے ہوئے بےاختیار خوبصورت مسکراہٹ میں ڈھلی تھی۔
”خان۔۔۔۔۔۔“ پل بھر کا توقف لیتی جواباً وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی۔۔۔جب یک لخت سالار خان کے فوری بریکس لگانے کے سبب ڈیش بورڈ پر بروقت ہاتھ جماتی وہ لمحے بھر کو بوکھلائی۔
پھر نگاہیں اٹھا کر سامنے دیکھا تو۔۔
جہاں کم لوگوں کا برائے نام ہجوم کسی میت کو کندھوں پر اٹھائے۔۔سڑک پر آگے کو چلتا جا رہا تھا۔۔۔وہیں اپنی طرف۔۔۔ قریب حویلی کو ایک عرصے بعد دیکھتے سالار خان کا رنگ شدت سے متغیر ہوا۔
بھلا وہ اس شناسائی جگہ کو کیونکر بھول سکتا تھا۔۔۔؟؟جہاں کی خاک چھانتے چھانتے وہ دل سمیت تقریباً اپنا سبھی کچھ وہاں لٹاکر ایک نئے سرے سے آباد ہوا تھا۔
”یہ کس کا جنازہ ہے۔۔۔۔؟؟؟“ حلیمہ نے سالار خان کے بدلتے تیور دیکھ کر آہستگی سے پوچھا۔۔۔
لہجے میں وحشت سی در آئی تھی۔۔۔
شاید اس کا کوئی شناسائی ہو۔۔۔
”معلوم نہیں۔۔۔۔“ الجھ کر کہتا وہ اگلے ہی پل اپنی طرف کا شیشہ نیچے سرکاتے ہوئے۔۔۔سامنے کھڑے گارڈ کو اشارے سے اپنے پاس بلا چکا تھا۔
حلیمہ نے کچھ آگے ہوکر بغور اس حویلی کو دیکھا۔۔۔تو ناچاہتے ہوئے بھی چونک سی گئی۔
”یہ۔۔یہاں کون مرا ہے۔۔۔؟؟؟“ گارڈ کے قریب آنے پر۔۔پوچھتے ہوئے سالار خان کا لہجہ حددرجہ سنجیدہ تھا۔
”جی یہاں کی بائی کی موت ہوچکی ہے۔۔۔“ بتاتے ہوئے گارڈ کے نرم لہجے میں کچھ تاسف تھا۔
جبکہ۔۔۔
”بائی“ کے نام پر حلیمہ صاف ٹھٹکی۔
”کون سی بائی۔۔۔۔۔؟؟؟“ مزید گویا ہوتے اس کا دل ڈوب کر ابھرا۔
”تابین بائی۔۔۔۔
کل رات بیٹھے بیٹھائے اسے دل کا شدید دورہ پڑا تھا۔۔۔اتنا شدید کہ بیچاری بچ ہی نہیں پائی۔۔۔آپ کو کسی حسینہ کی سودےبازی میں ان سے ملنا تھا کیا۔۔۔۔۔۔؟؟“ وضاحت دیتا گارڈ سرعت سے سوال پوچھ گیا۔۔۔تو جواباً سختی سے لب بھینچتا وہ نفی میں سر ہلاگیا۔
”نہیں۔۔۔۔۔“ کہتے ہوئے اس نے ایک ہاتھ اسٹیرنگ پر جماتے ہوئے اگلے ہی پل گاڑی اسٹارٹ کرنا چاہی۔۔
جب حلیمہ کی جھجھکتی آواز سماعتوں سے ٹکراتی اسے شدت سے چونکا گئی۔
”اور رابی۔۔۔۔؟؟؟“ استفسار کرتے ہوئے وہ محض گارڈ کی جانب متوجہ تھی۔
اس کے نقوش کچھ حیرت سے دیکھتے سالار خان کی دھڑکنیں تیز ہوئیں۔پھر لب بھینچ کرسامنے دیکھا۔۔۔جہاں وہ ہجوم اب کہ کافی حد تک آگے بڑھ چکا تھا۔
”رابی۔۔۔۔؟؟؟اسے تو ایک عرصہ ہوا اپنے میاں کے سنگ یہاں سے رخصت ہوئے۔۔۔پھر کبھی پلٹ کر اس حویلی میں واپس ہی نہیں آئی۔۔۔۔نجانے اب کس جگہ روپوش ہوچکی ہے وہ۔۔۔؟؟“ ان دونوں کے مفت میں معلومات نکلوانے پر۔۔اب کہ کچھ بےزاری سے بتاتا جہاں وہ حلیمہ کو خاصا اطمینان دے چکا تھا۔۔۔وہیں ضبط کھونے پر سالار خان نے کچھ برہمی سے حلیمہ کو دیکھا۔۔۔
