No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
”بس عشق۔۔محبت۔۔اپناپن
بس عشق۔۔محبت۔۔اپناپن
بس عشق۔۔محبت۔۔اپناپن۔۔۔۔“
وہ قدم قدم چلتا ہال کے دروازے کے سامنے جارکا تو مدھم مدھم سی موسیقی اُسکی سماعتوں میں گھلنے لگی۔ اگلے ہی پل ہاتھ سے دباؤ ڈالے وہ ایک پٹ وا کرتا اندر داخل ہوا تو سامنے ہی وہ زرک برگ لباس میں ملبوس لڑکیوں کے بیچ مہارت سے اپنے پورے وجود کو دلنشین انداز میں حرکت دینے میں مگن تھی۔ برقی قمقموں کی طرح اُسکا دلکش حسن بھی سنہرے رنگ لباس میں لشکارے مارتا اردگرد بیٹھے جانے کتنے ہی رنگین مزاج مردوں کو اپنا اسیربنا رہا تھا۔ یہ دیکھ کر سالار خان کے وجیہہ چہرے پر بےاختیار شدت کی ناگواری چھائی تھی۔
تراتر بجتے طبلوں کا شور اُسکے دماغ میں ہتھوڑے کی مانند برس رہا تھا جبکہ اُسکا دل بہکادینے والا رقص اتنے عرصے بعد براہِ راست دیکھتے ہوئے اُسکی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگیں۔ وہ جو اپنے کاموں سے بمشکل وقت نکال کر رابی سے اپنی ادھوری ملاقات پوری کرنے کے لیے یہاں آیا تھا آج رات کی اِس رنگین محفل سے قطعی بے خبر تھا۔ اپنی انتہائی غلط وقت آمد پر وہ ہاتھ میں پکڑی بریسلٹ سمیت قدرے ضبط سے مٹھیاں بھینچ گیا۔ اپنی لانبی انگلیوں کو ایک ادا سے چہرے کے حسین نقوش کے آگے لہراتی وہ زرا سا دائیں جانب مڑی تو نگاہیں بے ساختہ سامنے کھڑے سالار خان پر جاٹھہرئیں جو لب بھینچے برہم سا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
پل بھرکو رُکتی رابی کے دل کی گداز دھڑکنیں بےاختیار تیز ہوئی تھیں مگر دوسرے ہی لمحے وہ اُس کو اپنی نظروں کے حصار میں رکھتی سریلے لفظوں پر خود کو پھرسے مست کرگئی۔
”مغل اعظم ذلِ الہی
ماہبلی تیری دیکھ لی شاہی
زنجیروں سے کہاں رکے ہیں
پیارسفر میں عشق کے راہی
گاتے پھریں گے جوگی بن بن
عشق۔۔ محبت۔۔اپنا پن
بس عشق۔۔ محبت۔۔ اپنا پن۔۔۔“
شدت سے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھتی وہ مخصوص انداز میں گھومنے لگی تو ناچاہتے ہوئے بھی سالار خان اپنے قدموں پر واپس لوٹنے کی بجائے ٹرانس کی کیفیت میں اُسکی سمت بڑھنے لگا۔
سامنے ہی تابین بائی آج کی محفل کے خصوصی مہمان کے ساتھ لکڑی کے جھولے پر بیٹھی بےتلکلفی سے باتیں کرنے میں مگن تھی جبھی تو وہ سالار خان کی آمد کا بھی کچھ خاص نوٹس نہیں لےسکی تھیں۔مگر وہ اُس شخص کو لمحوں میں ناپ چکا تھا جس کی غلیظ نظریں گاہے بگاہے رابی کے جھومتے وجود کی جانب اٹھ رہی تھیں۔
غم و غصے کی کیفیت میں سر جھٹکتا وہ رقص سے حِظ اٹھاتے تماشائیوں کے ساتھ دو زانوں بیٹھ گیا۔رابی کی صحرزدہ سی خشک آنکھوں میں مایوسیوں کا عالم فقط اُسے ہی محسوس ہورہا تھا مگر یاقوتی لبوں پر بکھرا تبسم بھی سالار خان کو الجھائے دے رہا تھا۔
تڑپتے دل کے ساتھ اپنی محبت کا سرِعام تماشہ دیکھتے ہوئے ابھی کچھ ہی پل سِرکے تھے جب دیوان ملک خود پر سے ضبط کھوتا تابین بائی کے پاس سے اُٹھ کر رابی کی جانب لپکا۔ سالار نے ذرا سی گردن موڑ کر اُس عیاش کی جانب دیکھا تو پل میں اُسکے ارادے بھانپتے بےاختیار ماتھے پر بل پڑتے چلے گئے۔
”آہ جانِ جہاں۔۔۔کیوں دور سے ہی جان لینےپر تُلی ہوئی ہو۔۔؟پاس آکر بھی تو یہ کام اچھے سے کرسکتی ہوتم۔۔۔“ آگےبڑھ کراُسکی جھومتی کمر پر ہاتھ ڈالتاوہ اگلے ہی پل اُسےاپنی جانب کھینچ چکا تھا۔اپنےفعل میں غرق جہاں وہ مقابل کی اِس اچانک گستاخی پر بوکھلاتی اُسکے سینے پرسرعت سے اپنی نازک ہتھیلیاں جماگئی تھی وہیں وہ تماشائیوں کے بیچ بمشکل ضبط کیے بیٹھا اِس ناقابلِ برداشت نظارے پر جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”واللہ۔۔۔دیوان صاحب چھوڑئیے ہمیں ورنہ رقص سےلطف اندوز ہونے والوں کو بڑی دقت کا سامنا ہوگا۔۔۔“ اُسے غصے میں تیزی سے اپنی جانب لپکتا دیکھ وہ فوری گردن موڑتی مقابل سے التجاء کرگئی مگر وہ اُسکی درخواست کو ناک پرسے مکھی کی طرح اڑاتا اپنی خباثت بھری مسکراہٹ مزید گہری کرگیا۔
”چھوڑ اِسے۔۔۔“ پل میں اُسکے سر پر پہنچتا وہ سختی سےمٹھیاں بھینچے شدتِ نفرت سے پھنکارا تو دیوان ملک چونک کراُس خوبرو جوان کی جانب متوجہ ہواجبکہ وہ اگلےلمحوں کی بابت سوچتی مزیدپریشانی میں گھری تھی۔