”میں تمھارے علاوہ اب کسی کے بارے میں نہیں سوچتا حلیمہ۔۔۔۔اور نہ ہی آگے کبھی سوچنا چاہتا ہوں۔۔۔۔“ قدرے سنجیدگی سے مدھم آواز میں کہتا وہ اگلے ہی پل۔۔اسٹارٹ ہوچکی گاڑی کو جھٹکے سے آگے بڑھا چکا تھا۔
”جانتی ہوں۔۔۔خان صرف اپنی خانزادی کا ہے۔۔۔۔“ نتیجتاً بنا شرمندہ ہوئے کھل کر مسکراتی وہ۔۔۔قدرے لاڈ سے اس کے کندھے پر سر ٹکا گئی۔۔۔۔تو اس کے اس دل دھڑکاتے انداز پر پل بھر کو اسکی مسکراتی آنکھوں میں قریب سے جھانکتا۔۔۔وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہولے سےمسکرا دیا۔۔۔۔
پیچھے گارڈ پل پل دور جاتی اس گاڑی کو تاسف سے دیکھ کر سرجھٹکتا۔۔حویلی کی طرف واپس پلٹ گیا۔۔۔۔


نارنجی رنگ سوٹ پہنے۔۔۔اس پل بالکنی میں کھڑی وہ اپنے مقابل پل پل ڈوبتے سورج کو ہنوز اداس۔۔۔خشک نگاہوں سے تک رہی تھی۔
روح کو بھاتا قدرتی منظر خوبصورت ترین تھا۔۔۔
مگر اداس اداس سا۔۔۔۔
”جانتی ہیں اپیہ۔۔۔۔؟؟؟آج اس نے ایک بار پھر سے خودکشی کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔۔۔بالکل آپ کی مانند۔۔۔۔“ حرمین زہرا کی قبر پر ضبط سے گلاب کی تازہ پتیاں بکھیرتی وہ اُس پل کس قدر سادگی سے بتارہی تھی ناں۔۔۔
مگر ڈوبتا دل۔۔۔۔
وہ تو اس سادگی کے برعکس سینے میں لرز سا رہا تھا۔
بالکل اب کی طرح۔۔۔
بےاختیار حاویہ نے نگاہوں میں ابھرتی نمی کو اندر اتارنے کی کامیاب کوشش میں پلکیں جھپکاتے گہرا سانس بھرا۔۔۔
”پر فرق صرف اتنا ہے کہ۔۔۔آپ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوچکی تھیں۔۔۔“ گزری یادوں میں مزید ڈنواں ڈول ہوتے۔۔۔اسے خود کی بھیگی آواز آس پاس بکھرتی محسوس ہوئی تھی۔
اور وہ۔۔۔۔۔۔“ بکھری پتیوں تلے مٹی دیکھنے کی کوشش کرتی آنکھوں کے۔۔نم گوشے صاف کرنے کو وہ رکی۔
”وہ اپنے اس پاگل پن میں بری طرح ناکام ٹھہرا ہے۔۔۔۔“ مزید بتلاتے ہوئے اُس لمحے نہ خوشی تھی۔۔۔نہ ہی اس کی ذات کے لیے کوئی ملال۔۔۔
البتہ لہجہ خالی خالی سا تھا۔
ہاں۔۔۔۔ہاں شاہ میر حسن نے مکافات عمل سے ہٹ کر حقیقتاً محبتوں میں بےحد گہرا وار کھایا تھا۔۔۔
اس قدر گہرا کہ۔۔۔اب اسکی ذات ہر لحاظ سے فنا ہوکر بکھر چکی تھی۔۔۔
معاً سر جھٹکتی حاویہ بالکونی سے پلٹتی کمرے میں چلی آئی۔۔۔
قانونیت تلے نہ سہی۔۔۔لیکن معاف کرنے کے باوجود بھی فطرتاً حرمین زہرا کو انصاف مل رہا تھا۔۔۔۔
گلابیت گھلی بھوری نگاہیں۔۔۔اگلے ہی پل سامنے اٹھیں تو۔۔پلکوں پر اتری سوگواریت کے باوجود بھی اس کے لب پرسکون مسکراہٹ میں ڈھلتے چلے گئے۔
سامنے ہی وہ اس ننھی پری کو نرمی سے اپنے چوڑے سینے پر لٹا کر۔۔۔مضبوط حصار باندھے ہوئے۔۔۔اس کے سنگ شاید خود بھی سوچکا تھا۔