”کیوں چھوڑوں۔۔۔؟یہ صرف تمھاری ملکیت نہیں ہے بلکہ یہاں پر بیٹھا ہروہ شخص اِس رقاصہ پر برابر کاحق رکھتا ہے جو اِسکے بےداغ حسن سے گھائل ہوکر اندھا دھنداِس پر پیسوں کی برسات کرتاہے۔۔۔“ اُسکی سرخ انگارہ آنکھوں میں جھانکتا وہ قدرے بےباکی سے بولا۔
ساتھ ہی انتہا کی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتا اُسکی نازک سی کسمساتی کمر پر اپنی گرفت مزید سخت کرگیا۔
مگر دوسرے ہی لمحے منہ پر مقابل کا بھرپور شدت سے پڑنے والامکا اُسے اپنے بازوؤں کا سخت گھیرا پوری طرح کھولنے پر مجبورکرگیا۔
”یہ فقط میری ملکیت ہے۔۔۔فقط سالارخان کی ملکیت جس پرکسی بھی دوسرے کاکوئی حق نہیں ہے۔۔۔اب اگرکسی نےاِسےانگلی سےبھی چھونے کی کوشش کی تو میں اُسکا بازو ہی کندھے سےاکھاڑپھینکوں گا۔۔۔یاد رکھنا میری بات!“ پورے استحقاق سے رابی کی چوڑیوں بھری کلائی تھام کر اُسے اپنے پیچھے کرتا وہ انگلی اٹھائےتقریباً سب کو ہی کھلے عام دھمکی دےگیا۔ حیرت کا مجسمہ بنی رابی نے اِس جنونی محبت پر آنکھیں پھیلائے سالار خان کو دیکھا جو اُسے اپنی پشت پرکھڑا کرتاایک بےنام سا تحفظ دے گیا تھا۔ دیوان ملک کو پھٹے ہونٹ پر ہاتھ رکھ کے بلبلاتا دیکھ وہاں بیٹھے لوگ حیرانگی اور کچھ تجسس سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
نظارہِ عشق دیکھنے لائق تھا۔۔۔۔
خوشگوارمحفل ایکدم ہی ٹینشن زدہ ماحول میں ڈھلی تھی۔ساری شوخیاں،رنگ رلیاں اور مستیاں پل میں اڑن چھو ہوگئی تھیں۔ہوش میں آتی تابین بائی جھٹکے سے جھولے سے اٹھی تھیں۔اُس کی اِس گستاخی پر بےاختیار اُسے قتل کرنے کو دل چاہا تھا۔
”تیری اتنی ہمت سالے۔۔۔۔تُونے دیوان ملک پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔تجھے تو میں ابھی تیری اوقات پر لاتا ہوں۔۔۔۔“ بےیقینی سے اپنی انگلیوں پر لگے خون کو دیکھ کر وہ اگلے ہی پل وحشی سا سالار خان پر جھپٹا۔
اُسکے محبت بھرے اعتراف سے ذیادہ اُسے بھری محفل میں اپنی ذلالت کا دکھ مارے جارہا تھا۔ دیوان ملک کے ہاتھوں کو اپنے گریبان پر پہنچنے سے پہلے ہی وہ اُنھیں اپنی مضبوط گرفت میں لیتا دوسرا دھموکا بھی جڑ چکا تھا۔
” تُو ابھی خود سالار خان کی اوقات سے صحیح طرح سے واقف نہیں ہے ورنہ اِس گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی حماقت کبھی نہیں کرتا۔۔۔۔“ اپنی شرٹ کا کالر پکڑ کر صحیح کرتا وہ اُس پر اپنی اہمیت واضح کرگیا جو خونخوار نظروں سے بےبس سا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
”واللہ۔۔۔۔سالار خان جاؤ یہاں سے۔۔۔۔خدارا چلے جاؤ۔۔۔۔“ رکتے دل کے ساتھ جہاں رابی نے اُسکی شرٹ کو بازو سے دبوچا تھا وہیں اپنا تمام تر صبرکھوتی تابین بائی بگڑے تیوروں کے ساتھ سالار خان کی جانب تیزی سے لپکیں۔
”کیا۔۔۔؟؟کیا چاہتے کیا ہو تم۔۔۔؟؟کس حق سے اتنی بڑی بڑی باتیں کررہے ہو میری بیٹی کے بارے میں۔۔۔؟؟کیا بیوی ہے وہ تمھاری۔۔۔؟؟یاں پھر ماں بہن لگتی ہے جو غیرت کے معاملے میں اتنے اکڑے جارہے ہو۔۔۔؟؟“ اُسکا گریبان دونوں ہاتھوں سے دبوچتی وہ اُس پر طوفان بن کر نازل ہوئی تھیں۔
”محبت ہے وہ میری۔۔۔۔بےغیرت عورت۔۔۔۔محبتتتت۔۔۔۔“ تابین بائی کے گہرے واروں پر آپے سے باہر ہوتا وہ جھٹکے سے اُنھیں پیچھے دھکیل گیا۔
نتیجتاً وہ پیچھے کو گرتی کمرے پکڑے کراہ اٹھیں یا شاید جان بوجھ کر گرنے کا دکھاوا کیا گیا تھا۔۔۔۔ رابی نے سرعت سے آگے بڑھ کر اٹھنے کی کوشش کرتی تابین بائی کو بازوؤں سے تھام کر سہارا دیا تھا۔
یہ سرکشی کی حد نہیں تو پھر کیا تھا۔۔۔۔۔؟؟
اگلے ہی پل وہ شش و پنچ میں کھڑے سالار خان کی جانب پلٹی تھی اور تڑاخ کی پُرزور آواز گہرے سکوت کو توڑتی چلی گئی۔
”را۔۔۔بی۔۔۔۔۔“ تپتے رخسار پر چند انگلیاں جماتا وہ بےیقین سا زیرلب اُسے مخاطب کرگیا جو اُسے نم مگر خونی نظروں سے گھور رہی تھی۔ اُسکے پورے وجود میں نئے سرے سے تڑپ جاگ اٹھی تھی۔ سالار خان کے اِس قدر دلچسپ انجام پر جہاں دیوان ملک کا فلک شگاف قہقہ حلق سے نکلا تھا وہیں تابین بائی آنکھوں میں حقارت لیے ہولے سے مسکرائیں۔
”دفع ہوجاؤ میری نظروں کے سامنے سے سالار خان۔۔۔اور ہوسکے تو کبھی مجھے اپنی شکل مت دیکھانا۔۔۔۔نکل جاؤ۔۔۔۔“ چوڑے سینے پر دباؤ ڈال کر اُسکا ڈھیلا وجود پیچھے دھکیلتی وہ غرائی تو وہ لہورنگ آنکھوں سے اپنے مخالفوں کو مسکراتا دیکھ اگلے ہی لمحے رخ پھیرتا لوگوں کے بیچ سے نکلتا چلاگیا۔