اس عرصے میں مجبوراً پنڈی کا بزنس وائنڈ اپ کردیا گیا تھا۔۔۔۔جبکہ اپنی فیلڈ میں ہنوز برقرار رہتے ہوئے۔۔۔عائل کراچی کا بزنس پرانے۔۔قابلِ اعتبار منیجر کے حوالے کرچکا تھا۔۔۔۔مزید وہ خود بھی تو معاملات پر نظرثانی کرنے کے لیے بآسانی وہاں چلا جاتا تھا۔
اگلے ہی پل وہ اپنے سانولے نقوش پر محبت کے گہرے سائے بکھیرتی ان کی جانب بیڈ تک آئی۔
پھر انابیہ۔۔کو سکون سے سوتا دیکھ۔۔۔اطمینان سے بھوری نگاہیں عائل کے چہرے پر ٹکائیں۔۔۔جو ہنوز سرکاری وردی میں تھا۔
وجیہہ نقوش پر تھکاوٹ سی تھی۔
حسن صاحب کی ساری بدترین حقیقتیں کھلنے کے باوجود بھی وہ اپنے محروم باپ سےنفرت نہیں کر پایا تھا۔۔۔
مگرشکوہ۔۔۔ملال۔۔۔تاسف۔۔۔ہنوز تھا۔
اس دورن وہ نفیسہ بیگم سے بےحد قریب ہوچکا تھا۔
جبکہ اس سے ہٹ کر۔۔۔شاہ میر حسن سے بظاہر لاکھ نفرت سہی۔۔۔لیکن شاہ کی موجودہ حالت پر اس کا اکثر تنہایوں میں بےقرار ہوجانا بھی تو صاف محسوس کرلیتی تھی وہ۔۔۔
”میرا موم دل اے۔ایس۔پی۔۔۔۔“ مدھم لہجے میں کہتی حاویہ نے کچھ محبت سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیری۔
پھر بےخود ہوکر جھکتے ہوئے۔۔اس کے ماتھے پر نرمی سے لمس چھوڑتی سیدھی ہوئی۔۔۔
بلاشبہ وہ شاندار مرد ہر لحاظ سے چاہے جانے کے قابل تھا۔۔۔
اگلے ہی پل وہ بےآواز پلٹی تو۔۔کچی نیند سے جاگ چکے عائل نے سرعت سے اسکی کلائی تھام لی۔۔۔
جواباً شدت سے چونکتی حاویہ نے مڑ کر اسکی جانب دیکھا۔
”اب یوں پلٹ کر دور جانے کا کیا فائدہ۔۔۔؟؟جب تمھارا دل دھڑکاتا لمس میری کچی نیند برباد کر ہی چکا ہے تو۔۔۔“ خمار سے سرخ ہورہی آنکھوں کو۔۔ اس کے سالولے نقوش پر ٹھہراتا وہ بھاری لہجے میں شکوہ کررہا تھا۔
جواباً وہ دھڑکتے دل کے سنگ ہولے سے مسکرائی۔پھر اس کے نرمی سے اپنی جانب کھینچنے پر بمشکل اسکے قریب تر ہوکر بیٹھ گئی۔
اس دوران مضبوط بازو تلے۔۔کشادہ سینے پر کچھ سمٹ کر سوئی انابیہ ہنوز پرسکون نیند میں تھی۔
”اور آپ کی یہ بےدریغ محبتیں میری حیات کو ہرلحاظ سے آباد کر چکی ہیں۔۔۔۔“ کچھ عقیدت سے بولتی وہ عائل حسن کی نگاہوں میں اپنی چاہ مزید بڑھا ہی تو گئی تھی۔
معاً خود کی جان انابیہ کو۔۔قدرے نرمی سے پہلو میں لٹاکر۔۔اس کے مقابل اٹھ کر بیٹھتا۔۔۔ وہ اگلے ہی پل مسکراہٹ دباتی حاویہ کی انگلیوں میں اپنی مضبوط انگلیاں پھنسا چکا تھا۔
”اب میں مزید آباد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں بیوی۔۔۔۔“ گھمبیر لہجے میں بولتے ہوئے اس نے بےاختیار اسکی پیشانی پر نرم لمس چھوڑا۔
مقابل کا دلفریب انداز دل کو شدتوں سے دھڑکاتا اسے پل بھرکو جھجکنے پر ہی تو مجبورکرگیا تھا۔
” کوشش کرکے دیکھ لیں۔۔۔۔اگر پوری ہو سکے تو۔۔۔۔“ یک دم لب کچلتی وہ کچھ شریر سا مسکرائی۔
پل پل بھاری ہورہے جذبات کے سبب عائل اس کی بھوری دلکش آنکھوں میں مچلتا تمسخر۔۔۔صاف دیکھ کر بھی نظرانداز کرگیا تھا۔
”جاناں تم۔۔۔۔۔۔۔“ دلفریب نقوش کو پوروں تلے نرمی سے چھوتا وہ مدھم لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔۔جب یک دم دونوں کی سماعتوں میں انابیہ کی برہم۔۔روتی آواز شدت سے گھلی۔
نتیجتاً بری طرح چونکتے عائل حسن نے۔۔جہاں کچھ بےبسی سے پلٹ کر۔۔اپنی جانب بھیگتی۔۔پُرشکوہ آنکھوں سے تکتی انابیہ کو دیکھا۔۔۔۔وہیں اس مزہ دیتی صورتحال پر حاویہ ہنستی چلی گئی۔۔۔۔
”میں کیا میرے محبوب۔۔۔۔؟؟؟“ اسے انابیہ کو گود میں لیتا دیکھ۔۔وہ مزید چھیڑنے کو قدرے دلچسپی سے پوچھ رہی تھی۔
عائل نے لب بھینچ کر اسے ہنسی دبانے کی ناکام کوشش کرتے دیکھا۔
”ابھی کے لیے اڑا لو میری بےبسی کا مذاق جانم۔۔۔۔مگر موقع ہاتھ لگنے پر تمھاری شرماہٹ کی پرواہ کیے بنا۔۔ایک ایک بات کا حساب بےباک کروں گا بیوی۔۔۔تم دیکھنا۔۔۔۔“ روتی انابیہ کو سینے سے لگائے وہ قدرے سنجیدگی سے دھمکارہا تھا۔
حاویہ نے اسکی جانب دیکھتے غیرسنجیدگی سے بھنویں اچکائیں۔
گالوں میں گلابیت سی گھلی تھی۔
”یوں ہلکان ہونے کی بجائے سیدھی طرح مان کیوں نہیں لیتے اے۔ایس۔پی صاحب۔۔۔۔کہ روتی بچی کو چپ کروانے کا ہنر آپ میں بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔“ اسے انابیہ کو چپ کروانے میں ہلکان ہوتا دیکھ۔۔۔وہ اگلے ہی پل لطیف سا طنز کرتی اپنی لاڈلی کو اس سے لے چکی تھی۔
عائل نے انابیہ کو دیکھا جو اس سے ہنوز خفا سی۔۔۔اپنی ماں کے سینے لگتے ہی پینترا بدل گئی تھی۔
”ہاں تو۔۔۔؟؟بچی کی ماں کو ہرلحاظ سے قابو کرنے کا ہنر تو ہے ناں مجھ میں۔۔۔بس اتنا ہی کافی ہے۔۔۔۔“ ڈھٹائی سے بالوں ہاتھ چلاتا وہ خاصی شوخی سے گویا ہوا۔
تو جہاں حاویہ نے مسکراتے ہوئے تاسف سے سر ہلایا۔۔۔وہیں وہ بھی کھسک کر ان دونوں کے قریب آتا۔۔اگلے ہی پل انھیں اپنے نرم حصار میں لے چکا تھا۔
”میرا سکون۔۔۔۔۔۔۔۔“ آہستگی سے کہتے جہاں عائل حسن نے حاویہ کے بالوں پر محبت سے لمس چھوڑا تھا۔۔۔وہیں وہ بھی انابیہ کا سر چومتی پرسکون سی آنکھیں موند گئیں۔
ان کے سنگ زندگی حقیقتاً حسین سے حسین ترین تھی۔۔۔


”یاد رکھنا صرف دس منٹ۔۔۔اس سے ذیادہ نہیں۔۔۔۔“ لاک کھولتے ہوئے۔۔۔مخصوص لباس میں موجود وہ لالچی عورت۔۔مدھم لہجے میں سختی سے تنقید کررہی تھی۔
ملنے والے پیسوں نے حقیقتاً اسکی بولتی بند کروا دی تھی۔
جواباً سینے سے لگائے اس ننھے پرسکون وجود پر اپنی نرم گرفت مزید مضبوط کرتی۔۔وہ اثبات میں سر ہلاگئی۔
پھر دروازہ وا ہوتے ہی محتاط سی اندر داخل ہوئی۔۔۔تو اپنے مقابل ایک وقت بعد اسے یوں دیکھ کر۔۔ دل کی دھڑکنیں تھم سی گئیں۔