تبھی تابین بائی کے اشارے پر نئے سرے سے موسیقی اور طبلوں کا دور چلا تھا۔ گہرا سانس بھرتی رابی جہاں خود کو آنے والے وقت کے لیے تیار کرتی بےحسی سے مسکرائی تھی وہیں سب کی نظروں سے بچتی بچاتی تابین بائی دبیز قالین پر سے گولڈ کی بریسلٹ اٹھاتی اپنی جامنی ساری کے پلو میں چھپاگئیں۔
💞💞💞💞💞💞
وہ لاؤنج میں پُرسوچ سا بیٹھا دو انگلیوں سےمسلسل اپنا ماتھا مسل رہا تھا۔پاس ہی صوفے پر بیٹھی عائمہ بیگم پوری تندہی سے آمنہ اور طلعت میں سے بھربھرکے کیڑے نکالتی اگلے پچھلے سارے حساب بےباک کرنے میں مصروف تھیں جنھیں اپنا بوریا بسترا سمیٹ کر اِس گھر سے نکلے کئی گھنٹے بیت چکے تھے۔
”میں اور شام تم سے ہمیشہ یہی بات بولتے رہے کہ اُس لڑکی کو اتنا سر پر مت چڑھاؤ۔۔۔اب دیکھ لیا ناں اپنی مہربانیوں کا نتیجہ۔۔۔۔مجھے تو بہت پہلے سے ہی اُس پر شک تھا۔۔۔شک کیا یقین تھا پورا۔۔۔۔وہ میسنی گھنی شکل سےجتنی معصوم دِکھتی تھی کرتُوتوں کی اتنی ہی کالی نکلی کمبخت۔۔۔۔
دیکھو تو سہی۔۔۔اتنی سی عمرمیں ایک ناجائز بچے کی ماں بننے جارہی ہے۔۔۔۔ توبہ توبہ۔۔۔اللہ معاف ہی رکھے ایسی بدکار عورتوں سے تو۔۔۔۔“ کانوں کو ہاتھ لگاتی وہ حد سے تجاوز کرگئیں تو عائل نے کچھ حیرت سے عائمہ بیگم کے آخری لفظوں پر غور کیا۔
”پلیز موم۔۔۔۔جو کچھ بھی ہوا تھا نکاح کے بعد ہی ہواتھا۔۔۔اب ایسے میں آپ اُسے ناجائز قرار دے کر ذیادتی تو مت کریں۔۔۔۔“ سرد لہجے میں عجلت بھری برہمی سموئے وہ بےاختیار آمنہ کی حمایت میں بول گیا جبکہ انہیں اپنے بیٹے کا یہ انداز ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔
یعنی اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود بھی وہ اُنہی ماں بیٹی کے حق میں بولتا خود کی ماں سے احتجاج کررہا تھا۔
”کیا معلوم نکاح کی بابت بھی وہ جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔۔خیرجو بھی تھا تمھیں خواہ مخواہ پرائے پھڈے میں نہیں پڑنا چاہیے تھا عائل۔۔۔“ اپنے آپ کو ہرلحاظ سے صحیح ثابت کرنے کی خاطر خود سے غلط اندازے لگاتی اب کے وہ بھی ذرا خفگی سے گویا ہوئیں جس پر وہ محض گہری سانس بھرکے رہ گیا۔
جنید کے جیل میں بندہونے کی خبر مانو اُنھیں آگ ہی تو لگاگئی تھی۔
”آپ یہ سب چھوڑیں موم اور مجھے بس اتنا بتائیں کہ اُن دونوں کو آپ نے خود زبردستی تو نہیں نکالا تھا۔۔۔؟؟؟یعنی وہ خود اپنی مرضی سے یہاں سے گئی تھیں۔۔۔۔؟؟؟“ اُن دونوں کی بے بسی اورمجبوریوں کی فکر کرتا وہ بظاہر بےتاثر لہجے میں بولا۔
اُسے قطعی اس بات کی امید نہیں تھی کہ آمنہ اور اُسکی ماں خود اپنی مرضی سے یہاں سے چلی جائیں گی۔وہ بھی ایسے میں جب اُنکے پاس نہ تو کوئی دوسرا روزگار تھا اور نہ ہی آمنہ کا باپ اُنکی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل تھا۔
عائل کے تفتیشی سوال پر ایک پل کو ٹھٹھکتی وہ فوراً سے اپنے تاثرات مضبوط بناگئیں۔
”وہی تو میں بھی تم سے کہہ رہی ہوں بیٹا۔۔۔۔اُن ماں بیٹیوں نے مجھے موقع ہی کب دیا کہ میں دھکے مار کر اُنھیں اِس گھر سے باہرنکال سکتی۔۔۔؟؟بلکہ وہ دونوں خود ہی چوروں کی طرح منہ چھپاکر اپنا سامان سمیٹتی یہاں سے چلتی بنیں۔۔۔مگر جاتے جاتے اُسکی ماں اپنا حساب کتاب چکتا کرنا نہیں بھولی۔۔۔حد ہے بھئی بےشرمی کی بھی۔۔۔۔“ سچ ملا جھوٹ بےدھڑک عائل کے سامنے پیش کرتی وہ پل میں اُسے کڑا اطمینان دلاگئی تھیں۔
حقیقتاً تو طلعت نے گڑگڑا کر اُن سے تب تک یہاں ملازمت کرنے کی درخواست کی تھی جب تک کہ اُنھیں کوئی دوسری جگہ مناسب نوکری نہ مل جاتی۔
مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔۔۔؟؟
تبھی عائمہ بیگم نے اُنھیں جلی کٹی باتیں سناکر بغیر ترس کھائے منٹ میں گھر سے نکال باہر کیا تھا۔
”ہوں۔۔۔۔۔“ ایک نظر اُنکے نفاست سے کیے گئے میک اپ شدہ چہرے پر ڈالتا وہ سرد ہنکارا بھرگیا۔
”اففف میرا بچہ کتنا تھک گیا ہے ناں۔۔۔تم رکو میں ابھی نئی ملازمہ سے بول کر تمھارے لیے ٹیبل سیٹ کرواتی ہوں۔۔۔۔“ اُسکے چہرے پر جمی تھکاوٹ دیکھ کر عائمہ بیگم کو بےاختیار اُسکی بھوک کا احساس جاگا جس نے جانے کتنے وقت سے کچھ نہیں کھایا تھا۔