چارپائی پر بے سدھ لیٹا وہ سر کو جانتے بوجھتے نیچے لڑھکائے۔۔۔۔ اس کے آنے پر بھی متوجہ نہیں ہوا تھا۔۔
پھڑپھڑاتے لبوں سے مسلسل پھوٹتی بڑبڑاہٹیں اس پل سمجھ سے پرے تھیں۔
تیزی سے نم پڑتی آنکھوں کے ساتھ۔۔اس نے بےتابانہ اس کے پیروں میں بندھی زنجیروں کو دیکھا۔۔جو اس کے بڑھتے پاگل پن کو واضح کرنے کے لیے کافی تھیں۔
بیٹھتے دل کے سنگ وہ آہستگی سے اسکی جانب بڑھی۔
اس دوران سینے سے لگ کر سوئے وجود میں ہنوز کوئی جنبش نہیں ہوئی تھی۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ خود کو لاکھ باز رکھنے کے باوجود بھی بڑی جرات کرکے۔۔۔مخصوص مقصد کے تحت اس سے ملنے یہاں تک چلی آئی تھی۔۔۔جو محبتوں میں اپنا آپ برباد کرنے کے بعد۔۔۔ اب پاگل پن کی حدود کو شدتوں سے چھونے پر مجبور ہوچکا تھا۔
”ش۔۔شاہ۔۔۔۔؟؟؟“ احتیاطاً دو قدموں کے فاصلے پر رکتے ہوئے آبرو سکندر کے پنکھڑی لب شدت سے پھڑپھڑائے۔۔
لیکن اس کی توجہ ہنوز ندارد تھی۔
”شاہ میرحسن۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟“ مجبوراً بکھرتی دھڑکنوں کے سنگ۔۔۔ہاتھ بڑھا کر اسکا بازو چھوتی وہ پل میں پیچھے ہوئی۔۔۔تو لحظے بھر کے اس گداز لمس پر اس نے قدرے بوکھلا کر سر اٹھاتے اسکی جانب دیکھا۔
خائف سی بھوری آنکھوں میں صاف حیرت تھی۔۔۔
مگر کتنے ہی پل تلاشنے پر۔۔ شناسائی کی کوئی رمق نہیں ملی تھی۔
آبرو کا دل ڈوب کر ابھرا۔
ملگجے حلیے کو چھوڑ کر۔۔۔کافی حد تک بڑھ چکی گھنی شیو اس پل بری نہیں لگ رہی تھی۔
”ک۔۔کون ہو۔۔۔۔؟؟؟“ اسی پوزیشن میں بمشکل اکڑا۔۔۔وہ سیاہ چادر کے ہالے میں اس کے نقوش بغور گھورتا حیرت سے پوچھ رہا تھا۔
اس کے بدترین سوال پر آبرو کی نگاہوں کی نیلاہٹ میں گھلتی سرخی۔۔مزید بھیگنے لگی۔
اسے برباد کرنے کی حد تک دھمکانے والا وہ شخص۔۔۔۔اپنی مغرور شخصیت سے ہٹ کرکس قدر بدل گیا تھا ناں۔۔۔۔
اندر کہیں آہستگی سے ایک اذیت نے اس کے لیے سر اٹھایا۔
مگر۔۔۔مگر یہ حالت بھی کسی کی بدعاؤں کا ہی تو نتیجہ تھی۔۔۔۔
اورکس کی تھی۔۔؟؟؟وہ بخوبی جانتی تھی۔۔
”یہ تم نے خود کی کیا حالت کرلی ہے شاہ میر حسن۔۔۔۔؟؟تمھاری شخصیت ایسی تو قطعی نہیں تھی۔۔۔۔“ اس کی ذات پر کچھ حیرت سے چوٹ کرتی وہ تاسف زدہ سی بولتی چلی گئی۔۔۔تو یک دم ماتھے پر تیوری چڑھاتا وہ تندہی سے اٹھ کر بیٹھا۔
اس کی بات سراسر غلط ہی تو لگی تھی اسے۔۔۔
”یہ میں نے نہیں کی ناں۔۔۔۔یہ تو اس نے کی ہے۔۔۔و۔۔وہ وہاں دیکھو۔۔۔وہ۔۔۔ح۔۔حرمین زہرا۔۔۔آئی نظر۔۔۔؟؟ہاں؟؟آئی۔۔۔؟؟آئی ناں۔۔۔؟؟“ ناپسندیدگی سے چیخ کر بتاتا جہاں وہ آبرو کو پیچھے پلٹ کر دیکھنے پر مجبور کرچکا تھا۔۔وہیں مردانہ۔۔۔تیز آواز پر سویا ہوا ننھا سا وجود ٹھٹک کر بیدار ہوا۔