جواب میں وہ نئی ملازمہ کے نام پر پل بھرکو چونکتا دھیرے سے سرہلاگیا۔ ”اور ہاں۔۔۔۔میں تمھیں ایک اہم بات بتانا تو بھول ہی گئی۔۔۔۔“ وہاں سے جاتے جاتے وہ ایکدم سے رکتی اُسکی جانب پلٹیں تو عائل اُنکے پرجوش انداز پر ٹیک چھوڑتا اُنکی جانب متوجہ ہوگیا۔
”کونسی بات۔۔۔۔؟؟کیا ڈیڈ بزنس ٹور سے واپس آگئے ہیں۔۔۔؟؟“ اُنکے چہرے کی مسکراہٹ کا کنکشن حسن صاحب کی گھرواپسی سے جوڑتا وہ بھی خوشدلی سے مسکرایا۔
”نہیں وہ تو آہی جائیں گے۔۔۔۔بتانا یہ تھاکہ شام کی برتھ ڈے آرہی ہے۔۔۔۔جانتے ہوناں اس دن کو لے کر وہ کتنا ایکسائٹڈ ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟“ شام کی بابت اُسے یاددہانی کرواتی وہ قدرے مسرور لہجے میں بولیں۔
”اوہ ہاں۔۔۔۔وہ میں کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔۔؟؟چھوٹے نواب کو بہت اچھے والا سرپرائز دوں گا میں اِس بار۔۔۔۔“ حسبِ توقع وہ بھی مسکاتی آنکھوں سے اپنے مائنڈ میں نئے نئے پلینز سوچنے لگا تھا۔
شام کے علاوہ باقی سب سوچوں سے فی الوقت اُسکا دھیان ہٹ چکا تھا اور شاید عائمہ بیگم بھی یہی چاہتی تھیں۔
”تمھیں جو بھی کرنا ہے کرو۔۔۔۔بس میرا بچہ خوش ہوجائے۔۔۔۔اور دعا کروکہ اس بار حسن صاحب اپنے غصے کے چکر میں شام کا اسپشل ڈے خراب نہ کردیں۔۔۔۔۔نہیں تو اُسے منانا مشکل ترین کام ہوجائے گا۔۔۔۔۔“ خود کے ساتھ ساتھ اُسے بھی نئی الجھنوں میں الجھاتی وہ حسن صاحب کے غصے سے خائف ہوتی قدرے فکرمند ہوئی تھیں۔
پچھلی بار کا تماشہ اُنھیں اچھے سے یاد تھا۔ جب شام نے اپنی برتھ ڈے پارٹی پر کسی معروف ڈانسر کو مدعو کیا تھا جس پرحسن صاحب اچھے خاصے بھڑک اٹھے جبھی تو سب مہمانوں کا لحاظ کیے بغیر وہ اُسے اچھی خاصی جھاڑ پلاگئے تھے۔
نتیجتاً شام بھی زبان درزای کرنے کے بعد ناراض ہوکر فارم ہاؤس چلاگیا تھا اور پھر کافی اصرار پر دو دن بعد گھرواپس لوٹا تھا۔
”ڈونٹ وری اباؤٹ دیٹ موم۔۔۔۔۔انشاء اللہ سب اچھا ہی ہوگا۔۔۔۔“ پُریقین سا بولتا وہ مسکرایا تو گہرا سانس بھرتی عائمہ بیگم اثبات میں سرہلاگئی اور کچن کی جانب مڑتی ”راشدہ“ نامی ملازمہ کو اونچی اونچی آوازیں دینے لگیں۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ اپنا سارا میک اپ صاف کرکے واشروم سے باہر نکلی تھی۔ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ جس پر جگہ جگہ نفیس کام ہوا تھا اُسکی پھیکی رنگت پر اپنی رونق کھورہا تھا۔ڈریسنگ سے اپنا چشمہ اٹھاکر تیکھی ناک پر ٹکاتی وہ گم صم سی بیڈ پر بیٹھ گئی۔گنے چنے چند افراد سمیت چھوٹا سا فنکشن اٹینڈ کرنے کے باعث تھکاوٹ اُسکے سر چڑھ کر بول رہی تھی۔
مگر ذہنی اذیت اس جسمانی تھکاوٹ سے کئی بڑھ کر تھی جو اُسے پل پل بےچین کیے دے رہی تھی۔
”ذباب۔۔۔۔۔“ اپنی انگلیوں کو چہرے کے سامنے پھیلائے اُسکی بے تاثر نگاہیں اس سمے گولڈ کی رِنگ پر اٹکی ہوئی تھیں جو کچھ دیر پہلے اُسے ذباب کے نام سے پہنائی جاچکی تھی۔
کتنی شدت سے انتظار تھا اُسے اِن لمحات کا مگر جب یہ خوشگوار پل اُسکی زندگی میں آکر گزربھی گئے تھے تو پھر کیوں اُسے خوشی نہیں ہورہی تھی۔۔۔؟؟
کیوں زباب کے نام پر کوئی جذبہ اُسکے اندر نہیں پنپ رہا تھا۔۔۔۔؟؟
کیوں اُسکے نازک سے مایوس دل کی دھڑکنیں بےہنگم نہیں ہورہی تھیں۔۔۔؟؟
بالکل ویسے ہی جیسے شام کے ذرا سے ذکر پر۔۔۔۔۔۔!!
کب سے اپنے آپ سے الجھتی حرمین اس پوائنٹ پر آکربےساختہ ٹھٹکی۔ دل بےاختیار دھڑکا تھا۔
کیا وہ اُسے چاہنے لگی تھی۔۔۔؟؟ اِس چھ لفظی سوال کے بدلے نفی کی تو کہیں بھی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
”نہیں۔۔۔یہ غلط ہے۔۔۔۔۔!!“ اِس گہرے انکشاف پر جہاں اُسکے الجھے ذہن کی اذیت کچھ کم ہوئی تھی وہیں کہیں اندر سے چیختی آواز نے حرمین کے اعصاب کو جھنجھوڑا کر رکھ دیا مگر وہ اِس بےایمان دل کا کیاکرتی جو ان لمحوں میں شدت سے دھڑکتا اعتراف کرنے کے درپے تھا۔
جبھی تو وہ پل میں خودغرض بنتی ضمیر کی آواز کو گہری سانسوں کے درمیان اندر ہی کہیں دباگئی تھی۔
شام کی شدت بھری توجہ۔۔۔۔دل میں اترجانے والی شریں گفتگو۔۔۔۔دلفریب مسکراہٹ۔۔۔۔اور چاہت بھری نظریں۔۔۔۔کچھ بھی تو ٹھکرانے کے قابل نہیں تھا۔۔۔۔
اُسکی برائے نام خوبیوں کو یبک وقت گنتی وہ جذباتی سی تکیہ اٹھا کر اپنے حصار میں سختی سے جکڑ چکی تھی۔