”معلوم ہے۔۔۔؟؟وہ جان بوجھ کر مجھ سے یہ سب کرواتی ہے۔۔۔میں کروں بھی تو کیا کروں۔۔۔؟؟؟“ بچے کی روتی آواز کو شدت سے فراموش کرتا اس بار وہ مدھم رازدانہ لہجے میں اپنی بےبسی کو قدرے افسردگی سے ظاہر کررہا تھا۔
لہجے میں دبا خوف پھر سے سر اٹھانے لگا۔
کچھ بھی دکھائی نہ پڑنے پر اس کی جانب پلٹ کر۔۔۔اپنے بیٹے کو تھپکتی آبرو کے گالوں پر آنسو لڑھک آئے۔
”تم یہاں میری طرف دیکھو۔۔۔صرف میری طرف۔۔۔۔۔“ تیزی سے گزرتے وقت کا احساس کرتی وہ اسے سختی سے ڈپٹ گئی تھی۔
نتیجتاً شاہ نے منہ بسور کر اسکی جانب دیکھتے ہوئے بھنویں سکیڑیں۔۔۔
”دیکھ تو رہا ہوں۔۔۔مزید قریب سے دیکھوں۔۔۔؟؟“ غرا کر بولتا وہ اگلے ہی پل چارپائی سے اترا۔۔تو زنجیروں کی بےسکون آواز برپا ہونے پر آبرو بے اختیار ایک قدم پیچھے ہوئی۔
مسلسل تھپکنے سے جاگ چکے بچے کا رونا اب تھم چکا تھا۔
”یہ گھنگرو کی چھنکار سنی۔۔۔۔؟؟؟“ یک دم بوکھلا کر پوچھتا وہ اپنے پاگل پن سے اسے ساکت کرگیا۔
”زہر لگتی ہے مجھے۔۔۔۔۔“ نفرت سے پیروں کو جھٹکتا وہ بندھی زنجیروں سے جان چھڑوانے کی ناکام کوششیں کررہا تھا۔
ضبط سے چہرہ لال سرخ ہونے لگا۔
آبرو کا دل بےچینی تلے شدتوں سے دھڑکا۔
تو یعنی اس پاگل پن میں اب بھی وہ کہیں نہ کہیں اس کی سلگتی یادوں کے حصار میں مقید تھی۔۔۔
معاً بچے نے کندھے سے سر ہٹا کر بےاختیار اپنا رخ شاہ میر حسن کی جانب موڑا۔۔۔جس کی ذات سے وہ فطرتاً منسلک تھا۔
”سنو بی بی۔۔۔۔؟؟وقت پورا ہونے کو ہے اب۔۔۔۔“ معاً پشت سے سنائی دیتی درشت تنبیہہ پر آبرو نم پلکوں کو جھپکاتی ہوش میں آئی۔
پھر بےتابانہ شاہ کی جانب دیکھا۔۔۔جوکہ بذات خود بچے کی ان بیگانیت بھری نیلی نگاہوں کی جانب متوجہ ہوچکا تھا۔
”جانتے ہو یہ کون ہے۔۔۔؟؟؟“ پوچھتے ہوئے وہ نم آنکھوں کے ساتھ ہولے سے مسکرائی۔
”ب۔۔بچہ۔۔۔۔۔۔؟؟“ رخ موڑ چکی اولاد سے نگاہیں ہٹاتا وہ خود آہستگی سے پوچھ رہا تھا۔
”ہاں۔۔۔۔تمھارا بچہ۔۔۔عاشر شاہ میر۔۔۔۔محبتوں میں دی گئی تمھاری وہ واحد نشانی جسے میں ساری دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے۔۔۔تاعمر اپنے پاس سنبھال کر رکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔“ بتاتے ہوئے اسکا بھیگا لہجہ لرز گیا تھا۔
معاً اس نے چادر کو ننھی مٹھیوں میں کھنچ کر بہت کچھ بولنے کی کوشش کرتے اپنے جگر کا۔۔۔گال عقیدت سے چوما۔۔۔تو مقابل کا دماغ فقط ”تمھارا بچہ“ جیسے چونکادینے والے الفاظ پر اٹک سا گیا۔
چہرہ فطری مسرتوں۔۔۔جذباتوں سے عاری تھا۔
”میرا۔۔۔۔؟؟؟اگر یہ میرا بچہ ہے تو اسے مجھے دے دو ناں۔۔۔۔تم نے کیوں زبردستی دبوچ رکھا ہے اسے۔۔۔۔؟؟“ سادگی سے پوچھتا وہ اپنا بچہ لینے کو بےاختیار آبرو پر جھپٹا تو وہ شدت سے بوکھلاتی بروقت اسے پوری قوت سے پیچھے دھکا دے گئی۔