اور سب سے بڑھ کر وہ اُسکی عزت کا رکھوالا تھا۔۔۔۔ایک ایسا مسیحا جو انجانے میں اُسکے بےجان دل کو اپنی چاہت سے آشناکرواتا دھڑکنا سیکھاگیا تھا۔۔۔۔ شریر اذہان میں پنپتے ناپاک ارادوں سے قطعی انجان ایک اور ٹھوس جواز اُسکے دھڑکتے دل نے پیش کیا تھا۔
تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ شام کی نرمی و اپنائیت کا جواب بے حسی اور سنگدلی سے دیتی۔۔۔۔ فیصلہ کن موڑ پار کرتی حرمین کے سیاہی مائل لبوں پر ایک کھوئی کھوئی سی مسکراہٹ بکھری تھی۔
وہ خود کی گہری سوچوں میں مزید ڈوبتی اردگرد سے اس قدربےبہرہ ہوچکی تھی کہ اپنے موبائل فون پر آنے والی ذباب کی چھٹی کال بھی مسڈ کال میں بدل چکی تھی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ جو سینے سے فائل لگائے تھکے تھکے سے انداز میں اپنے فلور پر آئی تھی سامنے ہی شاہ کو اپنے کیبن کے پاس کنزا سے گفتگو کرتا دیکھ ٹھٹک کر اپنی چال سست کرگئی۔
”گڈ مارننگ سر۔۔۔۔۔“ قدرے دھیمی آواز میں مسکرا کر بولتی وہ پہلے سے ہی متوجہ شاہ کو مکمل اپنی جانب متوجہ کرواگئی۔
شاہ نے ایک گہری نظر اُسکے حسین مگر مرجھائے نقوش پر ڈالی تھی اور اگلے ہی پل اُسکی نیند نہ پوری ہونے کے باعث گلابی پڑتی آنکھوں سے نگاہیں ہٹاتا آبرو کو اُسکی گڈمارننگ سمیت پوری طرح اگنور کرگیا۔
”مس کنزہ۔۔۔۔آپ یہ ٹوٹل اپ ڈیٹس وقار صاحب تک پہنچادیں۔۔۔۔اور وہ اپائنٹمنٹ لیٹر۔۔۔۔؟؟؟“ قدرے پروفیشنل انداز میں سنجیدگی سے بولتا وہ آبرو کی مسکراہٹ چھیننے میں مکمل کامیاب رہا تھا جو اب کنزہ کے ذرا حیرت میں ڈھلتے تاثرات دیکھ کر خوامخواہ شرمندہ سی ہونے لگی تھی۔
”جی سر وہ بھی ریڈی ہے۔۔۔۔“ شاہ کو سوالیہ انداز میں آبرو اچکاتا دیکھ وہ تیزی سے اپنا سر ہلاگئی جبکہ گم صم سی وہیں پر کھڑی آبرو نے اپائنٹمنٹ لیٹر کے ذکر پر چونک کر شاہ کو دیکھا جو اب بھی اُسے سرے سے نظرانداز کیے کنزا سے محوِ گفتگو تھا۔
”گڈ۔۔۔۔اب آپ جاکر اپنا کام کریں۔۔۔۔“ کنزا کو سرسری سی داد دیتا وہ اگلا آڈربھی دے چکا تھا جس پر وہ گردن ہلاتی منیجر وقار صاحب کے روم کی جانب اپنے قدم بڑھاگئی۔
تبھی ہوش میں آتی آبرو نے بھی وہاں سے کھسک جانا ہی بہتر سمجھا تھا مگروائے رے قسمت۔۔۔ ابھی اُسنے پہلے کے بعد دوسرا قدم اٹھایا ہی تھا جب شاہ نے اُسے راہِ فرار تلاشتا دیکھ موقع پر چوکا مارا۔
”مس آبرو۔۔۔۔ذرا روم میں آئیں میرے۔۔۔۔“ آواز میں کرختگی کا عنصر واضح تھا جس پر وہ بے اختیار اپنی آنکھیں سختی سے موندکر کھلتی اُسکی جانب پلٹی۔
”جی سر۔۔۔۔۔؟؟؟“ فائل پر پکڑ مزید سخت کرتی وہ بےبس سی نظریں جھکائے اُسکے پیچھے پیچھے چل پڑی۔
روم میں پہنچ کر آبرو نے اپنے ہٹلر باس کی جانب نظر بھر کر دیکھا جو اپنی سیٹ پر براجمان ہونے کی بجائے اب ماتھے پر تیوری چڑھائے اِدھر سے اُدھر ٹہل رہا تھا۔ اُسکے بگڑتے تیور ملاحظہ کرتی آبرو کو اپنے ناکردہ جرم کی سزا کا اندیشہ ہوا کہ تبھی وہ رک کر اُسکی جانب گھوما۔
”یہاں کی باس آپ ہیں یاں میں آبرو صاحبہ۔۔۔۔۔؟؟“ پاکٹس میں ہاتھ ڈالتا وہ سرد لہجے میں بولا۔
”آپ سر۔۔۔۔“ اُسکے غیرمتوقع سوال پر پل بھر کو گڑبڑاتی وہ پورے اعتماد سے اُسے جواب دے گئی تو وہ پُرسوچ انداز میں سرہلاتا اُسکے مقابل آکھڑا ہوا۔
”اس حساب سے تو پھرآپکو مجھ سے بھی پہلے یہاں پر موجود ہونا چاہیے۔۔۔ناں کہ میرے بعد۔۔۔۔مگر آپکو دیکھ کر مجھے تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ کوئی رُول فالو کرنے کے لیے بنی ہی نہیں۔۔۔۔“ بظاہر سخت نظروں سے گھورتا وہ آبرو کو ٹارچر کرنے کا ایک اور سرا ہاتھ میں تھام چکا تھا۔
”اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے سر۔۔۔۔فرسٹ ٹائم ہی لیٹ ہوئی ہوں ورنہ تو ہمیشہ ٹائم پر ہی آتی ہوں میں۔۔۔۔ایکچولی کام کا لوڈ ہی اتنا تھا مجھ پر کہ ساری رات جاگ کر کام کرتی رہی ہوں۔۔۔۔اسی لیے صبح ذرا دیر سے آنکھ کھلی تھی میری۔۔۔۔“ شاہ کے انسلٹ کرنے کے اس نئے انداز پر اپنے اندر امڈتی حیرت پر قابو پاتی اب کے وہ بھی ذرا چڑ کر بولی۔
” تو کیا کروں پھر۔۔۔۔؟؟؟تالیاں بجاکر داد دوں کہ آپ نے اپنا کام پورا کرکے مجھ پر احسان کیا ہے۔۔۔۔؟؟“ اُسکے انداز کو اندر ہی اندر انجوائے کرتا وہ بےاختیار دونوں ہاتھوں سے شور برپا کرگیا تو اُسکا حددرجہ تلخ لہجہ محسوس کرتی آبرو سہم کر ایک قدم پیچھے کو ہوئی۔