”ہرگز نہیں۔۔۔دور رہو میرے بچے سے۔۔۔۔۔“ اسے چارپائی سے ٹکرا کر اگلے ہی پل سنبھلتا دیکھ۔۔پیچھے ہوتی وہ شدت سے چیخی تھی۔
اس کھینچا تانی پر شدت سے گھبراتا عاشر اب کہ چیخ کر رونے لگا۔
ایسے میں جہاں شاہ میر حسن کا دماغ پِھرا تھا۔۔۔۔وہیں دروازے کے قریب پہرہ دیتی وہ عورت کچھ غصے سے اندر چلی آئی۔
”پ۔۔پاگل۔۔۔سنکی۔۔۔ظالم ہو تم۔۔ہاں۔۔ظالم۔۔۔۔“ سرخ ہوتی نگاہوں کے ساتھ مشتعیل سا بولتا وہ آگے بڑھ کر اسے اپنی گرفت میں بےدردی سے دبوچ لینا چاہتا تھا۔۔۔روتا بچہ چھین لینا چاہتا تھا۔۔۔
مگر بڑھتے فاصلے کے سبب شور کرتی زنجیریں جھٹکا لگنے پر یک دم کھنچتی۔۔اسے آبرو کے قریب تر ہونے سے روک گئیں۔
”ہاں میں ہوں۔۔۔۔تمھارے معاملے میں۔۔بےحد ہوں۔۔بے انتہا ہوں۔۔۔بےوفا ہوں۔۔۔۔“ بہتے آنسوؤں میں بولتی وہ اس کے تن چکے نقوش دیکھ رہی تھی۔۔۔جوکہ اب مٹھیاں بھینچ کر گہرے گہرے سانس بھرتا اسے فنا کردینے والے انداز میں جلتی نگاہوں سے گھور رہا تھا۔
”چلو اب یہاں سے۔۔۔وقت ختم ہوچکا ہے۔۔۔۔“ سپاٹ لہجے میں بولتی وہ عورت شاہ کو اس پل زہر لگی تھی۔
اور پھر وہ عورت۔۔ جو اس کے روتے بچے کو چپ کروانے کی کوششوں میں مجبوراً سر اثبات میں ہلا چکی تھی۔
آبرو کو شدت سے گھورتے ہوئے اس کے مشتعیل نقوش یک دم ٹھٹکے۔
بڑھتی حیرت کے سنگ۔۔۔بھوری نگاہوں میں اجنبیت پل پل کم پڑنے لگی تھی۔
”تم۔۔۔۔۔؟؟ت۔۔تم تو۔۔۔تم ہو ناں۔۔۔“ بھاری ہوتے ذہن پر شدت سے زور ڈالتا وہ ٹھیک سے آشنا نہیں ہو پارہا تھا۔
وہ جو دروازے کی جانب بڑھتی عورت کے پیچھے لپکنے کو تھی۔۔۔اس کے سوال سمیت۔۔انداز پر چونکی۔
سادہ خوبصورت نقوش بھوری انگارہ آنکھوں میں گھلتے دل تو دھڑکا رہے تھے۔۔لیکن اس کے برعکس ناکام دماغ شدت سے سنسنا رہا تھا۔
”تو یعنی تم بھی سراسر اپنے باپ کی پرچھائی ہو۔۔۔۔“ یادداشت میں کھلتے سمٹتے نقوش اسی لڑکی کے تو تھے۔۔۔
”ہ۔۔ہاں۔۔۔یہ تمہی تو ہو۔۔۔۔۔“ وہ ہاتھ بڑھا کر بھی اسکا بھیگتا گال چھونے میں ناکام ٹھہررہا تھا۔
اس کی کوششوں پر آبرو کا دل بری طرح ڈوبا۔
”اب آ بھی جاؤ بی بی۔۔۔۔میں تمھارے یہاں مزید رکنے کے دوبارہ پیسے نہیں لے سکتی۔۔۔۔“ اسکے وہیں ڈٹ کر کھڑے رہنے پر چوٹ کرتی وہ صاف پھنکاری۔۔
مگر اس پل اسے سن ہی کون رہا تھا۔۔۔۔؟؟
”قاتل۔۔۔
زانی۔۔۔۔
مجرم۔۔۔۔
سفاک۔۔۔“ چکراتے ذہن میں مزید تلخ لمحات ابھرے تھے۔
دھندلائے ہوئے سے آدھے ادھورے لمحات۔۔۔۔
پھر
مشترکہ۔۔۔نسوانی۔۔۔مردانہ آوازیں۔۔۔
اففف۔۔۔۔
شاہ میرحسن نے بےتابانہ اپنی پھٹنے کے قریب دکھتی کنپٹیاں جکڑیں۔