”نو سر۔۔۔۔میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔۔۔۔میں تو بس۔۔۔۔“ وہ شرمندہ ہوتی آنکھوں کے بھیگتے گوشوں سمیت سر جھکاگئی۔ اُس پر غالب آنے کا ہنر وہ اچھے سے جانتا تھا۔
”آپکے بی ہیویر سے تو مجھے یہی مطلب سمجھ آیا ہے مس آبرو۔۔۔۔میں غلط تو نہیں کہہ رہا ناں۔۔۔۔؟؟؟“ اُسے روہانسا دیکھ کر نرمی سے بولتا وہ اب بھی اُسے زچ کرنے سے باز نہیں آرہا تھا۔
”سوری سر۔۔۔۔۔“ سرخ گال پر لڑھکتا آنسو صاف کرتی وہ بغیر اُسے نظریں ملائے معذرت کرگئی تو جانے کیوں شاہ کو اُسکے آنسو دیکھ کر برا لگا تھا۔
”سوری سے کیا ہوگا۔۔۔۔؟؟اس طرح آپ اپنی عادتیں بدل لیں گی۔۔۔؟؟؟“ پھر سے سوال کرتا وہ ایک قدم کا فاصلہ مٹاتا اُسکے حددرجہ قریب آگیا تو آبرو نے شکوہ کناں نظروں سے اُسکی خمار آلود ہوتی آنکھوں میں دیکھا۔ شاہ ہولے سےمسکرایا اور اگلے ہی پل اُس کا سارا دھیان اُسکے تیزی سے بھیگتے گالوں کی جانب چلاگیا۔
اسکا اپنے چہرے کی جانب بڑھتا ہاتھ دیکھ کر آبرو شدت سے دھڑکتے دل سمیت سرعت سے اپنا چہرہ پھیرتی پیچھے ہوئی۔
یہ دیکھ کر شاہ ہوا میں ٹھہرے ہاتھ کی مٹھی بناتا بےخودی میں مسکراتے لب بھینچ گیا۔
وہ ہربار اُسے نظرانداز کرکے دل پر گہراوارکرجاتی تھی۔
”نیکسٹ ٹائم اگر آپ سے کوئی بھی مسٹیک ہوئی یاں پھر آپ نے یہاں کے رولز سے اوائڈ کرنے کی کوشش کی تو سزا کے لیے ریڈی رہیے گا مس آبرو۔۔۔۔اس بات کا اندازہ اب تک تو آپکو بھی اچھے سے ہوگیا ہوگا کہ میں کسی کو بھی چُھوٹ دینے کا قائل ہرگز نہیں ہوں۔۔۔۔“ اپنے اندر انگڑائیاں لیتے غصے کو دبائے بغیر وہ اُسکی جانب انگلی اٹھائے چبا چبا کر بولتا آخر میں طنزکرنا نہیں بھولا تھا۔
”اندازہ تو اچھے سے ہے۔۔۔۔آئندہ سے خیال رکھوں گی۔۔۔۔“ اُسکی سخت نظروں سے خائف ہوتی وہ بڑے دھیمے انداز میں تقریباً منمنائی۔ وہ الگ بات تھی کہ اُسکے بدلتے تیوروں کی وجہ سمجھتی وہ دل ہی دل میں مسرور ہوئی تھی۔
آخر کو وہ بھی تو اپنے کھڑوس باس کو بغیر ہتھیار کے گھائل کردینے کی سکت رکھتی تھی۔۔۔۔
”گڈ۔۔۔اب اگر آپ نے شوق سے میرا قیمتی ٹائم برباد کرلیا ہو تو پلیز یہ فائلز مجھے پکڑائیں اور جائیں یہاں سے۔۔۔ مجھے اور بھی ضروری کام کرنے ہیں۔۔۔۔“ اچانک ہی اُسکے ہاتھوں سے دونوں فائلز تقریباً جھپٹتا اگلے ہی پل وہ اپنا رخ پھیرگیا۔
اشارہ صاف تھا کہ اب وہ یہاں سے جاسکتی ہے ورنہ ممکن تھا کہ وہ اُسے حد سے ذیادہ ٹارچر کرجاتا جوکہ اس پل اُسکا دماغ یہ سب کرنے کو شدت سے اُ کسا بھی رہا تھا۔
”شیور سرررر۔۔۔۔۔“ اُسکی چوڑی پشت کو تاسف سے دیکھتی وہ ناک منہ چڑھاتی وہاں سے نکلتی چلی گئی جبکہ وہ فائل کے پیج پلٹتا دروازہ بند ہونے کی زوردار آواز پر ضبط سے گہرا سانس بھر کے رہ گیا۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ بالائی لب کے اوپری حصے پر آیا پسینہ ہاتھ کی پشت سے پونچھتی گیٹ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
”اسلام علیکم۔۔۔۔۔“ کندھے سے پھسلتے بیگ کی سٹرپ کو واپس اوپر چڑھاتی حاویہ معمول کے مطابق بآواز بلند سلام لیتی اندر کی جانب لپکی تھی لیکن سامنے صوفے پر نفیسہ بیگم کے ساتھ بیٹھے اضافی وجود کو دیکھ کر پھیلتی آنکھوں سمیت اُسکا حلق بےساختہ خشک پڑا تھا۔
بختی ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے مسکاتی آنکھوں میں ڈھیروں چمک لیے اُسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا۔ چار سال بعد آج وہ اُسے اپنے سامنے دیکھ رہی تھی یاں یوں کہنا بہتر ہوگا کہ اُسے دیکھنے پر مجبور تھی۔
اِس پل کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا اُسے مقابل کا چہرہ دیکھ کر۔۔۔۔
وہ اُسکا بہانے بہانے سے قریب آنا۔۔۔
جان بوجھ کر ٹچ کرنا اور پھر معنی خیز باتیں کرنا جو وہ اپنی کم عمری کی وجہ سے کبھی سمجھ نہیں پائی تھی یاں پھر سمجھ کر بھی اُسکے ڈر کی وجہ سے جھٹلادیا کرتی تھی۔۔۔۔
”وعلیکم اسلام۔۔۔۔دیکھو تو ذرا کون آیا ہے ہم سے ملنے۔۔۔۔پہچانا تم نے حاویہ۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکی حیرت زدہ آنکھوں میں خوشی سے جھانکتی نفیسہ بیگم نے اُسے الجھانا چاہا تو وہ فوری ہوش میں آتی بےدلی سے سر ہلاگئی۔
کالی ٹی شرٹ اور سفید ٹراؤز میں بختیار عرف بختی کا کسرتی جسم واضح ہورہا تھا جبکہ شیو کی بجائے اِس بار داڑھی کا فرق آیا تھا۔
لیکن اُسکی خباثت کا لیول پہلے کی نسبتاً بڑھ چکا تھا جسکا اندازہ حاویہ اُسکی مسلسل گھورتی نظروں سے ہی لگاچکی تھی۔
”جی۔۔۔۔بختی بھائی آئے ہیں۔۔۔۔کیسے ہیں آپ بھائی۔۔۔۔؟؟“ بھائی پرخاصا زور دیتی وہ مروتاً اُسکا حال احوال پوچھ گئی۔ کہنے کو تو وہ نفیسہ بیگم کا منہ بھولا بھانجا تھا اور فیضان صاحب کی وفات کے بعد سے ایک بیٹے کی ہی طرح اُسنے بہت سی ذمہ داریاں اپنے سر لی تھیں۔
سب ٹھیک چل رہا تھا لیکن پھر پتا نہیں کب اور کیسے بختی کی نیت اُس پر خراب ہوگئی تھی؟یہ بات وہ خود بھی کبھی جان نہیں پائی تھی۔
”میں ایکدم پرفیکٹ باربی ڈول۔۔۔۔تم اپنے بارے میں بتاؤ۔۔۔۔کونسی کلاس میں پڑھ رہی ہو۔۔۔۔؟؟“ اُسکے بھائی بولنے پر پھیکی پڑتی مسکراہٹ کو بمشکل بحال کرتا وہ قدرے اشتیاق سے پوچھنے لگا۔
”جی میں سیکنڈائیر میں پڑھ رہی ہوں بھائی۔۔۔۔“ اُسکے شریں لہجے اور طرزِتخاطب سے خار کھاتی وہ اپنے کمرے میں جانے لگی تو بختی اُسکی حدرجہ سنجیدگی شدت سے محسوس کرتا فوراً ٹوک گیا۔
”ارے کہاں جارہی ہو حاوی۔۔۔۔؟؟کچھ دیر ہمارے پاس بھی تو بیٹھو۔۔۔۔ماشاءاللہ۔۔۔۔دیکھیں تو خالہ جب میں اِسے چھوڑ کر گیا تھا تو تب اتنی سی تھی یہ۔۔۔۔بالکل باربی ڈول جیسی۔۔۔۔اور اب۔۔۔۔کتنی بڑھی ہوگئی ہے ناں۔۔۔۔وقت اتنی تیزی سے گزرگیا مجھے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔۔“ بظاہربڑاپن دکھاتا وہ ایکسرے کرتی نظروں سے حاویہ کا دلکش سراپا نظروں میں بھرتے نفیسہ بیگم کو بھی اندر گھسیٹ گیا تو حاویہ ضبط کے مارے اپنے دکھتے کندھے سے لٹکے بیگ پر گرفت سخت کرگئی۔
”ہاں بیٹا یہ تو تم بالکل صحیح بول رہے ہو۔۔۔۔بس اب میں اپنی دونوں بیٹیوں کے فرائض پورے حق کے ساتھ اداکردوں تو مجھے اور فیضان صاحب کی روح کو سکون سا مل جائے گا۔۔۔۔“ وہ جو بختی کی تمام باتوں کو محض ایک بڑے بھائی کے نظرئیے سے لیتی مسکراتے ہوئے تائید میں سر ہلارہی تھیں لگے ہاتھوں اُسکے سامنے اپنی خواہش کا بھی اظہارکرڈالا۔ ”ماما۔۔۔میں فریش ہونے جارہی ہوں۔۔۔۔آپ بختی بھائی کو کمپنی دیں۔۔۔۔“ اپنی برداشت کھوتی حاویہ بمشکل خود کو نارمل رکھتی اگلے ہی پل اپنے کمرے کی جانب تقریباً بھاگتی ہوئی لپکی تھی۔
لیکن اسکے باوجود بھی وہ بختی کی نظروں کی تپش آخر تک محسوس کرسکتی تھی جو وہ حاویہ کے کمرے میں گم ہوتے ہی واپس نفیسہ بیگم کی جانب موڑ گیا۔
”خالہ آپ نے حرمین کا رشتہ تو طے کردیا ہے۔۔۔تو کیا حاوی کا بھی کہیں دیکھ رکھا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ دل میں پنپتے اندیشے کو الفاظ دیتا وہ اپنے اندر بےچینی سموئے بظاہر پُرجوش سا بولا۔
”نہیں بختی بیٹا۔۔۔۔فی الحال تو ابھی وہ پڑھ رہی ہے۔۔۔۔اسی لیے اتنا دھیان نہیں دے رہی اسکی طرف۔۔۔۔پہلے حرمین اپنے گھر کی ہوجائے پھر اسکے بارے میں بھی سوچوں گی۔۔۔۔بس اللہ سب بچیوں کے نصیب اچھے کرے۔۔۔۔آمین۔۔۔۔“ نفیسہ بیگم اُسکی بات کی شد و مد سے نفی کرتی انجانے میں اُسے اندر تک مسرور کرگئی تھیں۔
”جی جی کیوں نہیں۔۔۔۔بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔۔اللہ سب بہتر کریں گے انشاءاللہ۔۔۔۔“ سامنے پڑی پیسٹریز اٹھاکر منہ میں ڈالتا وہ اپنی طرف سے اِس خوشخبری پر منہ میٹھا کرگیا تھا۔
تبھی بیک وقت دونوں کے نتھنوں سے کسی شے کے جلنے کی کافی تیز بو ٹکرائی تھی۔
”اوہ ہو۔۔۔میں تو چولہے پر سالن چڑھا کر آئی تھی۔۔۔۔لگتا ہے جل گیا ہے سارے کا سارا۔۔۔۔“ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ پر سے اٹھتی نفیسہ بیگم پریشان سی کچن کی جانب لپکی تھیں۔
نفیسہ بیگم کے جاتے ہی بختی بھی اپنی جگہ سے اٹھا تھا اور کچھ سوچ کر سنگل صوفے پر رکھی چیزیں ہاتھوں میں پکڑتا حاویہ کے کمرے کی طرف بڑھا گیا۔ بند دروازے کے ہینڈل کو گھماتے ہی دروازہ آرام سے کھلتا چلا گیا تو وہ بنا شور کیے مسکراتا ہوا کمرے کے اندر قدم جماگیا۔
دروازے بند کرتے ساتھ ہی اُسنے اطراف میں نظریں گھمائیں جہاں حاوی کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا۔
اِس سے پہلے کہ وہ اُسے مائے باربی ڈول کہہ کر مخاطب کرتا تبھی حاویہ اپنے دھیان سے واشروم کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تھی۔ بنا دوپٹے کے اُسکا نازک سا سراپا دیکھ کر جہاں بختی کی نظریں ساکت پڑی تھیں وہی حاویہ یوں اچانک سے اُسے اپنے کمرے میں دیکھتی بوکھلااٹھی۔