”میں قاتل نہیں ہوں۔۔۔م۔۔میں نہیں ہوں۔۔۔۔زانی۔۔۔نہیں۔۔۔ہوں۔۔۔“ معاً کچھ جھک کر بےدردی سے سماعتوں کو مسلتا وہ حلق کے بل چیخ رہا تھا۔۔۔جب وہ عورت کڑے تیوروں سے آگے بڑھتی۔۔اگلے ہی پل آبرو کا بازو سختی سے تھام کر اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کر چکی تھی۔
ماں کے سینے سے لگے عاشر کے ننھے نقوش گھبراہٹ میں ہنوز بھیگ رہے تھے۔۔۔
”رک جاؤ۔۔۔۔ب۔۔بیوی۔۔۔۔یہاں آؤ۔۔۔۔یہاں میرے پاس آؤ۔۔۔م۔۔میرے۔۔۔۔۔“
اسے دہلیز پار کرتا دیکھ وہ بےخودی میں بال دبوچ کر چیختا شدت سے آگے کو لپکا۔۔۔۔تو بند ہوچکے جالی دار دروازے سے آبرو نے اسے منہ کے بل زمین بوس ہوتے دیکھا۔
”ہونہہ۔۔۔پڑ چکا ہے موصوف کو ایک بار پھر سے شدید پاگل پن کا دورہ۔۔۔۔“ وہ عورت کچھ بےزاریت سے گویا ہوتی اب کہ آبرو کے اس پاگل خانے سے نکل جانے کی خواہاں تھی۔
جو اس متوجہ پاگل کو بھیگی۔۔۔تاسف نگاہوں سے یک ٹک دیکھتی۔۔ایک ہاتھ سے نقوش پر سیاہ رنگ چادر کا نقاب چڑھا چکی تھی۔
”مجھے چھوڑ کرنہیں جاؤ ناں۔۔۔نہ نہ نہ۔۔۔۔۔“ خود سے اٹھنے کی بجائے وہیں پڑے پڑے اس کی جانب ہاتھ بڑھاتا وہ آنسوؤں کے سنگ رو ہی تو رہا تھا۔
”جب منزلیں یکساں نہ ہوں۔۔۔تو راہوں کا جدا ہونا لازم ہے۔۔۔۔۔۔“ آہستگی سے کہتی وہ اپنا حقیقی۔۔ننھا سہارا دل کی بکھری دھڑکنوں سے لگاتی۔۔۔اگلے ہی پل بمشکل سفاک بنے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔۔
ایسے میں بڑے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوتی عائمہ بیگم۔۔۔یک دم سماعتوں سے ٹکراتی بھاری۔۔شناسا چیخوں پر قدرے گھبرا کر اپنے جگر کے مخصوص کمرے کی جانب لپکیں۔۔۔تو پاس سے گزرتی آبرو کے قدموں میں بےاختیار تیزی در آئی۔
معاً اپنی ماں کے کندھے سے۔۔۔آہستگی سے سر اٹھاتے عاشرشاہ میر نے۔۔۔
اوجھل ہونے سے فقط دو پل پہلے۔۔۔گہری نیلی آنکھیں جھپکا جھپکا کر عائمہ بیگم کی جانب دیکھا۔۔
جو اپنی اولاد کی اولاد سے قطعی انجان۔۔۔۔خود ہی کو زد و کوب کرتے شاہ میرحسن کے لیے اس پل شدت سے تڑپ رہی تھیں۔۔۔
اس دوران۔۔دور کھڑی قسمت بھی قدرے اداسی سے مسکراتی انہی کی تقلید میں پلٹتی وہاں سے جاچکی تھی۔۔۔۔۔
محبت،ختم شد
قصہ،ختم شد
دل کا درد
دل ہی جانے
دل لگانا،ختم شد
عشق کیا نبھایا بھی
محبوب بنانا، ختم شد
غم تھا
درد ہے
مسکرانا،ختم شد
پیار کیا بچھڑگئے
آزمانا،ختم شد
سلگتی یادوں کا کرب تھا
کرب ہے؛
ہائے کرب نہ ہوا،ختم شد!!!


سو ثابت ہوا کہ مکافاتِ عمل اٹل ہے۔۔۔خیر جلد ہی ”سلگتی یادوں کے حصار میں“ ناول کا دھماکے دار سیزن ٹو بھی اس پیج کی زینت بنے گا۔فی الحال کے لیے ”وار“ ناول ری اسٹارٹ کریں گے۔اِس ناول کے اختتام پر آپ کے بہترین تبصروں کی منتظر! (آرجے ناولسٹ)
💞💞💞💞💞💞