”آپ۔۔۔آ۔۔۔۔پ۔۔۔۔ناک کرکے کیوں نہیں آئے کمرے میں۔۔۔۔؟؟؟“ اگلے ہی پل وہ بیڈ پر رکھے دوپٹے کی جانب تیزی سے لپکتی شدید برہمی سے بولی اور ساتھ ہی ہلکے فیروزی دوپٹے کو اچھے سے اپنے چہرے کے گرد لپیٹ لیا۔
”لو مجھے کیا پڑی ہے ناک کرنے کی۔۔۔۔؟؟لیکن اگر تمھیں پسند نہیں آیا تو نو پرابلم۔۔۔۔میں ناک کرکے پھرسے آجاتا ہوں۔۔۔“ اُسکی بھیگے چہرے سے چھلکتے غصے سے مرعوب ہوئے بغیر وہ قدرے ڈھٹائی سے بولتا واپس مڑا تو حاویہ اُسکے لبوں کی مسکراہٹ سمیت اُسکی حرکت پر بل کھاتی رہ گئی۔ ”آپکو اگر کوئی کام ہے تو پلیز آپ ماما سے بول لیں۔۔۔۔“ ننھی سی پیشانی پر ناپسندیدگی کی سلوٹیں ابھارتے ہوئے اُسنے دبے لفظوں میں بختی کو یہاں سے دفع ہونے کا بولاتھا لیکن وہ کوئی اثر لیتا تب ناں۔۔۔۔
”خالہ سے تو مجھے کوئی کام ہی نہیں رہا۔۔۔۔اب جو بھی کام ہے وہ بس تمہی سے ہے مائے باربی ڈول۔۔۔۔“ پلٹ کر گہری نظریں اُس پر ٹکائے وہ قدم قدم اُسکی جانب بڑھتا خمار آلود لہجے میں بولا تو حاویہ اُسکے تیوروں سے خائف ہوتی بے اختیار اپنے قدم پیچھے لے گئی۔
”آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔۔۔۔؟؟پلیز آپ جائیں یہاں سے۔۔۔۔“ اُسکی معنی خیز بات پر ناچاہتے ہوئے بھی وہ تلخ ہوتی دبا دبا سا چیخ اٹھی۔
”ارے اتنا گھبراکیوں رہی ہو مجھ سے۔۔۔۔؟؟میں پہلے والا ہی بختی ہوں۔۔۔۔تمھارا بختی۔۔۔۔خیر چھوڑو یہ سب اور یہ دیکھو۔۔۔۔میں تمھارے لیے دبئی سے کیا کچھ لےکر آیا ہوں۔۔۔۔یہ والا ڈریس دیکھو۔۔۔۔اسکا کلر تم پر بہت سُوٹ کرے گا۔۔۔۔“ اتنے عرصے بعد اُسکی گھبراہٹ سے جی بھر کر لطف اٹھاتا وہ کھل کر ہنسا تھا اور ہاتھ میں پکڑی چیزوں کو بیڈ پر پھینکتا دوسرے ہی پل ڈیپ ریڈ کلر کا ڈریس ہاتھ میں تھامے پھرسے اُسکی جانب لپکا۔
”مجھے اِن میں سے کچھ بھی نہیں چاہیے۔۔۔۔آ۔۔۔پ اسے واپس رکھ لیں اور پلیز جائیں یہاں سے بختی بھائی۔۔۔۔نہیں تو میں ماما کو بلالوں گی یہاں۔۔۔۔“ وہ جو سوٹ اُسکے ساتھ لگاکر دیکھنا چاہ رہا تھا حاویہ غصے میں کپڑوں کو خود سے دور جھٹکتی دھمکی آمیز لہجے میں ذرا سا اٹک کر بولی۔
مگر اگلے ہی پل بختی ساری نرمی و مسکراہٹ ایک سائیڈ پر رکھتا سختی سے اُسکا بازو جکڑگیا۔
”یہ تم کچھ ذیادہ ہی بھائی بھائی کی گردان نہیں کرنےلگ گئی اب۔۔۔۔ہممم۔۔۔۔؟؟لگتا ہے میری پہلے والی سمجھائی بات بھول گئی ہو غالباً جبھی تو ایسی بچگانہ حرکتوں پر اتر آئی ہوتم۔۔۔۔اور اگر اب میری دی ہوئی کسی شے سے انکار کیا ناں تو پھر میں بہت سختی سے پیش آؤں گا تمھارے ساتھ۔۔۔۔اور خالہ سے تمھاری شکایت الگ سے کروں گا۔۔۔۔سمجھ رہی ہوناں میری بات۔۔۔۔ہممم۔۔۔۔؟؟“ اُسکی بازو پر اپنی گرفت پل پل سخت کرتا وہ اُسکی نم پڑتی آنکھوں میں جھانکتا وارنگ دے رہا تھا اور وہ ناچاہتے ہوئے بھی اُسکے ڈر سے کانپتی خاموش کھڑی سب برداشت کرنے پر مجبورتھی۔
پہلے کی طرح وہ اس بار بھی اُس پر اپنا اچھا خاصا روعب جماگیا تھا۔ ”ارے بیٹا تم یہاں ہو۔۔۔۔مجھے لگا کہ تم چلے گئے ہو۔۔۔۔“ بختی نے شاطر مسکراہٹ لبوں پر سجاتے جیسے ہی اُسکا بازو جھٹکے سے چھوڑا عین اُسی وقت نفیسہ بیگم دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئیں۔
”نہیں خالہ۔۔۔۔میں تو بس یہ چیزیں حاوی کو دینے آیا تھا۔۔۔۔اور دیکھیں اسے پسند بھی بہت آئی ہیں۔۔۔۔“ بغیر ہچکچائے دھڑلے سے جھوٹ بولتا وہ ہاتھ میں پکڑا ڈریس واپس بیڈ پر اچھال گیا تو نفیسہ بیگم اُسکی اتنی چاہت پر سرشار سی مسکرااٹھیں۔
”تمھارا بہت بہت شکریہ بیٹا جو تم ہمارے لیے اتنا کچھ لے آئے ۔۔۔۔ویسے خوامخواہ کی زحمت کی ہے بس تم نے بھی۔۔۔“ تشکرآمیز لہجے میں بولتے ہوئے اُنہوں نے ایک نظر حاویہ پر ڈالی جو بھیگی ہوئی بھوری آنکھوں کو چھپانے کی غرض سے چہرہ جھکاتی بمشکل مسکرائی۔
”ارے خالہ۔۔۔بیٹا بھی بولتی ہیں اور شکریہ بھی۔۔۔۔اٹس ناٹ فیئر ہاں۔۔۔۔آپ مجھے اپنا بیٹا ہی سمجھیں اور یہ تھینکس وینکس بولنے سے پرہیز کریں پلیز۔۔۔“ چاشنی گھلے لہجے میں شکوہ کرتا وہ نفیسہ بیگم کا پہلے سے جیتا دل مزید اپنے قبضے میں کرگیا جبکہ حاویہ اندر ہی اندر آنسو پیتی اُسکے پل پل بدلتے روپ دیکھ کر رہ گئی۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
